Explained with ayahs 7–8
تخلیق کائنات کا تذکرہ
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اسے ہر چیز پر قدرت ہے۔ آسمان و زمین کو اس نے صرف چھ دن میں پیدا کیا ہے۔ اس سے پہلے اس کا عرش کریم پانی کے اوپر تھا۔ مسند احمد میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے بنو تمیم ! تم خوشخبری قبول کرو۔ انہوں نے کہا خوشخبریاں تو آپ نے سنا دیں اب کچھ دلوائیے۔ آپ نے فرمایا اے اہل یمن تم قبول کرو۔ انہوں نے کہا ہاں ہمیں قبول ہے۔ مخلوق کی ابتدا تو ہمیں سنائے کہ کس طرح ہوئی ؟
آپ نے فرمایا سب سے پہلے اللہ تھا۔ اس کا عرش پانی کے اوپر تھا۔ اس نے لوح محفوظ میں ہر چیز کا تذکرہ لکھا۔ راوی حدیث حضرت عمران کہتے ہیں حضور ﷺ نے اتنا ہی فرمایا تھا جو کسی نے آن کر مجھے خبر دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
سورة هُوْد 7
جملہ معترضہ ہے جو غالبًا لوگوں کے اس سوال کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ آسمان و زمین اگر پہلے نہ تھے اور بعد میں پیدا کیے گئے تو پہلے کیا تھا ؟ اس سوال کو یہاں نقل کیے بغیر اس کا جواب مختصر سے فقرے میں دے دیا گیا ہے کہ پہلے پانی تھا۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس پانی سے مراد کیا ہے۔ یہی پانی جسے ہم اس نام سے جانتے ہیں ؟ یا یہ لفظ محض استعارے کے طور پر مادے کی اس مائع (Fluid) حالت کے لیے استعمال کیا گیا ہے جو موجودہ صورت میں ڈھالے جانے سے پہلے تھی ؟ رہا یہ ارشاد کہ خدا کا عرش پہلے پانی پر تھا، تو اس کا مفہوم ہماری سمجھ میں یہ آتا ہے کہ خدا کی سلطنت پانی پر تھی۔
سورة هُوْد 8
اس ارشاد کا…
Read the full tafseer →ساتویں آیت میں منکرین قیامت و آخرت کا حال بیان ہوا ہے کہ یہ لوگ جو بات ان کی سمجھ میں نہ آئے اس کو جادو کہہ کر ٹال دینا چاہتے ہیں۔
آٹھویں آیت میں ان لوگوں کے شبہ کا جواب ہے جو عذاب کی وعیدوں پر انبیاء (علیہم السلام) کا اعتبار نہ کرکے کہا کرتے تھے کہ اگر آپ سچے ہیں تو جس عذاب کی وعید تھی وہ کیوں نہیں آجاتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
8۔ 11:۔ وَلَىِٕنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰٓى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّيَقُوْلُنَّ مَا يَحْبِسُهٗ ۭ اَلَا يَوْمَ يَاْتِيْهِمْ لَيْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ۔
لفظ امت یہاں ٹھیک اپنے لغوی مفہوم یعنی مدت کے معنی میں ہے جس طرح سورة یوسف میں ہے " وقال الذی نجا منہا واد کر بعد امۃ : اور کہا اس نے جس نے ان دونوں میں سے رہائی پا لی تھی اور ایک مدت کے بعد اس نے یاد کیا " (یوسف :45)۔
کفار کے استہزاء کا جواب : اوپر کی آیت میں ان کے اس مذاق کا ذکر ہے جو مرنے کے بعد اٹھائے جانے کی خبر کا وہ اڑا رہے تھے۔ اس آیت میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہی مذاق کی…
Read the full tafseer →8۔ 1 یہاں استعجال (جلد طلب کرنے) کو استہزا سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ وہ استعجال، بطور اسہزا ہی ہوتا تھا بہرحال مقصود یہ سمجھانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تاخیر پر انسان کو غفلت نہیں کرنی چاہیے اس کی گرفت کسی بھی وقت ہوسکتی ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
8: یہ بات کہہ کر وہ در اصل آخرت اور عذاب الٰہی کا مذاق اڑاتے تھے۔
Read the full tafseer →قرون اولیٰ کی اقوام پر ایسے ایسے عذاب نازل ہوئے ، جن کی وجہ سے ان اقوام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا گیا لیکن تباہ اور فنا کردینے والے یہ عذاب اس وقت آئے جب رسول اپنی قوم کے سامنے معجزات پیش کرچکے اور انہوں نے معجزات کے باوجود تکذیب جاری رکھی۔ یہ ہمہ گیر تباہی اس لیے آتی رہی کہ اس وقت کی رسالتیں وقتی رسالتیں تھیں ، ایک محدود پیریڈ کے لیے تھیں اور بسا اوقات وہ ایک نسل کے لیے تھیں اور ان معجزات کا مشاہدہ بھی وہی لوگ کرسکتے تھے جو موجود تھے۔ یہ معجزات مسلسل اور جاری اور باقی نہ ہوتے تھے تاکہ بعد میں آنے والی نسلیں بھی انہیں دیکھ سکیں جیسا کہ پہلی نسل نے دیکھا تھا۔
رسالت محمدی کی نوعیت سابقہ رسالتوں سے…
Read the full tafseer →8 یعنی جب ان کی شرارتوں پر عذاب الٰہی سے ڈرایا جاتا ہے، مگر خدا کی حکمت ایک مدت معین تک عذاب کو روکے رکھتی ہے تو تکذیب و استہزاء کے طور پر کہتے ہیں کہ وہ عذاب کہاں ہے ؟ آخر آتا کیوں نہیں ؟ کس چیز نے اسے پکڑ رکھا ہے ؟ فرماتے ہیں کیا مذاق کرتے ہو، وقت معین پر جب عذاب آئے گا کسی کے ٹالے نہ ٹلے گا اور ہر طرف سے گھیر کر تباہ و برباد کر کے چھوڑے گا۔
Read the full tafseer →آیت 8 وَلَىِٕنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰٓى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّيَقُوْلُنَّ مَا يَحْبِسُهٗ ۭ
کہ اتنے عرصے سے آپ ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں کہ تم پر عذاب آنے والا ہے ‘ مگر اب تک وہ عذاب آیا کیوں نہیں ؟ آخر کس چیز نے اسے روک رکھا ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
11 مادی اشیاء میں پانی سب سے پہلے پیدا کیا گیا :۔ اس آیت سے اور مندرجہ بالا حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پانی کی تخلیق زمین و آسمان کی تخلیق سے پہلے ہوچکی تھی یہ پانی کہاں تھا اور آیا یہ پانی وہی پانی ہے جو معروف ہے یا کوئی مائع قسم کا مادہ تھا ؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو ہماری سمجھ سے باہر ہیں اور انھیں سمجھنے کے ہم مکلف بھی نہیں البتہ یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش سے پہلے تو اللہ کا عرش پانی پر تھا اور تخلیق کے بعد یہ عرش سات آسمانوں اور کرسی کے بھی اوپر ہے۔
12 تخلیق کائنات کا مقصد تخلیق آدم ہے دنیا دارالامتحان ہے :۔ اس آیت سے کئی حقائق سامنے آتے ہیں مثلاً زمین و آسمان اور…
Read the full tafseer →11۔ جاہلی ذہنیت پر مزید روشنی ڈالی ہے کہ یہ بھی عجب الٹی سمجھ کے لوگ ہیں جس عذاب کے یہ ہر طرح مستحق ہیں، اسے ہم عارضی طور پر روکتے تو اپنی کسی حکمت ومصلحت سے ہیں اور یہ لگتے ہیں طنز وتعریض کے ساتھ مسلمانوں سے دریافت کرنے کہ آخر اس عذاب موعود میں دیر ہی کیا ہے ہم پر آ کیوں نہیں پڑتا ؟ (آیت) ” اخرنا عنھم العذاب “۔ یہ ارادی تاخیر کسی نہ کسی مصلحت و حکمت تکوینی ہی کے ماتحت ہوتی ہے۔ (آیت) ” لیقولن “۔ ان کا یہ قول محض استفسارا نہیں ہوتا انکار واستہزاہی سے ناشی ہوتا ہے۔ (آیت) ” امۃ معدودۃ “۔ امۃ “۔ یہاں اپنے مجازی معنی میں یعنی حصہ وقت کے مرادف ہے۔ معناہ الی حین ووقت معلوم (بحر) ابن عباس ؓ صحابی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
آیت نمبر 6 تا 8
ترجمہ : زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کا رزق اللہ کے ذمہ ہے، مِنْ زائدہ ہے) دَابَّۃ (اس جاندار کو کہتے ہیں جو زمین پر چلتا ہے، یعنی اللہ ہی ان کی روزی کا اپنے فضل سے کفیل ہے وہی ان کو رہنے سہنے کی جگہ کو جانتا ہے آیا دنیا میں ہے یا پشت پدر میں اور مرنے کے بعد اسکے سپرد کئے جانے کی جگہ کو یا رحم مادر میں ہے) اس کا مقام (کو جانتا ہے اور ہر چیز کا جو مذکور ہوئی وہ کتاب مبین میں ہے اور وہ لوح محفوظ ہے، اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا ان کا پہلا میدان یکشنبہ تھا اور آخری دن جمعہ کا اور آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے سے پہلے اس کا عرش پانی پر…
Read the full tafseer →ولئن اخرنا عنھم العذاب الی امۃ معدودۃ لیقولن ما یحسبہ اور اگر کچھ مدت ہم ان سے عذاب کو ملتوی رکھتے ہیں تو کہنے لگتے ہیں کہ عذاب کو کون چیز روک رہی ہے۔ صاحب قاموس نے لفظ اُمَّۃٍ کے معنی میں سے ایک معنی وقت بھی لکھا ہے۔ بغوی نے اس کا ترجمہ اجل کیا ہے (یعنی میعاد) اصل میں امت جماعت کو کہتے ہیں ‘ یعنی ایک جماعت کے ختم ہونے اور دوسری جماعت کے پیدا ہونے تک۔ بیضاوی نے امت کا ترجمہ اوقات کا مجموعہ کیا ہے اور معدودۃ کا ترجمہ قلیل۔
الا یوم یاتیھم لیس مصروفًا عنھم وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزء ون۔ یاد رکھو ! جس روز (مقررہ وقت پر) عذاب ان پر آپڑے گا تو ھر کسی کے ٹالے نہ ٹلے گا اور جس (عذاب) کا مذاق بناتے…
Read the full tafseer →(8) اور اگر ہم ان سے مقررہ مدت یعنی غزوہ بدر تک عذاب ملتوی رکھتے ہیں تو یہ اہل مکہ بطور مذاق اور انکار کے کہتے ہیں کہ اس عذاب کو ہم سے کون چیز روک رہی ہے یاد رکھو جس وقت وہ عذاب ان پر آپڑے گا تو وہ عذاب کسی کے ٹالے نہ ٹلے گا اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کے ذریعے جس عذاب کے ساتھ یہ مذاق کیا کرتے تھے وہ ان کو اچانک آپکڑے گا۔
شان نزول : (آیت) ”ولئن اخرنا عنہم“۔ (الخ)
ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب آیت کریمہ ”۔ اقترب للناس حسابھم“۔ نازل ہوئی تو کچھ لوگوں نے کہا کہ قیامت قریب آرہی ہے لہذا رک جاؤ تو لوگوں میں سے کچھ حضرات رک گئے اس کے بعد پھر اپنے مکروفریب اور…
Read the full tafseer →وَلَىِٕنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰٓى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ۔۔ :”اُمَّۃً“ کے بہت سے معانی ہیں، مثلاً جماعت، امام، طریقہ، مدت اور راستہ وغیرہ، یہاں مدت مراد ہے اور ”مَّعْدُوْدَةٍ“ کا معنی تھوڑی سی ہے، کیونکہ زیادہ چیز کی گنتی نہیں ہوا کرتی اور جو چیز گنی جاسکے وہ آخر ختم ہوجاتی ہے۔ دنیا کے عذاب بدر، احد، خندق، فتح مکہ، قتل، قید، غلامی اور پھر مرنے کے بعد جہنم کے عذاب آنے میں گنتی ہی کے دن ہیں، مگر آجانے کے بعد پھر وہ عذاب ہٹایا نہیں جاسکے گا اور وہی عذاب جسے وہ مذاق کیا کرتے تھے انھیں چاروں طرف سے گھیر لے گا۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 8
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ولین اخرنا عنھم العذاب الٰٓی امۃ معدودۃ، لین میں ” لام “ قسم کا ہے اور لیقولن کا ” لام “ جواب قسم ہے۔ الٰٓی امۃٍ کا معنی مدت اور معلوم زمانے تک، یہاں امۃٍ کا معنی مدت ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ، مجاہد، قتادہ اور جمہور مفسرین نے یہی کہا ہے۔ اور امۃٍکی اصل جماعت ہے اور حین اور سنین کو امۃٍکے ساتھ تعبیر کیا گیا کیونکہ امۃٍاس میں ہوتی ہے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ اس کا مضاف الیہ حذف ہے اور معنی ہے الی مجئ امۃ جس میں کوئی ایسا نہیں جو ایمان لاتا پس وہ ہلاکت کے مستحق ہوجاتے یا الی انقراض امۃ یعنی ایسی امت کے گزرنے تک جس میں وہ ہے جو ایمان لاتا ہے پس اس کے گزرنے کے بعد ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–14
1:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جب (آیت ) ” اقترب للناس حسابہم “ (الانبیاء آیت) نازل ہوئی تو لوگوں نے کہا قیامت قریب آگئی تو وہ (بڑے کاموں سے) رک گئے وہ تھوڑا سا وقت رکے رہے پھر وہ اپنے برے اعمال کی طرف لوٹ آئے تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” اتی امر اللہ فلا تستعجلوہ “ (رحمۃ اللہ علیہالنحل) تو لوگوں نے کہا یہ گمراہ ہونے والے ہیں اللہ کا حکم تحقیق آچکا تو قوم رک گئی پھر اپنے تدبیروں کی طرف لوٹ آئی تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری ” ولئن اخرنا عنہم العذاب الی امۃ معدودۃ “۔
2:۔ ابن جریر وابن منذر (رح) نے ابن جریر اور ابن المنذر (رح) نے فرمایا کہ (آیت) امۃ…
Read the full tafseer →وَلَىِٕنْ [ اور البتہ اگر ] اَخَّرْنَا [ ہم ملتوی رکھیں ] عَنْهُمُ [ ان سے ] الْعَذَابَ [ عذاب کو ] اِلٰٓى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ [ ایک گنتی کئے ہوئے عرصہ تک ] لَّيَقُوْلُنَّ [ تو وہ لوگ لازما کہیں گے ] مَا [ کیا چیز ] يَحْبِسُهٗ ۭ [ روکتی ہے اس کو ] اَلَا [ سن لو ] يَوْمَ [ جس دن ] يَاْتِيْهِمْ [ وہ آئے گا ان کے پاس ] لَيْسَ [ تو وہ نہیں ہے ] مَصْرُوْفًا [ پھیرا جانے والا ] عَنْهُمْ [ ان سے ] وَحَاقَ [ اور چھا جائے گا ] بِهِمْ [ ان پر ] مَّا [ وہ ] كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ [جس کا وہ لوگ مذاق اڑاتے ہیں ]
(آیت ۔ 8) لیقولن کا فاعل اسم ظاہر نہیں ہے بلکہ اس میں شامل ضمیر ہے اس لئے یہاں پر…
Read the full tafseer →پھر کافروں کی مزید جسارت کا ذکر فرمایا (وَلَءِنْ اَخَّرْنَا عَنْھُمُ الْعَذَابَ اِلٰی اُمِّۃٍ مَّعْدُوْدَۃٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُہٗ ) (اور اگر ہم مدت معلومہ تک عذاب کو ملتوی کردیں تو یہ لوگ یوں کہیں گے کہ اس کو کس نے روک رکھا ہے) اس بات کے کہنے سے ان کے دو مقصد تھے۔ ایک تو وعید کو جھٹلایا اور مطلب یہ تھا کہ یہ جو آپ کہتے ہیں کہ عذاب آئے گا اور ہمیں مورد عذاب ٹھہراتے ہیں وہ آ کیوں نہیں رہا اسے کس نے روک رکھا ہے۔ دوسرے آخرت کے بارے میں مطلب یہ تھا کہ جیسے دنیا میں عذاب کی وعیدیں سناتے ہیں اور عذاب نہیں آتا ایسے ہی موت کے بعد اٹھایا جانا اور عذاب ہونا یہ بھی ایسی ہی بات ہے جو واقع ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
قال اللہ تعالیٰ ولئن قلت انکم مبعوثون ..... الی .... وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزءون۔
(ربط) گزشتہ آیت میں تکوین عالم اور اس کی غرض وغایت کا ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس عالم کو تمہاری آزمائش کے لیے پیدا کیا کہ کون اچھا عمل کرتا ہے اب اس آیت میں بعث بعد الموت۔ اور عمل کی جزا و سزا کو بیان کرتے ہیں کیونکہ مکلفین کے ابتلاء و امتحان کے لیے جزا اور سزا ضروری ہے اور جزا اور سزا کے لیے حشر و نشر ضروری ہے لہٰذا اگر کسی حکمت کی وجہ سے عذاب میں تاخیر ہوجائے تو انسان کو یہ گمان نہ کرنا چاہئے کہ عذاب کا وعدہ غلط ہے۔ عذاب ضرور آئیگا مگر اپنے وقت پر آئیگا اور جب عذاب آئے گا تو اس سے کچھ بچ نہیں سکے گا اور ان…
Read the full tafseer →12:۔ یہ بھی شکوی ہے منکرین معاندین پر عاب آنے کا وقت مقرر ہے لیکن وہ کہتے ہیں ہم انکار پہ انکار کر رہے ہیں تو ہم پر عذاب کیوں نہیں آتاکس چیز نے اس کو روک رکھا ہے۔ اَلَا یَوْمَ یَاتِیْھِمْ الخ : جواب شکوی ہے ان معاندین پر عذاب تو ضورر آئے گا اللہ کا وعدہ جھوٹا نہیں ہوسکتا لیکن اپنے وقت پر آئے گا اور جب آگیا انہیں چھوڑے گا نہیں اور وہ اپنی بد اعمالیوں اور دین اسلام، پیغمبر خدا ﷺ اور مسلمانوں سے استہزاء و تمسخر کا خوب مزہ چکھ لیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
ربط آیات
گذشتہ آیات میں قرآن کریم کی آیات کے محکم اور مفصل ہونے کا بیان تھا۔ پھر دعوت الیٰ التوحید اور بندے کی توبہ اور استغفار کا ذکر ہوا۔ نافرمانوں کی سازش اور اللہ تعالیٰ کے علم محیط اور قدرت تامہ کو بیان کیا گیا اور ساتھ یہ بھی کہ ہر جاندار کی روزی کا ضامن وہ خود ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر انسان کی جائے قرار اور سونپے جانے کی جگہ کو جانتا ہے۔ فرمایا یہ سب چیزیں خدا کی کتاب میں درج ہیں۔ اب آج کی آیات میں تخلیق کائنات کا تذکرہ ہے جو کہ خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور قدرت تامہ کی دلیل اور اس کے کمال حکمت کی نشانی ہے۔
تخلیق ارض وسماء
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وھو الذی “ خدا کہ ذات وہ ہے (آیت) ” خلق السموت…
Read the full tafseer →وَلَىِٕنْ اَخَّرْنَا عَنْہُمُ الْعَذَابَ اِلٰٓى اُمَّۃٍ مَّعْدُوْدَۃٍ لَّيَقُوْلُنَّ مَا يَحْبِسُہٗ 0 ۭ اَلَا يَوْمَ يَاْتِيْہِمْ لَيْسَ مَصْرُوْفًا عَنْہُمْ وَحَاقَ بِہِمْ مَّا كَانُوْا بِہٖ يَسْتَہْزِءُوْنَ 8 ۧ
أخر ( تاخیر)
والتأخير مقابل للتقدیم، قال تعالی: بِما قَدَّمَ وَأَخَّرَ [ القیامة/ 13] ، ما تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَما تَأَخَّرَ [ الفتح/ 2] ، إِنَّما يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصارُ [إبراهيم/ 42] ، رَبَّنا أَخِّرْنا إِلى أَجَلٍ قَرِيبٍ [إبراهيم/ 44]
( اخ ر ) اخر
التاخیر یہ تقدیم کی ضد ہے ( یعنی پیچھے کرنا چھوڑنا ۔ چناچہ فرمایا :۔ { بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ } (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
1 ؎ ثینون اس کی ماضی ثنا۔ اس کے معنی پھیرنا یا موڑنا یا لپیٹنا یقال ثنیت الشیء اذا عطفۃ وطویۃ منہ۔
Read the full tafseer →وَلَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْہُمُ الْعَذَابَ اِلٰٓی اُمَّۃٍ مَّعْدُوْدَۃٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُہٗط اَلاَ یَوْمَ یَاْتِیْہِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْہُمْ وَحَاقَ بِہِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِئُ وْنَ ۔ (سورۃ ہود : 8)
(اگر ہم ان سے عذاب کو کچھ مدت کے لیے ٹالتے ہیں تو وہ کہنے لگتے ہیں کہ آخر کس چیز نے اسے روک رکھا ہے۔ سنو ! جس دن وہ ان پر آدھمکے گا تو ان سے ٹالا نہ جاسکے گا اور وہی چیز ان کو آ گھیرے گی جس کا وہ مذاق اڑا رہے ہیں۔ )
(امۃ معدودہ) کا لفظ جو اس آیت میں استعمال ہوا ہے وہ اپنے ٹھیٹ لغوی معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔ سورة یوسف میں بھی اسی معنیٰ میں یہ لفظ بولا گیا ہے۔ عام طور پر ”…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : منکرین حق نہ صرف قرآن مجید کو جادو قرار دیتے اور قیامت کا انکار کرتے تھے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی گرفت اور عذاب کے بھی منکر تھے۔
جب انسان کا اللہ تعالیٰ پر ایمان کمزور ہوجائے تو وہ نہ صرف قیامت کا انکار کرتا ہے بلکہ اپنے آپ کو پہنچنے والی تکلیف اور آزمائش کو اپنے اعمال کی شامت اور ان کے نتیجہ میں آنے والی گرفت کو من جانب اللہ قرار دینے کی بجائے اسے حالات کا ردّعمل سمجھتا ہے۔ یہی حالت اہل مکہ کی تھی۔ جب سرور دو عالم ﷺ انہیں اللہ تعالیٰ کی گرفت اور اس کے عذاب سے متنبہ کرتے تو وہ اس کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہتے کہ جس عذاب کی آپ دھمکی دیتے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے ؟ کہ اب تک ہم پر نازل…
Read the full tafseer →عذاب آجائے گا تو نہ ٹلے گا :
8: وَلَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْھُمُ الْعَذَابَ (اور اگر ہم ان سے عذاب کو مؤخر کرلیں) عذاب سے آخرت کا عذاب مراد ہے یا یوم بدر کا عذاب اِلٰیٓ اُمَّۃٍ (ایک وقت) اوقات میں سے ایک مجموعہ وقت تک مَّعْدُوْدَۃٍ (مقررہ تک) معلوم یا قلیل مطلب یہ ہے معلوم گھڑی تک لَّیَقُوْلُنَّ مَایَحْبِسُہٗ (ضرور وہ کہیں گے کونسی چیز اس کو روکے ہوئے ہے) اَ لَایَوْمَ یَاْتِیْھِمْ (خبردار جس دن وہ ان پر آن پہنچے گا) یعنی عذاب لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْھُمْ (وہ ان سے پھیرا نہ جائے گا) عذاب ان سے موڑا نہ جائے گا۔
نحو : یوم، مصروفًا کی وجہ سے منصوب ہے، تقدیر عبارت یہ ہے لیس العذاب مصروفا عنہم یوم…
Read the full tafseer →تفسیر 8۔” ولئن اخرنا عنھم العذاب الی امۃ معدودۃ “ متعین وقت تک اور امت کا اصل معنی جماعت ہے۔ گویا کہ فرمایا کہ ایک امت کے ختم ہونے اور دوسری کے آنے تک ۔ ” لیقولن ما یحبسہ “ یعنی کون سی چیز اس کو روک رہی ہے۔ یہ بات وہ عذاب کو جلدی طلب کرنے اور مذاق اڑانے کے لیے کرتے تھے۔ ان کی مراد یہ تھی کہ عذاب کچھ بھی نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” الا یوم یاتیھم “ یعنی عذاب ” لیس مصروفا عنھم و حاق بھم ما کانوا بہ یستھزون “ یعنی ان کو استہزاء کا وبال ۔
Read the full tafseer →8۔ اوپر حشر کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کہ اگر تم ان مشرکوں سے یہ بات کہہ گے کہ مرنے کے بعد خدا پھر تمہیں زندہ کرے گا تو یہ لوگ اس کو جادو ٹھہرائیں گے باوجود اس بات کہ انہیں خوب معلوم ہے کہ آسمان اور زمین چاند سورج سب کو خدا ہی نے پیدا کیا ہے۔ لیکن یہ لوگ قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے کا انکار کرتے ہیں حالانکہ بغیر نمونہ کے پہلے پہل ہر چیز کا بنانا مشکل ہے دوبارہ اس کا بنانا کوئی مشکل نہیں ہے ان کا یہ کہنا کہ یہ تو جادو کی باتیں ہیں محض کفر کی راہ سے ہے۔ پھر فرمایا کہ باوجود کلام اللہ کے جھٹلانے کے ہم جو ان لوگوں پر عذاب نہیں بھیجتے ڈھیل دے رکھی ہے اس کو تعجب اور مسخرا پن…
Read the full tafseer →(ولئن اخرنا عنھم العذاب الی امۃ معدودۃ) ” اگر ہم روکے رکھیں ان سے عذاب ایک معلوم مدت تک “ یعنی ایک وقت مقررہ تک، جس کے بارے میں یہ سمجھتے ہیں کہ یہ دن بہت دیر سے آے گا، تب وہ ظلم و جہالت کی بنا پر کہتے ہیں : (مایحبسہ) ” کون سی چیز اس (عذاب) کو روکے ہوئے ہے ؟ “ اس آیت کا مضمون ان کا رسول کو جھٹلانا ہے۔ وہ ان پر عذاب کے فوری طور پر نہ آنے کو رسول ﷺ کے جھوٹا ہونے پر دلیل بناتے ہیں جنہوں نے ان کو عذاب واقع ہونے کی وعید سنائی ہے۔ پس یہ کتنا بعید استدلال ہے ! (الا یوم یاتیھم لیس مصروفاً عنھم) ” دیکھو جس روز عذاب ان پر نازل ہوگا تو پھر ٹلے گا نہیں “ کہ وہ اپنے معاملے میں غور کرسکیں (وحاق بھم) ” اور…
Read the full tafseer →23 ۔ منکرین کے مذاق و استہزاء کا جواب : سو منکرین کے عذاب کے بارے میں مذاق و استہزاء کے جواب میں ایک اصولی ہدایت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے۔ سو اگر ہم ان سے ان کے عذاب کو کچھ مدت کے لیے ٹال دیتے ہیں اپنی سنت و دستور کے مطابق کہ ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا) (الطلاق : 3) اور ہر چیز اپنے وقت پر ظہور پذیر ہوگی تو اس تاخیر و امہال سے ایسے تنگ ظرف اور مست ہوجاتے ہیں اور وہ بجائے اپنی روش کی اصلاح کے حق اور اہل حق کا مذاق اڑانے لگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ عذاب آتا کیوں نہیں۔ اس کو کس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ہر جاندار کا رازق اللہ، مذاق کرنیوالوں کا انجام
تشریح : آیت نمبر چھ میں اللہ کے رازق اور علیم وخبیر ہونے کی دلیل ہے۔ وہ دنیا کی تمام مخلوقات کو ایسے طریقوں سے رزق پہنچاتا ہے کہ جو انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوسکتا، مثلاً ایک واقعہ سنیں ایک شخص روزی رزق کے سلسلہ میں گھر سے نکلا۔ راستہ میں بارش ہوگئی تو وہ بچنے کے لیے ایک غار میں گھس گیا وہاں اس نے ایک اندھا عقاب دیکھا تو وہ سوچنے لگا کہ یہ اندھا عقاب کہاں سے کھاتا ہوگا۔ اچانک ایک کبوتر بارش سے بچنے کے لیے غار میں گھس آیا اور عقاب کے اوپر بیٹھ گیا، عقاب نے اسے دبوچ لیا اور کھالیا۔ وہ شخص اللہ کی قدرت، طاقت اور رازق ہونے کا قائل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیات 1 تا 8
اسرار و معارف
الر حروف مقطعات ہیں جن کا علم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ہے یا جیسے رب چاہے سمجھ عطاکردے مگر تلاوت سب کے لئے ہے اور فائدہ بھی سب کو پہنچتا ہے۔
یہ ایسی بےمثال کتاب ہے کہ اس کی آیات محکم یعنی ناقابل تبدیل ہیں اگرچہ پہلے بھی آسمانی کتب نازل ہوتی رہیں مگر ان کی آیات اور احکام خاص قوموں یا ملکوں کے لئے اور خاص زمانوں کے لئے تھے جو بعد میں نزول قرآن سے بھی کلی طور پر منسوخ ہوگئے مگر یہ کتاب بیک وقت ساری انسانیت کے لئے تمام ملکوں کے لئے اور سب زمانوں کے لئے ہے اور اس کے احکام ہر دور اور ہر ملک میں قابل عمل بھی ہیں لہٰذا یہ ہمیشہ کے لئے ہے اور کسی بھی امر میں کوئی بات ڈھکی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ف 6 ۔ یعنی انسان میں یہ کمزوری ہے کہ جب اسے کوئی معمولی سی مصیبت بھی پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی پچھلی تمام نعمتوں کو بھول جاتا ہے۔ یہی اس کی ناشکری ہے۔ (ابن کثیر) ۔
Read the full tafseer →(11:8) اخرنا۔ ہم روک لیں۔ ہم تاخیر کردیں ۔ ماضی جمع متکلم۔ تاخیر (تفعیل) سے۔
امۃ۔ مدت۔ جماعت۔ طریقہ۔ دین ۔ ہر وہ جماعت جس میں کسی قسم کا کوئی رابطہ اشتراک موجود ہو۔ اسے امت کہا جاتا ہے۔ خواہ یہ اتحاد مذہنی وحدت کی بناء پر ہو (جیسے امت محمدیہ) یا عصری وحدت کی وجہ سے ( جیسے پچھلی امتیں) امت باعتبار لفظ کے واحد ہے اور معنی کے اعتبار سے جمع ہے۔
جہاں بھی امت کے معنی مدت کے ہوں گے وہاں اس کا مضاف محذوف ہوگا۔ اور مضاف الیہ قائم مقام مضاف کے سمجھا جائے گا۔ مثلاً آیۃ موجودہ میں اصل میں یوں تھا۔ ولئن اخرنا عنہم العذاب انی زمن امۃ معدودۃ۔ زمن کو حذف کرکے امۃ کو اس کا قائم مقام سمجھا گیا۔ امت کے مجازی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 11
اذقنا (ہم نے چکھا دیا) منا (ہم سے) نزعنا (ہم نے کھینچ لیا، واپس لے لیا) یئوس (مایوس ہوجاتا ہے) کفور (ناشکرا) نعمآء (نعمتیں) مستہ (اس کو پہنچتی ہے) السیئات (خرابیاں، برائیاں ) فرح (وہ اترانے والے فخور (شیخی بگھارنا، بڑائی کرنا) اجر کبیر (بہت بڑا بدلہ)
تشریح : آیت نمبر 9 تا 11
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے کہ :
ہم نے ان کو برو بحر یعنی خشکی اور تری میں عزت و سربلندی سے نوازا ہے اور ان کو ہر طرح کا پاکیزہ رزق عطا فرمایا ہے۔
دوسری جگہ ارشاد کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنا نائب اور خلیفہ بنا کر تمام فرشتوں کو اس کی عظمت کے سامنے سجدہ کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ خداوند کریم ایسا قادر ہے کہ اس نے آسمانوں کو اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا۔ پہلا روز ہفتہ کا تھا۔ اس سے پہلے سوائے خدا کی ذات کے کچھ نہ تھا۔ وہ ایسا قادر مطلق ہے کہ زمین وآسمان پیدا کرنے سے قبل اپنے عرش کو پانی پر قائم کر رکھا تھا کہ ابتداء میں حق تعالیٰ نے ایک یاقوت سبز پیدا کیا اور نظر ہیبت سے اسے دیکھا وہ جوہر پانی ہوگیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہوا پیدا کی، اور پانی کو ہوا پر رکھا اور عرش کو پانی کے اوپر جگہ دی اور پانی پر عرش کا ہونا اور ہوا پر پانی کا ٹھہرنا اس کی قدرت کا نمونہ ہے۔ اس کے بعد قلم کو پیدا کیا، اور لوح محفوظ کو پیدا کیا اور زمین وآسمان کے پیدا کرنے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
[4] عرش سے مراد تخت حکومت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کی حکومت پانی پر تھی یا کسی ایسی چیز پر جسے پانی سے تعبیر کیا گیا ہے۔
[5] یعنی تخلیق کائنات کا مقصد یہ تھا کہ انسان کو دنیا میں پیدا کر کے اسے خلافت کے اختیارات سپرد کئے جائیں اور پھر دیکھا جائے کہ وہ اپنے اختیارات کس طرح استعمال کرتا ہے۔ بالفاظ دیگر دنیا انسان کے لئے امتحان گاہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
(ف 2) یعنی کائنات کی ابتدا پانی سے ہے ، (آیت) ” وجعلنا من المآء کل شی حی “۔ علم الحیات کے ماہرین بیشمار تجارب اور ارتقاء کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ زندگی کی ابتداء ان حیوانات سے ہوتی ہے جو بحری ہیں قرآن نے نہایت بہتر الفاظ میں علم الحیات کے اس مسئلہ کو بیان فرمایا ہے کہ خدا کا عرش حکومت ابتداء پانی سے وابستہ تھا ۔
(آیت) ” لیبلوکم “ میں مقصد حیات کی طرف اشارہ ہے ، یعنی تمہیں اس لئے پیدا کیا گیا ہے تاکہ بہترین اعمال سے زمین کو رشک فردوس بنا دو ۔
حل لغات :
دآبۃ : ہر جاندار زمین پر چلنے والا ۔
مستقر : جائے قرار ۔
مستودع : جہاں سونپاجائے امانت کا ،
امۃ : مدت ، زمانہ ۔
Read the full tafseer →8 اور اگر ہم ان سے تھوڑے دنوں کے لئے مقررہ اور موعودہ عذاب کو ملتوی کردیں اور موخر کردیں تو کہنے لگتے ہیں اگر ہم مستحق عذاب ہیں تو کس چیز نے اس عذاب کو روک رکھا ہے سن لو جس دن وہ عذاب مقررہ ان پر آپڑے گا تو پھر ان پر سے وہ کسی طر ح واپس ہونیوالا نہیں اور وہ عذاب کسی کے ٹالے نہ ٹلے گا اور وہ عذاب ان کو گھیر لے گا جس عذاب کا یہ مذاق اور استہزاء کیا کرتے تھے یعنی اگر کسی کی مصلحت سے ایک مدت معینہ تک عذاب موخر کردیاجائے تو اپنی بےگناہی پر استدلال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر ہم مستحق عذاب ہیں تو عذاب کیوں نہیں آتا اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ عذاب کا وعدہ ناقابل اعتماد تھا اس سے خبر دار کیا کہ دیکھو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
ف 3۔ یعنی اگر عذاب کوئی چیز ہوتی تو اب تک ہو چکتا۔ جب نہیں ہوا تو معلوم ہوا کہ کچھ بھی نہیں۔
4۔ مطلب یہ ہوا کہ باوجود استحقاق کے یہ تاخیر اس لیے ہے کہ بعض حکمتوں سے اس کا وقت معین ہے پھر اس وقت ساری کسر نکل جائے گی۔
Read the full tafseer →ان کا عذاب ہم نے موخررکھا ہے کیوں ؟ اس لئے کہ سنبھلناچا ہیں تو سنبھل لیں
14 ؎ جاہلیت کے ذہن پر مزید روشنی ڈالی جا رہی ہے کہ یہ بھی عجیب الٹی سمجھ کے لوگ ہیں ۔ جس عذاب کے یہ ہر طرح مستحق ہیں اسے ہم عارضی طور پر روکتے تو اپنی کسی حکمت و مصلحت سے ہیں اور یہ مسلمانوں سے طنز و تعریض کے ساتھ دریافت کرنے لگتے ہیں کہ آخر اس عذاب موعود میں اب دیر ہی کیا ہے ہم پر آ کیوں نہیں پڑتا ؟ یعنی ان منکرین حق کا ایک نرالا انداز ہے جب ان کے سامنے حق پیش کیا جاتا ہے تو اسے رد کردیتے ہیں اور جب ان کے اس بلاوجہ انکار پر عذاب الٰہی سے ڈرایا جاتا ہے تو بڑی شوخی اور بےباکی سے کہتے ہیں کہ لے آئو اس عذاب کو دیکھیں تو وہ…
Read the full tafseer →Described in the seventh verse is the condition of those who denied that there was to be a Last Day and a Hereafter. Like chronic deniers of the truth, when they do not understand (or do not want to under-stand) something, they would dismiss it as nothing but magic.
In the eighth verse, an answer has been given to people who doubted the warnings of punishment given by prophets, peace be on them. Not willing to believe them, they used to ask them if they were true, and if they were, why the punishment they warned them of would not come?
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
7. This is a parenthetical statement which was presumably made in response to some such query: 'If there was a time when the heavens and the earth did not exist, and then they were created - what is it that existed before?' Without explicitly mentioning any such query, an answer is briefly provided. The answer is: before all the heavens and the earth were created there was water everywhere. However, we are not in a position to state with certainty the meaning of the word 'water' used in the verse. Does it mean the 'water' known to us by that name now? Or has it been used metaphorically to…
Read the full tafseer →