9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsآسان قرآن

Ayahs 9:119–120

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 9:119 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو، اور سچے لوگوں کے ساتھ رہا کرو۔ (96)

مَا كَانَ لِاَهْلِ الْمَدِیْنَةِ وَ مَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ لَا یُصِیْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخْمَصَةٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَطَئُوْنَ مَوْطِئًا یَّغِیْظُ الْكُفَّارَ وَ لَا یَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّیْلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 9:120 in the Quran reader

مدینہ کے باشندوں اور ان کے ارد گرد کے دیہات میں رہنے والوں کے لیے یہ جائز نہیں تھا کہ وہ اللہ کے رسول (کا ساتھ دینے سے) پیچھے رہیں، اور نہ یہ جائز تھا کہ وہ بس اپنی جان پیاری سمجھ کر ان کی (یعنی رسول اللہ ﷺ کی) جان سے بےفکر ہوبیٹھیں۔ یہ اس لیے کہ ان (مجاہدین) کو جب کبھی اللہ کے راستے میں پیاس لگتی ہے، یا تھکن ہوتی ہے، یا بھوک ستاتی ہے، یا وہ کوئی ایسا قدم اٹھاتے ہیں جو کافروں کو گھٹن میں ڈالے، یا دشمن کے مقابلے میں کوئی کامیابی حاصل کرتے ہیں تو ان کے اعمال نامے میں (ہر ایسے کام کے وقت) ایک نیک عمل ضرور لکھا جاتا ہے۔ یقین جانو کہ اللہ نیک لوگوں کے کسی عمل کو بیکار جانے نہیں دیتا۔

96: یہ ان تین حضرات کے واقعے سے ملنے والا سبق ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے۔ انہوں نے اپنی غلطی کو چھپانے کے لیے منافقین کی طرح جھوٹے سچے بہانے نہیں بنائے، بلکہ جو حقیقت تھی، وہ سچ سچ بیان کردی کہ ان کے پاس کوئی عذر نہیں تھا۔ ان کی اس سچائی کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نہ صرف توبہ قبول فرمائی، بلکہ سچے لوگوں کی حیثیت سے قیامت تک کے لیے ان کا تذکرہ قرآن کریم میں زندہ جاوید کردیا گیا۔ اس آیت میں یہ تعلیم بھی ہے کہ انسان کو اپنی صحبت سے سچے لوگوں کے ساتھ رکھنی چاہیے، جو زبان کے بھی سچے ہوں، اور عمل کے بھی سچے۔
Ayah 9:121

وَ لَا یُنْفِقُوْنَ نَفَقَةً صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً وَّ لَا یَقْطَعُوْنَ وَادِیًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:121 in the Quran reader

نیز وہ جو کچھ (اللہ کے راستے میں) خرچ کرتے ہیں، چاہے وہ خرچ چھوٹا ہو یا بڑا، اور جس کسی وادی کو وہ پار کرتے ہیں، اس سب کو (ان کے اعمال نامے میں نیکی کے طور پر) لکھا جاتا ہے، تاکہ اللہ انہیں (ہر ایسے عمل پر) وہ جزاء دے جو ان کے بہترین اعمال کے لیے مقرر ہے۔ (97)

97: یعنی اگرچہ ان اعمال میں سے بعض چھوٹے نظر آتے ہوں، لیکن ان کا ثواب ان مجاہدین کے بہترین اعمال کے برابر دیا جائے گا۔ (یہاں یہ واضح رہے کہ قرآن کریم میں احسن (بہترین) کو اعمال کی صفت قرار دیا گیا ہے، اور اسے جزاء کی صفت قرار دینے پر علامہ ابو حیان نے البحر المحیط میں نحوی اعتبار سے جو اشکال پیش کیا ہے، اس کا کوئی اطمینان بخش جواب نہیں دیا جاسکا، چنانچہ علامہ آلوسی نے بھی اس اعتراض کو نقل کر کے اس کی تائید ہی کی ہے۔ لہذا یہاں ترجمہ اس تفسیر کے مطابق کیا گیا ہے جو مدارک التنزیل میں مذکور ہے۔
Ayah 9:122

وَ مَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا كَآفَّةً١ؕ فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ لِّیَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوْۤا اِلَیْهِمْ لَعَلَّهُمْ یَحْذَرُوْنَ۠ Open ayah 9:122 in the Quran reader

اور مسلمانوں کے لیے یہ بھی مناسب نہیں ہے کہ وہ (ہمیشہ) سب کے سب (جہاد کے لیے) نکل کھڑے ہوں۔ (98) لہذا ایسا کیوں نہ ہو کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک گروہ (جہاد کے لیے) نکلا کرے، تاکہ (جو لوگ جہاد میں نہ گئے ہوں وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے کے لیے محنت کریں، اور جب ان کی قوم کے لوگ (جو جہاد میں گئے ہیں) ان کے پاس واپس آئیں تو یہ ان کو متنبہ کریں، (99) تاکہ وہ (گناہوں سے) بچ کر رہیں۔

98: سورة توبہ کے ایک بڑے حصے میں ان لوگوں کو ملامت کی گئی ہے جو تبوک کے جہاد میں شریک نہیں ہوئے تھے، روایات میں آتا ہے کہ ان آیات کریمہ کو سن کر صحابہ نے یہ ارادہ کرلیا کہ آئندہ جو بھی جہاد ہوگا اس میں وہ سب جایا کریں گے، اس آیت نے واضح فرمادیا کہ ہمیشہ کے لئے یہ سوچنا صحیح نہیں ہے، غزوہ تبوک میں تو ایک خاص ضرورت پیش آئی تھی، جس کی وجہ سے تمام مسلمانوں کو نکل کھڑے ہونے کا حکم دیا گیا تھا، لیکن عام حالات میں مسلمانوں کو تقسیم کار پر عمل کرنا چاہیے، جب تک امیر کی طرف سے نفیر عام (یعنی ہر شخص کو جہاد میں شریک ہونے) کا حکم نہ ہو، جہاد فرض کفایہ ہے، اگر ہر بڑی جماعت میں سے کچھ لوگ جہاد کے لئے چلے جایا کریں تو سب کی طرف سے یہ فرض کفایہ ادا ہوجائے گا، یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ جس طرح جہاد امت مسلمہ کی ایک ضرورت ہے اسی طرح دین کا علم حاصل کرنا بھی امت کی ایک اہم ضرورت ہے، اگر سب لوگ جہاد میں نکل کھڑے ہوں تو علم دین کی درس و تدریس کا فریضہ کون انجام دے گا، لہذا صحیح طریقہ یہ ہے کہ جو لوگ جہاد میں نہ جائیں وہ اپنے شہر میں رہ کر دین کا علم حاصل کریں۔ 99: متنبہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جو احکام انہوں نے سیکھے ہیں، وہ ان کو بتادیں کہ فلاں کام واجب ہے، اور فلاں کام گناہ ہے۔
Ayah 9:123

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَ لْیَجِدُوْا فِیْكُمْ غِلْظَةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:123 in the Quran reader

اے ایمان والو ! ان کافروں سے لڑو جو تم سے قریب ہیں۔ (100) اور ہونا یہ چاہیے کہ وہ تمہارے اندر سختی محسوس کریں۔ (101) اور یقین رکھو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔

100: اس آیت میں پھر اس مضمون کا خلاصہ بیان فرمایا گیا ہے جس سے اس سورت کی ابتدا ہوئی تھی، مشرکین سے براءت کا جو اعلان کیا گیا تھا اس میں ہر مسلمان کا یہ فرض تھا کہ وہ ان مشرکین سے جنگ کے لئے تیار رہے، جو اس اعلان براءت پر عمل نہ کریں، جیسا کے شروع میں عرض کیا گیا، وہ نومسلم جو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے تھے ان کے دل میں اپنے مشرک رشتہ داروں کے لئے نرم گوشہ ہوسکتا تھا، لہذا آخر سورت میں انہیں دوبارہ متوجہ کیا جارہا ہے کہ جس طرح اسلام کی تبلیغ میں ترتیب یہ ہونی چاہیے کہ انسان اپنے قریبی لوگوں سے ان کا آغاز کرے، اسی طرح جب جنگ کی نوبت آجائے تو اس میں بھی یہی ترتیب ہونی چاہیے کہ پہلے ان لوگوں سے جنگ ہونی چاہیے جو تمہارے قریب ہیں ان کے بعد دوسروں کا نمبر آئے گا۔ 101: یعنی ان کی قربت کی وجہ سے تمہارے دل میں کوئی نرم گوشہ پیدا نہ ہو جو تمہیں جہاد کے فریضے سے روک دے۔ نیز وہ لوگ تم میں کوئی کمزوری نہ پائیں، بلکہ انہیں تمہاری مضبوطی کا مکمل احساس ہونا چاہیے۔
Ayah 9:124

وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ اَیُّكُمْ زَادَتْهُ هٰذِهٖۤ اِیْمَانًا١ۚ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 9:124 in the Quran reader

اور جب کبھی کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو انہی (منافقین) میں وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ : اس (سورت) نے تم میں سے کس کے ایمان میں اضافہ کیا ہے ؟ (102) اب جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو (واقعی) ایمان لائے ہیں، ان کے ایمان میں تو اس سورت نے واقعی اضافہ کیا ہے، اور وہ (اس پر) خوش ہوتے ہیں۔

102: یہ کہہ کر منافقین در اصل اس بات کا مذاق اڑاتے تھے جو سورة انفال (2:8) میں فرمائی گئی ہے کہ جب مومنوں کے سامنے اللہ کی آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔
Ayah 9:125

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا اِلٰى رِجْسِهِمْ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:125 in the Quran reader

رہے وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے تو اس سورت نے ان کی گندگی میں کچھ اور گندگی کا اضافہ کردیا ہے، (103) اور ان کو موت بھی کفر ہی کی حالت میں آتی ہے۔

103: یعنی کفر اور نفاق کی گندگی تو ان میں پہلے ہی موجود تھی، اب اس نئی آیت کے انکار اور استہزاء سے اس گندگی میں اور اضافہ ہوگیا۔
Ayah 9:126

اَوَ لَا یَرَوْنَ اَنَّهُمْ یُفْتَنُوْنَ فِیْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ لَا یَتُوْبُوْنَ وَ لَا هُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 9:126 in the Quran reader

کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ وہ ہر سال ایک دو مرتبہ کسی آزمائش میں مبتلا ہوتے ہیں، (104) پھر بھی نہ وہ توبہ کرتے ہیں، اور نہ کوئی سبق حاصل کرتے ہیں ؟

104: منافقین پر ہر سال کوئی نہ کوئی مصیبت پڑتی رہتی تھی۔ کبھی ان کی خواہش اور منصوبوں کے خلاف مسلمانوں کو فتح نصیب ہوجاتی، کبھی ان میں سے کسی کا راز کھل جاتا، کبھی کوئی بیماری آجاتی، کبھی فقر و فاقہ میں مبتلا ہوجاتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ مصیبتیں ان کو متنبہ کرنے کے لیے کافی ہونی چاہیے تھیں، لیکن یہ لوگ کوئی سبق نہیں لیتے۔
Ayahs 9:127–129

وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ نَّظَرَ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ١ؕ هَلْ یَرٰىكُمْ مِّنْ اَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوْا١ؕ صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:127 in the Quran reader

اور جب کبھی کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو یہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں (اور اشاروں میں ایک دوسرے سے کہتے ہیں) کہ کیا کوئی تمہیں دیکھ تو نہیں رہا ؟ پھر وہاں سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں۔ (105) اللہ نے ان کا دل پھیر دیا ہے، کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ سمجھ سے کام نہیں لیتے۔

لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:128 in the Quran reader

(لوگو) تمہارے پاس ایک ایسا رسول آیا ہے جو تمہی میں سے ہے، جس کو تمہاری ہر تکلیف بہت گراں معلوم ہوتی ہے، جسے تمہاری بھلائی کی دھن لگی ہوئی ہے، جو مومنوں کے لیے انتہائی شفیق، نہایت مہربان ہے۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ۖۗ٘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 9:129 in the Quran reader

پھر بھی اگر یہ لوگ منہ موڑیں تو (اے رسول ! ان سے) کہہ دو کہ : میرے لیے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے، اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔

105: اصل بات یہ تھی کہ انہیں اللہ تعالیٰ کے کلام سے چڑ تھی۔ ان کی خواہش اور کوشش یہ رہتی تھی کہ اللہ تعالیٰ کا کلام سننے کی نوبت نہ آئے۔ لہذا جب آنحضرت ﷺ اپنی مجلس میں کوئی نئی سورت تلاوت فرماتے تو یہ بھاگنے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن اگر سب کے سامنے اٹھ کر جائیں تو ان کا راز فاش ہوجائے۔ اس لیے یہ ایک دوسرے کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے کرتے کہ کوئی ایسا موقع تلاش کرو کہ کوئی مسلمان تمہیں دیکھ نہ رہا ہو، اور اس وقت چپکے سے اٹھ کر چلے جاؤ۔