11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 11:1

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ خَبِیْرٍۙ Open ayah 11:1 in the Quran reader

الر یہ کتاب ہے جس کی آیات محکم کی گئیں پھر واضح طور پر بیان کی گئی ہیں

Ayahs 11:2–3

اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنَّنِیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌۙ Open ayah 11:2 in the Quran reader

حکمت والے باخبر کی طرف سے ہے یہ کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو بیشک میں تمہیں اللہ کی طرف سے ڈرانے والا ہوں اور بشارت دینے والا ہوں

وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ یُؤْتِ كُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ١ؕ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ كَبِیْرٍ Open ayah 11:3 in the Quran reader

اور یہ بات کہ تم اپنے رب سے مغفرت طلب کرو پھر اس کے حضور میں توبہ کرو وہ تمہیں مقرر کردہ اجل تک خوش عیش زندگی دے گا اور ہر زیادہ عمل کرنے والے کو اس کا ثواب عنایت فرمائے گا اور اگر تم اعراض کرو تو میں تم پر بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں

اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور اس کے حضور توبہ کرنے پر انعام کا وعدہ اور اعراض کرنے والوں کیلئے وعید یہاں سے سورة ہود شروع ہے اس کا بیشتر حصہ (از رکوع 3 تا رکوع 8) متعدد حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی قوموں کے واقعات پر مشتمل ہے یہ قومیں ‘ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی اور ایمان قبول نہ کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئیں ‘ ان کے واقعات میں امت حاضرہ کیلئے بڑی عبرت ہے ‘ ان واقعات کے شروع کرنے سے پہلے توحید کی دعوت دی ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق وایجاد کا اور منکرین کی ہٹ دھرمی کا تذکرہ فرمایا ہے آخرت کے عذاب سے ڈرایا اور اہل ایمان کو بشارت دی ہے۔ ارشاد فرمایا کہ یہ کتاب ایسی ہے جس کی آیات محکم کی گئی ہیں پھر ان آیات کو واضح طریقہ پر بیان کردیا گیا ہے اور اس کتاب کی توضیح ایسی ذات پاک کی طرف سے کی گئی ہے جو حکیم بھی ہے اور خبیر بھی ہے اس کتاب میں خوب زیادہ واضح طور پر بتادیا گیا ہے کہ صرف اللہ ہی کی عبادت کرو اور ساتھ ہی نبی ﷺ کا کام بھی بتادیا جن پر یہ کتاب نازل ہوئی ہے یعنی یہ کہ (اِنَّنِیْ لَکُمْ مِّنْہُ نَذِیْرٌ وَّبَشِیْرٌ) (بلاشبہ میں تمہیں اللہ کی طرف سے ڈرانے والا ہوں اور بشارت دینے والا ہوں) مزید فرمایا (وَاَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْا اِلَیْہِ ) (اپنے رب سے مغفرت طلب کرو پھر اس کے حضور میں توبہ کرو) یعنی کفر کو چھوڑو اور اپنے رب سے معافی مانگو پھر اس کے حضور میں اعمال صالحہ پیش کرتے رہو اور گناہوں سے بچتے رہو جب کبھی کوئی گناہ ہوجائے تو توبہ کرو پھر توبہ و استغفار کا دنیاوی اور اخروی فائدہ بتایا۔ (یُمَتِّعْکُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا) (اللہ تمہیں خوش عیش اچھی زندگی عطا فرمائے گا) یہ خوش عیش زندگی ایک وقت مقررہ تک ہوگی جب تقدیر کے مطابق اجل آجائے گی اور موت واقع ہوگی اس وقت تک یہ عمدہ زندگی ہی رہے گی اور آخرت میں تو اہل ایمان کے لئے خیر ہی خیر ہے۔ پھر فرمایا (وَیُؤْتِ کُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَہٗ ) (اور ہر فضیلت والے کو جو زیادہ عمل صالح کرے اس کے اعمال فاضلہ کا بدلہ عطا فرما دے گا) اس میں آخرت کے اجر وثواب کا ذکر ہے۔ ثواب تو تھوڑے سے عمل کا بھی ملے گا لیکن زیادہ عمل والے کا خصوصیت کے ساتھ جو ذکر فرمایا اس سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ میں نے بہت نیک عمل کر لئے اب آگے کیا نیک عمل کروں جو جس قدر زیادہ عمل کرے گا اسی قدر ثواب پائے گا۔ واضح رہے کہ خوش زندگی کے لئے پیسہ زیادہ ہونا ضروری نہیں۔ اصل راحت دل کی راحت اور دل کا اطمینان ہے وہ اہل ایمان کو ہمیشہ نصیب ہوتا ہے اور یہ بہت بڑی زندگی ہے پھر اس زندگی میں اہل ایمان کو جو تکلیفیں پہنچ جاتی ہیں ان کا ثواب آخرت میں ملے گا۔ ان تکلیفوں کے پہنچنے سے بھی آیت کے مضمون پر اشکال نہ کیا جائے کیونکہ اہل ایمان ان میں بھی لذت محسوس کرتے ہیں اور ان کا اجر وثواب جو آخرت میں موعود ہے اس کا یقین رکھنے کی وجہ سے روحانی تکلیف ہوتی ہی نہیں البتہ کبھی کبھی جسمانی تکلیف ہوجاتی ہے ‘ نیز یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ یُمَتِّعْکُمْ فرمایا ہے۔ یمتع کُلَّکُمْ نہیں فرمایا اور فِیْ کُلِ الْاَزْمَانِ وَالْاَحْوَال نہیں فرمایا۔ لہٰذا اگر کبھی کبھی کسی کسی کو تکلیف پہنچ جائے تو یہ آیت کے مفہوم کے معارض نہیں۔ برخلاف اس کے آخرت کا ثواب کا ذکر فرماتے ہوئے (یُؤْتِ کُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَہٗ ) فرمایا یعنی ہر زیادہ عمل کرنے والے کو زیادہ ثواب ملے گا اس میں لفظ ” کل “ کا اضافہ ہے۔ پھر فرمایا (وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ کَبِیْرٍ ) اور اگر تم اس سے اعراض کرو جو میں نے تم کو بتایا نہ توحید کو مانو نہ بشارت کو قبول کرو نہ ڈرانے کا اثر لو تو مجھے اندیشہ ہے کہ تم بڑے دن کے عذاب میں گرفتار ہوجاؤ گے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ (یَوْمٍ کَبِیْرٍ ) (بڑے دن) سے قیامت کا دن مراد ہے اور بعض حضرات نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس سے دنیاوی عذاب مراد ہے۔
Ayah 11:4

اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 11:4 in the Quran reader

تم کو اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

(اِلَی اللّٰہِ مَرْجِعُکُمْ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) (اللہ ہی کی طرف تم سب کو لوٹنا ہے اور وہ ہر چیز پر قاد رہے) اسے سب کو لوٹانے پر بھی قدرت ہے اور ہر ایک کو پورا پورا بدلہ دینے پر بھی قدرت ہے۔
Ayah 11:5

اَلَاۤ اِنَّهُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْهُ١ؕ اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَهُمْ١ۙ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ۚ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 11:5 in the Quran reader

خبردار وہ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں تاکہ وہ اس سے چھپا لیں خبردار جب وہ اپنے کپڑوں کو اوڑھ لیتے ہیں وہ اس وقت سب باتیں جانتا ہے جو پوشیدہ طور پر کرتے ہیں اور جو بظاہر کرتے ہیں بلاشبہ وہ سینوں کے اندر کی چیزوں کو جانتا ہے۔

اَلَا اِنَّھُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَھُمْ کا سبب نزول : پھر فرمایا (اَلَا اِنَّھُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَھُمْ ) (الایۃ) اس آیت کا سبب نزول بتاتے ہوئے معالم التنزیل (ص 373 ج 2) میں عبد اللہ بن شداد سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت ایک منافق کے بارے میں نازل ہوئی جس کا طریقہ یہ تھا کہ جب وہ رسول اللہ ﷺ کے قریب سے گزرتا تھا تو اپنا سینہ پھیر کر اور کمر کو خم دے کر اور سر کو جھکا کر اور چہرہ کو ڈھک کرجاتا تھا تاکہ آنحضرت ﷺ اسے نہ دیکھ سکیں۔ اور حضرت قتادہ (رح) نے فرمایا کہ منافقین اپنے سینوں کو پھیر کر بیٹھتے تھے تاکہ اللہ کی کتاب نہ سن پائیں اور اللہ کا ذکر ان کے کانوں میں نہ آجائے اور بعض حضرات سے یوں بھی نقل کیا ہے کہ بعض کافر گھر میں داخل ہو کر پردہ ڈال کر اپنی کمر کو موڑ اور کپڑا اوڑھ کر لیٹ جاتے تھے اور کہتے تھے کہ کیا اللہ کو اب بھی معلوم ہوگا جو کچھ میرے دل میں ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ خبردار وہ لوگ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں تاکہ اللہ سے چھپ جائیں۔ خوب سمجھ لیں کہ جب وہ اپنے کپڑے اوڑھتے ہیں اس وقت بھی اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے۔ اقوال اور افعال جو ظاہری چیزیں ہیں وہ ان کو اور دلوں کے ارادوں اور وسوسوں کو اور سب کو جانتا ہے آخری الفاظ یعنی (اِنَّہٗ عَلِیْمٌ م بِذَات الصُّدُوْرِ ) میں بتادیا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے رسول سے دشمنی کرتے ہیں بغض اور کینہ میں مرے جاتے ہیں اسلام کے خلاف جو سازشیں کرتے ہیں اور تدبیریں سوچتے ہیں اللہ تعالیٰ کو ان سب کا علم ہے۔
Ayah 11:6

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا١ؕ كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 11:6 in the Quran reader

اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں ہے جس کی روزی اللہ کے ذمہ نہ ہو اور وہ ہر ایک کے ٹھکانا کو جانتا ہے وہ ٹھکانہ زیادہ عرصہ رہنے کا ہو یا چند رہنے کا ہو سب کچھ کتاب مبین میں ہے

زمین پر جتنے بھی چلنے پھرنے والے ہیں سب کا رزق اللہ کے ذمہ ہے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ کی صفت علم کو بتایا ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے اور ان آیات میں رزاقیت اور خالقیت بیان فرمائی ‘ ارشاد فرمایا کہ زمین پر جتنے بھی چلنے پھرنے والے ہیں۔ انسان ہوں یا حیوان چھوٹے ہو یا موٹے جانور ہوں ‘ کیڑے مکوڑے ہوں ان سب کا رزق اللہ کے ذمہ ہے ‘ یعنی ان کا رزق اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لگا لیا ہے یہ اس کا فضل وکرم ہے مہربانی ہے کیونکہ اس پر کسی کا کوئی حق اور رزق واجب نہیں ہے۔ زمین پر چلنے پھرنے والے ہیں ان سب کے جو ٹھکانے ہیں اسے سب کا علم ہے اور اسے سب کے رہنے کی جگہوں کا پتہ ہے ایسا نہیں کہ وہ اپنی مخلوق میں سے کسی چیز کو بھول گیا ہو وہ اپنے علم کے موافق اپنی ساری مخلوق کو رزق پہنچاتا ہے۔ پہاڑوں کے اندر رہنے والے کیڑے اور زمین کے سوراخوں میں آباد ہونے والی چیونٹیاں اور دوسری مخلوق اور سمندروں کی تہوں میں رہنے والے جانور سب اس کے علم میں ہیں وہ سب کو روزی پہنچاتا ہے۔ مُسْتَقَرَّھَا وَمُسْتَوْدَعَھَا کی تفسیر : مستقر ومستودع کی تفسیر کئی طرح سے کی گئی ہے۔ ہم نے جو ترجمہ میں ان دونوں کا معنی اختیار کیا ہے وہ شان رازقیت کی توضیح سے قریب تر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ زمین پر رہنے والوں کے ٹھکانے دو طرح کے ہیں کچھ تو وہ ہیں جن میں ان کا مستقل قیام ہے اور کچھ عارضی ٹھکانے ہیں جہاں تھوڑی دیر کے لئے ٹھہرنا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دونوں ٹھکانوں پر رزق پہنچاتا ہے۔ بعض چیزیں ایک برا عظم میں پیدا ہو رہی ہیں اور دوسرے براعظم کے لوگ کھا رہے ہیں یہ سب کے سامنے ہے اور یہ روزانہ کا مشاہدہ ہے صاحب روح المعانی نے بحوالہ مستدرک حاکم حضرت ابن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے کہ مستقر سے ماں کا رحم اور مستودع سے موت آنے کے مواقع مراد ہیں اور مطلب اس کا یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ کو ہر رزق پانے والے کی ابتدائی حالت کا علم ہے کہ اسے کس وقت سے رزق کی حاجت ہوتی ہے اور اسے یہ بھی معلوم ہے کہ اس کی حاجت کب ختم ہوگی یعنی موت کے وقت رزق کی حاجت ختم ہوجائے گی اور موت کب ہوگی ‘ کہاں ہوگی اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے۔ رزق پانے والے کی زندگی جس جگہ ختم ہوگی اس جگہ کا اس کو علم ہے وہ اس کے وہاں پہنچنے تک اس کو رزق دیتا رہے گا۔ رزق مقدر پورا کئے بغیر کسی کو موت نہ آئے گی : اللہ تعالیٰ نے جس کے لئے جتنا رزق مقدر فرما دیا ہے اس کو پورا کئے بغیر وہ دنیا سے نہیں جاسکتا ‘ جتنا رزق مقدر ہے وہ مل کر ہی رہے گا حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بیشک میرے دل میں جبرائیل امین نے یہ بات ڈال دی ہے کہ اس وقت تک کسی شخص کو موت نہ آئے گی جب تک کہ وہ اپنارزق پورا نہ کرلے ‘ سو تم لوگ اللہ سے ڈرو اور رزق طلب کرنے میں خوبی کا خیال رکھو اور رزق ملنے میں دیر ہوجائے تو اللہ کی نافرمانیوں کے ذریعہ طلب نہ کرو کیونکہ اللہ کا فضل اس کی نافرمانی کے ذریعہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ (رواہ الحاکم کما فی الترغیب ص 535 ج 3) حضرت ابو درداء ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ رزق بندہ کو اسی طرح طلب کرلیتا ہے جس طرح سے موت طلب کرلیتی ہے۔ (رواہ ابن حبان فی صحیحہ والبز ار کما فی الترغیب ص 535 ج 2) اور حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے اگر کوئی شخص اپنے رزق سے بھاگے تو وہ اسے پکڑ لے گا جیسا کہ اسے موت پکڑ لے گی۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط والصغیر باسناد حسن کما فی الترغیب ص 536 ج 2) حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک کھجور پڑی ہوئی دیکھی آپ نے اسے لے لیا وہیں پر ایک سائل موجود تھا وہ کھجور آپ نے اسے عطا فرما دی اور فرمایا کہ خبردار اگر تو اس کے پاس نہ آتا تو یہ تیرے پاس آجاتی۔ (رواہ الطبرانی با سناد جید کما فی الترغیب ص 536 ج 2)
Ayah 11:7

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ لَئِنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 11:7 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو چھ دن میں پیدا فرمایا اور اس کا عرش پانی پر تھا تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں اچھا عمل کرنے والا کون ہے اور اگر آپ ان سے کہیں کہ بیشک تم موت کے بعد اٹھائے جاؤ گے تو کافر لوگ ضروریوں کہیں گے Missing

اللہ تعالیٰ بڑا رحیم وکریم ہے وہ کافروں کو بھی رزق دیتا ہے اور فاسقوں کو بھی۔ ممکن ہے کہ کسی کو یہ اشکال ہو کہ بہت سے لوگوں کو فاقے ہوجاتے ہیں اور بہت سے لوگ فاقہ کشی میں مرجاتے ہیں اس وقت ان کا رزق کیوں نہیں پہنچتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کا رزق مقرر اور مقدر فرمایا ہے رزق کی جو مقدار مقرر ہے وہ ضرور پہنچے گی زندگی بھر میں ہر ایک کا رزق مقرر پورا پہنچ جائے گا۔ ہر وقت ملے اور ہمیشہ ملے اس کا وعدہ نہیں ہے اگر کوئی شخص بھوک کی وجہ سے مرجائے تو اس کا رزق مقرر اس سے پہلے ختم ہوچکا ہے اور موت کے وقت تک جس کسی کا رزق باقی ہے وہ اسے پہنچ جاتا ہے بعض انسان کھاتے کھاتے مرجاتے ہیں اور بعض مرنے والوں کے منہ میں حاضرین پانی وغیرہ دے دیتے ہیں ‘ پھر فرمایا (وَھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ) (اللہ وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو چھ دن میں پیدا فرمایا) یہ مضمون سورة الاعراف کے ساتویں رکوع میں اور سورة یونس کے پہلے رکوع میں گزر چکا ہے پھر فرمایا : (وَکَانَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَاءِ ) (اور اس کا عرش پانی پر تھا) یعنی جب اس نے آسمان و زمین پیدا فرمائے اس کا عرش پانی پر تھا۔ معلوم ہوا کہ پانی اور عرش دونوں آسمان اور زمین کی پیدائش سے پہلے پیدا ہوئے۔ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا : پھر فرمایا (لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا) (تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ اچھا عمل کرنے والا کون ہے) آسمانوں کو اور زمین کو پیدا فرمایا ان کا وجود ہی خالق کو پہچاننے کیلئے کافی ہے پھر ان میں طرح طرح کی دوسری جو مخلوق ہے جن میں انسان بھی ہیں ان کے مختلف حالات اور حاجات پورا کرنے کا سامان یہ سب چیزیں خالق مالک اور مد برالامر اور حکیم اور قادر مطلق کی ذات عالی اور اس کی صفات جلیلہ پر دلالت کرتی ہیں۔ جب کوئی شخص غور کرے گا تو خالق کی توحید پر ایمان لانے کیلئے اپنی عقل کے فیصلے کے مطابق مجبور ہوگا اور جب خالق جل مجدہ پر ایمان لائے گا تو اس کی عبادت بھی کرے گا اور ایسے اخلاق اور اعمال اختیار کرے گا جو اس کے خالق ومالک کو پسندیدہ ہوں ‘ خالق جل مجدہ کی معرفت اسے خالق تعالیٰ شانہ کی عبادت پر متوجہ کرے گی پھر معرفت والوں کے بھی درجات مختلف ہیں اور عبادت کرنے والوں کے بھی لہٰذا عمل کرنے والوں کے اعمال اچھائی اور خوبی کے اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں۔ اس تقریر سے (لِیَبْلُوُّکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا) کا مطلب اور ماقبل سے ربط واضح ہوگیا۔ حاصل مطلب یہ ہوا کہ اللہ نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا فرمایا تاکہ تم ان کو دیکھ کر توحید پر استدلال کرو اور اس نے جو تمہاری حاجات پورا کرنے کا سامان پیدا فرمایا ہے اس سے منتفع ہو کر اس کا شکر ادا کرو اور اعمال صالحہ میں لگو اور اچھے سے اچھے عمل کی کوشش کرو۔ آسمانوں اور زمین کی تخلیق تمہاری جانچ اور امتحان کیلئے ہے۔ قال صاحب روح المعانی ص 10 ج 12 أَیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا فِیْھِمَا مِنَ الْمَخْلُوْقَاتِ الَّتِیْ مِنْ جُمْلَتِھَا اَنْتُمْ وَرَتَّبَ فِیْھِمَا جَمِیْعَ مَا تَحْتَاجُوْنَ اِلَیْہِ مِنْ مَبَادِیْ وُجُوْدِکُمْ وَاَسْبَابِ معَاشِکُمْ وَاَوْدَعَ فِیْ تَضَاعِیْفِھِمَا مَا تَسْتَدِلُوْنَ بِہٖ مِنْ تَعَاجِیْبِ الصَّنَاءِعِ وَالْعِبَرِ عَلٰی مُطَالِبِکُمُ الدِّیْنِیَّۃِ لِیُعَامَلَکُمْ مُعَامَلَۃَ مَنْ یَخْتَبِرُکُمْ (اَیُّکُمَ اَحْسَنُ عَمَلًا) فَیُجَازِیْکُمْ حَسْبَ أَعْمَالِکُمْ (صاحب روح المعانی فرماتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین اور ان میں بسنے والی مخلوقات پیدا فرمائی جس میں تم بھی ہو اور آسمان و زمین میں تمہارے وجود کی ضروریات اور تمہارے معاش وغیرہ اور تمہاری تمام ضروریات ترتیب سے رکھ دیں۔ اور ان دونوں میں چیزیں ایسے طریقہ سے رکھیں جن سے تم مختلف قسم کی کاری گریاں اخذ کرتے ہو اور دینی فرائض کی انجام دہی میں عبرت پکڑتے ہوتا کہ وہ تمہارے ساتھ وہ معاملہ کرے جو تم اس آدمی سے کرتے ہو جس کا امتحان مقصود ہوتا ہے تاکہ دیکھے کہ تم میں سے کون سب سے اچھا عمل کرنے والا ہے۔ پھر تمہیں تمہارے اعمال کے مطابق جزاء دے) کثرت عمل سے زیادہ حسن عمل کی کوشش کی جائے : (أَحَسْنُ عَمَلًا) فرمایا اور اَکْثَرُ عَمَلًا نہیں فرمایا بعض اکابر نے اس سے یہ استنباط کیا ہے کہ عمل اچھے سے اچھا ہونا چاہئے اگرچہ مقدار میں کم ہو اور ہر عمل میں اچھائی دو طرح سے آتی ہے اس میں اخلاص ہو یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا مطلوب ہو دوم یہ ہے کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کے مطابق ہو ‘ بہت سے لوگ عمل زیادہ کرتے ہیں لیکن اخلاص نہیں ہوتا یا اپنے خیال میں مخلص ہوتے ہیں لیکن عمل اس طریقہ کے مطابق نہیں ہوتا جو شرعاً مطلوب ہو یہ دونوں چیزیں ثواب کو کھو دینے والی ہیں ‘ حضرت معاذ بن جبل ؓ کو جب آنحضرت ﷺ نے یمن کی طرف عامل بنا کر بھیجا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے کچھ وصیت فرمائیے آپ نے فرمایا اخلص دینک یکفک العمل القلیل 1 ؂ (تو اپنے دین میں اخلاص رکھ تجھے تھوڑا عمل بھی کافی ہوگا) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے برا چور وہ ہے جو اپنی نماز سے چوری کرتا ہے عرض کیا گیا کہ اپنی نماز سے کیسے چراتا ہے ؟ فرمایا اس کا رکوع سجدہ پورا نہیں کرتا۔ (الترغیب ص 338 ج 1) اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس بندہ کی نماز کی طرف توجہ نہیں فرماتا جو رکوع اور سجدے کے درمیان کمر کو سیدھا نہیں کرتا۔ (الترغیب ص 338 ج 1 عن احمد) معلوم ہوا کہ نماز ٹھیک پڑھنا اچھی طرح پڑھنا یہ نماز کی خوبی ہے۔ لپ چھپ جلدی جلدی رکوع سجدہ کر کے نماز کو خراب نہ کرے فرائض میں بھی اس کا دھیان رکھے اور غیر فرض میں بھی نفلوں کی زیادہ رکعتیں جلدی جلدی رکوع اور سجدہ کر کے ناقص پڑھنے سے یہ بہتر ہے کہ رکعتیں کم ہوں اور نماز سنت کے مطابق ہو۔ نماز کے بارے میں یہ ہدایات فرمائی ہیں کہ پیشاب پاخانہ کا تقاضا ہوتے ہوئے نماز نہ پڑھیں یہ ہدایات اس لئے ہیں کہ اچھی نماز ہو جس طرح نماز میں عمدگی اختیار کرنا لازم ہے اسی طرح اسلام کے دیگر اعمال میں عمدگی اور خوبی کو اختیار کرے کثرت عمل کو نہ دیکھے حسن عمل کو دیکھے وضو بھی خوبی کے ساتھ کرے یعنی پانی اچھی طرح پہنچائے اور لپ چھپ نہ کرے غور کرنے سے حسن عمل کی بہت سی صورتیں سمجھ میں آجائیں گی۔ اس تشریح کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عمل کم کرے بلکہ مطلب یہ ہے کہ اچھا عمل کرے خوبی کے ساتھ انجام دے اچھا عمل اگر زیادہ ہو تو یہ اور 1 ؂ الترغیب والترہیب ص 54 ج 1 اچھی بات ہے اور یہ کثرت حدود شریعت کے اندر ہو۔ اس کے بعد فرمایا (وَلَءِنْ قُلْتَ اِنَّکُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْم بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ کَفَرُوْا اِنْ ھٰذَا اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ) (الآیۃ) اگر آپ ان سے کہیں کہ تم موت کے بعد اٹھائے جاؤ گے (اور اس بارے میں قرآنی آیات ان کے کانوں میں پڑیں گی) تو کہہ دیں گے کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے قرآن کے الفاظ اور معانی سے مخاطبین متاثر ہوتے تھے لیکن اسے قبول کرنے کی بجائے یوں کہہ دیتے تھے کہ یہ جادو ہے حق سے منہ موڑنے کے لئے انہوں نے یہ ایک بہانہ نکالا تھا۔
Ayah 11:8

وَ لَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُهٗ١ؕ اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْهِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 11:8 in the Quran reader

Missing کہ عذاب کو کون سی چیزروک رہی ہے خبردار جس دن ان کے پاس عذاب آجائے گا تو وہ ان سے ہٹایا نہ جائے گا اور جس کا وہ مذاق بنایا کرتے تھے وہ ان کو گھیر لے گا۔

پھر کافروں کی مزید جسارت کا ذکر فرمایا (وَلَءِنْ اَخَّرْنَا عَنْھُمُ الْعَذَابَ اِلٰی اُمِّۃٍ مَّعْدُوْدَۃٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُہٗ ) (اور اگر ہم مدت معلومہ تک عذاب کو ملتوی کردیں تو یہ لوگ یوں کہیں گے کہ اس کو کس نے روک رکھا ہے) اس بات کے کہنے سے ان کے دو مقصد تھے۔ ایک تو وعید کو جھٹلایا اور مطلب یہ تھا کہ یہ جو آپ کہتے ہیں کہ عذاب آئے گا اور ہمیں مورد عذاب ٹھہراتے ہیں وہ آ کیوں نہیں رہا اسے کس نے روک رکھا ہے۔ دوسرے آخرت کے بارے میں مطلب یہ تھا کہ جیسے دنیا میں عذاب کی وعیدیں سناتے ہیں اور عذاب نہیں آتا ایسے ہی موت کے بعد اٹھایا جانا اور عذاب ہونا یہ بھی ایسی ہی بات ہے جو واقع ہونے والی نہیں ہے۔ اللہ جل شانہ نے فرمایا۔ (اَلاَ یَوْمَ یَاْتِیْھِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْھُمْ ) (خبردار جس دن ان کے پاس عذاب آجائے گا تو اسے ہٹایا نہ جائے گا) (وَحَاقَ بِھِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِءُوْنَ ) (اور وہ چیز انہیں گھیرلے گی جس کا مذاق بناتے تھے) اللہ تعالیٰ نے عذاب مؤخر کر رکھا ہے اس کا وقت معین ہے حکمت کے مطابق وقت معین پر اللہ تعالیٰ بھیج دے گا جب عذاب بھیج دے گا تو ٹلے گا نہیں اور یہ جو کچھ اس کا مذاق بناتے ہیں اس کا انجام دیکھ لیں گے۔
Ayahs 11:9–11

وَ لَئِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ١ۚ اِنَّهٗ لَیَئُوْسٌ كَفُوْرٌ Open ayah 11:9 in the Quran reader

اور ہم اگر انسان کو اپنی رحمت چکھا دیں پھر ہم اسے اس سے چھین لیں تو وہ ناامید ناشکرا ہوجاتا ہے

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌۙ Open ayah 11:10 in the Quran reader

اور اگر کسی تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی تھی ہم اسے نعمت چکھا دیں تو وہ کہتا ہے کہ میری ساری بدحالیاں دفع ہوگئیں بیشک وہ اترانے لگتا ہے شیخی بگھارتا ہے

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 11:11 in the Quran reader

سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے صبر کو اختیار کیا اور نیک کام کرتے رہے یہ وہ لوگ ہیں جن کیلئے مغفرت ہے اور بڑا اجر ہے۔

نا امیدی ‘ ناشکری ‘ اترانا ‘ شیخی بگھارنا انسان کا خاص مزاج ہے ان دو آیتوں میں انسان کا مزاج اور اس کا طرز عمل بیان فرمایا کہ اگر ہم انسان کو اپنی رحمت اور مہربانی کا مزہ چکھا دیں اور پھر اس سے چھین لیں تو وہ ناامید بھی ہوجاتا ہے اور ناشکرا بھی ‘ نعمت کے چلے جانے کی وجہ سے واویلا کرتا ہے صبر کر کے آئندہ بھلائی اور خیر کی جو امید ہونی چاہئے تھی اسے بالکل ختم کردیتا ہے اور نہ صرف یہ کہ آئندہ کے لئے ناامید ہوجاتا ہے بلکہ اس سے پہلے جن نعمتوں میں تھا ان کا شکر بھی ادا نہیں کرتا اور جو موجودہ نعمتیں ہیں ان کے شکر سے بھی باز رہتا ہے انسان کے طرز عمل کا دوسرا رخ یہ ہے کہ جب اسے دکھ تکلیف کے بعد نعمت مل جائے تو اس نعمت کا مزہ چکھنے کے بعد کہتا ہے کہ میرا سب دکھ درد رخصت ہوا اب تو میں نعمتوں ہی میں رہوں گا اور اپنے وہم میں یہ بات بھی نہیں لاتا کہ یہ نعمتیں چھینی جاسکتی ہیں اور رخصت ہوسکتی ہیں اللہ تعالیٰ کی ناشکری میں لگ جاتا ہے اور پھولا نہیں سماتا۔ اترانے لگتا ہے شیخی بگھارتا ہے دوسروں کے مقابلہ میں اپنے کو بڑا سمجھتا ہے ‘ یہ انسانوں کا عام مزاج ہے۔ البتہ کچھ لوگ مستثنیٰ بھی ہوتے ہیں جنہیں (اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ) میں بیان فرمایا ہے یعنی انسانوں میں وہ لوگ بھی ہیں جو صبر کرتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں ‘ یہ لوگ نعمت جانے پر اور مصیبت کے آنے پر صبر کرتے ہیں اعمال صالحہ میں مشغول رہتے ہیں ‘ جن میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر بھی ہے ‘ وہ نیک اعمال میں لگے رہتے ہیں خوشحالی اور دکھ تکلیف کی حالت میں اعمال صالحہ کو نہیں چھوڑتے ‘ نہ اللہ تعالیٰ سے ناامید ہوتے ہیں نہ نعمتوں پر اتراتے ہیں نہ شیخی بگھارتے ہیں نہ دوسروں کو حقیر جانتے ہیں ‘ صبرو توکل کی شان سے متصف ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے خوشحالی کی امید رکھتے ہیں ایسے لوگوں کا انعام بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا (اُولٰٓءِکَ لَھُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّاَجْرٌ کَبِیْرٌ) ان کے لئے عظیم مغفرت ہے اور بڑا اجر ہے جو ابدی نعمتوں کی صورت میں انہیں ملے گا۔
Ayahs 11:12–14

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ ضَآئِقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌؕ Open ayah 11:12 in the Quran reader

سو ایسا ہونے والا تو نہیں ہے کہ آپ ان احکام میں سے بعض احکام کو چھوڑ دیں جو آپ کے پاس وحی کے ذریعہ بھیجے جاتے ہیں اور اس بات سے آپ کا دل تنگ ہو رہا ہے کہ وہ یوں کہہ رہے ہیں کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نازل نہیں کیا گیا یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں اور اللہ ہر چیز کا اختیار رکھنے والا ہے

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 11:13 in the Quran reader

کیا وہ یوں کہتے ہیں کہ اس نے خود سے بنالیا ہے آپ فرما دیجئے کہ تم اس جیسی دس سورتیں لے آؤ جو بنائی ہوئی ہوں اور اللہ کے سوا جس کو بھی بلا سکتے ہو بلا لو اگر تم سچے ہو

فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 11:14 in the Quran reader

سو اگر وہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو یقین کرلو کہ یہ اللہ کے علم کے مطابق اتارا گیا ہے اور یہ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو کیا تم اسلام قبول کرنے والے ہو۔

منکرین کو چیلنج کہ قرآن جیسی دس سورتیں بنا کر لائیں شروع سورت میں اللہ تعالیٰ کی توحید بیان فرمائی اور اس کی صفت قدرت صفت رازقیت اور صفت خالقیت کو بیان فرمایا پھر بعث بعد الموت کے منکرین کی تردید فرمائی۔ پھر انسان کا مزاج بتایا کہ وہ نعمتوں کے چلے جانے پر ناامید اور ناشکرا ہوجاتا ہے۔ اور نعمتیں ملنے پر شیخی بگھارتا ہے اور فخر و غرور میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ انسان کی یہ صفات آخرت پر ایمان نہیں لانے دیتی ہیں اللہ تعالیٰ شانہ نے اپنی کتاب اور اپنے رسول ﷺ کے ذریعہ توحید کی بھی دعوت دی اور آخرت پر ایمان لانے کا بھی حکم فرمایا لیکن یہ لوگ نہ اللہ کے رسول کو مانتے تھے اور نہ اللہ کی کتاب پر ایمان لاتے تھے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کے لئے انہوں نے یہ بات نکالی تھی کہ یہ کیسے رسول ہیں نہ کوئی خزانہ ان کو دیا گیا اور نہ ان کے ساتھ کوئی فرشتہ آیا جو ان کی تصدیق کرتا ان باتوں کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کو دکھ ہوتا تھا اور قلبی اذیت پہنچتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خطاب کر کے فرمایا کہ آپ تنگدلی کی وجہ سے بعض ان چیزوں کو چھوڑ تو نہ بیٹھیں گے جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہیں اور وہ کافروں کو ناگوار ہیں اور چونکہ آپ ایسا نہیں کرسکتے لہٰذا تنگ دل ہونے کا کوئی فائدہ نہیں۔ پھر فرمایا (اِنَّمَا اَنْتَ نَذِیْرٌ) (آپ صرف ڈرانے والے ہیں) اگر یہ لوگ ایمان نہ لائیں تو آپ کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ آپ نے اللہ کی بات پہنچا دی ‘ آپ کی ذمہ داری اتنی ہی ہے۔ (وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ وَّکِیْلٌ) (اور اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا اختیار ہے) یہ لوگ جو معجزات کی فرمائش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے کہ ان کی مرضی کے مطابق معجزات ظاہر فرمائے یا ظاہر نہ فرمائے ‘ جو معجزات سامنے ہیں وہ کیا کم ہیں جسے ماننا نہیں وہ فرمائشی معجزہ دیکھ کر بھی نہ مانے گا ‘ ان کے سامنے جو معجزات موجود ہیں ان میں قرآن مجید بہت بڑا معجزہ ہے اس قرآن کے بارے میں کہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے خود سے بنا لیا ہے ‘ آپ ان سے فرما دیجئے کہ تم اس جیسی دس سورتیں اپنی بنائی ہوئی لے آؤ اور اللہ کے سوا جس جس کو چاہو اپنی مدد کے لئے بلا لو اور اس کے مقابلہ میں پیش کرو اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ یہ محمد ﷺ کا بنایا ہوا ہے۔ محمد ﷺ تو تم ہی میں سے ایک فرد ہیں جنہوں نے کسی سے کچھ بھی نہیں پڑھا تم فصحاء بلغاء ہو تو قرآن جیسی بنائی ہوئی دس سورتیں لے آؤ اور دو چار دس افراد نہیں جس جس کو بھی چاہو اس کام کے لئے بلا لو اور اپنے ساتھ لگا لو یہ بہت بڑا چیلنج ہے جسے آج تک کوئی بھی قبول نہیں کرسکا۔ جس کے سامنے بات آئی ہر ایک اپنا سا منہ لے کر رہ گیا ‘ پہلے دس سورتیں بنانے کا چیلنج کیا گیا تھا پھر ایک سورت بنا کر لانے کے لئے فرمایا گیا کسی سے کچھ نہ ہوسکا درحقیقت قرآن بہت بڑا معجزہ ہے اور دائمی معجزہ ہے۔ آخر میں فرمایا (فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَکُمْ ) (الایۃ) جن جن کو قرآن جیسی سورت بنانے کی دعوت دو ۔ وہ جتنے بھی ہوں جہاں بھی ہوں اگر وہ تمہاری بات کو قبول نہ کریں اور اس بارے میں تمہاری مدد کے لئے کھڑے نہ ہوں (تو سمجھ لو کہ تمہارا یہ کہنا جھوٹ ہے کہ یہ قرآن محمد ﷺ نے بنا لیا ہے) (فَاعْلَمُوْا اَنَّمَا اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰہِ وَاَنْ لَّا اِلٰہَ الاَّ ھُوَ ) سو تم جان لو کہ یہ قرآن اللہ کے علم کے ساتھ نازل ہوا ہے اور یہ بھی جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں (فَھَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ) حقیقت ثابت اور واضح ہونے کے بعد اسلام میں داخل ہوتے ہو یا نہیں ؟
Ayahs 11:15–16

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ Open ayah 11:15 in the Quran reader

جو شخص دنیا کو اور اس کی زینت کو چاہتا ہے ہم اس کے اعمال کا بدلہ دنیا ہی میں پورا پورا دے دیں گے۔ اور اس میں ان پر ظلم نہ ہوگا۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖ٘ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 11:16 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آگ کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور دنیا میں انہوں نے جو کچھ کیا ہے وہ سب برباد ہوگیا۔ اور جو کچھ کرتے تھے وہ سب باطل ہوگیا۔

کافروں کے اعمال کا بدلہ دنیا ہی میں دے دیا جاتا ہے آخرت میں کوئی ثواب نہ ملے گا ان آیات میں اول تو ان لوگوں کی مذمت فرمائی جو دنیا کے طالب ہیں دنیا ہی ان کا مقصود ہے اور دنیا کو مقصود بنا لینے کی وجہ سے آخرت کے طلب گار نہیں وہ ایمان لانے کے روا دار نہیں ‘ دنیا اور دنیا کی زینت ہی ان کے نزدیک سب سے بڑی چیز ہے ایسے لوگ جو کچھ ایسے اعمال کرلیتے ہیں جو نیکی کے دائرے میں آسکتے ہیں مثلاً صلۂ رحمی یا فقراء و مساکین پر خرچ کرنا وغیرہ ‘ دنیا ہی میں ان کا بدلہ دے دیا جائے گا ‘ اور جب یہ اعمال آخرت میں حبط ہوجائیں گے یعنی ان کے عوض کچھ نہ ملے گا۔ اور دنیا داری کے اصول پر جو کام کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ ان میں ہماری کامیابی ہے وہ بھی وہاں بےفائدہ اور ناکارہ ثابت ہوں گے۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کسی مؤمن کی ایک نیکی کے عوض میں بھی کمی نہ فرمائے گا اس کی وجہ سے دنیا میں بھی عطا فرماتا ہے اور آخرت میں بھی دے گا لیکن کافر نے جو نیکیاں کیں جن میں اللہ کی رضا کا دھیان رکھا ان نیکیوں کے عوض اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں دے دیتا ہے یہاں تک کہ وہ جب آخرت میں پہنچے گا تو اس کے پاس ایک نیکی بھی نہ ہوگی۔ جس پر اسے ثواب دیا جائے۔ (رواہ مسلم) کافر جو دنیا میں کچھ ایسے عمل کرتے ہیں جو نیکی کی فہرست میں آسکتے ہیں مثلاً مریضوں کا مفت علاج کردیا۔ شفا خانے بنوا دئیے ‘ سڑکیں تیار کردیں پانی کی سبیلیں لگا دیں ان کی وجہ سے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں آخرت میں ان چیزوں کا ثواب ملے گا بلکہ مسلمانوں کی زبان سے جو یہ سنتے ہیں کہ جو مسلمان نہیں اسے آخرت میں دائمی عذاب ہوگا تو کہتے ہیں کہ ہم تو اللہ کو مانتے ہیں اور اللہ کی رضا کے لئے ایسے ایسے کام کرتے ہیں پھر ہمیں عذاب کیوں ہوگا ؟ ان لوگوں کو واضح طور پر بتادیا کہ دنیا میں جو نیک عمل ہیں ان کا بدلہ تمہیں دنیا ہی میں دے دیا جائے گا اور کفر اور معصیت کی وجہ سے تمہارے لئے عذاب ہی عذاب ہے۔ ایک جاہلانہ اعتراض کا جواب : اس سے بہت سے مسلمانوں کی اس غلط فہمی کا بھی جواب ہوگیا کہ کافر تو مزے اڑاتے ہیں اور ہم تکلیف میں ہیں ‘ اول تو نہ سارے مسلمان تکلیف میں ہیں اور نہ سارے کافر راحت میں ہیں دوسرے کافر کو آخرت میں آرام ملتا ہی نہیں اس کے اعمال کا بدلہ یہیں دیا جا رہا ہے اور تمہارے اعمال کا بدلہ محفوظ کرلیا گیا ہے۔ پھر جو تکلیفیں ہیں ان پر بھی ثواب ملے گا پھر کس چیز کا واویلا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کے قانون کو سمجھو ‘ کافروں کو دیکھ کر کیوں رال ٹپکاتے ہو ‘ بعض جاہل کہہ دیتے ہیں جو بجلی گرتی ہے وہ مسلمان ہی کے آشیانہ کو تلاش کرتی ہے اور بعض جاہل کہتے ہیں کہ غیروں کے لئے محلات اور قصور اور مسلمانوں سے صرف وعدہ حور یہ گمراہی کی باتیں ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کے قانون پر اعتراض ہے ‘ قصداً اعتراض کرے تو کفر عائد ہوجاتا ہے ‘ ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ رسول اللہ ﷺ کے سامنے حاضر ہوئے اس وقت آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے آپ کے نیچے کوئی بچھونا نہیں تھا اور آپ کے جسم میں چٹائی کی بناوٹ کے نشان پڑگئے تھے اور تکیہ بھی چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ اللہ سے دعا کیجئے تاکہ وہ آپ کی امت کو مالی وسعت عطا فرما دے۔ کیونکہ فارس و روم کے لوگوں کو مالی وسعت دی گئی ہے حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے آپ ﷺ نے فرمایا اے خطاب کے بیٹے تم ابھی تک ان ہی خیالات میں مبتلا ہو ؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کی مرغوب چیزیں انہیں دنیا میں دے دی گئی ہیں۔ ایک اور روایت میں یوں ہے کہ کیا تم لوگ اس پر راضی نہیں ہو کہ مرغوب چیزیں ان کے لئے دنیا میں ہوں اور ہمارے لئے آخرت میں ہوں۔ (رواہ البخاری کما فی المشکوٰۃ ص 447)
Ayah 11:17

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ١ۚ فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ١ۗ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 11:17 in the Quran reader

جو شخص قرآن پر قائم ہے جو اس کے رب کے پاس سے آیا ہے اور اس کے ساتھ اسی میں سے گواہ بھی ہے اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت تھی کیا منکر آدمی اس کے برابر ہوسکتا ہے۔ یہ لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں اور جماعتوں میں سے جو شخص اس کا منکر ہو سو دوزخ اس کی جگہ ہے جس میں اس کے بھیجنے کا وعدہ ہے۔ سو اے مخاطب تو اس کے بارے میں شک میں نہ پڑ بیشک وہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے اور لیکن بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے۔

پھر فرمایا (اَفَمَنْ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَبِّہٖ ) (الایۃ) اس کے شروع میں جو ہمزہ ہے یہ استفہام انکاری کے لئے ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ ایک وہ شخص ہے جو قرآن کو تھامے ہوئے ہے اس کی سچائی کا عقیدہ رکھتا ہے اور اس کے پاس قرآن کی سچائی کے دو گواہ موجود ہیں ایک تو خود قرآن کے اندر ہی ہے یعنی اس کا اعجاز اور اس کی فصاحت و بلاغت اور دوسرا گواہ دنیا میں قرآن کے آنے سے پہلے ہی موجود ہے ‘ یعنی تورات شریف جو موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی ‘ جو کتاب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے وہ امام بھی ہے اور احکام قرآنیہ کی تصدیق کرتی ہے اور امتثال او امر پر جو ثواب ملنے کے اللہ تعالیٰ نے وعدے فرمائے ہیں وہ تورات میں بھی ہیں اور قرآن مجید میں بھی ہیں تورات ان کی تصدیق کرتی ہے لہٰذا وہ سراپا رحمت ہے۔ تورات شریف کی گواہی بھی قرآن کی سچائی کیلئے کافی ہے۔ اب سمجھ لیا جائے کہ جو شخص قرآن کو تھامے ہوئے ہے اور دلیل اور حجت کے ساتھ اس پر قائم ہے۔ کیا وہ شخص اس کے برابر ہوسکتا ہے جو قرآن کا منکر ہے یعنی ایسا نہیں ہوسکتا۔ یہاں عبارت قرآنی میں حذف ہے مفسرین کرام نے کئی طرح سے عبارت مقدر مانی ہے ہم نے مختصر الفاظ میں مفہوم لکھ دیا ہے۔ (اُولٰٓءِکَ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ ) یہ لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں۔ صاحب معالم التنزیل فرماتے ہیں کہ ان ایمان لانے والوں سے صحابہ کرام ؓ مراد ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ وہ تمام افراد مسلمان مراد ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا۔ (وَمَن یَّکْفُرْ بِہٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُہٗ ) (اور کافروں کی جماعتوں اور گروہوں میں سے جو شخص قرآن کا منکر ہو اس سے یہ وعدہ ہے کہ وہ دوزخ میں داخل ہوگا) (فَلَا تَکُ فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْہُ ) (تو اے مخاطب تو قرآن کی طرف سے شک میں مت پڑ) (اِنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ ) (بےشک وہ تیرے رب کی طرف حق ہے) (وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ ) (لیکن بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے) ۔ اس میں واضح طور پر بتادیا کہ اہل اسلام کے علاوہ جتنے بھی گروہ اور جماعتیں ہیں وہ سب دوزخ میں جانے والے ہیں خواہ بظاہر کیسے ہی اچھے عمل کرتے ہوں اور خواہ اپنے دین کو آسمانی دین بتاتے ہوں۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے میرے نبی ہونے کی خبر جس کسی کو بھی پہنچے گی اور وہ اس دین پر ایمان لائے بغیر مرجائے جو دین میں دے کر بھیجا گیا ہوں تو وہ ضرور دوزخ والوں میں سے ہوگا چاہے یہودی ہو یا نصرانی (رواہ مسلم) یہود اور نصاریٰ کا ذکر خصوصیت سے اس لئے فرمایا کہ وہ اپنے پاس دین سماوی کے مدعی ہیں۔
Ayah 11:18

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ؕ اُولٰٓئِكَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ یَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 11:18 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا۔ یہ لوگ اپنے رب پر پیش کئے جائیں گے اور گواہی دینے والے کہیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی طرف نسبت کر کے جھوٹ بولا۔ خبردار ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے

ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے ‘ اور اہل ایمان کے لئے اللہ کی طرف سے جنت کا انعام مشرکین اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد تجویز کرتے تھے اور اس کے لئے شریک ٹھہراتے تھے اور جب انہیں اس بارے میں نصیحت کی جاتی تھی تو کہتے تھے۔ (ھٰٓؤُلٓاءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰہِ ) (کہ یہ اللہ کے یہاں ہمارے لئے سفارش کردیں گے) اور یوں بھی کہتے تھے۔ (مَا نَعْبُدُھُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَا اِلَی اللّٰہِ زُلْفٰی) (کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں گے) ظاہر ہے کہ یہ باتیں انہوں نے خود ہی تجویز کرلیں جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی چیز کی خبر نہ دی گئی ہو تو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا یہ افتراء ہے اور بہتان ہے اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کے لئے شریک تجویز کرنا پھر یہ کہنا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ یہ اللہ کے ہاں ہماری سفارش کردیں گے اور یہ کہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں گے اس کا معنی یہ نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو یہ بات بتادی گئی بلکہ اللہ کی کتابیں اور اللہ کے نبی اس کے خلاف بتاتے رہے لہٰذا ان لوگوں کے یہ سب دعوے للہ تعالیٰ پر بہتان ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر افتراء کرے اور اس ملک قدوس پر جھوٹ باندھے ان لوگوں کی رسوائی بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (اُولٰٓءِکَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰی رَبِّھِمْ ) (کہ یہ لوگ اللہ پر پیش کئے جائیں گے اس وقت ان کے دعو وں اور احوال واقوال کا حساب لیا جائے گا) (وَیَقُوْلُ الْاَشْھَادُ ھآؤُلَاءِ الَّذِیْنَ کَذَبُوْا عَلٰی رَبِّھِمْ ) (اور وہاں جو گواہ ہوں گے وہ کہیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا) گواہوں سے حضرات انبیاء کرام اور ملائکہ عظام (علیہ السلام) اور دیگر مؤمنین مراد ہیں اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ان کے اعضاء اور جوارح مراد ہیں جو ان کے خلاف گواہی دیں گے ‘ یہ گواہی دینے والے حضرات یہ اعلان بھی فرمائیں گے کہ (اَلاَ لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیْنَ ) (خبردار ‘ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے)
Ayah 11:19

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 11:19 in the Quran reader

جو اللہ کی راہ سے روکتے رہے اور اس میں کجی تلاش کرتے رہے اور یہ لوگ آخرت کے منکر ہیں۔

پھر ان ظالموں کی بری حرکتیں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ) (کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے رستہ سے روکتے رہے) (وَیَبْغُوْنَھَا عِوَجًا) (اور اللہ کے راستہ کے بارے میں کجی تلاش کرتے تھے) مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ کے دین میں عیب نکالتے تھے اس سے خود بھی بچتے تھے اور جو لوگ اسلام قبول کرچکے ان کو بھی اس سے ہٹانا چاتے تھے (وَھُمْ بالْاٰخِرَۃِ ھُمْ کٰفِرُوْنَ ) (اور وہ آخرت کے منکر ہیں)
Ayah 11:20

اُولٰٓئِكَ لَمْ یَكُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ١ۘ یُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ مَا كَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 11:20 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو زمین میں عاجز کرنے والے نہ تھے اور اللہ کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں ہے۔ ان کو دوہرا عذاب کردیا جائے گا۔ یہ لوگ سننے کی طاقت نہیں رکھتے تھے اور نہ دیکھتے تھے۔

پھر فرمایا (اُولٰٓءِکَ لَمْ یَکُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ ) (یہ لوگ زمین میں اللہ کو عاجز کرنے والے نہ تھے) کہ کہیں جا کر چھپ جاتے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر ہوجاتے اور موت سے بچ جاتے جب دنیا میں اللہ کو عاجز کر کے کہیں نہیں جاسکتے تھے تو آخرت میں کیسے چھوٹ کر جاسکتے ہیں۔ جہاں حساب کے لئے جمع کئے جائیں گے۔ (وَمَا کَانَ لَھُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ) (اور ان لوگوں کے لئے اللہ کے سوا کوئی بھی مددگار نہیں ہوگا) جن لوگوں کو سفارشی سمجھا تھا وہ کچھ بھی فائدہ نہ پہنچا سکے۔ (یُضٰعَفُ لَھُمُ الْعَذَابُ ) (ان کے لئے دوہرا عذاب کردیا جائے گا) ایک عذاب ان کے اپنے کفر کا اور دوسرا عذاب دوسروں کو ایمان سے روکنے کا اور کفر پر جمائے رکھنے کا (مَاکَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ ) (یہ لوگ سن نہیں سکتے تھے) یعنی حق سے دور بھاگتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کی باتیں سننے کو اس قدر مکر وہ جانتے تھے کہ گویا اپنی قوت سامعہ ہی ختم کرچکے تھے۔ (وَمَا کَانُوْا یُبْصِرُوْنَ ) (اور دیکھ نہیں پاتے تھے) یعنی اللہ کی معرفت کی نشانیاں جو خود ان کے اندر موجود ہیں اور جو دوسری مخلوق میں ہیں ان سے قصداً اور ارادۃً اندھے بن جاتے تھے (ان کی ضد اور عناد اور حق سے دور بھاگنے کی کوشش نے انہیں ایمان قبول نہ کرنے دیا)
Ayah 11:21

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 11:21 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی جانوں کو برباد کر بیٹھے اور وہ جو کچھ انہوں نے جھوٹ بنایا تھا وہ سب غائب ہوگیا

پھر فرمایا (اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْا اَنْفُسَھُمْ ) (کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی جانوں کا خسارہ کر بیٹھے) دنیاوی تجارت میں تو لوگوں کو اموال کا نقصان ہوتا ہے۔ لیکن ان کی تجارت ایسی برباد ہوئی کہ انہیں اپنی جانوں ہی کا خسارہ ہوگیا ‘ انہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی اور آخرت کے بدلے دنیا لے لی اور اس طرح اپنی جانوں ہی کو گنوا بیٹھے۔ اگر کسی کے دل میں یہ سوال اٹھے کہ خسارہ تو جب ہوتا ہے جب جانیں ختم ہوجاتیں اور ان کا وجود ہی نہ رہتا لیکن کافر کی جان دنیا میں بھی موجود ہے اور آخرت میں بھی موجود رہے گی پھر بھی جان کا خسارہ کیسے ہوا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جب کافر دوزخ میں جائے گا جو وہ موت سے بھی بدتر ہے جو جان برابر ہمیشہ کے لئے عذاب میں ہے وہ جان ہلاک بھی ہے اور برباد بھی ہے اور جان کہنے کے لائق بھی نہیں اسی لئے تو فرمایا (ثُمَّ لَا یَمُوْتُ فِیْھَا وَلَا یَحْییٰ ) (پھر وہ اس میں نہ مرے گا نہ زندہ رہے گا) پھر فرمایا (وَضَلَّ عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ) (اور ان سے وہ سب کچھ گم ہوگیا جو وہ جھوٹ باندھا کرتے تھے) یعنی معبود ان باطلہ کی سفارش کا جو گمان کر رکھا تھا۔ وہ جھوٹا خیال تھا اس نے کچھ کام نہ دیا۔
Ayah 11:22

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 11:22 in the Quran reader

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ لوگ آخرت میں سب سے زیادہ خسارہ میں ہوں گے

پھر فرمایا (لَا جَرَمَ اَنَّھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ ھُمُ الْاَخْسَرُوْنَ ) (یہ لازمی بات ہے جس میں کوئی شک نہیں کہ یہ لوگ آخرت میں خسارہ میں سب سے زیادہ بڑھ کر ہیں) اہل کفر کا انجام بتانے کے بعد اہل ایمان کا انعام وثواب بتایا۔
Ayah 11:23

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ١ۙ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 11:23 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور اپنے رب کی طرف جھکے یہ لوگ جنت والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

ارشاد ہے۔ (اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَخْبَتُوْا اِلٰی رَبِّھِمْ اُولٰٓءِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ) (بےشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے اور اپنے رب کی طرف جھکے یہ لوگ اہل جنت ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے) ۔
Ayahs 11:24–26

مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِیْرِ وَ السَّمِیْعِ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 11:24 in the Quran reader

دونوں فریق کی مثال ایسی ہے جیسا اندھا ہو اور بہرا ہو اور دیکھنے والا ہو اور سننے والا ہو۔ کیا دونوں حالت کے اعتبار سے برابر ہوں گے ؟ کیا تم نہیں سمجھتے !

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ١٘ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 11:25 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا انہوں نے کہا کہ میں تمہیں واضح طور پر ڈرانے والا ہوں

اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 11:26 in the Quran reader

کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو بلاشبہ میں تمہارے بارے میں میں ایک بڑے تکلیف دینے والے دن کے عذاب کا اندیشہ کرتا ہوں

اہل ایمان کا انعام اور اہل کفر کا انجام بیان فرمانے کے بعد دونوں فریق کی مثال بیان فرمائی (مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ کَالْاَعْمٰی وَالْاَصَمِّ وَالْبَصِیْرِ وَالسَّمِیْعِ ) (دونوں فریق کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص اندھا اور بہرا ہو اور دوسرا شخص دیکھنے والا اور سننے والا ہو) پہلی مثال کافر کی ہے۔ جو حق کی طرف سے اندھا اور بہرا بنتا ہے اور دوسری مثال مؤمن کی ہے جو دیکھتا بھی ہے اور سنتا بھی ہے اور حق کو قبول کرتا ہے اس نے اپنی سننے اور دیکھنے کی قوت ضائع نہیں کی (ھَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا) کیا یہ دونوں فریق اپنی حالت کے اعتبار سے برابر ہیں یعنی برابر نہیں ہیں جس طرح اندھا اور بہرا دیکھنے اور سننے والے کے رابر نہیں اسی طرح سے کافر اور مومن برابر نہیں (اَفَلاَ تَذَکَّرُوْنَ ) کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے) جس طرح دنیا میں دیکھنے والے اور سننے والے کو اچھے حال میں جانتے ہو اور اسے کامیاب سمجھتے ہو اور اندھے بہرے کو نامراد سمجھتے ہو اسی طرح کافر کو برباد اور مومن کو کامیاب سمجھو۔ فائدہ : قیامت کے دن کافروں کی رسوائی ہوگی اسی طرح اہل ایمان کا اعزازو اکرام ہوگا ان پر اللہ تعالیٰ شانہ کرم فرمائے گا اور ان کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مومن اپنے رب سے قریب ہوگا اور اللہ تعالیٰ شانہ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا اور اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا۔ کہ تجھے اپنا فلاں فلاں گناہ یاد ہے وہ اپنے گناہوں کا اقرار کرلے گا۔ اور وہ اپنے دل میں ہی سمجھ لے گا کہ میں تو ہلاک ہوگیا) یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے بندہ کے درمیان ہوگا ‘ (گناہوں کا اعلان نہیں کیا جائے گا) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ میں نے دنیا میں تیری پردہ پوشی کی اور آج ان گناہوں کو بخشتا ہوں اس کے بعد اس کی نیکیوں کا اعمالنامہ اسے دیدیا جائے گا۔ (جو داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اور یہ اس کے جنتی ہونے کی دلیل ہوگی) رہے کافر اور منافق تو ان کے بارے میں گواہی دینے والے گواہی دیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا ‘ خبردار ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔ (رواہ البخاری ص 330 ج 1)
Ayahs 11:27–28

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ١ۚ وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 11:27 in the Quran reader

اس پر سرداروں نے کہا جو کافر تھے کہ ہم تمہیں اپنے ہی جیسا آدمی دیکھ رہے ہیں اور جو لوگ تمہارا اتباع کرنے والے ہیں ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ ہم میں ذلیل ترین لوگ ہیں جو سر سری رائے میں تمہارے ساتھ ہوئے۔ اور ہم اپنے اوپر تمہاری کوئی فضیلت نہیں دیکھتے بلکہ ہم تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْكُمْ١ؕ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ Open ayah 11:28 in the Quran reader

انہوں نے جواب میں کہا کہ اے میری قوم بتاؤ اگر میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے رحمت عطا فرمائی ہو پھر وہ تم کو دکھائی نہ دیتی ہو تو کیا ہم اسے تم پر چپکا دیں گے حالانکہ تم اس سے نفرت کرنے والے ہو حالانکہ تم اسے برا جان رہے ہو

حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ فرمانا اور قوم کا ہٹ دھرمی کے ساتھ معارضہ کرنا سیدنا حضرت نوح (علیہ السلام) حضرت آدم (علیہ السلام) سے دس قرنوں کے بعد تشریف لائے۔ ایک قرن سو سال کی ہوتی تھی حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم میں بت پرست آچکی تھی انہوں نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور بت پرستی چھوڑنے کو فرمایا ان لوگوں نے ضد وعناد پر کمر باندھ لی اور بت پرستی سے باز نہ آئے اور طرح طرح کی بےتکی باتیں کرتے رہے ان کا واقعہ سورة اعراف (ع 8) میں گزر چکا ہے وہاں ہم نے ان کی قوم کی بہت سی باتیں متعدد آیات قرآنیہ کی روشنی میں نقل کردی ہیں۔ یہاں بعض مضامین زائد ہیں جو وہاں بیان نہیں ہوئے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا اے میری قوم میں تمہیں واضح ڈرانے والا ہوں تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو میں تمہارے بارے میں ایک بڑے تکلیف دینے والے دن کے عذاب کا اندیشہ کرتا ہوں ‘ تم نے اگر توحید اختیار نہ کی اور خالص اللہ کی عبادت نہ کی تو عذاب میں گرفتار ہوجاؤ گے ‘ ان لوگوں نے حق قبول کرنے کی بجائے الٹے جواب دینے شروع کر دئیے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے مخاطبین میں بہت کم لوگ مسلمان ہوئے جو لوگ سردار ان قوم تھے انہوں نے جاہلانہ جواب دئیے (کسی قوم کے سردار ہی عموماً شر میں آگے بڑھا کرتے ہیں اور قوم ان کے پیچھے چلتی ہے اگر سردار راہ حق پر آجائیں تو باقی قوم کا حق قبول کرنا آسان ہوجاتا ہے) ان سرداروں نے پہلی بات یہ کہی کہ اے نوح (علیہ السلام) تم ہمارے ہی جیسے آدمی ہو ہم تمہارے اندر کوئی ایسی خصوصیت نہیں دیکھتے جن کی وجہ سے تم نبوت سے سر فراز ہوئے ہو تمہارا نبی ہونا ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور دوسری بات یہ کہی کہ جن لوگوں نے تمہارا اتباع کیا ہے وہ ہم میں سب سے زیادہ بڑھ کر رذیل اور گھٹیا ہیں پھر وہ لوگ جو تمہارے ساتھ لگ گئے ہیں وہ بھی کوئی سوچ سمجھ کر ساتھ نہیں لگے یوں ہی بےسوچے سمجھے ساتھ ہو لئے ہیں ان کا آپ کے ساتھ لگ لینا ہمارے لئے حجت نہیں اور تیسری بات انہوں نے یہ کہی کہ اے نوح تم اور تمہارے متبعین کو ہم پر کوئی فضیلت حاصل ہو ایسی کوئی بات ہمیں تو نظر نہیں آتی نہ پہلے تمہیں کوئی برتری حاصل تھی اور نہ اب حاصل ہے یہ باتیں کہتے ہوئے انہوں نے علی الاعلان تکذیب کردی اور یوں کہہ دیا (بَلْ نَظُنُّکُمْ کٰذِبِیْنَ ) (کہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں) ان کی باتیں سن کر حضرت نوح ( علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے میری قوم تم ہی بتاؤ اگر میں اپنے رب کی طرف سے حجت پر ہوں اور اس نے اپنی طرف سے رحمت (نبوت) عطا فرما دی اور وہ تم سے پوشیدہ کردی گئی۔ (جسے تم اپنی جاہلانہ سمجھ کی وجہ سے جھٹلا رہے ہو) تو میں کیا کرسکتا ہوں ‘ میرا کام تو پہنچا دینا ‘ بتادینا اور واضح کردینا ہے ‘ میں تمہیں پہنچاتا ہوں اور تم دور بھاگتے ہو ‘ کیا ہم تم پر اس کو چپکا دیں اور تمہارے سر منڈھ دیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے مزید فرمایا کہ اے میری قوم میں جو تمہیں تبلیغ کرتا ہوں اور توحید کی جو دعوت دیتا ہوں اس سے میری کوئی دنیاوی منفعت مقصود نہیں ہے اپنے کسی دنیاوی لالچ کیلئے تمہیں تبلیغ کرنے کے لئے کھڑا نہیں ہوا یہ کام میں اللہ کے حکم سے کرتا ہوں مجھے اسی سے ثواب لینا ہے اور میرا اجر اسی کے ذمہ ہے ‘ اگر میں تم سے کچھ مال طلب کرتا تو تم یہ کہہ سکتے تھے کہ اپنی دنیا بنانے اور مال جمع کرنے کے لئے ہمارے پیچھے پڑا ہے ‘ اب جبکہ میں بےلوث ہوں تو تمہیں غور کرنا چاہئے کہ اس کو اتنی محنت کرنے اور مشقت کے کام میں لگنے کی کیا ضرورت ہے ؟
Ayah 11:29

وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 11:29 in the Quran reader

اور اے میری قوم میں تم سے اس پر کوئی مال طلب نہیں کرتا میرا اجرصرف اللہ پر ہی ہے اور جو لوگ ایمان لے آئے ہیں میں ان کو ہٹانے والا نہیں ہوں۔ بیشک وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ لیکن میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تم جہالت کر رہے ہو

سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا جو ایمان لائے تھے اور دنیاوی اعتبار سے اونچے درجہ کے افراد نہ تھے (اور قوم کے بڑے لوگ چاہتے تھے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) انہیں اپنے پاس سے ہٹا دیں) (وَمَا اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا) (جو لوگ ایمان لائے میں انہیں نہیں ہٹا سکتا) (اِنَّھُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّھِمْ ) (بےشک وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں) یعنی وہ اللہ کے مقرب بندے ہیں کامیاب ہیں ان کا ایمان اللہ کے نزدیک معتبر ہے جس کی وہ انہیں جزا دے گا میں انہیں اپنے پاس سے ہٹا کر اللہ کو کیوں ناراض کروں۔ (وَلٰکِنِّیْ اٰرَکُمْ قَوْمًا تَجْھَلُوْنَ ) (میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جہالت کی باتیں کرتے ہو) اور ایمان قبول نہیں کرتے جو سب سے بڑا شرف ہے اور اپنی حقیر دنیا کے پیش نظر اہل ایمان کو ارزل اور گھٹیا بتا رہے ہو۔
Ayah 11:30

وَ یٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 11:30 in the Quran reader

اور اے میری قوم اگر میں ان کو ہٹا دوں تو مجھے اللہ کے مؤاخذہ سے کون بچائے گا۔ کیا تم نہیں سمجھتے ہو ؟

مزید فرمایا (وَیَقٰوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰہِ اِنْ طَرَدْتُّھُمْ اَفَلَا تَذَکَّرُوْنَ ) (اے میری قوم ! میں مومنین کو اپنے پاس سے ہٹا دوں اور دور کردوں تو اللہ تعالیٰ مجھ سے ناراض ہوجائے گا پھر اسکی ناراضگی کو کوئی دفع کرنے والا نہ ہوگا تم اپنی جہالت پر مصر ہو سمجھتے کیوں نہیں) ۔ صاحب روح المعانی (ص 41 ج 2) لکھتے ہیں کہ ان لوگوں نے صاف تو نہ کہا تھا کہ ان لوگوں کو ہٹا دیں لیکن ان کے کلام سے یہ مفہوم ہو رہا تھا کہ ان کو ہٹا دیا جائے تو ہم ایمان لاسکتے ہیں اس لئے ان کی اس بات کی تردید فرما دی۔ فَکَانّ ذالک التماساً منھم بطردھم وتعلیقاً لایمانھم بہ ﷺ بذالک انفۃً من الانتظام معھم فی سلک واحد پس سرداروں کی طرف سے غریبوں کو دور کرنے کا مطالبہ حضور ﷺ پر سرداروں کے ایمان لانے کی شرط کے طور پر تھا اس لئے کہ وہ ان غریبوں کے ساتھ ایک مجلس میں بیٹھنا پسند نہیں کرتے تھے۔ (روح المعانی ص 41 ج 12) ان لوگوں نے جو یہ کہا تھا کہ تم ہماری طرح کے آدمی ہو اور یہ کہ ہم تمہارے اندر کوئی اپنے سے زیادہ بات نہیں دیکھتے اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر تم نبی ہوتے تو تمہارے پاس مال بہت ہونا چاہئے تھا جو دنیا میں برتری کا ذریعہ ہے حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں تو یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘ دنیا زیادہ ہونا اللہ کے یہاں فضیلت کی کوئی چیز نہیں ہے جس کی بنیاد پر نبوت دی جائے وہ تو اللہ کا فضل اور عطیہ ہے جسے چاے عطا فرما دے نبی کی نبوت ماننے کے لئے جو تم اس کے پاس مال تلاش کرتے ہو اللہ کے قانون میں اس کی کوئی حیثیت نہیں نبوت کا تعلق مالدار ہونے سے نہیں ہے۔