11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 11:1

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ خَبِیْرٍۙ Open ayah 11:1 in the Quran reader

الٓرا۔ یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم ہیں اور خدائے حکیم وخبیر کی طرف سے بہ تفصیل بیان کردی گئی ہے

ا آرٰوقف کِتْبٌ احکمت ایتہ ثم فصلت من لدن حکیم خیبر۔ ا ل ر ۔ یہ (قران) ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں دلائل سے محکم کی گئی ہیں ‘ پھر (اس کے ساتھ ساتھ) صاف صاف بیان بھی کی گئی ہیں ‘ یہ ایک حکیم باخبر کی طرف سے ہے۔ اُحْکِمَتْ یعنی اس کی آیات موتیوں کی طرح پروئی ہوئی ہیں ‘ ان کی ساخت پرداخت مضبوط ہے۔ نہ اس کے الفاظ میں کوئی نقص ہے نہ معنی میں کوئی عیب۔ یا یہ مطلب ہے کہ اس کی آیات غیر منسوخ ہیں۔ یہ مطلب اس وقت صحیح ہوگا جب آیات کتاب سے صرف اس سورت کی آیات مراد ہوں کیونکہ اس سورت کی کوئی آیت منسوخ نہیں (باقی قرآن میں بعض آیات منسوخ ہیں) یا مضبوط کرنے سے مراد ہے دلائل اور براہین سے پختہ کی ہوئی۔ یا ” اُحْکِمَتْ “ کا مطلب ہے پر حکمت بنائی ہوئی ‘ یعنی علمی اور عملی حکمتیں اس کے اندر بھری ہوئی ہیں۔ حکم ضمہ کے ساتھ حکیم ہوگیا۔ فُضَلِتْ یعنی جس طرح ہار کے درمیان جگہ جگہ دریکدانہ پروئے جاتے ہیں ‘ اسی طرح اس کی آیات الگ کردی گئی ہیں۔ کہیں اعتقادیات ‘ کہیں عملی احکام ‘ کہیں مواعظ ‘ کہیں واقعات کی اطلاع۔ یا فصل کردینے سے مراد ہے الگ الگ سورتیں مقرر کردینا ‘ یا تھوڑا تھوڑا (حسب ضرورت دنیا میں) بھیجنا مراد ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ جن امور کی (اصلاح بشری کیلئے) ضرورت تھی ‘ ان کو بطور خلاصہ بیان کردیا گیا ہے۔ مِنْ لَّدُنْ اس کا تعلق وصفی یا کتاب سے ہے ‘ یا دوسری خبر ہے ‘ یا اُحْکِمَتْ سے تعلق ہے یا فُضَلِتْ سے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ ظاہر اور باطن سے واقف اور باخبر ہے ‘ اسی کی طرف سے ان آیات کا یا کتاب کا نزول ہے اور اسی نے اس کی آیات کو محکم بنایا ہے۔
Ayah 11:2

اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنَّنِیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌۙ Open ayah 11:2 in the Quran reader

(وہ یہ) کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور میں اس کی طرف سے تم کو ڈر سنانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں

الا تعبدوآ الا اللہ انني لکم منہ نذیر وبشیر۔ کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو۔ میں اس کی طرف سے (ایمان نہ لانے والوں کو عذاب سے) ڈرانے والا اور (ایمان دار نیکوکاروں کو نجات وثواب کی) خوشخبری دینے والا ہوں۔ یعنی شرک کے عذاب سے ڈرانے والا اور توحید کے ثواب کی بشارت دینے والا ہوں۔
Ayah 11:3

وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ یُؤْتِ كُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ١ؕ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ كَبِیْرٍ Open ayah 11:3 in the Quran reader

اور یہ کہ اپنے پروردگار سے بخشش مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو وہ تو تم کو ایک وقت مقررہ تک متاع نیک سے بہرہ مند کرے گا اور ہر صاحب بزرگ کو اس کی بزرگی (کی داد) دے گا۔ اور اگر روگردانی کرو گے تو مجھے تمہارے بارے میں (قیامت کے) بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے

وان استغفروا ربکم ثم تو بوآ الیہ اور یہ بھی کہ تم (کفر و معصیت کی) اپنے رب سے معافی مانگو اور اس کی طرف (ایمان و اطاعت کے ساتھ) لوٹو۔ یعنی پچھلے گناہوں کی اپنے رب سے معافی چاہو اور آئندہ طاقت کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرو۔ فراء نے کہا : ثُمَّ اس جگہ (ترتیب اور تراخی کیلئے نہیں ہے بلکہ) واؤ کے معنی میں ہے (یعنی مطلق عطف کیلئے ہے) اور استغفار کے معنی ہیں توبہ کرنا (مطعوف اور مطعوف علیہ میں اس جگہ مغایرت نہیں ہے) یعنی ایک کا معنی دوسرے کے معنی کو لازم ہے (مطلب یہ کہ دونوں میں اتحاد التزامی ہے اگرچہ ذاتی افتراق ہے) ۔ یمتعکم متاعًا حسنًا الی اجل مسمے ً وہ تم کو اچھی (خوشگوار ‘ پرامن ‘ فراخ حال) زندگی عطا فرمائے گا ‘ مرتے دم تک۔ گناہوں سے مصائب اور بلائیں آتی ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے : مَآ اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْ عَنْ کَثِیْرٍ جو مصیبت تم پر آتی ہے ‘ اپنے کرتوت کی وجہ سے آتی ہے اور اللہ بہت سے جرائم سے تو درگذر فرما دیتا ہے (پھر بھی بعض گناہوں کی پاداش میں تم پر مصائب آ ہی جاتے ہیں) ۔ بعض علماء کا قول ہے متاع حسن سے مراد ہے قسمت خداوندی پر راضی رہنا اور تقدیر الٰہی پر صبر کرنا۔ چونکہ ہر شخص کی مدت زندگی مقرر ہے اور وقت موت معین ہے ‘ اس لئے اجل مسمی سے مراد ہے وقت موت۔ ویؤت کل ذي فضل فضلہ اور وہ ہر فضیلت والے کو اس کی فضیلت کے مطابق جزاء عطا فرمائے گا۔ یعنی دینی فضیلت کے مطابق جزاء عطا فرمائے گا۔ دنیا میں توفیق ‘ اطمینان قلب ‘ چین اور اللہ کی یاد کی لذت اور سعادت ‘ آخرت کی خوشخبری اور آخرت میں ثواب کی کثرت اور مراتب قرب کی بلندی عطا فرمائے گا۔ وان تولوا فانی اخاف علیکم عذاب یوم کبیر۔ اور اگر (ا اللہ کی عبادت اور توحید سے) روگراں ہو گے تو مجھے تمہارے متعلق ایک بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے۔ بڑے دن سے مراد ہے قیامت کا دن جس کی مقدار پچاس ہزاربرس ہوگی ‘ بلکہ وہ (عذاب کا دن) غیر محدود ہوگا (یعنی کافروں کیلئے عذاب غیر مختتم ہوگا اور مؤمنوں کیلئے ثواب لامتناہی) ۔
Ayah 11:4

اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 11:4 in the Quran reader

تم (سب) کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

الی اللہ مرجعکم تمہارے تمام امور کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہے (دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی) ۔ وھو علی کل شیئ قدیر۔ اور وہ ہی ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ یعنی دنیا اور آخرت میں ہر جگہ سزا جزا دینا اس کے اختیار میں ہے۔ یہ آیت سابق آیت کی تاکید اور تقریر ہے۔
Ayah 11:5

اَلَاۤ اِنَّهُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْهُ١ؕ اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَهُمْ١ۙ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ۚ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 11:5 in the Quran reader

دیکھو یہ اپنے سینوں کو دوھرا کرتے ہیں تاکہ خدا سے پردہ کریں۔ سن رکھو جس وقت یہ کپڑوں میں لپٹ کر پڑتے ہیں (تب بھی) وہ ان کی چھپی اور کھلی باتوں کو جانتا ہے۔ وہ تو دلوں تک کی باتوں سے آگاہ ہے

الا انھم یثنون صدورھم لیستخفوا منہ یاد رکھو ! وہ لوگ دوہرا کردیتے ہیں اپنے سینوں کو (اور اوپر سے کپڑا لپیٹ لیتے ہیں) تاکہ اپنی باتیں اللہ سے چھپا سکیں۔ بخاری نے حضرت ابن عباس کی روایت سے لکھا ہے کہ کچھ لوگ یعنی کچھ مسلمان خلوت میں بھی برہنہ ہونے اور کھلی جگہ میں عورتوں سے صنفی قربت کرنے سے شرماتے تھے ‘ ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے بھی بواسطہ محمد بن عباد بن جعفر ‘ حضرت ابن عباس کا یہ قول نقل کیا ہے۔ ابن ابی شیبہ ‘ ابن جریر اور ابن المنذر نے باسناد ابن ابی ملیکہ لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے آیت : اِلاآ اِنَّھُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَھُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْہُ ط پڑھ کر فرمایا کہ لوگ کپڑوں میں لپٹے لپٹائے رفع ضرورت اور عورتوں سے قربت کرتے تھے ‘ کھلی فضاء میں برہنہ ہونا ان کو پسند نہ تھا۔ بغوی نے عبد اللہ بن شداد کی روایت سے لکھا ہے کہ اس آیت کا نزول بعض منافقوں کے حق میں ہوا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے جب ان کا گذر ہوتا تھا تو سینہ اور پشت کو حضور ﷺ کی طرف سے موڑ کر ‘ سر جھکا کر ‘ منہ چھپا کر نکل جاتے تھے تاکہ رسول اللہ ﷺ کی نظر ان پر نہ پڑجائے۔ ابن جریر وغیرہ نے بھی عبد اللہ بن شداد بن ہاد کی روایت سے ایسا ہی نقل کیا ہے ‘ مگر یہ روایت قابل پذیرائی نہیں کیونکہ آیت تو مکی ہے اور منافق مدینہ میں (ہجرت کے بعد) پیدا ہوئے (مکہ میں کوئی منافق نہیں تھا) بہرحال اس روایت کے بموجب مِنْہُ کی ضمیر رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہوگی (ا اللہ کی طرف راجع نہیں ہوگی) ۔ بغوی نے حضرت ابن عباس کے حوالہ سے لکھا ہے کہ یہ آیت اخنس بن شریق کے متعلق نازل ہوئی۔ یہ شخص بڑا شیریں کلام اور خوش رو تھا۔ رسول اللہ ﷺ کے سامنے آتا تھا تو وہی بات کہتا تھا جو حضور ﷺ کو پسند تھی ‘ مگر دل میں اس کے خلاف پوشیدہ رکھتا تھا۔ اس وقت یَثْنُوْنَ صُدُوْرَھُمْ سے مراد یہ ہوگی کہ وہ سینوں کے غلاف کے اندر کفر ‘ کینہ اور رسول اللہ ﷺ کی دشمنی چھپائے رکھتے تھے۔ قتادہ نے کہا : وہ سینوں کو ٹیڑھا کرتے اور جھکا لیتے تھے تاکہ اللہ کی کتاب اور اللہ کا ذکر نہ سن پائیں۔ سدی نے کہا : یَثْنُوْنَکا لفظ تَنَّیْتُ عنانی کے محاورے سے بنایا گیا ہے (میں نے لگام موڑ لی) یعنی وہ اپنے دلوں سے اعراض کرتے ہیں (دلوں کا رخ موڑ لیتے ہیں) بعض روایات میں (ضعیف قول یہ بھی) آیا ہے کہ بعض لوگ اپنی کوٹھڑی میں گھس کر ‘ دروازہ کا پردہ چھوڑ کر ‘ سینہ کو جھکا کر اور چادر اپنے بدن پر لپیٹ کر کہتے تھے کہ کیا اللہ اب بھی میرے دل کی بات جان سکتا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ الاحین یستغشون ثیابھم یعلم ما یترون وما یعلنون خوب سن لو ! وہ لوگ جب اپنے کپڑے اوڑھ لیتے ہیں ‘ یعنی سروں کو کپڑوں سے چھپالیتے ہیں ‘ تب بھی اللہ ان امور سے واقف ہوتا ہے جن کو وہ (دنوں کے اندر یا کسی اور طریقہ سے) چھپاتے ہیں اور ان باتوں کو بھی جانتا ہے جن کو وہ ( زبانوں سے) ظاہر کرتے ہیں۔ انہ علیم بذاب الصدور۔ یقیناً اللہ سینوں یا دلوں کے اندرونی رازوں کو خوب جانتا ہے اور جب اللہ سے کوئی بات پوشیدہ نہیں تو اپنے رسول ﷺ اور مؤمنوں کو جن باتوں سے واقف کرنا چاہتا ہے ‘ کردیتا ہے اور آئندہ جس بات سے آگاہ کرنا ہوگا ‘ کر دے گا۔
Ayah 11:6

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا١ؕ كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 11:6 in the Quran reader

اور زمین پر کوئی چلنے پھرنے والا نہیں مگر اس کا رزق خدا کے ذمے ہے وہ جہاں رہتا ہے، اسے بھی جانتا ہے اور جہاں سونپا جاتا ہے اسے بھی۔ یہ سب کچھ کتاب روشن میں (لکھا ہوا) ہے

وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ وما من دآبۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا اور نہیں ہے زمین پر کوئی رینگنے والا جانور مگر اللہ ہی کے ذمہ ہے اس کی روزی ‘ کیونکہ اللہ نے اپنی رحمت اور مہربانی سے ہر جاندار کی پرورش کرنا اپنے ذمہ لے رکھا ہے۔ (1) [ دابۃ : رینگنے والا جانور۔ دبیبرینگنا۔ عموماً عرف عام میں دابتہ چوپایہ کو کہتے ہیں لیکن اس جگہ لغوی معنی مراد ہے ‘ یعنی ہر جاندار جو زمین پر چل سکتا ہے خواہ کوئی کیڑا ہو ‘ یا چوپایہ ‘ یا پرندہ ‘ یا آدمی۔ اہلسنّت کا مسلّمہ عقیدہ ہے کہ اللہ پر کوئی عمل واجب نہیں ‘ لیکن اللہ اگر اپنی رحمت سے خود کسی بات کا وعدہ فرما لے تو تکمیل وعدہ واجب ہے ‘ جیسے نیکوں کا جنت میں داخلہ۔ مفسر (رح) نے رحمت و مہربانی کا لفظ بڑھا کر اسی طرف اشارہ کیا ہے۔] عَلَی اللّٰہِ (بذمۂ خدا) کا لفظ اشارہ کر رہا ہے اس امر کی طرف کہ رزق ضرور پہنچے گا ‘ اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ عَلَی اللّٰہِ میں عَلَی بمعنی مِنْہے یعنی وہ مقررہ رزق جو علم میں ہے ‘ اللہ کی طرف سے بندہ کو ملے گا ‘ اللہ اس کا ذمہ دار ہے ‘ کسی دوسرے کی طرف سے نہیں مل سکتا۔ مجاہد نے کہا : رزق سے مراد وہ رزق ہے جو اللہ کی طرف سے مقرر ہے۔ بعض اوقات اللہ رزق نہیں دیتا اور آدمی بھوکا مرجاتا ہے۔ ویعلم مستقرھا ومستودعھا اور وہ ہر ایک کی (مستقل) قیام گاہ اور (عارضی) قرارگاہ کو جانتا ہے۔ بغوی نے ابن مقسم کا قول نقل کیا ہے اور یہی قول ایک روایت میں حضرت ابن عباس کا بھی آیا ہے کہ مستقر سے مراد ہے وہ جگہ جہاں رات دن جاندار رہتا اور ادھر ادھر گھوم پھر کر پھر اسی جگہ آکر قرار پکڑتا ہے اور مستودع سے مراد ہے دفن ہونے کی جگہ۔ حضرت ابن مسعود کے نزدیک مستقر سے مراد ماں کا پیٹ اور مستودع سے مراد باپ کی پشت ہے۔ حضرت سعید بن جبیر ‘ علی بن طلحہ اور عکرمہ کی روایت میں حضرت ابن عباس کا بھی یہی قول آیا ہے کہ بعض علماء کے نزدیک مستقر سے مراد جنت یا دوزخ اور مستودع سے مراد قبر ہے کیونکہ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا جنت کیلئے اور ساءَتُ مُسْتَقَرًّا دوزخ کیلئے فرمایا ہے۔ کل فی کتب مبین۔ ہر ایک یعنی ہر جاندار اور ہر جاندار کا ہر حال اور رزق لکھا ہوا ہے کھلی کتاب ‘ یعنی لوح محفوظ یا اعمال لکھنے والے فرشتوں کے کتابچوں میں۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے اللہ نے مخلوقات کی قسمتیں لکھ دی تھیں۔ حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ (اس وقت) اللہ کا تخت پانی پر تھا (رواہ مسلم) ۔ حضرت ابن مسعود کا بیان ہے کہ اللہ کے سچے رسول ﷺ نے ہم سے فرمایا کہ تم میں سے (ہر) ایک کا مادۂ تخلیق ماں کے پیٹ میں چالیس روز بصورت نطفہ جمع رہتا ہے ‘ پھر اتنی ہی مدت میں بصورت علقہ (بستہ خون یا جونک) ہوتا ہے ‘ پھر اتنی ہی مدت میں بوٹی (بےجان لوتھڑا) پھر اللہ ایک فرشتہ کو چار باتیں لکھنے کیلئے مامور فرماتا ہے۔ وہ فرشتہ اس کا عمل ‘ اس کی مدت زندگی (یا وقت موت) اور اس کا رزق اور اس کا سعید یا شقی (نیک بخت مؤمن یا بدنصیب کافر) ہونا لکھ دیتا ہے (صحیح بخاری و صحیح مسلم) ۔ حضرت ابو درداء کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ ہر بندے کی پانچ باتیں لکھنے سے فارغ ہوچکا ہے : مدت زندگی ‘ اعمال ‘ مقام موت ‘ آثار ‘ رزق (رواہ احمد) ۔ گویا اس آیت میں اللہ کا عالم کل ہونا اور آئندہ آیت میں اللہ کا قادر مطلق ہونا توحید کو ثابت کرنے اور مندرجہ بالا وعدہ و وعید کو پختہ کرنے کیلئے بیان کیا گیا ہے (اس آیت سے اللہ کے علم کا ہمہ گیر ہونا اور اگلی آیت وَھُوَ الَّذِیْالخ سے اللہ کی قدرت کا محیط کل ہونا ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ گذشتہ آیت میں جس توحید اور وعدۂ وعید کا ذکر کیا گیا تھا ‘ اس کا اثبات اور تقریر ہوجائے) ۔
Ayah 11:7

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ لَئِنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 11:7 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا اور (اس وقت) اس کا عرش پانی پر تھا۔ (تمہارے پیدا کرنے سے) مقصود یہ ہے کہ وہ تم کو آزمائے کہ تم میں عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے اور اگر تم کہو کہ تم لوگ مرنے کے بعد (زندہ کرکے) اٹھائے جاؤ گے تو کافر کہہ دیں گے کہ یہ تو کھلا جادو ہے

وھو الذی خلق السموت والارض ستۃ ایام اور وہ اللہ وہی تو ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو مع ان کی تمام موجودات کے چھ روز میں اندازہ کے مطابق پیدا کیا۔ آسمانوں سے مراد ہیں بالائی چیزیں اور زمین سے مراد ہیں نشیبی چیزیں ‘ یعنی کائنات بالا و پست۔ آسمانوں کو بصیغۂ جمع اور زمین کو بصیغۂ واحد ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ کائنات علویہ میں سے ہر ایک کی ذات دوسرے کی ذات سے جدا ہے اور ہر ایک دوسرے سے اصل کے اعتبار سے مختلف ہے اور کائنات سفلیہ کی اصل و ذات ایک ہے۔ (1) [ حضرت مفسر کی یہ تشریح فلسفہ مشائیہ کے طبعزاد مسلمہ پر مبنی ہے کہ ہر آسمان کا مادہ دوسرے آسمان کے مادہ سے جدا ہے۔ رہی صورت جسمیہ اور نوعیہ ‘ وہ تو بہرحال الگ الگ ہی ہے اور تمام عناصر کا مادہ ایک ہے اور صورت جسمیہ بھی طبیعت نوعیہ ہے جس کا تحقق تمام عناصر میں برابر ہے ‘ البتہ ہر عنصر کی صورت نوعیہ جدا جدا ہے۔ مگر یہ فلاسفہ کی خرافات ہے ‘ اسلامی تصریحات میں کسی جگہ اس کی تائید نہیں ملتی۔ وا اللہ اعلم (مترجم)] وکان عرشہ علی الماء اور (آسمان و زمین کی پیدائش سے پہلے) اس کا تخت پانی پر تھا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ پانی ‘ ہوا کی پشت پر تھا۔ کعب احبار کا قول ہے کہ اللہ نے ایک یاقوت سبز پیدا کیا اور اس پر نظر جلال ڈالی تو وہ آب لرزاں بن گیا ‘ پھر اللہ نے ہوا کو پیدا کیا اور اس کی پشت پر پانی کو قائم کیا ‘ پھر عرش کو پانی پر قائم کیا۔ ضمرہ نے کہا : اللہ کا تخت پانی پر تھا ‘ پھر اللہ نے آسمان کو اور زمین کو پیدا کیا اور قلم کو پیدا کیا ‘ پھر اس سے وہ تمام چیزیں لکھ دیں جو ہونے والی تھیں اور جن کو وہ آئندہ پیدا کرنے والا تھا اور ہر مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے ہزار برس تک قلم نے اللہ کی تسبیح وتحمید کی تھی۔ حضرت عمران بن حصین کی روایت سے بخاری نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی اور اس کا تخت پانی پر تھا ‘ پھر اس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور یادداشت (غالباً لوح محفوظ) میں ہر چیز لکھ دی (الحدیث) ۔ عرش کے متعلق جو اخبار و احادیث آئی ہیں ‘ ان کا کچھ حصہ سورة البقرہ کی آیت الکرسی کی تفسیر کے ذیل میں ہم لکھ چکے ہیں۔ لیبلوکم ایکم احسن عملاً تاکہ تم کو آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل کرنے والا کون ہے۔ یعنی باوجود عالم کل ہونے کے پھر بھی جانچ کرنے والے ممتحن کی طرح تمہارے ساتھ معاملہ کرے تاکہ تمہارا استحقاق ثواب و عذاب ظاہر ہوجائے کیونکہ آسمان و زمین اور ان کے موجودات تمہاری ہستی اور معاش کے اسباب و ذرائع اور اصول ہیں ‘ ان سے تمہارے تمام احوال و اعمال وابستہ ہیں ‘ ان کا تقاضا ہے کہ تم اپنے رب کا شکر ادا کرو۔ پھر یہ ساری کائنات وجود صانع کی دلیل اور (توحید صانع کی) خصوصی نشانی ہے ‘ اس سے تم معرفت الٰہیہ حاصل کرسکتے ہو۔ لِیَبْلُوْکُمْکا تعلق خلق سے ہے ‘ گویا اس لفظ سے اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ سارے جہان اور موجودات جہان کی تخلیق بجائے خود مقصود نہیں بلکہ تخلیق انسان اور انسانوں میں سے بھی اہل ایمان کی تخلیق کی تمہید ہے اور مؤمنوں میں سے بھی ان لوگوں کی پیدائش کا تمہیدی مقدمہ ہے جن کے اعمال اچھے ہوں ‘ یعنی رسول اللہ ﷺ اور آپ سے مشابہت رکھنے والے صالحین۔ اَحْسَنُ عَمَلاً میں عمل کا لفظ عقیدہ اور افعال اعضائے جسمانی دونوں کو شامل ہے۔ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم ‘ حاکم اور ابن مردویہ نے کمزور سند کے ساتھ بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یا اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ اَحْسَنُ عَمَلاً (سے مراد ہے) سب سے اچھی سمجھ والا ‘ ممنوعات الٰہیہ سے سب سے زیادہ پرہیز رکھنے والا اور اوامر کی تعمیل میں تیزی کرنے والا۔ بلاشبہ سب سے اچھے اعمال دلوں کے اعمال (عقائد و میلانات) ہیں اور قلبی اعمال میں سے بھی سب سے اچھا عمل اللہ کی محبت اور اس کی یاد میں ڈوب جانا ہے۔ خلاصہ یہ کہ آسمان و زمین کو پیدا کرنے کا مقصد ہی فقط اہل اللہ کا وجود ہے۔ لفظ احسن تعلیم دے رہا ہے اس بات کی کہ علم و عمل کے درجات پر زیادہ سے زیادہ چڑھنا چاہئے۔ ولئن قلت انکم مبعوثون من بعد الموت لیقولن الذین کفروا ان ھذا الا سحر مبین۔ اور اگر آپ ان (مشرکوں) سے کہیں کہ مرنے کے بعد تم کو یقیناً اٹھنا ہوگا تو منکر کہتے ہیں کہ یہ تو کھلے ہوئے جادو کے سوا اور کچھ نہیں۔ ھٰذَا یعنی مرنے کے بعد جی اٹھنا ‘ یا قیامت کا قول ‘ یا یہ قرآن جس کے اندر قیامت کے آنے کا ذکر ہے ‘ کھلا ہوا جادو ہے۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ جب آیت اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُھُمْ نازل ہوئی تو کچھ لوگوں نے کہا : قیامت تو قریب آچکی (اس ڈر کی وجہ سے) کچھ لوگوں نے برے کام چھوڑ دئیے مگر کچھ ہی مدت کے بعد پھر بدکرداری میں مبتلا ہوگئے۔ اس پر آیت اِتٰی اَمْرُ اللّٰہِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْہُ نازل ہوئی۔ یہ سن کر کچھ لوگ کہنے لگے : لو ‘ حکم خدا آ ہی پہنچا۔ یہ خیال کر کے ڈر کر گناہ چھوڑ دئیے مگر کچھ مدت کے بعد پھر اسی بداعمالی کی طرف لوٹ گئے تو مندرجۂ ذیل آیت نازل ہوئی۔ ابن جریر نے بحوالۂ ابن جریج بھی ایسا ہی بیان کیا ہے۔
Ayah 11:8

وَ لَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُهٗ١ؕ اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْهِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 11:8 in the Quran reader

اور اگر ایک مدت معین تک ہم ان سے عذاب روک دیں تو کہیں گے کہ کون سی چیز عذاب روکے ہوئے ہے۔ دیکھو جس روز وہ ان پر واقع ہوگا (پھر) ٹلنے کا نہیں اور جس چیز کے ساتھ یہ استہزاء کیا کرتے ہیں وہ ان کو گھیر لے گی

ولئن اخرنا عنھم العذاب الی امۃ معدودۃ لیقولن ما یحسبہ اور اگر کچھ مدت ہم ان سے عذاب کو ملتوی رکھتے ہیں تو کہنے لگتے ہیں کہ عذاب کو کون چیز روک رہی ہے۔ صاحب قاموس نے لفظ اُمَّۃٍ کے معنی میں سے ایک معنی وقت بھی لکھا ہے۔ بغوی نے اس کا ترجمہ اجل کیا ہے (یعنی میعاد) اصل میں امت جماعت کو کہتے ہیں ‘ یعنی ایک جماعت کے ختم ہونے اور دوسری جماعت کے پیدا ہونے تک۔ بیضاوی نے امت کا ترجمہ اوقات کا مجموعہ کیا ہے اور معدودۃ کا ترجمہ قلیل۔ الا یوم یاتیھم لیس مصروفًا عنھم وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزء ون۔ یاد رکھو ! جس روز (مقررہ وقت پر) عذاب ان پر آپڑے گا تو ھر کسی کے ٹالے نہ ٹلے گا اور جس (عذاب) کا مذاق بناتے تھے ‘ وہ ان کو آ گھیرے گا۔ یعنی وہ عذاب جو اللہ کے علم میں مقرر ہے ‘ جیسے جنگ بدر کا عذاب ان پر جس دن آجائے تو پھر اس کو نہیں لوٹایا جائے گا اور جس عذاب کا یہ مذاق بنایا کرتے تھے اور بطور استہزاء کہتے تھے کہ آتا کیوں نہیں ‘ آنے سے کون مانع ہے ‘ فوراً آجائے ‘ وہ عذاب ان کو ہر طرف سے گھیر لے گا (پھر بچاؤ کا ہر راستہ بندہو جائے گا) چونکہ آئندہ عذاب کا آنا یقینی تھا ‘ اسلئے ماضی کا صیغہ استعمال کیا گیا ‘ گویا وہ آچکا۔ اس میں تحقق وقوع کیلئے قوت کے ساتھ تہدید بھی ہے۔
Ayah 11:9

وَ لَئِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ١ۚ اِنَّهٗ لَیَئُوْسٌ كَفُوْرٌ Open ayah 11:9 in the Quran reader

اور اگر ہم انسان کو اپنے پاس سے نعمت بخشیں پھر اس سے اس کو چھین لیں تو ناامید (اور) ناشکرا (ہوجاتا) ہے

ولئن اذقنا الانسان منا رحمۃً ثم نزعنھا منہ انہ لیؤس کفور۔ اور اگر ہم انسان کو (بلا استحقاق) اپنی طرف سے رحمت یعنی کسی نعمت (امن ‘ صحت ‘ دولت وغیرہ) کا مزہ چکھا دیتے ہیں ‘ پھر کچھ مدت کے بعد اس سے اپنی نعمت چھین لیتے ہیں تو وہ بالکل نراس اور ناشکرا ہوجاتا ہے۔ الانسان (میں الف لام جنسی ہے) یعنی عام انسان۔ لَیَؤُسٌ : بالکل نراس ‘ ناامید۔ نعمت کے زوال کے بعد چونکہ اس کو صبر نہیں رہتا اور اللہ پر اس کا اعتماد نہیں ہوتا اور حکم خداوندی پر وہ رضامند نہیں ہوتا ‘ اسلئے قطعاً حصول نعمت سے ناامید ہوجاتا ہے اور اللہ کی سابق اور موجودہ نعمتوں کو بھی بھول جاتا ہے ‘ پچھلی نعمتوں کی بھی ناشکری کرنے لگتا ہے اور جو نعمتیں بالفعل اس کو حاصل ہوتی ہیں ہستی بقاء ‘ ہستی زندگی اور اس کے باقی رکھنے کے اسباب ‘ سب کو بھول جاتا ہے ‘ بالکل ناسپاس ہوجاتا ہے۔
Ayah 11:10

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌۙ Open ayah 11:10 in the Quran reader

اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد آسائش کا مزہ چکھائیں تو (خوش ہو کر) کہتا ہے کہ (آہا) سب سختیاں مجھ سے دور ہوگئیں۔ بےشک وہ خوشیاں منانے والا (اور) فخر کرنے والا ہے

ولئن اذقنٰہ نعمآء بعد ضرآء مستہ لیقولن ذھب السیات عنی ان لفرح فخور۔ اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد ہم اس کو راحت کا مزہ چکھا دیتے ہیں (دُکھ کے بعد کچھ سکھ دیتے ہیں) تو انسان کہتا ہے : اب تو تمام مصائب مجھ سے چلی گئیں (ا اللہ کی طرف مصائب دور کرنے کی نسبت نہیں کرتا بلکہ تقاضائے نیچر کے زیر اثر مصائب کا خاتمہ سمجھتا ہے) یہ حقیقت ہے کہ وہ بڑا اترانے والا ‘ شیخیاں مارنے والا (ہو جاتا) ہے۔ حصول مقصد سے دل میں جو لذت پیدا ہوتی ہے اس کو فرح (یا فرحت) کہتے ہیں۔ فَرِحٌسے مراد ہے نعمت پر مغرور ‘ اترانے والا۔ فَخوربڑا شیخی باز جو اپنے آپ کو نعمت کا حقدار قرار دیتے ہوئے لوگوں پر اپنی فوقیت جتاتا ہے اور یہی اکڑ اور غرور اس کو ادائے شکر سے روکتے ہیں۔
Ayah 11:11

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 11:11 in the Quran reader

ہاں جنہوں نے صبر کیا اور عمل نیک کئے۔ یہی ہیں جن کے لیے بخشش اور اجرعظیم ہے

الا الذین صبروا وعملوا الصلحت مگر وہ لوگ مستثنیٰ ہیں جنہوں نے (مصائب پر) صبر کیا اور نیک کام کئے۔ یعنی اہل ایمان اس ضابطہ سے مستثنیٰ ہیں۔ وہ نراس اور ناشکرے نہیں ہوتے بلکہ اللہ کے فضل کے امیدوار رہتے ہیں اور اس کی سابقہ و موجودہ نعمتوں کے شکرگذار ہوتے ہیں۔ نہ اتراتے اور اکڑتے ہیں ‘ نہ نعمت پا کر دوسروں پر اپنی بڑائی جتاتے ہیں۔ یہ خصوصیت اہل ایمان کی ہی ہے کہ دکھ میں صبر کرتے اور سکھ میں شکر ادا کرتے ہیں۔ حضرت صہیب راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مؤمن کا بھی عجیب معاملہ ہے ‘ اس کی ہر بات اچھی ہے اور یہ خصوصیت صرف مؤمن ہی کی ہے۔ اگر اس کو سکھ ملتا ہے تو شکر کرتا ہے اور یہ اس کیلئے خیر ہوجاتا ہے اور دکھ پہنچتا ہے تو صبر کرتا ہے اور یہ اس کیلئے خیر ہوجاتا ہے (رواہ مسلم) ۔ فراء کے نزدیک استثناء منقطع ہے اور الاَّ کا معنی ہے لیکن ‘ اس صورت میں الانسان (میں الف لام عہدی ہوگا اور اس) سے مراد ہوگا کافر انسان۔ اولئک لھم مغفرۃ واجر کبیر۔ یہی لوگ ہیں جن کیلئے (ا اللہ کی طرف سے گناہوں کی) مغفرت اور بڑا اجر ہے ‘ یعنی اللہ کی خوشنودی اور جنت۔ حضرت عیاض بن حمار اشجعی راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے میرے پاس وحی بھیجی ہے کہ تواضع کرو کوئی کسی پر فخر نہ کرے اور کوئی کسی پر زیادتی نہ کرے (رواہ مسلم) ۔
Ayah 11:12

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ ضَآئِقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌؕ Open ayah 11:12 in the Quran reader

شاید تم کچھ چیز وحی میں سے جو تمہارے پاس آتی ہے چھوڑ دو اور اس (خیال) سے کہ تمہارا دل تنگ ہو کہ (کافر) یہ کہنے لگیں کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہ نازل ہوا یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا۔ اے محمدﷺ! تم تو صرف نصیحت کرنے والے ہو۔ اور خدا ہر چیز کا نگہبان ہے

فلعلک تارک بعض ما یوحی الیک سو شاید آپ (تنگ ہو کر) ان احکام میں سے چند جو وحی کے ذریعہ سے آپ کے پاس بھیجے جاتے ہیں ‘ چھوڑ دینے والے ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ مشرکوں نے کہا تھا : کوئی ایسا قرآن پیش کرو جس میں ہمارے معبودوں کو برا نہ کہا گیا ہو۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اس قول پر بعض ما یوحٰی سے مراد ہوگی وہ وحی جس میں کافروں کے معبودوں کو برا کہا گیا ہو۔ (چونکہ آیت میں لفظ لَعَلَّآیا ہے جس کا معنی ہے شاید ‘ توقع ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی شان کے خلاف تھا کہ وہ کافروں کی رعایت سے وہ آیات بیان کرنا ترک کردیتے جن کے اندر مشرکوں کے بتوں کو برا کہا گیا ہے ‘ پھر شاید اور توقع ہے کہنے کا کیا مکان تھا ‘ اسلئے) بیضاوی نے (اس شبہ کو دور کرنے کیلئے) لکھا ہے کہ کسی چیز کا سبب ‘ داعی اگر موجود ہو تب بھی اس چیز کا وقوع ضروری نہیں۔ ممکن ہے کہ داعی ہونے کے باوجود کوئی مانع بھی موجود ہو جس کی وجہ سے اس شئ کا وقوع نہ ہو سکے۔ اس جگہ بھی یہی صورت ہے کہ گو ترک تبلیغ کی توقع کا سبب موجود ہے ‘ لیکن رسول خیانت سے پاک ہوتا ہے ‘ وہ وحی میں خیانت نہیں کرسکتا اور تبلیغ میں تقیہ رسول کی ذات سے ناممکن ہے ‘ اسی لئے ترک تبلیغ کی توقع نہیں کا وقوع نہیں ہوسکتا۔ میں کہتا ہوں : بیضاوی کی اس تقریر سے یہ شبہ دفع ہوگیا کہ اللہ کی طرف سے کسی چیز کی توقع کا اظہار ہو تو اس چیز کا وقوع لازم ہے (کیونکہ اللہ کیلئے کسی حالت کا انتظار ناممکن اور دلیل عجز ہے ‘ اس کیلئے ہر منشاء کا وقوع بالفعل ضروری ہے) ۔ وضائق بہ صدرک ان یقولوا لولا انزل علیہ کنز او جاء معہ ملک اور آپ کا دل اس بات سے تنگ ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ (اگر یہ نبی ہیں تو) ان پر کوئی خزانہ کیوں نازل نہیں ہوا ‘ یا ان کے ساتھ کوئی فرشتہ (جو ہم سے بھی کلام کرتا) کیوں نہیں آیا۔ یعنی آپ کو ان کے اس قول سے دلی تنگی ہوتی ہے کہ محمد ﷺ پر کوئی خزانہ کیوں نازل نہیں ہوا کہ بادشاہوں کی طرح لوگوں کو اپنا تابع اور فرمانبردار بنانے میں خرچ کرتا ‘ یا اس کے ساتھ کوئی (محسوس) فرشتہ کیوں نہیں آیا جو اس کی تصدیق کرتا۔ حاصل یہ کہ ان کے اس قول سے آپ کبیدہ خاطر اور ملول ہوتے ہیں۔ عبد اللہ بن امیہ مخزومی نے یہ بات کہی تھی۔ آیت کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ چونکہ مشرک اللہ کی وحی کی کوئی قدر نہیں کرتے ‘ اسلئے آپ شاید وحی کے بعض حصوں کی تبلیغ ترک کردیں ‘ مگر اللہ کے حکم کو ترک کرنے سے آپ کا دل تنگ ہوتا ہے ‘ ترک امر الٰہی موجب دل تنگی ہے اور تعمیل حکم سبب انشراح صدر اور ترک تبلیغ کا باعث یہ ہو کہ یہ لوگ آپ کے قول کی ہنسی اڑاتے ہیں ‘ آپ کو یہ اندیشہ ہے کہ یہ استہزاء کریں گے اور اللہ کی بھیجی ہوئی وحی کو رد کردیں گے اور ان کی اس بات سے آپ کو کبیدگئ خاطر ہوتی ہے کہ وہ کہتے ہیں : اس پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اتارا جاتا اور تصدیق کرنے والا کوئی فرشتہ اس کے ساتھ کیوں نہیں ہوتا۔ انما انت نذیر آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں ‘ آیات عذاب پیش کرنے والے ہیں۔ وہ رد کردیں ‘ نہ مانیں یا سوائے اس قرآن کے کسی دوسرے قرآن کے طلبگار ہوں ‘ آپ پر اس کا کوئی جرم عائد نہیں ہوتا۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ آپ ان کے استہزائیہ قول اور رد کردینے کے خوف سے تبلیغ وحی ترک کردیں یا ان کے اس قول سے کبیدہ خاطر ہوں۔ وا اللہ علی کل شیء وکیل اور اللہ ہر چیز کا نگراں (اور ذمہ دار ہے) ۔ اور ان کو ان کے قول کی سزا ضرور دے گا۔
Ayah 11:13

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 11:13 in the Quran reader

یہ کیا کہتے ہیں کہ اس نے قرآن ازخود بنا لیا ہے؟ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم بھی ایسی دس سورتیں بنا لاؤ اور خدا کے سوا جس جس کو بلاسکتے ہو، بلا بھی لو

ام یقولون افترا ہ قل فاتوا بعشر سور مثلہ کیا کفار کہتے ہیں کہ محمد ﷺ نے قرآن خود اپنی طرف سے بنا لیا ہے ؟ آپ کہہ دیجئے : (اگر یہ بات ہے) تو پھر تم بھی اس جیسی دس سورتیں بنا کر پیش کرو۔ ایک شبہ : سورة یونس میں آیا ہے : فَأتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّثْلِہٖایک سورت اس جیسی پیش کرو۔ مگر غیر مسلم ایک سورت بھی قرآن جیسی پیش نہیں کرسکے ‘ اب یہاں دس سورتیں پیش کرنے کی دعوت دی گئی ‘ اس کے کیا معنی ؟ جو شخص سائل کو ایک روپیہ دینے سے قاصر رہا ہو ‘ اس سے کیا دس روپے طلب کئے جاسکتے ہیں ؟ کیا اس قسم کا کلام نامناسب بلکہ مہمل نہیں سمجھا جائے گا ؟ ازالہ : سورة ہود کی یہ آیت جس میں دس سورتیں پیش کرنے کی دعوت دی گئی ہے ‘ پہلے نازل ہوئی پھر جب دس سورتیں نہیں پیش کی جاسکیں تو سورة یونس میں صرف ایک ہی سورت پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ سورة یونس کا نزول اس سورت کے بعد ہوا۔ مبرد نے اس جواب کو خلاف واقعہ قرار دیا ہے اور صراحت کی ہے کہ سورة یونس ہی پہلے نازل ہوئی۔ پھر شبہ کا جواب کیا ہوگا ؟ مبرد نے کہا : دونوں سورتوں میں مثلیت کا مفہوم جدا جدا ہے۔ سورة یونس میں قرآن جیسی ایک سورت پیش کرنے کی دعوت دی ‘ یعنی غیبی اطلاعات ‘ احکام ‘ وعدۂ ثواب اور وعید عذاب میں گزشتہ آسمانی کتابوں کے طرز پر کوئی ایک سورت بنا لاؤ۔ مگر وہ ایسا نہ کرسکے تو اب اس سورت میں دس سورتیں بنا کر پیش کرنے کی دعوت دی جو صرف بلاغت اور حسن طرز میں قرآن جیسی ہوں ____ میں کہتا ہوں : جب وہ لوگ ایسا بھی نہ کرسکے تو پھر سورة البقرہ میں فرمایا : فَأتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ (یعنی ندرت ‘ اسلوب اور بلاغت کلام میں دس سورتیں قرآن جیسی پیش نہیں کرسکتے تو) صرف ایک ہی سورت صرف عبارت کی ساخت کے لحاظ سے اس کی طرح بنا لاؤ۔ مفتریت (دس سورتیں) خود ساختہ۔ اپنی طرف سے بنائی ہوئی۔ آخر تم لوگ بھی میری طرح خالص عرب اور قادر الکلام ہو بلکہ بڑے مشاق ہو ‘ باہم سیکھتے سکھاتے اور کہتے بتاتے ہو۔ وادعوا من استطعتم من دون اللہ ان کنتم صدقین۔ اور اللہ کو چھوڑ کر (اور جن کو چاہو) اور جن کو بلا سکتے ہو ‘ اپنی مدد کیلئے بلا لو اگر تم سچے ہو (تو ایسی کوشش کر دیکھو) ۔
Ayah 11:14

فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 11:14 in the Quran reader

اگر وہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ وہ خدا کے علم سے اُترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو تمہیں بھی اسلام لے آنا چاہئیے

فالم یستجیبوا لکم پھر اگر کفار تم لوگوں کا چیلنج پورا نہ کرسکیں۔ لَکُمْکی ضمیر خطاب یا تو رسول اللہ ﷺ کیلئے ہے ‘ تعظیم رسول کیلئے جمع کی ضمیر استعمال کی گئی ہے۔ یا مسلمان مخاطب ہیں کیونکہ مسلمان بھی مشرکوں کو مقابلہ کی دعوت دیتے تھے اور جو حکم رسول اللہ ﷺ کو دیا گیا تھا کہ کافروں کو دعوت مقابلہ دو ‘ وہ حکم ضمناً تمام مسلمانوں کو بھی تھا کیونکہ سوائے خاص خاص احکام کے باقی احکام کے مکلف رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تمام مسلمان بھی ہیں۔ یا مسلمانوں کو خصوصیت کے ساتھ مخاطب کرنے سے اس بات پر تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ دعوت مقابلہ سے مسلمانوں کے ایمان میں ثبات اور یقین میں مزید استحکام پیدا ہوگا ‘ اسلئے اس سے غفلت مسلمانوں کو نہ کرنی چاہئے۔ اسی وجہ سے آگے فرمایا : فاعملوا انما انزل بعلم اللہ پس جان لو کہ قرآن اللہ کے علم کے ساتھ اتارا گیا ہے۔ اللہ کے سوا نہ کوئی اس (کی حقیقت) کو جانتا ہے نہ اس کو بنا سکتا ہے۔ وان لا الہ الا ھو اور یہ بھی جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبود نہیں __کیونکہ اللہ ہی ایسے امور سے واقف اور ان چیزوں پر قادر ہے جن کا علم وقدرت اس کے سوا کوئی نہیں رکھتا۔ ان کے (باطل) معبود بالکل عاجز ہیں اور اس کلام کی سچائی اس بات ہی سے ثابت ہوتی ہے کہ کوئی ایسا کلام نہیں بنا سکتا۔ اس کلام میں تہدید بھی ہے اور اس امر کی طرف اشارہ بھی لہ اللہ کے عذاب سے مشرکوں کے معبود نہیں بچا سکتے۔ فھل انتم مسلمون۔ پس کیا تم اب بھی مسلمان ہوتے ہو (یا نہیں) یعنی کیا تم اسلام پر ثابت قدم ‘ مستحکم اور مخلص الارادہ رہو گے جبکہ قرآن کا اعجاز تمہارے نزدیک محقق ہوگیا تو کیا اسلام پر جمے رہو گے (یعنی جمے رہو) ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مذکورۂ بالا تمام خطابات کے مخاطب مشرک ہوں اور لَمْ یَسْتَجِیْبُوْاکی ضمیر فاعَلی مَنِ اسْتَطَعْتُمْ کی طرف راجع ہو۔ مطلب اس طرح ہوگا کہ جب اے مشرکو ! تمہارے مددگاروں نے دعوت مقابلہ قبول نہیں کی اور تم جان گئے کہ وہ سب اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز ہیں تو اب تم کو جان لینا چاہئے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ اللہ ہی نے اپنی طرف سے اتارا ہے اور تم کو جو توحید کی دعوت دی جا رہی ہے وہ سچی ہے ‘ پس کیا ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت کو دیکھ کر تم اسلام میں داخل ہوجاؤ گے (یا اب بھی اپنی سرکشی پر قائم رہو گے) ۔ کلام کا سوالیہ طرز ایک بلیغ اسلوب ہے ‘ طلب فعل اور امر کا اور تنبیہ ہے اس بات پر کہ اب ہر قسم کا عذر ختم ہوگیا اور تعمیل حکم کا موجب ناقابل انکار ہے۔
Ayah 11:15

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ Open ayah 11:15 in the Quran reader

جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زیب و زینت کے طالب ہوں ہم ان کے اعمال کا بدلہ انہیں دنیا میں ہی دے دیتے ہیں اور اس میں ان کی حق تلفی نہیں کی جاتی

من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا نوف الیھم اعمالھم فیھا وھم فیھا لا یبخسون : جو شخص (اپنے نیک اعمال سے) محض دینوی زندگی (کی منفعت) اور اس کی رونق حاصل کرنا چاہتا ہے تو ہم ان کو ان کے اعمال کا دنیا میں ہی پورا پورا بدلہ دیتے ہیں اور ان کیلئے دنیوی زندگی میں ثواب کی کمی نہیں کی جاتی۔
Ayah 11:16

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖ٘ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 11:16 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آتش (جہنم) کے سوا کوئی چیز نہیں اور جو عمل انہوں نے دنیا میں کئے سب برباد اور جو کچھ وہ کرتے رہے، سب ضائع

اولئک الذین لیس لھم فی الاخرۃ الا النار یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کیلئے آخرت میں بجز دوزخ کے اور کچھ نہیں۔ یعنی جو لوگ اپنے عمل اور نیکی کے عوض محض دنیوی زندگی کی درازی ‘ صحت ‘ مال و اولاد کی کثرت ‘ حسین بیویاں اور نوکرچاکر ‘ خدمت گار حاصل کرنا چاہتے ہیں ‘ ہم دنیا میں ان کو یہ چیزیں ان کے اچھے اعمال کے بدلہ میں پوری پوری دے دیتے ہیں ‘ کسی قسم کی حق تلفی اور ادائے عوض میں کمی نہیں کرتے مگر آخرت میں ان کے اچھے عمل کا کوئی اچھا بدلہ نہیں دیا جائے گا۔ وہاں سوائے دوزخ کے ان کو اور کچھ نہیں ملے گا کیونکہ اچھے کاموں کا اچھا بدلہ تو ان کو دنیا میں دے دیا جاتا ہے اور برے کام رہ جاتے ہیں ‘ سو ان کا بدلہ آخرت میں ملے گا۔ وحبط ما صنعوا فیھا اور انہوں نے دنیا میں جو کچھ اچھا کام کیا تھا ‘ وہ آخرت میں سب کا سب ناکارہ ثابت ہوگا۔ یعنی دنیا میں جو انہوں نے نیکیاں کی ہوں گی ‘ ان کا ثواب آخرت میں باقی نہیں رہے گا۔ یا یہ مطلب ہے کہ آخرت میں ان کیلئے کوئی ثواب نہ ہوگا ‘ کیونکہ انہوں نے اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے تو نیکیاں کی نہیں تھیں کہ ان کو آخرت میں اجر دینا اللہ کے ذمے ضروری قرار پا جاتا۔ فیھاکی ضمیر اگر آخرت کی طرف لوٹائی جائے تو اسکا تعلق حبط سے ہوگا اور اگر دنیا کی طرف راجع کی جائے تو صنعوا سے تعلق ہوگا۔ وباطل ما کانوا یعملون۔ اور جو (نیکیاں دنیا میں) وہ کرتے ہیں ‘ وہ حقیقت میں بےکار جائیں گی ‘ کیونکہ جس جذبے کے تحت ان کو ہونا چاہئے تھا ‘ وہ جذبہ اور وہ رخ مفقود تھا۔ بظاہر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ آیت کافروں کے حق میں ہے۔ بخاری نے ایک طویل حدیث حضرت عمر ؓ کی روایت کردہ بیان کی ہے ‘ اس میں حضرت عمر ؓ کا یہ بیان مذکور ہے : میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو خدا کی قسم ! مجھے رسول اللہ ﷺ کے گھر میں سوائے تین کچے چمڑوں کے اور کچھ دکھائی نہ دیا۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! دعا فرمائیے کہ اللہ آپ ﷺ کی امت کو فراخی عنایت فرما دے۔ اہل فارس اور اہل روم کو تو اللہ نے وسعت مالی عطا فرمائی ہے اور باوجودیکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے مگر ان کو دنیا دے دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس وقت تکیہ لگائے ہوئے تھے ‘ یہ سن کر بیٹھ گئے اور فرمایا : ابن خطاب ! کیا تم اس خیال میں ہو (یہ لوگ تو دنیا کے طالب ہیں ‘ پس) ان کو دنیوی زندگی میں ان کی لذتیں دے دی گئی ہیں اور مؤمن کا مقصد دنیا اور آخرت دونوں ہیں اور ارادۂ آخرت غالب ہے ‘ اسلئے اس کو نیکیوں کا بدلہ دنیا میں بھی دے دیا جاتا ہے اور آخرت میں بھی نیکیوں کا ثواب دیا جائے گا۔ حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ مؤمن پر ظلم نہیں کرتا (اس کی) نیکی کا اجر دنیا میں (بھی) اس کو دیا جاتا ہے اور آخرت میں اس کا ثواب دیا جائے گا۔ رہا کافر کہ اس کی نیکیوں کے عوض دنیا میں اس کو کھانے کو دیا جاتا ہے ‘ پھر جب آخرت میں پہنچے گا تو اس کی کوئی نیکی ہی نہ ہوگی جس کی وجہ سے اس کو کوئی بھلائی دی جائے۔ رواہ مسلم و احمد۔ میں کہتا ہوں : آیت لَیْسَ لَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ الاَّ النَّار میں خود قرینہ ہے کہ اس کا نزول کافروں کے حق میں ہوا کیونکہ باجماع علماء اہل ایمان کا آخر کار جنت میں جانا ثابت ہے۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ آیت کا نزول ریا کاروں (دکھانے کیلئے نیکی کرنے والوں) کے حق میں ہوا۔ حضرت ابو سعید بن فضالہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب قیامت کے دن (یعنی ایسے دن) جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ‘ اللہ سب لوگوں کو جمع کرے گا تو ایک منادی ندا دے گا : جس نے کوئی عمل اللہ کیلئے کیا ہو مگر اس میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو بھی شریک کرلیا ہو تو وہ اپنے عمل کا اجر اسی شریک سے طلب کرے ‘ اللہ تو ہر شرک سے بےنیاز ہے۔ رواہ احمد۔ حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کی نیت آخرت کی طلب کی ہوتی ہے ‘ اللہ اس کے دل میں (دنیا کی ہر چیز سے) بےنیازی پیدا کردیتا ہے اور اس کی پریشان حالی کو ٹھیک کردیتا ہے اور دنیا ذلیل ہو کر اس کے پاس (دوڑتی) آتی ہے اور دنیا کی طلب کی نیت ہوتی ہے تو فقر (احتیاج) کو اللہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان پیدا کردیتا ہے (یعنی اس کے سامنے احتیاجات و ضروریات غیر محدود طور پر آجاتی ہیں) اور اللہ اس کو پریشان حال کردیتا ہے اور دنیا اتنی ہی اس کو ملتی ہے جتنی اللہ نے اس کیلئے لکھ دی ہے۔ رواہ الترمذی۔ یہ حدیث امام احمد اور دارمی نے بوساطت ابان ‘ حضرت زید بن ثابت کی روایت سے نقل کی ہے۔ ایک شبہ : آیت نُوَفِّ اِلَیْھِمْ اَعْمَالَھُمْ فِیْھَا وَھُمْ فِیْھَا لاَ یُبْخَسُوْنَاور حدیث لاٰیٰاتِیہ مِنْھَا الا ما کتب لہٗ میں بظاہر تضاد معلوم ہوتا ہے۔ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں اعمال کا بدلہ پورا پورا دے دیا جاتا ہے اور حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے جو کچھ لکھ دیا ہے وہی ملتا ہے ‘ اس سے زائد نہیں ملتا۔ ازالہ : دونوں میں کوئی تضاد نہیں۔ تمام اعمال کا پورا پورا بدلہ ملنا بھی اللہ نے لکھ دیا ہے ‘ پس اعمال کا پورا بدلہ ملے گا۔ یعنی وہی ملے گا جو لکھا ہوا ہے ‘ اس سے زائد نہیں ملے گا خواہ دنیا طلب آدمی ان گنت چیزوں کا طلبگار ہو۔ (ایک حدیث کا مفہوم ہے) اگر آدمی کے پاس دو وادی بھر سونا ہو تب بھی وہ تیسری وادی (زریں) کا طالب ہوتا ہے۔ میں کہتا ہوں : اگر آیت کا حکم ریا کاروں کے متعلق ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ جو اعمال انہوں نے دکھاوٹ کیلئے کئے ہوں گے ‘ ان کا بدلہ سوائے دوزخ کے اور کچھ نہ ہوگا۔
Ayah 11:17

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ١ۚ فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ١ۗ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 11:17 in the Quran reader

بھلا جو لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے (روشن) دلیل رکھتے ہوں اور ان کے ساتھ ایک (آسمانی) گواہ بھی اس کی جانب سے ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب ہو جو پیشوا اور رحمت ہے (تو کیا وہ قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے) یہی لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں اور جو کوئی اور فرقوں میں سے اس سے منکر ہو تو اس کا ٹھکانہ آگ ہے۔ تو تم اس (قرآن) سے شک میں نہ ہونا۔ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے

افمن کان علی بینۃ من ربہ کیا منکر قرآن ایسے شخص کی برابری کرسکتا ہے جو اس قرآن پر قائم ہو جو اس کے رب کی طرف سے بھیجا گیا ہے ؟ بیّنۃ دلیل جو حق اور امر صحیح کی راہنمائی کرتی ہے جس کی روشنی میں وہ بت پرستی چھوڑ کر خدا پرستی اختیار کرتا ہے اور دنیا کی (ناجائز) فانی لذتوں کو ترک کر کے آخرت کی دوامی راحت کو پسند کرتا ہے۔ اس جملے کی خبر محذوف ہے اور مَنْ کان مبتداء ہے اور فَمَنْمیں فاء تعقیب کیلئے ہے اور استفہام انکاری ہے۔ صحیح علم کے ... بعد بھی جو لوگ کافروں اور ریاکاروں کا طریقہ اختیار کرتے ہیں ‘ ان کی سزا بھی دوزخ ہے۔ دونوں باہم مشابہ ہیں۔ اصل کلام اس طرح تھا کہ جو شخص اللہ کی نازل کردہ دلیل پر قائم ہو ‘ کیا وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو محض دنیا کا طلبگار ہے۔ مَنْ کان سے مخلص مؤمن مراد ہیں۔ بعض علماء کے نزدیک رسول اللہ ﷺ مراد ہیں ‘ یعنی حضور ﷺ کی ذات مع متبعین کے۔ کیونکہ لفظ مَنْ عام ہے (خاص ذات مراد لینے کی کوئی وجہ نہیں) پھر آگے آیت اولئک یؤمنون بہ میں مَنْ کی طرف جمع کی ضمیر بھی لوٹائی گئی ہے۔ بقول ابو الشیخ ‘ ابو العالیہ اور ابراہیم نخعی کے نزدیک مَنْکان علی بینۃ سے رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی مراد ہے۔ ابن مردویہ اور ابن ابی حاتم نے حضرت علی ؓ کی طرف بھی اس تفسیر کی نسبت کی ہے۔ ابو النعیم نے المعرفۃ میں بھی اس قول کو نقل کیا ہے۔ بَیِّنَۃٍ سے مراد قرآن مجید ہے۔ ویتلوہ شاھد منہ اور اس بینہ (قرآن) کی اللہ کی طرف سے ایک شاہد (یعنی حضرت جبرئیل یا اللہ کا رسول ﷺ تلاوت کرتا ہے۔ ومن قبلہ کتب موسیٰ اور اس کے (نزول سے) پہلے موسیٰ کی کتاب (یعنی توریت اللہ کی طرف سے شاہد ہے جو قرآن کی تصدیق کر رہی ہے) ۔ امامًا ورحمۃ وہ (حضرت موسیٰ کی کتاب) ہے جو (تعلیم احکام کے لحاظ سے) امام اور رحمت ہے۔ شاہد سے مراد حضرت جبرئیل ہیں۔ ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے مختلف سندوں سے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ آیت مذکورہ میں شاہد سے حضرت جبرئیل مراد ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر نازل کردہ کتاب کی تلاوت کرتے تھے اور جس طرح قرآن رسول اللہ ﷺ پر انہوں نے تلاوت کیا ‘ اسی طرح اس سے پہلے توریت کی تلاوت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) پر انہوں نے کی تھی۔ بغوی نے حضرت ابن عباس کے علاوہ اس تفصیل کی نسبت علقمہ ‘ ابراہیم ‘ مجاہد ‘ عکرمہ ‘ ضحاک اور اکثر اہل تفسیر کی طرف بھی کی ہے۔ حسن اور قتادہ کے قول پر شاہد سے مراد ہے رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک ‘ یعنی قرآن کی تلاوت کرے گا اللہ کی طرف سے ایک شہادت دینے والا جو محمد رسول اللہ ﷺ تھے اور قرآن کی صداقت کی شہادت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی کتاب بھی دے رہی ہے جو قرآن سے پہلے نازل ہوچکی ہے۔ ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم ‘ طبرانی اور ابو الشیخ نے حضرت محمد بن علی بن ابی طالب (یعنی محمد بن حنیفہ) کا بیان نقل کیا ہے ‘ محمد نے فرمایا : میں نے اپنے والد (حضرت علی ؓ سے عرض کیا : لوگوں کا خیال ہے کہ آیت وَیَتْلُوہُ شَاہِدٌ مِنْہُ میں شاہد سے مراد آپ ہیں۔ فرمایا : کاش ! وہ میں ہوتا ‘ مگر (ایسا نہیں ہے) وہ شاہد محمد ﷺ کی زبان مبارک تھی۔ ابو الشیخ نے ابو بخیح کی سند سے مجاہد کا بھی یہی قول نقل کیا ہے (کہ شاہد سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں) ۔ بعض علماء کا قول ہے : یتلو (تلاوت سے مشتق نہیں ہے بلکہ) تِلو سے مشتق ہے اور تلوکا معنی ہے پیروی کرنا ‘ پیچھے چلنا اور شاہد سے مراد ہے محافظ فرشتہ اور یَتْلُوہُ کی مفعولی ضمیر مَنْ کاَنَ کی طرف راجع ہے یا بینۃ کی طرف جس کا معنی ہے برہان ‘ دلیل واضح۔ اور من قبلہ کتاب موسیٰ ایک الگ جملہ ہے ‘ اس سے نئے کلام کا آغاز کیا گیا ہے۔ ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ مَنْکان علی بینۃ رسول اللہ ﷺ تھے اور شاہد ایک فرشتہ تھا جو آپ کی حفاظت پر مامور تھا۔ بعض لوگوں کا یہ بھی قول ہے کہ شاہد سے مراد حضرت علی ؓ ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا : قریش کے ہر آدمی کے متعلق کوئی نہ کوئی آیت ضرور نازل ہوئی ہے۔ کسی نے عرض کیا : آپ کے متعلق کیا نازل ہوا ؟ فرمایا : (آیت) وَیَتْلُوہُ شَاہِدٌ مِنْہُ (میرے متعلق نازل ہوئی) ۔ حضرت علی ؓ کو شاہد کیوں کہا گیا ؟ اس کی توجیہ شاید یہ ہو کہ سب سے پہلے آپ ہی ایمان لائے۔ رسول اللہ ﷺ کی صداقت کی اوّل ترین شہادت دینے والے آپ ہی ہوئے۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ قوی وجہ آپ کو شاہد کہنے کی یہ ہے کہ آپ تمام کمالات ولایت کے مرکزی نکتہ تھے ‘ قطب ولایت تھے ‘ تمام اولیاء بلکہ تمام صحابہ بھی مقام ولایت میں آپ کے پیچھے اور تابع ہیں۔ خلفاء ثلاثہ (حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت عمر ؓ فاروق ؓ ، حضرت عثمان غنی ؓ ضرور آپ سے افضل تھے مگر ان کی فضیلت کی وجہ دوسری ہے جس کی تشریح حضرت مجدد صاحب نے اپنے مکتوبات کے آخر میں کی ہے۔ اس صورت میں آیت کا تشریحی مطلب اس طرح ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ اللہ کی طرف سے ایک قطعی دلیل اور روشنْ حجت لے کر آئے ہیں جو آپ کی رسالت کو یقینی طور پر ثابت کر رہی ہے۔ یہ روشن دلیل کیا ہے ؟ آپ ﷺ کے معجزات کثیرہ جن میں سے سب سے بڑا معجزہ قرآن مجید اور وہ علوم ہیں جو وحی کے ذریعے سے آپ کو حاصل ہوئے ‘ پھر آپ کے پیچھے اور آپ ﷺ کے تابع حضرت علی ؓ اور دوسرے اولیاء جو حضرت علی ؓ سے مشابہت رکھنے والے ہیں ‘ آئے جو رسول اللہ ﷺ کی صداقت کے شاہد ہیں۔ اولیاء کی کرامتیں حقیقت میں رسول اللہ ﷺ کے معجزات ہیں اور اولیاء کے الہامی اور کشفی علوم بھی وہی علوم ہیں جو رسول اللہ ﷺ کو وحی کے ذریعہ سے حاصل ہوئے تھے ‘ پس اولیاء کی کرامات اور الہامی علوم سے رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی صداقت ثابت ہوتی ہے۔ ترمذی نے صحیح سند سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انا دارالحکمۃ وعلیٌّ بابھا میں سچے علوم کا گھر ہوں اور علی اس گھر کا دروازہ ہیں۔ وانا مدینۃ العلم وعلیٌّ بابھا اور میں علم کا شہر ہوں اور علی اس شہر کا دروازہ ہیں۔ فمن اراد العلم فلیات الباب پس جو علم کا خواستگار ہو ‘ اس کو دروازہ پر آنا چاہئے (تاکہ علم کے شہر میں داخل ہو سکے) اس حدیث کو ابن عدی نے الکامل میں اور عقیلی نے الضعفاء میں اور طبرانی و حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے ‘ نیز ابن عدی اور حاکم نے حضرت جابر ؓ کی روایت سے بھی بیان کیا ہے۔ اس حدیث میں حکمت و علم سے علوم اولیاء کی طرف اشارہ ہے ‘ فقہاء کے علوم کی طرف اشارہ نہیں ہے ‘ علوم فقہیہ کا مدار تو صرف علی پر نہیں ہے۔ علم فقہ کے متعلق تو رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : میرے صحابی ستاروں کی طرح ہیں ‘ جن کی بھی پیروی کرو گے ہدایت یاب ہوجاؤ گے۔ بعض کے نزدیک شاہد سے مراد انجیل ہے اور مِنْ قَبْلِہٖ کِتٰبُ مُوْسٰیسے مراد توریت ہے۔ بعض نے کہا : بینہ عقلی برہان ہے اور شاہد قرآن ہے۔ حسین بن فضل نے کہا : قرآن ‘ قرآن کا اسلوب بیان اور اعجاز شاہد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس کے پاس اپنے مذہب کی کوئی دلیل عقلی اور برہان نقلی نہ ہو ‘ اس کی طرح کیا وہ شخص ہوسکتا ہے جس کا قول و عمل عقلی دلائل کی بنیاد پر قائم ہے اور اس کی تائید اللہ کی طرف سے نازل شدہ کتاب یعنی قرآن سے بھی ہو رہی ہے اور قرآن سے پہلے حضرت موسیٰ کی کتاب بھی برہان نقلی پر ( اور قرآن کی تائید میں) شہادت دے رہی ہے۔ اس صورت مَنْ کَانَ سے مراد ہوگا سچا مؤمن مخلص۔ اولئک یؤمنون بہ یہ ہی جماعت اس پر پکا ایمان رکھتی ہے۔ اولٰءِکَ سے اشارہ مَنْ کَانَ کی طرف ہے کیونکہ بینہ پر قائم رہنے والی مسلمانوں کی جماعت ہے ‘ پس مسلمانوں کی جماعت ہی اولٰءِکَ سے مراد ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ شاہدٌ کی جانب اشارہ ہو بشرطیکہ شاہد سے مراد حضرت علی ؓ اور آپ کے پیرو ہوں۔ ومن یکفر بہ من الاحزاب فالنار موعدہ اور جو شخص دوسرے فرقوں میں سے اس کا انکار کرے گا تو دوزخ اس کے وعدے کی جگہ ہے۔ الاحزاب (گروہ) سے مراد (مسلمانوں کے علاوہ) تمام مذاہب والے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ! اس امت (دعوت) میں سے جو کوئی کافر و مشرک اور یہودی اور عیسائی ایسی حالت میں مرے گا کہ جس (ہدایت) کو مجھے دے کر بھیجا گیا ہے ‘ وہ اس پر ایمان نہ لایا ہوگا تو وہ ضرور دوزخیوں میں سے ہوگا (رواہ مسلم) فلاتک فی مریۃ منہ انہ الحق من ربک ولکن اکثر الناس لایؤمنون۔ سو (اے مخاطب ! ) تو قرآن کی طرف سے شک نہ پڑنا۔ بلاشک و شبہ وہ سچی کتاب ہے ‘ تیرے رب کے پاس سے آئی ہے لیکن (باوجود ان دلائل کے) اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔ یعنی فکر کی خرابی اور قوت غور کی کمزوری کی وجہ سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔
Ayah 11:18

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ؕ اُولٰٓئِكَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ یَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 11:18 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے ایسے لوگ خدا کے سامنے پیش کئے جائیں گے اور گواہ کہیں گے کہ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ بولا تھا۔ سن رکھو کہ ظالموں پر الله کی لعنت ہے

ومن اظلم ممن افترٰی علی اللہ کذبًا اور ان لوگوں سے زیادہ ظالم (حق ناشناس) کون ہے جو اللہ پر اپنی طرف سے دروغ بندی کرتے ہیں۔ یعنی کسی کو اس کی اولاد یا شریک قرار دیتے ہیں ‘ یا اس کی طرف ان احکام وتعلیم کی نسبت کرتے ہیں جو اس نے نازل نہیں کئے ‘ یا ان احکام کا انکار کرتے ہیں جو اس نے نازل کئے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ہدایات اللہ کی طرف سے نہیں ہیں ‘ یا کسی چیز کی تحریم کو اس کی طرف منسوب کرتے ہیں حالانکہ اس چیز کی تحریم اس کی طرف سے نہیں کی گئی ‘ یا کسی چیز کی تحلیل کو اس کی جانب منسوب کرتے ہیں حالانکہ اس چیز کو اس نے حرام کردیا ہے۔ اولئک یعرضون علی ربھم (قیامت کے دن) ان کو ان کے رب کے سامنے پیش کیا جائے گا __ اور وہ ان سے اعمال کی بازپرس کرے گا۔ ویقول الاشھاد اور گواہ کہیں گے۔ یعنی اعمال لکھنے والے فرشتے کہیں گے۔ ابو الشیخ نے مجاہد کا یہی تفسیری قول نقل کیا ہے۔ لیکن حضرت ابن عباس کے قول سے معلوم ہوتا ہے کہ اشہاد سے مراد انبیاء اور پیغمبر ہیں۔ ضحاک کا بھی یہی قول ہے۔ اس تفسیر کی تائید آیت فَکَیْفَ اِذَا جِءْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍم بِشَھِیْد وَّجِءْنَا بِکَ عَلٰی ھٰٓؤُلاآءِ شَھِیْدًا سے ہو رہی ہے (شہید سے مراد بالاتفاق پیغمبر ہے) ۔ ابن مبارک نے حضرت سعید بن مسیب کا قول نقل کیا ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ ہر پیغمبر کی امت صبح اور شام پیغمبر کے سامنے نہ لائی جاتی ہو ‘ پس ان کی خصوصی علامات اور اعمال کو دیکھ کر پیغمبر ان کو پہچان لیں گے اور (قیامت کے دن) شہادت دیں گے۔ قتادہ کے نزدیک ساری مخلوق مراد ہے۔ صحیحین میں حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ (قیامت کے دن) اللہ مؤمن کو (اپنے) قریب کر کے اپنا ہاتھ اس کے شانہ پر رکھ دے گا اور پوشیدہ طور پر فرمائے گا : کیا تو اپنا (فلاں) گناہ جانتا ہے ؟ مؤمن عرض کرے گا : جی ہاں ‘ اے میرے رب ! یہاں تک کہ مؤمن کے (سب) گناہوں کا اس سے اقرار کرا لے گا اور مؤمن اپنے دل میں خیال کرے گا کہ میں تباہ ہوگیا (اس کے بعد) اللہ فرمائے گا : میں نے دنیا میں گناہوں پر پردہ ڈالے رکھا ‘ آج میں تیرے وہ گناہ معاف کرتا ہوں۔ پھر نیکیوں کی تحریر اس کو دے دی جائے گی۔ رہے کافر اور منافق ‘ ان کو سب مخلوق کے سامنے پکارا جائے گا اور کہا جائے گا : ھولآء الذین کذبوا علی ربھم الا لعنۃ اللہ علی الظلمین۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر دروغ بندی کی۔ آگاہ ہوجاؤ ‘ اللہ کی لعنت ہے ظالموں پر۔ ا اللہ پر دروغ بندی ظلم ہے ‘ اس ظلم کی پاداش میں جو خوفناک عذاب کافروں اور منافقوں کو گھیرے ہوگا ‘ آیت میں اس کی ہیبت ناک تصویر کشی ہے۔ میں کہتا ہوں : اشہاد (شہادت دینے والے) صرف وہی نہیں ہوں گے جن کا ذکر (مختلف علماء کے اقوال میں) کیا گیا ہے ‘ بلکہ انسان کے جسمانی اعضاء بھی شہادت دیں گے۔ اللہ نے فرمایا ہے : اَلْیَوْم نختُم عَلٰی اَفْواھِھِمْ وَتُکَلِّمُنَآ اَیْدِیَھُمْ وَتَشْھَدُ اَرْجُلُھُمْ ۔ دوسری آیت میں آیا ہے : قَالُوْا لِجُلُوْدِھِمْ لِمَ شَھِدْتُّمْ عَلَیْنَا الخ۔ ایک اور آیت ہے : یَوْمَ تَشْھَدُ عَلَیْھِمْ اَلْسِتُھُمْ وَاَیْدِیَھُمْ وَاَرْجُلَھُمْ الخ۔ مسلم نے حضرت انس کا بیان نقل کیا ہے کہ اللہ نے فرمایا : کَفٰی بِنَفْسِکَ الْیَوْمُ عَلَیْکَ حَسِیْبًا وَبِالْکِرَامِ الْکَاتِبِیْنَ شَھِیْدًا یعنی منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اعضاء سے کہا جائے گا تم بولو۔ منجملہ دوسرے شاہدوں کے ‘ زمانہ اور مقام بھی شہادت دے گا۔ ہم نے سورة اذَا زُلْزِلَتْ کی آیت یَوْمَءِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَھَا کی تفصیل کے ذیل میں لکھ دیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ زمین شہادت دے گی کہ کس بندے اور کس بندی نے اس کی پشت پر کیا کیا ‘ کیا۔ بخاری نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ مؤذن کی آواز جتنی مسافت پر پہنچے گی اور جہاں تک جن و انس اس کو سنیں گے ‘ قیامت کے دن اس کی شہادت دیں گے۔ ابن خزیمہ کی روایت کے یہ الفاظ ہیں کہ مؤذن کی آواز جو پتھر ‘ ڈھیلا ‘ جن و انس سنے گا ‘ مؤذن کیلئے شہادت دے گا۔ ابو داؤد اور ابن خزیمہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی مرفوع روایت نقل کی ہے کہ مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچے گی (اسی کے مطابق) اس کی مغفرت کی جائے گی اور ہر تر و خشک اس کی شہادت دے گا۔ ابن المبارک نے حضرت عمر ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ جو شخص جس مقام کے قریب سجدہ کرے گا ‘ وہاں درخت ہو یا پتھر ‘ قیامت کے دن وہ شہادت دے گا۔ عطاء خراسانی کی روایت سے بھی یہ اثر منقول ہے۔ ابو نعیم نے حضرت معقل بن یسار کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو دن ابن آدم پر آتا ہے ‘ اس میں آواز دی جاتی ہے (یعنی دن خود آواز دیتا ہے) اے آدم زاد ! میں نیا ہوں ‘ تو جو کچھ کرے گا کل میں تیرے لئے شہادت دوں گا ‘ اسلئے میرے اندر تو نیکی کرنا تاکہ کل کو میں تیرے لئے (اچھی) شہادت دوں۔ میں اگر گذر گیا تو پھر تو مجھے کبھی نہیں دیکھے گا۔ رات بھی اسی طرح کہتی ہے۔ مسلم نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ مال بڑا سبز اور شیریں ہے اور مسلمان کا اچھا ساتھی ہے اور جو مال قیدی اور یتیم اور (ضرورت مند) مسافر کو دیا جائے گا ‘ خود (وہ مال) اس کی گواہی دے گا اور جو شخص بغیر حق کے مال لیتا ہے ‘ وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا تو ہو اور سیر نہ ہوتا ہو۔ قیامت کے دن یہ مال اس شخص کے خلاف شہادت دے گا۔ ابو نعیم نے طاؤس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ قیامت کے دن مال اور صاحب مال دونوں کو لایا جائے گا اور دونوں باہم جھگڑا کریں گے (الحدیث) ۔
Ayah 11:19

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 11:19 in the Quran reader

جو خدا کے رستے سے روکتے ہیں اور اس میں کجی چاہتے ہیں اور وہ آخرت سے بھی انکار کرتے ہیں

الذین یصدون عن سبیل اللہ جو (لوگوں کو) راہ خدا سے روکتے تھے۔ راہ خدا سے مراد ہے اللہ کا دین۔ ویبغونھا عوجًا اور اس میں کجی نکالنے کی تلاش میں رہا کرتے تھے۔ یعنی دین الٰہی کو حق سے پھرا ہوا قرار دیتے تھے۔ یا یہ مطلب ہے کہ مؤمنوں کو مرتد بنا کر ٹیڑھے راستے پر لے جانے کے خواہشمند تھے۔ وھم بالاخرۃ ھم کٰفرون۔ اور وہی آخرت کے بھی منکر تھے۔ یہ جملہ حالیہ ہے۔ ھُمْ کا مکرر ذکر کرنا کافر ہونے کی تاکید کیلئے ہے اور یہ بتانے کیلئے ہے کہ روز آخرت سے انکار ان کی خصوصیت ہے۔