9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsآسان قرآن

Ayahs 9:79–83

اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَیَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ١ؕ سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:79 in the Quran reader

(یہ منافق وہی ہیں) جو خوشی سے صدقہ کرنے والے مومنوں کو بھی طعنے دیتے ہیں، اور ان لوگوں کو بھی جنہیں اپنی محنت (کی آمدنی) کے سوا کچھ میسر نہیں ہے (67) اس لیے وہ ان کا مذاق اڑاتے ہیں، اللہ ان کا مذاق اڑاتا ہے، (68) اور ان کے لیے دردناک عذاب تیار ہے۔

اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّةً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:80 in the Quran reader

(اے نبی) تم ان کے لیے استغفار کرو یا نہ کرو، اگر تم ان کے لیے ستر مرتبہ استغفار کرو گے تب بھی اللہ انہیں معاف نہیں کرے گا۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کا رویہ اپنایا ہے، اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا۔

فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ كَرِهُوْۤا اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّ١ؕ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا١ؕ لَوْ كَانُوْا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:81 in the Quran reader

جن لوگوں کو (غزوہ تبوک سے) پیچھے رہنے دیا گیا تھا، وہ رسول اللہ کے جانے کے بعد اپنے (گھروں میں) بیٹھے رہنے سے بڑے خوش ہوئے، اور ان کو یہ بات ناگوار تھی کہ وہ اللہ کے راستے میں اپنے مال و جان سے جہاد کریں، اور انہوں نے کہا تھا کہ : اس گرمی میں نہ نکلو۔ کہو کہ : جہنم کی آگ گرمی میں کہیں زیادہ سخت ہے۔ کاش۔ ان کو سمجھ ہوتی۔

فَلْیَضْحَكُوْا قَلِیْلًا وَّ لْیَبْكُوْا كَثِیْرًا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:82 in the Quran reader

اب یہ لوگ (دنیا میں) تھوڑا بہت ہنس لیں، اور پھر (آخرت میں) خوب روتے رہیں، کیونکہ جو کچھ کمائی یہ کرتے رہے ہیں، اس کا یہی بدلہ ہے۔

فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآئِفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا وَّ لَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا١ؕ اِنَّكُمْ رَضِیْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ Open ayah 9:83 in the Quran reader

(اے پیغمبر) اس کے بعد اگر اللہ تمہیں ان میں سے کسی گروہ کے پاس واپس لے آئے، اور یہ (کسی اور جہاد میں) نکلنے کے لیے تم سے اجازت مانگیں تو ان سے کہہ دینا کہ : اب تم میرے ساتھ کبھی نہیں چل سکو گے، اور میرے ساتھ ملکر کسی دشمن سے کبھی نہیں لڑ سکو گے۔ تم نے پہلی بار بیٹھے رہنے کو پسند کیا تھا، لہذا اب بھی انہی کے ساتھ بیٹھ رہو جن کو (کسی معذوری کی وجہ سے) پیچھے رہنا ہے۔

67: آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو صدقات نکالنے کی ترغیب دی تو ہر مخلص مسلمان نے اپنی استطاعت کے مطابق صدقہ لا کر پیش کیا، منافقین خود تو اس کار خیر میں کیا حصہ لیتے، مسلمانوں کو طعنے دیتے رہتے تھے۔ اگر کوئی شخص زیادہ مال لے کر آتا تو کہتے کہ یہ تو دکھاوے کے لیے صدقہ کر رہا ہے اور اگر کوئی غریب مزدور اپنے گھاڑھے پسینے کی کمائی سے کچھ تھوڑا سا صدقہ لے کر آتا تو منافقین اس کا مذاق اڑاتے اور کہتے کہ یہ کیا چیز اٹھا لایا ہے۔ اللہ اس سے بےنیاز ہے۔ صحیح بخاری اور حدیث و تفسیر کی دوسری کتابوں میں ایسے بہت سے واقعات مروی ہیں۔ لیکن اس جگہ غالبا وہ موقع مراد ہے جب آنحضرت ﷺ نے غزوہ تبوک کے لیے چندہ جمع کرنے کی ترغیب دی تھی۔ در منثور (ج :4 ص 226) میں ایک روایت سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ 68: اللہ تعالیٰ یوں تو مذاق اڑانے سے بےنیاز ہے، لیکن اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو مذاق اڑانے کی سزا دے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف مذاق اڑانے کی نسبت محاورۃ کی گئی ہے جسے عربی قواعد کی رو سے مشاکلت کہا جاتا ہے۔
Ayah 9:84

وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 9:84 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) ان (منافقین) میں سے جو کوئی مرجائے، تو تم اس پر کبھی نماز (جنازہ) مت پڑھنا، اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا (69) یقین جانو یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کا رویہ اپنایا، اور اس حالت میں مرے ہیں کہ وہ نافرمان تھے۔

69: اس آیت کا شان نزول صحیح بخاری وغیرہ میں یہ منقول ہے کہ عبداللہ بن ابی منافقوں کا سردار تھا، لیکن اس کے بیٹے عبداللہ بن عبداللہ ؓ سچے اور پکے مسلمان تھے، اگرچہ عبداللہ بن ابی کی منافقت کئی مواقع پر ظاہر ہوچکی تھی، لیکن چونکہ وہ زبان سے اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتا تھا، اس لئے ظاہری طور پر اس کے ساتھ مسلمانوں جیسا ہی سلوک کیا جاتا تھا، چنانچہ جب اس کا انتقال ہوا تو اس کے بیٹے حضرت عبداللہ نے جو سچے مسلمان تھے، آنحضرت ﷺ سے درخواست کی کہ آپ اسکی نماز جنازہ پڑھائیں، آنحضرت ﷺ چونکہ اپنی امت کے ہر فرد کے لئے بڑے مہربان تھے، اس لئے آپ نے یہ درخواست منظور فرمالی اور اس کی نماز جنازہ پڑھانے کے لئے تشریف لے گئے، حضرت عمر ؓ نے آپ سے قرآن کریم کی اس آیت کا حوالہ دیا جو پیچھے گزرچکی ہے کہ تم ان کے لئے استغفار کرو یا نہ کرو، اگر تم ان کے لئے ستر مرتبہ استغفار کروگے تب بھی اللہ انہیں معاف نہیں کرے گا (آیت نمبر : 80) لیکن آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے کہ میں چاہوں تو استغفار کروں، اس لئے میں ستر سے زیادہ مرتبہ استغفار کرلوں گا، چنانچہ آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھادی، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں آپ کو منافقین کی نماز جنازہ پڑھانے سے روک دیا گیا پھر آپ نے کسی بھی منافق کی نماز نہیں پڑھائی۔
Ayahs 9:85–89

وَ لَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:85 in the Quran reader

اور تمہیں ان کے مال اور اولاد (کی کثرت) سے تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ انہی چیزوں سے ان کو دنیا میں عذاب دے، (70) اور ان کی جان بھی کفر ہی کی حالت میں نکلے۔

وَ اِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ جَاهِدُوْا مَعَ رَسُوْلِهِ اسْتَاْذَنَكَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَ قَالُوْا ذَرْنَا نَكُنْ مَّعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:86 in the Quran reader

اور جب کوئی سورت یہ حکم لے کر نازل ہوتی ہے کہ : اللہ پر ایمان لاؤ، اور اس کے رسول کی رفاقت میں جہاد کرو، تو ان (منافقوں) میں سے وہ لوگ جو صاحب استطاعت ہیں، تم سے اجازت مانگتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل ہونے دیجیے جو (گھر میں) بیٹھے رہیں گے۔

رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَ طُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:87 in the Quran reader

یہ اس بات سے خوش ہیں کہ پیچھے رہنے والی عورتوں میں شامل ہوجائیں، اور ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے، چنانچہ وہ نہیں سمجھتے (کہ وہ کیا کر رہے ہیں)۔

لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْخَیْرٰتُ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 9:88 in the Quran reader

لیکن رسول اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں، اور یہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:89 in the Quran reader

اللہ نے ان کے لیے وہ باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں یہ ہمیشہ رہیں گے، اور یہ بڑی زبردست کامیابی ہے۔

70: دیکھئے آیت نمبر 55 کا حاشیہ
Ayahs 9:90–91

وَ جَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَهُمْ وَ قَعَدَ الَّذِیْنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:90 in the Quran reader

اور دیہاتیوں میں سے بھی بہانہ باز لوگ آئے کہ ان کو (جہاد سے) چھٹی دی جائے، (71) اور (اس طرح) جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول سے جھوٹ بولا تھا، وہ سب بیٹھ رہے۔ ان میں سے جنہوں نے کفر (مستقل طور پر) اپنا لیا ہے، ان کو دردناک عذاب ہوگا۔

لَیْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَى الْمَرْضٰى وَ لَا عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ مَا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:91 in the Quran reader

کمزور لوگوں پر (جہاد میں نہ جانے کا) کوئی گناہ نہیں، نہ بیماروں پر، اور نہ ان لوگوں پر جن کے پاس خرچ کرنے کو کچھ نہیں ہے، جبکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے مخلص ہوں۔ نیک لوگوں پر کوئی الزام نہیں، اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

71: جس طرح مدینہ منورہ میں بہت سے منافق تھے، اسی طرح مدینہ منورہ سے باہر دیہات میں بھی منافق موجود تھے، چونکہ غزوہ تبوک میں جانے کا حکم صرف اہل مدینہ کے لئے نہیں بلکہ آس پاس کے لوگوں کے لئے بھی تھا، اس لئے یہ دیہاتی بھی بہانہ کرنے کے لئے آئے تھے۔
Ayahs 9:92–94

وَّ لَا عَلَى الَّذِیْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ١۪ تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 9:92 in the Quran reader

اور نہ ان لوگوں پر (کوئی گناہ ہے) جن کا حال یہ ہے کہ جب وہ تمہارے پاس اس غرض سے آئے کہ تم انہیں کوئی سواری مہیا کردو، اور تم نے کہا کہ : میرے پاس تو کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر میں تمہیں سوار کرسکوں۔ تو وہ اس حالت میں واپس گئے کہ ان کی آنکھیں اس غم میں آنسوؤں سے بہہ رہی تھیں کہ ان کے پاس خرچ کرنے کو کچھ نہیں ہے۔ (72)

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَ هُمْ اَغْنِیَآءُ١ۚ رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ١ۙ وَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:93 in the Quran reader

الزام تو ان لوگوں پر ہے جو مال دار ہونے کے باوجود تم سے اجازت مانگتے ہیں۔ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ وہ پیچھے رہنے والی عورتوں میں شامل ہوگئے۔ اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے، اس لیے انہیں حقیقت کا پتہ نہیں ہے۔

یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْهِمْ١ؕ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ١ؕ وَ سَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:94 in the Quran reader

(مسلمانو) جب تم لوگ (تبوک سے) واپس ان (منافقوں) کے پاس جاؤ گے، تو یہ تمہارے سامنے (طرح طرح کے) عذر پیش کریں گے۔ (اے پیغمبر) ان سے کہہ دینا کہ : تم عذر پیش نہ کرو ہم ہرگز تمہاری بات کا یقین نہیں کریں گے۔ اللہ نے ہمیں تمہارے حالات سے اچھی طرح باخبر کردیا ہے۔ اور آئندہ اللہ بھی تمہارا طرز عمل دیکھے گا، اور اس کا رسول بھی، پھر تمہیں لوٹا کر اس ذات کے سامنے پیش کیا جائے گا جس کو چھپی اور کھلی تمام باتوں کا پورا علم ہے، پھر وہ تمہیں بتائے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔

72: روایات میں ہے کہ یہ سات انصاری صحابہ تھے۔ حضرت سالم بن عمیر، حضرت علبہ بن زید، حضرت عبدالرحمن بن کعب، حضرت عمرو بن الحمام، حضرت عبداللہ بن مغفل، حضرت ہر می بن عبداللہ اور حضرت عرباض بن ساریہ ؓ۔ انہوں نے غزوہ تبوک میں شامل ہونے کے لیے اپنے شوق کا اظہار فرمایا، اور آنحضرت ﷺ سے سواری کی درخواست پیش کی۔ جب آپ نے فرمایا کہ میرے پاس کوئی سورای نہیں ہے تو یہ روتے ہوئے واپس گئے۔ (روح المعانی)
Ayahs 9:95–96

سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ رِجْسٌ١٘ وَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:95 in the Quran reader

جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو یہ لوگ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے، تاکہ تم ان سے درگزر کرو۔ لہذا تم بھی ان سے درگزر کرلینا۔ (73) یقین جانو یہ سراپا گندگی ہیں، اور جو کمائی یہ کرتے رہے ہیں، اس کے نتیجے میں ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔

یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ١ۚ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 9:96 in the Quran reader

یہ تمہارے سامنے اس لیے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے راضی ہوجاؤ، حالانکہ اگر تم ان سے راضی ہو بھی گئے تو اللہ تو ایسے نافرمان لوگوں سے راضی نہیں ہوتا۔

73: یہاں ”در گذر کرنے“ کا مطلب یہ ہے کہ ان کی بات سن کر انہیں نظر انداز کردیا جائے، نہ تو فوری پر انہیں کوئی سزا دی جائے۔ اور نہ یہ وعدہ کیا جائے کہ ان کی معذرت قبول کرلی گئی ہے۔ اور انہیں معاف کردیا گیا ہے۔ اس طرز عمل کی وجہ اگلے جملے میں یہ بیان کی گئی ہے کہ اپنے نفاق کی وجہ سے یہ سراپا گندگی ہیں، ان کی معذرت جھوٹی ہے جو انہیں اس گندگی سے پاک نہیں کرسکتی، اور آخر کار ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Ayah 9:97

اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّ نِفَاقًا وَّ اَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:97 in the Quran reader

جو دیہاتی (منافق) ہیں، وہ کفر اور منافقت میں زیادہ سخت ہیں، اور دوسروں سے زیادہ اسی لائق ہیں کہ اس دین کے احکام سے ناواقف رہیں جو اللہ نے اپنے رسول پر اتارا ہے۔ (74) اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

74: یعنی منافقت کے علاوہ ان کی ایک خرابی یہ ہے کہ انہوں نے مدینہ منورہ کے مسلمانوں سے میل جول بھی نہیں رکھا جس کے ذریعے ان کو شریعت کے احکام کا علم ہوتا۔
Ayahs 9:98–100

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا وَّ یَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآئِرَ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:98 in the Quran reader

انہی دیہاتیوں میں وہ بھی ہیں جو (اللہ کے نام پر) خرچ کیے ہوئے مال کو ایک تاوان سمجھتے ہیں، اور اس انتظار میں رہتے ہیں کہ تم مسلمانوں پر مصیبتوں کے چکر آپڑیں، (75) (حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ) بدترین مصیبت کا چکر تو خود ان پر پڑا ہوا ہے۔ اور اللہ ہر بات سنتا، سب کچھ جانتا ہے۔

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ١ؕ سَیُدْخِلُهُمُ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 9:99 in the Quran reader

اور انہی دیہاتیوں میں وہ بھی جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، اور جو کچھ (اللہ کے نام پر) خرچ کرتے ہیں اس کو اللہ کے پاس قرب کے درجے حاصل کرنے اور رسول کی دعائیں لینے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ہاں یہ ان کے لیے یقینا تقرب کا ذریعہ ہے۔ اللہ ان کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ١ۙ رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:100 in the Quran reader

اور مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے، اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سب سے راضی ہوگیا ہے، اور وہ اس سے راضی ہیں، اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بڑی زبردست کامیابی ہے۔

75: یعنی یہ لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمان مصیبت کے کسی ایسے چکر میں پڑجائیں کہ ان لوگوں کو اس قسم کے احکام سے آزادی مل جائے جن پر عمل کرنا انہیں بہت مشکل معلوم ہوتا ہے خاص طور پر غزوہ تبوک کے موقع پر ان لوگوں کو یہ امید لگی ہوئی تھی کہ اس مرتبہ مسلمانوں کا مقابلہ روم کی عظیم طاقت سے ہو رہا ہے اس لئے شاید اس بار وہ رومیوں کے ہاتھوں شکست کھا کر اپنی ساری طاقت کھو بیٹھیں گے۔ آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ درحقیقت یہ لوگ خود نفاق کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں جو انہیں دنیا اور آخرت دونوں کی رسوائی میں مبتلا کرکے رہے گا۔
Ayah 9:101

وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ١ۛؕ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ١ؔۛ۫ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ١۫ لَا تَعْلَمُهُمْ١ؕ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ١ؕ سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِیْمٍۚ Open ayah 9:101 in the Quran reader

اور تمہارے ارد گرد جو دیہاتی ہیں، ان میں بھی منافق لوگ موجود ہیں، اور مدینہ کے باشندوں میں بھی۔ (76) یہ لوگ منافقت میں (اتنے) ماہر ہوگئے ہیں (کہ) تم انہیں نہیں جانتے، انہیں ہم جانتے ہیں۔ ان کو ہم دو مرتبہ سزا دیں گے۔ (77) پھر ان کو ایک زبردست عذاب کی طرف دھکیل دیا جائے گا۔

76: پہلے جن دیہاتیوں کا ذکر آیا تھا وہ مدینہ سے دور رہتے تھے اب ان دیہاتیوں کا ذکر ہے جو مدینہ منورہ کے آس پاس رہتے تھے اور خود مدینہ منورہ کے باشندوں میں ان منافقین کا جن کا نفاق آنحضرت ﷺ کو بھی معلوم نہیں تھا۔ 77: دو مرتبہ سزا دینے کی تشریح مختلف طریقوں سے کی گئی ہے صحیح مراد تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے ؛ لیکن بظاہر ایک سزا تو یہ ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کی شکست کی جو آس لگائی ہوئی تھی وہ پوری نہ ہوئی اور مسلمان غزوہ تبوک سے صحیح و سلامت واپس آگئے، یہ بذات خود ان منافقوں کے لئے ایک سزا تھی اور دوسرے بہت سے منافقوں کا نفاق کھل گیا اور ان کو دنیا ہی میں ذلت اٹھانی پڑی۔
Ayah 9:102

وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:102 in the Quran reader

اور کچھ لوگ وہ ہیں جنہوں نے اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرلیا ہے۔ انہوں نے ملے جلے عمل کیے ہیں، کچھ نیک کام، اور کچھ برے۔ امید ہے کہ اللہ ان کی توبہ قبول کرلے گا۔ (78) یقینا اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

78: منافقین تو اپنی منافقت کی وجہ سے غزوہ تبوک میں شامل نہیں ہوئے تھے، اور اب تک انہیں کا ذکر ہوتا رہا ہے۔ لیکن مخلص مسلمانوں میں بھی کچھ لوگ ایسے تھے جو سستی کی وجہ سے جہاد میں جانے سے رہ گئے تھے حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت کے مطابق یہ کل دس حضرات تھے۔ ان میں سے سات کو اپنی اس سستی پر اتنی سخت شرمندگی ہوئی کہ ابھی آنحضرت صلی اللہ تبوک سے واپس بھی نہیں پہنچے تھے کہ یہ خود اپنے آپ کو سزا دینے کے لیے مسجد نبوی پہنچے، اور اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے بندھے رہیں گے۔ آپ کی واپسی کا وقت قریب تھا، اور جب آپ واپس تشریف لائے اور آپ نے انہیں بندھا ہوا دیکھا تو پوچھا کہ کیا معاملہ ہے ؟ اس پر آپ کو علم ہوا کہ انہوں نے اس لیے اپنے آپ کو باندھ رکھا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اب میں بھی ان کو اس وقت تک نہیں کھولوں گا جب تک اللہ تعالیٰ خود انہیں کھولنے کا حکم نہ دیدے۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ان کی توبہ قبول کرلی گئی، اور انہیں کھول دیا گیا۔ ان سات حضرات میں حضرت ابو لبابہ ؓ بھی تھے جن کے نام سے ایک ستون اب بھی مسجد نبوی میں موجود ہے، اور اسے اسطوانۃ التوبہ بھی کہا جاتا ہے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ انہوں نے اس ستون سے اپنے آپ کو اس وقت باندھا تھا جب بنو قریظہ کے معاملے میں ان سے ایک غلطی ہوگئی تھی، لیکن حافظ ابن جریر ؒ نے اسی کو ترجیح دی ہے کہ یہ واقعہ تبوک سے متعلق ہے اور اسی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی (دیکھئے تفسیر ابن جریر ج : 11 ص :12 تا 16) باقی تین حضرات جو تبوک نہیں گئے تھے، ان کا ذکر آگے آیت نمبر 106 میں آ رہا ہے۔ اس آیت نے یہ واضح کردیا ہے کہ اگر کسی سے کوئی گناہ ہوجائے تو اسے مایوس ہونے کے بجائے توبہ کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ اور غلطی کی تاویلیں کرنے کے بجائے ہر ممکن طریقے سے اپنی غلطی پر اظہار ندامت کرنا چاہیے۔ ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ امید دلائی ہے کہ انہیں معاف کردیا جائے۔
Ayahs 9:103–104

خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:103 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ان لوگوں کے اعمال میں سے صدقہ وصول کرلو جس کے ذریعے تم انہیں پاک کردو گے اور ان کے لیے باعث برکت بنو گے، (79) اور ان کے لیے دعا کرو۔ یقینا تمہاری دعا ان کے لیے سراپا تسکین ہے، اور اللہ ہر بات سنتا اور سب کچھ جانتا ہے۔

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 9:104 in the Quran reader

کیا ان کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ بھی قبول کرتا ہے اور صدقات بھی قبول کرتا ہے، اور یہ کہ اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے ؟

79: یہی حضرات جنہوں نے توبہ کے طو رپر اپنے آپ کو ستونوں سے باندھ لیا تھا، جب ان کی توبہ قبول ہوئی اور انہیں آزاد کیا گیا تو انہوں نے شکرانے کے طور پر اپنا مال صدقے میں دینے کے لئے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کیا، آپ نے شروع میں فرمایا کہ مجھے تم سے کوئی مال لینے کا حکم نہیں دیا گیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ ان سے صدقہ قبول فرمالیں، آیت میں صدقے کی دو خاصیتیں بیان فرمائی گئی ہیں، ایک یہ کہ وہ انسان کو گناہوں اور برے اخلاق سے پاک ہونے میں مدد دیتا ہے، اور دوسرے یہ کہ اس سے انسان کی نیکیوں میں برکت اور ترقی ہوتی ہے، یہاں یہ بھی واضح رہے کہ اگرچہ یہ آیت اس خاص واقعے میں نازل ہوئی تھی ؛ لیکن چونکہ الفاظ عام ہیں اس لئے امت کے فقہاء کا اجماع ہے کہ اسی آیت کی رو سے اسلامی ریاست کے ہر سربراہ کو اپنے عوام سے زکوٰۃ وصول کرنے اور اسے صحیح مصارف پر خرچ کرنے کا حق حاصل ہے، اسی وجہ سے حضرت صدیق اکبر ؓ کی خلافت کے زمانے میں جن لوگوں نے آپ کو زکوٰۃ دینے سے انکار کیا ان سے آپ نے جہاد کیا۔
Ayah 9:105

وَ قُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ وَ سَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 9:105 in the Quran reader

اور (ان سے) کہو کہ : تم عمل کرتے رہو۔ اب اللہ بھی تمہارا طرز عمل دیکھے گا، اور اس کا رسول بھی اور مومن لوگ بھی۔ پھر تمہیں لوٹا کر اس ذات کے سامنے پیش کیا جائے گا، جس کو چھپی اور کھلی تمام باتوں کا پورا علم ہے، پھر وہ تمہیں بتائے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔ (80)

80: اس آیت نے یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ توبہ کے بعد بھی کسی شخص کو بےفکر ہو کر نہیں بیٹھنا چاہیے ؛ بلکہ اپنی آئندہ زندگی میں اپنا طرز عمل درست کرنے کی فکر کرنی چاہیے۔
Ayah 9:106

وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَ اِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:106 in the Quran reader

اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا فیصلہ اللہ کا حکم آنے تک ملتوی کردیا گیا ہے، یا اللہ ان کو سزا دے گا، یا معاف کردے گا، (81) اور اللہ کامل علم والا بھی ہے، کامل حکمت والا بھی۔

81: یہ ان دس میں سے تین حضرات تھے جو کسی عذر کے بغیر صرف سستی کی وجہ سے تبوک کی مہم میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ نہیں گئے تھے۔ یہ حضرت کعب بن مالک، حضرت ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع ؓ تھے۔ ان حضرات کو ندامت تو تھی، لیکن انہوں نے توبہ کرنے میں اتنی جلدی نہیں کی جتنی حضرت ابو لبابہ ؓ اور ان کے ساتھیوں نے کی تھی، نہ وہ طریقہ اختیار کیا جو ان سات حضرات نے اختیار کیا تھا۔ چنانچہ جب یہ حضرات آنحضرت ﷺ کے پاس معذرت کرنے کے لیے پہنچے تو آپ نے ان کے بارے میں اپنا فیصلہ ملتوی فرما دیا۔ اور جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی حکم نہ آئے، ان کے بارے میں یہ حکم دیا کہ سب مسلمان ان کا معاشرتی بائیکاٹ کریں۔ چنانچہ پچاس دن تک ان کا بائیکاٹ جاری رہا، اور توبہ اس وقت قبول ہوئی جب آیت نمبر 118 نازل ہوئی، تفصیل وہیں پر آئے گی۔
Ayah 9:107

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّا الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 9:107 in the Quran reader

اور کچھ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایک مسجد اس کام کے لیے بنائی ہے کہ (مسلمانوں کو) نقصان پہنچائیں، کافرانہ باتیں کریں، مومنوں میں پھوٹ ڈالیں اور اس شخص کو ایک اڈہ فراہم کریں جس کی پہلے سے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ ہے۔ (82) اور یہ قسمیں ضرور کھا لیں گے کہ بھلائی کے سوا ہماری کوئی اور نیت نہیں ہے، لیکن اللہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہ قطعی جھوٹے ہیں۔

82: ان آیات میں منافقین کے ایک نہایت شریر گروہ کا بیان ہے جنہوں نے ایک خطرناک سازش کے تحت ایک عمارت مسجد کے نام سے بنائی تھی۔ اس واقعے کی تفصیل یہ ہے کہ مدینہ منورہ کے قبیلے خزرج میں ابو عامر نام کا ایک شخص تھا جو عیسائی ہوگیا تھا، اور اس نے رہبانیت اور درویشی کی زندگی اختیار کرلی تھی۔ مدینہ منورہ کے لوگ آنحضرت ﷺ کے تشریف لانے سے پہلے اس کی بڑی عزت کرتے تھے۔ آنحضرت ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے اسے بھی دین حق کی دعوت دی، لیکن اس نے حق کو قبول کرنے کے بجائے آنحضرت ﷺ کو اپنا حریف سمجھ لیا، اور آپ کی دشمنی پر کمر باندھ لی۔ جنگ بدر سے لے کر جنگ حنین تک کفار مکہ سے جتنی جنگیں ہوئی، ان سب میں یہ مسلمانوں کے خلاف دشمنوں کی مدد اور تائید کرتا رہا۔ جب جنگ حنین میں بھی مسلمانوں کو فتح ہوئی تو یہ شام چلا گیا، اور وہاں سے مدینہ منورہ کے منافقین کو خط لکھا کہ میں شام میں یہ کوشش کر رہا ہوں کہ روم کا بادشاہ مدینہ منورہ پر چڑھائی کر کے مسلمانوں کو ختم کر ڈالے۔ لیکن اس کام کے لیے ضروری ہے کہ تم لوگ اپنا ایک محاذ ایسا بناؤ کہ جب روم کا بادشاہ حملہ کرے تو تم اندر سے اس کی مدد کرسکو۔ اسی نے یہ مشورہ بھی دیا کہ تم ایک عمارت مسجد کے نام سے بناؤ جو بغاوت کے مرکز کے طور پر استعمال ہو اس میں خفیہ طور سے ہتھیار بھی جمع کرو۔ اور آپس میں مشورے بھی یہیں کیا کرو، اور میری طرف سے کوئی ایلچی آئے تو اسے بھی یہاں ٹھہراؤ، چنانچہ ان منافقین نے قبا کے علاقے میں یہ عمارت بنائی اور آنحضرت ﷺ سے درخواست کی کہ بہت سے کمزور لوگوں کو مسجد قبا دور پڑتی ہے، اس لیے ان کی آسانی کی خاطر ہم نے یہ مسجد تعمیر کی ہے۔ آپ کسی وقت یہاں تشریف لاکر نماز پڑھیں، تاکہ اسے برکت حاصل ہو۔ آنحضرت ﷺ اس وقت تبوک جانے کی تیاری میں مصروف تھے، اس لیے آپ نے فرمایا کہ ابھی تو میں تبوک جا رہا ہوں، واپسی پر اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو میں وہاں آکر نماز پڑھ لوں گا۔ لیکن جب آپ تبوک سے واپس تشریف لائے تو مدینہ منورہ سے کچھ پہلے ذو اوان کے مقام پر یہ آیتیں نازل ہوئیں جن میں آپ پر اس نام نہاد مسجد کی حقیقت کھول دی گئی۔ اور اس میں نماز پڑھنے سے منع فرما دیا گیا۔ اس موقع پر آپ نے وہیں سے دو صحابیوں مالک بن دخشم اور معن بن عدی ؓ کو بھیجا کہ وہ اس عمارت کو تباہ کردیں، چنانچہ ان حضرات نے اس کو جلا کر خاک کردیا۔ (تفسیر ابن جریر)
Ayah 9:108

لَا تَقُمْ فِیْهِ اَبَدًا١ؕ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِ١ؕ فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ Open ayah 9:108 in the Quran reader

(اے پیغمبر) تم اس (نام نہاد مسجد) میں کبھی (نماز کے لیے) کھڑے مت ہونا۔ البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقوی پر رکھی گئی ہے وہ اس بات کی زیادہ حق دار ہے کہ تم اس میں کھڑے ہو۔ (83) اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک صاف ہونے کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ پاک صاف لوگوں کو پسند کرتا ہے۔

83: اس سے مراد وہ مسجد قبا بھی ہے جو آنحضرت ﷺ نے اس وقت تعمیر فرمائی تھی۔ جب آپ مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے تشریف لائے، اور قبا کی بستی میں چودہ دن قیام فرمایا۔ اور یہ پہلی باقاعدہ مسجد تھی جو آپ نے تعمیر فرمائی۔ اور وہ مسجد نبوی بھی اس کے مصداق میں داخل ہے جو آپ نے قبا سے مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد تعمیر فرمائی۔ دونوں ہی کی بنیاد تقویٰ اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی پر تھی۔ اس مسجد کی فضیلت یہ بتائی گئی ہے کہ اس میں نماز پڑھنے والے پاکی اور صفائی کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ اس میں جسم کی ظاہری پاکی بھی داخل ہے، اور اعمال و اخلاق کی پاکی اور صفائی بھی۔
Ayah 9:109

اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:109 in the Quran reader

بھلا کیا وہ شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد اللہ کے خوف اور اس کی خوشنودی پر اٹھائی ہو، یا وہ شخص جس نے اپنی عمارت کی بنیاد ایک ڈھانگ کے کسی گرتے ہوئے کنارے پر رکھی ہو، (84) پھر وہ اسے لے کر جہنم کی آگ میں جاگرے ؟ اور اللہ ایسے ظالم لوگوں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا۔

84: قرآن کریم نے جو لفظ استعمال فرمایا ہے۔ وہ ”جرف“ ہے۔ یہ در اصل کسی زمین یا ٹیلے یا پہاڑ کے اس حصے کو کہتے ہیں جس کا نچلا حصہ پانی کے سیلاب وغیرہ کی وجہ سے بہہ گیا ہو، اور اوپر کھوکھلی مٹی رہ گئی ہو جو کسی بھی وقت گر سکتی ہو۔ اردو میں ایسی جگہ کو ڈھانگ کہتے ہیں۔ اس لیے ترجمے میں یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے۔
Ayahs 9:110–111

لَا یَزَالُ بُنْیَانُهُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّاۤ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 9:110 in the Quran reader

جو عمارت ان لوگوں نے بنائی تھی، وہ ان کے دلوں میں اس وقت تک برابر شک پیدا کرتی رہے گی جب تک ان کے دل ہی ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہوجاتے۔ (85) اور اللہ کامل علم والا بھی ہے، کامل حکمت والا بھی۔

اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ١ؕ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ١۫ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِكُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:111 in the Quran reader

واقعہ یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس بات کے بدلے خرید لیے ہیں کہ جنت انہی کی ہے۔ وہ اللہ کے راستے میں جنگ کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں مارتے بھی ہیں، اور مرتے بھی ہیں۔ یہ ایک سچا وعدہ ہے جس کی ذمہ داری اللہ نے تورات اور انجیل میں بھی لی ہے، اور قرآن میں بھی۔ اور کون ہے جو اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو پورا کرنے والا ہو ؟ لہذا اپنے اس سودے پر خوشی مناؤ جو تم نے اللہ سے کرلیا ہے۔ اور یہی بڑی زبردست کامیابی ہے۔

85: جو عمارت ان منافقین نے بنائی تھی، اس کے لیے آیت 107 میں تو یہ بتانا مقصود تھا کہ یہ عمارت انہوں نے مسجد کے نام پر بنائی تھی اور ان کا دعویٰ یہ تھا کہ یہ مسجد ہے، اس لیے وہاں اس عمارت کے واسطے مسجد کا لفظ استعمال کیا گیا تھا، لیکن اس آیت میں اس کی حقیقت بتائی گئی ہے، اس لیے یہاں اللہ تعالیٰ نے اسے عمارت کہا ہے، مسجد نہیں کہا، کیونکہ حقیقت میں وہ مسجد تھی ہی نہیں۔ بنانے والے حقیقت میں کافر تھے۔ اور بنانے کا مقصد اسلام دشمنی تھی۔ اسی لیے اسے جلایا گیا۔ ورنہ اگر کوئی مسلمان مسجد بنائے تو اسے جلانا جائز نہیں ہے۔ اور اس آیت میں جو فرمایا گیا ہے کہ یہ عمارت ان منافقوں کے دل میں برابر شک پیدا کرتی رہے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس عمارت کے جلائے جانے سے ان منافقین پر بھی یہ بات کھل گئی کہ ان کی شرارت کا راز مسلمانوں پر ظاہر ہوگیا ہے۔ اب وہ اپنے مستقبل کے بارے میں مسلسل شک میں مبتلا رہیں گے کہ نہ جانے مسلمان اب ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں۔ ان کی بےیقینی کی یہ کفییت اسی وقت ختم ہوگی جب ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے یعنی ان کو موت آجائے گی۔
Ayah 9:112

اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآئِحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:112 in the Quran reader

(جنہوں نے یہ کامیاب سودا کیا ہے وہ کون ہیں ؟) توبہ کرنے والے ! اللہ کی بندگی کرنے والے ! اس کی حمد کرنے والے ! روزے رکھنے والے ! (86) رکوع میں جھکنے والے ! سجدے گزرنے والے ! نیکی کی تلقین کرنے والے، اور برائی سے روکنے والے، اور اللہ کی قائم کی ہوئی حدوں کی حفاظت کرنے والے، (87) (اے پیغمبر) ایسے مومنوں کو خوشخبری دے دو۔

86: قرآن کریم نے یہاں جو لفظ استعمال کیا ہے وہ السائحون ہے اس لفظ کے اصل معنی تو سیاحت کرنے والے کے ہیں۔ لیکن آنحضرت ﷺ نے اس کی تفسیر روزہ رکھنے سے فرمائی ہے اور یہی تفسیر متعدد صحابہ اور تابعین سے بھی منقول ہے (تفسیر ابن جریر) بظاہر روزے کو سیاحت اس لیے فرمایا گیا ہے کہ جس طرح سفر میں انسان کے کھانے پینے اور سونے جاگنے کے معمولات قائم نہیں رہتے، اسی طرح روزے میں بھی ان معمولات میں فرق آجاتا ہے۔ واللہ اعلم۔ 87: قرآن کریم نے بہت سے مواقع پر ”اللہ کی قائم کی ہوئی حدود“ اور ان کی حفاظت کا ذکر فرمایا ہے۔ یہ بڑی معنی خیز اصطلاح ہے۔ اور اس کا پس منظر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے احکام دئیے ہیں۔ وہ کچھ حدود کے پابند ہیں۔ ان حدود میں رہ کر ان کو انجام دیا جائے تو وہ درست اور نیک کام ہیں۔ اور اگر حدود سے نکل جائیں تو وہی کام ناپسندیدہ اور بعض اوقات گناہ میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کی عبادت بہت ثواب کا کام ہے، لیکن اگر کوئی شخص عبادت میں اتنا منہمک ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کے جو حقوق رکھے ہیں، ان کو پامال کرنے لگے، تو وہ عبادت بھی ناجائز ہوجاتی ہے۔ تہجد کی نماز بڑی عظیم فضیلت کی چیز ہے، لیکن اگر کوئی شخص یہ نمازیں اس طرح پڑھے جس سے سونے والوں کی نیند میں خلل آئے تو یہ ناجائز ہے۔ والدین کی خدمت سے بڑھ کر کوئی نفلی عبادت نہیں ہے، لیکن اگر کوئی شخص اس کی وجہ سے بیوی بچوں کے حقوق پامال کرنے لگے تو یہ گناہ ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ اس آیت کریمہ میں بہت سی نیکیوں کا بیان کرنے کے بعد آخر میں حدود کی حفاظت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ کہ یہ حضرت تمام نیکیاں ان حدود میں رہ کر انجام دیتے ہیں جو ان کاموں کے لیے اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھی ہیں۔ ان حدود کی تعلیم آنحضرت ﷺ نے اپنے قول اور فعل سے دی ہے اور ان کو سیکھنے کا بہترین طریقہ اس کے سوا کوئی اور نہیں ہے کہ انسان کسی اللہ والے کی صحبت میں رہے، اور اس کے طرز عمل کو دیکھ دیکھ کر ان حدود کو سمجھنے اور اپنی زندگی میں ان کو اتارنے کی کوشش کرے۔
Ayah 9:113

مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِیْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِیْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 9:113 in the Quran reader

یہ بات نہ تو نبی کو زیب دیتی ہے اور نہ دوسرے مومنوں کو کہ وہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا کریں، چاہے وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں، جبکہ ان پر یہ بات پوری طرح واضح ہوچکی ہے کہ وہ دوزخی لوگ ہیں۔ (88)

88: صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں اس آیت کا شان نزول یہ بیان ہوا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے چچا ابو طالب نے اگرچہ آپ کی بڑی مدد کی تھی، لیکن انہوں نے آخر وقت تک اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ جب ان کی وفات کا وقت آیا تو آنحضرت ﷺ نے انہیں ترغیب دی کہ وہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوجائیں، مگر اس وقت ابو جہل وغیرہ نے مخالفت کی۔ اور وہ مسلمان نہیں ہوئے۔ آنحضرت ﷺ نے اس وقت یہ فرمایا تھا کہ میں آپ کے لیے اس وقت تک استغفار کرتا رہوں گا جب تک مجھے اس سے منع نہ کردیا جائے۔ چنانچہ اس آیت نے آپ کو ان کے لیے استغفار سے منع فرمادیا۔ اس کے علاوہ تفسیر ابن جریر وغیرہ میں روایت ہے کہ بعض مسلمانوں نے اپنے مشرک باپ دادوں کے لیے استغفار کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے والد کے لیے استغفار کیا تھا، اس لیے ہم بھی کرسکتے ہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 9:114

وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ١ؕ اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِیْمٌ Open ayah 9:114 in the Quran reader

اور ابراہیم نے اپنے باپ کے لیے جو مغفرت کی دعا مانگی تھی، اس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں تھی کہ انہوں نے اس (باپ) سے ایک وعدہ کرلیا تھا۔ (89) پھر جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی کہ وہ اللہ کا دشمن ہے، تو وہ اس سے دستبردار ہوگئے۔ (90) حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم بڑی آہیں بھرنے والے، (91) بڑے بردبار تھے۔

89: حضرت ابراہیم ؑ کا اپنے والد سے استغفار کا وعدہ کرنا سورة مریم (19:47) اور سورة ممتحنہ (60:4) میں اور اس وعدے کے مطابق استغفار کرنا سورة شعراء (26:86) میں مذکور ہے۔ 90: اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی کہ ان کا انتقال کفر ہی کی حالت میں ہوگا، اور وہ آخر وقت تک اللہ تعالیٰ کے دشمن بنے رہیں گے تو انہوں نے استغفار کرنا بھی چھوڑ دیا۔ اس سے علمائے کرام نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ کسی کافر کے لئے اس نیت سے مغفرت کی دعا کرنا جائز ہے کہ اسے ایمان لانے کی توفیق ہوجائے اور اس طرح اس کی مغفرت ہوجائے، لیکن جس شخص کے بارے میں یہ یقین ہو کہ اس کی موت کفر پر ہوئی ہے اس کے لئے مغفرت کی دعا جائز نہیں 91: یہ قرآن کریم کے لفظ ”اواہ“ کا ٹھیٹھ ترجمہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بڑے نرم دل اور رقیق القلب تھے۔ اللہ تعالیٰ کی یاد اور آخرت کی فکر میں وہ آہیں بھرتے تھے اور ان پر گریہ طاری ہوجاتا تھا
Ayahs 9:115–116

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِلَّ قَوْمًۢا بَعْدَ اِذْ هَدٰىهُمْ حَتّٰى یُبَیِّنَ لَهُمْ مَّا یَتَّقُوْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 9:115 in the Quran reader

اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ کردے جب تک اس نے ان پر یہ بات واضح نہ کردی ہو کہ انہیں کن باتوں سے بچنا ہے۔ (92) یقین رکھو کہ اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:116 in the Quran reader

یقینا اللہ ہی ہے جس کے قبضے میں سارے آسمانوں اور زمین کی سلطنت ہے۔ وہ زندگی بھی دیتا ہے، اور موت بھی، اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی رکھوالا ہے نہ مددگار۔

92: یعنی اب تک چونکہ واضح طور پر یہ حکم نہیں دیا گیا تھا کہ کسی مشرک کے لیے استغفار جائز نہیں، اس لیے جن لوگوں نے اس سے پہلے کسی مشرک کے لیے استغفار کیا، ان پر کوئی گرفت نہیں ہوگی۔
Ayah 9:117

لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِیِّ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ فِیْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:117 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے رحمت کی نظر فرمائی ہے نبی پر ان مہاجرین اور انصار پر جنہوں نے ایسی مشکل کی گھڑی میں نبی کا ساتھ دیا، (93) جبکہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل ڈگمگا جائیں، پھر اللہ نے ان کے حال پر توجہ فرمائی۔ یقینا وہ ان کے لیے بہت شفیق، بڑا مہربان ہے۔

93: منافقین کی مذمت اور سستی سے رہ جانے والے مسلمانوں کی معافی کا ذکر کرنے کے بعد مسلمانوں کی اس اکثریت کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شاباش دی جا رہی ہے جنہوں نے انتہائی کٹھن حالات میں خندہ پیشانی کے ساتھ تبوک کی مہم میں حصہ لیا۔ ان میں بھی اکثریت تو انہی کی تھی جن کے دل میں جہاد اور تعمیل حکم کا جذبہ اتنا مضبوط تھا کہ وہ ان مشکل حالات کو خاطر میں نہیں لائے۔ البتہ کچھ حضرات ایسے بھی تھے کہ شروع میں ان مشکلات کی وجہ سے ان کے دل میں وسوسے آئے۔ لیکن آخر کار انہوں نے دل و جان سے مہم میں حصہ لیا۔ اس دوسری قسم کا حوالہ اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں دیا ہے کہ : جبکہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل ڈگمگا جائیں۔
Ayah 9:118

وَّ عَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَیْهِمْ اَنْفُسُهُمْ وَ ظَنُّوْۤا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّاۤ اِلَیْهِ١ؕ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ لِیَتُوْبُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 9:118 in the Quran reader

اور ان تینوں پر بھی (اللہ نے رحمت کی نظر فرمائی ہے) جن کا فیصلہ ملتوی کردیا گیا تھا، (94) یہاں تک کہ جب ان پر یہ زمین اپنی ساری وسعتوں کے باوجود تنگ ہوگئی، ان کی زندگیاں ان پر دو بھر ہوگئیں، اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اللہ (کی پکڑ) سے خود اسی کی پناہ میں آئے بغیر کہیں اور پناہ نہیں مل سکتی، (95) تو پھر اللہ نے ان پر رحم فرمایا، تاکہ وہ آئندہ اللہ ہی سے رجوع کیا کریں۔ یقین جانو اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔

94: یہ ان تین صحابہ کی طرف اشارہ ہے جن کے بارے میں آیت نمبر 106 میں یہ فرمایا گیا تھا کہ ان کا فیصلہ ملتوی کردیا گیا ہے۔ 95: جیسا کہ آیت 106 کی تشریح میں عرض کیا گیا، ان تین حضرات کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے یہ حکم دیا تھا کہ جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے بارے میں کوئی واضح حکم آئے، اس وقت تک تمام مسلمان ان کا معاشرتی بائیکاٹ کریں۔ چنانچہ پچاس دن ان حضرات پر ایسے گذرے ہیں جن میں کوئی مسلمان ان سے نہ بات کرتا تھا، نہ کوئی اور معاملہ۔ ان تین حضرات میں سے حضرت کعب بن مالک ؓ نے اس زمانے کے حالات صحیح بخاری کی ایک لمبی روایت میں تفصیل کے ساتھ بیان فرمائے ہیں اور بڑے اثر انگیز پیرائے میں یہ بتایا ہے کہ اس عرصے میں ان پر کیا قیامت گذر گئی تھی۔ ان کی ٰیہ حدیث یہاں نقل کرنا ممکن نہیں۔ البتہ معارف القرآن میں اس کا مفصل ترجمہ موجود ہے۔ جو حضرات چاہیں، اس میں مطالعہ فرما لیں۔ اس آیت میں ان حضرات کی اس نفسیاتی کیفیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔