Hud 11:9

Hud · from ayah 9

11:9

وَلَىِٕنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ ۚ— اِنَّهٗ لَیَـُٔوْسٌ كَفُوْرٌ ۟وَلَئِنۡ اَذَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنَّا رَحۡمَةً ثُمَّ نَزَعۡنٰهَا مِنۡهُ‌ۚ اِنَّهٗ لَيَــئُوۡسٌ كَفُوۡرٌ

اور اگر ہم انسان کو اپنے پاس سے نعمت بخشیں پھر اس سے اس کو چھین لیں تو ناامید (اور) ناشکرا (ہوجاتا) ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And if We give man a taste of mercy from Us and then We withdraw it from him, indeed, he is despairing and ungrateful.

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:9

اگر کبھی ہم انسان کو اپنی رحمت سے نوازنے کے بعد پھر اس سے محروم کر دیتے ہیں تو وہ مایوس ہوتا ہے اور ناشکری کرنے لگتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اگر ہم انسان کو اپنے پاس سے نعمت بخشیں پھر اس سے اس کو چھین لیں تو ناامید (اور) ناشکرا (ہوجاتا) ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اگر ہم انسان کو اپنی کسی نعمت کا ذائقہ چکھا کر پھر اسے اس سے لے لیں تو وه بہت ہی ناامید اور بڑا ہی ناشکرا بن جاتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب ہم انسان کو اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ چکھاتے دیتے ہیں، پھر وہ اس سے واپس لے لیتے ہیں تو وہ مایوس (اور) ناشکرا بن جاتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اگر ہم آدمی کو اپنی کسی رحمت کا مزہ دیں پھر اسے اس سے چھین لیں ضرور وہ بڑا ناامید ناشکرا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر ہم انسان کو اپنی جانب سے رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں پھر ہم اسے (کسی وجہ سے) اس سے واپس لے لیتے ہیں تو وہ نہایت مایوس (اور) ناشکرگزار ہو جاتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور یقینا اگر ہم انسان کو اپنی طرف سے کوئی رحمت چکھائیں، پھر اسے اس سے چھین لیں تو بیشک وہ یقینا نہایت ناامید، بےحد ناشکرا ہوتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اگر ہم کسی انسان کو اپنی رحمت کا مزا چکھائیں پھر وہ اس سے چھین لیں تو وہ مایوس ہو کر ناشکری کرنے لگتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر ہم انسان کو اپنے کسی فضل سے نوازتے ہیں پھر اس سے اس کو محروم کردیتے ہیں تو وہ مایوس اور نا شکرا بن جاتا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ف اور انسان (کی تنگ ظرفی کا عالم یہ ہے کہ اس) کو اگر ہم چکھا دیں اپنی طرف سے کوئی رحمت، پھر ہم اس کو چھین لیں اس سے، تو یہ بالکل مایوس (و ناامید اور) سخت ناشکر ہوجاتا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر ہم انسان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں اور پھر اسے اس سے واپس لے لیتے ہیں تو وہ ناامید (و) ناشکر ہوجاتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اگر ہم مزہ چکھاتے ہیں انسان کو اپنی طرف سے رحمت کا پھر (جب) ہم اس سے وہ چھین لیتے ہیں تو وہ ہوجاتا ہے بالکل مایوس نہایت نا شکرا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اگر ہم انسان کو اپنے پاس سے نعمت بخشیں، پھر اس سے اس کو چھین لیں تو ناامید، نا شکرا ہوجاتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

If We ever favour man with Our Mercy, and then take it away from him, he becomes utterly desperate, totally ungrateful.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

If We give man a taste of Our mercy and then take it away from him, he becomes highly desperate, utterly ungrateful.

— Muhammad Taqi Usmani

If We give man a taste of Our mercy and then take it away from him, he becomes highly desperate, utterly ungrateful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And if We give man a taste of mercy from Us, and then withdraw it from him, verily, he is despairing, ungrateful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And if we cause man to taste some mercy from Us and afterward withdraw it from him, lo! he is despairing, thankless.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And if We give man a taste of mercy from Us and then We withdraw it from him, indeed, he is despairing and ungrateful.

— Saheeh International

We grant a favor to the human being and then take it away from him. He becomes despairing and ungrateful.

— Muhammad Sarwar

And if We make man taste mercy from Us, then take it off from him, most surely he is despairing, ungrateful.

— Muhammad Habib Shakir

And if We let man taste mercy from us, and thereafter withdraw it from him, verily he is despairing, blaspheming.

— Abdul Majid Daryabadi

If We give man a taste of Mercy from Ourselves, and then withdraw it from him, behold! he is in despair and (falls into) blasphemy.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 9–11

انسان کا نفسیاتی تجزیہ سوائے کامل ایمان والوں کے عموماً لوگوں میں جو برائیاں ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ راحت کے بعد کی سختی پر مایوس اور محض ناامید ہوجاتے ہیں اللہ سے بدگمانی کر کے آئندہ کے لیے بھلائی کو بھول بیٹھتے ہیں گویا کہ نہ کبھی اس سے پہلے کوئی آرام اٹھایا تھا نہ اس کے بعد کسی راحت کی توقع ہے۔ یہی حال اس کے برخلاف بھی ہے اگر سختی کے بعد آسانی ہوگئی تو کہنے لگتے ہیں کہ بس اب برا وقت ٹل گیا۔ اپنی راحت اپنی تن آسانیوں پر مست و بےفکر ہوجاتے ہیں۔ دوسروں کا استہزاء کرنے لگتے ہیں۔ اکڑ فوں میں پڑجاتے ہیں اور آئندہ کی سختی کو بالکل فراموش کردیتے ہیں۔ ہاں ایماندار اس بری خصلت سے محفوظ رہتے ہیں،…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 7–9

سورة هُوْد 7 جملہ معترضہ ہے جو غالبًا لوگوں کے اس سوال کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ آسمان و زمین اگر پہلے نہ تھے اور بعد میں پیدا کیے گئے تو پہلے کیا تھا ؟ اس سوال کو یہاں نقل کیے بغیر اس کا جواب مختصر سے فقرے میں دے دیا گیا ہے کہ پہلے پانی تھا۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس پانی سے مراد کیا ہے۔ یہی پانی جسے ہم اس نام سے جانتے ہیں ؟ یا یہ لفظ محض استعارے کے طور پر مادے کی اس مائع (Fluid) حالت کے لیے استعمال کیا گیا ہے جو موجودہ صورت میں ڈھالے جانے سے پہلے تھی ؟ رہا یہ ارشاد کہ خدا کا عرش پہلے پانی پر تھا، تو اس کا مفہوم ہماری سمجھ میں یہ آتا ہے کہ خدا کی سلطنت پانی پر تھی۔ سورة هُوْد 8 اس ارشاد کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–10

خلاصہ تفسیر اور اگر ہم انسان کو اپنی مہربانی کا مزا چکھا کر اس سے چھین لیتے، ہیں تو وہ ناامید اور ناشکرا ہوجاتا ہے اور اگر اس کو کسی تکلیف کے بعد جو کہ اس پر واقع ہوئی ہو کسی نعمت کا مزا چکھاویں تو (ایسا اتراتا ہے کہ) کہنے لگتا ہے کہ میرا سب دکھ درد رخصت ہوا (اب کبھی نہ ہوگا پس) وہ اترانے لگتا ہے شیخی بگھارنے لگتا ہے مگر جو لوگ مستقل مزاج ہیں اور نیک کام کرتے ہیں (مراد اس سے مؤمنین ہیں کہ ان میں کم وبیش یہ خصائل ہوتے ہیں سو) وہ ایسے نہیں ہوتے (بلکہ زوال نعمت کے وقت صبر سے کام لیتے ہیں اور عطاء نعمت کے وقت شکر و اطاعت بجا لاتے ہیں پس) ایسے لوگوں کے لئے بڑی مغفرت اور بڑا اجر ہے (خلاصہ یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 8–11

8۔ 11:۔ وَلَىِٕنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰٓى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّيَقُوْلُنَّ مَا يَحْبِسُهٗ ۭ اَلَا يَوْمَ يَاْتِيْهِمْ لَيْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ۔ لفظ امت یہاں ٹھیک اپنے لغوی مفہوم یعنی مدت کے معنی میں ہے جس طرح سورة یوسف میں ہے " وقال الذی نجا منہا واد کر بعد امۃ : اور کہا اس نے جس نے ان دونوں میں سے رہائی پا لی تھی اور ایک مدت کے بعد اس نے یاد کیا " (یوسف :45)۔ کفار کے استہزاء کا جواب : اوپر کی آیت میں ان کے اس مذاق کا ذکر ہے جو مرنے کے بعد اٹھائے جانے کی خبر کا وہ اڑا رہے تھے۔ اس آیت میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہی مذاق کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

9۔ 1 انسانوں میں عام طور پر جو مذموم صفات پائی جاتی ہیں اس میں اور اگلی آیت میں ان کا بیان ہے۔ ناامیدی کا تعلق مستقبل سے ہے اور ناشکری کا ماضی و حال سے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–11

8: یہ بات کہہ کر وہ در اصل آخرت اور عذاب الٰہی کا مذاق اڑاتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 9–11

تفسیر آیات 9 تا 11:۔ یہ لوگ مطالبہ نزول عذاب میں بےصبری کا مظاہرہ کر رہے ہیں ، انسانی مزاج کے اس پہلو پر یہاں مزید روشنی ڈالی جا رہی ہے کہ انسان کسی حالت پر بھی ثابت قدم اور صحیح رائے قائم کرنے میں صحیح الفکر نہیں ہوتا۔ اس کی نفسیات یہ ہیں : اگر کبھی ہم انسان کو اپنی رحمت سے نوازنے کے بعد پھر اس سے محروم کردیتے ہیں تو وہ مایوس ہوتا ہے اور ناشکری کرنے لگتا ہے۔ اور اگر اس مصیبت کے بعد جو اس پر آئی تھی ، ہم اسے نعمت کا مزا چکھاتے ہیں تو وہ کہتا ہے میرے سارے دلدر پار ہوگئے ، پھر وہ پھولا نہیں سماتا اور اکڑنے لگتا ہے۔ اس عیب سے پاک اگر کوئی ہیں تو بس وہ لوگ جو صبر کرنے والے اور نیکو کار ہیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی اب تو کہتے ہیں عذاب کہاں ہے، کیوں نہیں آتا، لیکن آدمی بودا اور تھڑدلا اتنا ہے کہ اگر خدا چند روز اپنی مہربانی سے عیش و آرام میں رکھنے کے بعد تکلیف میں مبتلا کر دے تو پچھلی مہربانیاں بھی بھلا دیتا ہے اور ناامید ہو کر آئندہ کے لیے آس توڑ بیٹھتا ہے۔ گذشتہ پر ناشکری اور آئندہ سے مایوسی، یہ ہی اس کی زندگی کا حاصل ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ ۚ اِنَّهٗ لَيَـــُٔــوْسٌ كَفُوْرٌ انسان بنیادی طور پر کوتاہ نظر اور ناشکرا ہے۔ کسی نعمت کامیابی یا خوشی کے بعد اگر اسے کوئی مشکل پیش آتی ہے تو اس وقت وہ بھول جاتا ہے کہ اس پر کبھی اللہ کی نظر کرم بھی تھی۔ چاہیے تو یہ کہ اچھے حالات میں انسان اللہ کا شکر ادا کرے اور جب کوئی سختی آجائے تو اس پر صبر کرے اور ساتھ ہی ساتھ دل میں اطمینان رکھے کہ ہر طرح کے حالات اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں اگر آج سختی ہے تو کل آسائش بھی تو تھی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 7–9

11 مادی اشیاء میں پانی سب سے پہلے پیدا کیا گیا :۔ اس آیت سے اور مندرجہ بالا حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پانی کی تخلیق زمین و آسمان کی تخلیق سے پہلے ہوچکی تھی یہ پانی کہاں تھا اور آیا یہ پانی وہی پانی ہے جو معروف ہے یا کوئی مائع قسم کا مادہ تھا ؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو ہماری سمجھ سے باہر ہیں اور انھیں سمجھنے کے ہم مکلف بھی نہیں البتہ یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش سے پہلے تو اللہ کا عرش پانی پر تھا اور تخلیق کے بعد یہ عرش سات آسمانوں اور کرسی کے بھی اوپر ہے۔ 12 تخلیق کائنات کا مقصد تخلیق آدم ہے دنیا دارالامتحان ہے :۔ اس آیت سے کئی حقائق سامنے آتے ہیں مثلاً زمین و آسمان اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–24

آیت نمبر 9 تا 24 ترجمہ : اور اگر ہم کافر انسان کو اپنی رحمت) مثلاً ( مالداری اور صحت سے نوازنے کے بعد اس کو رحمت سے محروم کردیتے ہیں تو وہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہو کر اس رحمت کی بےحد ناشکری کرنے لگتا ہے، اور اگر اس مصیبت کے بعد جو اس پر آپڑی تھی) مثلاً ( فقر اور سختی، ہم اس کو نعمتوں کا مزا چکھا دیتے ہیں تو کہنے لگتا ہے کہ میرے سب دکھ دور ہوگئے اور ان نعمتوں کے زوال کا خیال بھی نہیں کرتا اور نہ ان پر شکر ادا کرتا ہے) اور ( وہ اترانے لگتا ہے اور جو کچھ اس کا دیا گیا ہے اس کی وجہ سے لوگوں پر شیخی بگھارنے لگتا ہے، مگر جو لوگ مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں اور نعمتوں میں نیک عمل کرتے ہیں یہی ہیں وہ لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولئن اذقنا الانسان منا رحمۃً ثم نزعنھا منہ انہ لیؤس کفور۔ اور اگر ہم انسان کو (بلا استحقاق) اپنی طرف سے رحمت یعنی کسی نعمت (امن ‘ صحت ‘ دولت وغیرہ) کا مزہ چکھا دیتے ہیں ‘ پھر کچھ مدت کے بعد اس سے اپنی نعمت چھین لیتے ہیں تو وہ بالکل نراس اور ناشکرا ہوجاتا ہے۔ الانسان (میں الف لام جنسی ہے) یعنی عام انسان۔ لَیَؤُسٌ : بالکل نراس ‘ ناامید۔ نعمت کے زوال کے بعد چونکہ اس کو صبر نہیں رہتا اور اللہ پر اس کا اعتماد نہیں ہوتا اور حکم خداوندی پر وہ رضامند نہیں ہوتا ‘ اسلئے قطعاً حصول نعمت سے ناامید ہوجاتا ہے اور اللہ کی سابق اور موجودہ نعمتوں کو بھی بھول جاتا ہے ‘ پچھلی نعمتوں کی بھی ناشکری کرنے لگتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(9) اور اگر ہم کافر کو اپنی نعمت کا مزہ چکھا کر پھر اس سے چھین لیتے تو وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بہت ہی مایوس اور ناامید اور نعمت خداوندی کا منکر اور ناشکر ہوجاتا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَىِٕنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً۔۔ : یعنی انسان میں یہ کمزوری ہے کہ کوئی رحمت صرف چکھنے کے بعد، یعنی تھوڑی سی نعمت صرف کچھ دیر کے لیے ملنے کے بعد چھن جائے تو اللہ تعالیٰ کی ساری نعمتیں اس طرح بھولتا ہے کہ آئندہ کے لیے اس کی تمام نعمتوں سے نہایت ناامید ہوجاتا ہے اور گزشتہ اور موجودہ کوئی نعمت اسے یاد ہی نہیں رہتی۔ یہی اس کی ناشکری اور نعمت کا انکار ہے۔ شوکانی نے فرمایا کہ ”اَذَقْنَا“ کے لفظ سے ادنیٰ سے ادنیٰ نعمت تھوڑی سی مدت کے لیے ملنا واضح ہو رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 9–11

آیت نمبر 9 تا 11 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ولئن اذقناالانان منارحمۃ، الانانتمام کفار کے بارے میں جنس کے لیے مشترک نام ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں انسان سے مراد ولید بن مغیرہ ہے اور اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ اور ایک قول یہ ہے کہ یہ عبداللہ بن ابی امیہ مخزومی کے بارے میں نازل ہوئی۔ رحمۃ یعنی بطور نعمت۔ ثم نزعنٰھا منہ یعنی ہم اس (نعمت) کو اس سے سلب کرلیں گے۔ انہ لیوس یعنی رحمت سے مایوس ہونے والا۔ کفور یعنی نعمتوں کا انکار کرنے والا۔ ابن اعرابی نے یہ کہا ہے۔ نحاس نے کہا : لیؤوس، یئس ییآس سے ہے۔ سیبویہ نے کہا : یئس ییآس اور یآس ییئس ہے اور بعض کہتے ہیں : یئس یییس ہے۔ کلام عرب میں سوائے ان چار حروف…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 8–14

1:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جب (آیت ) ” اقترب للناس حسابہم “ (الانبیاء آیت) نازل ہوئی تو لوگوں نے کہا قیامت قریب آگئی تو وہ (بڑے کاموں سے) رک گئے وہ تھوڑا سا وقت رکے رہے پھر وہ اپنے برے اعمال کی طرف لوٹ آئے تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” اتی امر اللہ فلا تستعجلوہ “ (رحمۃ اللہ علیہالنحل) تو لوگوں نے کہا یہ گمراہ ہونے والے ہیں اللہ کا حکم تحقیق آچکا تو قوم رک گئی پھر اپنے تدبیروں کی طرف لوٹ آئی تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری ” ولئن اخرنا عنہم العذاب الی امۃ معدودۃ “۔ 2:۔ ابن جریر وابن منذر (رح) نے ابن جریر اور ابن المنذر (رح) نے فرمایا کہ (آیت) امۃ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَىِٕنْ [اور البتہ اگر ] اَذَقْنَا [ ہم چکھا دیں ] الْاِنْسَانَ [ انسان کو ] مِنَّا [ اپنی (طرف) سے ] رَحْمَةً [ کوئی رحمت ] ثُمَّ [ پھر ] نَزَعْنٰهَا [ ہم کھینچ لیں اس کو ] مِنْهُ ۚ [ اس سے ] اِنَّهٗ [ بیشک وہ ] لَيَـــُٔــوْسٌ [ یقینا بےانتہا مایوس ہے ] كَفُوْرٌ [ بےانتہاناشکرا ہے ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 9 ۔ 10 میں یہ بات قابل غور ہے کہ دنیا کی آسائش اور تکلیف دونوں کے بارے میں قرآن کریم نے اذقنا یعنی چکھانے کا لفظ استعمال کرکے اس طرف اشارہ کردیا کہ اصل اسائش اور تکلیف آخرت کی ہے ۔ دنیا کی آسائش اور تکلیف نہ تو مکمل ہیں اور نہ دائمی ہیں ، بلکہ نمونے اور چکھنے کے درجہ میں ہیں تاکہ انسان کو آخرت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 9–11

نا امیدی ‘ ناشکری ‘ اترانا ‘ شیخی بگھارنا انسان کا خاص مزاج ہے ان دو آیتوں میں انسان کا مزاج اور اس کا طرز عمل بیان فرمایا کہ اگر ہم انسان کو اپنی رحمت اور مہربانی کا مزہ چکھا دیں اور پھر اس سے چھین لیں تو وہ ناامید بھی ہوجاتا ہے اور ناشکرا بھی ‘ نعمت کے چلے جانے کی وجہ سے واویلا کرتا ہے صبر کر کے آئندہ بھلائی اور خیر کی جو امید ہونی چاہئے تھی اسے بالکل ختم کردیتا ہے اور نہ صرف یہ کہ آئندہ کے لئے ناامید ہوجاتا ہے بلکہ اس سے پہلے جن نعمتوں میں تھا ان کا شکر بھی ادا نہیں کرتا اور جو موجودہ نعمتیں ہیں ان کے شکر سے بھی باز رہتا ہے انسان کے طرز عمل کا دوسرا رخ یہ ہے کہ جب اسے دکھ تکلیف کے بعد نعمت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–11

بیان حال طبیعت انسانیہ و راحت و کلفت قال اللہ تعالیٰ ولئن اذقنا الانسان منا رحمۃ .... الیٰ .... لہم مغفرۃ واجر کبیر۔ (ربط) گزشتہ آیت میں یہ بیان فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ ولیہ وآلہ وسلم جب عذاب الٰہی سے ڈراتے تو کفار نہایت بےباکی سے یہ کہہ دیتے کہ وہ عذاب کیوں نہیں آتا اب اس آیت میں طبیعت انسانی کا حال بیان کرتے ہیں کہ وہ اکثر و بیشتر ایک حال پر نہیں رہتی اگر عیش و آرام کے بعد ذرا تکلیف میں مبتلا ہوا تو ناامید ہو کر بیٹھ جاتا ہے اور اگر مصیبت کے بعد راحت پہنچتی ہے تو اترانے لگتا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اگر ہم انسان کو اپنی طرف سے کسی رحمت اور نعمت کا مزا چکھائیں اور پھر اس سے وہ اپنی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 9–10

13:۔ یہ زجر ہے اور الانسان سے مشرک انسان مراد ہے فرمایا جب ہم مشرکوں کو انسان مراد ہے فرمایا جب ہم مشرکوں کو رحمت سے نوازتے ہیں اور دنیوی آرام و راحت اور فراخی عیش کا ان پر دروازہ کھول دیتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ ان کے خود ساختہ معبودوں کی مہربانی ہے۔ پھر جب ہم نے کے آرام و عیش کو تکلیف اور تنگدستی سے بدل دیتے ہیں تو وہ اپنے معبودوں سے مایوس ہوجاتے ہیں اور ان کا عقیدہ ڈانواں ڈول ہوجاتا ہے اور وہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ ہمارے معبود تو کچھ نہیں کرسکتے اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کو پکارنے لگ جاتے ہیں۔ وَلَئِنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَاءَ الخ : لیکن جب پھر ہم اس کی تکلیف، تنگدستی اور مصیبت وگیرہ دور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 9–12

ربط آیات دعوت الی التوحید کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے علم محیط اور قدرت تامہ کا ذکر فرمایا ۔ اس سے پہلے تمام جاندار کی روزی کا ذمہ اٹھایا اور ہر ایک کے مستقر اور مستودع کے علم کا ذکر کیا۔ پھر تخلیق کائنات کا ذکر کیا جو کہ اس کی وحدانیت اور قدرت تامہ دلیل ہے آسمان و زمین کی پیدائش اور عرش الٰہی کا ذکر ہوا۔ تخلیق کائنات کا مقصد انسانوں کی مصلحت بیان فرمایا اور انسانوں کی تخلیق کو ان کی آزمائش کا مقصود بنایا کہ ان میں سے کون اچھے اعمال انجام دیتا ہے اور کون برائیوں کا ارتکاب کرتا ہے۔ فرمایا یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی جانب سے برحق ہے۔ فرمایا اگر نافرمانوں پر خدا کی گرفت موخر ہوجائے تو وہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَىِٕنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَۃً ثُمَّ نَزَعْنٰہَا مِنْہُ۝ 0 ۚ اِنَّہٗ لَيَـــُٔــوْسٌ كَفُوْرٌ۝ 9 ذوق الذّوق : وجود الطعم بالفم، وأصله فيما يقلّ تناوله دون ما يكثر، فإنّ ما يكثر منه يقال له : الأكل، واختیر في القرآن لفظ الذّوق في العذاب، لأنّ ذلك۔ وإن کان في التّعارف للقلیل۔ فهو مستصلح للکثير، فخصّه بالذّكر ليعمّ الأمرین، وکثر استعماله في العذاب، نحو : لِيَذُوقُوا الْعَذابَ [ النساء/ 56] ( ذ و ق ) الذاق ( ن ) کے معنی سیکھنے کے ہیں ۔ اصل میں ذوق کے معنی تھوڑی چیز کھانے کے ہیں ۔ کیونکہ کسی چیز کو مقدار میں کھانے پر اکل کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن نے عذاب کے متعلق ذوق کا لفظ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–19

ترکیب : صدرک مرفوع ہے ضائق کا فاعل ہو کر جو معتمد علیہ مبتداء ہے اور ممکن ہے کہ وہ مبتداء اور ضائق خبر مقدم ہو ان یقولوا ای مخافۃ ان یقولہ افمن کان موضع رفع میں ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے اور خبر محذوف ہے تقدیرہ افمن کان علی ھذہ الاشیاء کغیرہ۔ تفسیر : فرمایا تھا کہ منکروں سے جو مرنے کے بعد زندہ ہونے کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کا انکار کرتے ہیں اور ان کے اس کفر کی سزا یعنی عذاب کو جو ہم نے ابھی ان پر نہیں بھیجا ذکر کیا جاتا ہے تو کس دلیری اور استقلال سے کہتے ہیں کہ وہ کیوں نہیں آتا ؟ کس نے روک رکھا ہے ؟ اب یہاں فرماتا ہے کہ ان کی یہ سب باتیں ہماری دنیاوی نعمت اور راحت کی وجہ سے ہیں اور ان پر کچھ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 9–10

وَلَئِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَۃً ثُمَّ نَزَعْنٰہَا مِنْہُج اِنَّہٗ لَیَئُوْسٌ کَفُوْرٌ۔ وَ لَئِنْ اَذَقْنٰہُ نَعْمَآئَ بَعْدَ ضَرَّآئَ مَسَّتْہُ لَیَقُوْلَنَّ ذَہَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْط اِنَّہٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌ۔ (سورۃ ہود : 9، 10) (اگر ہم انسان کو اپنے کسی فضل سے نوازتے ہیں اور پھر اس کو اس سے محروم کردیتے تو وہ مایوس اور ناشکرا بن جاتا ہے۔ اور اگر کسی تکلیف کے بعد جو اس کو پہنچی اس کو نعمت سے نوازتے ہیں تو کہتا ہے میری مصیبتیں جاتی رہیں اور وہ اکڑنے والا اور شیخی بگھارنے والا بن جاتا ہے۔ ) آیات کی تشریح سے پہلے چند مشکل الفاظ کی وضاحت۔ یہاں ” رحمت “ سے مراد صحت، امن و…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 9–10

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب اور قیامت کو بھول جاتے ہیں ان کی طبیعت میں ناشکری اور فخروغرور پیدا ہوجاتا ہے۔ ایسے لوگوں کی حالت کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر ایسے آدمی کو ہم اپنی رحمت سے بہرہ ور کریں اور اس کے بعد اپنے کرم کا ہاتھ پیچھے ہٹائیں تو وہ حوصلہ کرنے کی بجائے ناشکری کا اظہار کرتا ہے۔ اگر تکلیف کے بعد اسے راحت اور خوشی عطا کریں تو وہ یہ کہتے ہوئے فخروغرور کا مظاہرہ کرتا ہے کہ میرے دکھ دور ہوگئے۔ گویا کہ اسے نعمت عطا ہو تو ناشکری کی صورت میں اور اس کا دکھ دور ہوجائے تو فخروغرور کی حالت میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے۔ اس طرح اللہ اور قیامت پر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

عام انسانی مزاج ناشکرا و نخریلا : 9: وَلَئِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ (اور اگر ہم انسان کو چکھائیں) انسان سے جنس انسان مراد ہے۔ مِنَّا رَحْمَۃً (اپنی طرف سے رحمت) نعمت جو صحت و امن و مال کی قسم سے ہو۔ لئنؔ میں لام تمہید قسم کیلئے ہے۔ ثُمَّ نَزَعْنٰھَامِنْہُ (پھر وہ اس سے کھینچ لیں) پھر وہ نعمت سلب کرلیں اور انّہٗ لَیَئُوْسٌجواب قسم ہے۔ اِنَّہٗ لَیَئُوْسٌ (بیشک وہ ناامید) وہ اس سے سخت مایوس ہوجاتا ہے کہ اس سلب کی ہوئی نعمت کی طرح نعمت اسکو ملے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل اور وسعت رحمت سے اپنی امیدیں توڑنے والا بنکر بےصبرا ہوجاتا ہے اور قضاء کو تسلیم نہیں کرتا۔ کَفُوْرٌ (بہت ناشکرا ہے) گزشتہ وقت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

9۔ ” ولائن اذقنا الانسان منا رحمۃ “ نعمت اور کشادگی ثم نزعنا ھا منہ یعنی ہم اس سے اس کو چھین لیں انہ لیوس سخت ناامید ہوجاتا ہے ” کفور “ نعمت کا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 9–11

9۔ 11 مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی ناشکری کچھ قرآن کی نعمت کی ناقدری پر منحصر نہیں ہے بلکہ ان کی ناشکری تو دنیا کی نعمتوں میں بھی ہے چناچہ ان میں سے کسی کو اللہ اپنی رحمت کا اگر نمونہ دکھاتا ہے اور اس کے رزق میں ترقی کردیتا ہے تو یہ لوگ عیش و آرام میں پڑے رہتے ہیں اور جب ان کے سر سے ذرا بھی اس رحمت کا سایہ الگ کرلیا تو پھر ان کو آئندہ کی فلاحیت کی امید نہیں رہتی اور پہلے عیش و آرام ان کے خیال سے بالکل جاتے رہتے ہیں اور اگر اللہ تکلیف کے بعد کسی کو خوش حال کردیتا ہے تو وہ بہت ہی خوش ہوتا ہے اور اپنے مال پر اس قدر اترانے لگتا ہے کہ جس کا کچھ ٹھکانا نہیں مگر جو لوگ سختی اور مصیبت کے وقت صبر کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اور البتہ اگر چکھائیں ہم انسان کو اپنی طرف سے رحمت، پھر چھین لیں ہم وہ (رحمت) اس سے تو بیشک (ہوجاتا ہے) وہ انتہائی ان امید، بہت ناشکرا۔ اور البتہ اگر چکھائیں ہم اسے راحت بعد اس تکلیف کے جو پہنچی اسے تو ضرور کہے گا چلی گئیں برائیاں (دکھ درد) مجھ سے، بلا شبہ وہ بہت اترانے والا، بڑا شیخی بگھانے والا ہے۔ مگر وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا اور عمل کئے نیک، یہی لوگ ہیں واسطے ان کے مغفرت اور اجر بہت بڑا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ انسان کی فطرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ وہ جاہل اور ظالم ہے بایں طور کہ جب اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے، مثلاً اسے صحت، رزق اور اولاد وغیرہ سے نوازتا ہے، پھر وہ اس سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 9–10

26 ۔ تنگ ظرف اور تھڑ دلے انسان کا حال : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ایسے انسان کو ہم اپنی طرف سے کوئی زحمت چکھا دیں پھر ہم اس کو اس سے چھین لیں تو یہ بالکل مایوس اور ناشکرا ہوجاتا ہے۔ سو یہ اس تنگ ظرف اور تھڑ دلے انسان کا حال ہے کہ یہ صبر و شکر کی خصال عالیہ اور صفات حمیدہ سے عاری اور محروم ہوتا ہے کہ نعمت ملنے پر یہ اتراتا اور شیخی بگھارتا ہے۔ اور اس کے چھن جانے پر یہ مایوس اور ناشکرا بن جاتا ہے اور حضرت واہب مطلق۔ جل وعلا۔ کی دوسری ان تمام نعمتوں کو بھول جاتا ہے جن سے وہ اس سے پہلے مستفید و فیضیاب ہوتا رہتا ہے اور جن سے وہ اب بھی مستفید و فیضیاب ہورہا ہوتا ہے کہ اس کی نعمتیں تو بےحد و حساب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–11

دنیا دار، ناشکرے شخص کی نشانیاں اور صابر لوگوں کا اجر تشریح : ان آیات میں انسان کی نفسیات بیان کی گئی ہیں کہ ایک کمزور ایمان والا شخص ذرا سی تکلیف پہنچنے پر سخت پریشان ہوجاتا ہے جو کہ توکل کی کمزوری ہوتی ہے بلکہ اللہ سے گلے شکوے شروع کردیتا ہے۔ جب خوشیاں اور فارغ البالی ملتی ہے تو بجائے شکر ادا کرنے کے اللہ کو بالکل ہی بھول جاتا ہے، حالانکہ مضبوط ایمان والے کی یہ نشانی ہے کہ وہ پریشانی میں صبر، استغفار اور دعا سے کام لیتا ہے جب خوش ہوتا ہے تو اللہ کو تب بھی یاد کرتا ہے اور اس کا شکر بجا لاتا ہے۔ ایسے لوگ اللہ کے پسندیدہ لوگ ہیں ان کے لیے بخشش اور بہت زیادہ ثواب کی خوشخبری ہے۔ کیونکہ وہ ہر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 9–24

آیات 9 تا 24 اسرار و معارف عام انسان کا حال یہ ہے کہ اگر اس کے پاس اللہ کی نعمت ہو اور وہ چھن جائے یعنی مال وغیرہ میں نقصان ہوجائے یا صحت چلی جائے یا اقتدار و وقار جاتا رہے تو وہ بالکل ناامید ہوکرناشکری کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا لیکن اگر اسی کو پھر سے وہ نعمت لوٹادی جائے بیمار کو شفا ہوجائے یا پھر مالدار ہوجائے یاجلاوطنی کے بعد پھر سے اقتدار نصیب ہوجائے تو اترانے اور اکڑنے لگتا ہے اور کہتا ہے وہ دن اب لدگئے اب میرا کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور وہ طرح طرح کی شیخیاں بگھارتا ہے۔ معرفت باری کا اثر یہ وہ تصویر ہے جو ہراس انسان کی ہے جسے معرفت باری نصیب نہیں مگر جن کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 8–9

ف 6 ۔ یعنی انسان میں یہ کمزوری ہے کہ جب اسے کوئی معمولی سی مصیبت بھی پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی پچھلی تمام نعمتوں کو بھول جاتا ہے۔ یہی اس کی ناشکری ہے۔ (ابن کثیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(11:9) اذقنا۔ ماضی جمع متکلم ۔ اذاقۃ سے ذوق مادہ۔ ہم چکھاتے ہیں۔ ہم نے چکھایا۔ ذوق یذوق (باب نصر) چکھنا۔ نزعنا منہ۔ ماضی جمع متکلم۔ نزع مصدر۔ ہم نے اس (رحمت کو) اس سے چھین لیا۔ نزع۔ چھیننا۔ نکال دینا۔ چھانٹ کر نکال دینا۔ یؤس۔ صیغہ صفت مشبہ۔ یاس سے۔ ناامید۔ کفور۔ ناشکرا۔ یؤس کفور۔ یائس کافر سے فعول کے وزن پر مبالغے کے صیغے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 8–11

لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 11 اذقنا (ہم نے چکھا دیا) منا (ہم سے) نزعنا (ہم نے کھینچ لیا، واپس لے لیا) یئوس (مایوس ہوجاتا ہے) کفور (ناشکرا) نعمآء (نعمتیں) مستہ (اس کو پہنچتی ہے) السیئات (خرابیاں، برائیاں ) فرح (وہ اترانے والے فخور (شیخی بگھارنا، بڑائی کرنا) اجر کبیر (بہت بڑا بدلہ) تشریح : آیت نمبر 9 تا 11 اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے کہ : ہم نے ان کو برو بحر یعنی خشکی اور تری میں عزت و سربلندی سے نوازا ہے اور ان کو ہر طرح کا پاکیزہ رزق عطا فرمایا ہے۔ دوسری جگہ ارشاد کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنا نائب اور خلیفہ بنا کر تمام فرشتوں کو اس کی عظمت کے سامنے سجدہ کرنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–11

مصیبت پر صابر اور نعمت پر شاکر رہنے کا ذکر ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی ناشکری کچھ قرآن کی نعمت کی ناقدری پر منحصر نہیں ہے، بلکہ ان کی ناشکری تو دنیا کی نعمتوں میں بھی ہے۔ چناچہ ان میں سے کسی کو اللہ اپنی رحمت کا اگر نمونہ دکھاتا ہے اور اس کے رزق میں ترقی کردیتا ہے تو یہ لوگ عیش و آرام میں پڑے رہتے ہیں۔ اور جب ان کے سر سے ذرا بھی اس رحمت کا سایہ الگ کرلیا تو ان کو آئندہ کی فلاحیت کی امید نہیں رہتی اور پچھلے عیش و آرام ان کے خیال سے بلکل جاتے رہتے ہیں۔ اور اگر اللہ تعالیٰ تکلیف کے بعد کسی کو خوش حال کردیتا ہے تو وہ بہت خوش ہوتا ہے اور اپنے مال پر اس قدر اترانے لگتا ہے کہ جس کا کچھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–14

[4] عرش سے مراد تخت حکومت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کی حکومت پانی پر تھی یا کسی ایسی چیز پر جسے پانی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ [5] یعنی تخلیق کائنات کا مقصد یہ تھا کہ انسان کو دنیا میں پیدا کر کے اسے خلافت کے اختیارات سپرد کئے جائیں اور پھر دیکھا جائے کہ وہ اپنے اختیارات کس طرح استعمال کرتا ہے۔ بالفاظ دیگر دنیا انسان کے لئے امتحان گاہ ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 7–11

(ف 2) یعنی کائنات کی ابتدا پانی سے ہے ، (آیت) ” وجعلنا من المآء کل شی حی “۔ علم الحیات کے ماہرین بیشمار تجارب اور ارتقاء کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ زندگی کی ابتداء ان حیوانات سے ہوتی ہے جو بحری ہیں قرآن نے نہایت بہتر الفاظ میں علم الحیات کے اس مسئلہ کو بیان فرمایا ہے کہ خدا کا عرش حکومت ابتداء پانی سے وابستہ تھا ۔ (آیت) ” لیبلوکم “ میں مقصد حیات کی طرف اشارہ ہے ، یعنی تمہیں اس لئے پیدا کیا گیا ہے تاکہ بہترین اعمال سے زمین کو رشک فردوس بنا دو ۔ حل لغات : دآبۃ : ہر جاندار زمین پر چلنے والا ۔ مستقر : جائے قرار ۔ مستودع : جہاں سونپاجائے امانت کا ، امۃ : مدت ، زمانہ ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

9 اور اگر ہم انسان کو اپنی کسی نعمت کا مزہ چکھائیں اور اس کو اپنی نعمت اور مہربانی سے لطف اندوز کریں پھر وہ نعمت اس سے سلب کرلیں اور چھین لیں تو وہ ناامید اور ناسپاس ہوجاتا ہے یعنی جب کوئی نعمت سلب ہوجاتی ہے تو نا امیدی اور ناشکری کا اظہار کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–10

ف 3۔ یعنی اگر عذاب کوئی چیز ہوتی تو اب تک ہو چکتا۔ جب نہیں ہوا تو معلوم ہوا کہ کچھ بھی نہیں۔ 4۔ مطلب یہ ہوا کہ باوجود استحقاق کے یہ تاخیر اس لیے ہے کہ بعض حکمتوں سے اس کا وقت معین ہے پھر اس وقت ساری کسر نکل جائے گی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دیکھو جب ہم کسی کو رحمت کا مزہ چکھائیں اور پھر ہٹا لیں تو وہ مایوس ہوجاتے ہیں 16 ؎ حالت بشری بھی بڑی عجیب چیز ہے کہ اگر مصیبت پیش آتی ہے تو فوراً مایوس ہوجاتا ہے اور راحت پیش آتی ہے تو بےپروا ہو کر ڈینگیں مارنے لگتا ہے۔ زیر نظر آیت میں انسان کی پوری زندگی کا نقشہ بالکل مختصر الفاظ میں کھینچ کر رکھ دیا گیا۔ فرمایا غور کرو کہ انسان کو اس دنیوی زندگی میں مختلف قسم کے حالات سے واسطہ پڑتا ہے۔ کبھی اس کے مطلع حیات پر خوشی کے ستارے جگمگاتے ہیں اور کبھی اسے ایسی شکست سے دو چار ہونا پڑتا ہے جس کا اسے تصورتک بھی نہیں ہوتا ، کبھی وہ تندرست و توانا ہوتا ہے اور کبھی بیمار و رنجور ۔ ان مختلف حالات میں دو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–10

Commentary In the verses appearing above, it has been confirmed that the Holy Prophet ﷺ is a Messenger of Allah and an answer has been given to those who engineer doubts about it. At the beginning, in the first three verses (9-11), an instinctively bad human habit has been mentioned with an instruction to Muslims that they should stay away from it. That man is naturally fickle-minded and haste-prone, and that he tends to be consumed by his immediate condition and puts all concerns of the past and future out of his mind, has been described in the first two verses (9, 10). It has been said: If…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–9

7. This is a parenthetical statement which was presumably made in response to some such query: 'If there was a time when the heavens and the earth did not exist, and then they were created - what is it that existed before?' Without explicitly mentioning any such query, an answer is briefly provided. The answer is: before all the heavens and the earth were created there was water everywhere. However, we are not in a position to state with certainty the meaning of the word 'water' used in the verse. Does it mean the 'water' known to us by that name now? Or has it been used metaphorically to…

Read the full tafseer →