9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsآسان قرآن

Ayahs 9:40–42

اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا١ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ وَ اَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِیْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى١ؕ وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِیَ الْعُلْیَا١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:40 in the Quran reader

اگر تم ان کی (یعنی نبی کریم ﷺ کی) مدد نہیں کرو گے تو (ان کا کچھ نقصان نہیں، کیونکہ) اللہ ان کی مدد اس وقت کرچکا ہے جب ان کو کافر لوگوں نے ایسے وقت (مکہ سے) نکالا تھا جب وہ دو آدمیوں میں سے دوسرے تھے، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ : غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھی ہے۔ (37) چنانچہ اللہ نے ان پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی، اور ان کی ایسے لشکروں سے مدد کی جو تمہیں نظر نہیں آئے، اور کافر لوگوں کا بول نیچا کر دکھایا، اور بول تو اللہ ہی کا بالا ہے، اور اللہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:41 in the Quran reader

(جہاد کے لیے) نکل کھڑے ہو، چاہے تم ہلکے ہو یا بوجھل، اور اپنے مال و جان سے اللہ کے راستے میں جہاد کرو۔ اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو یہی تمہارے حق میں بہتر ہے۔

لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ وَ لٰكِنْۢ بَعُدَتْ عَلَیْهِمُ الشُّقَّةُ١ؕ وَ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ١ۚ یُهْلِكُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۠ Open ayah 9:42 in the Quran reader

اگر دنیا کا سامان کہیں قریب ملنے والا ہوتا، اور سفر درمیانہ قسم کا ہوتا، تو یہ (منافق لوگ) ضرور تمہارے پیچھے ہو لیتے، لیکن یہ کٹھن فاصلہ ان کے لیے بہت دور پڑگیا۔ اور اب یہ اللہ کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم میں استطاعت ہوتی تو ہم ضرور آپ کے ساتھ نکل جاتے۔ یہ لوگ اپنی جانوں کو ہلاک کر رہے ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔

37: یہ ہجرت کے واقعے کی طرف اشارہ ہے۔ آنحضرت ﷺ صرف اپنے ایک رفیق حضرت صدیق اکبر ؓ کے ساتھ مکہ مکرمہ سے نکلے تھے، اور تین دن تک غار ثور میں روپوش رہے تھے۔ مکہ مکرمہ کے کافر سرداروں نے آپ کی تلاش کے لیے چاروں طرف لوگ دوڑائے ہوئے تھے، اور آپ کو گرفتار کرنے کے لیے سو اونٹوں کا انعام مقرر کیا ہوا تھا۔ ایک مرتبہ آپ کو تلاش کرنے والے کھوجی غار ثور کے منہ تک پہنچ گئے اور ان کے پاؤں حضرت صدیق اکبر کو نظر آنے لگے جس کی وجہ سے ان پر گھبراہٹ کے آثار ظاہر ہوئے۔ لیکن حضور سرور دو عالم ﷺ نے اس موقع پر ان سے فرمایا تھا کہ غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے غار کے دہانے پر مکڑی سے جالا تنوا دیا۔ اور وہ لوگ اسے دیکھ کر واپس چلے گئے۔ اس واقعے کا حوالہ دے کر اللہ تعالیٰ ارشاد فرما رہے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے، ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی مدد کافی ہے، لیکن خوش نصیبی ان لوگوں کی ہے جو آپ کی نصرت کی سعادت حاصل کریں۔
Ayahs 9:43–45

عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ١ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 9:43 in the Quran reader

(اے پیغمبر) اللہ نے تمہیں معاف کردیا ہے، (38) (مگر) تم نے ان کو (جہاد میں شریک نہ ہونے کی) اجازت اس سے پہلے ہی کیوں دے دی کہ تم پر یہ بات کھل جاتی کہ کون ہیں جنہوں نے سچ بولا ہے اور تم جھوٹوں کو بھی اچھی طرح جان لیتے۔

لَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:44 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، وہ اپنے مال و جان سے جہاد نہ کرنے کے لیے تم سے اجازت نہیں مانگتے، اور اللہ متقی لوگوں کو خوب جانتا ہے۔

اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِیْ رَیْبِهِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ Open ayah 9:45 in the Quran reader

تم سے اجازت تو وہ لوگ مانگتے ہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں، اور وہ اپنے شک کی وجہ سے ڈانواڈول ہیں۔

38: در اصل تنبیہ تو یہ کرنی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علی ہو سلم نے منافقین کو جہاد سے الگ رہنے کی اجازت کیوں دی ؟ لیکن یہ محبت بھرا انداز ملاحظہ فرمائیے کہ تنبیہ کرنے سے پہلے ہی معافی کا اعلان فرما دیا۔ کیونکہ اگر پہلے تنبیہ کی جاتی اور معافی کا اعلان بعد میں آتا تو اس درمیانی وقت میں آپ پر نہ جانے کیا کیفیت گذر جاتی۔ بہرحال ! مطلب یہ ہے کہ ان منافقین کو جہاد میں جانا تو تھا ہی نہیں۔ اور جیسا کہ آگے آیت 47 میں فرمایا گیا ہے، اللہ تعالیٰ بھی نہیں چاہتا تھا کہ یہ لشکر میں شامل ہو کر فساد مچائیں، لیکن اگر آپ انہیں جہاد سے الگ رہنے کی اجازت نہ دیتے تو یہ بات کھل کر سامنے آجاتی کہ یہ نافرمان لوگ ہیں۔ بحالت موجودہ جبکہ یہ لوگ اجازت لے چکے ہیں۔ ایک طرف تو یہ مسلمانوں سے کہیں گے کہ ہم تو باقاعدہ اجازت لے کر مدینہ منورہ میں رہے، اور دوسری طرف اپنے لوگوں سے شیخی بگھاریں گے کہ دیکھوں ہم نے مسلمانوں کو کیسا دھوکا دیا۔
Ayah 9:46

وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّ لٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَ قِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:46 in the Quran reader

اگر ان کا ارادہ نکلنے کا ہوتا تو اس کے لیے انہوں نے کچھ نہ کچھ تیاری کی ہوتی۔ (39) لیکن اللہ نے ان کا اٹھنا پسند ہی نہیں کیا، اس لیے انہیں سست پڑا رہنے دیا، اور کہہ دیا گیا کہ جو (اپاہج ہونے کی وجہ سے) بیٹھے ہیں، ان کے ساتھ تم بھی بیٹھ رہو۔

39: یہ آیت بتارہی ہے کہ انسان کا کوئی عذر اس وقت مانا جاسکتا ہے جب اس نے اپنی طرف سے اپنا فرض ادا کرنے کی کوشش اور تیاری پوری کی ہو، پھر کوئی غیر اختیاری وجہ ایسی پیش آگئی ہو جس کی بنا پر وہ اپنا فریضہ ادا نہیں کرسکا۔ لیکن کسی قسم کی کوشش اور تیاری کے بغیر یہ کہہ دینا کہ ہم معذور ہیں، قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ مثلاً کوئی شخص فجر کے وقت بیدار ہونے کی تیاری پوری کرے، الارم لگائے، یا کسی کو بیدار کرنے پر مقرر کرے، پھر آنکھ نہ کھلے تو بیشک معزور ہے، لیکن تیاری کچھ نہ کی ہو، اور پھر آنکھ نہ کھلنے کا عذر پیش کرے تو یہ عذر معتبر نہیں ہے۔
Ayah 9:47

لَوْ خَرَجُوْا فِیْكُمْ مَّا زَادُوْكُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَاۡاَوْضَعُوْا خِلٰلَكُمْ یَبْغُوْنَكُمُ الْفِتْنَةَ١ۚ وَ فِیْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:47 in the Quran reader

اگر یہ لوگ تمہارے ساتھ نکل کھڑے ہوتے تو سوائے فساد پھیلانے کے تمہارے درمیان کوئی اور اضافہ نہ کرتے، اور تمہارے لیے فتنہ پیدا کرنے کی کوشش میں تمہاری صفوں کے درمیان دوڑے دوڑے پھرتے۔ اور خود تمہارے درمیان ایسے لوگ موجود ہیں جو ان کے مطلب کی باتیں خوب سنتے ہیں۔ (40) اور اللہ ان ظالموں کو اچھی طرح جانتا ہے۔

40: اس کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ بعض سادہ لوح مسلمان ان لوگوں کی حقیقت سے واقف نہیں ہیں، اس لیے ان کی باتیں سن کر انہیں خلوص پر مبنی سمجھتے ہیں اس لیے اگر یہ لوگ تمہارے ساتھ لشکر میں موجود ہوتے تو ان سادہ لوح مسلمانوں کو ورغلا کر فساد کا بیج بونے کی کوشش کرتے۔ اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگرچہ یہ منافقین خود تو لشکر میں شامل نہیں ہوئے لیکن ان کے جاسوس تمہاری صفوں میں موجود ہیں جو تمہاری باتیں سنتے ہیں، اور جن باتوں سے منافقین کوئی فائدہ اٹھاسکتے ہوں، ان کی خبریں ان تک پہنچا تے ہیں۔
Ayah 9:48

لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَ قَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ حَتّٰى جَآءَ الْحَقُّ وَ ظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:48 in the Quran reader

ان لوگوں نے اس سے پہلے بھی فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، اور یہ تمہیں نقصان پہنچانے کے لیے معاملات کی الٹ پھیر کرتے رہے ہیں، یہاں تک کہ حق آیا، اللہ کا حکم غالب ہوا، اور یہ کڑھتے رہ گئے۔ (41)

41: اس سے مسلمانوں کی فتوحات کی طرف اشارہ ہے جن میں فتح مکہ اور غزوہ حنین کی فتح سر فہرست ہے۔ منافقین کی پوری کوشش تو یہ تھی کہ مسلمان کامیاب نہ ہونے پائیں، لیکن اللہ تعالیٰ کا حکم غالب آیا، اور یہ منہ دیکھتے رہ گئے۔
Ayahs 9:49–51

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَ لَا تَفْتِنِّیْ١ؕ اَلَا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:49 in the Quran reader

اور انہی میں وہ صاحب بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ : مجھے اجازت دے دیجیے، اور مجھے فتنے میں نہ ڈالیے، (42) ارے فتنے ہی میں تو یہ خود پڑے ہوئے ہیں۔ اور یقین رکھو کہ جہنم سارے کافروں کو گھیرے میں لینے والی ہے۔

اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْكَ مُصِیْبَةٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ یَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 9:50 in the Quran reader

اگر تمہیں کوئی بھلائی مل جائے تو انہیں دکھ ہوتا ہے، اور اگر تم پر کوئی مصیبت آپڑے تو کہتے ہیں کہ : ہم نے تو پہلے ہی اپنا بچاؤ کرلیا تھا، اور (یہ کہہ کر) بڑے خوش خوش واپس جاتے ہیں۔

قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا١ۚ هُوَ مَوْلٰىنَا١ۚ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 9:51 in the Quran reader

کہہ دو کہ : اللہ نے ہمارے مقدر میں جو تکلیف لکھ دی ہے ہمیں اس کے سوا کوئی اور تکلیف ہرگز نہیں پہنچ سکتی۔ وہ ہمارا رکھوالا ہے، اور اللہ ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہیے۔

42: حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ منافقین میں ایک شخص جد بن قیس تھا۔ جب آنحضرت ﷺ نے اس کو غزوہ تبوک میں شامل ہونے کی دعوت دی تو اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! میں بڑا زن پرست آدمی ہوں، جب روم کی خوبصورت عورتوں کو دیکھوں گا تو مجھ سے صبر نہیں ہوسکے گا، اور میں فتنے میں مبتلا ہوجاؤں گا۔ لہذا مجھے اجازت دے دیجئے کہ میں اس جنگ میں شریک نہ ہوں، اور اس طرح مجھے فتنے میں مبتلا ہونے سے بچا لیجئے۔ اس آیت میں اس کی طرف اشارہ ہے (روح المعانی بحوالہ ابن المنذر و طبرانی وابن مردویہ)۔
Ayah 9:52

قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِ١ؕ وَ نَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ یُّصِیْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖۤ اَوْ بِاَیْدِیْنَا١ۖ٘ فَتَرَبَّصُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ Open ayah 9:52 in the Quran reader

کہہ دو کہ : تم ہمارے لیے جس چیز کے منتظر ہو، وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ (آخر کار) دو بھلائیوں میں سے ایک نہ ایک بھلائی ہمیں ملے۔ (43) اور ہمیں تمہارے بارے میں انتظار اس کا ہے کہ اللہ تمہیں اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں سزا دے۔ بس اب انتظار کرو، ہم بھی تمہارے ساتھ منتظر ہیں۔

43: یعنی یا تو ہمیں فتح ہو، یا ہم اللہ تعالیٰ کے راستے میں شہید ہوجائیں، اور ہمارے لیے یہ دونوں باتیں بھلائی کی ہیں، تم سمجھتے ہو کہ اگر ہم شہید ہوگئے تو ہمارا نقصان ہوگا۔ حالانکہ شہادت نقصان کا نہیں بڑے فائدے کا سودا ہے۔
Ayahs 9:53–54

قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْ١ؕ اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 9:53 in the Quran reader

کہہ دو کہ : تم اپنا مال چاہے خوشی خوشی چندے میں دو ، یا بددلی سے، وہ تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ (44) تم ایسے لوگ ہو جو مسلسل نافرمانی کرتے رہے ہو۔

وَ مَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّاۤ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ بِرَسُوْلِهٖ وَ لَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَ هُمْ كُسَالٰى وَ لَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:54 in the Quran reader

اور ان کے چندے قبول کیے جانے میں رکاوٹ کی کوئی اور وجہ اس کے سوا نہیں ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کا معاملہ کیا ہے، اور یہ نماز میں آتے ہیں تو کسمساتے ہوئے آتے ہیں اور (کسی نیکی میں) خرچ کرتے ہیں تو برا مانتے ہوئے خرچ کرتے ہیں۔

44: جد بن قیس جس کا ذکر اوپر آیا ہے، اسی کے بارے میں ایک روایت یہ ہے کہ اس نے جنگ میں جانے سے تو مذکورہ بالا بےہودہ عذر پیش کیا تھا۔ لیکن یہ کہا تھا کہ اس کے بدلے میں اپنا مال چندے میں دوں گا (ابن جریر ج :10 ص :152)۔ اس کے جواب میں یہ آیت منافقین کے چندے کے ناقابل قبول ہونے کا اعلان کر رہی ہے۔
Ayahs 9:55–56

فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:55 in the Quran reader

تمہیں ان کے مال اور اولاد (کی کثرت) سے تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ انہی چیزوں سے ان کو دنیوی زندگی میں عذاب دے (45) اور ان کی جان بھی کفر ہی کی حالت میں نکلے۔

وَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ Open ayah 9:56 in the Quran reader

یہ اللہ کی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ وہ تم میں سے ہیں، حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں، بلکہ وہ ڈرپوک لوگ ہیں

45: یہ آیت دنیوی مال و دولت کے بارے میں ایک بڑی عظیم حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ مال و دولت بذات خود کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے انسان اپنی زندگی کا مقصد بنائے۔ انسان کا اصل مقصد زندگی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا حصول اور آخرت کی بہتری کا سامان ہونا چاہیے۔ البتہ چونکہ دنیا میں زندہ رہنے کے لیے مال کی ضرورت ہے، اس لیے جائز ذرائع سے اس کو حاصل کرنا پڑتا ہے۔ لیکن یہاں بھی یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ دنیا کی ضرورت پوری کرنے کے لیے بھی مال اپنی ذات میں کوئی فائدہ براہ راست نہیں پہنچاتا۔ بلکہ وہ راحت و آرام کے وسائل حاصل کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ لیکن جب انسان مال کو بذات خود مقصود زندگی بنا لیتا ہے، اور ہر وقت اس فکر میں پڑا رہتا ہے کہ مال کی گنتی میں کس طرح اضافہ ہو تو وہ بےچارہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس نے اس فکر میں اپنی راحت و آرام تک کو قربان کر ڈالا ہے۔ بینک بیلنس میں بیشک اضافہ ہو رہا ہے، لیکن نہ دن کا چین میسر ہے، نہ رات کا آرام نہ بیوی بچوں سے بات کرنے کی فرصت ہے، نہ آرام کے وسائل سے مزہ لینے کا وقت۔ پھر اگر کبھی اس مال میں نقصان ہوجائے تو رنج و غم کے پہاڑ سر پر ٹوٹ پڑتے ہیں، کیونکہ یہ تصور تو ہے ہی نہیں کہ اس نقصان کا بدلہ آخرت میں مل سکے گا۔ اس طرح اگر غور سے دیکھو تو یہ مال و دولت نعمت بننے کے بجائے انسان کے لیے دنیا ہی میں عذاب بن جاتا ہے۔ یہی حال اولاد کا بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق نہ ہو تو وہ بکثرت انسان کے لیے مصیبت بن جاتی ہے۔
Ayah 9:57

لَوْ یَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَیْهِ وَ هُمْ یَجْمَحُوْنَ Open ayah 9:57 in the Quran reader

اگر ان کو کوئی پناہ گاہ مل جاتی، یا کسی قسم کے غار مل جاتے، یا گھس بیٹھنے کی اور کوئی جگہ، تو یہ بےلگام بھاگ کر ادھر ہی کا رخ کرلیتے۔ (46)

46: مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اپنے مسلمان ہونے کا جو اعلان کیا ہے، وہ مسلمانوں کے ڈر سے کیا ہے، ورنہ ان کے دل میں ایمان نہیں ہے، چنانچہ اگر ان کو کوئی ایسی پناہ گاہ مل جاتی جہاں یہ بھاگ کر چھپ سکتے تو یہ مسلمان ہونے کا اعلان کرنے کے بجائے وہاں جا چھپتے۔
Ayahs 9:58–59

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّلْمِزُكَ فِی الصَّدَقٰتِ١ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْهَاۤ اِذَا هُمْ یَسْخَطُوْنَ Open ayah 9:58 in the Quran reader

اور انہی (منافقین) میں وہ بھی ہیں جو صدقات (کی تقسیم) کے بارے میں آپ کو طعنہ دیتے ہیں۔ (47) چنانچہ اگر انہیں صدقات میں سے (ان کی مرضی کے مطابق) دے دیا جائے تو راضی ہوجاتے ہیں، اور اگر ان میں سے انہیں نہ دیا جائے تو ذرا سی دیر میں ناراض ہوجاتے ہیں۔

وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١ۙ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ۠ Open ayah 9:59 in the Quran reader

جو کچھ بھی انہیں اللہ اور اس کے سول نے دے دیا تھا، کیا اچھا ہوتا کہ یہ اس پر راضی رہتے، اور یہ کہتے کہ : اللہ ہمارے لیے کافی ہے، آئندہ اللہ اپنے فضل سے ہمیں نوازے گا، اور اس کا رسول بھی۔ ہم تو اللہ ہی سے لو لگائے ہوئے ہیں۔

47: تفسیر ابن جریر میں کئی روایات اس قسم کی نقل کی گئی ہیں۔ جن میں مذکور ہے کہ آنحضرت ﷺ نے صدقات تقسیم فرمائے تو کچھ منافقین نے آپ پر اعتراض کیا کہ یہ تقسیم (معاذ اللہ) انصاف کے مطابق نہیں ہے۔ وجہ یہ تھی کہ ان منافقوں کو ان کے مطلب کے مطابق نہیں دیا گیا تھا۔
Ayah 9:60

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:60 in the Quran reader

صدقات تو دراصل حق ہے فقیروں کا، مسکینوں کا (48) اور ان اہلکاروں کا جو صدقات کی وصولی پر مقرر ہوتے ہیں۔ (49) اور ان کا جن کی دلداری مقصود ہے۔ (50) نیز انہیں غلاموں کو آزاد کرنے میں (51) اور قرض داروں کے قرضے ادا کرنے میں (52) اور اللہ کے راستے میں (53) اور مسافروں کی مدد میں (54) خرچ کیا جائے۔ یہ ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

48: فقیر اور مسکین ملتے جلتے لفظ ہیں۔ لغت کے اعتبار سے بعض لوگوں نے دونوں میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ مسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو۔ اور فقیر وہ ہے جس کے پاس کچھ ہو، مگر ضرورت سے کم ہو۔ اور بعض حضرات نے فرق اس کے برعکس بیان کیا ہے۔ لیکن زکوٰۃ کے حکم میں دونوں برابر ہیں۔ اور حکم یہ ہے کہ جس شخص کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کا بنیادی ضرورت سے زیادہ سامان موجود نہ ہو، اس کے لیے زکوٰۃ لینا جائز ہے۔ تفصیل کے لیے فقہ کی کتابیں دیکھی جائیں۔ 49: اسلامی حکومت کا ایک اہم کام یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے اموال ظاہرہ کی زکوٰۃ جمع کر کے مستحقین میں تقسیم کرے۔ اس غرض کے لیے جو اہل کار مقرر کیے جائیں، ان کی تنخواہ یا وظیفہ بھی زکوٰۃ سے دیا جاسکتا ہے۔ 50: اس سے مراد وہ نو مسلم ہیں جو ضرورت مند ہوں، اور اس بات کی ضرورت محسوس کی جائے کہ ان کو اسلام پر جمے رکھنے کے لیے ان کی دلداری کی جانی چاہیے۔ اصطلاح میں ایسے لوگوں کو مؤلفۃ القلوب کہا جاتا ہے۔ 51: جس زمانے میں غلامی کا رواج تھا اس دور میں بعض غلاموں کے آقا ان سے یہ کہہ دیتے تھے کہ اگر تم اتنی رقم لا کر ہمیں دے دو تو تم آزاد ہو۔ ایسے غلاموں کو بھی آزادی حاصل کرنے کے لیے زکوٰۃ کا مال دیا جاسکتا تھا۔ 52: اس سے مراد وہ مقروض لوگ ہیں جن پر اتنا قرضہ ہو کہ ان کے اثاثے قرضے کی ادائیگی کے لیے کافی نہ ہوں، یا اگر وہ اپنے سارے اثاثے قرض میں دے دیں تو ان کے پاس نصاب، یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر مال باقی نہ رہے۔ 53: اللہ کے راستے، کا لفظ قرآن کریم میں اکثر جہاد کے لیے استعمال ہوا ہے لہذا اس سے مراد وہ شخص ہے جو جہاد پر جانا چاہتا ہو۔ لیکن اس کے پاس سواری وغیرہ نہ ہو۔ بعض دوسرے حاجت مند لوگوں کو بھی فقہاء نے اس حکم میں شامل کیا ہے۔ مثلاً جس شخص پر حج فرض ہوچکا ہو۔ لیکن اب اس کے پاس اتنے پیسے نہ رہے ہوں کہ وہ حج کرسکے۔ 54: مسافر، سے مراد وہ شخص ہے جس کے پاس چاہے اپنے وطن میں نصاب کے برابر مال موجود ہو، لیکن سفر میں اس کے پاس اتنے پیسے نہ رہے ہوں جن سے وہ اپنی سفر کی ضروریات پوری کر کے واپس وطن جاسکے۔ واضح رہے کہ زکوٰۃ کے یہ آٹھ مصارف جو یہاں قرآن کریم نے ذکر کیے ہیں۔ ان کی بہت مختصر تشریح اوپر کی گئی ہے۔ عمل کے وقت کسی عالم سے سمجھ کر زکوٰۃ خرچ کرنی چاہیے۔ کیونکہ ان تمام مصارف میں شرعی احکام کی تفصیلات ہیں جن کے ذکر کا یہاں موقع نہیں ہے۔
Ayahs 9:61–63

وَ مِنْهُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ١ؕ قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:61 in the Quran reader

اور انہی (منافقین) میں وہ لوگ بھی ہیں جو نبی کو دکھ پہنچاتے ہیں اور (ان کے بارے میں) یہ کہتے ہیں کہ : وہ تو سراپا کان ہیں۔ (55) کہہ دو کہ : وہ کان ہیں اس چیز کے لیے جو تمہارے لیے بھلائی ہے۔ (56) وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور مومنوں کی بات کا یقین کرتے ہیں، اور تم میں سے جو (ظاہری طور پر) ایمان لے آئے ہیں، ان کے لیے وہ رحمت (کا معاملہ کرنے والے) ہیں۔ اور جو لوگ اللہ کے رسول کو دکھ پہنچاتے ہیں ان کے لیے دکھ دینے والا عذاب تیار ہے۔

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِیُرْضُوْكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:62 in the Quran reader

(مسلمانو) یہ لوگ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں اس لیے کھاتے ہیں تاکہ تمہیں راضی کریں، حالانکہ اگر یہ واقعی مومن ہوں تو اللہ اور اس کے رسول اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ یہ ان کو راضی کریں۔

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:63 in the Quran reader

کیا انہیں یہ معلوم نہیں کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول سے ٹکر لے تو یہ بات طے ہے کہ اس کے لیے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ؟ یہ بڑی بھاری رسوائی ہے۔

55: یہ عربی زبان کے ایک محاورے کا لفظی ترجمہ ہے۔ عربی محاورے میں جب کوئی شخص ہر ایک کی بات سن کر اس پر یقین کرلیتا ہو، اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ تو ”نرا کان ہے“ یا ”سراپا کان ہے“۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے اردو میں کہا جاتا ہے کہ ”وہ کچے کانوں کا ہے“۔ منافقین نے آنحضرت ﷺ کے بارے میں یہ گستاخانہ جملہ آپس میں ایک دوسرے سے بات کرتے ہوئے بولا تھا، اور مقصد یہ تھا کہ اگر کبھی ہماری سازش آنحضرت صلی اللہ علیہ پر کھل بھی گئی تو ہم باتیں بنا کر آپ کو راضی کرلیں گے۔ کیونکہ وہ ہر ایک کی بات کا یقین کرلیتے ہیں۔ 56: منافقین کے مذکورہ بالا جملے کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے تین باتیں ارشاد فرمائی ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ سب سے پہلے کان لگا کر جو بات سنتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کی وحی ہے جو درحقیقت تم سب لوگوں کی بھلائی کے لیے نازل ہوتی ہے۔ دوسرے وہ سچے مومنوں کی بات سن کر اس پر واقعی یقین کرلیتے ہیں، کیونکہ ان کے بارے میں آپ کو یقین ہے کہ وہ جھوٹ نہیں بولتے۔ تیسرے وہ ان منافقوں کی بات بھی سنتے ہیں جو ظاہری طور پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ ان سے دھوکا کھا جاتے ہیں، بلکہ درحقیقت اللہ تعالیٰ نے آپ کو شفقت اور رحمت کا پیکر بنایا ہے، اس کی وجہ سے حتی الامکان وہ ہر ایک سے رحمت کا معاملہ فرماتے ہیں، چنانچہ منافقین کی باتوں کی تردید کے بجائے آپ خاموش رہتے ہیں۔
Ayahs 9:64–65

یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلِ اسْتَهْزِءُوْا١ۚ اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ Open ayah 9:64 in the Quran reader

منافق لوگ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ مسلمانوں پر کہیں کوئی ایسی سورت نازل نہ کردی جائے جو انہیں ان (منافقین) کے دلوں کی باتیں بتلا دے۔ (57)۔ کہہ دو کہ : (اچھا) تم مذاق اڑاتے رہو، اللہ وہ بات ظاہر کرنے والا ہے جس سے تم ڈرتے تھے۔

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ١ؕ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 9:65 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو تو یہ یقینا یوں کہیں گے کہ : ہم تو ہنسی مذاق اور دل لگی کر رہے تھے۔ کہو کہ : کیا تم اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول کے ساتھ دل لگی کر رہے تھے ؟

57: منافقین میں اپنی نجی محفلوں میں مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے، اور اگر کبھی کوئی پوچھتا تو کہتے کہ ہم تو یہ باتیں دل لگی میں کرتے، سچ مچ نہیں کرتے۔ آیات 64 تا 66 ان کے اس طرز عمل پر تبصرہ کر رہی ہیں۔
Ayah 9:66

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ١ؕ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 9:66 in the Quran reader

بہانے نہ بناؤ، تم ایمان کا اظہار کرنے کے بعد کفر کے مرتکب ہوچکے ہو۔ اگر ہم تم میں سے ایک گروہ کو معافی دے بھی دیں تو دوسرے گروہ کو ضرور سزا دیں گے۔ (58) کیونکہ وہ مجرم لوگ ہیں۔

58: یعنی منافقوں میں سے جو لوگ نفاق سے توبہ کرلیں گے انہیں معاف کردیا جائے گا، اور جو توبہ نہیں کریں گے انہیں ضرور سزا ملے گی۔
Ayahs 9:67–69

اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَهُمْ١ؕ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِیَهُمْ١ؕ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 9:67 in the Quran reader

منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک ہی طرح کے ہیں۔ وہ برائی کی تلقین کرتے ہیں اور بھلائی سے روکتے ہیں، اور اپنے ہاتھوں کو بند رکھتے ہیں۔ (59) انہوں نے اللہ کو بھلا دیا ہے، تو اللہ نے بھی ان کو بھلا دیا۔ بلاشبہ یہ منافق بڑے نافرمان ہیں۔

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ هِیَ حَسْبُهُمْ١ۚ وَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:68 in the Quran reader

اللہ نے منافق مردوں، منافق عورتوں اور تمام کافروں سے دوزخ کی آگ کا عہد کر رکھا ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ وہی ان کو راس آئے گی۔ اللہ نے ان پر پھٹکار ڈال دی ہے، اور ان کے لیے اٹل عذاب ہے۔

كَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ؕ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 9:69 in the Quran reader

(منافقو) تم انہی لوگوں کی طرح ہو جو تم سے پہلے ہوگزرے ہیں۔ وہ طاقت میں تم سے مضبوط تر اور مال اور اولاد میں تم سے کہیں زیادہ تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے حصے کے مزے اڑا لیے، پھر تم نے اسی طرح اپنے حصے کے مزے اڑائے، جیسے تم سے پہلے لوگوں نے اپنے حصے کے مزے اڑائے تھے، اور تم بھی ویسی ہی بےہودہ باتوں میں پڑے جیسے وہ پڑے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں غارت ہوگئے، اور یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے خسارے کا سودا کیا۔

59: ہاتھوں کو بند رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کنجوس ہیں۔ جہاں خرچ کرنا چاہیے وہاں خرچ نہیں کرتے۔
Ayahs 9:70–72

اَلَمْ یَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۙ۬ وَ قَوْمِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْتَفِكٰتِ١ؕ اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 9:70 in the Quran reader

کیا ان (منافقوں) کو ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے گزرے ہیں ؟ نوح کی قوم، اور عاد وثمود، ابراہیم کی قوم، مدین کے باشندے اور وہ بستیاں جنہیں الٹ ڈالا گیا۔ (60) ان سب کے پاس ان کے رسول روشن دلائل لے کر آئے تھے۔ پھر اللہ ایسا نہیں تھا کہ ان پر ظلم کرتا، لیکن یہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے۔

وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَیَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:71 in the Quran reader

اور مومن مرد اور مومن عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ وہ نیکی کی تلقین کرتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں، اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہیں جن کو اللہ اپنی رحمت سے نوازے گا۔ یقینا اللہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:72 in the Quran reader

اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے وعدہ کیا ہے ان باغات کا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور ان پاکیزہ مکانات کا جو سدا بہار باغات میں ہوں گے۔ اور اللہ کی طرف سے خوشنودی تو سب سے بڑی چیز ہے۔ (جو جنت والوں کو نصیب ہوگی) یہی تو زبردست کامیابی ہے۔

60: ان کے واقعات کے لیے دیکھئے سورة اعراف، آیات 59 اور 92 اور ان کے حواشی
Ayah 9:73

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 9:73 in the Quran reader

اے نبی ! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو، (61) اور ان پر سختی کرو۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

61: جہاد کے اصل معنی جدوجہد اور محنت و کوشش کے ہیں، دین کی حفاظت اور دفاع کے لئے یہ کوشش مسلح لڑائی کی شکل میں بھی ہوسکتی ہے اور زبانی دعوت و تبلیغ اور بحث و مباحثہ کی صورت میں بھی، کھلے کافروں کے ساتھ یہاں جہاد کے پہلے معنی مراد ہیں، اور منافقین کے ساتھ جہاد کے دوسرے معنی مقصود ہیں ؛ چونکہ منافقین زبان سے اسلام لانے کا اظہار کرتے تھے، اس لئے آنحضرت ﷺ نے ان کی شرارتوں کے باوجود یہ حکم دیا کہ دنیا میں ان کے ساتھ مسلمانوں جیسا ہی معاملہ کیا جائے، اس لئے ان کے ساتھ جہاد کا مطلب زبانی جہاد ہے، اور ان پر سختی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اول تو گفتگو میں ان کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتی جائے، دوسرے اگر ان سے کوئی قابل سزا جرم سرزد ہو تو انہیں معافی نہ دی جائے۔
Ayahs 9:74–75

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا١ؕ وَ لَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ وَ هَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا١ۚ وَ مَا نَقَمُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَاِنْ یَّتُوْبُوْا یَكُ خَیْرًا لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّتَوَلَّوْا یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ مَا لَهُمْ فِی الْاَرْضِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:74 in the Quran reader

یہ لوگ اللہ کی قسمیں کھا جاتے ہیں کہ انہوں نے فلاں بات نہیں کہی، حالانکہ انہوں نے کفر کی بات کہی ہے، (62) اور اپنے اسلام لانے کے بعد انہوں نے کفر اختیار کیا ہے۔ (63) انہوں نے وہ کام کرنے کا ارادہ کرلیا تھا جس میں یہ کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ (64) اور انہوں نے صرف اس بات کا بدلہ دیا کہ اللہ اور اس کے رسول نے انہیں اپنے فضل سے مال دار بنادیا ہے۔ (65) اب اگر یہ توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا، اور اگر یہ منہ موڑیں گے تو اللہ ان کو دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب دے گا، اور روئے زمین پر ان کا نہ کوئی یار ہوگا نہ مددگار۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَئِنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 9:75 in the Quran reader

اور انہی میں وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ اگر وہ اپنے فضل سے ہمیں نوازے گا تو ہم ضرور صدقہ کریں گے، اور یقینا نیک لوگوں میں شامل ہوجائیں گے۔

62: منافقین کا یہ وطیرہ تھا کہ وہ اپنی مجلسوں میں کافرانہ باتیں کہتے رہتے تھے لیکن جب ان سے پوچھا جاتا تو وہ صاف انکار کردیتے اور قسم کھالیتے کہ ہم نے یہ بات نہیں کہی، مثلاً ایک مرتبہ منافقین کے سردار عبداللہ بن ابی نے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کے بارے میں ایک انتہائی گستاخانہ بات کہی تھی جسے نقل کرنا بھی مشکل ہے اور اس کے بعد کہا کہ جب ہم مدینہ پہنچیں گے تو ہم میں سے باعزت لوگ ذلیلوں کو نکال باہر کریں گے، اس کا ذکر خود قرآن کریم نے سورة منافقون (28) میں فرمایا ہے، لیکن جب اس سے پوچھا گیا تو مکر گیا اور قسمیں کھانے لگا کہ میں نے یہ نہیں کہا تھا (روح المعانی بحوالہ ابن جریر ابن المنذر وغیرہ)۔ 63: مراد یہ ہے کہ اگرچہ دل سے تو وہ کبھی اسلام نہیں لائے تھے، لیکن کم از کم زبان سے اسلام کا اقرار کرتے تھے۔ اس بات کے بعد انہوں نے زبان سے بھی کفر اختیار کرلیا۔ 64: یہ کسی ایسے واقعے کی طرف اشارہ ہے جس میں منافقین نے کوئی خفیہ سازش کی تھی مگر اس میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ ایسے کئی واقعات عہد رسالت میں پیش آئے ہیں، مثلا ایک واقعہ تو اوپر بیان کیا گیا ہے کہ عبداللہ بن ابی نے یہ ناپاک ارادہ ظاہر کیا تھا کہ ہم مسلمانوں کو مدینہ منورہ سے نکال دیں گے۔ ظاہر ہے کہ وہ اپنی اس ڈینگ کو عملی جامہ پہنانے پر قادر نہیں ہوئے۔ دوسرے ایک واقعہ غزوہ تبوک سے آنحضرت ﷺ کی واپسی کے وقت پیش آیا تھا کہ منافقین نے بارہ آدمیوں کو نقاب پہنا کر اس بات پر تعینات کیا تھا کہ وہ ایک گھاٹی میں چھپ کر بیٹھیں، اور جب آنحضرت ﷺ وہاں سے گذریں تو آپ پر حملہ کردیں۔ اس وقت حضرت حذیفہ بن یمان نے انہیں دیکھ لیا، اور آنحضرت ﷺ کو اطلاع کردی۔ آپ نے ان کو زور سے آواز دی تو ان پر ایسا رعب طاری ہوا کہ وہ بھاگ گئے۔ آپ نے بعد میں حضرت حذیفہ کو بتایا کہ وہ منافق لوگ تھے (روح المعانی بحوالہ دلائل النبوۃ بیہقی) 65: آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے مدینہ منورہ کے باشندوں میں پہلے کے مقابلے میں عام خوش حالی آئی تھی جس سے یہ منافقین بھی فائدہ اٹھا رہے تھے۔ پہلے ان کی معاشی حالت خستہ تھی۔ مگر آپ کی تشریف آوری کے بعد ان میں سے اکثر لوگ خاصے مال دار ہوگئے تھے۔ آیت کریمہ یہ کہہ رہی ہے کہ شرافت کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ اس خوشحالی پر اللہ تعالیٰ اور رسول کریم ﷺ کے شکر گزار ہوتے لیکن انہوں نے اس احسان کا بدلہ یہ دیا کہ آپ کے خلاف سازشیں شروع کرو۔
Ayahs 9:76–78

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ بَخِلُوْا بِهٖ وَ تَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 9:76 in the Quran reader

لیکن جب اللہ نے ان کو اپنے فضل سے نوازا تو اس میں بخل کرنے لگے، اور منہ موڑ کر چل دیے۔ (66)

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 9:77 in the Quran reader

نتیجہ یہ کہ اللہ نے سزا کے طور پر نفاق ان کے دلوں میں اس دن تک کے لیے جما دیا ہے جس دن وہ اللہ سے جاکر ملیں گے، کیونکہ انہوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا، اس کی خلاف ورزی کی، اور کیونکہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے۔

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِۚ Open ayah 9:78 in the Quran reader

کیا انہیں یہ پتہ نہیں تھا کہ اللہ ان کی تمام پوشیدہ باتوں اور سرگوشیوں کو جانتا ہے اور یہ کہ اس کو غیب کی ساری باتوں کا پورا پورا علم ہے ؟

66: حضرت ابو امامہ ؓ کی ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص جس کا نام ثعبلہ بن حاطب تھا، آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور درخواست کی کہ آپ میرے لیے مال دار ہونے کی دعا فرمادیں۔ آپ نے شروع میں اسے سمجھایا کہ بہت مال دار ہونا مجھے اپنے لیے بھی پسند نہیں ہے۔ لیکن اس نے بار بار اصرار کیا، اور یہ وعدہ بھی کیا کہ اگر میں مال دار ہوگیا تو ہر حق دار کو اس کا حق پہنچاؤں گا، آپ نے اس موقع پر حکیمانہ جملہ بھی ارشاد فرمایا کہ تھوڑا مال جس کا تم شکر ادا کرسکو اس زیادہ مال سے بہتر ہے جس کا شکر ادا نہ کرسکو۔ اس پر بھی اس کا اصرار جاری رہا تو آنحضرت ﷺ نے دعا فرما دی۔ چنانچہ وہ واقعی مال دار ہوگیا اور اس کے مال مویشی اتنے زیادہ ہوگئے کہ ان کی دیکھ بھال میں نمازیں چھوٹنے لگیں، پھر وہ ان جانوروں کی زیادتی کی وجہ سے مدینہ منورہ سے باہر جا کر رہنے لگا۔ شروع میں جمعہ کے دن مسجد میں آجاتا تھا۔ پھر رفتہ رفتہ جمعہ کو آنا بھی چھوڑ دیا۔ جب آنحضرت ﷺ کی طرف سے لوگ زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے اس کے پاس پہنچے تو اس نے زکوٰۃ پر پھبتیاں کسیں، اور ٹال مٹول کر کے ان حضرات کو واپس بھیج دیا۔ اس آیت میں اس واقعے کی طرف اشارہ ہے (روح المعانی بحوالہ طبرانی و بیہقی)