Explained with ayahs 96–99
قبطی قوم کا سردار فرعون اور موسیٰ ؑ
فرعون اور اس کی جماعت کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول حضرت موسیٰ ؑ کو اپنی آیتوں اور ظاہر باہر دلیلوں کے ساتھ بھیجا لیکن انہوں نے فرعون کی اطاعت نہ چھوڑی۔ اسی کی گمراہ روش پر اس کے پیچھے لگے رہے۔ جس طرح یہاں انہوں نے اس کی فرمان برداری ترک نہ کی اور اسے اپنا سردار مانتے رہے۔ اسی طرح قیامت کے دن اسی کے پیچھے یہ ہوں گے اور وہ اپنی پیشوائی میں انہیں سب کو اپنے ساتھ ہی جہنم میں لے جائے گا اور خود دگنا عذاب برداشت کرے گا۔ یہی حال بروں کی تابعداری کرنے والوں کا ہوتا ہے وہ کہیں گے بھی کہ اللہ انہیں لوگوں نے ہمیں بہکایا تو انہوں دوگنا عذاب دے۔ مسند میں ہے رسول اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–97
سورة هُوْد 102
یہ سمجھ میں نہ آنا کچھ اس بنا پر نہ تھا کہ حضر شعیبؑ کسی غیر زبان میں کلام کرتے تھے، یا ان کی باتیں بہت مُغلق اور پیچیدہ ہوتی تھیں۔ باتیں تو سب صاف اور سیدھی ہی تھیں اور اُسی زبان میں کی جاتی تھیں جو یہ لوگ بولتے تھے، لیکن ان کے ذہن کا سانچا اس قدر ٹیڑھا ہو چاک تھا کہ حضرت شعیبؑ کی سیدھی باتیں کسی طرح اس میں نہ اُتر سکتی تھیں۔ قاعدے کی بات ہے کہ جو لوگ تعصبات اور خواہش نفس کی بندگی میں شدت کے ساتھ مبتلا ہوتے ہیں اور کسی خاص طرزِ خیال پر جامد ہو چکے ہوتے ہیں، وہ اوّل تو کوئی ایسی بات سن ہی نہیں سکتے جو ان کے خیالات سے مختلف ہو، اور اگر سُن بھی لیں تو ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–101
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے موسیٰ ؑ کو (بھی) اپنے معجزات اور دلیل روشن دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا سو (نہ فرعون نے مانا اور نہ ان کے سرداروں نے مانا بلکہ فرعون بھی اپنے کفر پر رہا اور) وہ لوگ (بھی) فرعون (ہی) کی رائے پر چلتے رہے اور فرعون کی رائے کچھ صحیح نہ تھی وہ (فرعون) قیامت کے دن اپنی قوم سے آگے آگے ہوگا پھر ان (سب) کو دوزخ میں جا اتارے گا، اور وہ (دوزخ) بہت ہی بری جگہ ہے اترنے کی جس میں یہ لوگ اتارے جاویں گے اور اس دنیا میں بھی لعنت ان کے ساتھ ساتھ رہی اور قیامت کے دن بھی (ان کے ساتھ رہے گی، چناچہ یہاں قہر سے غرق ہوئے اور وہاں دوزخ نصیب ہوگا) برا انعام ہے جو ان کو دیا گیا، یہ…
Read the full tafseer →اِلٰي فِرْعَوْنَ وَمَلَا۟ىِٕهٖ فَاتَّبَعُوْٓا اَمْرَ فِرْعَوْنَ ۚ وَمَآ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيْدٍ۔ یعنی ہم نے تو ان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے اپنا پیغمبر بھیجا لیکن ان شامت کے ماروں نے پیروی فرعون کی رائے اور اس کے حکم کی کی۔ فعون کی رہنمائی صائب نہ تھی۔ اس وجہ سے یہ اس کھڈ میں گے۔ جس میں اس طرح کے لیڈروں کی پیروی کرنے والے گرا کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →97۔ 1 مَلَاء قوم کے اشراف اور ممتاز قسم کے لوگوں کو کہا جاتا ہے۔ (اس کی تشریح پہلے گزر چکی ہے) فرعون کے ساتھ، اس کے دربار کے ممتاز لوگوں کا نام اس لئے لیا گیا ہے کہ اشراف قوم ہی ہر معاملے کے ذمہ دار ہوتے تھے اور قوم ان ہی کے پیچھے چلتی تھی۔ اگرچہ موسیٰ ؑ پر ایمان لے آتے تو یقیناً فرعون کی ساری قوم ایمان لے آتی۔
97۔ 2 رَ شِیْدٍ ذی رشد کے معنی میں ہے۔ یعنی بات تو حضرت موسیٰ ؑ کی رشد و ہدایت والی تھی، لیکن اسے ان لوگوں نے رد کردیا اور فرعون کی بات، رشدو ہدایت سے دور تھی، اس کی انہوں نے پیروی کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–99
58: اس کی تشریح کے لیے دیکھیے سورة اعراف (19:7) کا حاشیہ
Read the full tafseer →یہاں سیاق کلام میں اس قصے کو یہات ہی اجمال کے ساھ لایا جاتا ہے کیونکہ یہاں مقصد یہ ہے کہ قصے کا آخری منظری بیش کیا جائے چناچہ نظر آتا ہے کہ آگے آگے فرعون ہے اور اس کے پیچھے پیچھے اس کی قوم ہے۔ یہ لوگ اللہ کی حکم عدولی کر کے فرعون کے احکام مانتے ہیں۔ اس کے باوجود کہ فرعون کا حکم جاہلانہ ، احمقانہ اور بودا ہے۔
فَاتَّبَعُوا أَمْرَ فِرْعَوْنَ وَمَا أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيدٍ (97)
یہ لوگ جو ن کہ فرعون کے متبعین تھے اس لیے یہ اس کے پیچھے چلیں گے۔ جس طرح یہاں وہ بغیر سوچ اور تدبیر کے اس کے پیچھے چلتے تھے۔ اپنی رائے اور عقل کو استعمال نہ کرتے تھے۔ وہ ذلت پر راضی تھے ، اور اللہ نے عقل ، ارادہ اور…
Read the full tafseer →4 یعنی کھلے کھلے نشان دیکھ کر بھی فرعونیوں نے پیغمبر خدا کی بات نہ مانی، اسی دشمن خدا کے حکم پر چلتے رہے۔ حالانکہ اس کی کوئی بات ٹھکانے کی نہ تھی، جسے مان کر انسان بھلائی حاصل کرسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–97
آیت 95 كَاَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْهَا ۭ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْيَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ
اہل مدین بھی اللہ تعالیٰ کی پھٹکار کا نشانہ بن کر اسی طرح ہلاک ہوگئے جیسے قوم ثمود ہلاک ہوئی تھی۔
اب آخر پر بہت مختصر انداز میں حضرت موسیٰ کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
Read the full tafseer →109 اس دعوت کو قبول کرنے کا اثر صرف فرعون پر ہی نہیں پڑتا تھا بلکہ اس کے درباریوں پر بھی پڑتا تھا اور ہر ایک کو اپنے اپنے مناصب سے دستبردار ہونا پڑتا تھا لہذا ان سب نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیا حالانکہ ان سب کو یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ فرعون نے بنی اسرائیل پر جو انسانیت سوز مظالم ڈھا رکھے ہیں وہ کسی لحاظ سے بھی درست نہیں ہیں اور موسیٰ (علیہ السلام) اپنے اس مطالبہ میں راستی پر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
140۔ یعنی حکومت فرعون کی پالیسی ہر قسم کی صلاح وخیر سے خالی تھی۔ ای لیس فیہ رشد ولا ھدی (ابن کثیر) موسیٰ ، فرعون، ملاء فرعون پر حاشیے بار بار گزر چکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–109
آیت نمبر 96 تا 109
ترجمہ : اور یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو (بھی) اپنے معجزات اور روشن دلیلوں یعنی واضح دلیلوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا مگر انہوں نے فرعون ہی کی بات مانی حالانکہ فرعون کی بات درست نہیں تھی قیامت کے دن (فرعون) اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور یہ لوگ اس کے پیچھے پیچھے ہوں گے جیسا کہ دنیا میں اس کی اتباع کرتے تھے، پھر ان (سب) کو دوزخ میں جا اتارے گا اور (دوزخ) بہت ہی بری جگہ ہے اترنے کی جس میں یہ لوگ اتارے جائیں گے اور اس دنیا میں بھی ان پر لعنت پڑی اور قیامت کے دن بھی پڑے گا، برا انعام ہے جو ان کو دیا گیا یہ مذکور چند بستیوں کی سرگذشت ہے جو ہم اے محمد تم…
Read the full tafseer →الی فرعون وملاۂ : فرعون کے اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا۔ آیات سے مراد ہیں : معجزات۔ توریت کی آیات مراد نہیں ہیں کیونکہ توریت کا نزول تو فرعون کے ڈوبنے کے بعد ہوا تھا۔
سُلْطَانٍ مُّبِیْنٍ : کھلا ہوا غلبہ۔ ایک طرف تنہا حضرت موسیٰ تھے ‘ دوسری طرف فرعون اور اس کا لاؤ لشکر تھا جو سب کے سب حضرت موسیٰ کے قتل کے درپے تھے مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ حضرت موسیٰ کو اللہ نے کھلا ہوا غلبہ عنایت فرمایا۔
یا سُلْطَانٍ مُّبِیْنٍ سے مراد صرف عصا کا معجزہ ہے۔ یہ معجزہ سب سے زیادہ واضح اور غالب تھا۔ یا آیات اور سلطان سے مراد ایک ہی ہے۔ آیات و معجزات حضرت موسیٰ کی نبوت کی کھلی نشانیاں بھی تھے اور سبب غلبہ بھی۔
مبین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
(96۔ 97) اور ہم نے حضرت موسیٰ ؑ کو نومعجزے اور دلیل روشن دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا تھا اور معجزات خود دلیل روشن ہیں، چناچہ فرعون کی قوم نے بھی حضرت موسیٰ ؑ کی بات کو چھوڑ کر فرعون ہی کی راہ اختیار کی اور فرعون کی رائے کچھ درست نہ تھی ،
Read the full tafseer →اِلٰي فِرْعَوْنَ وَمَلَا۟ىِٕهٖ۔۔ : یہاں فرعون کے ساتھ اس کے سرداروں کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ وہی اس کے احکام کو نافذ کرنے والے تھے۔ بقول زمخشری ان کی جہالت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ وہ فرعون کے احکام کے پیچھے لگے رہے، حالانکہ وہ احکام عقل کے صریح خلاف تھے، مثلاً اپنے جیسے ایک انسان کے رب اعلیٰ ہونے کا دعویٰ مان لینا جس میں ہر انسانی کمزوری پائی جاتی ہے اور حد سے بڑھ کر ظلم وستم، مثلاً معصوم بچوں کو قتل کرنے وغیرہ کے حکم پر عمل کرنا، مگر فرعون نے انھیں اس قدر ہلکا اور ذلیل کیا ہوا تھا کہ وہ موسیٰ ؑ کے واضح معجزات دیکھنے کے باوجود فرعون ہی کے پیچھے لگے رہے، کیونکہ موسیٰ ؑ پر ایمان لانے میں انھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
آیت نمبر 96 تا 99
قولہ تعالیٰ : ولقدارسلناموسٰی باٰیٰتنا اللہ تعالیٰ نے واضح فرمادیا کہ اس نے نبی کو حجت قائم کرنے اور ہر قسم کی علت کو ختم کرنے کے لیے بھیجا۔ بٰایٰتنا یعنی تورات کے ذریعے، ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد معجزات ہیں۔ وسلطٰنٍ مبین یعنی واضح حجت کے ساتھ اس سے مراد عصا ہے۔ سورة آل عمران میں سلطان کا معنی اور اس کا اشتقاق گزرچکا ہے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ الیٰ فرعون وملابہٖ فاتبعوٓاامرفرعون، امرفرعون سے مراد اس کی شان اور حالت ہے حتی کہ انہوں نے اسے معبود بنالیا، اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کی۔ ومآامرفرعون برشیدٍیعنی مضبوط حکم نہیں تھا کہ جو صحیح اور حق کی طرف لے جاتا۔ اور ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–97
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویقوم لا یجرمنکم شقاقی “ یعنی تم کو نہ آمادہ کرے میری جدائی۔
2:۔ ابن منذر (رح) نے مجاہد رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” شقاقی “ سے مراد ہے میری دشمنی۔
3:۔ اسحاق بن بشر وابن عساکر (رح) نے جوہر کے راستہ سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا اے میری قوم ! یاد کروتم قوم نوح کو قوم عاد کو اور قوم ثمود کو (آیت) ” وما قوم لوط منکم ببعید “ اور لوط کی قوم ان سے زیادہ قریب تھی شعیب تک اور ان کا ہلاکت کا زمانہ ان سے زیادہ قریب تھا۔ (آیت) ” واستغفروا ربکم ثم تو بوا الیہ ان ربی رحیم “…
Read the full tafseer →[اِلٰي فِرْعَوْنَ : فرعون کی طرف ] [ وَمَلَا۟ىِٕهٖ : اور اس کے سرداروں کی طرف ] [ فَاتَّبَعُوْٓا : پھر (بھی) ان لوگوں نے پیروی کی ] [ اَمْرَ فِرْعَوْنَ : فرعون کے حکم کی ] [وَمَآ اَمْرُ فِرْعَوْنَ : اور نہیں تھا فرعون کا حکم ] [ بِرَشِيْدٍ : کوئی سوجھ بوجھ والا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت ‘ فرعون اور آل فرعون کی بغاوت اور دنیا و آخرت میں آل فرعون پر لعنت
ان آیات میں فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کی بربادی کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ شانہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی طرف بھیجا وہ ان لوگوں کے پاس معجزات اور روشن دلیل لے کر آئے ان کے یہ معجزات سورة اعراف کے رکوع (13‘ 14) میں مذکور ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مبعوث تو ہوئے تھے فرعون کی پوری ہی قوم کیلئے لیکن خاص طور سے فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ قوموں کے سردار ہی اصل ہوتے ہیں عامۃ الناس انہیں کے پیچھے چلتے ہیں۔ اگر یہ لوگ حق قبول کرلیتے ہیں تو عوام بھی حق کو مان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
قصہ موسیٰ (علیہ السلام) با فرعون
قال اللہ تعالیٰ ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا .... الیٰ .... بئس الرفد المرفود۔
(ربط) اب یہ ساتواں قصہ موسیٰ (علیہ السلام) کا ہے اور یہ قصہ اس سورت کا آخری قصہ ہے۔ جس میں یہ بتلایا کہ خدا اور رسول کے مقابلہ میں سلطنت اور مال و دولت اور قوت و شوکت کچھ کام نہیں آئی۔ عزت، حق کی اتباع میں ہے اور تحقیق ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں اور کھلا غلبہ دیکر بھیجا یعنی معجزات قاہرہ و باہرہ مثل معجزہ عصا۔ اور معجزہ یدبیضا دیکر فرعون اور اس کے ملک کے سرداروں کی طرف بھیجا۔ پس باوجود ان معجزات قاہری اور براہین باہری اور دلائل ظاہرہ کے ان سرکشوں نے پیغمبر خدا ﷺ کا اتباع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
82:۔ یہ ساتواں قصہ ہے اور تیسرے دعوے سے متعلق ہے۔ مسئلہ توحید پیش کرنے پر مشرکین و کفار کی طرف سے تکلیفیں آئیں گی انہیں صبر و استقلال سے برداشت کرنا جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کی قوم کی ایذائیں برداشت کیں۔ حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) اور فرعون کا واقعہ سورة اعراف رکوع 12 تا 20 میں تفصیل سے گذر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–101
ربط آیات
گزشتہ دروس میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کا ذکر تھا۔ تاریخ انبیاء کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے جو واقعات بیان فرمائے ہیں ، ان کے ذریعے مسئلہ توحید کو واضح کیا گیا ہے کہ اللہ کے ان پاک نفوس نے یہ مسئلہ کس طرح لوگوں کے سامنے پیش کیا پھر جن لوگوں نے اس کا انکار کیا وہ کس طرح اللہ تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ میں چند اقوام کا ذکر بطور تذکیر بایام اللہ کیا ہے۔ یعنی ان ایام کا تذکرہ جو مختلف اقوام پر سزا اور نکبت کے ساتھ پیش آئے۔
موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت
حضرت شعیب (علیہ السلام) کے واقعہ کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ہو رہا ہے ارشاد ہے ولقد ارسلنا…
Read the full tafseer →اِلٰي فِرْعَوْنَ وَمَلَا۟ىِٕہٖ فَاتَّبَعُوْٓا اَمْرَ فِرْعَوْنَ 0ۚ وَمَآ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيْدٍ 97
فِرْعَوْنُ
: اسم أعجميّ ، وقد اعتبر عرامته، فقیل : تَفَرْعَنَ فلان : إذا تعاطی فعل فرعون، كما يقال : أبلس وتبلّس، ومنه قيل للطّغاة : الفَرَاعِنَةُ والأبالسة .
فرعون
یہ علم عجمی ہے اور اس سے سرکش کے معنی لے کر کہا جاتا ہے تفرعن فلان کہ فلاں فرعون بنا ہوا ہے جس طرح کہ ابلیس سے ابلس وتبلس وغیرہ مشتقات استعمال ہوتے ہیں اور ایس سے سرکشوں کو فراعنۃ ( جمع فرعون کی اور ابا لسۃ ( جمع ابلیس کی ) کہا جاتا ہے ۔
ملأ
المَلَأُ : جماعة يجتمعون علی رأي، فيملئون العیون رواء ومنظرا، والنّفوس بهاء وجلالا .…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–109
1 ؎ زلزلہ کی آواز تھی بعض کہتے ہیں فرشتہ کی چیخ تھی جس سے کلیجے پھٹ کے دفعۃً مرگئے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی بِاٰیٰـتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ۔ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَلَاْ ئِہٖ فَاتَّبَعُوْ ٓا اَمْرَفِرْعَوْنَ ج وَمَآ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْد۔ یَقْدُمُ قَوْمَہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَاَوْرَدَھُمُ النَّارَ ط وَبِئْسَ الْوِرْدُالْمَوْرُوْدُ ۔ وَاُتْبِعُوْا فِیْ ھٰذِہٖ لَعْنَۃً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ط بِئْسَ الرِّفْدُالْمَرْفُوْدُ ۔ (سورۃ ہود : 96، 97، 98، 99)
(ہم نے بھیجا موسیٰ ( علیہ السلام) کو اپنی آیات اور ایک روشن نشانی کے ساتھ رسول بنا کر فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف، تو انھوں نے فرعون ہی کی بات مانی، حالانکہ فرعون کی بات راست نہ تھی۔ وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم اور دوسری اقوام کا انجام بیان کرنے کے بعد حضرت موسیٰ کی قوم کا کردار اور انجام کا مختصر بیان۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی کئی اعتبار سے نبی اکرم ﷺ اور آپ کی قوم کے ساتھ مماثلت پائی جاتی ہے۔ جس کی ابتدا موقعہ کی مناسبت سے یوں فرمائی کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو واضح دلائل اور کھلے معجزات کے ساتھ فرعون اور اس کے لیڈروں کی طرف بھیجا۔ کیونکہ فرعون کی قوم اس کے ہر کام کی پیروی کرتی تھی۔ جبکہ فرعون کا کوئی کام بھی اچھا نہ تھا ” الرشید “ کا معنیٰ ہے نیک یا اچھا کام۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے دو عظیم معجزوں سے…
Read the full tafseer →97: اِلٰی فِرْعَوْنَ وَملَائِہٖ فَاتَّبَعُوْا (فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف پس انہوں نے اتباع کی) سرداروں نے اتباع کی اَمْرَ فِرْعَوْنَ وَمَآ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ (فرعون کے حکم کی اور فرعون کا حکم صحیح نہ تھا) اس میں متبعین فرعون کی جہالت ظاہر کی گئی ہے کہ انہوں نے فرعون کا کھلاگمراہ کن عمل قبول کرلیا اور وہ یہ تھا کہ اس نے الوہیت کا دعو ٰی کیا تھا حالانکہ وہ ان جیسا انسان تھا۔ اور سرعام ظلم و شرارت پھیلانے والا تھا جو کہ شیطان ہی کا کارنامہ ہوسکتا ہے۔ چہ جائیکہ اس کو الوہیت کے منصب پر بٹھا دیا جائے۔ (نعوذباللہ من الحمقاء والحماقۃ) اور اس میں یہ بتلایا کہ قبطیوں نے ان آیات کا معائنہ…
Read the full tafseer →97۔” الیٰ فرعون وملئہ فاتبعوا امر فرعون وما امر فرعون برشید “ ہر پسندیدہ اور قابل ستائش امر کو رشد اور ہر برے امر کو غی کہا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
96۔ 99۔ اوپر کے قصوں کے بعد ان آیتوں میں فرمایا کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو طرح طرح کے معجزے اور نشانیاں دے کر فرعون بادشاہ مصر اور اس کے وزیروں اور سرداروں کے پاس بھیجا بعضے مفسروں نے آیات سے مراد توریت اور سلطان مبین سے مراد معجزے لئے ہیں مگر یہ ٹھیک نہیں ہے کیونکہ فرعون کی ہلاکت کے بعد توریت نازل ہوئی ہے اس لئے بعض مفسروں نے دونوں کے معنے معجزے کے جو بیان کئے ہیں وہ قول صحیح ہے بہرحال کوئی بھی ان میں سے موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہیں لایا فرعون کے ساتھ فرعون ہی کے دین و آئین پر قائم رہے اللہ پاک نے فرمایا فرعون کا طریقہ کوئی نیک انجام نہ تھا بالکل گمراہی کا طریقہ تھا اس لئے جس طرح…
Read the full tafseer →(آیت) ” فرعون اور اس کے اشرافیہ کی طرف “ کیونکہ اشرافیہ متبوع اور دیگر لوگ ان کے تابع ہوتے ہیں۔ ان اشرافیہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ان معجزات کو نہ مانا جو جناب موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو دکھائے تھے جیسا کہ بسط و تفصیل کے ساتھ ان کا ذکر سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔ (آیت) ” پس وہ پیچھے لگے فرعون کے حکم کے اور فرعون کا حکم اچھا نہیں تھا “ بلکہ وہ بھٹکا ہوا اور گمراہ ہے۔ وہ جس چیز کا حکم دیتا ہے وہ ضرر محض کے سوا کچھ نہیں۔ اس کی قوم نے اس کی اتباع کی اور اس نے ان کو ہلاک کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–112
حقیقی نمازی مشرک نہیں ہوسکتا
قول باری ہے اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبد اباء نا او ان فعل فی اموالنا ما تشاء کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشاء کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو۔ انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کی حیثیت نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے کی طرح ہے چناچہ ارشاد باری ہے ان الصلوٰۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر بیشک نماز بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت شعیب نے…
Read the full tafseer →193 ۔ بعثت موسوی فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے بھیجا موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔ سو بعثت تو آنجناب کی اگرچہ اس پوری قوم کی طرف تھی مگر ارباب بست و کشاد چونکہ ان لوگوں میں فرعون اور اس کے یہی سردار تھے اس لیے ذکر بطور خاص انہی کا فرمایا گیا ہے۔ (المراغی وغیرہ) سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اصل مدارو انحصا ارباب بست و کشاد ہی کی اصلاح پر ہوتا ہے کہ ان کی اصلاح سے پورے ملک و قوم کی اصلاح ہوتی ہے اور ان کے بگاڑ سے سب بگاڑ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اللہ پاک نے تو ان لوگوں کی ہدایت و راہنمائی کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا پیغام فرعون کی نافرمانی اور برا انجام
تشریح : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں پہلے بھی بتایا جا چکا ہے یہ بنی اسرائیل کے پیغمبر تھے اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم و ستم سے نجات دلانے کے لیے بھیجے گئے تھے یہاں ان کا ذکر اس لیے کیا جا رہا ہے۔ کہ ان آیات سے پہلے کئی ایسی نافرمان قوموں کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ لوگ ان کے برے انجام سے عبرت حاصل کریں۔ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا ذکر اور انجام، مذکورہ آیات میں بڑی وضاحت سے کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح برے لیڈر کی پیروی دنیا میں ہلاکت کا باعث بنی اسی طرح آخرت میں بھی سوائے جہنم کے اور کچھ نہ ملے گا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–109
آیات 96 تا 109
اسرار و معارف
جہاں تک رحمت باری کا تعلق ہے تو دیکھو اللہ کتنا کریم ہے کہ فرعون جیسے ظالم جابر اور سخت ترین کافر کو بھی محروم نہ رکھا اور اس کے پاس بھی موسٰے (علیہ السلام) کو بھیجا کہ اگر وہ بھی باز آجائے مغفرت و بخشش کا طالب ہو میری عظمت کا اقرار کرے تو میں اسے بھی معاف کردوں اور موسٰے (علیہ السلام) کو یونہی نہیں بھیج دیا اپنی نشانیاں اپنی کتاب اور اپنی بات دے کر بھیجا اور ساتھ عظیم الشان معجزات عطافرمائے جنہوں نے فرعون کے سب جادوگروں کو عاجز کردیا اور فرعون اور اس کے درباری امرا جو اس کی پوجا میں لگے تھے سب کو اپنی طرف دعوت دی مگر نہ فرعون ہی بازآیا اور نہ اس کے امرا ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
ف 10 ۔ کھلے معجزے سے مراد عصا اور نشانیوں سے مراد وہ دوسری نونشانیاں ہیں جو سورة اسراء (آیت 101) اور سورة نحل (آیت 12) میں مذکور ہیں۔
Read the full tafseer →(11:97) ملائہ۔ اس کے سرداروں کی جماعت۔ الملأ اسم جمع معرف باللام۔ ملأ۔ بمعنی بھر دینا۔ قوم کے سردار اور اہل الرائے اشخاص اپنی رائے کی خوبی اور ذاتی محاسن سے لوگوں کی خواہش کو بھر دیتے ہیں یا آنکھوں میں روشنی اور دلوں میں ہیبت بھر دیتے ہیں اسی لئے ان کو ملأ کہتے ہیں۔ نیز ملاحظہ ہو 11:87) ۔
رشید ۔ ہدایت والی راہ۔ درست۔ اور فرعون کی بات کچھ راہ کی بات تو تھی ہی نہیں ۔ نیز ملاحظہ ہو 11:87 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–101
لغات القرآن آیت نمبر 96 تا 101
سلطن مبین (کھلی ہوئی دلیل، روشن دلیل) ملاء (سردار) امر فرعون (فرعون کی بات) یقدم (وہ آگے ہوگا) اورد (وہ پہنچائے گا، لاکھڑا کرے گا) الورد (پہنچنے کی جگہ، گھاٹ) المورود (پہنچائے گئے) انباء (خبریں) الرقد (انعام) المرفود (انعام جو دیا گیا) حصید (کٹ جانے اور مٹ جانے والی ) القریٰ (بستیاں) ما اعنت (کام نہ آئی، فائدہ نہ دیا) یدعون (وہ پکارتے ہیں) غیر تثبیب (سوائے تباہی و بربادی کے)
تشریح :- آیت نمبر 96 تا 101
قرآن کریم گزشتہ انبیاء کرام کے واقعات کو نہایت مختصر انداز سے پیش کر کے عبرت و نصیحت کے ہزاروں پہلو کھول کر رکھ دیتا ہے۔
سورئہ ھود میں سات انبیاء کرام کے واقعات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
رسول اللہ ﷺ کے فائدے کے لئے پچھلے واقعات کا ذکر
اوپر کے قصوں کے بعد ان آیتوں میں فرمایا کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو طرح طرح کے معجزے اور نشانیاں دے فرعون بادشاہ مصر اور اس کے وزیروں اور سرداروں کے پاس بھیجا۔ کوئی بھی ان میں سے موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہیں لایا، فرعون ہی کے دین پر قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا فرعون کا طریقہ کوئی نیک انجام نہ تھا، بالکل گمراہی کا طریقہ تھا اس لئے جس طرح وہ لوگ دنیا میں فرعون کے تابعدار رہے اسی طرح قیامت کے دن بھی یہ لوگ فرعون کے پیرور رہیں گے۔ اور فرعون کے پیچھے پیچھے دوزخ میں چلے جائیں گے یہ لوگ جس گھاٹ پر جائیں گے وہ بہت ہی برا گھاٹ ہوگا۔ پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–99
[49] اور یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ قوم لوط کا زمانہ بھی تم سے کچھ ایسا دور نہیں۔ ابھی حال ہی کی بات ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
جہنم کی سرداری :
(ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) نے جب فرعون کو کبر و غرور سے روکا اور ارکان حکومت کے ساتھ بہترین سلوک روا رکھنے کی تلقین کی ، اس سے کہا گیا کہ بنی اسرائیل پر ظلم نہ کرو ، انہیں آزادی وحریت کی نعمتوں سے ہم کنار ہونے دو ، تو اس کے قیادت پسند مغرور نفس نے اس جائز اور درست مطالبے کو تسلیم نہ کیا جادوگروں کو بلایا ، موسیٰ (علیہ السلام) کو ذلیل ورسوا کرنے کی کوشش کی ، بنی اسرائیل پر اور سختیاں شروع کردیں ، محض اس بنا پر کہ طیبعت میں سیادت وفرمانروائی کا جنون تھا ، دماغ کو کبر غرور کے بام بلند سے نیچے آنا گوارا نہ تھا ، یہ کس طرح پسند نہ تھا کہ بنی اسرائیل اور فرعون ایک دین کے حلقہ بگوش…
Read the full tafseer →97 فرعون اور اس کے روسا کی طرف بھیجا سو وہ لوگ فرعون ہی کے کہنے اور اسی کیرائے پرچلتے رہے حالانکہ فرعون کی بات اور اس کی رائے صحیح نہ تھی موسیٰ (علیہ السلام) کو جو معجزات دیتے وہ تو نشانیاں تھیں جس کا قرآن کریم میں ذکر کیا گیا ہے اور ان نشانیوں میں عصا اور ید بیضا کو مخصوص طورپرسلطان مبین فرمایا ہو یا سلطان مبین حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دلائل وبراہین مراد ہوں یا یہ غلبہ اور قہر کے معنی ہوں اور اس سے مراد وہ قدرتی ہیبت ہو جسکو فرمایا ہے ویجعل لکما سلطانا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
ف 4۔ سلطان مبین سے مراد یا تو عصا اور یدبیضاء ہے جو منجملہ آیات تسعہ کے جو پارہ نہم کے ربع پر مذکور ہیں اعظم ہیں اور یا موسیٰ کی تقریر بلیغ ہے جو فرعون کے سامنے دوبارہ توحید کے انہوں نے فرمائی۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے
۔ 122 موسیٰ (علیہ السلام) کی پوری سرگزشت سورة البقرہ میں ذکر کردی گئی اس لئے تفصیل کے لئے عروۃ الوثقی جلد اول کا وہ مقام مطلاعہ کرنا چاہئے جہاں موسیٰ (علیہ السلام) کے واقع کی تفصیل ہے۔ ہاں ! اس جگہ اتنا عرض کردینا کافی ہوگا کہ موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے اپنے اہل و عیال کو ساتھ لے کر مصر کی طرف آ رہے تھے کہ راستے میں ایک جگہ آگ نظر آئی۔ آپ نے اپنے لوگوں کو کہا کہ تم یہاں ٹھہرو میں وہاں سے آگ لائوں تاکہ تم تاپ سکو جس سے یہ بات خود بخود واضح ہوجائے گی کہ یہ واقعہ رات کے وقت کا اور سردی کے موسم کا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) آگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–111
After having given this good counsel to them, he warned them of the punishment of Allah Ta` ala. He said:
وَيَا قَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِي أَن يُصِيبَكُم مِّثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ ۚ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم بِبَعِيدٍ
And 0 my people, let not your hostility towards me cause you to suffer what was suffered by the people of Nuh, or the people of Hud, or the people of Salih. And the people of Lut are not far from you.
The sense of the last sentence is that the overturned habitations of the people of Sayyidna Lut (علیہ السلام) were close to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–97
102. When Shu'ayb's people stated that they did not understand much of what Shu'ayb said, they did not say so because Shu'ayb (peace be on him) spoke in some foreign language, or because he talked in an ambiguous or complicated manner. On the contrary, Shu'ayb's teaching was quite clear and simple and was conveyed to his people in a language they fully understood - their own. The difficulty in understanding Shu'ayb's teaching arose from the fact that his people had become simply too perverse to grasp it. It is always the case that when some people become fully seized by their prejudice, are…
Read the full tafseer →