10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsآسان قرآن

Ayahs 10:39–42

بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِهٖ وَ لَمَّا یَاْتِهِمْ تَاْوِیْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:39 in the Quran reader

بات دراصل یہ ہے کہ جس چیز کا احاطہ یہ اپنے علم سے نہیں کرسکے، اسے انہوں نے جھوٹ قرار دے دیا، اور ابھی اس کا انجام بھی ان کے سامنے نہیں آیا (22) اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے، انہوں نے (اپنے پیغمبروں کو) جھٹلایا تھا۔ پھر دیکھو کہ ان ظالموں کا انجام کیسا ہوا ؟

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 10:40 in the Quran reader

اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو اس (قرآن) پر ایمان لے آئیں گے، اور کچھ وہ ہیں جو اس پر ایمان نہیں لائیں گے، اور تمہارا پروردگار فساد پھیلانے والوں کو خوب جانتا ہے۔

وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْ١ۚ اَنْتُمْ بَرِیْٓئُوْنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:41 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) اگر یہ تمہیں جھٹلائیں تو (ان سے) کہہ دو کہ : میرا عمل میرے لیے ہے، اور تمہارا عمل تمہارے لیے، جو کام میں کرتا ہوں اس کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے اور جو کام تم کرتے ہو اس کی ذمہ داری مجھ پر نہیں۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:42 in the Quran reader

اور ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو تمہاری باتوں کو (بظاہر) کان لگا کر سنتے ہیں (مگر دل میں حق کی طلب نہیں رکھتے، اس لیے درحقیقت بہرے ہیں) تو کیا تم بہروں کو سناؤ گے، چاہے وہ سمجھتے نہ ہوں ؟

22: یعنی ان کے جھٹلانے کا انجام جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی صورت میں ظاہر ہونے والا۔ ابھی تک ان کے سامنے نہیں آیا، لیکن پچھلی قوموں کے انجام سے ان کو عبرت حاصل کرنی چاہیے۔
Ayahs 10:43–44

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 10:43 in the Quran reader

اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو تمہاری طرف دیکھتے ہیں (مگر دل میں انصاف نہ ہونے کی وجہ سے وہ اندھوں جیسے ہیں) تو کیا تم اندھوں کو راستہ دکھاؤ گے، چاہے انہیں کچھ بھی سجھائی نہ دیتا ہو ؟ (23)

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 10:44 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر ذرا بھی ظلم نہیں کرتا، لیکن انسان ہیں جو خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔

23: آنحضرت ﷺ کو اپنی امت پر جو غیر معمولی شفقت تھی اس کی وجہ سے آپ اکثر اس بات سے غمگین رہتے تھے کہ یہ کافر لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے، یہ آیت آپ کو تسلی دے رہی ہے کہ آپ اسی شخص کو راہ راستہ پر لاسکتے ہیں جو دل میں حق کی طلب رکھتا ہو۔ لیکن جن لوگوں میں اس طلب کا فقدان ہے، ان کی مثال تو بہروں اور اندھوں کی سی ہے کہ آپ کتنا ہی چاہیں، نہ انہیں کوئی بات سنا سکتے ہیں، نہ کوئی راستہ دکھا سکتے ہیں۔ ان کی ذمہ داری آپ پر نہیں، خود انہی پر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر کوئی ظلم نہیں کیا۔ بلکہ یہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں کہ دوزخ کا راستہ اپنا رکھا ہے۔
Ayah 10:45

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ كَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَهُمْ١ؕ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 10:45 in the Quran reader

اور جس دن اللہ ان کو (میدان حشر میں) اکٹھا کرے گا، تو انہیں ایسا معلوم ہوگا جیسے وہ (دنیا میں یا قبر میں) دن کی ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے، (اسی لیے) وہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچانتے ہوں گے۔ (24) حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں نے بڑے گھاٹے کا سودا کیا ہے جنہوں نے اللہ سے (آخرت میں) جاملنے کو جھٹلایا ہے اور جو راہ راست پر نہیں آئے۔

24: یعنی دنیوی زندگی انہیں اتنی قریب معلوم ہوگی کہ انہیں ایک دوسرے کو پہچاننے میں وہ دشواری پیش نہیں آئے گی جو کسی کو عرصہ دراز کے بعد دیکھنے کی وجہ سے عموماً پیش آیا کرتی ہے۔
Ayahs 10:46–58

وَ اِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:46 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) جن باتوں کی ہم نے ان (کافروں کو) دھمکی دی ہوئی ہے، چاہے ان میں سے کوئی بات ہم تمہیں (تمہاری زندگی میں) دکھا دیں، یا (اس سے پہلے) تمہاری روح قبض کرلیں، بہرصورت ان کو آخر میں ہماری طرف ہی لوٹنا ہے، (25) پھر (یہ تو ظاہر ہی ہے کہ) جو کچھ یہ کرتے ہیں، اللہ اس کا پورا پورا مشاہدہ کر رہا ہے۔ (لہذا وہاں ان کو سزا دے گا)

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُهُمْ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:47 in the Quran reader

اور ہر امت کے لیے ایک رسول بھیجا گیا ہے، پھر جب ان کا رسول آجاتا ہے تو ان کا فیصلہ پورے انصاف سے کیا جاتا ہے، اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا۔

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:48 in the Quran reader

اور یہ (کافر) لوگ (مسلمانوں سے مذاق اڑانے کے لیے) کہتے ہیں کہ : اگر تم سچے ہو تو (اللہ کی طرف سے عذاب کا) یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 10:49 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ان سے) کہہ دو کہ : میں تو خود اپنی ذات کو بھی کوئی نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتا ہوں، نہ فائدہ پہنچانے کا، مگر جتنا اللہ چاہے۔ ہر امت کا ایک وقت مقرر ہے، چنانچہ جب ان کا وہ وقت آجاتا ہے تو وہ اس سے نہ ایک گھڑی پیچھے جاسکتے ہیں نہ آگے آسکتے ہیں۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَیَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:50 in the Quran reader

ان سے کہو کہ : ذرا مجھے یہ بتاؤ کہ اگر اللہ کا عذاب تم پر رات کے وقت آئے یا دن کے وقت تو اس میں کون سی ایسی (اشتیاق کے قابل) چیز ہے جس کے جلد آنے کا یہ مجرم لوگ مطالبہ کر رہے ہیں ؟

اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ١ؕ آٰلْئٰنَ وَ قَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 10:51 in the Quran reader

کیا جب وہ عذاب آہی پڑے گا، تب اسے مانو گے ؟ (اس وقت تو تم سے یہ کہا جائے گا کہ) اب مانے ؟ حالانکہ تم ہی (اس کا انکار کر کے) اس کی جلدی مچایا کرتے تھے۔

ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ١ۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:52 in the Quran reader

پھر ظالموں سے کہا جائے گا کہ : اب ہمیشہ کے عذاب کا مزہ چکھو، تمہیں کسی اور چیز کا نہیں، صرف اس (بدی) کا بدلہ دیا جارہا ہے جو تم کماتے رہے ہو۔

وَ یَسْتَنْۢبِئُوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ١ؔؕ قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ١ؔؕۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۠ Open ayah 10:53 in the Quran reader

اور یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ (آخرت کا عذاب) واقعی سچ ہے ؟ کہو دو کہ : میرے پروردگار کی قسم یہ بالکل سچ ہے، اور تم (اللہ کو) عاجز نہیں کرسکتے۔

وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:54 in the Quran reader

اور جس جس شخص نے ظلم کا ارتکاب کیا ہے، اگر اس کے پاس روئے زمین کی ساری دولت بھی ہوگی تو وہ اپنی جان چھڑانے کے لیے اس کی پیشکش کردے گا، اور جب وہ عذاب کو آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو اپنی شرمندگی کو چھپانا چاہیں گے، اور ان کا فیصلہ انصاف کے ساتھ ہوگا، اور ان پر ظلم نہیں ہوگا۔

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:55 in the Quran reader

یاد رکھو کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ یا درکھو کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 10:56 in the Quran reader

وہی زندہ کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، اور اسی کے پاس تم سب کو لوٹایا جائے گا۔

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ١ۙ۬ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:57 in the Quran reader

لوگو تمہارے پاس ایک ایسی چیز آئی ہے جو تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک نصیحت ہے، اور دلوں کی بیماریوں کے لیے شفا ہے، اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت کا سامان ہے۔

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا١ؕ هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 10:58 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہو کہ : یہ سب کچھ اللہ کے فضل اور رحمت سے ہوا ہے، لہذا اسی پر تو انہیں خوش ہونا چاہیے، یہ اس تمام دولت سے کہیں بہتر ہے جسے یہ جمع کر کر کے رکھتے ہیں۔

25: یہ اس شبہ کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو عذاب کی دھمکی تو دی ہوئی ہے لیکن اب تک ان کی سرکشی اور مسلمانوں کے ساتھ کٹر دشمنی کے رویے کے باوجود ان پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ان کو عذاب اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق اپنے وقت پر ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ ہی میں ان کو دنیا میں سزا مل جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کی زندگی میں کوئی عذاب نہ آئے۔ لیکن بہتر صورت یہ بات طے ہے کہ جب یہ آخرت کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹ کر جائیں گے تو انہیں ابدی عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Ayahs 10:59–60

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا١ؕ قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 10:59 in the Quran reader

کہو کہ : بھلا بتاؤ اللہ نے تمہارے لیے جو رزق نازل کیا تھا، تم نے اپنی طرف سے اس میں سے کسی کو حرام اور کسی کو حلال قرار دے دیا، (26) ان سے پوچھو کہ : کیا اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتے ہو ؟

وَ مَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 10:60 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ پر بہتان باندھتے ہیں روز قیامت کے بارے میں ان کا کیا گمان ہے ؟ اس میں شک نہیں کہ اللہ انسانوں کے ساتھ فضل کا معاملہ کرنے والا ہے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔

26: عرب کے مشرکین نے مختلف جانوروں کو بتوں کے ناموں پر کر کے انہیں خواہ مخواہ حرام قرار دے دیا تھا، جس کی تفصیل سورة انعام (139، 138:5) میں گذری ہے۔ یہ ان کی اس بدعملی کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 10:61

وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 10:61 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) تم جس حالت میں بھی ہوتے ہو اور قرآن کا جو حصہ بھی تلاوت کرتے ہو اور (اے لوگو) تم جو کام بھی کرتے ہو، تو جس وقت تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو ہم تمہیں دیکھتے رہتے ہیں اور تمہارے رب سے کوئی ذرہ برابر چیز بھی پوشیدہ نہیں ہے، نہ زمین میں نہ آسمان میں، نہ اس سے چھوٹی، نہ بڑی، مگر وہ ایک واضح کتاب میں درج ہے۔ (27)

27: قیامت میں انسانوں کے دوبارہ زندہ ہونے کو مشرکین عرب اس وجہ سے ناممکن سمجھتے تھے کہ اربوں انسان جب مر کر مٹی کے ذرات میں تبدیل ہوچکے ہوں گے، اس کے بعد ان سب کو اکٹھا کر کے دوبارہ زندگی کیسے دی جاسکتی ہے ؟ یہ کیسے معلوم ہوگا کہ مٹی کا کونسا ذرہ اصل کس انسان کے جسم کا حصہ تھا۔ اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی قدرت اور علم کو اپنے اوپر قیاس مت کرو۔ اللہ تعالیٰ کا علم اتنا وسیع ہے کہ اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔
Ayahs 10:62–67

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ Open ayah 10:62 in the Quran reader

یا درکھو کہ جو اللہ کے دوست ہیں ان کو نہ کوئی خوف ہوگا نہ وہ غمگین ہوں۔ (28)

الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ Open ayah 10:63 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے، اور تقوی اختیار کیے رہے۔

لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُؕ Open ayah 10:64 in the Quran reader

ان کے لیے خوشخبری ہے دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی، اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، یہی زبردست کامیابی ہے۔

وَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ؕ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 10:65 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں وہ تمہیں رنجیدہ نہ کریں، یقین رکھو کہ اقتدار تمام تر اللہ کا ہے، اور وہ ہر بات سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 10:66 in the Quran reader

یاد رکھو کہ آسمانوں اور زمین میں جتنے جان دار ہیں وہ سب اللہ ہی کی ملکیت میں ہیں اور جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں وہ کوئی اللہ کے (حقیقی) شرکاء کی پیروی نہیں کرتے، وہ کسی اور چیز کی نہیں، محض گمان کی پیروی کرتے ہیں اور ان کا کام اس کے سوا کچھ نہیں کہ اندازوں کے تیر چلاتے رہیں۔

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 10:67 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی، تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو، اور دن کو ایسا بنایا جو تمہیں دیکھنے کی صلاحیت دے، اس میں یقینا ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو غور سے سنتے ہوں۔

28: اللہ کے دوست کی تشریح اگلی آیت میں کردی گئی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان اور تقوی کی صفات رکھتے ہوں۔ ان کے بارے میں یہ فرمایا گیا ہے کہ انہیں نہ آئندہ کا کوئی خوف ہوگا، اور نہ ماضی کی کسی بات کا کوئی غم ہوگا۔ کہنے کو یہ مختصر سی بات ہے، لیکن دیکھا جائے تو یہ اتنی بڑی نعمت ہے کہ دنیا میں اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ دنیا میں ہر انسان کو، خواہ وہ کتنا خوشحال ہو، ہر وقت مستقل کا کوئی نہ کوئی خوف اور ماضی کا کوئی نہ کوئی رنج پریشان کرتا ہی رہتا ہے۔ یہ نعمت صرف جنت ہی میں حاصل ہوگی کہ انسان ہر طرح کے خوف اور صدمے سے بالکل آزاد ہوجائے گا۔
Ayahs 10:68–71

قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ الْغَنِیُّ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَا١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:68 in the Quran reader

(کچھ) لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ اولاد رکھتا ہے، پاک ہے اس کی ذات، وہ ہر چیز سے بےنیاز ہے۔ (29) آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے۔ تمہارے پاس اس بات کی ذرا بھی کوئی دلیل نہیں ہے، کیا تم اللہ کے ذمے وہ بات لگاتے ہو جس کا تمہیں کوئی علم نہیں ؟

قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 10:69 in the Quran reader

کہہ دو کہ : جو لوگ اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے۔

مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 10:70 in the Quran reader

(ان کے لیے) بس دنیا میں تھوڑا سا مزہ ہے، پھر ہمارے پاس ہی انہیں لوٹ کر آنا ہے، پھر کفر کا جو رویہ انہوں نے اپنا رکھا تھا، اس کے بدلے ہم انہیں شدید عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ١ۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكُمْ مَّقَامِیْ وَ تَذْكِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا یَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَیْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 10:71 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) ان کے سامنے نوح کا واقعہ پڑھ کر سناؤ، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ : میری قوم کے لوگو ! اگر تمہارے درمیان میرا رہنا، اور اللہ کی آیات کے ذریعے خبردار کرنا تمہیں بھاری معلوم ہورہا ہے تو میں نے تو اللہ ہی پر بھروسہ کر رکھا ہے، اب تم اپنے شریکوں کو ساتھ ملا کر (میرے خلاف) اپنی تدبیروں کو خوب پختہ کرلو، پھر جو تدبیر تم کرو وہ تمہارے دل میں کسی گھٹن کا باعث نہ بنے، بلکہ میرے خلاف جو فیصلہ تم نے کیا ہو، اسے (دل کھول کر) کر گزرو، اور مجھے ذرا مہلت نہ دو۔

29: یعنی اولاد کی ضرورت اس لیے ہوتی ہے کہ یا تو وہ زندگی کے کاموں میں باپ کی مدد کرے، یا کم از کم اسے نفسیاتی طور پر صاحب اولاد ہونے کی خواہش ہو، اللہ تعالیٰ ان دونوں باتوں سے بےنیاز ہے، اس لیے اسے کسی اولاد کی ضرورت نہیں ہے۔
Ayah 10:72

فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۙ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:72 in the Quran reader

پھر بھی اگر تم نے منہ موڑے رکھا تو میں نے تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجرت تو نہیں مانگی (30) میرا اجر کسی اور نے نہیں، اللہ نے ذمے لیا ہے، اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبردار لوگوں میں شامل رہوں۔

30: مطلب یہ ہے کہ اگر مجھے اپنی تبلیغ پر کوئی اجرت وصول کرنی ہوتی تو تمہارے جھٹلانے سے میرا نقصان ہوسکتا تھا کہ میری اجرت ماری جاتی، لیکن مجھے تو کوئی اجرت وصول کرنی ہی نہیں ہے۔ اس لیے تمہارے جھٹلانے سے میرا کوئی ذاتی نقصان نہیں ہے۔