8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsآسان قرآن

Ayah 8:41

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 8:41 in the Quran reader

اور (مسلمانو) یہ بات اپنے علم میں لے آؤ کہ تم جو کچھ مال غنیمت حاصل کرو اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسول اور ان کے قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کا حق ہے (26) (جس کی ادائیگی تم پر واجب ہے) اگر تم اللہ پر اور اس چیز پر ایمان رکھتے ہو جو ہم نے اپنے بندے پر فیصلے کے دن نازل کی تھی (27) جس دن دو جماعتیں باہم ٹکرائی تھیں، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

26:: دشمن کا جو مال جہاد کے دوران مجاہدین کے ہاتھ آیا ہو وہ مال غنیمت کہلاتا ہے، اس آیت میں اس کی تقسیم کا اصول بیان فرمایا گیا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جتنا مال اس طرح حاصل ہو اس کے پانچ حصے کئے جائیں گے، ان میں سے چار حصے تو مجاہدین کے درمیان تقسیم ہوں گے اور پانچواں حصہ بیت المال میں داخل کیا جائے گا، پھر بیت المال کے اس پانچویں حصہ (خمس) کو کس طرح خرچ کیا جائے گا ؟ اس کی تفصیل کرتے ہوئے اس آیت نے اول تو یہ بتلایا ہے کہ یہ مال اصل میں اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اور اسی کے حکم کے تحت تقسیم ہوگا، اس کے بعد اس کے پانچ مصارف بیان فرمائے گئے ہیں، ایک حصہ نبی کریم ﷺ کا ہے دوسرا حصہ آنحضرت ﷺ کے قریبی رشتہ داروں کا ہے کیونکہ انہوں نے آپ کی اور اسلام کی نصرت میں بڑی قربانیاں دی تھیں اور ان کے لئے زکوٰۃ کا مال بھی حرام قرار دیا گیا تھا، اور باقی تین حصے یتیموں مسکینوں اور مسافروں میں خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، آنحضرت ﷺ کا جو حصہ تھا وہ جمہور فقہاء کے نزدیک آپ کی وفات کے بعد ختم ہوگیا، آپ کے رشتہ داروں کے حصے کے بارے میں فقہاء کے نزدیک کچھ اختلاف ہے، امام شافعی ؒ کے نزدیک یہ حصہ اب بھی باقی ہے، اور بنو ہاشم اور بنو المطلب کو بطور استحقاق دینا ضروری ہے، چاہے وہ حاجت مند ہوں یا مال دار ؛ لیکن دوسرے تمام فقہاء اہل سنت یہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ حاجت مند ہوں تب تو انہیں دوسرے حاجت مندوں پر ترجیح دے کر اس خمس میں سے دیا جائے اور اگر وہ حاجت مند نہ ہوں تو ان کا کوئی مستقل حصہ نہیں ہوگا، حضرت عمر ؓ نے ایک مرتبہ حضرت علی ؓ کو خمس میں سے حصہ دیا تو حضرت علی ؓ نے یہ فرما کرلینے سے انکار کردیا کہ اس سال ہمارے خاندان کو ضرورت نہیں ہے۔ (ابو داؤد، حدیث نمبر : 2984) چنانچہ حضرت علی ؓ سمیت چاروں خلفاء راشدین کا عمل یہی رہا کہ بنو ہاشم اور بنو المطلب کے حضرات اگر حاجت مند ہوتے تو ان کو خمس میں سے حصہ دینے میں دوسروں پر مقدم رکھتے تھے اور اگر حاجت مند نہ ہوتے تو نہیں دیتے تھے، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اکثر فقہاء اور مفسرین کے نزدیک اس آیت میں جو پانچ مصارف بیان کئے گئے ہیں، ان کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان سب کو ضرور دیا جائے اور سب کو برابر دیا جائے ؛ بلکہ مصرف زکوٰۃ کے آٹھ مصارف کی طرح ہے (جن کا ذکر سورة توبہ : 9۔ 60 میں آنے والا ہے) کہ امام یعنی سربراہ حکومت کو اختیار ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق ان مصارف میں سے جس مصرف میں جتنا مناسب سمجھے تقسیم کرے، اس مسئلے کی مکمل تحقیق بندہ نے اپنی صحیح مسلم کی شرح فتح الملہم (ج : 3 ص 254 تا 258) میں بیان کی ہے۔ 27: اس سے مراد جنگ بدر کا دن ہے اس کو آیت میں یوم الفرقان فرمایا گیا ہے یعنی وہ دن جس میں حق و باطل کے درمیان فیصلہ ہوگیا کہ تین سوتیرہ بےسروسامان لوگ ایک ہزار مسلح فوج پر معجزانہ طور سے غالب آگئے۔ اور جو چیز اس دن نازل کی تھی اس سے مراد فرشتوں کی مدد اور قرآن کریم کی وہ آیات ہیں جو اس دن مسلمانوں کی تسلی کے لئے نازل کی گئیں۔
Ayah 8:42

اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰى وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ١ؕ وَ لَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِ١ۙ وَ لٰكِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ۙ۬ لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّ یَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:42 in the Quran reader

وہ وقت یاد کرو جب تم لوگ وادی کے قریب والے کنارے پر تھے اور وہ لوگ دور والے کنارے پر، اور قافلہ تم سے نیچے کی طرف۔ (28) اور اگر تم پہلے سے (لڑائی کا) وقت آپس میں طے کرتے تو وقت طے کرنے میں تمہارے درمیان ضرور اختلاف ہوجاتا، لیکن یہ واقعہ (کہ پہلے سے طے کیے بغیر لشکر ٹکرا گئے) اس لیے ہوا کہ جو کام ہو کر رہنا تھا، اللہ اسے پورا کر دکھائے، تاکہ جسے برباد ہونا ہو، وہ واضح دلیل دیکھ کر برباد ہو، اور جسے زندہ رہنا ہو وہ واضح دلیل دیکھ کر زندہ رہے، (29) اور اللہ ہر بات سننے والا، ہر چیز جاننے والا ہے۔

28: یہ میدان جنگ کا نقشہ بتایا جارہا ہے بدر ایک ودای کا نام ہے اس کا کنارہ جو مدینہ منورہ سے قریب تر ہے اس پر مسلمانوں کا لشکر فروکش تھا، جو کنارہ مدینہ منورہ سے نسبۃ دور ہے اس پر کفار کا لشکر تھا اور قافلے سے مراد ابوسفیان کا قافلہ ہے جو اس وادی کے نیچے کی جانب ساحل سمندر کی طرف بچ کر نکل گیا تھا، تفصیل اس سورت کے شروع میں بیان ہوچکی ہے۔ 29: مَفْعُوْلًا : مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسباب ایسے پیدا فرمادیئے کہ کفار مکہ سے باقاعدہ جنگ ٹھن گئی، ورنہ اگر دونوں فریق پہلے سے جنگ کے لئے کوئی وقت طے کرنا چاہتے تو اختلاف ہوجاتا، مسلمان چونکہ بےسروسامان تھے اس لئے باقاعدہ جنگ سے کتراتے اور مشرکین کے دلوں پر بھی آنحضرت ﷺ کی ہیبت تھی اس لئے وہ بھی خواہش کے باوجود جنگ کو ٹلانا چاہتے ؛ لیکن جب انہیں اپنا تجارتی قافلہ خطرے میں نظر آیا تو ان کے پاس جنگ کے سوا کوئی چارہ نہ رہا اور مسلمانوں کے سامنے جب لشکر آہی گیا تو وہ بھی لڑنے پر مجبور ہوگئے، اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ اسباب ہم نے اس لئے پیدا کئے کہ ایک مرتبہ فیصلہ کن معرکہ ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کی عطا فرمائی ہوئی فتح ونصرت سے آنحضرت ﷺ کی حقانیت کھل کر سامنے آجائے، اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص کفر کرکے بربادی کا راستہ اختیار کرے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلیل کے واضح ہونے کے بعد اختیار کرے، اور جو شخص اسلام لاکر باعزت زندگی اختیار کرے وہ بھی اس واضح دلیل کی روشنی میں کرے۔
Ayah 8:43

اِذْ یُرِیْكَهُمُ اللّٰهُ فِیْ مَنَامِكَ قَلِیْلًا١ؕ وَ لَوْ اَرٰىكَهُمْ كَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 8:43 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) وہ وقت یاد کرو جب اللہ خواب میں تمہیں ان (دشمنوں) کی تعداد کم دکھا رہا تھا، (30) اور اگر تمہیں ان کی تعداد زیادہ دکھا دیتا تو (اے مسلمانو) تم ہمت ہار جاتے، اور تمہارے درمیان اس معاملے میں اختلاف پیدا ہوجاتا، لیکن اللہ نے (تمہیں اس سے) بچا لیا۔ یقینا وہ سینوں میں چھپی باتیں خوب جانتا ہے۔

30: جنگ شروع ہونے سے پہلے جب ابھی تک مسلمانوں کو یہ پتہ نہیں چلا تھا کہ حملہ آور کافروں کی تعداد کتنی ہے ؟ آنحضرت ﷺ کو خواب میں کافروں کے لشکر کو کم کرکے دکھایا گیا، آپ نے وہ خواب صحابہ کرام سے بیان فرمایا، جس سے ان کے حوصلے بلند ہوئے، امام رازی ؒ فرماتے ہیں کہ نبی کا خواب چونکہ واقعہ کے خلاف نہیں ہوسکتا اس لئے بظاہر آپ کو لشکر کا ایک حصہ دکھایا گیا تھا، آپ نے اسی حصہ کے بارے میں لوگوں کو بتایا کہ وہ تھوڑے سے لوگ ہیں، اور بعض حضرات نے یہ بھی فرمایا ہے کہ خواب میں جو چیز دکھائی جاتی ہے وہ عالم مثال سے تعلق رکھتی ہے عین وہ چیز مراد نہیں ہوتی جو خواب میں نظر آرہی ہو، اسی لئے خواب میں تعبیر کی ضرورت پڑتی ہے لہذا خواب میں سارے لشکر کی تعداد اگرچہ واقعی کم دکھائی گئی ؛ لیکن اس کمی کی اصل تعبیر یہ تھی کہ یہ سارا لشکر بےحیثیت ہے، آنحضرت ﷺ کو اس تعبیر کا علم تھا اور آپ نے یہ خواب صحابہ ؓ کے سامنے اس لئے بیان فرمایا تاکہ انکے حوصلے بڑھ جائیں۔
Ayahs 8:44–46

وَ اِذْ یُرِیْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْۤ اَعْیُنِكُمْ قَلِیْلًا وَّ یُقَلِّلُكُمْ فِیْۤ اَعْیُنِهِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 8:44 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کرو کہ جب تم ایک دوسرے کے مد مقابلہ آئے تھے تو اللہ تمہاری نگاہوں میں ان کی تعداد کم دکھا رہا تھا، اور ان کی نگاہوں میں تمہیں کم کر رکے دکھا رہا تھا (31) تاکہ جو کام ہو کر رہنا تھا، اللہ اسے پورا کر دکھائے۔ اور تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 8:45 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تمہارا کسی گروہ سے مقابلہ ہوجائے تو ثابت قدم رہو، اور اللہ کا کثرت سے ذکر کرو، تاکہ تمہیں کامیابی حاصل ہو۔

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ Open ayah 8:46 in the Quran reader

اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اور آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم کمزور پڑجاؤ گے، اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی، اور صبر سے کام لو۔ یقین رکھو کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

31: یہ اس خواب کے علاوہ بیداری کا واقعہ ہے جو عین اس وقت پیش آیا جب دونوں لشکر آمنے سامنے آگئے اس وقت اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر کچھ ایسی کیفیت طاری فرمادی کہ کفار کا وہ لشکر جرار ان کو بہت معمولی محسوس ہوا۔
Ayah 8:47

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بَطَرًا وَّ رِئَآءَ النَّاسِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 8:47 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو اپنے گھروں سے اکڑتے ہوئے اور لوگوں کو اپنی شان دکھاتے ہوئے نکلے تھے، اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روک رہے تھے۔ (32) اور اللہ نے لوگوں کے سارے اعمال کو (اپنے علم کے) احاطے میں لیا ہوا ہے۔ (33)

32:: اس سے مراد کفار قریش کا وہ لشکر ہے جو جنگ بدر کے موقع پر بڑا اکڑتا اور اتراتا اور اپنی شان و شوکت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نکلا تھا، سبق یہ دینا ہے کہ جنگی طاقت کتنی بھی ہو اس پر بھروسہ کرکے تکبر میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے ؛ بلکہ بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ پر رکھنا چاہیے۔ 33: مطلب غالباً یہ ہے کہ بعض مرتبہ ایک شخص بظاہر اخلاص سے کام کرتا نظر آتا ہے۔ لیکن اس کی نیت دکھاوے کی ہوتی ہے، یا اس کے بر عکس بعض مرتبہ کسی شخص کا انداز بظاہر دکھاوے کا ہوتا ہے (جیسے دشمن کو مرعوب کرنے کے لیے کبھی طاقت کا مظاہرہ بھی کرنا پڑتا ہے) لیکن وہ اخلاص کے ساتھ بھروسہ اللہ ہی پر کرتا ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کو تمام اعمال کی اصل حقیقت کا پورا علم ہے، اس لیے وہ ان کی جزاء یا سزا کا فیصلہ اپنے اسی علم محیط کی بنیاد پر فرمائے گا محض ظاہری حالت کی بنیاد پر نہیں (تفسیر کبیر) واللہ سبحانہ اعلم۔
Ayah 8:48

وَ اِذْ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ وَ قَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَ اِنِّیْ جَارٌ لَّكُمْ١ۚ فَلَمَّا تَرَآءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَیْهِ وَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكُمْ اِنِّیْۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 8:48 in the Quran reader

اور وہ وقت (بھی قابل ذکر ہے) جب شیطان نے ان (کافروں) کو یہ سمجھایا تھا کہ ان کے اعمال بڑے خوشنما ہیں اور یہ کہا تھا کہ : آج انسانوں میں کوئی نہیں ہے جو تم پر غالب آسکے، اور میں تمہاری کوئی ذمہ داری نہیں لے سکتا، (34) مجھے جو کچھ نظر آرہا ہے وہ تمہیں نظر نہیں آرہا۔ مجھے اللہ سے ڈر لگ رہا ہے اور اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔

34: شیطان کی طرف سے یہ یقین دہانی اس طرح بھی ہوسکتی ہے کہ اس نے مشرکین کے دل میں یہ خیال ڈالا ہو، لیکن اگلے جملے میں جو واقعہ ذکر فرمایا گیا ہے اس سے ظاہر یہی ہے کہ اس نے کسی انسانی شکل میں آکر مشرکین کو اکسایا تھا ؛ چنانچہ حافظ ابن جریر ؒ وغیرہ نے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ جب مشرکین مکہ جنگ کے ارادے سے روانہ ہونے لگے تو انہیں یہ خطرہ لاحق ہوا کہ انکے پیچھے ان کے گھروں پر قبیلہ بکر کے لوگ حملہ نہ کردیں جن سے ان کی پرانی دشمنی چلی آتی تھی، اس موقع پر شیطان اس قبیلے کے ایک سردار سراقہ کے روپ میں ان کے سامنے آیا اور اس نے اطمینان دلایا کہ تمہارے لشکر کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ کوئی تم پر غالب نہیں آسکے گا، اور دوسرے یہ کہ تم ہمارے قبیلے کی طرف سے بےفکر رہو میں خود تمہارا محافظ ہوں، اور تمہارے ساتھ چلوں گا، مشرکین مکہ اس کی بات پر مطمئن ہوگئے، لیکن جب بدر کے میدان میں فرشتوں کا لشکر سامنے آیا تو شیطان جو سراقہ کی شکل میں ان کے ساتھ تھا یہ کہہ کر بھاگ کھڑا ہوا کہ میں تمہاری کوئی ذمہ داری نہیں لے سکتا اور مجھے وہ فوج نظر آرہی ہے جو تم نہیں دیکھ سکتے، بعد میں جب مشرکین کا لشکر شکست کھاکر مکہ مکرمہ لوٹا تو انہوں نے سراقہ سے شکایت کی کہ تم نے ہمیں بڑا دھوکہ دیا، سراقہ نے جواب میں کہا کہ مجھے تو اس قصے کا ذرا بھی پتہ نہیں اور نہ میں نے ایسی کوئی بات کہی تھی۔
Ayahs 8:49–52

اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِیْنُهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:49 in the Quran reader

اور یاد کرو جب منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا، یہ کہہ رہے تھے کہ : ان (مسلمانوں) کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے، (35) حالانکہ جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ سب پر غالب ہے، بڑی حکمت والا ہے۔

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ یَتَوَفَّى الَّذِیْنَ كَفَرُوا١ۙ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ١ۚ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 8:50 in the Quran reader

اور اگر تم دیکھتے (تو وہ عجیب منظر تھا) جب فرشتے ان کافروں کی روح قبض کر رہے تھے، ان کے چہروں اور پشت پر مارتے جاتے تھے (اور کہتے جاتے تھے کہ) اب جلنے کے عذاب کا مزہ (بھی) چکھنا۔

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۙ Open ayah 8:51 in the Quran reader

یہ سب کچھ ان اعمال کا بدلہ ہے جو تم نے اپنے ہاتھوں آگے بھیج رکھے تھے، اور یہ بات طے ہے کہ اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:52 in the Quran reader

(ان لوگوں کا حال ایسا ہی ہوا) جیسا فرعون کی قوم اور ان سے پہلے لوگوں کا حال ہوا تھا۔ انہوں نے اللہ کی نشانیوں کو ماننے سے انکار کیا، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا۔ یقینا اللہ کی طاقت بڑی ہے (اور) عذاب بڑا سخت۔

35: جب مسلمانوں نے بےسروسامانی کی حالت میں اتنے بڑے لشکر سے ٹکر لے لی تو منافقین نے کہا تھا کہ یہ اپنے دین کے گھمنڈ میں بڑا دھوکہ کھا رہے ہیں، ان میں کفار مکہ کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے
Ayahs 8:53–54

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ یَكُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰى قَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:53 in the Quran reader

یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ اللہ کا دستور یہ ہے کہ اس نے جو نعمت کسی قوم کو دی ہو اسے اس وقت تک بدلنا گوارا نہیں کرتا جب تک وہ لوگ خود اپنی حالت تبدیل نہ کرلیں (36) اور اللہ ہر بات سنتا، سب کچھ جانتا ہے۔

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ كُلٌّ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 8:54 in the Quran reader

(اس معاملے میں بھی ان کا حال) ایسا ہی ہوا جیسا فرعون کی قوم اور ان سے پہلے لوگوں کا حال ہوا تھا۔ انہوں نے اپنے رب کی نشانیوں کو جھٹلایا، نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ان کے گناہوں کی وجہ سے انہیں ہلاک کردیا، اور فرعون کی قوم کو غرق کردیا، اور یہ سب ظالم لوگ تھے۔

36: یعنی اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں کو عذاب سے اسی وقت بدلتا ہے جب کوئی قوم اپنی حالت کو خود بدل لیتی ہے، کفار مکہ کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی نعمتیں عطا فرمائی تھیں جن میں سب سے بڑی نعمت یہ تھی کہ آنحضرت ﷺ کو انہی کے درمیان مبعوث کیا گیا اگر وہ اس وقت ضد سے کام لینے کے بجائے حق طلبی اور انصاف سے کام لیتے تو ان کے لئے اسلام قبول کرنا کچھ مشکل نہیں تھا لیکن انہوں نے اس نعمت کی ناشکری کرکے اور ضد سے کام لے کر اپنی حالت کو بدل لیا اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اسلام قبول کرنے کو اپنے وقار کا مسئلہ بنالیا جس سے حق کو قبول کرنا ان کے لئے مشکل ہوگیا، جب انہوں نے اپنی حالت اس طرح بدل لی تو اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی نعمتوں کو عذاب سے تبدیل کردیا۔
Ayah 8:55

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۖۚ Open ayah 8:55 in the Quran reader

یقین جانو کہ اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے والے جان داروں میں بدترین لوگ وہ ہیں جنہوں نے کفر اپنا لیا ہے، جس کی وجہ سے وہ ایمان نہیں لاتے۔ (37)

37: دیکھئے پیچھے آیت نمبر 22 کا حاشیہ
Ayah 8:56

اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 8:56 in the Quran reader

یہ لوگ وہ ہیں جن سے تم نے عہد لے رکھا ہے، اس کے باوجود یہ ہر مرتبہ اپنے عہد کو توڑ دیتے ہیں اور ذرا نہیں ڈرتے۔ (38)

38: اس سے مراد وہ یہودی ہیں جو مدینہ منورہ کے آس پاس آباد تھے آنحضرت ﷺ نے ان سے معاہدہ فرمایا تھا کہ وہ اور مسلمان آپس میں امن کے ساتھ رہیں گے اور ایک دوسرے کے دشمن کا ساتھ نہیں دیں گے، یہودیوں نے بار بار اس عہد کی خلاف ورزی کی تھی اور خفیہ طور پر کفار مکہ کے ساتھ ساز باز کرتے رہتے تھے۔
Ayah 8:57

فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 8:57 in the Quran reader

لہذا اگر کبھی یہ لوگ جنگ میں تمہارے ہاتھ لگ جائیں تو ان کو سامان عبرت بنا کر ان لوگوں کو بھی تتر بتر کر ڈالو جو ان کے پیچھے ہیں، تاکہ وہ یاد رکھیں۔ (39)

39: مطلب یہ ہے کہ اگر وہ کسی جنگ میں کھل کر مسلمانوں کے مقابلے پر آجائیں تو انہیں ایسا سبق سکھایا جائے کہ نہ صرف ان کو بد عہدی کے انجام کا پتہ لگ جائے بلکہ جو کفار مکہ ان کو پیچھے سے اکساتے رہتے ہیں ان کو بھی ایسی عبرت ہو کہ ان کے منصوبے تتر بتر ہو کر رہ جائیں۔
Ayah 8:58

وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ۠ Open ayah 8:58 in the Quran reader

اور اگر تمہیں کسی قوم سے بدعہدی کا اندیشہ ہو تو تم وہ معاہدہ ان کی طرف صاف سیدھے طریقے سے پھینک دو ، (40) یاد رکھو کہ اللہ بد عہدی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

40: یہ اس صورت کا حکم بیان ہورہا ہے جب ان لوگوں کی طرف سے کھلی بد عہدی تو نہ ہوئی ہو لیکن اندیشہ ہو کہ کسی وقت وہ بد عہدی کرکے مسلمانوں کو نقصان پہنچادیں گے، ایسے موقع کیلئے مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ واضح طور پر معاہدے کے ختم کرنے کا اعلان کرنے کے لئے آزاد ہے، اس بات کو معاہدہ انکی طرف پھینکنے سے تعبیر کیا گیا ہے جو عربی محاورے میں اس معنی میں استعمال ہوتا ہے، تاکید یہ کی گئی ہے کہ صرف دشمن کی بد عہدی کے اندیشے کی بنا پر مسلمانوں کے لئے جائز نہیں کہ وہ اعلان کے بغیر معاہدے کی خلاف ورزی کریں، کیونکہ یہ بات اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔
Ayah 8:59

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَبَقُوْا١ؕ اِنَّهُمْ لَا یُعْجِزُوْنَ Open ayah 8:59 in the Quran reader

اور کافر لوگ ہرگز یہ خیال بھی دل میں نہ لائیں کہ وہ بھاگ نکلے ہیں، (41) یہ یقینی بات ہے کہ وہ (اللہ کو) عاجز نہیں کرسکتے۔

41: یہ ان کافروں کی طرف اشارہ ہے جو جنگ بدر کے موقع پر بھاگ نکلے تھے۔
Ayah 8:60

وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ١ۚ اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 8:60 in the Quran reader

اور (مسلمانو) جس قدر طاقت اور گھوڑوں کی جتنی چھاؤنیاں تم سے بن پڑیں ان سے مقابلے کے لیے تیار کرو (42) جن کے ذریعے تم اللہ کے دشمن اور اپنے (موجودہ) دشمن پر بھی ہیبت طاری کرسکو، اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی نہیں ابھی تم نہیں جانتے، (مگر) اللہ انہیں جانتا ہے۔ (43) اور اللہ کے راستے میں تم جو کچھ خرچ کرو گے، وہ تمہیں پورا پورا دے دیا جائے گا، اور تمہارے لیے کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔

42: یہ پوری امت مسلمہ کیلئے ایک ابدی حکم ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی شوکت قائم کرنے کے لئے ہر قسم کی دفاعی طاقت جمع کرنے کا اہتمام کرے، قرآن کریم نے طاقت کا عام لفظ استعمال کرکے بتادیا ہے کہ جنگ کی تیاری کسی ایک ہھتیار پر موقوف نہیں ؛ بلکہ جس وقت جس قسم کی دفاعی قوت کار آمد ہو اس وقت اسی طاقت کا حصول مسلمانوں کا فریضہ ہے، لہذا اس میں تمام جدید ترین ہھتیار اور آلات بھی داخل ہیں اور وہ تمام اسباب و وسائل بھی جو مسلمانوں کی اجتماعی معاشی اور دفاعی ترقی کے لئے ضروری ہوں، افسوس ہے کہ اس فریضے سے غافل ہو کر آج مسلمان دوسری قوموں کے دست نگر بنے ہوئے ہیں اور ان سے مرعوب ہیں، اللہ تعالیٰ ہم کو اس صورت حال سے نجات عطا فرمائے۔ امین۔ 43: اس سے مراد مسلمانوں کے وہ دشمن ہیں جو اس وقت تک سامنے نہیں آئے تھے ؛ بلکہ بعد میں سامنے آئے، مثلاً روم اور فارس کے لوگ جن سے آنحضرت ﷺ کے آخری دور اور خلافت راشدہ کے زمانے میں یا اس کے بھی بعد سابقہ پیش آیا۔
Ayahs 8:61–64

وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 8:61 in the Quran reader

اور اگر وہ لوگ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی اس کی طرف جھک جاؤ (44) اور اللہ پر بھروسہ رکھو، یقین جانو وہی ہے جو ہر بات سنتا، سب کچھ جانتا ہے۔

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 8:62 in the Quran reader

اور اگر وہ تمہیں دھوکا دینے کا ارادہ کریں گے تو اللہ تمہارے لیے کافی ہے۔ وہی تو ہے جس نے اپنی مدد کے ذریعے اور مومنوں کے ذریعے تمہارے ہاتھ مضبوط کیے۔

وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:63 in the Quran reader

اور ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی الفت پیدا کردی۔ اگر تم زمین بھر کی ساری دولت بھی خرچ کرلیتے تو ان کے دلوں میں یہ الفت پیدا نہ کرسکتے، لیکن اللہ نے ان کے دلوں کو جوڑ دیا، وہ یقینا اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:64 in the Quran reader

اے نبی ! تمہارے لیے تو بس اللہ اور وہ مومن لوگ کافی ہیں جنہوں نے تمہاری پیروی کی ہے۔

44: اس آیت کریمہ نے مسلمانوں کو دشمن سے صلح کرنے کی بھی اجازت دی ہے بشرطیکہ وہ ایسی شرائط پر ہو جو مسلمانوں کی مصلحت کے مطابق ہوں۔
Ayah 8:65

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِ١ؕ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 8:65 in the Quran reader

اے نبی ! مومنوں کو جنگ پر ابھارو۔ اگر تمہارے بیس آدمی ایسے ہوں گے جو ثابت قدم رہنے والے ہوں تو وہ دو سو پر غالب آجائیں گے۔ اور اگر تمہارے سو آدمی ہوں گے تو وہ کافروں کے ایک ہزار پر غالب آجائیں گے، کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے۔ (45)

45: چونکہ صحیح سمجھ نہیں رکھتے، اس لئے ایمان نہیں لاتے اور چونکہ ایمان نہیں لاتے، اس لئے اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد سے محروم رہتے ہیں، اور اپنی دس گنی زیادہ تعداد کے باوجود مسلمانوں سے مغلوب ہوجاتے ہیں۔ اس آیت نے ضمنی طور پر یہ حکم بھی دیا کہ اگر کافروں کی تعداد مسلمانوں سے دس گنی زیادہ ہو تب بھی مسلمانوں کے لئے مقابلے سے پیچھے ہٹنا جائز نہیں، لیکن اگلی آیت بعد میں نازل ہوئی جس نے اس حکم میں تخفیف کردی۔
Ayah 8:66

اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ ضَعْفًا١ؕ فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 8:66 in the Quran reader

لو اب اللہ نے تم سے بوجھ ہلکا کردیا، اور اس کے علم میں ہے کہ تمہارے اندر کچھ کمزوری ہے۔ لہذا (اب حکم یہ ہے کہ) اگر تمہارے ثابت قدم رہنے والے سو آدمی ہوں تو وہ دو سو پر غالب آجائیں گے، اور اگر تمہارے ایک ہزار آدمی ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے دو ہزار پر غالب آجائیں گے، اور اللہ ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہے۔ (46)

46: یہ حکم بعد میں آیا اور اس نے یہ تخفیف کردی کہ اگر دشمن کی تعداد مسلمانوں سے دگنی ہو تو پیچھے ہٹنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر تعداد اس سے زیادہ ہو تو پیچھے ہٹنے کی گنجائش ہے، اس طرح اس آیت نے اس حکم کی تفصیل بیان فرمادی ہے جو پیچھے آیت نمبر 15، 16 میں دیا گیا۔
Ayah 8:67

مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا١ۖۗ وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:67 in the Quran reader

یہ بات کسی نبی کے شایان شان نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی رہیں (47) جب تک کہ وہ زمین میں (دشمنوں کا) خون اچھی طرح نہ بہا چکا ہو (جس سے ان کا رعب پوری طرح ٹوٹ جائے) تم دنیا کا سازوسامان چاہتے ہو اور اللہ (تمہارے لیے) آخرت (کی بھلائی) چاہتا ہے اور اللہ صاحب اقتدار بھی ہے، صاحب حکمت بھی۔

47: جنگ بدر میں ستر قریشی افراد گرفتار ہوئے تھے، ان لوگوں کو جنگی قیدی کے طور پر مدینہ منورہ لایا گیا تھا، آنحضرت ﷺ نے ان کے بارے میں صحابہ کرام ؓ سے مشورہ فرمایا کہ ان سے کیا سلوک کیا جائے ؟ بعض صحابہ کرام مثلاً حضرت عمر ؓ کی رائے یہ تھی کہ ان کو قتل کردیا جائے، کیونکہ انہوں نے مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے ہیں ان کی بنا پر ان کا عبرت ناک انجام ہونا چاہیے، دوسرے حضرات کی رائے یہ تھی کہ ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑدیا جائے۔ (فدیہ اس مال کو کہا جاتا ہے جو کسی جنگی قیدی سے اس کی آزادی کے بدلے طلب کیا جائے) چونکہ زیادہ تر صحابہ اس دوسری رائے کے حق میں تھے، اس لئے آنحضرت ﷺ نے اسی کے مطابق فیصلہ فرمایا اور ان سب قیدیوں سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑدیا گیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس نے اس فیصلے پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ جنگ بدر کا سارا مقصد یہ تھا کہ ایک مرتبہ کفار کی طاقت اور شوکت کا زور اچھی طرح ٹوٹ جائے، اور جن لوگوں نے سالہا سال تک دین حق کا نہ صرف راستہ روکنے کی کوشش کی ہے بلکہ مسلمانوں پر وحشیانہ ظلم ڈھائے ہیں، ان پر ایک مرتبہ مسلمانوں کی دھاک بیٹھ جائے، اس کے لئے ضروری تھا کہ ان لوگوں کے ساتھ کوئی نرمی کا معاملہ کرنے کے بجائے ان سب کو قتل کردیا جاتا ؛ تاکہ واپس جاکر مسلمانوں کے لئے خطرہ بھی نہ بن سکتے اور ان کے عبرت ناک انجام سے دوسروں کو بھی سبق ملتا، یہاں یہ واضح رہے کہ جنگی قیدیوں کو آزاد کرنے پر ناپسندیدگی کا یہ اظہار جنگ بدر کے وقت مذکورہ مصلحت کی بنا پر کیا گیا تھا، بعد میں سورة محمد کی آیت نمبر : 4 میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اب چونکہ کفار کی جنگی طاقت ٹوٹ چکی ہے اس لئے اب نہ صرف فدیہ لے کر ؛ بلکہ بغیر فدیہ کے، محض احسان کے طور پر بھی جنگی قیدیوں کو آزاد کیا جاسکتا ہے۔ (توضیح القرآن)
Ayah 8:68

لَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 8:68 in the Quran reader

اگر اللہ کی طرف سے ایک لکھا ہوا حکم پہلے نہ آچکا ہوتا تو جو راستہ تم نے اختیار کیا، اس کی وجہ سے تم پر کوئی بڑی سزا آجاتی۔ (48)

48: پہلے لکھے ہوئے حکم سے مراد بعض مفسرین نے تو وہ حکم لیا ہے جو پیچھے آیت نمبر : 33 میں گزرا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا کوئی عذاب نہیں آسکتا اور دوسرے مفسرین نے اس کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ ان قیدیوں میں سے بعض حضرات کا مسلمان ہوجانا اللہ تعالیٰ نے مقدر میں لکھا تھا وہ نوشتہ ٔ تقدیر مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس فیصلے پر مسلمانوں کو کوئی سزا نہیں دی کہ ان قیدیوں میں سے کچھ لوگ مسلمان ہونے والے تھے ورنہ فیصلہ اصولی طور پر ناپسندیدہ تھا۔
Ayah 8:69

فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 8:69 in the Quran reader

لہذا اب تم نے جو مال غنیمت میں حاصل کیا ہے، اسے پاکیزہ حلال مال کے طور پر کھاؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ یقینا اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔ (49)

49: چونکہ جنگی قیدیوں کے بارے میں یہ فیصلہ کثرت رائے اور آنحضرت ﷺ کی تصدیق سے ہوچکا تھا اس لئے ناپسندیدگی کے اظہار کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں مسلمانوں کی معافی کا بھی اعلان فرمایا اور یہ بھی اجازت دی کہ جو مال فدیہ میں حاصل ہوا ہے حلال طیب ہے اور مسلمان اسے اپنے استعمال میں لاسکتے ہیں۔
Ayahs 8:70–71

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْۤ اَیْدِیْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰۤى١ۙ اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنْكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 8:70 in the Quran reader

اے نبی ! تم لوگوں کے ہاتھوں میں جو قیدی ہیں (اور جنہوں نے مسلمان ہونے کا ارادہ ظاہر کیا ہے) ان سے کہہ دو کہ : اگر اللہ تمہارے دلوں میں بھلائی دیکھے گا جو مال تم سے (فدیہ میں) لیا گیا ہے اس سے بہتر تمہیں دیدے گا (50) اور تمہاری بخشش کردے گا، اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:71 in the Quran reader

اور اگر ان لوگوں نے (اے نبی) تم سے خیانت کرنے کا ارادہ کیا تو یہ اس سے پہلے اللہ کے ساتھ خیانت کرچکے ہیں، جس کے نتیجے میں اللہ نے انہیں تمہارے قابو میں دے دیا اور اللہ کا علم بھی کامل ہے حکمت بھی کامل۔

50: بھلائی دیکھنے سے مراد یہ ہے کہ جن لوگوں نے مسلمان ہونے کا اعلان کیا ہے وہ خلوص دل کے ساتھ ہو، کوئی شرارت نہ ہو، اس صورت میں ان سے وعدہ کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی آزادی کے لئے فدیہ میں جو کچھ خرچ کیا ہے اس سے بہتر بدلہ انہیں دنیا یا آخرت میں دے دیا جائے گا، چنانچہ آنحضرت ﷺ کے چچا حضرت عباس ؓ جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اور بدر کی جنگ میں قید ہوگئے تھے، انہوں نے آپ سے عرض کیا تھا کہ میں مسلمان ہونا چاہتا تھا مگر میرے قبیلے کے لوگوں نے مجھے جنگ میں آنے پر مجبور کردیا، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بہر حال ! جو فدیہ دینا طے ہوا ہے وہ تو تمہیں دینا ہوگا اور اپنے بھتیجوں عقیل اور نوفل کا فدیہ بھی تم دو ، انہوں نے کہا کہ اتنی رقم میں کہاں سے لاؤں، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ وہ رقم کہاں ہے جو تم اپنی اہلیہ ام الفضل کے پاس خفیہ طور پر چھوڑ کر آئے ہو ؟ حضرت عباس نے یہ سنا توہکا بکا رہ گئے کیونکہ اس بات کا علم ان کے اور ان کی اہلیہ کے سوا کسی کو نہیں تھا، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں، بعد میں حضرت عباس ؓ فرمایا کرتے تھے کہ جتنا کچھ میں نے فدیہ میں دیا تھا واقعی اس سے کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ نے مجھے دیا ہے۔
Ayah 8:72

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَایَتِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا١ۚ وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:72 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے ہجرت کی ہے اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کے راستے میں جہاد کیا ہے، وہ اور جنہوں نے ان کو (مدینہ میں) آباد کیا اور ان کی مدد کی، یہ سب لوگ آپس میں ایک دوسرے کے ولی وارث ہیں۔ اور جو لوگ ایمان لے آئے ہیں، (مگر) انہوں نے ہجرت نہیں کی، جب تک وہ ہجرت نہ کرلیں (اے مسلمانو) تمہارا ان سے وراثت کا کوئی رشتہ نہیں ہے۔ (51) ہاں اگر دین کی وجہ سے وہ تم سے کوئی مدد مانگیں تو تم پر ان کی مدد واجب ہے سوائے اس صورت کے جبکہ وہ مدد کسی ایسی قوم کے خلاف ہو جس کے ساتھ تمہارا کوئی معاہدہ ہے۔ (52) اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے اچھی طرح دیکھتا ہے۔

51: سورة انفال کی ان آخری آیات میں میراث کے کچھ وہ احکام بیان فرمائے گئے ہیں جو مسلمانوں کی مکہ مکرمہ سے ہجرت کے نتیجے میں پیدا ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ نے یہ اصول شروع سے طے فرمادیا تھا کہ مسلمان اور کافر آپس میں ایک دوسرے کے وراث نہیں ہوسکتے، اب صورت حال یہ تھی کہ جو صحابہ کرام مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ آگئے تھے، ان میں سے بہت سے ایسے تھے کہ ان کے رشتہ دار جو ان کے وارث ہوسکتے تھے، سب مکہ مکرمہ میں رہ گئے تھے، ان میں سے اکثر وہ تھے جو کافر تھے اور مسلمان ہی نہیں ہوئے تھے، وہ مسلمانوں کے اس لئے وارث نہیں ہوسکتے تھے کہ ان کے درمیان کفر اور ایمان کا فاصلہ حائل تھا ؛ چنانچہ ان آیات نے واضح طور پر بتادیا کہ وہ نہ مسلمانوں کے وارث ہوسکتے ہیں اور نہ مسلمان ان کے وارث ہوسکتے ہیں اور مہاجرین کے کچھ ایسے رشتہ دار بھی تھے جو مسلمان تو ہوگئے تھے ؛ لیکن انہوں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت نہیں کی تھی، ان کے بارے میں بھی اس آیت نے یہ حکم دیا ہے کہ مہاجر مسلمانوں کا ان سے بھی وراثت کا کوئی رشتہ نہیں ہوسکتا اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ اس وقت تمام مسلمانوں کے ذمے فرض تھا کہ وہ مکہ مکرمہ سے ہجرت کریں، اور انہوں نے ہجرت نہ کرکے اس فریضے کو ابھی تک ادا نہیں کیا تھا اور دوسری وجہ یہ تھی کہ مہاجر مسلمان مدینہ منورہ میں تھے جو دارالاسلام تھا، اور وہ حضرات مکہ مکرمہ میں تھے جو اس وقت دارالحرب تھا، اور دونوں کے درمیان بڑی رکاوٹیں حائل تھیں، بہر صورت مہاجر مسلمانوں کے جو رشتہ دار مکہ مکرمہ میں رہ گئے تھے، چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم ان کے ساتھ مہاجرین کا وراثت کا رشتہ ٹوٹ چکا تھا، جس کا نتیجہ یہ تھا کہ اگر ان کا کوئی رشتہ دار مکہ مکرمہ میں فوت ہوتا تو اس کے ترکے میں ان مہاجرین کا کوئی حصہ نہیں ہوتا تھا اور اگر ان مہاجرین میں سے کوئی مدینہ منورہ میں فوت ہوتا تو اس کی میراث میں اس کے مکی رشتہ داروں کا کوئی حصہ نہیں ہوتا تھا، دوسری طرف جو مہاجرین مدینہ منورہ آکر آباد ہوئے تھے ان کو انصار مدینہ نے اپنے گھروں میں ٹھہرایا تھا، آنحضرت ﷺ نے ہر مہاجر صحابی کا کسی انصاری صحابی سے بھائی چارہ قائم کردیا تھا جسے مؤاخات کہا جاتا ہے، اس آیت کریمہ نے یہ حکم دیا کہ اب مہاجرین کے وارث ان کے مکی رشتہ داروں کے بجائے وہ انصاری صحابہ کرام ہوں گے جن کے ساتھ ان کی مؤاخات قائم کی گئی ہے۔ 52:: یعنی جن مسلمانوں نے ابھی تک ہجرت نہیں کی، اگرچہ وہ مہاجرین کے وارث نہیں ہیں، لیکن چونکہ بہر حال مسلمان ہیں، اس لئے اگر کافروں کے خلاف مسلمانوں سے کوئی مدد مانگیں تو مہاجر مسلمانوں پر واجب ہے کہ ان کی مدد کریں، البتہ ایک صورت ایسی بیان کی گئی ہے جس میں اس طرح کی مدد کرنا مہاجر مسلمانوں کے لئے جائز نہیں ہے، اور وہ یہ کہ جن کافروں کے خلاف وہ مدد مانگ رہے ہیں ان سے مہاجر مسلمانوں کا کوئی جنگ بندی کا معاہدہ ہوچکا ہو، ایسی صورت میں اگر وہ اپنے مسلمان بھائیوں کا ساتھ دیتے ہوئے ان کے خلاف کوئی کاروائی کریں تو یہ بد عہدی ہوگی، اس لئے ایسی مدد کو ناجائز قرار دیا گیا ہے، اس سے زیادہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ جب کوئی معاہدہ ہوجائے تو اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کے لئے بھی اس کی خلاف ورزی کو اسلام نے جائز نہیں رکھا ؛ چنانچہ صلح حدیبیہ کے موقع پر کئی واقعات ایسے پیش آئے کہ کفار کے ہاتھوں پسے ہوئے مسلمانوں نے آنحضرت ﷺ سے کفار قریش کے خلاف مدد مانگی اور مسلمانوں کا دل بےتاب تھا کہ انکی مدد کریں، مگر چونکہ قریش کے لوگوں سے معاہدہ ہوچکا تھا، اس لئے ان کے صبر وضبط کا بہت کڑا امتحان پیش آیا، اور آنحضرت ﷺ کے حکم کے تحت وہ اس امتحان میں ثابت قدم رہے۔
Ayah 8:73

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌؕ Open ayah 8:73 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر اپنا رکھا ہے وہ آپس میں ایک دوسرے کے والی وارث ہیں، اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہوگا۔ (53)

53: اس جملے کا تعلق ا ُ ن تمام احکام سے ہے جو ان آیات میں بیان فرمائے گئے ہیں جن میں میراث کے مذکورہ بالااحکام بھی داخل ہیں، اور غیر مہاجر مسلمانوں کی مدد کے احکام بھی، تنبیہ یہ کی جارہی ہے کہ ان احکام کی خلاف ورزی سے زمین میں فتنہ اور فساد پھیلے گا، مثلاً اگر وہ مسلمان جو کفار کے ہاتھوں ظلم وستم برداشت کررہے ہیں، ان کی مددنہ کی جائے تو فساد پھیلے گا، اور اگر ان کی مدد کی وجہ سے غیر مسلموں کے ساتھ بد عہدی کی جائے تب بھی وہ تمام مصلحتیں پامال ہوں گی جن کی خاطر وہ معاہدہ کیا گیا تھا۔
Ayah 8:74

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 8:74 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لے آئے، اور انہوں نے ہجرت کی، اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا، وہ اور جنہوں نے انہیں آباد کیا اور ان کی مدد کی وہ سب صحیح معنوں میں مومن ہیں۔ (54) ایسے لوگ مغفرت اور باعزت رزق کے مستحق ہیں۔

54: یعنی جن مسلمانوں نے ابھی ہجرت نہیں کی ہے، اگرچہ مومن وہ بھی ہیں، لیکن ان میں ابھی یہ کسر ہے کہ انہوں نے ہجرت کے حکم پر عمل نہیں کیا، دوسری طرف مہاجرین اور انصار میں یہ کسر نہیں ہے، اس لئے وہ صحیح معنی میں مومن کہلانے کے مستحق ہیں۔
Ayah 8:75

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰٓئِكَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 8:75 in the Quran reader

اور جنہوں نے بعد میں ایمان قبول کیا، اور ہجرت کی، اور تمہارے ساتھ جہاد کیا تو وہ بھی تم میں شامل ہیں۔ اور (ان میں سے) جو لوگ (پرانے مہاجرین کے) رشتہ دار ہیں، وہ اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے (کی میراث کے دوسروں سے) زیادہ حق دار ہیں۔ (55) یقینا اللہ ہر چیز کا پورا پورا علم رکھتا ہے۔

55: یہ اس وقت کا ذکر ہے جب وہ مسلمان بھی بالآخر ہجرت کر آئے تھے جنہوں نے شروع میں ہجرت نہیں کی تھی، اس آیت نے ان کے بارے میں دو حکم بیان فرمائے ہیں، ایک یہ کہ اب انہوں نے چونکہ وہ کسر پوری کردی ہے جس کی وجہ سے ان کا درجہ مہاجرین اور انصار سے کم تھا، اس لئے اب وہ بھی ان میں شامل ہوگئے ہیں، اور دوسرا حکم یہ کہ اب تک وہ اپنے ان رشتہ داروں کے وراث نہیں ہوتے تھے جو ہجرت کرچکے تھے اب چونکہ وہ بھی ہجرت کرکے مدینہ منورہ آگئے ہیں، اس لئے اب ان کے وارث ہونے کی اصل رکاوٹ دور ہوگئی ہے، نتیجہ یہ ہے کہ انصاری صحابہ کو ان مہاجرین کا جو وارث بنایا گیا تھا اب وہ حکم منسوخ ہوگیا، کیونکہ وہ ایک عارضی حکم تھا جو اس وجہ سے دیا گیا تھا کہ ان مہاجرین کے رشتہ دار مدینہ منورہ میں موجود نہیں تھے، اب چونکہ وہ آگئے ہیں اس لئے میراث کا اصل حکم کہ وہ قریبی رشتہ داروں میں تقسیم ہوتی ہے، واپس آگیا۔