Hud 11:7

Hud · from ayah 7

11:7

وَهُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ وَّكَانَ عَرْشُهٗ عَلَی الْمَآءِ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ؕ— وَلَىِٕنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ ۟وَ هُوَ الَّذِىۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِىۡ سِتَّةِ اَ يَّامٍ وَّكَانَ عَرۡشُهٗ عَلَى الۡمَآءِ لِيَبۡلُوَكُمۡ اَيُّكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ وَلَئِنۡ قُلۡتَ اِنَّكُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِ الۡمَوۡتِ لَيَـقُوۡلَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ هٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ

اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا اور (اس وقت) اس کا عرش پانی پر تھا۔ (تمہارے پیدا کرنے سے) مقصود یہ ہے کہ وہ تم کو آزمائے کہ تم میں عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے اور اگر تم کہو کہ تم لوگ مرنے کے بعد (زندہ کرکے) اٹھائے جاؤ گے تو کافر کہہ دیں گے کہ یہ تو کھلا جادو ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And it is He who created the heavens and the earth in six days - and His Throne had been upon water - that He might test you as to which of you is best in deed. But if you say, "Indeed, you are resurrected after death," those who disbelieve will surely say, "This is not but obvious magic."

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:7

اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا جبکہ اس سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا تاکہ تم کو آزما کر دیکھے تم میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے اب اگر اے محمدؐ، تم کہتے ہو کہ لوگو، مرنے کے بعد تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے، تو منکرین فوراً بول اٹھتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو گری ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا اور (اس وقت) اس کا عرش پانی پر تھا۔ (تمہارے پیدا کرنے سے) مقصود یہ ہے کہ وہ تم کو آزمائے کہ تم میں عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے اور اگر تم کہو کہ تم لوگ مرنے کے بعد (زندہ کرکے) اٹھائے جاؤ گے تو کافر کہہ دیں گے کہ یہ تو کھلا جادو ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ ہی وه ہے جس نے چھ دن میں آسمان وزمین کو پیدا کیا اور اس کا عرش پانی پر تھا تاکہ وه تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل واﻻ کون ہے، اگر آپ ان سے کہیں کہ تم لوگ مرنے کے بعد اٹھا کھڑے کئے جاؤ گے تو کافر لوگ پلٹ کر جواب دیں گے کہ یہ تو نرا صاف صاف جادو ہی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہی ہے جس نے تمام آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا۔ جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا۔ تاکہ تمہیں آزمائے کہ عمل کے اعتبار سے تم میں کون زیادہ اچھا ہے۔ اور اگر تم (لوگوں سے) یہ کہو کہ تمہیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، وہ یہ کہیں گے کہ یہ کھلے جادو کے سوا کچھ نہیں ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا اور اس کا عرش پانی پر تھا کہ تمہیں آزمائے تم میں کس کا کام اچھا ہے، اور اگر تم فرماؤ کہ بیشک تم مرنے کے بعد اٹھائے جاؤ گے تو کافر ضرور کہیں گے کہ یہ تو نہیں مگر کھلا جادو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہی (اﷲ) ہے جس نے آسمانوں اور زمین (کی بالائی و زیریں کائناتوں) کو چھ روز (یعنی تخلیق و اِرتقاء کے چھ اَدوار و مراحل) میں پیدا فرمایا اور (تخلیقِ اَرضی سے قبل) اس کا تختِ اقتدار پانی پر تھا (اور اس نے اس سے زندگی کے تمام آثار کو اور تمہیں پیدا کیا) تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے بہتر ہے؟ اور اگر آپ یہ فرمائیں کہ تم لوگ مرنے کے بعد (زندہ کر کے) اٹھائے جاؤ گے تو کافر یقینًا (یہ) کہیں گے کہ یہ تو صریح جادو کے سوا کچھ (اور) نہیں ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور اس کا عرش پانی پر تھا، تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے۔ اور یقینا اگر تو کہے کہ بیشک تم موت کے بعد اٹھائے جانے والے ہو تو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ضرور ہی کہیں گے یہ تو کھلے جادو کے سوا کچھ نہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور (اس وقت) اس کا عرش پانی پر تھا۔ تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے اور اگر آپ انھیں کہیں کہ تم موت کے بعد اٹھائے جاؤ گے تو کافر فوراً کہنے لگتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں اور اس کا عرش پانی پر تھا تاکہ تمہیں جانچے کہ کون اچھے عمل والا ہے اور اگر تم کہتے ہو کہ مرنے کے بعد تم لوگ اٹھائے جاؤگے تو یہ کافر کہتے ہیں کہ یہ تو بس کھلا ہوا جادو ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور وہ (اللہ) وہی ہے جس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین (کی اس عظیم الشان کائنات) کو چھ دنوں میں، اور (اس سے پہلے) اس کا عرش پانی پر تھا، (اور اس نے یہ سب کچھ پیدا اس لئے فرمایا کہ) تاکہ وہ تمہاری آزمائش کرے، کہ تم میں کس کا کام سب سے اچھا ہے، اور اگر آپ ﷺ (اے پیغمبر ! ان لوگوں سے) کہیں کہ تم سب یقیناً دوبارہ اٹھائے جاؤ گے اپنے مرنے کے بعد، تو فوراً بول اٹھتے ہیں یہ کافر لوگ کہ یہ (قرآن) تو محض ایک جادو ہے کھلم کھلا،

— مولانا اسحاق مدنی

اور وہ وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کردیا اور اس کا عرش (حکومت) پانی پر تھا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں عمل کے لحاظ سے بہترین کون ہے۔ اور اگر آپ (ان سے) کہیں کہ یقیناً تم لوگ مرنے کے بعد اٹھائے جاؤ گے تو جو لوگ کافر ہیں ضرور کہہ اٹھیں گے کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں اور اس کا تخت تھا پانی پر تاکہ تمہیں آزمائے کہ کون ہے تم میں سے اچھے عمل کرنے والا اور اگر آپ کہیں کہ تمہیں اٹھایا جائے گا مرنے کے بعد تو کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا کہ یہ تو کھلا جادو ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا، اور اس وقت اس کا عرش پانی پر تھا۔ تمہارے پیدا کرنے سے مقصود یہ ہے کہ وہ تم کو آزمائے کہ تم میں عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے اور اگر تم کہو کہ تم لوگ موت کے بعد زندہ کر کے اٹھائے جاؤ گے تو کافر کہہ دیں گے یہ تو کھلا جادو ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And He it is Who created the heavens and the earth in six days - and [before that] His Throne was upon the water that He may test you, who of you is better in conduct If you were to say (O Muhammad): 'All of you will surely be raised after death', then those who disbelieve will certainly say: 'This is nothing but plain sorcery.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He is the One who created the heavens and the earth in six days, while His throne was on water, so that He might test you as to who among you is better in deed. And if you say, :You shall be raised after death, the disbelievers will surely say, :This is nothing but sheer magic.

— Muhammad Taqi Usmani

He is the One who created the heavens and the earth in six days, while His throne was on water, so that He might test you as to who among you is better in deed. And if you say, :You shall be raised after death, the disbelievers will surely say, :This is nothing but sheer magic.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And He it is Who has created the heavens and the earth in six Days and His Throne was over the water, that He might try you, which of you is the best in deeds. But if you were to say to them: "You shall indeed be raised up after death," those who disbelieve would be sure to say, "This is nothing but obvious magic."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And He it is Who created the heavens and the earth in six Days - and His Throne was upon the water - that He might try you, which of you is best in conduct. Yet if thou (O Muhammad) sayest: Lo! ye will be raised again after death! those who disbelieve will surely say: This is naught but mere magic.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And it is He who created the heavens and the earth in six days - and His Throne had been upon water - that He might test you as to which of you is best in deed. But if you say, "Indeed, you are resurrected after death," those who disbelieve will surely say, "This is not but obvious magic."

— Saheeh International

God created the heavens and the earth in six days. His Throne existed on water so that He could test you and find out those among you who do good deeds. (Muhammad), if you were to tell them that after death they would be brought back to life again, the unbelievers would say, "This is nothing but obvious magic."

— Muhammad Sarwar

And He it is Who created the heavens and the earth in six periods-- and His dominion (extends) on the water-- that He might manifest to you, which of you is best in action, and if you say, surely you shall be raised up after death, those who disbelieve would certainly say: This is nothing but clear magic.

— Muhammad Habib Shakir

And He it is who hath created the heavens and the earth in six days -and His throne was upon the water--that he might prove you, as to which of you is excellent in work. And if thou sayest: ye shall verily be raised after death, surely those who disbelieve will say: naught is this but sorcery manifest.

— Abdul Majid Daryabadi

He it is Who created the heavens and the earth in six Days - and His Throne was over the waters - that He might try you, which of you is best in conduct. But if thou wert to say to them, "Ye shall indeed be raised up after death", the Unbelievers would be sure to say, "This is nothing but obvious sorcery!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–8

تخلیق کائنات کا تذکرہ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اسے ہر چیز پر قدرت ہے۔ آسمان و زمین کو اس نے صرف چھ دن میں پیدا کیا ہے۔ اس سے پہلے اس کا عرش کریم پانی کے اوپر تھا۔ مسند احمد میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے بنو تمیم ! تم خوشخبری قبول کرو۔ انہوں نے کہا خوشخبریاں تو آپ نے سنا دیں اب کچھ دلوائیے۔ آپ نے فرمایا اے اہل یمن تم قبول کرو۔ انہوں نے کہا ہاں ہمیں قبول ہے۔ مخلوق کی ابتدا تو ہمیں سنائے کہ کس طرح ہوئی ؟ آپ نے فرمایا سب سے پہلے اللہ تھا۔ اس کا عرش پانی کے اوپر تھا۔ اس نے لوح محفوظ میں ہر چیز کا تذکرہ لکھا۔ راوی حدیث حضرت عمران کہتے ہیں حضور ﷺ نے اتنا ہی فرمایا تھا جو کسی نے آن کر مجھے خبر دی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 7–9

سورة هُوْد 7 جملہ معترضہ ہے جو غالبًا لوگوں کے اس سوال کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ آسمان و زمین اگر پہلے نہ تھے اور بعد میں پیدا کیے گئے تو پہلے کیا تھا ؟ اس سوال کو یہاں نقل کیے بغیر اس کا جواب مختصر سے فقرے میں دے دیا گیا ہے کہ پہلے پانی تھا۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس پانی سے مراد کیا ہے۔ یہی پانی جسے ہم اس نام سے جانتے ہیں ؟ یا یہ لفظ محض استعارے کے طور پر مادے کی اس مائع (Fluid) حالت کے لیے استعمال کیا گیا ہے جو موجودہ صورت میں ڈھالے جانے سے پہلے تھی ؟ رہا یہ ارشاد کہ خدا کا عرش پہلے پانی پر تھا، تو اس کا مفہوم ہماری سمجھ میں یہ آتا ہے کہ خدا کی سلطنت پانی پر تھی۔ سورة هُوْد 8 اس ارشاد کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دوسری آیت میں حق تعالیٰ کے علم محیط اور قدرت قاہرہ کا ایک اور مظہر ذکر کیا گیا ہے کہ اس نے تمام آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا فرمایا اور ان چیزوں کے پیدا کرنے سے پہلے عرش رحمن پانی پر تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ آسمان و زمین کی پیدائش سے پہلے پانی پیدا کیا گیا ہے اور آسمان و زمین کو چھ دن میں پیدا کرنے کی تفصیل سورة حم سجدہ کی آیت (11، 10) میں اس طرح آئی ہے کہ دو دن میں زمین بنائی گئی دو دن میں زمین کے پہاڑ، دریا، درخت اور جانداروں کی غذا وبقاء کا سامان بنایا گیا، دو دن میں سات آسمان بنائے گئے۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ آسمان سے مراد وہ تمام علویات ہیں جو اوپر کی سمت میں ہیں اور زمین سے مراد…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ وَّكَانَ عَرْشُهٗ عَلَي الْمَاۗءِ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭ وَلَىِٕنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُوْلَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْــرٌ مُّبِيْنٌ۔ جزا اور سزا کی دلیل : یہ اس جزا و سزا کا بیان ہے جس سے ان کو ڈرایا جاتا تھا لیکن وہ اس کو تسلیم کر کے اس کے لیے تیار کرنے کی بجائے اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ فرمایا کہ وہی خدا جس کے رزق پر سب پل رہے ہیں وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور اس سے پہلے اس کی حکومت پانی پر تھی۔ ہم دوسرے مقام میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

7۔ 1 یہی بات صحیح احادیث میں بھی بیان کی گئی ہے۔ چناچہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ ' اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال قبل، مخلوقات کی تقدیر لکھی ' اس وقت اس کا عرش پانی پر تھا۔ صحیح مسلم 7۔ 2 یعنی یہ آسمان و زمین یوں ہی عبث اور بلا مقصد نہیں بنائے، بلکہ اس سے مقصود انسانوں (اور جنوں) کی آزمائش ہے کہ کون اچھے اعمال کرتا ہے۔ ملحوظہ : اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ نہیں فرمایا کہ کون زیادہ عمل کرتا ہے بلکہ فرمایا کون زیادہ اچھے عمل کرتا ہے۔ اس لیے کہ اچھا عمل وہ ہوتا ہے جو صرف رضائے الہی کی خاطر ہو اور دوسرا یہ کہ وہ سنت کے مطابق ہو۔ ان دو شرطوں میں سے ایک شرط بھی فوت ہوجائے گی تو وہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

5: اس سے معلوم ہوا کہ عرش اور پانی کی تخلیق زمین اور آسمانوں سے پہلے ہوچکی تھی۔ اور مفسرین نے فرمایا کہ آسمانوں سے مراد عالم بالا کی تمام چیزیں ہیں۔ اور زمین سے مراد نیچے کی تمام چیزیں ہیں۔ اور سورة حم السجدہ (آیت 10، 11) میں اس تخلیق کی تفصیل بیان فرمائی گئی ہے۔ 6: اس آیت نے واضح فرما دیا ہے کہ اس کائنات کو پیدا کرنے کا اصل مقصد انسان کی آزمائش ہے۔ اور آزمائش یہ ہے کہ کون اچھا عمل کرتا ہے، یہ نہیں کہ کون زیادہ عمل کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نفلی اعمال کی گنتی سے زیادہ انسان کو اس کی فکر کرنی چاہیے کہ اس کا عمل اخلاص اور خضوع و خشوع کے اعتبار سے زیادہ بہتر ہو۔ 7: یعنی یہ قرآن جو آخرت کی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب اس سے آگے رب کریم کی شان کا ایک دوسرا رخ پیش کیا جاتا ہے۔ رب کریم کی قدرت کے بعض و آثار اور مظاہر پیش کیے جاتے ہیں۔ اس کی حکمت اور کارکردگیوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے کہ دیکھو ، اللہ نے زمین اور آسمانوں کو کس قدر حکیمانہ انداز دیا ہے۔ یہاں اس کائنات کے ان پہلوؤں کو سامنے لایا جاتا ہے جو عمل ، حساب و کتاب ، اور بعث بعد الموت کے عقائد کے ساتھ متناسب ہوں بلکہ یہ تصور دیتے ہوں : وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ وَّكَانَ عَرْشُهٗ عَلَي الْمَاۗءِ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭ وَلَىِٕنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یہ علم کے بعد قدرت کا بیان ہے۔ اس کی تفسیر سورة " اعراف " کے ساتویں رکوع میں گزر چکی۔ 5 یعنی آسمان و زمین کی پیدائش سے پہلے پانی مخلوق ہوا جو آئندہ اشیاء کا مادہ حیات بننے والا تھا۔ (وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاۗءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ) 21 ۔ الانبیآء :30) اس وقت عرش خداوندی اسی کے اوپر تھا جیسے اب سماوات کے اوپر ہے۔ گویا یہ ایک صورت تھی جو اس حقیقت کو ظاہر کر رہی تھی کہ کائنات کا مادہ اور ذریعہ حیات بالکلیہ رب العرش کے تسلط و تصرف اور قیومیت مطلقہ کے ماتحت ہے۔ واللہ اعلم۔ 6 یعنی اس سارے نظام کی تخلیق و ترتیب سے مقصود تمہارا یہاں بسانا اور امتحان کرنا ہے کہ کہاں تک اس عجیب و غریب نظام اور سلسلہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7 وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ وَّكَانَ عَرْشُهٗ عَلَي الْمَاۗءِ میرے نزدیک یہ آیت آج بھی متشابہات میں سے ہے ‘ لیکن شاید یہ اس دور کی طرف اشارہ ہے جب یہ دنیا معرض وجود میں آئی۔ زمین کی تخلیق کے بارے میں سائنسی اور تاریخی ذرائع سے اب تک ملنے والی معلومات کو مجتمع کر کے جو آراء سامنے آئی ہیں ان کے مطابق زمین جب ٹھنڈی ہونی شروع ہوئی تو اس سے بخارات اور مختلف اقسام کی گیسیں خارج ہوئیں۔ انہی گیسوں میں سے ہائیڈروجن اور آکسیجن کے ملنے سے پانی پیدا ہوا جو لاکھوں سال تک بارشوں کی صورت میں زمین پر برستا رہا۔ پھر جب زمین ٹھنڈی ہو کر سکڑی تو اس کی سطح پر نشیب و…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 7–9

11 مادی اشیاء میں پانی سب سے پہلے پیدا کیا گیا :۔ اس آیت سے اور مندرجہ بالا حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پانی کی تخلیق زمین و آسمان کی تخلیق سے پہلے ہوچکی تھی یہ پانی کہاں تھا اور آیا یہ پانی وہی پانی ہے جو معروف ہے یا کوئی مائع قسم کا مادہ تھا ؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو ہماری سمجھ سے باہر ہیں اور انھیں سمجھنے کے ہم مکلف بھی نہیں البتہ یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش سے پہلے تو اللہ کا عرش پانی پر تھا اور تخلیق کے بعد یہ عرش سات آسمانوں اور کرسی کے بھی اوپر ہے۔ 12 تخلیق کائنات کا مقصد تخلیق آدم ہے دنیا دارالامتحان ہے :۔ اس آیت سے کئی حقائق سامنے آتے ہیں مثلاً زمین و آسمان اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

9۔ یہاں یہ تصریح کے ساتھ بتادیا گیا ہے کہ دنیوی زندگی جو کل سلسلہ حیات وکائنات کا ایک بہت مختصر و محدود حصہ ہے اس کی آفرینش کی غرض وغایت، ہی یہ ہے کہ انسانی اعمال کی جانچ کرکے نیکوں کو حشر میں انعام سے سرفراز کیا جائے۔ ایام عرش۔۔ یوم اور عرش دونوں پر حاشیے پہلے گزر چکے ہیں۔ جن میں دکھایا جاچکا ہے کہ اس قبل آفرینش والے یوم سے مراد یہ بعد آفرینش والا 24 گھنٹے کا دن رات تو ہی نہیں سکتا، بلکہ اس سے مراد صرف چھ حالتیں یا چھ مختلف زمانے ہیں۔ علی ھذا عرش سے مراد کوئی بچھا ہوا مادی تخت نہیں بلکہ تخت حکومت ہی مراد ہوسکتا ہے۔ گویا ارشاد یہ ہورہا ہے کہ یہ آسمان و زمین اور سارا نظام کائنات سب حادث و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 6–8

آیت نمبر 6 تا 8 ترجمہ : زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کا رزق اللہ کے ذمہ ہے، مِنْ زائدہ ہے) دَابَّۃ (اس جاندار کو کہتے ہیں جو زمین پر چلتا ہے، یعنی اللہ ہی ان کی روزی کا اپنے فضل سے کفیل ہے وہی ان کو رہنے سہنے کی جگہ کو جانتا ہے آیا دنیا میں ہے یا پشت پدر میں اور مرنے کے بعد اسکے سپرد کئے جانے کی جگہ کو یا رحم مادر میں ہے) اس کا مقام (کو جانتا ہے اور ہر چیز کا جو مذکور ہوئی وہ کتاب مبین میں ہے اور وہ لوح محفوظ ہے، اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا ان کا پہلا میدان یکشنبہ تھا اور آخری دن جمعہ کا اور آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے سے پہلے اس کا عرش پانی پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وھو الذی خلق السموت والارض ستۃ ایام اور وہ اللہ وہی تو ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو مع ان کی تمام موجودات کے چھ روز میں اندازہ کے مطابق پیدا کیا۔ آسمانوں سے مراد ہیں بالائی چیزیں اور زمین سے مراد ہیں نشیبی چیزیں ‘ یعنی کائنات بالا و پست۔ آسمانوں کو بصیغۂ جمع اور زمین کو بصیغۂ واحد ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ کائنات علویہ میں سے ہر ایک کی ذات دوسرے کی ذات سے جدا ہے اور ہر ایک دوسرے سے اصل کے اعتبار سے مختلف ہے اور کائنات سفلیہ کی اصل و ذات ایک ہے۔ (1) [ حضرت مفسر کی یہ تشریح فلسفہ مشائیہ کے طبعزاد مسلمہ پر مبنی ہے کہ ہر آسمان کا مادہ دوسرے آسمان کے مادہ سے جدا ہے۔ رہی صورت جسمیہ اور نوعیہ ‘ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(7) اور تمہارا معبود برحق وہی ہے جس نے تمام آسمانوں اور زمینوں کے دنیا کے ابتدائی دنوں میں سے چھ دن، کے اندر پیدا کیا ان میں سے ہر ایک دن کا رزق ہزار سال کے برابر تھا، ان چھ دنوں کی ابتدا اتوار کے دن سے تھی اور ان ایام میں آخری دن جمعہ کا تھا اور آسمان و زمین کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا اور اللہ تعالیٰ عرش اور پانی کے پیدا کرنے سے بھی پہلے موجود تھا اور تمہیں پیدا کرنا اس لیے ہے تاکہ تمہیں آزمائے کہ موت وحیات کے درمیان تم میں اچھا عمل کرنے والا کون ہے اور اگر آپ ان کفار مکہ سے کہتے ہیں کہ تم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے تو کفار مکہ کہتے ہیں کہ محمد ﷺ جو کچھ بیان…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ : اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ کے کمال علم کو ثابت فرمایا اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کمال کا بیان ہے۔ آسمان و زمین کی چھ دنوں میں پیدائش کے متعلق دیکھیے سورة اعراف (54) اور حم السجدہ (9 تا 12)۔ وَّكَانَ عَرْشُهٗ عَلَي الْمَاۗءِ : اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ آسمان و زمین پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا، پھر سب سے پہلے کیا پیدا کیا ؟ اس کے متعلق مختلف روایات آئی ہیں۔ عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں کہ اہل یمن کے کچھ لوگوں نے آپ ﷺ سے اس امر (کائنات) کی ابتدا کے متعلق پوچھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (کَان…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 7 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وھو الذی خلق السمٰوٰت والارض فی سیتۃ ایام اس کا بیان ” سورة اعراف “ میں گزر چکا ہے۔ والحمدللہ۔ وکان عرشہ علی المآء اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ عرش اور پانی کی تخلیق، زمین اور آسمان کی تخلیق سے پہلے ہے۔ حضرت کعب نے کہا : اللہ تعالیٰ نے سبز یاقوت پیدا فرمایا پھر جلال کے ساتھ اس کی طرف دیکھا تو وہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے کا نپتا ہوا پانی ہوگیا۔ اس وجہ سے ابھی تک پانی مضطرب رہتا ہے اگرچہ وہ رکا ہوا ہی ہو، پھر اللہ تعالیٰ نے ہوا کو پیدا فرمایا اور پانی کو ہوا کی پشت پر رکھ دیا پھر عرش کو پانی پر رکھ دیا۔ سیعد بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے بیان کیا : ان سے اللہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ احمد والبخاری والترمذی والنسائی وابوالشیخ نے العظمۃ میں ابن مردویہ والبیہقی نے الاسماء والصفات میں عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا کہ یمن والوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ہم کو اس کام (یعنی کائنات) کی ابتداء کے بارے میں بتائیے کہ کس طرح سے ہوئی ؟ آپ نے فرمایا ہر چیز سے پہلے اللہ پاک تھے اور ان کا عرش پر تھا اور لوح محفوظ میں ہر چیز کو رکھ دیا گیا۔ (پھر) آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا (اچانک) ایک آواز دینے والے نے آواز دی اے ابن حصین تیری اونٹنی بھاگ گئی۔ میں (اس کے پیچھے) چلا جبکہ اس کے سامنے سراب یعنی صحرا کی زینت تھی جسے طے کررہی تھی خدا کی قسم ! میرے لئے پسندیدہ یہ تھا کہ میں اس کام کو چھوڑ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَهُوَ [اور وہ ] الَّذِيْ [ وہ ہے جس نے ] خَلَقَ [ پیدا کیا ] السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ [ آسمانوں کو اور زمین کو ] فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ [ چھ دنوں میں ] وَّ [ اس حال میں کہ ] كَانَ [ تھا ] عَرْشُهٗ [ اس کا عرش ] عَلَي الْمَاۗءِ [ پانی پر ] لِيَبْلُوَكُمْ [ تاکہ وہ آزمائے تم لوگوں کو ] اَيُّكُمْ [(کہ) تم میں کا کون ] اَحْسَنُ [ زیادہ اچھا ہے ] عَمَلًا ۭ [بلحاظ عمل کے ] وَلَىِٕنْ [ اور البتہ اگر ] قُلْتَ [ آپ کہیں گے ] اِنَّكُمْ [ کہ تم لوگ ] مَّبْعُوْثُوْنَ [ اٹھائے جانے والے ہو ] مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ [ موت کے بعد ] لَيَقُوْلَنَّ [ تو لازما کہیں گے ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جنھوں نے ] كَفَرُوْٓا […

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ تعالیٰ بڑا رحیم وکریم ہے وہ کافروں کو بھی رزق دیتا ہے اور فاسقوں کو بھی۔ ممکن ہے کہ کسی کو یہ اشکال ہو کہ بہت سے لوگوں کو فاقے ہوجاتے ہیں اور بہت سے لوگ فاقہ کشی میں مرجاتے ہیں اس وقت ان کا رزق کیوں نہیں پہنچتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کا رزق مقرر اور مقدر فرمایا ہے رزق کی جو مقدار مقرر ہے وہ ضرور پہنچے گی زندگی بھر میں ہر ایک کا رزق مقرر پورا پہنچ جائے گا۔ ہر وقت ملے اور ہمیشہ ملے اس کا وعدہ نہیں ہے اگر کوئی شخص بھوک کی وجہ سے مرجائے تو اس کا رزق مقرر اس سے پہلے ختم ہوچکا ہے اور موت کے وقت تک جس کسی کا رزق باقی ہے وہ اسے پہنچ جاتا ہے بعض انسان کھاتے کھاتے مرجاتے ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–8

قال اللہ تعالیٰ ولئن قلت انکم مبعوثون ..... الی .... وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزءون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں تکوین عالم اور اس کی غرض وغایت کا ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس عالم کو تمہاری آزمائش کے لیے پیدا کیا کہ کون اچھا عمل کرتا ہے اب اس آیت میں بعث بعد الموت۔ اور عمل کی جزا و سزا کو بیان کرتے ہیں کیونکہ مکلفین کے ابتلاء و امتحان کے لیے جزا اور سزا ضروری ہے اور جزا اور سزا کے لیے حشر و نشر ضروری ہے لہٰذا اگر کسی حکمت کی وجہ سے عذاب میں تاخیر ہوجائے تو انسان کو یہ گمان نہ کرنا چاہئے کہ عذاب کا وعدہ غلط ہے۔ عذاب ضرور آئیگا مگر اپنے وقت پر آئیگا اور جب عذاب آئے گا تو اس سے کچھ بچ نہیں سکے گا اور ان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

10: زمین و آسمان کو اللہ نے صرف چھ دن میں پیدا کیا جو اس کے کمال قدرت کی دلیل ہے۔ وَ کَانَ عَرْشُهٗ عَلَی الْمَاءِ : ماضی بمعنی حال ہے اور عرش کا پانی کے اوپر ہونا حقیقی معنوں پر محمول ہے اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت کی بہت بڑی دلیل ہے فیه دلالة علی کمال القدرة من وجوہ الاول ان العرش مع کو نه اعظم من السموات والارض کان علی الماء فلولا انه تعالیٰ قادر علی امساک الثقیل بغیر عمد لما صح ذلک (کبیر ج 7 ص 187) ۔ 11: یہ شکوی ہے ان مشرکین کی ضد کا بھی کوئی کنارہ نہیں یہ مانتے ہوئے کہ ساری کائنات کا خالق واملک اللہ ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے پھر بھی مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کا صاف انکار کرتے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 7–8

ربط آیات گذشتہ آیات میں قرآن کریم کی آیات کے محکم اور مفصل ہونے کا بیان تھا۔ پھر دعوت الیٰ التوحید اور بندے کی توبہ اور استغفار کا ذکر ہوا۔ نافرمانوں کی سازش اور اللہ تعالیٰ کے علم محیط اور قدرت تامہ کو بیان کیا گیا اور ساتھ یہ بھی کہ ہر جاندار کی روزی کا ضامن وہ خود ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر انسان کی جائے قرار اور سونپے جانے کی جگہ کو جانتا ہے۔ فرمایا یہ سب چیزیں خدا کی کتاب میں درج ہیں۔ اب آج کی آیات میں تخلیق کائنات کا تذکرہ ہے جو کہ خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور قدرت تامہ کی دلیل اور اس کے کمال حکمت کی نشانی ہے۔ تخلیق ارض وسماء ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وھو الذی “ خدا کہ ذات وہ ہے (آیت) ” خلق السموت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَہُوَالَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّۃِ اَيَّامٍ وَّكَانَ عَرْشُہٗ عَلَي الْمَاۗءِ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا۝ 0 ۭ وَلَىِٕنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُوْلَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْــرٌ مُّبِيْنٌ۝ 7 خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 5–8

1 ؎ ثینون اس کی ماضی ثنا۔ اس کے معنی پھیرنا یا موڑنا یا لپیٹنا یقال ثنیت الشیء اذا عطفۃ وطویۃ منہ۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ وَّکَانَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَآئِ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً ط وَلَئِنْ قُلْتَ اِنَّکُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اِنْ ہٰذَا اِلاَّ سِحْرٌ مُّبِیْنٌ۔ (سورۃ ہود : 7) (اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے چھ دنوں میں اور اس کا عرش پانی پر تھا تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں عمل میں کون اچھا ہے۔ اے پیغمبر ! اگر آپ کہتے ہیں کہ تم موت کے بعد اٹھائے جاؤ گے تو یہ کافر کہتے ہیں یہ تو بس کھلا کھلا جادو ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اللہ کے علم کامل کو بیان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : کھا نے پینے کے انتظام کے ساتھ ہر ذی روح کی رہائش کا بندوبست۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو خلیفہ بنا کر زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور انسان کی زندگی کے لیے تمام اسباب مہیا فرمائے زمین و آسمان کی تخلیق کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے زمین و آسمان کو بغیر کسی نقشے اور میٹیریل کے پیدا فرمایا ہے۔ جس کے لیے بدیع کا لفظ استعمال کیا ہے۔ سورة الانعام آیت : 101 ” بدیع “ کا معنی ہے کہ جس چیز کا اس سے پہلے کسی اعتبار سے وجود نہ ہو۔ پھر زمین و آسمان کو بننے کا حکم دیا جن کی حالت ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ زمین و آسمان دونوں آپس میں جڑے ہوئے تھے ہم نے انہیں الگ الگ کیا۔ جسے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

7: وَھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ (وہی ذات جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا) اور جو کچھ ان کے مابین ہے فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ (چھ دنوں میں) اتوار سے جمعہ تک مخلوق کو معاملات میں ترتیب سکھانے کیلئے وَّکَانَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَآئِ (اور اس کا عرش پانی پر تھا یعنی پانی کے اوپر) آسمان و زمین کی پیدائش سے پہلے عرش کے نیچے کوئی مخلوق نہ تھی سوائے پانی کے۔ فائدہ : اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ عرش و پانی دونوں کی پیدائش آسمان و زمین کی پیدائش سے پہلے ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے اس کو سبز یا قوت بنایا پھر ہیبت کی تجلی اس پر ڈالی تو وہ پانی بن گیا۔ پھر ہوا کو پیدا کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7۔ ” وھو الذین خلق السموات والارض فی ستۃ ایام و کان عرشہ علی الماء ‘ ‘ آسمان و زمین کو پیدا کرنے سے پہلے اور یہ پانی ہوا کی پشت پر تھا۔ کعب (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سبز یاقوت کو پیدا کیا پھر رعب کی نگاہ اس پر ڈالی تو وہ پانی بن گیا ۔ پھر ہوا کو پیدا کیا اور پانی کو اس کی پشت پر رکھ دیا اور پھر عرش کو پانی پر رکھ دیا ۔ ضمر ہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا پھر اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور قلم کو پیدا کیا اور اس سے جو مخلوق پیدا کرنی تھی وہ بھی لکھی اور جو کچھ آگے ہونے والا ہے مخلوق ہے وہ بھی لکھا۔ پھر اس کتاب نے ہزار سال اللہ تعالیٰ کی تسبیح و…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

7۔ اس آیت سے یہ خیال نہ کرنا چاہیے کہ پانی یا عرش یا اور کوئی شئی سوائے ذات الٰہی کے قدیم ہے۔ چناچہ عمران بن حصین ؓ کی حدیث بخاری میں ہے اس کا اور ترمذی، مسند امام احمد بن حنبل وغیرہ میں جو حدیثیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ پہلے پہل سوائے ذات باری کے پانی عرش کچھ نہیں تھا پہلے سب سے اللہ تعالیٰ نے پانی کو پیدا کیا پھر عرش معلی کو پیدا کیا 1 ؎ جیسا کہ مسند امام احمد اور ترمذی میں ابو رزین عقیلی ؓ کی صحیح روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا پانی عرش سے پہلے پیدا کیا گیا ہے اور پھر عرش اس کے بعد قلم کو پیدا کیا اور لوح محفوظ کو پیدا کیا اور زمین و آسمان کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے جو کچھ زمین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اور (اللہ) وہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں، اور تھا عرش اس کا اوپر پانی کے، تاکہ وہ آزمائے تمہیں کہ کون سا تمہارا اچھا عمل ہے (کرنے) میں ؟ اور البتہ اگر کہیں آپ کہ بیشک تم اٹھائے جاؤ گے بعد مرنے کے تو البتہ ضرور کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، نہیں ہے یہ مگر جادو ظاہر۔ اور البتہ اگر موخر کردیں ہم ان (پر) سے عذاب ایک مدت گنی ہوئی تک تو البتہ ضرور کہیں گے وہ (کافر) کہ کونسی چیز روک رہی ہے اس کو ؟ آگاہ رہو ! جس دن آئے گا (عذاب) ان کے پاس تو نہیں پھیرا جائے گا وہ ان سے، اور گھیر لے گا انہیں وہ (عذاب) کہ تھے وہ ساتھ اس کے استہزاء کرتے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

18 ۔ تخلیق کائنات کے دنوں سے مراد ؟: سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ وہی ہے جس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین (کی اس حکمتوں بھری کائنات) کو چھ دنوں میں۔ یعنی اللہ۔ جل شانہ۔ کی شان کے دنوں کے اعتبار سے جو کہ دراصل کنایہ ہے چھ مختلف ادوار سے نہ کہ ہمارے ان دنوں کے اعتبار سے جن کو ہم دیکھتے اور جانتے ہیں۔ جو کہ اس زمین و آسمان میں اور سورج کے طلوع و غروب کے اعتبار سے بنتے ہیں۔ اور جب آسمان و زمین کی اس کائنات کی تخلیق سے پہلے طلوع و غروب کا یہ نظام سرے سے تھا ہی نہیں تو ظاہر ہے کہ ایسے میں ان چھ دنوں سے مراد ہمارے یہاں کے یہ مشہور و معروف چھ دن نہیں ہوسکتے۔ سو ان چھ دنوں سے مراد خدائی چھ دن ہیں اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 6–8

ہر جاندار کا رازق اللہ، مذاق کرنیوالوں کا انجام تشریح : آیت نمبر چھ میں اللہ کے رازق اور علیم وخبیر ہونے کی دلیل ہے۔ وہ دنیا کی تمام مخلوقات کو ایسے طریقوں سے رزق پہنچاتا ہے کہ جو انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوسکتا، مثلاً ایک واقعہ سنیں ایک شخص روزی رزق کے سلسلہ میں گھر سے نکلا۔ راستہ میں بارش ہوگئی تو وہ بچنے کے لیے ایک غار میں گھس گیا وہاں اس نے ایک اندھا عقاب دیکھا تو وہ سوچنے لگا کہ یہ اندھا عقاب کہاں سے کھاتا ہوگا۔ اچانک ایک کبوتر بارش سے بچنے کے لیے غار میں گھس آیا اور عقاب کے اوپر بیٹھ گیا، عقاب نے اسے دبوچ لیا اور کھالیا۔ وہ شخص اللہ کی قدرت، طاقت اور رازق ہونے کا قائل…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–8

آیات 1 تا 8 اسرار و معارف الر حروف مقطعات ہیں جن کا علم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ہے یا جیسے رب چاہے سمجھ عطاکردے مگر تلاوت سب کے لئے ہے اور فائدہ بھی سب کو پہنچتا ہے۔ یہ ایسی بےمثال کتاب ہے کہ اس کی آیات محکم یعنی ناقابل تبدیل ہیں اگرچہ پہلے بھی آسمانی کتب نازل ہوتی رہیں مگر ان کی آیات اور احکام خاص قوموں یا ملکوں کے لئے اور خاص زمانوں کے لئے تھے جو بعد میں نزول قرآن سے بھی کلی طور پر منسوخ ہوگئے مگر یہ کتاب بیک وقت ساری انسانیت کے لئے تمام ملکوں کے لئے اور سب زمانوں کے لئے ہے اور اس کے احکام ہر دور اور ہر ملک میں قابل عمل بھی ہیں لہٰذا یہ ہمیشہ کے لئے ہے اور کسی بھی امر میں کوئی بات ڈھکی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 ۔ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ کے کامل علم کا اثبات تھا اور اس آیت میں کمال درت کا بیان ہے۔ آسمان و زمین کی چھ دنوں میں تخلیق کے بارے میں دیکھئے سورة اعراف آیت 45 ۔ (کبیر) ۔ 4 ۔ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ آسمان و زمین کی تخلیق سے قبل اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا۔ (ابن کثیر) ابتداء آفرینش کے متعلق مختلف روایات آتی ہیں۔ صحیح اور مشہور روایات میں ہے کہ آنحضرت ﷺ سے سوال کیا گیا ہے کہ پہلے پہل خلق کی ابتدا کیسے ہوئی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : کان اللہ قبل کل شئی وکان عرسہ علی الماء وکتب فی اللوح الحفوظ زکر کل شئی کہ ہر چیز سے پہلے اللہ تھا اور اس کا عرش پانی پر تھا۔ اس نے لوح محفوظ میں ہر چیز کا ذکر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(11:7) عرشہ۔ عرش۔ تخت شاہی۔ جیسے ورفع ابویہ علی العرش (12:100) اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا۔ یا ایکم یاتینی یعرشھا (37:38) کوئی تم میں ایسا ہے کہ ملکہ کا تخت میرے پاس لے آئے۔ العرش۔ اصل میں چھت والی چیز کو کہتے ہیں۔ اس کی جمع عروش ہے قرآن حکیم میں آیا ہے وہی خاویۃ علی عروشھا۔ (2:259) اور اس کے مکان اپنی چھتوں پر گرے پڑے تھے اسی سے انگور کی بیلوں کے لیے ٹیٹاں بنانا بھی عرش کہلاتا ہے اور ٹیٹوں پر چڑھائی ہوئی بیلوں کو معرش کہتے ہیں ۔ ان معنوں میں قرآن میں ہے : وما کانوا یعرشون (7:137) جو وہ ٹیٹوں پر چڑھاتے تھے۔ عرش بمعنی عزت۔ غلبہ۔ سلطنت بھی مستعمل ہے چناچہ محاورہ ہے فلان قل عرشہ (فلاں کی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 8 عرش (تخت) ل بیلو (تاکہ وہ آزمائے) ایکم (تم میں سے کون ؟ ) مبعوثون (اٹھائی جانے والے) امۃ معدودۃ (کچھ مدت) ما یحسبہ (اس کو کس چیز نے روک لیا) حاق (گھیر لے گا (گھیر لیا) تشریح : آیت نمبر 7 تا 8 اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے کہ انسان پر ایک ایسا زمانہ اور وقت بھی گذرا ہے جب وہ کوئی قابل ذکر چیز ہی نہ تھا۔ دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ اے لوگو ! تم مردے تھے یعنی تمہارے اندر زندگی کا کوئی وجود نہ تھا پھر اس نے تمہیں زندگی دی۔ پھر وہ تمہیں موت دے گا اس کے بعد پھر تمہیں زندہ کر کے پھر اپنی طرف لوٹا لے گا۔ خلاصہ یہ ہے کہ انسان کا وجود ہی نہ تھا بعد میں اللہ نے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–8

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ خداوند کریم ایسا قادر ہے کہ اس نے آسمانوں کو اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا۔ پہلا روز ہفتہ کا تھا۔ اس سے پہلے سوائے خدا کی ذات کے کچھ نہ تھا۔ وہ ایسا قادر مطلق ہے کہ زمین وآسمان پیدا کرنے سے قبل اپنے عرش کو پانی پر قائم کر رکھا تھا کہ ابتداء میں حق تعالیٰ نے ایک یاقوت سبز پیدا کیا اور نظر ہیبت سے اسے دیکھا وہ جوہر پانی ہوگیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہوا پیدا کی، اور پانی کو ہوا پر رکھا اور عرش کو پانی کے اوپر جگہ دی اور پانی پر عرش کا ہونا اور ہوا پر پانی کا ٹھہرنا اس کی قدرت کا نمونہ ہے۔ اس کے بعد قلم کو پیدا کیا، اور لوح محفوظ کو پیدا کیا اور زمین وآسمان کے پیدا کرنے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–14

[4] عرش سے مراد تخت حکومت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کی حکومت پانی پر تھی یا کسی ایسی چیز پر جسے پانی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ [5] یعنی تخلیق کائنات کا مقصد یہ تھا کہ انسان کو دنیا میں پیدا کر کے اسے خلافت کے اختیارات سپرد کئے جائیں اور پھر دیکھا جائے کہ وہ اپنے اختیارات کس طرح استعمال کرتا ہے۔ بالفاظ دیگر دنیا انسان کے لئے امتحان گاہ ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 7–11

(ف 2) یعنی کائنات کی ابتدا پانی سے ہے ، (آیت) ” وجعلنا من المآء کل شی حی “۔ علم الحیات کے ماہرین بیشمار تجارب اور ارتقاء کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ زندگی کی ابتداء ان حیوانات سے ہوتی ہے جو بحری ہیں قرآن نے نہایت بہتر الفاظ میں علم الحیات کے اس مسئلہ کو بیان فرمایا ہے کہ خدا کا عرش حکومت ابتداء پانی سے وابستہ تھا ۔ (آیت) ” لیبلوکم “ میں مقصد حیات کی طرف اشارہ ہے ، یعنی تمہیں اس لئے پیدا کیا گیا ہے تاکہ بہترین اعمال سے زمین کو رشک فردوس بنا دو ۔ حل لغات : دآبۃ : ہر جاندار زمین پر چلنے والا ۔ مستقر : جائے قرار ۔ مستودع : جہاں سونپاجائے امانت کا ، امۃ : مدت ، زمانہ ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

7 وہ اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا اور اس وقت اس کا عرش پانی پر تھا اس تخلیق عالم کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تم کو آزمائے اور تمہارا امتحان لے کہ تم میں سے کو نساشخص آزروئے عمل کے اچھا ہے اور تم میں سے عمل کرنے میں کون اچھا ہے اور اے پیغمبر اگر آپ ان لوگوں سے کہتے ہیں کہ تم مرنے کے بعد قیامت کے دن دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے جائو گے تو جن لوگوں کی روش کافرانہ ہے وہ قرآن کریم کی اس بات کو سن کر کہتے ہیں کہ یہ قرآن کریم تو صرف ایک کھلا اور صریح جادو ہے یعنی چھ دن کی مقدار میں پیدا کیا عرش پانی پر تھا یعنی زمین و آسمان پانی کی شکل میں تھے آزمائش یہی ہے کہ ان چیزوں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ مطلب یہ کہ زمین و آسمان کو پیدا کیا تمہارے حوائج و منافع اس میں پیدا کیے تاکہ تم ان کو دیکھ کر توحید پر استدلال کرو اور ان سے منتفع ہوکرمنعم کا شکر اور خدمت کہ عبادت ہے عمل صالح سے بجا لاو سو بعض نے ایسا کیا بعض نے نہ کیا۔ 2۔ جادو اس لیے کہتے ہیں کہ وہ باطل ہوتا ہے مگر موثر اسی طرح قرآن کو نعوذ باللہ باطل سمجھتے تھے لیکن اس کے مضامین کا موثر ہونا بھی مشاہدہ کرتے تھے اس مجموعہ پر یہ حکم کیا نعوذباللہ منہ۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہی اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان میں ہے سب کو چھ ادوار میں پیدا کیا 11 ؎ کائنات کی ساری چیزوں کو چھ ” ایام “ میں پیدا کرنے کا مفہوم ہم پیچھے سورة الاعراف کی آیت 54 اور سورة یونس کی آیت 3 میں پوری وضاحت سے بیان کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ کریں اور خصوصاً اس جلد میں سورة یونس کی آیت 3 کو دوبارہ پڑھ لیں ۔ اللہ تعالیٰ کے علم محیط کے بیان کے بعد اس کی قدرت کاملہ کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ قرآن کریم میں کائنات کی تخلیق کی مدت چھ ادوار بیان کی گئی اور پھر یہ بات کہ ہر دور کی کل کتنی مقدار ہے ؟ یہ بات ہمارے فہم و ادراک سے باہر ہے۔ ” اس کے تخت کی فرمانروائی پانی پر تھی ۔ “ کیا مطلب ؟ اس میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Another manifestation of the all-encompassing knowledge and perfect power of Allah Ta` ala has been mentioned in the second verse (7) - ` And He is the One who created the heavens and the earth in six days and (before creating these) His throne was on water.' This tells us that water was created before the creation of the heavens and the earth. As for the elaboration of the creation of the heavens and the earth in six days, it has appeared in Surah Ha Mim as-Sajdah (also called Surah Fussilat). There it has been said that the earth was created in two days, mountains, river streams, trees and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–9

7. This is a parenthetical statement which was presumably made in response to some such query: 'If there was a time when the heavens and the earth did not exist, and then they were created - what is it that existed before?' Without explicitly mentioning any such query, an answer is briefly provided. The answer is: before all the heavens and the earth were created there was water everywhere. However, we are not in a position to state with certainty the meaning of the word 'water' used in the verse. Does it mean the 'water' known to us by that name now? Or has it been used metaphorically to…

Read the full tafseer →