10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

سورة یونس تعارف یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی تھی۔ البتہ بعض مفسرین نے اس کو تین آیتوں ( آیت نمبر ٤٠ اور ٩٤ اور ٩٥) کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ وہ مدیننہ منورہ میں نازل ہوئی تھیں۔ لیکن اس کا کوئی یقینی ثبوت موجود نہیں ہے۔ سورت کا نام حضرت یونس (علیہ السلام) کے نام پر رکھا گیا ہے جن کا حوالہ آیت نمبر ٩٨ میں آیا ہے۔ مکہ مکرمہ میں سب سے اہم مسئلہ اسلام کے بنیادی عقائد کو ثابت کرنا تھا، اس لئے اکثر مکی سورتوں میں بنیادی زور توحید، رسالت اور آخرت کے مضامین پر دیا گیا ہے۔ اس سورت کے بھی مرکزی موضوعات یہی ہیں۔ اس کے ساتھ اسلام پر مشرکین عرب کے اعتراضات کے جواب دیئے گئے ہیں اور ان کے غلط طرز عمل کی مذمت کی گئی ہے، اور انہیں تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر انہوں نے اپنی ضد جاری رکھی دنیا اور آخرت دونوں میں ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف عذاب آسکتا ہے۔ اسی سلسلہ میں پچھلے انبیائے کرام میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت کے نتیجے میں فرعون کے غرق ہونے کا واقعہ تفصیل کے ساتھ اور حضرت نوح اور حضرت یونس (علیہما السلام) کے واقعات اختصار کے ساتھ بیان فرمائے گئے ہیں۔ ان میں کافروں کے لئے تو یہ کہ انہوں نے پیغمبر کی مخالفت میں جو رویہ اختیار کیا ہوا ہے، اس کے نتیجے میں ان کا انجام بھی ایسا ہی ہوسکتا ہے، اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کے لیے یہ تسلی کا سامان بھی ہے کہ ان ساری مخالفتوں کے باوجود آخری انجام انشاء اللہ انہی کے حق میں ہوگا۔

Ayah 10:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ Open ayah 10:1 in the Quran reader

الر۔ (1) یہ اس کتاب کی آیتیں ہیں جو حکمت سے بھری ہوئی ہے۔

1: الٓرٰ : جیسا کے سورة بقرہ کے شروع میں عرض کیا گیا، یہ الگ الگ حروف جو سورتوں کے شروع میں آئے ہیں“ حروف مقطعات ”کہلاتے ہیں، ان کا صحیح مطلب اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔
Ayah 10:2

اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؔؕ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:2 in the Quran reader

کیا لوگوں کے لیے یہ تعجب کی بات ہے کہ ہم نے خود انہی میں کے ایک شخص پر وحی نازل کی ہے کہ :“ لوگوں کو (اللہ کی خلاف ورزی سے) ڈراؤ، اور جو لوگ ایمان لے آئے ہیں، ان کو خوشخبری دو کہ ان کے رب کے نزدیک ان کا صحیح معنی میں بڑا پایہ ہے (2) ”(مگر جب اس نے لوگوں کو یہ پیغام دیا تو) کافروں نے کہا کہ یہ تو کھلا جادو گر ہے۔

2: یعنی بڑا درجہ ہے
Ayahs 10:3–4

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 10:3 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ تمہارا پروردگار اللہ ہے جس نے سارے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر اس نے عرش پر اس طرح استواء فرمایا (3) کہ وہ ہر چیز کا انتظام کرتا ہے۔ کوئی اس کی اجازت کے بغیر (اس کے سامنے) کسی کی سفارش کرنے والا نہیں، وہی اللہ ہے تمہارا پروردگار، لہذا اس کی عبادت کرو، کیا تم پھر بھی دھیان نہیں دیتے ؟۔

اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ Open ayah 10:4 in the Quran reader

اسی کی طرف تم سب کو لوٹنا ہے، یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے، یقینا ساری مخلوق کو شروع میں بھی وہی پیدا کرتا ہے اور دوبارہ بھی وہی پیدا کرے گا تاکہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کو انصاف کے ساتھ اس کا صلہ دے۔ اور جنہوں نے کفر اپنا لیا ہے، انکے لیے کھولتے ہوئے پانی کا مشروب ہے، اور دکھ دینے والا عذاب ہے، کیونکہ وہ حق کا انکار کرتے تھے۔

3: اسْتَوٰى: کے لفظی معنی سیدھا ہونے قابو پانے اور بیٹھ جانے کے ہیں، اللہ تعالیٰ مخلوقات کی طرح نہیں ہیں، اس لئے ان کا استواء بھی مخلوقات جیسا نہیں، اس کی ٹھیک ٹھیک کیفیت اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ہمارے لئے اتنا ایمان رکھنا کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عرش پر اس طرح استواء فرمایا جو ان کی شان کے لائق ہے، اس سے زیادہ کسی بحث میں پڑنے کی نہ ضرورت ہے نہ ہماری محدود عقل اس کا احاطہ کرسکتی ہے۔
Ayahs 10:5–10

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ١ۚ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 10:5 in the Quran reader

اور اللہ وہی ہے جس نے سورج کو سراپا روشنی بنایا، اور چاند کو سراپا نور، اور اس کے (سفر) کے لیے منزلیں مقرر کردیں، تاکہ تم برسوں کی گنتی اور (مہینوں کا) حساب معلوم کرسکو۔ اللہ نے یہ سب کچھ بغیر کسی صحیح مقصد کے پیدا نہیں کردیا (4) وہ یہ نشانیاں ان لوگوں کے لیے کھول کھول کر بیان کرتا ہے جو سمجھ رکھتے ہیں۔

اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ Open ayah 10:6 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ رات دن کے آگے پیچھے آنے میں اور اللہ نے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ پیدا کیا ہے، اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جن کے دل میں خدا کا خوف ہو۔

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ Open ayah 10:7 in the Quran reader

جو لوگ ہم سے (آخرت میں) آملنے کی کوئی توقع ہی نہیں رکھتے، اور دنیوی زندگی میں مگن اور اسی پر مطمئن ہوگئے ہیں، اور جو ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔

اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:8 in the Quran reader

ان کا ٹھکانا اپنے کرتوت کی وجہ سے دوزخ ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ١ۚ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 10:9 in the Quran reader

(دوسری طرف) جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان کے ایمان کی وجہ سے ان کا پروردگار انہیں اس منزل تک پہنچائے گا کہ نعمتوں سے بھرے باغات میں ان کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔

دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ١ۚ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 10:10 in the Quran reader

اس میں (داخلے کے وقت) ان کی پکار یہ ہوگی کہ :“ یا اللہ ! تیری ذات ہر عیب سے پاک ہے ”اور ایک دوسرے کے خیر مقدم کے لیے جو لفظ وہ بولیں گے، وہ سلام ہوگا، اور ان کی آخری پکار یہ ہوگی :“ تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے ”۔

4: اس کائنات کے جن حقائق کی طرف قرآن کریم اشارہ فرماتا ہے اس سے دو باتیں ثابت کرنی مقصود ہوتی ہیں، ایک یہ کہ کائنات کا یہ محیر العقول نظام جس میں چاند سورج ایسے نپے تلے حساب کے پابند ہو کر اپنا کام کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کی نشانی ہے، اس بات کو مشرکین عرب بھی تسلیم کرتے تھے کہ یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ ہی کی پیدا کی ہوئی ہیں، قرآن کریم فرماتا ہے کہ جو ذات اتنے عظیم الشان کاموں پر قادر ہو اسے اپنی خدائی میں آخر کسی اور شریک کی کیا ضرورت ہوسکتی ہے، لہذا یہ پوری کائنات اللہ تعالیٰ کی توحید کی گواہی دیتی ہے، دوسری بات یہ ہے کہ ساری کائنات بےمقصد پیدا نہیں کی گئی، اگر اس دنیوی زندگی کے بعد آخرت کی ابدی زندگی نہ ہو جس میں نیک لوگوں کو اچھا صلہ اور برے لوگوں کو برائی کا بدلہ نہ ملے تو اس کائنات کی پیدائش بےمقصد ہو کر رہ جاتی ہے، لہذا یہی کائنات توحید کے ساتھ ساتھ آخرت کی ضرورت بھی ثابت کرتی ہے۔
Ayahs 10:11–15

وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ١ؕ فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 10:11 in the Quran reader

اور اگر اللہ (ان کافر) لوگوں کو برائی (یعنی عذاب) کا نشانہ بنانے میں بھی اتنی ہی جلدی کرتا جتنی جلدی وہ اچھائیاں مانگنے میں مچاتے ہیں تو ان کی مہلت تمام کردی گئی ہوتی (5)۔ (لیکن ایسی جلد بازی ہماری حکمت کے خلاف ہے) لہذا جو لوگ ہم سے (آٓخرت میں) ملنے کی توقع نہیں رکھتے، ہم انہیں اس حال پر چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے پھریں۔

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا١ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:12 in the Quran reader

اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ لیٹے بیٹھے اور کھڑے ہوئے (ہر حالت میں) ہمیں پکارتے ہیں۔ پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو اس طرح چل کھڑا ہوتا ہے جیسے کبھی اپنے آپ کو پہنچنے والی کسی تکلیف میں ہمیں پکارا ہی نہ تھا۔ جو لوگ حد سے گزر جاتے ہیں، انہیں اپنے کرتوت اسی طرح خوشنما معلوم ہوتے ہیں۔

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا١ۙ وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 10:13 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے (کئی) قوموں کو اس موقع پر ہلاک کیا جب انہوں نے ظلم کا ارتکاب کیا تھا، اور ان کے پیغمبر ان کے پاس روشن دلائل لے کر آئے تھے، اور وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے، ایسے مجرم لوگوں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔

ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:14 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بعد زمین میں تم کو جانشین بنایا ہے تاکہ یہ دیکھیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ؟

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُ١ؕ قُلْ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 10:15 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو (آخرت میں) ہم سے آملنے کی توقع نہیں رکھتے جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں، جبکہ وہ بالکل واضح ہوتی ہیں، تو وہ یہ کہتے ہیں کہ :“ یہ نہیں، کوئی اور قرآن لے کر آؤ، یا اس میں تبدیلی کرو ”۔ (اے پیغمبر) ان سے کہہ دو کہ :“ مجھے یہ حق نہیں پہنچتا کہ میں اس میں اپنی طرف سے کوئی تبدیلی کروں۔ میں تو کسی اور چیز کی نہیں، صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر نازل کی جاتی ہے۔ اگر کبھی میں اپنے رب کی نافرمانی کر بیٹھوں تو مجھے ایک زبردست دن کے عذاب کا خوف ہے۔

5: یہ دراصل کفار عرب کے ایک سوال کا جواب ہے، جب انہیں کفر کے نتیجے میں عذاب الٰہی سے ڈرایا جاتا تھا تو وہ کہتے تھے کہ اگر یہ بات سچ ہے تو وہ عذاب ابھی کیوں نہیں آجاتا ؟ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ لوگ عذاب آنے کے لئے اس طرح جلدی مچا رہے ہیں جیسے وہ کوئی اچھی چیز ہو، لیکن اگر اللہ تعالیٰ ان کی خواہش کے مطابق ابھی عذاب نازل کردے تو ان کو سوچنے سمجھنے کی جو مہلت دی گئی ہے وہ ختم ہوجائے گی، اور پھر ان کا ایمان لانا معتبر بھی نہیں ہوگا، لہذا اللہ تعالیٰ ان کے اس مطالبے کو اپنی حکمت کی بناء پر پورا نہیں کر رہا ہے ؛ بلکہ فی الحال ان کو اپنے حال پر چھوڑدیا ہے، تاکہ جو لوگ سرکش ہیں وہ گمراہی میں بھٹکتے رہیں اور ان پر حجت تمام ہوجائے، اور جو سمجھ سے کام لینا چاہتے ہوں، انہیں راہ راست پر آنے کا موقع مل جائے۔
Ayahs 10:16–18

قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ١ۖ٘ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:16 in the Quran reader

کہہ دو کہ :“ اگر اللہ چاہتا تو میں اس قرآن کو تمہارے سامنے نہ پڑھتا، اور نہ اللہ تمہیں اس سے واقف کراتا (6)۔ آخر اس سے پہلے بھی تو میں ایک عمر تمہارے درمیان بسر کرچکا ہوں۔ کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟ (7)۔

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:17 in the Quran reader

پھر اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے، یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے ؟ یقین رکھو کہ مجرم لوگ فلاح نہیں پاتے۔”

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 10:18 in the Quran reader

اور یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ان (من گھڑت خداؤں) کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں، نہ ان کو کوئی فائدہ دے سکتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں۔ (اے پیغمبر ! ان سے) کہو کہ :“ کیا تم اللہ کو اس چیز کی خبر دے رہے ہو جس کا کوئی وجود اللہ کے علم میں نہیں ہے، نہ آسمانوں میں نہ زمین میں ؟”(حقیقت یہ ہے کہ) اللہ ان کی مشرکانہ باتوں سے بالکل پاک اور کہیں بالا و برتر ہے۔

6: یعنی یہ قرآن میرا بنایا ہوا نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہے۔ اگر وہ نہ چاہتا تو نہ میں تمہارے سامنے پڑھ سکتا تھا، نہ تمہیں اس کا علم ہوسکتا تھا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر نازل فرما کر مجھے حکم دیا کہ تمہیں سناؤں، اس لیے سنا رہا ہوں۔ لہذا اس میں کسی قسم کی تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا 7: یعنی تمہارا یہ مطالبہ کہ میں اس قرآن کو بدل دوں۔ دراصل میری نبوت کا انکار اور مجھ پر (معاذ اللہ) جھوٹ کا الزام ہے، حالانکہ میں نے عمر کا بڑا حصہ تمہارے درمیان گزارا ہے، اور میری ساری زندگی ایک کھلی کتاب کی طرح تمہارے سامنے رہی ہے۔ قرآن کریم کے نازل ہونے سے پہلے تم سب مجھے سچا اور امانت دار کہتے رہے، اور چالیس سال کے طویل عرصے میں کبھی کسی ایک شخص نے بھی مجھ پر جھوٹ کا الزام نہیں لگایا۔ اب نبوت جیسے معاملے میں مجھ پر یہ الزام لگانا بےعقلی نہیں تو اور کیا ہے ؟
Ayah 10:19

وَ مَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ فِیْمَا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:19 in the Quran reader

اور (شروع میں) تمام انسان کسی اور دین کے نہیں، صرف ایک ہی دین کے قائل تھے، پھر بعد میں وہ آپس میں اختلاف کرکے الگ الگ ہوئے۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے سے طے نہ ہوچکی ہوتی تو جس معاملے میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں، اس کا فیصلہ (دنیا ہی میں) کردیا جاتا (8)۔

8: مطلب یہ ہے کہ جب پہلے پہل حضرت آدم ؑ دنیا میں تشریف لائے تو تمام انسان توحید ہی کے دین برحق پر چلتے تھے۔ بعد میں کچھ لوگوں نے الگ الگ مذہب ایجاد کرلیے۔ اللہ تعالیٰ یہیں دنیا میں ان کے اختلافات کا فیصلہ کرسکتا تھا، لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق سے پہلے ہی یہ طے فرمایا ہوا تھا کہ دنیا انسانوں کے امتحان کے لیے پیدا کی جائے گی، اور ہر شخص کو یہ موقع دیا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغمبر بھیجے جائیں گے جو لوگوں کو دنیا میں آنے کا مقصد بتائی، اور دین برحق کو واضح دلائل سے بیان کردیں، پھر وہ اپنی آزاد مرضی سے جو راستہ چاہیں اختیار کریں، اور آخرت میں فیصلہ کیا جائے کہ کس کا راستہ صحیح اور انعام کے قابل تھا، اور کس کا غلط اور قابل سزا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں اس فیصلے کا مشاہدہ نہیں کروایا۔
Ayah 10:20

وَ یَقُوْلُوْنَ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ۚ فَقُلْ اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰهِ فَانْتَظِرُوْا١ۚ اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ۠ Open ayah 10:20 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ :“ اس نبی پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں کی گئ ؟”تو (اے پیغمبر ! تم جواب میں) کہہ دو کہ :“ غیب کی باتیں تو صرف اللہ کے اختیار میں ہیں۔ لہذا تم انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں (9)۔”

9: اس آیت میں نشانی سے مراد معجزہ ہے یوں تو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو بہت سے معجزات عطا فرمائے تھے، اور آپ کے امی ہونے کے باوجود قرآن کریم کا آپ کی زبان مبارک پر جاری ہونا بذات خود بہت بڑا معجزہ تھا۔ لیکن کفار مکہ آپ سے نت نئے معجزات کا مطالبہ کرتے رہتے تھے جن کا کچھ بیان سورة بنی اسرائیل (93:17) ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں کا یہ کام نہیں ہوتا کہ وہ کافروں کے اس قسم کے ہر مطالبے کو پورا کریں، اور ہر کس و ناکس کی فرمائش پر ہر روز نئے معجزات دکھایا کریں، بالخصوص، جب یہ بات معلوم ہو کہ مطالبہ کرنے والے محض وقت گذاری اور بہانہ بازی کے لیے ایسی فرمائشیں کر رہے ہوں۔ اس لیے آنحضرت ﷺ کو ایسی فرمائشوں کا یہ مختصر جواب دینے کی ہدایت فرمائی گئی ہے کہ غیب کی ساری باتیں، جن میں معجزات کا ظاہر کرنا بھی داخل ہے، میرے قبضے اور اختیار میں نہیں، صرف اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہے، وہ تمہاری کونسی فرمائش پوری کرتا ہے، اور کونسی پوری نہیں کرتا، اس کا تم بھی انتظار کرو۔ میں بھی انتظار کرتا ہوں۔
Ayahs 10:21–23

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ اِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِیْۤ اٰیَاتِنَا١ؕ قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا١ؕ اِنَّ رُسُلَنَا یَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ Open ayah 10:21 in the Quran reader

اور انسانوں کا حال یہ ہے کہ جب ان کو پہنچنے والی کسی تکلیف کے بعد ہم ان کو رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو ذرا سی دیر میں وہ ہماری نشانیوں کے بارے میں چالبازی شروع کردیتے ہیں (10)۔ کہہ دو کہ :“ اللہ اس سے بھی جلدی کوئی چال چل سکتا ہے (11) یقینا ہمارے فرشتے تمہاری ساری چالبازیوں کو لکھ رہے ہیں۔

هُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُكُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِی الْفُلْكِ١ۚ وَ جَرَیْنَ بِهِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اُحِیْطَ بِهِمْ١ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ لَئِنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 10:22 in the Quran reader

وہ اللہ ہی تو ہے جو تمہیں خشکی میں بھی اور سمندر میں بھی سفر کراتا ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں سوار ہوتے ہو، اور یہ کشتیاں لوگوں کو لے کر خوشگوار ہوا کے ساتھ پانی پر چلتی ہیں اور لوگ اس بات پر مگن ہوتے ہیں تو اچانک ان کے پاس ایک تیز آندھی آتی ہے اور ہر طرف سے ان پر موجیں اٹھتی ہیں اور وہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ ہر طرف سے گھر گئے۔ تو اس وقت وہ خلوص کے ساتھ صرف اللہ پر اعتقاد کر کے صرف اسی کو پکارتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ)“ (یا اللہ !) اگر تو نے ہمیں اس (مصیبت سے) نجات دے دی تو ہم ضرور بالضرور شکر گزار لوگوں میں شامل ہوجائیں گے۔”

فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ١ۙ مَّتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:23 in the Quran reader

لیکن جب اللہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو زیادہ دیر نہیں گزرتی کہ وہ زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ ارے لوگو ! تمہاری یہ سرکشی درحقیقت خود تمہارے اپنے خلاف پڑتی ہے۔ اب تو دنیوی زندگی کے مزے اڑا لو، آخر کو ہمارے پاس ہی تمہیں لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم تمہیں بتائیں گے کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔

10: جب تک مصیبت کا سامنا تھا، اس وقت تک تو بس اللہ ہی یاد آتا تھا، لیکن جب اس کی رحمت سے مصیبت دور ہوجاتی ہے اور اچھا وقت آتا ہے تو اس کی اطاعت سے منہ موڑنے کے لیے حیلے بہانے شروع ہوجاتے ہیں، جس کی مثال آگے آیت نمبر 22 میں آرہی ہے۔ 11: اللہ تعالیٰ کے لیے چال کا لفظ ایک طنز کے طور پر ہے اور اس سے مراد ان کی چالبازیوں کی سزا دینا ہے۔
Ayah 10:24

اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤ١ۙ اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 10:24 in the Quran reader

دنیوی زندگی کی مثال تو کچھ ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا جس کی وجہ سے زمین سے اگنے والی وہ چیزیں خوب گھنی ہوگئیں جو انسان اور مویشی کھاتے ہیں یہاں تک کہ جب زمین نے اپنا یہ زیور پہن لیا، اور سنگھار کر کے خوشنما ہوگئی اور اس کے مالک سمجھنے لگے کہ بس اب یہ پوری طرح ان کے قابو میں ہے، تو کسی رات یا دن کے وقت ہمارا حکم آگیا (کہ اس پر کوئی آفت آجائے) اور ہم نے اس کو کٹی ہوئی کھیتی کی سپاٹ زمین میں اس طرح تبدیل کردیا جیسے کل وہ تھی ہی نہیں۔ (12) اسی طرح ہم نشانیوں کو ان لوگوں کے لیے کھول کھول کر بیان کرتے ہیں جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔

12: دنیا کی حالت بھی ایسی ہی ہے کہ اس وقت وہ بڑی خوبصورت اور سجی معلوم ہوتی ہے، لیکن اول تو کبھی قیامت سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کے کسی عذاب کی وجہ سے اس کی ساری خوبصورتی ملیامیٹ ہوتی ہے، دوسرے جب انسان کی موت کا وقت آتا ہے، تب بھی اس کے لئے یہ دنیا اندھیری ہوجاتی ہے، اور اگر ایمان اور عمل صالح کی پونجی پاس نہ ہو تو پتہ چلتا ہے کہ یہ ساری خوبصورتی درحقیقت ایک عذاب تھی اور جب قیامت آئے گی تب تو یہ ظاہری زیب وزینت بھی پوری دنیا سے ختم ہوجائے گی۔
Ayah 10:25

وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ١ؕ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 10:25 in the Quran reader

اور اللہ لوگوں کو سلامتی کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے تک پہنچا دیتا ہے (13)۔

13: سلامتی کے گھر سے مراد جنت ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دعوت تو تمام انسانوں کے لئے عام ہے کہ وہ ایمان اور عمل صالح کے ذریعے جنت حاصل کریں لیکن اس تک پہنچنے کا جو سیدھا راستہ ہے، اس تک اللہ تعالیٰ اسی کو پہنچاتا ہے جسے وہ اپنی حکمت سے چاہتا ہے اور اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ اسی کو پہنچایا جائے جو اپنے اختیار اور ہمت کو کام میں لاکر جنت کی ضروری شرائط پوری کرے۔
Ayah 10:26

لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌ١ؕ وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:26 in the Quran reader

جن لوگوں نے بہتر کام کیے ہیں، بہترین حالت انہی کے لیے ہے اور اس سے بڑھ کر کچھ اور بھی (14) نیز ان کے چہروں پر نہ کبھی سیاہی چھائے گی، نہ ذلت۔ وہ جنت کے باسی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

14: وعدے کا یہ انتہائی لطیف پیرایہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس ”کچھ اور“ کو کھول کر بیان نہیں فرمایا، بلکہ پردے میں رکھا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت میں تمام بہترین نعمتوں کے علاوہ کچھ نعمتیں ایسی ہوں گی کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کو بیان بھی فرما دیں تو ان کی لذت اور حلاوت کو انسان اس وقت محسوس کر ہی نہیں سکتا۔ بس انسان کے سمجھنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ اضافی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے جو انہی کی شان کے مطابق ہوں گی۔ آنحضرت ﷺ سے اس آیت کی تفسیر یہ منقول ہے کہ جب تمام جنتی جنت کی نعمتوں سے سرشار اور ان میں مگن ہوچکے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ ہم نے تم سے ایک وعدہ کیا تھا، اب ہم اسے پورا کرنا چاہتے ہیں۔ جنت کے لوگ کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے تو ہمیں دوزخ سے بچا کر اور جنت عطا فرما کر سارے وعدے پورے کردئیے ہیں۔ اب کونسا وعدہ رہ گیا ؟ اس موقع پر اللہ تعالیٰ اپنا حجاب ہٹا کر اپنی زیارت کرائیں گے، اور اس وقت جنت والوں کو محسوس ہوگا کہ یہ نعمت ان تمام نعمتوں سے زیادہ لذیذ اور محبوب ہے جو انہیں اب تک عطا ہوئی ہیں (روح المعانی بحوالہ صحیح مسلم وغیرہ)
Ayah 10:27

وَ الَّذِیْنَ كَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَا١ۙ وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ كَاَنَّمَاۤ اُغْشِیَتْ وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:27 in the Quran reader

رہے وہ لوگ جنہوں نے برائیاں کمائی ہیں تو (ان کی) برائی کا بدلہ اسی جیسا برا ہوگا (15) اور ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی، اللہ (کے عذاب) سے انہیں کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔ ایسا لگے گا جیسے ان کے چہروں پر اندھیری رات کی تہیں چڑھادی گئی ہیں۔ وہ دوزخ کے باسی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

15: یعنی نیکیوں پر تو ثواب کئی گنا دیا جائے گا جس میں اللہ تعالیٰ کی زیارت کی وہ نعمت بھی داخل ہے جس کا ابھی ذکر ہوا، لیکن برائی کی سزا اسی برائی کے برابر ملے گی، اس سے زیادہ نہیں۔
Ayahs 10:28–29

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْ١ۚ فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 10:28 in the Quran reader

اور (یاد رکھو) وہ دن جب ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے پھر جن لوگوں نے شرک کیا تھا، ان سے کہیں گے کہ :“ ذرا اپنی جگہ ٹھہرو، تم بھی اور وہ بھی جن کو تم نے اللہ کا شریک مانا تھا۔”پھر ان کے درمیان (عابد اور معبود کا) جو رشتہ تھا، ہم وہ ختم کردیں گے، اور ان کے وہ شریک کہیں گے کہ :“ تم ہماری عبادت تو نہیں کرتے تھے (16)۔

فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِیْنَ Open ayah 10:29 in the Quran reader

ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ بننے کے لیے کافی ہے (کہ) ہم تمہاری عبادت سے بالکل بیخبر تھے۔”

16: جن بتوں کو انہوں نے خدا مان رکھا تھا وہ تو بےجان تھے، اس لئے انہیں پتہ ہی نہیں تھا کہ یہ لوگ ان کی عبادت کرتے تھے، اس لئے جب اللہ تعالیٰ ان کو زبان عطا فرمائیں گے تو شروع میں تو وہ صاف انکار کردیں گے کہ یہ لوگ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے، پھر جب بعد میں انہیں پتہ چلے گا کہ واقعی ان کی عبادت کرتے تھے تو وہ کہیں گے کہ اگر کرتے بھی تھے تو ہمیں اس کا پتہ نہیں تھا۔
Ayah 10:30

هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 10:30 in the Quran reader

ہر شخص نے ماضی میں جو کچھ کیا ہوگا، اس موقع پر وہ خود اس کو پرکھ لے گا (17) اور سب کو اللہ کی طرف لوٹا دیا جائے گا جو ان کا مالک حقیقی ہے، اور جو جھوٹ انہوں نے تراش رکھے تھے، ان کا کوئی سراغ انہیں نہیں ملے گا۔

17: یعنی ہر عمل کی قلعی کھل جائے گی کہ اس کی حقیقت کیا تھی ؟
Ayah 10:31

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ مَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ١ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 10:31 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ان مشرکوں سے) کہو کہ :“ کون ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے ؟ یا بھلا کون ہے جو سننے اور دیکھنے کی قوتوں کا مالک ہے ؟ اور کون ہے جو جاندار کو بےجان سے اور بےجان کو جاندار سے باہر نکال لاتا ہے ؟ اور کون ہے جو ہر کام کا انتظام کرتا ہے ؟”تو یہ لوگ کہیں گے کہ :“ اللہ ! (18) تو تم ان سے کہو :“ کیا پھر بھی تم اللہ سے نہیں ڈرتے ؟

18: عرب کے مشرکین یہ مانتے تھے کہ ساری کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، لیکن ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اس نے بیشتر اختیارات مختلف دیوتاؤں کو سونپ دئیے ہیں جو خدائی میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ہیں، اور اب ان کو راضی رکھنے کے لیے ان کی عبادت کرنی چاہیے۔ اس لیے یہ آیت کریمہ ان پر یہ حقیقت واضح کر رہی ہے کہ جب تم خود مانتے ہو کہ یہ سارے کام اللہ تعالیٰ کرتا ہے تو پھر کسی اور کی عبادت کرنا کیسی بےعقلی کی بات ہے۔
Ayah 10:32

فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ١ۖۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 10:32 in the Quran reader

پھر تو لوگو ! وہی اللہ ہے جو تمہارا مالک برحق ہے، پھر حق واضح ہوجانے کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا باقی رہ گیا ؟ اس کے باوجود تمہیں کوئی کہاں الٹ لئے جارہا ہے (19) ؟ ”

19: قرآن کریم نے مجہول کا جو صیغہ استعمال فرمایا ہے آیت نمبر 32 اور 34 کے ترجمے میں اس کا مفہوم ”کوئی“ کا لفظ بڑھا کر ادا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور بظاہر قرآن کریم نے مجہول کا صیغہ یہ اشارہ کرنے کے لیے استعمال فرمایا ہے کہ درحقیقت ان کی نفسانی خواہشات ہیں جو انہیں الٹی سمت لے جا رہی ہیں۔
Ayahs 10:33–36

كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ فَسَقُوْۤا اَنَّهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:33 in the Quran reader

اسی طرح جن لوگوں نے نافرمانی کا شیواہ اپنا لیا ہے، ان کے بارے میں اللہ کی یہ بات سچی ہوگئی ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے (20)

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 10:34 in the Quran reader

کہو کہ :“ جن کو تم اللہ کے ساتھ شریک مانتے ہو، کیا ان میں کوئی ایسا ہے جو مخلوقات کو پہلی بار پیدا کرے، پھر (ان کی موت کے بعد) انہیں دوبارہ پھر پیدا کردے ؟”کہو کہ :“ اللہ ہے جو مخلوقات کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر ان (کی موت کے بعد) انہیں دوبارہ پھر پیدا کردے گا۔ پھر آخر کوئی تمہیں کہاں اوندھے منہ لئے جارہا ہے ؟”

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَهْدِیْ لِلْحَقِّ١ؕ اَفَمَنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَهِدِّیْۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّهْدٰى١ۚ فَمَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 10:35 in the Quran reader

کہو کہ :“ جن کو تم اللہ کے ساتھ شریک مانتے ہو، کیا ان میں کوئی ایسا ہے جو تمہیں حق کا راستہ دکھائے ؟”کہو کہ :“ اللہ حق کا راستہ دکھاتا ہے، اب بتاؤ کہ جو حق کا راستہ دکھاتا ہو کیا وہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس کی بات مانی جائے، یا وہ (زیادہ حق دار ہے) جس کو خود اس وقت تک راستہ نہ سوجھے جب تک کوئی دوسرا اس کی رہنمائی نہ کرے ؟ بھلا تمہیں ہو کیا گیا ہے ؟ تم کس طرح کی باتیں طے کرلیتے ہو ؟”

وَ مَا یَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا١ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:36 in the Quran reader

اور (حقیقت یہ ہے کہ) ان (مشرکین) میں سے اکثر لوگ کسی اور چیز کے نہیں، صرف وہمی اندازے کے پیچھے چلتے ہیں، اور یہ یقینی بات ہے کہ حق کے معاملے میں وہمی انداہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا۔ یقین جانو جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں، اللہ اس کا پورا پورا علم رکھتا ہے۔

20: یعنی ان کی تقدیر میں اللہ تعالیٰ نے جو بات لکھی ہوئی تھی کہ یہ لوگ اپنی سرکشی کی وجہ سے اپنے اختیار کو صحیح استعمال نہیں کریں گے، اور ایمان نہیں لائیں گے وہ بات سامنے آگئی۔
Ayahs 10:37–38

وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۫ Open ayah 10:37 in the Quran reader

اور یہ قرآن ایسا نہیں ہے کہ اسے کسی نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہو، اللہ نے نہ اتارا ہو بلکہ یہ (وحی کی) ان باتوں کی تصدیق کرتا ہے جو اس سے پہلے آچکی ہیں، اور اللہ نے جو باتیں (لوح محفوظ میں) لکھ رکھی ہیں، ان کی تفصیل بیان کرتا ہے، (21) اس میں ذرا شک کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ اس ذات کی طرف سے ہے جو تمام جہانوں کی پرورش کرتی ہے۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:38 in the Quran reader

کیا پھر بھی یہ لوگ کہتے ہیں کہ : پیغمبر نے اسے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے ؟ کہو کہ : پھر تو تم بھی اس جیسی ایک ہی سورت (گھڑ کر) لے آؤ، اور (اس کام میں مدد لینے کے لیے) اللہ کے سوا جس کسی کو بلا سکو بلا لو، اگر سچے ہو۔

21: اس فقرے میں یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ قرآن کریم کا ماخذ کوئی انسانی دماغ نہیں، بلکہ وہ لوح محفوظ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کے تشریعی اور تکوینی احکام ازل سے لکھے ہوئے ہیں۔ ان احکام میں سے جن کی انسانوں کو ضرورت ہے، یہ قرآن ان کی تفصیل بیان فرماتا ہے۔