9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

سورة توبہ تعارف یہ بھی مدنی سورت ہے، اور حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات طیبہ کے آخری دور میں نازل ہوئی ہے۔ اپنے مضامین کے اعتبار سے یہ پچھلی سورت یعنی سورة انفال کا تکملہ ہے۔ غالبا اسی لیے عام سورتوں کے برخلاف اس سورت کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہ نازل ہوئی، نہ لکھی گئی۔ اور اس کی تلاوت کا بھی قاعدہ یہ ہے کہ جو شخص پیچھے سورة انفال سے تلاوت کرتا چلا آرہا ہو، اسے یہاں بسم اللہ نہیں پڑھنی چاہیے، البتہ اگر کوئی شخص اسی سورت سے تلاوت شروع کر رہا ہو تو اس کو بسم اللہ پڑھنی چاہیے۔ اور بعض لوگوں نے اس سورت کے شروع میں بسم اللہ کے بجائے کچھ اور جملے پڑھنے کے لیے بنا رکھے ہیں، وہ بےبنیاد ہیں۔ اوپر جو طریقہ لکھا گیا ہے، وہی سلف صالحین کا طریقہ رہا ہے۔ یہ سورت فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی تھی۔ عرب کے بہت سے قبائل اس انتظار میں تھے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کفار قریش کی جنگ کا انجام کیا ہوتا ہے ،۔ جب قریش نے حدیبیہ والا معاہدہ توڑ دیا تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ مکرمہ پر حملہ کیا، اور کسی خاص خونریزی کے بغیر اسے فتح کرلیا۔ اس موقع پر کفار کی کمر ٹوٹ چکی تھی، البتہ آخری تدبیر کے طور پر قبیلہ ہوازن نے ایک بڑا لشکر مسلمانوں سے مقابلے کے لیے جمع کیا جس سے حنین کی وادی میں آخری بڑی جنگ ہوئی، اور شروع میں معمولی ہزیمت کے بعد مسلمانوں کو اس میں بھی فتح ہوئی۔ اس جنگ کے بعض واقعات بھی اس سورت میں بیان ہوئے ہیں۔ اب عرب کے جو قبائل قریش کی وجہ سے اسلام قبول کرنے سے ڈرتے تھے، یا ان کی جنگوں کے آخری انجام کے منتظر تھے، ان کے دل سے اسلام کے خلاف ہر رکاوٹ دور ہوگئی اور وہ جوق در جوق مدینہ منورہ آکر مسلمان ہوئے، اور اسی طرح جزیرہ عرب کے بیشتر علاقے پر اسلام کا پرچم لہرانے لگا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جزیرہ عرب کو اسلام اور مسلمانوں کا بنیادی مرکز قرار دے دیا گیا۔ اصل منشا تو یہی تھی کہ پورے جزیرہ عرب میں کوئی بھی غیر مسلم مستقل باشندے کی حیثیت میں باقی نہ رہے، جیسا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ جزیرہ عرب میں دو دین باقی نہ رہنے پائیں۔ (موطا امام مالک، کتاب الجامع و مسند احمد ج : ٦ ص : ٥٧٢) لیکن اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے تدریج کا طریقہ اختیار فرمایا گیا۔ سب سے پہلا ہدف یہ مقرر فرمایا گیا کہ جزیرہ عرب کو بت پرستوں سے خالی کرایا جائے۔ چنانچہ جو بچے کھچے بت پرست عرب میں رہ گئے تھے، اور جنہوں نے بیس سال سے زیادہ مدت تک مسلمانوں کو وحشیانہ مظالم کا نشانہ بنایا تھا، ان کو اس سورت کے شروع میں مختلف مدتوں کی مہلت دی گئی جس میں اگر وہ اسلام قبول نہ کریں تو انہیں جزیرہ عرب چھوڑنے، ورنہ جنگ کا سامنا کرنے کے احکام دئیے گئے ہیں، اور مسجد حرام کو بت پرستی کی ہر نشانی سے پاک کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس ہدف کے پورا ہونے کے بعد جزیرہ عرب کی مکمل صفائی کا دوسرا مرحلہ یہود و نصاری کو وہاں سے نکالنے کا تھا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات طیبہ میں یہ مرحلہ مکمل نہیں ہوسکا تھا، لیکن آپ نے اس کی وصیت فرما دی تھی، جیسا کہ آیت نمبر ٢٩ کے تحت اس کی وضاحت آنے والی ہے۔ اس سے پہلے روم کے بادشاہ نے مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھ کر ان پر حملہ کرنے کے لیے ایک بڑی فوج جمع کی۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیش قدمی کر کے اس کے مقابلے کے لیے تبوک تک تشریف لے گئے۔ اس سورت کا بہت بڑا حصہ اس مہم کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہے۔ منافقین کی معاندانہ کاروائیاں مسلسل جاری تھی، اس سورت میں ان کی بدعنوانیوں کو بھی طشت ازبام کیا گیا ہے۔ اس سورت کو سورة توبہ بھی کہا جاتا ہے، اور سورة برائت بھی۔ برائت اس لیے کہ اس کے شروع میں مشرکین سے برائت اور دستبرداری کا اعلان کیا گیا ہے، اور توبہ اس لیے کہ اس میں بعض ان صحابہ کرام کی توبہ قبول ہونے کا ذکر ہے جنہوں نے تبوک کی مہم میں حصہ نہیں لیا تھا، اور بعد میں اپنی اس غلطی پر توبہ کی تھی۔ ان آیتوں کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے وہ پس منظر جاننا ضروری ہے جو اس سورت کے تعارف میں اوپر بیان کیا گیا ہے، جزیرہ عرب کو اسلام کا مرکز بنانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا کہ کچھ عرصے کی مہلت کے بعد کوئی بت پرست مستقل طور پر جزیرہ عرب میں نہیں رہ سکتا، چنانچہ ان آیات میں ان بچے کھچے مشرکین سے دستبرداری کا اعلان کیا گیا ہے جو ابھی تک اسلام نہیں لائے تھے، اگرچہ یہ مشرکین وہ تھے جنہوں نے مسلمانوں کو ستانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی، اور ان پر وحشیانہ ظلم ڈھائے تھے، لیکن جزیرہ عرب سے نکلنے کے لئے مختلف مہلتیں دی گئی ہیں جن کی تفصیل ان آیتوں میں آئی ہے، ان مشرکین کی چار قسمیں تھیں : (الف) پہلی قسم ان مشرکین کی تھی جن کے ساتھ مسلمانوں نے جنگ بندی کا معاہدہ نہیں کیا ہوا تھا، ایسے مشرکین کو چار مہینے کی مہلت دی گئی کہ ان چار مہینوں میں وہ اگر اسلام لانا چاہتے ہیں تو اسلام لے آئیں، اور اگر جزیرہ عرب سے باہر کہیں جانا چاہیں تو اس کا انتظام کرلیں، اگر یہ دونوں کام نہ کرسکیں تو ان کے خلاف ابھی سے اعلان کردیا گیا ہے کہ ان کو جنگ کا سامنا کرنا ہوگا۔ (ترمذی، کتاب الحج، حدیث نمبر : ٨٧١) ۔ (ب) دوسری قسم ان مشرکین کی تھی جن کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ تو تھا لیکن اس کی کوئی مدت متعین نہیں تھی، ان کے بارے میں بھی اعلان کردیا گیا کہ اب وہ معاہدہ چار مہینے تک جاری رہے گا، اس دوران ان کو بھی وہی کام کرنے ہوں گے جن کا ذکر پہلی قسم کے بارے میں کیا گیا، سورة توبہ کی پہلی اور دوسری آیت ان دو قسموں سے متعلق ہے۔ (ج) تیسری قسم ان مشرکین کی تھی جن کے ساتھ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معاہدہ تو کیا تھا ؛ لیکن انہوں نے بد عہدی کی، اور وہ معاہدہ توڑدیا، جیسے کفار قریش کے ساتھ حدیبیہ میں معاہدہ ہوا تھا ؛ لیکن انہوں نے اس کی خلاف ورزی کی، اور اسی کی بنا پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ مکرمہ پر حملہ کرکے اسے فتح کرلیا تھا، ان لوگوں کو کوئی مزید مہلت تو نہیں دی گئی ؛ لیکن چونکہ دست برداری کا یہ اعلان حج کے موقع پر کیا گیا تھا جو خود حرمت والے مہینے میں ہوتا ہے، اور اس کے بعد محرم کا مہینہ بھی حرمت والا ہے، اور اس میں جنگ کرنا جائز نہیں ہے، اس لئے ان کو محرم کے آخر تک مہلت مل گئی، انہی کے بارے میں آیت نمبر : ٥ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ حرمت والے مہینوں کے گزر جانے کے بعد اگر یہ، نہ ایمان لائیں اور نہ جزیرہ عرب سے باہر جائیں تو ان کو قتل کردیا جائے گا۔ (د) چوتھی قسم ان مشرکین کی تھی جن کے ساتھ کسی خاص مدت تک کے لئے مسلمانوں نے جنگ بندی کا معاہدہ کر رکھا تھا، اور انہوں نے کوئی بد عہدی بھی نہیں کی تھی ایسے لوگوں کے بارے میں آیت نمبر : ٤ میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ان کے معاہدے کی جتنی بھی مدت باقی ہے اس کو پورا کیا جائے، اور اس پوری مدت میں ان کے ساتھ کسی قسم کا تعرض نہ کیا جائے، مثلاً قبیلہ کنانہ کے دوچھوٹے قبیلے بنو ضمر اور بنو مدلج کے ساتھ آپ کا ایسا ہی معاہدہ تھا، اور ان کی طرف سے کوئی بد عہدی سامنے نہیں آئی تھی، ان کے معاہدہ کی مدت ختم ہونے میں اس وقت نو مہینے باقی تھے ؛ چنانچہ ان کو نو مہینے کی مہلت دی گئی۔ ان چاروں قسم کے اعلانات کو براءت یا دستبرداری کے اعلانات کہا جاتا ہے۔

Ayahs 9:1–2

بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَؕ Open ayah 9:1 in the Quran reader

(مسلمانو) یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے دستبرداری کا اعلان ہے ان تمام مشرکین کے خلاف جن سے تم نے معاہدہ کیا ہوا ہے۔ (1)

فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُخْزِی الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:2 in the Quran reader

لہذا (اے مشرکو) تمہیں چار مہینے تک اجازت ہے کہ تم (عرب کی) سرزمین میں آزادی سے گھومو پھرو، اور یہ بات جان رکھو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے، اور یہ بات بھی کہ اللہ اب کافروں کو رسوا کرنے والا ہے۔

سورة توبہ تعارف یہ بھی مدنی سورت ہے، اور حضور نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ کے آخری دور میں نازل ہوئی ہے۔ اپنے مضامین کے اعتبار سے یہ پچھلی سورت یعنی سورة انفال کا تکملہ ہے۔ غالبا اسی لیے عام سورتوں کے برخلاف اس سورت کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہ نازل ہوئی، نہ لکھی گئی۔ اور اس کی تلاوت کا بھی قاعدہ یہ ہے کہ جو شخص پیچھے سورة انفال سے تلاوت کرتا چلا آرہا ہو، اسے یہاں بسم اللہ نہیں پڑھنی چاہیے، البتہ اگر کوئی شخص اسی سورت سے تلاوت شروع کر رہا ہو تو اس کو بسم اللہ پڑھنی چاہیے۔ اور بعض لوگوں نے اس سورت کے شروع میں بسم اللہ کے بجائے کچھ اور جملے پڑھنے کے لیے بنا رکھے ہیں، وہ بےبنیاد ہیں۔ اوپر جو طریقہ لکھا گیا ہے، وہی سلف صالحین کا طریقہ رہا ہے۔ یہ سورت فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی تھی۔ عرب کے بہت سے قبائل اس انتظار میں تھے کہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ کفار قریش کی جنگ کا انجام کیا ہوتا ہے ،۔ جب قریش نے حدیبیہ والا معاہدہ توڑ دیا تو آنحضرت ﷺ نے مکہ مکرمہ پر حملہ کیا، اور کسی خاص خونریزی کے بغیر اسے فتح کرلیا۔ اس موقع پر کفار کی کمر ٹوٹ چکی تھی، البتہ آخری تدبیر کے طور پر قبیلہ ہوازن نے ایک بڑا لشکر مسلمانوں سے مقابلے کے لیے جمع کیا جس سے حنین کی وادی میں آخری بڑی جنگ ہوئی، اور شروع میں معمولی ہزیمت کے بعد مسلمانوں کو اس میں بھی فتح ہوئی۔ اس جنگ کے بعض واقعات بھی اس سورت میں بیان ہوئے ہیں۔ اب عرب کے جو قبائل قریش کی وجہ سے اسلام قبول کرنے سے ڈرتے تھے، یا ان کی جنگوں کے آخری انجام کے منتظر تھے، ان کے دل سے اسلام کے خلاف ہر رکاوٹ دور ہوگئی اور وہ جوق در جوق مدینہ منورہ آکر مسلمان ہوئے، اور اسی طرح جزیرہ عرب کے بیشتر علاقے پر اسلام کا پرچم لہرانے لگا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جزیرہ عرب کو اسلام اور مسلمانوں کا بنیادی مرکز قرار دے دیا گیا۔ اصل منشا تو یہی تھی کہ پورے جزیرہ عرب میں کوئی بھی غیر مسلم مستقل باشندے کی حیثیت میں باقی نہ رہے، جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ جزیرہ عرب میں دو دین باقی نہ رہنے پائیں۔ (موطا امام مالک، کتاب الجامع و مسند احمد ج : 6 ص : 572) لیکن اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے تدریج کا طریقہ اختیار فرمایا گیا۔ سب سے پہلا ہدف یہ مقرر فرمایا گیا کہ جزیرہ عرب کو بت پرستوں سے خالی کرایا جائے۔ چنانچہ جو بچے کھچے بت پرست عرب میں رہ گئے تھے، اور جنہوں نے بیس سال سے زیادہ مدت تک مسلمانوں کو وحشیانہ مظالم کا نشانہ بنایا تھا، ان کو اس سورت کے شروع میں مختلف مدتوں کی مہلت دی گئی جس میں اگر وہ اسلام قبول نہ کریں تو انہیں جزیرہ عرب چھوڑنے، ورنہ جنگ کا سامنا کرنے کے احکام دئیے گئے ہیں، اور مسجد حرام کو بت پرستی کی ہر نشانی سے پاک کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس ہدف کے پورا ہونے کے بعد جزیرہ عرب کی مکمل صفائی کا دوسرا مرحلہ یہود و نصاری کو وہاں سے نکالنے کا تھا۔ آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ میں یہ مرحلہ مکمل نہیں ہوسکا تھا، لیکن آپ نے اس کی وصیت فرما دی تھی، جیسا کہ آیت نمبر 29 کے تحت اس کی وضاحت آنے والی ہے۔ اس سے پہلے روم کے بادشاہ نے مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھ کر ان پر حملہ کرنے کے لیے ایک بڑی فوج جمع کی۔ آنحضرت ﷺ پیش قدمی کر کے اس کے مقابلے کے لیے تبوک تک تشریف لے گئے۔ اس سورت کا بہت بڑا حصہ اس مہم کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہے۔ منافقین کی معاندانہ کاروائیاں مسلسل جاری تھی، اس سورت میں ان کی بدعنوانیوں کو بھی طشت ازبام کیا گیا ہے۔ اس سورت کو سورة توبہ بھی کہا جاتا ہے، اور سورة برائت بھی۔ برائت اس لیے کہ اس کے شروع میں مشرکین سے برائت اور دستبرداری کا اعلان کیا گیا ہے، اور توبہ اس لیے کہ اس میں بعض ان صحابہ کرام کی توبہ قبول ہونے کا ذکر ہے جنہوں نے تبوک کی مہم میں حصہ نہیں لیا تھا، اور بعد میں اپنی اس غلطی پر توبہ کی تھی۔ ان آیتوں کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے وہ پس منظر جاننا ضروری ہے جو اس سورت کے تعارف میں اوپر بیان کیا گیا ہے، جزیرہ عرب کو اسلام کا مرکز بنانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا کہ کچھ عرصے کی مہلت کے بعد کوئی بت پرست مستقل طور پر جزیرہ عرب میں نہیں رہ سکتا، چنانچہ ان آیات میں ان بچے کھچے مشرکین سے دستبرداری کا اعلان کیا گیا ہے جو ابھی تک اسلام نہیں لائے تھے، اگرچہ یہ مشرکین وہ تھے جنہوں نے مسلمانوں کو ستانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی، اور ان پر وحشیانہ ظلم ڈھائے تھے، لیکن جزیرہ عرب سے نکلنے کے لئے مختلف مہلتیں دی گئی ہیں جن کی تفصیل ان آیتوں میں آئی ہے، ان مشرکین کی چار قسمیں تھیں : (الف) پہلی قسم ان مشرکین کی تھی جن کے ساتھ مسلمانوں نے جنگ بندی کا معاہدہ نہیں کیا ہوا تھا، ایسے مشرکین کو چار مہینے کی مہلت دی گئی کہ ان چار مہینوں میں وہ اگر اسلام لانا چاہتے ہیں تو اسلام لے آئیں، اور اگر جزیرہ عرب سے باہر کہیں جانا چاہیں تو اس کا انتظام کرلیں، اگر یہ دونوں کام نہ کرسکیں تو ان کے خلاف ابھی سے اعلان کردیا گیا ہے کہ ان کو جنگ کا سامنا کرنا ہوگا۔ (ترمذی، کتاب الحج، حدیث نمبر : 871)۔ (ب) دوسری قسم ان مشرکین کی تھی جن کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ تو تھا لیکن اس کی کوئی مدت متعین نہیں تھی، ان کے بارے میں بھی اعلان کردیا گیا کہ اب وہ معاہدہ چار مہینے تک جاری رہے گا، اس دوران ان کو بھی وہی کام کرنے ہوں گے جن کا ذکر پہلی قسم کے بارے میں کیا گیا، سورة توبہ کی پہلی اور دوسری آیت ان دو قسموں سے متعلق ہے۔ (ج) تیسری قسم ان مشرکین کی تھی جن کے ساتھ آنحضرت ﷺ نے معاہدہ تو کیا تھا ؛ لیکن انہوں نے بد عہدی کی، اور وہ معاہدہ توڑدیا، جیسے کفار قریش کے ساتھ حدیبیہ میں معاہدہ ہوا تھا ؛ لیکن انہوں نے اس کی خلاف ورزی کی، اور اسی کی بنا پر آنحضرت ﷺ نے مکہ مکرمہ پر حملہ کرکے اسے فتح کرلیا تھا، ان لوگوں کو کوئی مزید مہلت تو نہیں دی گئی ؛ لیکن چونکہ دست برداری کا یہ اعلان حج کے موقع پر کیا گیا تھا جو خود حرمت والے مہینے میں ہوتا ہے، اور اس کے بعد محرم کا مہینہ بھی حرمت والا ہے، اور اس میں جنگ کرنا جائز نہیں ہے، اس لئے ان کو محرم کے آخر تک مہلت مل گئی، انہی کے بارے میں آیت نمبر : 5 میں یہ فرمایا گیا ہے کہ حرمت والے مہینوں کے گزر جانے کے بعد اگر یہ، نہ ایمان لائیں اور نہ جزیرہ عرب سے باہر جائیں تو ان کو قتل کردیا جائے گا۔ (د) چوتھی قسم ان مشرکین کی تھی جن کے ساتھ کسی خاص مدت تک کے لئے مسلمانوں نے جنگ بندی کا معاہدہ کر رکھا تھا، اور انہوں نے کوئی بد عہدی بھی نہیں کی تھی ایسے لوگوں کے بارے میں آیت نمبر : 4 میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ان کے معاہدے کی جتنی بھی مدت باقی ہے اس کو پورا کیا جائے، اور اس پوری مدت میں ان کے ساتھ کسی قسم کا تعرض نہ کیا جائے، مثلاً قبیلہ کنانہ کے دوچھوٹے قبیلے بنو ضمر اور بنو مدلج کے ساتھ آپ کا ایسا ہی معاہدہ تھا، اور ان کی طرف سے کوئی بد عہدی سامنے نہیں آئی تھی، ان کے معاہدہ کی مدت ختم ہونے میں اس وقت نو مہینے باقی تھے ؛ چنانچہ ان کو نو مہینے کی مہلت دی گئی۔ ان چاروں قسم کے اعلانات کو براءت یا دستبرداری کے اعلانات کہا جاتا ہے۔
Ayah 9:3

وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ١ۙ۬ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:3 in the Quran reader

اور حج اکبر کے دن (2) اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمام انسانوں کے لیے یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اللہ بھی مشرکین سے دست بردار ہوچکا ہے، اور اس کا رسول بھی۔ اب (اے مشرکو) اگر تم توبہ کرلو تو یہ تمہارے حق میں بہت بہتر ہوگا، اور اگر تم نے (اب بھی) منہ موڑے رکھا تو یاد رکھو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے، اور تمام کافروں کو ایک دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو۔

2: دست برداری کا یہ حکم آچکا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں سے انصاف کی خاطر ان مختلف مدتوں کی ابتداء اس وقت سے فرمائی جب ان کو ان سارے احکام کی اطلاع ہوجائے، پورے عرب میں اعلان کا سب سے مؤثر ذریعہ یہ تھا کہ یہ اعلان حج کے موقع پر کیا جائے، کیونکہ اس وقت سارے عرب کے لوگ حجاز میں جمع ہوتے تھے، اور اس وقت تک مشرکین بھی حج کے لئے آتے تھے، چنانچہ فتح مکہ کے بعد جو حج 9 ہجری میں ہوا، اس سال آنحضرت ﷺ بہ نفس نفیس تو حج کے لئے تشریف نہیں لے گئے تھے، لیکن حضرت ابوبکر ؓ کو امیر حج بناکر بھیجا تھا ان کے بعد آپ نے حضرت علی ؓ کو بھی اسی مقصد سے روانہ فرمایا کہ وہ ان احکام کا سب کے سامنے اعلان کردیں، وجہ یہ تھی کہ اہل عرب میں یہ معمول تھا کہ اگر کسی شخص نے کوئی معاہدہ کیا ہوتا اور وہ اسے ختم کرنا چاہتا تو یہ ضروری سمجھا جاتا تھا کہ معاہدہ ختم کرنے کا اعلان یا تو وہ خود کرے یا اس کا کوئی قریبی عزیز، اس لئے آنحضرت ﷺ نے حضرت علی ؓ کو روانہ فرمایا . (الدرالمنثورص 114 ج، 4 بیروت 1421 ھ)۔ واضح رہے کہ حج اکبر ہر حج کو اس لئے کہتے ہیں کہ عمرہ چھوٹا حج ہے اور اس کے مقابلے میں حج بڑا حج ہے، اور یہ جو لوگوں میں مشہور ہے کہ اگر حج جمعہ کے دن آجائے تو وہ حج اکبر ہوتا ہے اس کی کوئی اصل نہیں ہے، جمعہ کے دن حج ہو تو بیشک دو فضیلتیں جمع ہوجاتی ہیں ؛ لیکن صرف اسی کو حج اکبر قرار دینا درست نہیں ہے، بلکہ یہ لقب ہر حج کا ہے، چاہے وہ کسی بھی دن ہو۔
Ayah 9:4

اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْكُمْ شَیْئًا وَّ لَمْ یُظَاهِرُوْا عَلَیْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:4 in the Quran reader

البتہ (مسلمانو) جن مشرکین سے تم نے معاہدہ کیا، پھر ان لوگوں نے تمہارے ساتھ عہد میں کوئی کوتاہی نہیں کی، اور تمہارے خلاف کسی کی مدد بھی نہیں کی، تو ان کے ساتھ کئے ہوئے معاہدے کی مدت کو پورا کرو۔ بیشک اللہ احتیاط کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (3)

3: یعنی معاہدے کی مدت پوری احتیاط کے ساتھ پوری کی جائے اور اس میں کوئی شک باقی نہ رکھا جائے۔
Ayah 9:5

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ١ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:5 in the Quran reader

چنانچہ جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو ان مشرکین کو (جنہوں نے تمہارے ساتھ بدعہدی کی تھی) جہاں بھی پاؤ قتل کر ڈالو، اور انہیں پکڑو، انہیں گھیرو، اور انہیں پکڑنے کے لیے ہر گھات کی جگہ تاک لگا کر بیٹھو۔ (4) ہاں اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو۔ یقینا اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

4: یہ تیسری قسم کے مشرکین ہے جنہوں نے بد عہدی کی تھی۔
Ayah 9:6

وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى یَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 9:6 in the Quran reader

اور اگر مشرکین میں سے کوئی تم سے پناہ مانگے تو اسے اس وقت تک پناہ دو جب تک وہ اللہ کا کلام سن لے۔ (5) پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچا دو۔ (6) یہ اس لئے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جنہیں علم نہیں ہے۔

5: مشرکین کی مذکورہ قسموں کو اس آیت نے اپنی مہلت کے علاوہ یہ مزید سہولت عطا فرمائی کہ اگر ان میں سے کوئی مزید مہلت مانگے اور وہ اسلام کی دعوت پر غور کرنا چاہتا ہو تو اسے پناہ دی جائے اور اللہ کا کلام سنایا جائے، یعنی اسلام کی حقانیت کے دلائل سمجھائے جائیں۔ صرف اللہ کا کلام سنانے پر اکتفا نہ کیا جائے، بلکہ اسے ایسی امن کی جگہ فراہم کی جائے جہاں وہ اطمینان کے ساتھ کسی دباؤ کے بغیر اسلام کی حقانیت پر غور کرسکے۔ (توضیح القرآن) 6: یعنی صرف اللہ کا کلام سنانے پر اکتفا نہ کیا جائے، بلکہ اسے ایسی امن کی جگہ فراہم کی جائے جہاں وہ اطمینان کے ساتھ کسی دباؤ کے بغیر اسلام کی حقانیت پر غور کرسکے۔
Ayahs 9:7–8

كَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:7 in the Quran reader

ان مشرکین سے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کوئی معاہدہ کیسے باقی رہ سکتا ہے ؟ (7) البتہ جن لوگوں سے تم نے مسجد حرام کے قریب معاہدہ کیا ہے، جب تک وہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں، تم بھی ان کے ساتھ سیدھے رہو۔ (8) بیشک اللہ متقی لوگوں کو پسند کرتا ہے۔

كَیْفَ وَ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ یُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ تَاْبٰى قُلُوْبُهُمْ١ۚ وَ اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَۚ Open ayah 9:8 in the Quran reader

(لیکن دوسرے مشرکین کے ساتھ) کیسے معاہدہ برقرار رہ سکتا ہے جبکہ ان کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی تم پر غالب آجائیں تو تمہارے معاملے میں نہ کسی رشتہ داری کا خیال کریں، اور نہ کسی معاہدے کا ؟ یہ تمہیں اپنی زبانی باتوں سے راضی کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ ان کے دل انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں۔

7: آیت نمبر 7 سے لے کر آیت نمبر 16 تک اتنی بات تو واضح ہے کہ اس میں کفار قریش کا ذکر ہے، اور ان کی بد عہدی کا ذکر کیا گیا ہے اور مسلمانوں کو تاکید کی گئی ہے کہ ان کے قول وقرار پر بھروسہ نہ کریں، اور اگر وہ بد عہدی کریں تو ان کے ساتھ جنگ کی جائے۔ لیکن اس معاملے میں مفسرین کی آراء مختلف ہیں کہ یہ آیات کب نازل ہوئی تھیں۔ مفسرین کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ یہ آیتیں فتح مکہ سے پہلے اس وقت نازل ہوئی تھیں جب کفار قریش کے ساتھ مسلمانوں نے حدیبیہ میں جو معاہدہ کیا تھا وہ باقی تھا۔ اور ان آیتوں میں یہ پیشینگوئی کی گئی ہے کہ یہ لوگ اپنے معاہدے پر قائم نہیں رہیں گے لہذا اگر وہ عہد شکنی کریں تو ان کے ساتھ جنگ کرو اور اگر وہ دوبارہ عہد کریں تو اب ان کی باتوں کا اعتبار نہ کیا جائے۔ کیونکہ وہ زبان سے کچھ کہتے ہیں اور ان کے دل میں کچھ اور ہوتا ہے اور جب تم ان سے جنگ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرکے انہیں رسوا کرے گا اور ان مسلمانوں کے دل ٹھنڈے ہوں گے جو ان کے مظالم کا شکار رہے ہیں۔ اس تفسیر کے مطابق یہ آیتیں براءت کے اس اعلان سے پہلے کی ہیں جو آیت نمبر 1 سے آیت نمبر 6 تک بیان کیا گیا ہے، اور جو فتح مکہ کے ایک سال دو ماہ کے بعد سن 9 ھ کے حج کے موقع پر کیا گیا تھا۔ مفسرین کی دوسری جماعت کا کہنا یہ ہے کہ یہ آیتیں براءت کے اعلان سے پہلے کی نہیں ہیں۔ بلکہ آیت نمبر 1 سے براءت کے اعلان کا جو مضمون چلا آرہا ہے یہ اسی کا حصہ ہیں اور ان میں براءت کے اعلان کی وجہ بیان کی گئی ہے کہ یہ لوگ پہلے ہی معاہدہ توڑ چکے ہیں۔ اور اب ان سے کوئی امید نہیں ہے کہ اگر ان سے کوئی نیا معاہدہ کریں تو اس کی پابندی کریں گے۔ کیونکہ ان مسلمانوں سے جو دشمنی ہے اس کی وجہ سے یہ نہ کسی رشتہ داری کا لحاظ کرتے ہیں، نہ کسی معاہدے کا۔ چونکہ فتح مکہ کے موقع پر اور اس کے بعد قریش کے بہت سے لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور ان کی کفار قریش کے ساتھ رشتہ داریاں تھیں اس لیے ان کے دل میں قریش کے بارے میں کوئی نرم گوشہ ہوسکتا تھا۔ ان آیات نے انہیں متنبہ کیا ہے کہ وہ ان لوگون کی باتوں سے دھوکا نہ کھائیں۔ اور دل میں یہ عزم رکھیں کہ اگر ان سے لڑنا پڑا تو وہ پوری قوت سے ان کا مقابلہ کریں گے۔ راقم کو یہ تفسیر دلائل کی وجہ سے زیادہ راجح معلوم ہوتی ہے۔ اول تو اس لیے کہ آیت نمبر 7 سے 16 تک کا نظم قرآن ایک ہی سلسلہ کلام نظر آتا ہے اور آیت نمبر 7 کے بارے میں یہ تصور نظم کے اعتبار سے مشکل لگتا ہے کہ وہ پہلی چھ آیتوں سے نزول میں بہت مقدم ہو۔ دوسرے حضرت علی نے اعلان کے وقت قرآن کریم کی جو آیات لوگوں کو سنائیں۔ ان کی تعداد روایات میں کم سے کم دس اور زیادہ سے زیادہ چالیس آئی ہے۔ (دیکھئے الدر المنثور ج :4 ص :112 و نظم الدرر للبقاعی ج : 8 ص 366) اور نسائی (کتاب الحج، باب الخطبۃ یوم الترویہ حدیث نمبر 2993) کی ایک روایت میں جو یہ آیا ہے کہ انہوں نے اسے ختم تک پڑھا، اس کا مطلب یہ ہے کہ جتنی آیات دے کر انہیں بھیجا گیا تھا ان کے ختم تک پڑھا۔ تیسرے حافظ ابن جریر طبری، علامہ سیوطی، علامہ بقاعی، قاضی ابو السعود اور بڑے جلیل القدر محدثین اور مفسرین نے ان آیات کو براءت ہی کا ایک حصہ اور اس کی توجیہ و تعلیل قرار دیا ہے۔ 8: اس سے مراد مشرکین وہ چوتھی قسم ہے جس کا ذکر اوپر حاشیہ نمبر 1 (د) میں آیا ہے ان کو ان کے معاہدے کی مدت پوری ہونے تک مہلت دی گئی تھی۔ اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مدت میں اس وقت نو مہینے باقی تھے اور مطلب یہ ہے کہ اس مدت کے دوران اگر وہ سیدھے چلتے رہیں تو تم بھی ان کے ساتھ سیدھے چلو اور اگر وہ بھی عہد شکنی کریں تو پھر اس مدت کے انتظار کی بھی ضرورت نہیں ہے (تفسیر ابن جریر ج 10 ص 82)
Ayahs 9:9–10

اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:9 in the Quran reader

انہوں نے اللہ کی آیتوں کے بدلے (دنیا کی) تھوڑی سی قیمت لے لینا پسند کرلیا ہے۔ (9) اور اس کے نتیجے میں لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ان کے کرتوت بہت برے ہیں۔

لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ Open ayah 9:10 in the Quran reader

یہ کسی بھی مومن کے معاملے میں کسی رشتہ داری یا معاہدے کا پاس نہیں کرتے، اور یہی ہیں جو حدیں توڑنے والے ہیں۔

9: یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات پر عمل کرنے کے بجائے دنیا کے حقیر فوائد حاصل کرنے کو ترجیح دی ہے۔
Ayah 9:11

فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 9:11 in the Quran reader

لہذا اگر یہ توبہ کرلیں، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو یہ تمہارے دینی بھائی بن جائیں گے۔ (10) اور ہم احکام کی یہ تفصیل ان لوگوں کے لیے بیان کر رہے ہیں جو جاننا چاہیں۔

10: یہاں یہ واضح کردیا گیا کہ اگر کوئی شخص سچے دل سے توبہ کرلے تو مسلمانوں کو چاہیے کہ اس سے بھائیوں کا سا سلوک کریں اور جو تکلیفیں اس نے اسلام لانے سے پہلے پہنچائی ہیں۔ ان کو بھلا دیں، کیونکہ اسلام اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں اور زیادتیوں کو مٹا دیتا ہے۔
Ayah 9:12

وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ١ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ Open ayah 9:12 in the Quran reader

اور اگر ان لوگوں نے اپنا عہد دے دینے کے بعد اپنی قسمیں توڑ ڈالی ہوں اور تمہارے دین کو طعنے دئیے ہوں، تو ایسے کفر کے سربراہوں سے اس نیت سے جنگ کرو کہ وہ باز آجائیں۔ (11) کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کی قسموں کی کوئی حقیقت نہیں۔

11۔ پچھلی آیت کی روشنی میں قسمیں توڑنے سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ایمان لانے کے بعد مرتد ہوجائیں، جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد بعض قبائل مرتد ہوئے، اور حضرت صدیق اکبر ؓ نے ان سے جہاد کیا اور یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ جن لوگوں سے تمہارا معاہدہ تھا اور وہ پہلے ہی عہد توڑ چکے یا جن سے معاہدہ نو مہینے تک باقی ہے وہ اس دوران معاہدہ توڑیں، ان سے جہاد کرو اور یہ جو فرمایا گیا ہے کہ اس نیت سے جنگ کرو کہ وہ باز آجائیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری طرف سے جنگ کا مقصد ملک گیری کے بجائے یہ ہونا چاہیے کہ تمہارا دشمن اپنے کفر اور ظلم سے باز آجائے۔
Ayahs 9:13–14

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ اَتَخْشَوْنَهُمْ١ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:13 in the Quran reader

کیا تم ان لوگوں سے جنگ نہیں کرو گے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑا، اور رسول کو (وطن سے) نکالنے کا ارادہ کیا، اور وہی ہیں جنہوں نے تمہارے خلاف (چھیڑ چھاڑ کرنے میں) پہل کی ؟ (12) کیا تم ان سے ڈرتے ہو ؟ (اگر ایسا ہے) تو اللہ اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہے کہ تم اس سے ڈرو، اگر تم مومن ہو۔

قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 9:14 in the Quran reader

ان سے جنگ کرو تاکہ اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے، انہیں رسوا کرے، ان کے خلاف تمہاری مدد کرے، اور مومنوں کے دل ٹھنڈے کردے۔

12: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے مکہ مکرمہ میں ظلم شروع کیا اور یہ بھی کہ انہوں نے صلح حدیبیہ کو توڑنے میں پہل کی۔
Ayah 9:15

وَ یُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:15 in the Quran reader

اور ان کے دل کی کڑھن دور کردے، اور جس کی چاہے توبہ قبول کرلے (13) اور اللہ کا علم بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل

13: یعنی اس کا بھی امکان ہے کہ کفار توبہ کرکے مسلمان ہوجائیں، چنانچہ بہت سے لوگ اس کے بعد واقعی مسلمان ہوئے۔
Ayah 9:16

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لَا رَسُوْلِهٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةً١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 9:16 in the Quran reader

بھلا کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تمہیں یونہی چھوڑ دیا جائے گا، حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے کون لوگ جہاد کرتے ہیں، اور اللہ، اس کے رسول اور مومنوں کے سوا کسی اور کو خصوصی رازدار نہیں بناتے ؟ (14) اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

14: بظاہر اس کا اشارہ ان حضرات کی طرف ہے جو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے تھے، اور ابھی تک ان کو کسی جہاد میں شرکت کا موقع نہیں ملا تھا، ورنہ دوسرے صحابہ تو فتح مکہ سے پہلے بہت سی جنگوں میں حصہ لے چکے تھے، ان نو مسلموں سے کہا جارہا ہے کہ ان کو بھی جہاد کے لئے تیار رہنا چاہیے اگرچہ اعلان براءت کے بعد کسی بڑی جنگ کی نوبت نہیں آئی ؛ لیکن ان حضرات کو پوری قوت سے تیار رہنے کی تاکید اس لئے کی گئی ہے کہ وہ اپنی رشتہ داریوں کی وجہ سے کہیں اس اعلان براءت کے تمام تقاضوں پر عمل کرنے سے ہچکچانے نہ لگیں، اسی لئے جہاد کے ساتھ ساتھ یہ بھی فرمایا گیا کہ وہ اللہ، اس کے رسول اور مومنوں کے سوا کسی سے دوستی یا رازداری کا خصوصی تعلق نہ رکھیں، واللہ سبحانہ اعلم۔
Ayahs 9:17–18

مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ۖۚ وَ فِی النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 9:17 in the Quran reader

مشرکین اس بات کے اہل نہیں ہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں، (15) حالانکہ وہ خود اپنے کفر کے گواہ بنے ہوئے ہیں، ان لوگوں کے تو اعمال ہی غارت ہوچکے ہیں، اور دوزخ ہی میں ان کو ہمیشہ رہنا ہے۔

اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓئِكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 9:18 in the Quran reader

اللہ کی مسجدوں کو تو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے ہوں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔ ایسے ہی لوگوں سے یہ توقع ہوسکتی ہے کہ وہ صحیح راستہ اختیار کرنے والوں میں شامل ہوں گے۔

15: مشرکین مکہ اس بات پر فخر کیا کرتے تھے کہ وہ مسجد حرام کے پاسبان ہیں، اس کی خدمت، دیکھ بھال اور تعمیر جیسے نیک انجام دیتے ہیں اس لئے ان کو مسلمانوں پر فوقیت حاصل ہے، اس آیت نے ان کے اس زعم باطل کی تردید فرمائی ہے، اور وہ اس طرح کہ مسجد حرام یا کسی بھی مسجد کی خدمت یقیناً بڑی عبادت ہے، بشرطیکہ وہ ایمان کے ساتھ ہو، کیونکہ مسجد کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی ایسی عبادت ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو شریک نہ ٹھہرایا جائے، اگر یہ بنیادی مقصد ہی مفقود ہو تو مسجد کی خدمت کا کیا فائدہ، لہذا کفر وشرک کے ساتھ کوئی بھی شخص مسجد کا پاسبان بننے کا اہل نہیں ہے، چنانچہ آگے آیت نمبر 28 میں مشرکین کو یہ حکم سنادیا گیا ہے کہ اب وہ ان کاموں کے لئے مسجد حرام کے قریب بھی نہیں آسکیں گے۔ (توضیح القرآن)
Ayahs 9:19–22

اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 9:19 in the Quran reader

کیا تم لوگوں نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کے آباد رکھنے کو اس شخص کے (اعمال کے) برابر سمجھ رکھا ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لایا ہے، اور جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا ہے۔ (16) اللہ کے نزدیک یہ سب برابر نہیں ہوسکتے۔ اور اللہ ظالم لوگوں کو منزل مقصود تک نہیں پہنچاتا۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 9:20 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے اللہ کے راستے میں ہجرت کی ہے اور اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کیا ہے، وہ اللہ کے نزدیک درجے میں کہیں زیادہ ہیں، اور وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔

یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:21 in the Quran reader

ان کا پروردگار انہیں اپنی طرف سے رحمت اور خوشنودی کی، اور ایسے باغات کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لیے دائمی نعمتیں ہیں۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 9:22 in the Quran reader

وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یقینا اللہ ہی ہے جس کے پاس عظمت والا اجر موجود ہے۔

16: اس آیت کریمہ نے یہ اصول بھی بتادیا ہے کہ تمام نیک کام ایک درجے کے نہیں ہوتے، اگر کوئی شخص فرائض تو ادا نہ کرے، اور نفلی عبادتوں میں لگا رہے تو یہ کوئی نیکی نہیں ہے، حاجیوں کو پانی پلانا بیشک ایک نیک کام ہے، مگر وہ نفلی حیثیت رکھتا ہے، اور مسجد حرام کی دیکھ بھال بھی بعض حیثیتوں سے فرض کفایہ اور بعض حیثیتوں سے نفلی عبادت ہے، اس کے مقابلے میں ایمان انسان کی نجات کے لئے بنیادی شرط ہے، اور جہاد کبھی فرض عین اور کبھی فرض کفایہ، لہذا کسی کو صرف ان خدمات کی وجہ سے کسی مومن پر فوقیت حاصل نہیں ہوسکتی۔
Ayah 9:23

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِیْمَانِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 9:23 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر تمہارے باپ بھائی کفر کو ایمان کے مقابلے میں ترجیح دیں تو ان کو اپنا سرپرست نہ بناؤ (17)۔ اور جو لوگ ان کو سرپرست بنائیں گے وہ ظالم ہوں گے۔

17: اسکا مطلب یہ ہے کہ ان سے ایسے تعلقات نہ رکھو جو تمہارے لئے دینی فرائض کی ادائیگی میں رکاوٹ بن جائیں، جہاں تک اپنے ایمان اور دینی فرائض کا تحفظ کرتے ہوئے ان کے ساتھ حسن سلوک کا تعلق ہے اس کو قرآن کریم نے مستحسن قراردیا ہے۔ (دیکھئے سورة لقمان 15:31 اور سورة ممتحنہ 8:60)
Ayah 9:24

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اِ۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:24 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! مسلمانوں سے) کہہ دو کہ : اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، اور تمہارا خاندان، اور وہ مال و دولت جو تم نے کمایا ہے اور وہ کاروبار جس کے مندا ہونے کا تمہیں اندیشہ ہے، اور وہ رہائشی مکان جو تمہیں پسند ہیں، تمہیں اللہ اور اس کے رسول سے، اور اس کے راستے میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں۔ تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فرما دے۔ (18) اور اللہ نافرمان لوگوں کو منزل تک نہیں پہنچاتا۔

18: فیصلے سے مراد سزا کا فیصلہ ہے اس آیت نے واضح فرمادیا ہے کہ ماں باپ، بھائی بہن، بیوی، بچے، مال و دولت، گھر، جائیداد، تجارت اور کاروبار، ہر چیز اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے ؛ لیکن اسی وقت جب وہ اللہ تعالیٰ کے احکام بجالانے میں رکاوٹ نہ بنے، اگر رکاوٹ بن جائے تو یہی چیزیں انسان کے لئے عذاب بن جاتی ہیں، اعاذنا اللہ منہ۔
Ayah 9:25

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِیْ مَوَاطِنَ كَثِیْرَةٍ١ۙ وَّ یَوْمَ حُنَیْنٍ١ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَۚ Open ayah 9:25 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری بہت سے مقامات پر مدد کی ہے، اور (خاص طور پر) حنین کے دن جب تمہاری تعداد کی کثرت نے تمہیں مگن کردیا تھا، (19) مگر وہ کثرت تعداد تمہارے کچھ کام نہ آئی، اور زمین اپنی ساری وسعتوں کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی، پھر تم نے پیٹھ دکھا کر میدان سے رخ موڑ لیا۔

19: حنین کی جنگ کا واقعہ مختصراً یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے مکہ مکرمہ فتح کرلیا تو آپ کو یہ اطلاع ملی کہ عرب کا ایک مشہور قبیلہ بنو ہوازن اپنے سردار مالک بن عوف کی سر کردگی میں آپ پر حملہ کرنے کے لیے ایک بڑا لشکر جمع کر رہا ہے۔ ہوازن ایک بڑا قبیلہ تھا جس کی کئی شاخیں تھیں، اور طائف کا قبیلہ ثقیف بھی اسی کا ایک حصہ تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علی ہو سلم نے اپنے جاسوس بھیج کر خبر کی تصدیق فرمائی۔ اور معلوم ہوا کہ خبر صحیح ہے، اور وہ لوگ بڑے جوش و خروش سے تیاری میں مصروف ہیں۔ ہوازن کے لوگوں کی تعداد حافظ ابن حجر ؒ کے بیان کے مطابق چوبیس ہزار سے اٹھائیس ہزار تک تھی، چنانچہ آپ چودہ ہزار صحابہ کرام پر مشتمل ایک لشکر لے کر روانہ ہوئے اور یہ جنگ حنین کے مقام پر لڑی گئی جو مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان مکہ مکرمہ سے تقریبا دس میل کے فاصلے پر واقع ایک وادی کا نام ہے۔ چونکہ مسلمانوں کی تعداد اس موقع پر چودہ ہزار تھی، جبکہ اس سے پہلے اتنی بڑی تعداد کسی باقاعدہ جنگ میں نہیں ہوئی تھی، اور ہمیشہ مسلمان اپنی کم تعداد کے باوجود فتح پاتے آئے تھے، اس لیے بعض مسلمانوں کے منہ سے یہ نکل گیا کہ آج تو ہماری تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ہم کسی سے مغلوب ہو ہی نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہیں آئی کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کے بجائے اپنی تعداد پر اتنا بھروسہ کریں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ جس وقت مسلمان ایک تنگ گھاٹی سے گذر رہے تھے، ہوازن کے تیر اندازوں نے اچانک ان پر اس زور کا حملہ کیا کہ بہت سے مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ میدان جنگ سے پیچھے ہٹ گئے۔ اس موقع پر حضرت رسول کریم ﷺ اپنے چند جانباز صحابہ کے ساتھ ثابت قدم رہے اور آپ نے حضرت عباس ؓ کو حکم دیا کہ وہ پیچھے ہٹنے والوں کو آواز دے کر بلائیں۔ حضرت عباس ؓ کی آواز بہت تیز تھی، وہ ایک بجلی کی طرح مسلمانوں کے لشکر میں پھیل گئی۔ اور جو لوگ میدان چھوڑ چکے تھے، وہ نئے ولولے کے ساتھ واپس آئے اور کچھ ہی دیر میں جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔ ہوازن کے ستر سردار مارے گئے۔ مالک بن عوف اپنے اہل و عیال اور مال و دولت کو چھوڑ کر فرار ہوا، اور طائف کے قلعے میں جا کر پناہ لی۔ چھ ہزار افراد جنگی قیدی بنائے گئے اور بڑی تعداد میں مویشی اور چار ہزار اوقیہ چاندی مال غنیمت کے طور پر مسلمانوں کے ہاتھ لگی۔
Ayah 9:26

ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:26 in the Quran reader

پھر اللہ نے اپنے رسول پر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل کی (20) اور ایسے لشکر اتارے جو تمہیں نظر نہیں آئے، اور جن لوگوں نے کفر اپنا رکھا تھا، اللہ نے ان کو سزا دی، اور ایسے کافروں کا یہی بدلہ ہے۔

20: یہ اس وقت کا ذکر ہے جب میدان چھوڑنے والے مسلمان حضرت عباس ؓ کی آواز سن کر واپس آئے اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کی ایسی تسکین پیدا فرما دی کہ ان پر دشمن کا جو رعب وقتی طور پر چھا گیا تو وہ دور ہوگیا۔
Ayah 9:27

ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:27 in the Quran reader

پھر اللہ جس کو چاہے اس کے بعد توبہ نصیب کردے، (21) اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

21: اس آیت میں اشارہ فرمادیا گیا کہ ہوازن کے جو لوگ بڑے جوش و خروش کے ساتھ لڑنے کے لیے آئے تھے، ان میں سے بہت سے لوگوں کو ایمان اور توبہ کی توفیق ہوجائے گی، چنانچہ ایسا ہی ہوا، اور ہوازن اور ثقیف کے لوگوں کی بہت بڑی تعداد بعد میں مسلمان ہوئی۔ خود مالک بن عوف جو ہوازن کے سب سے بڑے سردار تھے، مسلمان ہوئے اور اسلام کے بڑے علم برداروں میں ان کا شمار ہوا۔ آج انہیں حضرت مالک بن عوف ؓ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے
Ayah 9:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا١ۚ وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:28 in the Quran reader

اے ایمان والو ! مشرک لوگ تو سراپا ناپاکی ہیں، (22) لہذا وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی نہ آنے پائیں، (23) اور (مسلمانو) اگر تم کو مفلسی کا اندیشہ ہو تو اگر اللہ چاہے گا تو تمہیں اپنے فضل سے (مشرکین سے) بےنیاز کردے گا۔ (24) بیشک اللہ کا علم بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل۔

22: اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ ان کے جسم بذات خود ناپاک ہیں، بلکہ مقصد یہ ہے کہ ان کے عقائد ناپاک ہیں جو ان کے وجود میں سرایت کرچکے ہیں 23: یہ اعلان براءت کا تکملہ ہے۔ اور اس کے ذریعے مشرکین کو مسجد حرام کے قریب آنے سے منع فرما دیا گیا ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہ نے اس کا مطلب یہ بیان فرمایا ہے کہ مشرکین کو اگلے سال سے حج کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس لیے کہ اس آیت کریمہ کی تعمیل میں آنحضرت صلی اللہ علی ہو سلم نے حضرت علی سے جو اعلان کروایا اس کے الفاظ یہ تھے کہ لا یجمعن بعد ھذا العام مشرک، یعنی اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرسکے گا (صحیح بخاری، کتاب التفسیر، سورة براءۃ)۔ اس سے معلوم ہوا کہ ”مسجد حرام کے قریب نہ آنے“ کے معنی یہ ہیں کہ وہ حج نہ کریں اور یہ ایسا ہی ہے جیسے مردوں سے کہا گیا ہے کہ وہ حیض کی حالت میں عورتوں کے قریب بھی نہ جائیں، اور مراد یہ ہے کہ ان سے جماع نہ کریں، چنانہ ان کے قریب جانا ممنوع نہیں ہے۔ اسی طرح کفار حج تو نہیں کرسکتے۔ لیکن کسی اور ضرورت سے مسجد حرام یا کسی اور مسجد میں ان کا داخلہ بالکلیہ ممنوع نہیں ہے، کیونکہ کئی مواقع پر یہ ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے غیر مسلموں کو مسجد نبوی میں داخل ہونے کی اجازت دی۔ البتہ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ اس آیت کی رو سے مسجد حرام بلکہ پوری حددود حرم میں کفار کا داخلہ ممنوع ہے۔ بلکہ امام مالک کے نزدیک دوسری کسی مسجد میں بھی کسی کافر کا داخلہ جائز نہیں ہے۔ 24: غیر مسلموں کو حج سے منع کرنے کا ایک نتیجہ ظاہری طور پر یہ ہوسکتا تھا کہ مکہ مکرمہ کی تجارت اور معیشت پر برا اثر پڑے، کیونکہ مکہ مکرمہ میں اپنی تو کوئی پیداوار نہیں تھی، باہر سے آنے والوں پر ہی اس کی تجارت کا دار و مدار تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس اندیشے کو دور کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی احتیاج اپنے فضل سے دور فرمائے گا۔
Ayah 9:29

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ۠ Open ayah 9:29 in the Quran reader

وہ اہل کتاب (25) جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، نہ یوم آخرت پر (26) اور جو اللہ اور اس کے رسول کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حرام نہیں سمجھتے، اور نہ دین حق کو اپنا دین مانتے ہیں ان سے جنگ کرو، یہاں تک کہ وہ خوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں۔ (27)

25: اس سے اوپر کی اٹھائیس آیات عرب کے بت پرستوں کے بارے میں تھیں۔ اور یہاں سے وہ آیات شروع ہورہی ہیں جو غزوہ تبوک کے بارے میں نازل ہوئی ہیں (الدر المثور بحوالہ مجاہد ج :4 ص : 153) اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ آیتیں اوپر کی اٹھائیس آیتوں سے پہلے نازل ہوئی تھیں۔ کیونکہ غزوہ تبوک اعلان براءت سے پہلے پیش آیا ہے اور اس کا واقعہ انشاء اللہ آگے قدرے تفصیل کے ساتھ آئے گا۔ چونکہ یہ غزوہ روم کی سلطنت کے ماتحت زندگی گزار رہی تھی۔ اور دونوں کو قرآن کریم نے اہل کتاب کا نام دیا ہے، اس لیے ان سے جنگ کرنے کا حکم دینے کے ساتھ ان کے عقائد اور اعمال کی کچھ خرابیاں ان آیات میں بیان فرمائی گئی ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اگرچہ ان آیات کا نزول شروع کی اٹھائیس آیتوں سے پہلے ہوا تھا۔ مگر ان کو موجودہ ترتیب میں ان اٹھائیس آیتوں کے بعد رکھا گیا ہے۔ شاید اس میں یہ اشارہ ہے کہ جزیرہ عرب کے بت پرستی سے پاک ہونے کے بعد مسلمانوں کو باہر کے اہل کتاب سے سابقہ پیش آنے والا ہے۔ نیز بت پرستوں کے لیے تو جزیرہ عرب میں مستقل رہائش ممنوع کردی گئی تھی۔ لیکن اہل کتاب کے لیے یہ گنجائش رکھی گئی تھی کہ وہ اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہری کی حیثیت میں جزیہ ادا کر کے رہ سکتے ہیں۔ یہ رعایت آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ میں تو برقرار رہی، لیکن آپ نے وفات سے پہلے یہ وصیت فرمائی تھی کہ یہود اور نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے نکال دو (صحیح بخاری، کتاب الجہاد، حدیث نمبر 3053) چنانچہ بعد میں حضرت عمر ؓ نے اس وصیت پر عمل فرمایا۔ لیکن یہ حکم صرف جزیرہ عرب کے ساتھ مخصوص تھا۔ جزیرہ عرب کے باہر جہاں کہیں اسلامی حکومت قائم ہو، وہاں اب بھی نہ صرف اہل کتاب، بلکہ دوسرے تمام غیر مسلم اسلامی ریاست کے شہری کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں، جہاں انہیں اپنے مذہب پر عمل کی آزادی ہے۔ بشرطیکہ وہ ملکی قوانین کی پابندی کریں۔ یہاں اگرچہ ذکر صرف اہل کتاب کا ہے، لیکن جو وہ بیان کی گئی ہے کہ وہ دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے، وہ چونکہ تمام غیر مسلموں میں پائی جاتی ہے، اس لیے جزیر عرب سے باہر یہ حکم باجماع امت تمام غیر مسلموں کو شامل ہے۔ واللہ سبحانہ اعلم۔ 26: بظاہر تو اہل کتاب اللہ پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے تھے، لیکن چونکہ انہوں نے اس ایمان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے بارے میں بہت سے غلط عقائد گھڑ رکھے تھے، جن میں سے بعض کا بیان اگلی آیت میں آرہا ہے، اس لیے ان کا یہ ایمان کالعدم قرار دے کر یہ فرمایا گیا کہ وہ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے۔ 27: ”جزیہ“ ایک ٹیکس ہے جو مسلمان ریاست کے ان غیر مسلم شہریوں سے لیا جاتا ہے جو لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، چنانچہ عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور تارک الدنیا مذہبی پیشواؤں سے جزیہ نہیں لیا جاتا۔ یہ درحقیقت ان کے پر امن طریقے سے اسلامی ریاست میں رہنے اور اسلامی ریاست کے دفاع میں شریک نہ ہونے کا ٹیکس ہے جس کے عوض اسلامی حکومت ان کی جان ومال کی ذمہ داری لیتی ہے (روح المعانی)۔ اس کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ غیر مسلموں سے مسلمانوں کی طرح زکوٰۃ وصول نہیں کی جاتی، لیکن وہ ریاست کے تمام شہری حقوق میں برابر کے شریک ہوتے ہیں اس لیے بھی ان پر یہ خاص نوعیت کا ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ اور احادیث میں مسلمان حکمرانوں کو یہ تاکید کی گئی ہے کہ وہ غیر مسلم باشندوں کے حقوق کا پورا خیال رکھیں اور ان پر اتنا ٹیکس عائد نہ کریں جو ان کی طاقت سے زیادہ ہو۔ چنانچہ اسلامی تاریخ کے تقریبا ہر دور میں جزیہ کی شرح بہت معمولی رہی ہے۔ اور آیت کریمہ میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ : وہ خوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں۔ اس کی تفسیر امام شافعی ؒ سے یہ منقول ہے کہ وہ اسلامی ریاست کے قوانین کے تابع ہو کر رہنا منظور کرلیں (روح المعانی ج 10 ص 379)
Ayah 9:30

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ اِ۟بْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ١ۚ یُضَاهِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ۚ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 9:30 in the Quran reader

یہودی تو یہ کہتے ہیں کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں، (28) اور نصرانی یہ کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں، یہ سب ان کی منہ کی بنائی ہوئی باتیں ہیں۔ یہ ان لوگوں کی سی باتیں کر رہے ہیں جو ان سے پہلے کافر ہوچکے ہیں۔ (29) اللہ کی مار ہو ان پر ! یہ کہاں اوندھے بہکے جارہے ہیں ؟

28: حضرت عزیر ؑ ایک جلیل القدر پیغمبر تھے، (ان کو بائبل میں عزرا کے نام سے یاد کیا گیا ہے، اور ایک پوری کتاب ان کے نام سے منسوب ہے) اور جب بخت نصر کے حملے میں تورات کے نسخے ناپید ہوگئے تھے تو انہوں نے اپنی یادداشت سے دوبارہ لکھوایا تھا، اور شائد اسی وجہ سے بعض یہودی انہیں اللہ تعالیٰ کا بیٹا ماننے لگے تھے، یہاں یہ واضح رہے کہ ان کا بیٹا ماننے کا عقیدہ سب یہودیوں کا نہیں ہے ؛ بلکہ بعض یہودیوں کا ہے جو عرب میں بھی آباد تھے۔ 29: اس سے مراد غالباً عرب کے مشرکین ہیں جو فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔
Ayahs 9:31–33

اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ١ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:31 in the Quran reader

انہوں نے اللہ کی بجائے اپنے احبار (یعنی یہودی علماء) اور راہبوں (یعنی عیسائی درویشوں) کو خدا بنا لیا ہے۔ (30) اور مسیح ابن مریم کو بھی، حالانکہ ان کو ایک خدا کے سوا کسی کی عبادت کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ اس کے سوا کوئی خدا نہیں۔ وہ ان کی مشرکانہ باتوں سے بالکل پاک ہے۔

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 9:32 in the Quran reader

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں، حالانکہ اللہ کو اپنے نور کی تکمیل کے سوا ہر بات نامنظور ہے، چاہے کافروں کو یہ بات کتنی بری لگے۔

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ۙ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:33 in the Quran reader

وہ اللہ ہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے، تاکہ اسے ہر دوسرے دین پر غالب کردے، چاہے مشرک لوگوں کو یہ بات کتنی ناپسند ہو۔

30: ان کو خدا بنانے کا جو مطلب آنحضرت ﷺ نے بیان فرمایا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے علماء کو یہ اختیارات دے رکھے ہیں کہ وہ جس کو چاہیں حلال اور جس چیز کو چاہیں حرام قرار دے دیں، واضح رہے کہ عام لوگ جو کسی آسمانی کتاب کا براہ راست علم نہیں رکھتے، ان کو شریعت کا حکم معلوم کرنے کے لئے علماء سے رجوع تو کرنا ہی پڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے شارح کی حیثیت میں ان کی بات ماننی بھی پڑتی ہے، اس کا حکم خود قرآن کریم نے سورة نحل (14۔ 43) اور سورة انبیاء (17۔ 21) میں دیا ہے، اس حد تک تو کوئی بات قابل اعتراض نہیں، لیکن یہود و نصاری نے اس سے آگے بڑھ کر اپنے علماء کو بذات خود احکام وضع کرنے کا اختیار دے رکھا تھا کہ وہ آسمانی کتاب کی تشریح کے طور پر نہیں ؛ بلکہ اپنی مرضی سے جس چیز کو چاہیں حلال اور جس چیز کو چاہیں حرام قرار دے دیں، خواہ ان کا یہ حکم اللہ کی کتاب کے مخالف ہی کیوں نہ ہو۔
Ayahs 9:34–35

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَیَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:34 in the Quran reader

اے ایمان والو ! (یہودی) احبار اور (عیسائی) راہبوں میں سے بہت سے ایسے ہیں کہ لوگوں کا مال ناحق طریقے سے کھاتے ہیں، اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ (31) اور جو لوگ سونے چاندی کو جمع کر کر کے رکھتے ہیں، اور اس کو اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے، ان کو ایک دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔ (32)

یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْ١ؕ هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ Open ayah 9:35 in the Quran reader

جس دن اس دولت کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اس سے ان لوگوں کی پیشانیوں اور ان کی کروٹیں اور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی، (اور کہا جائے گا کہ) یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا، اب چکھو اس خزانے کا مزہ جو تم جوڑ جوڑ کر رکھا کرتے تھے۔

31: لوگوں کا مال ناحق طریقے سے کھانے کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں، لیکن ان علماء کے حوالے سے خاص طور پر جو بات کہی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ یہ لوگ رشوت لے کر لوگوں کی مرضی کے مطابق شریعت کو توڑ موڑ ڈالتے ہیں، اور اس طرح اللہ کے مقرر کئے ہوئے صحیح راستے سے لوگوں کو روک دیتے ہیں۔ 32: اگرچہ یہ آیت براہ راست ان اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو بخل کی وجہ سے مال جمع کرتے رہتے تھے، اور اس کے شرعی حقوق ادا نہیں کرتے تھے، لیکن آیت کے الفاظ عام ہیں اور ان کا اطلاق ان مسلمانوں پر بھی ہوتا ہے جو مال و دولت اکھٹا کرتے چلے جائیں اور وہ حقوق ٹھیک ٹھیک ادا نہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے مال پر عائد کئے ہیں جن میں سب سے اہم زکوٰۃ کی ادائیگی ہے۔
Ayah 9:36

اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙ۬ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:36 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ مہینے ہے۔ (33) جو اللہ کی کتاب (یعنی لوح محفوظ) کے مطابق اس دن سے نافذ چلی آتی ہے جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا۔ ان (بارہ مہینوں) میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں، یہی دین (کا) سیدھا سادہ (تقاضا) ہے، لہذا ان مہینوں کے معاملے میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو، (34) اور تم سب ملکر مشرکوں سے اسی طرح لڑو جیسے وہ سب تم سے لڑتے ہیں، اور یقین رکھو کہ اللہ متقی لوگوں کے ساتھ ہے۔

33: سورت کے شروع میں جو اعلان براءت کیا گیا ہے اس میں بت پرستوں کی ایک قسم کو حرمت والے مہینے ختم ہونے تک مہلت دی گئی تھی، اس مناسبت سے عرب کے بت پرستوں کی ایک معقول رسم کی تردید ضرور تھی جو آیت نمبر 36 اور 37 میں کی گئی ہے۔ اس رسم کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کے وقت سے چاند کے چار مہینوں کو حرمت والے مہینے سمجھا جاتا تھا۔ ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب۔ ان چار مہینوں میں جنگ کی ممانعت تھی۔ عرب کے بت پرستوں نے اگرچہ بت پرستی شروع کر کے حضرت ابراہیم ؑ کے دین کو بہت کچھ بدل ڈالا تھا، لیکن ان مہینوں کی حرمت کو سب تسلیم کرتے تھے، اور ان میں جنگ کو ناجائز سمجھتے تھے۔ رفتہ رفتہ یہ ممانعت ان کو مشکل معلوم ہونے لگی، اس لیے کہ ذوالقعدہ سے محرم تک تین متواتر مہینوں میں لڑائی بند رکھنا ان کے لیے دشوار تھا، چنانچہ اس مشکل کا حل انہوں نے یہ نکالا تھا کہ وہ کسی سال میں کہہ دیتے تھے کہ اس مرتبہ صفر کا مہینہ محرم سے پہلے آئے گا، یا محرم کے بجائے صفر کے مہینے کو حرمت والا مہینہ سمجھا جائے گا۔ چنانچہ اس طرح وہ محرم کے مہینے میں لڑائی کو جائز قرار دے لیتے تھے۔ اس کے علاوہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حج چونکہ مختلف موسموں میں آتا تھا اس لیے بعض مرتبہ وہ موسم ان کی تجارت کے لیے ساز گار نہیں ہوتا تھا تو وہ حج ذوالحجہ کے بجائے کسی اور مہینے میں کرلیتے تھے اور اس کے لیے انہوں نے کبیسہ کا ایک حساب بھی گھڑ لیا تھا جس کی تفصیل امام رازی نے اپنی تفسیر میں بیان فرمائی ہے اور حافظ ابن جریر کی بعض روایات سے بھی ان کی تائید ہوتی ہے۔ مہینوں کو آگے پیچھے کرنے کی اس رسم کو نسیئ کہا جاتا تھا جس کا ذکر آیت نمبر 37 میں آرہا ہے۔ 34: یعنی اللہ تعالیٰ نے مہینوں کی جو ترتیب مقرر فرمائی ہے، اس میں رد وبدل کرکے مہینوں کو آگے پیچھے کرنے کا نتیجہ یہ ہے کہ جس مہینے میں لڑائی حرام تھی اس میں اسے حلال کرلیا گیا، جو ایک بڑا گناہ ہے اور گناہ کا ارتکاب کرنے والا خود اپنی جان پر ظلم کرتا ہے، کیونکہ اس کا برا انجام اس کی جان ہی کو بھگتنا پڑے گا۔ ساتھ ہی اس جملے میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ان حرمت والے مہینوں میں اللہ تعالیٰ کی زیادہ سے زیادہ عبادت کرنی چاہیے اور ان مہینوں میں گناہوں سے بچنے کی فکر اور دونوں سے زیادہ کرنی چاہیے۔
Ayah 9:37

اِنَّمَا النَّسِیْٓءُ زِیَادَةٌ فِی الْكُفْرِ یُضَلُّ بِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُحِلُّوْنَهٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوْنَهٗ عَامًا لِّیُوَاطِئُوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰهُ١ؕ زُیِّنَ لَهُمْ سُوْٓءُ اَعْمَالِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 9:37 in the Quran reader

اور یہ نسیئ (یعنی مہینوں کو آگے پیچھے کردینا) تو کفر میں ایک مزید اضافہ ہے جس کے ذریعے کافروں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ اس عمل کو ایک سال حلال کرلیتے ہیں، اور ایک سال حرام قرار دے دیتے ہیں، تاکہ اللہ نے جو مہینے حرام کیے ہیں ان کی بس گنتی پوری کرلیں، اور (اس طرح) جو بات اللہ نے حرام قرار دی تھی اسے حلال سمجھ لیں۔ (35) ان کی بدعملی ان کی نگاہ میں خوشنما بنادی گئی ہے، اور اللہ ایسے کافر لوگوں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا۔

35: یعنی مہینوں کو آگے پیچھے کر کے انہوں نے چار مہینے کی گنتی تو پوری کردی، لیکن ترتیب بدلنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ جس مہینے میں واقعۃ اللہ تعالیٰ نے لڑائی حرام قرار دی تھی، اس میں انہوں نے لڑائی کو حلال کرلیا۔
Ayahs 9:38–39

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِیْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ١ؕ اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَةِ١ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 9:38 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے کہا گیا کہ اللہ کے راستے میں (جہاد کے لیے) کوچ کرو تو تم بوجھ ہو کر زمین سے لگ گئے ؟ (36) کیا تم آخرت کے مقابلے میں دنیوی زندگی پر راضی ہوچکے ہو ؟ (اگر ایسا ہے) تو (یاد رکھو کہ) دنیوی زندی کا مزہ آخرت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، مگر تھوڑا۔

اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ وَ لَا تَضُرُّوْهُ شَیْئًا١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 9:39 in the Quran reader

اگر تم کوچ نہیں کرو گے تو اللہ تمہیں دردناک سزا دے گا، اور تمہاری جگہ کوئی اور قوم لے آئے گا، اور تم اسے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکو گے۔ اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔

36: یہاں سے غزوہ تبوک کے مختلف پہلووں کا بیان شروع ہورہا ہے جو اس سورت کے تقریبا آخر تک چلا گیا ہے اس غزوے کا واقعہ مختصراً یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ فتح مکہ اور غزوہ حنین کے سفر سے واپس مدینہ منورہ تشریف لائے تو کچھ عرصہ بعد شام سے آنے والے کچھ سودا گروں نے مسلمانوں کو بتایا کہ رومی سلطنت کا بادشاہ ہرقل مدینہ منورہ پر ایک زور دار حملہ کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ جس کے لیے اس نے ایک بڑا لشکر شام اور عرب کی سرحد پر جمع کرلیا ہے، اور اپنے فوجیوں کو سال بھر کی تنخواہ پیشگی دے دی ہے۔ صحابہ کرام اگرچہ اب تک بہت سی جنگیں لڑ چکے تھے، مگر وہ سب جزیرہ عرب کے اندر تھیں، یہ پہلا موقع تھا کہ دنیا کی مانی ہوئی ایک بڑی طاقت سے مقابلہ پیش آرہا تھا۔ لیکن آنحضرت ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ ہرقل کے حملے کا انتظار کیے بغیر خود پیش قدمی کی جائے، اور خود وہاں پہنچ کر مقابلہ کیا جائے۔ چنانچہ آپ نے مدینہ منورہ کے تمام مسلمانوں کو اس جنگ میں شریک ہونے کے لیے تیاری کا حکم دیا۔ مسلمانوں کے لیے یہ بہت بڑی آزمائش تھی۔ اول تو دس سال کی متواتر جنگوں کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ فتح مکہ کے بعد سکون کے کچھ لمحات میسر آئے تھے۔ دوسرے جس وقت اس جنگ کے لیے روانہ ہونا تھا۔ وہ ایسا وقت تھا کہ مدینہ منورہ کے نخلستانوں میں کھجوریں پک رہی تھیں۔ انہی کھجوروں پر اہل مدینہ کی سال بھر کی معیشت کا دار و مدار تھا۔ ایسی حالت میں باغات کو چھوڑ کر جانا نہایت مشکل تھا۔ تیسرے یہ عرب میں گرمی کا سخت ترین موسم تھا جس میں آسمان سے آگ برستی اور زمین سے شعلے نکلتے محسوس ہوتے ہیں۔ چوتھے تبوک کا سفر بہت لمبا تھا، اور تقریبا آٹھ سو میل کا یہ پورا راستہ لق ودق صحراؤں پر مشتمل تھا۔ پانچویں سفر کے لیے سواریاں کم تھیں۔ چھٹے اس سفر کا مقصد رومی سلطنت سے ٹکر لینا تھا جو اس وقت نہ صرف یہ کہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت تھی، بلکہ اس کے طریقہ جنگ سے بھی اہل عرب پوری طرح مانوس نہیں تھے۔ غرض ہر اعتبار سے یہ انتہائی مشقت، جان و مال اور جذبات کی قربانی کا جہاد تھا جس کے لیے آنحضرت ﷺ تیس ہزار صحابہ کرام کے لشکر کے ساتھ تبوک روانہ ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ہرقل اور اس کے لشکر پر آپ کی اس جرأت مندانہ پیش قدمی کا ایسا رعب طاری فرما دیا کہ وہ سب واپس چلے گئے اور مقابلے کی نوبت ہی نہیں آئی۔ مذکورہ بالا مشکل حالات کے باوجود صحابہ کرام کی بھاری اکثریت ماتھے پر بل لائے بغیر جاں نثاری کے جذبے سے اس مہم میں شریک ہوئی۔ البتہ کچھ صحابہ ایسے بھی تھے جنہیں یہ سفر بھاری معلوم ہوا، اور شروع میں انہیں کچھ تردد رہا، لیکن آخر کار وہ لشکر میں شامل ہوگئے۔ اور چند ایسے بھی تھے جو اس تردد کی وجہ سے آخر تک فیصلہ نہ کرسکے، اور سفر میں شرکت سے محروم رہے۔ دوسری طرف وہ منافقین تھے جو ظاہری طور پر تو مسلمان ہوگئے تھے لیکن اندر سے مسلمان نہیں تھے۔ ایسی سخت مہم میں مسلمانوں کا ساتھ دینا ان کے لیے ممکن ہی نہیں تھا، اس لیے وہ مختلف حیلوں بہانوں سے مدینہ منورہ میں رک گئے اور ساتھ نہیں گئے۔ اس سورت کی آنے والی آیات میں ان سب قسم کے لوگوں کا ذکر آیا ہے، اور ان کے طرز عممل پر تبصرہ فرمایا گیا ہے۔ آیت نمبر 38 میں جن لوگوں کو ملامت کی گئی ہے ان سے مراد منافقین بھی ہوسکتے ہیں۔ اس صورت میں ”اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو“ ان کے ظاہری دعوی کے مطابق فرمایا گیا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ خطاب ان صحابہ کرام سے ہو جن کے دل میں تردد پیدا ہوا تھا۔ البتہ آیت نمبر 42 سے تمام تر بیان منافقین ہی کا ہے۔