8. Surah Al-Anfaal
الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsآسان قرآن
تعارف
تعارف
سورة انفال تعارف یہ سورت تقریبا سن ٢ ہجری کے آس پاس مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے، اور اس کے بیشتر مضامین جنگ بدر اور اس کے واقعات اور مسائل سے متعلق ہیں۔ یہ جنگ اسلام اور کفر کے درمیان پہلے باقاعدہ معرکے کی حیثیت رکھتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح مبین عطا فرمائی ہے اور قریش مکہ کو ذلت آمیز شکست سے دور چار کیا۔ چنانچہ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات بھی یاد دلائے ہیں، اور مسلمانوں نے جس جاں نثاری کے ساتھ یہ جنگ لڑی اس کی ہمت افزائی کے ساتھ بعض ان کمزوریوں کی بھی نشان دہی فرمائی ہے جو اس جنگ میں سامنے آئیں۔ اور آئندہ کے لیے وہ ہدایات بھی دی گئی ہیں جو ہمیشہ مسلمانوں کی کامیابی اور فتح و نصرت کا سبب بن سکتی ہیں۔ جہاد اور مال غنیمت کی تقسیم کے بہت سے احکام بھی بیان ہوئے ہیں اور چونکہ جنگ بدر اصل میں کفار کے ظلم و ستم کے پس منظر میں پیش آئی تھی، اس لیے ان حالات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مکہ مکرمہ سے ہجرت کا حکم ہوا۔ نیز جو مسلمان مکہ مکرمہ میں رہ گئے تھے، ان کے لیے بھی ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آجائیں۔ ہجرت کی وجہ سے میراث کی تقسیم سے متعلق کچھ احکام عارضی طور پر نافذ کیے گئے تھے۔ سورت کے آخر میں اسی وجہ سے میراث کے کچھ مستقل احکام دئیے گئے ہیں۔ جنگ بدر چونکہ اس سورت کے بہت سے مضامین جنگ بدر کے مختلف واقعات سے متعلق ہیں، اس لیے ان کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے اس جنگ کے بارے میں کچھ بنیادی معلومات یہاں پیش کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے، تاکہ اس سے متعلق آیات کو ان کے صحیح پس منظر میں سمجھا جاسکے۔ مکہ مکرمہ میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبوت کے بعد تیرہ سال مقیم رہے۔ اس دوران مکہ مکرمہ کے کفار نے آپ اور آپ کے جاں نثار صحابہ (رض) کو طرح طرح سے ستانے اور ناقابل برداشت تکلیفیں پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہاں تک کہ ہجرت سے ذرا پہلے آپ کو قتل کرنے کا باقاعدہ منصوبہ بنایا گیا جس کا ذکر اسی سورت میں آنے والا ہے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو کفار مکہ مسلسل اس فکر میں رہے کہ آپ کو وہاں بھی چین سے بیٹھنے نہ دیا جائے۔ انہوں نے عبداللہ بن ابی کو مدینہ منورہ میں خط لکھا کہ تم لوگوں نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے ساتھیوں کو پناہ دی ہے، اب یا تو تم انہیں پناہ دینے سے ہاتھ اٹھالو، ورنہ ہم تم پر حملہ کریں گے۔ (دیکھے سنن ابو داؤد، کتاب الخراج، باب ٢٣، حدیث نمبر ٣٠٠٤) انصار میں سے اوس کے قبیلے کے سردار حضرت سعد بن معاذ ایک مرتبہ مکہ مکرمہ گئے تو عین طواف کے دوران ابو جہل نے ان سے کہا کہ تم نے ہمارے دشمنوں کو پناہ دے رکھی ہے، اور اگر تم ہمارے ایک سردار کی پناہ میں نہ ہوتے تو زندہ واپس نہیں جاسکتے تھے، جس کا مطلب یہ تھا کہ آئندہ اگر مدینہ منوہ کا کوئی آدمی مکہ مکرمہ آئے گا تو اسے قتل کردیا جائے گا۔ حضرت سعد بن معاذ (رض) نے اس کے جواب میں ابو جہل سے کہہ دیا کہ اگر تم ہمارے آدمیوں کو مکہ مکرمہ آنے سے روکو گے تو ہم تمہارے لیے اس سے بھی بڑی رکاوٹ کھڑی کردیں گے، یعنی تم تجارتی قافلے لے کر جب شام جاتے ہو تو تمہارا راستہ مدینہ منورہ کے قریب سے گزرتا ہے۔ اب ہم تمہارے قافلوں کو روکنے اور ان پر حملہ کرنے میں آزاد ہوں گے۔ (دیکھئے، صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب ٢، حدیث نمبر ٣٩٥٠) اس کے بعد کفار مکہ کے کچھ دستے مدینہ منورہ کے آس پاس آئے، اور مسلمانوں کے مویشی لوٹ کرلے گئے۔ حالات کے اس پس منظر میں ابو سفیان (جو اس وقت کفار مکہ کا سردار تھا) ایک بڑا بھاری تجارتی قافلہ لے کر شام گیا۔ اس قافلے میں مکہ مکرمہ کے ہر مرد و عورت نے سونا چاندی جمع کر کے تجارت میں شرکت کی غرض سے بھیجا تھا۔ یہ قافلہ شام سے سوفیصد نفع کما کر واپس آرہا تھا۔ یہ قافلہ ایک ہزار اونٹوں پر مشتمل تھا، اور پچاس ہزار دینار (گنیوں) کا سامان لارہا تھا، اور اس کے ساتھ چالیس مسلح افراد اس کی حفاظت پر متعین تھے۔ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس قافلے کی واپسی کا پتہ چلا تو حضرت سعد بن معاذ کے چیلنج کے مطابق آپ نے اس قافلے پر حمہ کرنے کا ارادہ فرمایا۔ اس کے لیے باقاعدہ سپاہیوں کی بھرتی کا موقع نہیں تھا، اس لیے وقت پر جتنے صحابہ تیار ہوسکے، ان کی تعداد تین سو تیرہ تھی، کل ستر اونٹ اور دو گھوڑے تھے، ساٹھ زرہیں تھیں، اس مختصر سامان کے ساتھ آپ مدینہ منورہ سے نکلے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بعض غیر مسلم مصنفین نے اس واقعے پر یہ اعتراض کیا ہے کہ ایک پرامن تجارتی قافلے پر حملہ کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ ہمارے زمانے کے بعض مسلمان مصنفین نے اس اعتراض سے مرعوب ہو کر یہ دعوی کرنے کی کوشش کی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارادہ قافلے پر حملہ کرنے کا نہیں تھا، بلکہ ابو سفیان نے اپنے طور پر خطرہ محسوس کر کے ابوجہل کے لشکر کو دعوت دی تھی، لیکن واقعے کی یہ تشریح صحیح احادیث اور قرآن کے ارشادات کی روشنی میں درست نہیں ہے۔ درحقیقت یہ اعتراض اس وقت کے حالات اور اس دور کے سیاسی، دفاعی اور معاشرتی ڈھانچے سے بیخبر ی پر مبنی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جو واقعات ہم نے اوپر بیان کیے ہیں ان کی روشنی میں فریقین کے درمیان ایک مسلسل جنگ کی حالت موجود تھی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو نہ صرف چیلنج دے رکھے تھے، بلکہ کفار کی طرف سے عملی طور پر چھیڑ چھاڑ بھی شروع ہوچکی تھی۔ دوسرے حضرت سعد بن معاذ پہلے سے انہیں متنبہ کر آئے تھے کہ وہ ان کے قافلوں پر حملہ کرنے کے لیے آزاد ہوں گے۔ تیسرے اس دور میں شہری اور فوجی افراد کی کوئی تفریق نہیں ہوتی تھی۔ کسی معاشرے کے تمام بالغ مرد مقاتلہ یعنی لڑنے والے کہلاتے تھے۔ چنانچہ قافلے کی سر کردگی ابو سفیان کے ہاتھ میں تھی جو اس وقت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کھلا دشمن تھا، اور اس کے ساتھ چالیس افراد میں سے ہر ایک قریش کے ان لوگوں میں سے تھا جو مسلمانوں کو ستانے میں پیش پیش رہے تھے، اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کی تیاری کر رہے تھے، اور یہ قافلہ بھی اگر کامیابی سے مکہ مکرمہ پہنچ جاتا تو قریش کی جنگی طاقت میں بڑے اضافے کا سبب بنتا۔ ان حالات میں اس کو ایک پرامن تجارتی قافلے پر حملہ قرار دینا اس وقت کے حالات سے ناواقفیت یا محض عناد کا کرشمہ ہے، اور اس کی وجہ سے ان واقعات کا انکار کرنا کسی طرح درست نہیں ہے جو صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔ بہرحال ! جب ابو سفیان کو آپ کے ارادے کا اندازہ ہوا تو اس نے ایک طرف تو ایک تیز رفتار ایلچی ابو جہل کے پاس بھیج کر اس واقعے کی اطلاع کی، اور اسے پورے لاؤ لشکر کے ساتھ آپ پر حملہ کرنے کا مشورہ دیا، اور دوسری طرف اپنے قافلے کا راستہ بدل کر بحر احمر کے ساحل کی طرف نکل گیا تاکہ وہاں سے چکر کاٹ کر مکہ مکرمہ پہنچ سکے۔ ابو جہل نے اس موقع کو غنیمت سمجھ کر ایک بڑا لشکر تیار کیا اور لوہے میں غرق ہو کر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگیا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب پتہ چلا کہ ابو سفیان تو قافلہ لے کر نکل چکا ہے اور ابو جہل کا لشکر آرہا ہے تو آپ نے صحابہ کرام سے مشورہ کیا۔ سب نے یہی رائے دی کہ اب ابو جہل سے ایک فیصلہ کن معرکہ ہوجانا چاہیے۔ چنانچہ بدر کے مقام پر دونوں لشکروں کا مقابلہ ہوا۔ مسلمانوں کی تعداد اور سازو سامان ابو جہل کے لشکر کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مسلمانوں کو شاندار فتح حاصل ہوئی۔ ابوجہل سمیت قریش کے ستر سردار جو مسلمانوں کی دشمنی میں پیش پیش تھے مارے گئے، اور دوسرے ستر افراد گرفتار ہوئے اور باقی لوگ میدان سے بھاگ کھڑے ہوئے۔
یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ١ؕ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ١۪ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 8:1 in the Quran reader
(اے پیغمبر) لوگ تم سے مال غنیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ مال غنیمت (کے بارے میں فیصلے) کا اختیار اللہ اور رسول کو حاصل ہے۔ لہذا تم اللہ سے ڈرو، اور آپس کے تعلقات درست کرلو، (1) اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم واقعی مومن ہو۔
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ Open ayah 8:2 in the Quran reader
مومن تو وہ لوگ ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان کے سامنے اس کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو اور ترقی دیتی ہیں اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں۔
الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 8:3 in the Quran reader
جو نماز قائم کرتے ہیں، اور ہم نے ان کو جو رزق دیا ہے اس میں سے (فی سبیل اللہ) خرچ کرتے ہیں۔
اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 8:4 in the Quran reader
یہی لوگ ہیں جو حقیقت میں مومن ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے پاس بڑے درجے ہیں، مغفرت ہے اور باعزت رزق ہے۔
كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ١۪ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِهُوْنَۙ Open ayah 8:5 in the Quran reader
(مال غنیمت کی تقسیم کا) یہ معاملہ کچھ ایسا ہی ہے جیسے تمہارے رب نے تمہیں اپنے گھر سے حق کی خاطر نکالا، جبکہ مسلمانوں کے ایک گروہ کو یہ بات ناپسند تھی۔ (2)
یُجَادِلُوْنَكَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ كَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 8:6 in the Quran reader
وہ تم سے حق کے معاملے میں اس کے واضح ہوجانے کے باوجود اس طرح بحث کر رہے تھے جیسے ان کو موت کی طرف ہنکا کرلے جایا جارہا ہو اور وہ (اسے) آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں۔
وَ اِذْ یَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 8:7 in the Quran reader
اور وہ وقت یاد کرو جب اللہ تم سے یہ وعدہ کر رہا تھا کہ دو گروہوں میں سے کوئی ایک تمہارا ہوگا، اور تمہاری خواہش تھی کہ جس گروہ میں (خطرے کا) کوئی کانٹا نہیں تھا، وہ تمہیں ملے (3) اور اللہ یہ چاہتا تھا کہ اپنے احکام سے حق کو حق کر دکھائے، اور کافروں کی جڑ کاٹ ڈالے۔
لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَۚ Open ayah 8:8 in the Quran reader
تاکہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا ثابت کردے، چاہے مجرم لوگوں کو یہ بات کتنی ناگوار ہو۔
اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُرْدِفِیْنَ Open ayah 8:9 in the Quran reader
یاد کرو جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے، تو اس نے تمہاری فریاد کا جواب دیا کہ میں تمہاری مدد کے لیے ایک ہزار فرشتوں کی کمک بھیجے والا ہوں جو لگاتار آئیں گے۔
وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَ لِتَطْمَئِنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ١ۚ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 8:10 in the Quran reader
اور یہ وعدہ اللہ نے کسی اور وجہ سے نہیں بلکہ صرف اس لیے کیا کہ وہ خوشخبری بنے اور تاکہ تمہارے دلوں کو اطمینان حاصل ہو، ورنہ مدد کسی اور کے پاس سے نہیں، صرف اللہ کے پاس سے آتی ہے۔ (4) یقینا اللہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔
اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَ یُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَ لِیَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَ یُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَؕ Open ayah 8:11 in the Quran reader
یاد کرو جب تم پر سے گھبراہٹ دور کرنے کے لیے وہ اپنے حکم سے تم پر غنودگی طاری کر رہا تھا (5) اور تم پر آسمان سے پانی برسا رہا تھا (6) تاکہ اس کے ذریعے تمہیں پاک کرے، تم سے شیطان کی گندگی دور کرے (7) تمہارے دلوں کی ڈھارس بندھائے اور اس کے ذریعے (تمہارے) پاؤں اچھی طرح جما دے۔
اِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓئِكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍؕ Open ayah 8:12 in the Quran reader
وہ وقت جب تمہارا رب فرشتوں کو وحی کے ذریعے حکم دے رہا تھا کہ : میں تمہارے ساتھ ہوں، اب تم مومنوں کے قدم جماؤ میں کافروں کے دلوں میں رعب طاری کردوں گا، پھر تم گردنوں کے اوپر وار کرو، اور ان کی انگلیوں کے ہر ہر جوڑ پر ضرب لگاؤ۔
ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:13 in the Quran reader
یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی مول لی ہے، اور اگر کوئی شخص اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی مول لیتا ہے، تو یقینا اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔
ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَ اَنَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ Open ayah 8:14 in the Quran reader
یہ سب تو (اب) چکھ لو، اس کے علاوہ حقیقت یہ ہے کہ کافروں کے لیے (اصل) عذاب دوزخ کا ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَۚ Open ayah 8:15 in the Quran reader
اے ایمان والو ! جب کافروں سے تمہارا آمنا سامنا ہوجائے، جبکہ وہ چڑھائی کر کے آرہے ہوں، تو ان کو پیٹھ مت دکھاؤ۔
وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 8:16 in the Quran reader
اور اگر کوئی شخص کسی جنگی چال کی وجہ سے ایسا کر رہا ہو یا اپنی کسی جماعت سے جا ملنا چاہتا ہو اس کی بات تو اور ہے، مگر اس کے سوا جو شخص ایسے دن اپنی پیٹھ پھیرے گا تو وہ اللہ کی طرف سے غضب لے کر لوٹے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ (8)
فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ١۪ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى١ۚ وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 8:17 in the Quran reader
چنانچہ (مسلمانو ! حقیقت میں) تم نے ان (کافروں کو) قتل نہیں کیا تھا، بلکہ انہیں اللہ نے قتل کیا تھا، اور (اے پیغمبر) جب تم نے ان پر (مٹی) پھینکی تھی تو وہ تم نے نہیں، بلکہ اللہ نے پھینکی تھی (9) اور (تمہارے ہاتھوں یہ کام اس لیے کرایا تھا) تاکہ اس کے ذریعے اللہ مومنوں کو بہترین اجر عطا کرے۔ بیشک اللہ ہر بات کو سننے والا، ہر چیز کو جاننے والا ہے۔
ذٰلِكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 8:18 in the Quran reader
یہ سب کچھ تو اپنی جگہ، اس کے علاوہ یہ بات بھی تھی کہ اللہ کو کافروں کی ہر سازش کو کمزور کرنا تھا۔ (10)
اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ١ۚ وَ اِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ١ۚ وَ لَنْ تُغْنِیَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَیْئًا وَّ لَوْ كَثُرَتْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:19 in the Quran reader
(اے کافرو) اگر تم فیصلہ چاہتے تھے، تو لو ! اب فیصلہ تمہارے سامنے آگیا ہے۔ اب اگر تم باز آجاؤ تو یہ تمہارے ہی لیے بہتر ہوگا، اور اگر تم پھر وہی کام کرو گے (جو اب تک کرتے رہے ہو) تو ہم بھی پھر وہی کام کریں گے (جو اب کیا ہے)۔ اور تمہارا جتھا تمہارے کچھ کام نہیں آئے گا، چاہے وہ کتنا زیادہ ہو اور یاد رکھو کہ اللہ مومنوں کے ساتھ ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَۚۖ Open ayah 8:20 in the Quran reader
اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی تابع داری کرو، اور اس (تابع داری) سے منہ نہ موڑو، جبکہ تم (اللہ اور رسول کے احکام) سن رہے ہو۔
وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 8:21 in the Quran reader
اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو کہتے تو ہیں کہ ہم نے سن لیا، مگر وہ (حقیقت میں) سنتے نہیں ہیں۔
اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 8:22 in the Quran reader
یقین رکھو کہ اللہ کے نزدیک بدترین جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔ (11)
وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 8:23 in the Quran reader
اور اگر اللہ کے علم میں ان کے اندر کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ان کو سننے کی توفیق دے دیتا، لیکن اب (جبکہ ان میں بھلائی نہیں ہے) اگر ان کو سننے کی توفیق دے بھی دے تو وہ منہ موڑ کر بھاگ جائیں گے۔ (12)
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 8:24 in the Quran reader
اے ایمان والو ! اللہ اور رسول کی دعوت قبول کرو، جب رسول تمہیں اس بات کی طرف بلائے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے۔ (13) اور یہ بات جان رکھو کہ اللہ انسان اور اس کے دل کے درمیان آڑ بن جاتا ہے (14)۔ اور یہ کہ تم سب کو اسی کی طرف اکٹھا کر کے لے جایا جائے گا۔
وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:25 in the Quran reader
اور ڈرو اس وبال سے جو تم میں سے صرف ان لوگوں پر نہیں پڑے گا جنہوں نے ظلم کیا ہوگا (15) اور جان رکھو کہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔
وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَ اَیَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 8:26 in the Quran reader
اور وہ وقت یاد کرو جب تم تعداد میں تھوڑے تھے، تمہیں لوگوں نے (تمہاری) سرزمین میں دبا کر رکھا ہوا تھا، تم ڈرتے تھے کہ لوگ تمہیں اچک کرلے جائیں گے۔ پھر اللہ نے تمہیں ٹھکانا دیا، اور اپنی مدد سے تمہیں مضبوط بنادیا، اور تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق عطا کیا، تاکہ تم شکرو کرو۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:27 in the Quran reader
اے ایمان والو ! اللہ اور رسول سے بےوفائی نہ کرنا، اور نہ جانتے بوجھتے اپنی امانتوں میں خیانت کے مرتکب ہونا۔
وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 8:28 in the Quran reader
اور یہ بات سمجھ لو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایک آزمائش ہیں، (16) اور یہ کہ عظیم انعام اللہ ہی کے پاس ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 8:29 in the Quran reader
اے ایمان والو ! اگر تم اللہ کے ساتھ تقوی کی روش اختیار کرو گے تو وہ تمہیں (حق و باطل کی) تمیز عطا کردے گا (17) اور تمہاری برائیوں کا کفارہ کردے گا، اور تمہیں مغفرت سے نوازے گا، اور اللہ فضل عظیم کا مالک ہے۔
وَ اِذْ یَمْكُرُ بِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْكَ اَوْ یَقْتُلُوْكَ اَوْ یُخْرِجُوْكَ١ؕ وَ یَمْكُرُوْنَ وَ یَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ Open ayah 8:30 in the Quran reader
اور (اے پیغمبر) وہ وقت یاد کرو جب کافر لوگ تمہارے خلاف منصوبے بنا رہے تھے کہ تمہیں گرفتار کرلیں، یا تمہیں قتل کردیں، یا تمہیں (وطن سے) نکال دیں، وہ اپنے منصوبے بنا رہے تھے اور اللہ اپنا منصوبہ بنا رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر منصوبہ بنانے والا ہے (18)
وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:31 in the Quran reader
اور جب ان کے سامنے ہماری آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ : (بس) ہم نے سن لیا، اگر ہم چاہیں تو اس جیسی باتیں ہم بھی کہہ لائیں۔ یہ (قرآن) اور کچھ نہیں، صرف پچھلے لوگوں کے افسانے ہیں۔
وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 8:32 in the Quran reader
(اور ایک وقت وہ تھا) جب انہوں نے کہا تھا کہ : یا اللہ ! اگر یہ (قرآن) ہی وہ حق ہے جو تیری طرف سے آیا ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا دے، یا ہم پر کوئی اور تکلیف دہ عذاب ڈال دے۔
وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 8:33 in the Quran reader
اور (اے پیغمبر) اللہ ایسا نہیں ہے کہ ان کو اس حالت میں عذاب دے جب تم ان کے درمیان موجود ہو، اور اللہ اس حالت میں بھی ان کو عذاب دینے والا نہیں ہے جب وہ استغفار کرتے ہوں۔ (19)
وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗ١ؕ اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:34 in the Quran reader
اور بھلا ان میں کیا خوبی ہے کہ اللہ ان کو عذاب نہ دے جبکہ وہ لوگوں کو مسجد حرام سے روکتے ہیں۔ (20) حالانکہ وہ اس کے متولی نہیں ہیں۔ متقی لوگوں کے سوا کسی قسم کے لوگ اس کے متولی نہیں ہوسکتے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ (اس بات کو) نہیں جانتے۔
وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةً١ؕ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 8:35 in the Quran reader
اور بیت اللہ کے پاس ان کی نماز سیٹیاں بجانے اور تالیاں پیٹنے کے سوا کچھ نہیں۔ لہذا (اے کافرو) جو کافرانہ باتیں تم کرتے رہے ہو ان کی وجہ سے اب عذاب کا مزہ چکھو۔
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَۙ Open ayah 8:36 in the Quran reader
جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ اپنے مال اس کام کے لیے خرچ کر رہے ہیں کہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکیں۔ (21) نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ لوگ خرچ تو کریں گے، مگر پھر یہ سب کچھ ان کے لیے حسرت کا سبب بن جائے گا، اور آخر کار یہ مغلوب ہوجائیں گے۔ اور (آخرت میں) ان کافر لوگوں کو جہنم کی طرف اکٹھا کر کے لایا جائے گا۔
لِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَیَرْكُمَهٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَهٗ فِیْ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 8:37 in the Quran reader
تاکہ اللہ ناپاک (لوگوں) کو پاک (لوگوں) سے الگ کردے، اور ایک ناپاک کو دوسرے ناپاک پر رکھ کر سب کا ایک ڈھیر بنائے، اور اس ڈھیر کو جہنم میں ڈال دے۔ یہی لوگ ہیں جو سراسر خسارے میں ہیں۔
قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ١ۚ وَ اِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:38 in the Quran reader
(اے پیغمبر) جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے ان سے کہہ دو کہ : اگر وہ باز آجائیں تو پہلے ان سے جو کچھ ہوا ہے اسے معاف کردیا جائے گا۔ (22) اور اگر وہ پھر وہی کام کریں گے تو پچھلے لوگوں کے ساتھ جو معاملہ ہوا، وہ (ان کے سامنے) گزر ہی چکا ہے۔ (23)
وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ١ۚ فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:39 in the Quran reader
اور (مسلمانو) ان کافروں سے لڑتے رہو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے، اور دین پورے کا پورا اللہ کا ہوجائے۔ (24) پھر اگر یہ باز آجائیں تو ان کے اعمال کو اللہ خوب دیکھ رہا ہے۔ (25)
وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ نِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ Open ayah 8:40 in the Quran reader
اور اگر یہ منہ موڑے رکھیں تو یقین جانو کہ اللہ تمہارا رکھوالا ہے، بہترین رکھوالا اور بہترین مددگار۔