ہر مخلوق کا روزی رساں
ہر ایک چھوٹی بڑی، خشکی تری کی مخلوق کا روزی رساں ایک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہی ان کے چلنے پھرنے آنے جانے، رہنے سہنے، مرنے جینے اور ماں کے رحم میں قرار پکڑنے اور باپ کی پیٹھ کی جگہ کو جانتا ہے۔ امام بن ابی حاتم نے اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کرام کے بہت سے اقوال ذکر کئے ہیں فاللہ اعلم۔ یہ تمام باتیں اللہ کے پاس کی واضح کتاب میں لکھی ہوئی ہیں جسے فرمان ہے (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا طٰۗىِٕرٍ يَّطِيْرُ بِجَنَاحَيْهِ اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ ۭمَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ 38) 6۔ الانعام :38) یعنی زمین پر چلنے والے…
Read the full tafseer →سورة هُوْد 6
یعنی جس خدا کے علم کا حال یہ ہے کہ ایک ایک چڑیا کا گھونسلہ اور ایک ایک کیڑے کا بِل اس کو معلوم ہے اور وہ اسی کی جگہ پر اس کو سامان زیست پہنچا رہا ہے، اور جس کو ہر آن اس کی خبر ہے کہ کونسا جاندار کہاں رہتا ہے اور کہاں اپنی جان جان آفریں کے سپرد کردیتا ہے، اس کے متعلق اگر تم یہ گمان کرتے ہو کہ اس طرح منہ چھپا چھپا کر یا کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر یا آنکھوں پر پردہ ڈال کر تم اس کی پکڑ سے بچ جاؤ گے تو سخت نادان ہو۔ داعی حق سے تم نے منہ چھپا بھی لیا تو آخر اس کا حاصل کیا ہے ؟ کیا خدا سے بھی تم چھپ گئے ؟ کیا خدا یہ نہیں دیکھ رہا ہے کہ ایک شخص تمہیں امر حق سے آگاہ کرنے میں لگا ہوا ہے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور کوئی (رزق کھانے والا) جاندار روئے زمین پر چلنے والا ایسا نہیں کہ اس کی روزی اللہ کے ذمہ نہ ہو (اور رزق رسانی کے لئے علم کی ضرورت ہوتی ہے سو) وہ ہر ایک کی زیادہ رہنے کی جگہ کو اور چند روز رہنے کی جگہ کو جانتا ہے (اور ہر ایک کو وہاں ہی رزق پہنچاتا ہے، اور گو سب چیزیں علم الہٰی میں تو ہیں ہی مگر اس کے ساتھ ہی) سب چیزیں کتاب مبین (یعنی لوح محفوظ) میں (بھی منضبط و مندرج) میں (عرض واقعات ہر طرح محفوظ ہیں، آگے تخلیق کا مع اس کی بعض حکمتوں کے بیان ہے جس سے قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے کی بھی تائید ہوتی ہے، کیونکہ ابتدائی تخلیق دلیل ہے اس پر کہ وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے) اور وہ (اللہ)…
Read the full tafseer →وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ۔ مستقر، اور مستودع پر انعام آیت 98 کے تحت بحث گزر چکی ہے۔ مستقر، سے مراد وہ ٹھکانا ہے جہاں انسان زندگی کے دن گزارتا ہے۔ اور مستودع سے مراد وہ جگہ ہے جہاں وہ مرنے کے بعد زمین کے سپرد کیا جاتا ہے۔ اس آیت میں اسی مضمون کی مزید وضاحت ہے جو اوپر والی آیت میں گزرا کہ خدا کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ کوئی اس سے بھاگ یا چھپ نہیں سکتا۔ فرمایا کہ وہ خدا ہی ہے جس کے ہاتھوں ہر جاندار کو روزی مل رہی ہے۔ مطلب یہ کہ جو ہر جاندار کو، وہ جہاں بھی ہو، پہاڑوں کی…
Read the full tafseer →6۔ 1 یعنی وہ کفیل اور ذمے دار ہے۔ زمین پر چلنے والی ہر مخلوق، انسان ہو یا جن، چرند ہو یا پرند، چھوٹی ہو یا بڑی، بحری ہو یا بری۔ ہر ایک کو اس کی ضروریات کے مطابق وہ خوراک مہیا کرتا ہے۔
6۔ 2 مستقر اور مستودع کی تعریف میں اختلاف ہے بعض کے نزدیک منتہائے سیر (یعنی زمین میں چل پھر کر جہاں رک جائے) مستقر ہے اور جس کو ٹھکانا بنائے وہ مستودع ہے۔ بعض کے نزدیک رحم مادر مستقر اور باپ کی صلب مستودع ہے اور بعض کے نزدیک زندگی میں انسان یا حیوان جہاں رہائش پذیر ہو وہ اس کا مستقر ہے اور جہاں مرنے کے بعد دفن ہو وہ مستودع ہے تفسیر ابن کثیر امام شوکانی کہتے ہیں مستقر سے مراد رحم مادر اور مستودع سے وہ حصہ زمین ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
4: بہت سے مشرک لوگ آنحضرت ﷺ کا سامنا کرنے سے اپنے آپ کو بچاتے تھے ؛ تاکہ آپ کی کوئی بات ان کے کان میں نہ پڑے، چنانچہ کبھی آنحضرت ﷺ نظر آتے تو وہ اپنے سینوں کو دہرا کرکے اور اپنے اوپر کپڑے لپیٹ کر وہاں سے کھسک جاتے تھے، اسی طرح بعض احمق کوئی گناہ کا کام کرتے تو اس وقت بھی اپنے آپ کو چھپانے کے لئے دہرے ہوجاتے، اور اپنے اوپر کپڑے لپیٹ لیتے، اور اس طرح یہ سمجھتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے چھپ گئے، یہ آیت ان دونوں قسم کے لوگوں کی طرف اشارہ کررہی ہے۔
Read the full tafseer →اللہ کے علم محیط کی یہ ایک دوسری شکل ہے۔ نہایت ہولناک ، ذرا زمین پر چلنے والے حیوانات اور رینگنے والے کیڑے مکوڑوں پر غور کریں ، ہر وہ چیز جو زمین پر حرکت کرتی ہے وہ دابہ ہے
زمین پر حرکت کرنے والے لاتعداد اور بیشمار دواب (جانداروں) میں سے جو کچھ بھی ہے ، زمین کے اطراف و اکناف میں سے جہاں بھی ہے ، اوپر ہے یا اندر ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہے۔ صرف علم بھی نہیں بلکہ اللہ ان کو رزق بھی فراہم کرتا ہے اور اللہ یہ بھی جانتا ہے کہ وہ کہاں قرار و سکون حاصل کرتے ہیں اور کہاں سونپے جاتے ہیں۔ بلکہ یہ سب دواب اللہ کے علم محیط کے ضبط اور کنٹرول میں ہیں۔
یہ اللہ کے علم الہی کی نہایت ہی واضح مثال ہے۔ یہ…
Read the full tafseer →1 پہلے علم الٰہی کی وسعت بیان ہوئی تھی یہ اسی مضمون کا تکملہ ہے۔ یعنی زمین پر چلنے والا ہر جاندار جسے رزق کی احتیاج لاحق ہو، اس کو روزی پہنچانا خدا نے محض اپنے فضل سے اپنے ذمہ لازم کرلیا ہے۔ جس قدر روزی جس کے لیے مقدر ہے یقینا پہنچ کر رہے گی۔ جو وسائل و اسباب بندہ اختیار کرتا ہے، وہ روزی پہنچنے کے دروازے ہیں۔ اگر آدمی کی نظر اسباب و تدابیر اختیار کرتے وقت مسبب الاسباب پر ہو تو یہ توکل کے منافی نہیں البتہ خدا کی قدرت کو ان اسباب عادیہ میں محصور و مقید نہ سمجھا جائے۔ وہ گاہ بگاہ سلسلہ اسباب کو چھوڑ کر بھی روزی پہنچاتا یا اور کوئی کام کردیتا ہے بہرحال جب تمام جانداروں کی حسب استعداد غذاء اور…
Read the full tafseer →آیت 6 وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ الاَّ عَلَی اللّٰہِ رِزْقُہَا
اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے اندر تقسیم رزق کا جو نظام وضع کیا ہے اس میں اس نے ہر جاندار کے لیے اس کی ضروریات زندگی فراہم کردی ہیں۔ بچے کی پیدائش بعد میں ہوتی ہے مگر اس کے لیے ماں کی چھاتیوں میں دودھ پہلے پیدا ہوجاتا ہے۔ لیکن جہاں کوئی انسان یا انسانوں کا کوئی گروہ اللہ کے اس نظام اور اس کے قوانین کو پس پشت ڈال کر کوئی ایسا نظام یا ایسے قوانین وضع کرے جن کے تحت ایک فرد کے حصے کا رزق کسی دوسرے کی جھولی میں چلا جائے ‘ تو رزق یا دولت کی تقسیم کا خدائی نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ اس لوٹ کھسوٹ کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ کہیں دولت کے…
Read the full tafseer →8 اللہ کی رزاقیت :۔ یعنی صرف انسانوں کا نہیں بلکہ زمین پر چلنے والے جانوروں حتیٰ کہ کیڑے مکوڑوں اور چیونٹیوں کا رزق بھی اللہ کے ذمے ہے اور یہ اللہ کی ذمہ داری ہے کہ ہر جاندار کو رزق اسے اس کے مقام پر پہنچائے۔ اس آیت سے جہاں اللہ کی کمال رزاقیت کا اندازہ ہوتا ہے وہاں اس کے وسعت علم کا بھی اندازہ ہوتا ہے اللہ کے رزق کی فراہمی کا ذریعہ یہ ہے کہ وہ آسمان سے بارش برساتا ہے جس سے زمین میں سے ہر طرح کی نباتات اگتی ہیں۔ پھر اسی نباتات، فصلوں اور پھلوں وغیرہ سے ہر جاندار کو بالواسطہ یا بلاواسطہ روزی مہیا ہوتی ہے اور ہر جاندار کی جملہ ضروریات زندگی اسی زمین سے مہیا ہو رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ جتنی بھی…
Read the full tafseer →7۔ یعنی ادنی سے ادنی، حقیر سے حقیر کیڑے کے لئے بھی سامان رزق کی فراہمی کے اسباب وہی پیدا کرتا رہتا ہے اس کی ربوبیت اور صفت علم کا احاطہ کون کرسکتا ہے۔ آیت کا یہ مطلب نہیں کہ انسان اسباب رزق کی طرف سے غافل وبے فکر ہوجائے بلکہ مراد یہ ہے کہ تکیہ اسباب پر نہ کرے، سبب کا مبدأ مرجع ومنتہا اللہ کو ہی سمجھے رہے۔ (آیت) ” دآبۃ “۔ کے معنی مطلق جانور کے ہیں اور اس کا اطلاق ہر قسم کے حیوان پر ہوتا ہے۔ قال الزجاج الدابۃ اسم لکل حیوان واطلق علی کل حیوان ذی روح (کبیر) یہاں بھی اپنے اسی وسیع مفہوم میں ہے اور اس پر اکابر تفسیر کا اتفاق ہے۔ والمراد بھذا اللفظ فی ھذہ الایۃ الموضوع الاصلی اللغوی فیدخل فیہ جمیع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
آیت نمبر 6 تا 8
ترجمہ : زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کا رزق اللہ کے ذمہ ہے، مِنْ زائدہ ہے) دَابَّۃ (اس جاندار کو کہتے ہیں جو زمین پر چلتا ہے، یعنی اللہ ہی ان کی روزی کا اپنے فضل سے کفیل ہے وہی ان کو رہنے سہنے کی جگہ کو جانتا ہے آیا دنیا میں ہے یا پشت پدر میں اور مرنے کے بعد اسکے سپرد کئے جانے کی جگہ کو یا رحم مادر میں ہے) اس کا مقام (کو جانتا ہے اور ہر چیز کا جو مذکور ہوئی وہ کتاب مبین میں ہے اور وہ لوح محفوظ ہے، اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا ان کا پہلا میدان یکشنبہ تھا اور آخری دن جمعہ کا اور آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے سے پہلے اس کا عرش پانی پر…
Read the full tafseer →وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ
وما من دآبۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا اور نہیں ہے زمین پر کوئی رینگنے والا جانور مگر اللہ ہی کے ذمہ ہے اس کی روزی ‘ کیونکہ اللہ نے اپنی رحمت اور مہربانی سے ہر جاندار کی پرورش کرنا اپنے ذمہ لے رکھا ہے۔ (1) [ دابۃ : رینگنے والا جانور۔ دبیبرینگنا۔ عموماً عرف عام میں دابتہ چوپایہ کو کہتے ہیں لیکن اس جگہ لغوی معنی مراد ہے ‘ یعنی ہر جاندار جو زمین پر چل سکتا ہے خواہ کوئی کیڑا ہو ‘ یا چوپایہ ‘ یا پرندہ ‘ یا آدمی۔
اہلسنّت کا مسلّمہ عقیدہ ہے کہ اللہ پر کوئی عمل واجب نہیں ‘ لیکن اللہ اگر اپنی رحمت سے خود کسی بات کا وعدہ فرما لے تو تکمیل وعدہ واجب ہے ‘ جیسے نیکوں کا جنت میں داخلہ۔…
Read the full tafseer →(6) سب کے رزق کا ذمہ دار اور کفیل اللہ تعالیٰ ہے وہ ہر ایک کی رات کو آرام کرنے کی جگہ اور مرنے کے بعد دفن ہونے کی جگہ سب جانتا ہے ہر ایک جاندار کا رزق اور اس کی موت وزندگی سب لوح محفوظ میں معینہ مدت تک محفوظ ہے۔
Read the full tafseer →وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ۔۔ :”دَاۗبَّةٍ“ ”دَبَّ یَدِبُّ دَبِیْبًا“ سے اسم فاعل ہے، جس کا معنی آہستہ چلنا ہے۔ ہر جان دار خواہ مذکر ہو یا مؤنث، عاقل ہو یا غیر عاقل، سب پر ”دَاۗبَّةٍ“ کا لفظ استعمال ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَاللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَاۗبَّةٍ مِّنْ مَّاۗءٍ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰي بَطْنِهٖ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰي رِجْلَيْنِ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰٓي اَرْبَعٍ) [ النور : 45] ”اور اللہ نے ہر چلنے والا (جان دار) ایک قسم کے پانی سے پیدا کیا، پھر ان میں سے کوئی وہ ہے جو اپنے پیٹ پر چلتا ہے اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو دو پاؤں پر چلتا ہے اور ان میں…
Read the full tafseer →آیت نمبر 6
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومامن دآبۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا اس میں ما نافیہ ہے اور من زائدہ ہے اور دابۃ محل رفع میں ہے تقدیر عبارت میں دمادابۃ ہے۔ الا علی اللہ رزقھا، علی بمعنی من ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا رزق ہے اس پر مجاہد کا قول دلالت کرتا ہے کہ رزق میں سے جو کچھ بھی آتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے (3) ۔ ایک قول یہ ہے کہ علی اللہ مراد اللہ کے فضل کے طور پر ہے نہ کہ اس سے وجوب مراد ہے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ اس کی طرف سے سچے وعدے کے طور پر ہے۔ اس معنی کا بیان ” سورة النساء “ میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر کوئی چیز واجب نہیں۔ رزقھا مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے…
Read the full tafseer →1:۔ ابو الشیخ (رح) نے ابو الخیر بصری (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے داود (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ تو گمان کرتا ہے کہ بلاشبہ تو مجھ سے محبت کرتا ہے۔ اور تو میرے بارے میں برے گمان رکھتا ہے۔ اور شام کو کیا تیرے لئے یہ عبرت نہیں کہ اگر تو ساتویں زمینیں پھاڑ ڈالے تو میں تجھے چیونٹی دکھاوں گا۔ کہ اس کے منہ میں گندم کا دانہ ہے۔ اور میں اس کو نہیں بھولا۔
2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” وما من دآبۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا “ کے بارے میں فرمایا کہ ہر زمین پر چلنے والا (کوئی ایسا نہیں ہے جس کی روزی اللہ کے ذمہ نہ ہو)
3:۔ ابن جریر وابن منذر…
Read the full tafseer →وَمَا [ اور نہیں ہے ] مِنْ دَاۗبَّةٍ [ کسی قسم کا کوئی چلنے والا ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] اِلَّا [ مگر ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ] رِزْقُهَا [ اس کا رزق ہے ] وَيَعْلَمُ [ اور وہ جانتا ہے ] مُسْتَــقَرَّهَا [ اس کے ٹھہرنے کی جگہ کو ] وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ [ اور اس کو بطور امانت رکھے جانے کی جگہ کو ] كُلٌّ [ سب کچھ ] فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ [ ایک واضح کتاب میں ہے ]
نوٹ ۔ 2: آیت ۔ 6 میں ہے کہ سب کا رزق اللہ کے ذمہ ہے ۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ بعض جانور اور انسان بھوکے پیاسے مرجاتے ہیں ۔ علماء نے اس کے متعدد جواب دیئے ہیں ۔ ایک جواب یہ بھی ہے کہ رزق کی ذمہ داری اسی…
Read the full tafseer →زمین پر جتنے بھی چلنے پھرنے والے ہیں سب کا رزق اللہ کے ذمہ ہے
پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ کی صفت علم کو بتایا ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے اور ان آیات میں رزاقیت اور خالقیت بیان فرمائی ‘ ارشاد فرمایا کہ زمین پر جتنے بھی چلنے پھرنے والے ہیں۔ انسان ہوں یا حیوان چھوٹے ہو یا موٹے جانور ہوں ‘ کیڑے مکوڑے ہوں ان سب کا رزق اللہ کے ذمہ ہے ‘ یعنی ان کا رزق اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لگا لیا ہے یہ اس کا فضل وکرم ہے مہربانی ہے کیونکہ اس پر کسی کا کوئی حق اور رزق واجب نہیں ہے۔ زمین پر چلنے پھرنے والے ہیں ان سب کے جو ٹھکانے ہیں اسے سب کا علم ہے اور اسے سب کے رہنے کی جگہوں کا پتہ ہے ایسا نہیں کہ وہ اپنی مخلوق میں سے…
Read the full tafseer →بیان صفت ترزیق و صفت تخلیق
قال اللہ تعالیٰ وما من دابۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا ... الی ... لیبلوکم ایکم احسن عملا۔
(ربط) اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنا عالم الغیب ہونا بیان کیا کہ اس کا علم تمام کائنات کو محیط ہے اب ان آیات میں صفت ترزیق اور صفت تخلیق کو بیان کرتے ہیں کہ وہی سب کا رازق ہے اور وہی سب کا خالق ہے اور مخلوق رزق کو کسی جان دار کا زندہ رکھنا مقصود ہے اس وقت تک اس کو رزق پہنچتا رہے گا۔ اور جو حیوان بھوک سے مرجائے تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں کمی آگئی ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب اللہ تعالیٰ کا ارادہ اس کے زندہ رکھنے کا نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے جس حیوان…
Read the full tafseer →9: اور زمین پر رہنے والی ہر ذی روح مخلوق کی روزی بھی اللہ ہی کے زمہ ہے اور وہی سب کا رازق ہے اللہ تعالیٰ نے محض تفضلاً سب کی روزی اپنے ذمہ لی ہے ورنہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز واجب نہیں۔ وَیَعْلَمُ مُستَقَرَّھَا وَ مُسْتَوْدَعَھَا اور ہر ایک کے مستقر و مستودع کو بھی جانتا ہے۔ ان دونوں لفظوں کی تفسیر میں مکتلف اقوال منقول ہیں حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مستقر سے زندگی میں دن یا رات کو رہنے کی جگہ اور مستودع سے مرنے کے بعد فن ہونے کی جگہ مراد ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ کا قول ہے مستقر سے ماں کا رحم اور مستودع سے جائے دفن مراد ہے (خازن) کُلٌّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ : ہر چیز کتاب مبین میں موجود ہے کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ربط آیات
سورۃ کی پہلی آیت کریمہ میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کے بعد سورة کے مرکزی مضمون توحید کا بیان ہوا ” الاتعبدوا الا اللہ “ اس کے بعد رسالت کا تذکرہ ہوا اور نبی (علیہ السلام) کی زبان سے کہلوایا گیا کہ میں نذیر اور بشیر ہوں۔ پھر دوسری اہم بات یہ ذکر کی انسانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتے رہیں اور اسی کی طرف رجوع کریں جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ انہیں اطاعت اور خوشنودی والی بہتر زندگی عطا کریگا۔ اگر انسان اللہ تعالیٰ کے احکام سے اعراض کریں گے تو بڑے دن یعنی قیامت کے عذاب میں مبتلا ہوں گے خدا تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے لہٰذا منکرین خدا کے عذاب…
Read the full tafseer →وَمَامِنْ دَاۗبَّۃٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللہِ رِزْقُہَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّہَا وَمُسْـتَوْدَعَہَا 0 ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ 6
دب
الدَّبُّ والدَّبِيبُ : مشي خفیف، ويستعمل ذلک في الحیوان، وفي الحشرات أكثر، ويستعمل في الشّراب ويستعمل في كلّ حيوان وإن اختصّت في التّعارف بالفرس : وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُها [هود/ 6]
( د ب ب ) دب
الدب والدبیب ( ض ) کے معنی آہستہ آہستہ چلنے اور رینگنے کے ہیں ۔ یہ لفظ حیوانات اور زیادہ نر حشرات الارض کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور شراب اور مگر ( لغۃ ) ہر حیوان یعنی ذی حیات چیز کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ وَما مِنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
1 ؎ ثینون اس کی ماضی ثنا۔ اس کے معنی پھیرنا یا موڑنا یا لپیٹنا یقال ثنیت الشیء اذا عطفۃ وطویۃ منہ۔
Read the full tafseer →وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ اِلاَّ عَلَی اللّٰہِ رِزْقُہَا وَیَعْلَمُ مُسْتَقَرَّہَا وَ مُسْتَوْدَعَہَاط کُلٌّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ ۔ (سورۃ ہود : 6)
( اور زمین میں کوئی جاندار نہیں مگر اس کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور وہ جانتا ہے اس کے ٹھہرنے کی جگہ کو اور اس کے امانت رکھے جانے کی جگہ کو، ہر چیز ایک واضح رجسٹر میں درج ہے۔ )
آیت کی تشریح سے پہلے بعض الفاظ کا مفہوم سمجھنا چاہیے۔ مستقراسم ظرف ہے اس کا معنی ہے قرار پکڑنے کی جگہ۔ مراد اس سے ہر مخلوق کی اس دنیا میں ٹھہرنے اور رہنے کی جگہ ہے۔ مستودع بھی اسم ظرف ہے۔ اس کا معنی ہے ودیعت کیے جانے اور سپرد کیے جانے کی جگہ۔ مراد اس سے قبر ہے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گیارہویں پارے کے آخر میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے ظاہر اور خفیہ حالات سے واقف ہے اور دلوں کے بھید جاننے والا ہے۔ یہاں ارشاد فرمایا کہ وہ انسان کے مستقل ٹھہراؤ اور عارضی قیام گاہوں کو بھی جانتا ہے۔
” دابۃ “ ہر جاندار کو کہا جاتا ہے لیکن یہاں خطاب انسانوں سے کیا جارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی انسان کو پیدا کرنے والا ہے اور اس نے ہی اس کے رزق کا ذمہ لے رکھا ہے۔ رزق سے مراد صرف کھانے پینے والی چیزیں نہیں بلکہ اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جو ایک ذی روح کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں ہوا، پانی، خوراک اور رہن سہن کی ضروریات شامل ہیں۔ یہ سب چیزیں عطا کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اس…
Read the full tafseer →6: وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّاعَلَی اللّٰہِ رِزْقُھَا (کوئی جاندار زمین میں ایسا نہیں مگر کہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ اس کا رزق ہے) محض فضل کے طور پر نہ کہ وجوب کے طور پر وَیَعْلَمُ مُسْتَقَرَّھَا (وہ اس کا مستقر جانتے ہیں) زمین میں اس کے ٹھہرنے کا مقام اور مسکن وَمُسْتَوْدَ عَھَا (اور اسکی امانت کی جگہ) جہاں وہ بطور امانت رکھا گیا تھا اس سے قبل کہ صلب میں قرار پکڑتا یا نمبر 2۔ رحم مادر نمبر 3۔ بیضہ، پدرکُلٌّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ (ہر چیز واضح کتاب میں ہے) ہر جاندار اور اس کا رزق، اس کا مستقر اور مستودع لوح محفوظ میں واضح طور پر مندرج ہے۔
Read the full tafseer →تفسیر : 6” وما من دابۃ فی الارض “ یعنی کوئی دابہ ایسا نہیں ہے من صلہ ہے اور دابہ ہر اس حیوان کو کہتے ہیں جو زمین پر رینگے۔” الا علی اللہ رزقھا “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس کے رزق کی ذمہ داری لی ہے اگر چاہے تو رزق دے اور اگر چاہے تو رزق نہ دے اور بعض نے کہا ہے کہ علی بمعنی من ہے یعنی اللہ کی طرف سے اس کا رزق ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ جو رزق اس کے پاس آئے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور بسا اوقات اس کو رزق نہیں دیتا یہاں تک کہ وہ بھوک سے مرجاتا ہے۔
مستقر اور مستودع کی مختلف تفاسیر
” ویعلم مستقرھا ومستودعھا “
1۔ ابن مقسم (رح) فرماتے ہیں اور یہی ابن عباس ؓ سے بھی مروی ہے کہ مستقر…
Read the full tafseer →6۔ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ اللہ کی جتنی مخلوق ہے خواہ خشکی کی رہنے والی خواہ دریا کی سب کو خدا روزی پہنچاتا ہے اور خدا ہر ایک مخلوق کے قرار کی جگہ جانتا ہے کہ کہاں اس کی بودو باش ہے اور کس چیز سے اس کی پیدائش اور کہاں اور کس سرزمین میں اس کی موت ہے اور یہ سب باتیں لوح محفوظ میں دنیا کی پیدائش کے پہلے سے موجود ہیں حاصل یہ ہے کہ جب اللہ پاک کا علم اتنا بڑا وسیع ہے کہ ہر ایک شخص اور ہر ایک جاندار کے رہنے کی جگہ کو جانتا ہے وہ جہاں ہوتا ہے اس کا رزق وہیں پہنچا دیتا ہے اور اس نے تمہارے دل کا حال پہلے ہی لوح محفوظ میں اپنے علم کے موافق لکھ لیا ہے تو تمہارے دلوں کی بات کو جانتا اس کے نزدیک کونسی…
Read the full tafseer →روئے زمین پر چلنے والا ہر جاندار، خواہ انسان ہو یا حیوان، خشکی کا جانور ہو یا پانی کا جانور، ان کی خوراک اور رزق اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ (ویعلم مستقرھا ومستود عھا) ” اور وہ جہاں رہتا ہے اسے بھی جانتا ہے اور جہاں سونپا جاتا ہے اسے بھی۔ “ یعنی وہ تمام جانداروں کے ٹھکانوں کو جانتا ہے (مستقر) سے مراد وہ جگہ ہے جہاں جانور رہتے ہیں، جسے ٹھکانا بناتے ہیں اور جہاں پناہ لیتے ہیں اور (مستودع) سے مرادوہ جگہ ہے جہاں، اپنی آمد و رفت اور مختلف احوال میں منتقل ہوتے ہیں۔ (کل) ” یہ سب کچھ “ ان کے احوال کی تمام تفاصیل (فی کتب مبین) ” واضح کتاب میں ہے “۔ یعنی ہر چیز لوح محفوظ میں مرقوم ہے، جو ان تمام حوادث و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
13 ۔ منکرین کے اعراض و استکبار کی تصویر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ پھیرتے ہیں اپنے سینوں کو تاکہ یہ چھپ سکیں اس سے۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے۔ تاکہ اس طرح یہ بچ سکیں اس کی گرفت و پکڑ سے یا (مِنہ) کی اس ضمیر کا مرجع رسول ہیں۔ ﷺ یعنی تاکہ یہ لوگ اللہ کے رسول سے چھپ سکیں۔ تاکہ اس طرح نہ یہ ان کی صورت کو دیکھ سکیں اور نہ ان کی آواز حق کو سن سکیں۔ سو (منہ) کی ضمیر کے مرجع میں یہ دونوں احتمال موجود ہیں۔ (الجامع، المنار، المعارف وغیرہ) اور اس طرح یہ بدنصیب لوگ اپنی حرمان نصیبی کا سامان خود کر رہے ہیں۔ اور یہی نتیجہ ہوتا ہے ضد وعناد اور ہٹ دھرمی کا۔ اور اس طرح یہ لوگ نور حق و ہدایت سے اور محروم ہوتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ہر جاندار کا رازق اللہ، مذاق کرنیوالوں کا انجام
تشریح : آیت نمبر چھ میں اللہ کے رازق اور علیم وخبیر ہونے کی دلیل ہے۔ وہ دنیا کی تمام مخلوقات کو ایسے طریقوں سے رزق پہنچاتا ہے کہ جو انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوسکتا، مثلاً ایک واقعہ سنیں ایک شخص روزی رزق کے سلسلہ میں گھر سے نکلا۔ راستہ میں بارش ہوگئی تو وہ بچنے کے لیے ایک غار میں گھس گیا وہاں اس نے ایک اندھا عقاب دیکھا تو وہ سوچنے لگا کہ یہ اندھا عقاب کہاں سے کھاتا ہوگا۔ اچانک ایک کبوتر بارش سے بچنے کے لیے غار میں گھس آیا اور عقاب کے اوپر بیٹھ گیا، عقاب نے اسے دبوچ لیا اور کھالیا۔ وہ شخص اللہ کی قدرت، طاقت اور رازق ہونے کا قائل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیات 1 تا 8
اسرار و معارف
الر حروف مقطعات ہیں جن کا علم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ہے یا جیسے رب چاہے سمجھ عطاکردے مگر تلاوت سب کے لئے ہے اور فائدہ بھی سب کو پہنچتا ہے۔
یہ ایسی بےمثال کتاب ہے کہ اس کی آیات محکم یعنی ناقابل تبدیل ہیں اگرچہ پہلے بھی آسمانی کتب نازل ہوتی رہیں مگر ان کی آیات اور احکام خاص قوموں یا ملکوں کے لئے اور خاص زمانوں کے لئے تھے جو بعد میں نزول قرآن سے بھی کلی طور پر منسوخ ہوگئے مگر یہ کتاب بیک وقت ساری انسانیت کے لئے تمام ملکوں کے لئے اور سب زمانوں کے لئے ہے اور اس کے احکام ہر دور اور ہر ملک میں قابل عمل بھی ہیں لہٰذا یہ ہمیشہ کے لئے ہے اور کسی بھی امر میں کوئی بات ڈھکی…
Read the full tafseer →ف 1 ۔ پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت و احاطہ کا بیان تھا کہ انسان کے ظاہر اور پوشیدہ احوال کیا وہ تو دلوں کے خیالات تک سے واقف ہے۔ اس آیت میں اسی پر دلیل پیش کی ہے کہ ہر جاندار کو اللہ تعالیٰ کے ہاں سے روزی پہنچ رہی ہے۔ پھر اگر اللہ کا علم وسیع نہ ہوتا تو یہ روزی کا بندوبست کیسے ممکن تھا۔ (رازی) ۔ اصل میں رزق کے تمام خزانے تو اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے مگر کسب کی حد تک انسان وسائل ِ رزق کو کام میں لاسکتا ہے بلکہ اس کا مکلف ہے۔ لیکن ان اسباب کو موثر نہ سمجھے بلکہ اصل بھروسا اللہ تعالیٰ پر ہو۔ اسی کا نام توکل ہے۔ مقصد یہ کہ رزق کے حصول کے لئے اسباب و وسائل کو کام میں لانا تو کل…
Read the full tafseer →(11:6) دابۃ۔ الذب والذبیب (باب ضرب) کے معنی آہستہ چلنا اور رینگنا کے ہیں۔ یہ لفظ حشرات الارض کے متعلق زیادہ تر استعمال ہوتا ہے۔ یہ لفظ عرف میں خاص کر گھوڑے پر بولا جاتا ہے مگر لغۃ میں ہر حیوان ذی حیات چیز کے متعلق استعمال ہوتا ہے۔ دابۃ۔ ہر چلنے والا۔ پاؤں دھرنے والا۔ رینگنے والا جانور۔ اس کی جمع دوات اور مادہ دب ب ہے۔ دابۃ الارض۔ ایک غیر معروف قسم کا جانور جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ قیامت کے قریب خروج کرے گا اور نشان لگا کر ایمانداروں اور منکروں کو ایک دوسرے سے الگ کر دے گا۔ چناچہ قرآن حکیم میں ہے واذا وقع القول علیہم اخرجنا لہم دابۃ من الارض تکلمہم (27:82) اور جب ان کے بارے میں وعدہ (عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
لغات القرآن آیت نمبر 5 تا 6
ینوتن (وہ دہرا کرتے ہیں) صدور (صدر) سینے لیستخفو (تاکہ وہ چھپا سکیں ) یستغشون (وہ پہنتے ہیں) ثیاب (ثوب) کپڑے یسرون (وہ چھپاتے ہیں) یعلنون (وہ ظاہر کرتے ہیں) دابۃ (زمین پر رینگنے چلنے والا جان دار) مستقر (ٹھکانا) مستودع (سپرد کئے جانے کی جگہ)
تشریح :- آیت نمبر 5 تا 6
اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے جس کائنات کو پیدا کیا ہے وہ اس کے ذرے ذرے کا علم رکھتا ہے اس کی نظروں سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ اس کو مخلوقات کی حیثئیت کا بھی علم ہے اور ان کی ضرویرات سے بھی وہ بیخبر نہیں ہے۔ یہاں تک کہ انسانوں کے دلوں میں جن جذبات خائلات اور آرزؤں کی پر وشر ہوتی ہے وہ ان سے بھی…
Read the full tafseer →پیدائش عالم کا ذکر
حاصل مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جتنی مخلوق ہے خواہ خشکی کی رہنے والی، خواہ دریا کی سب کو خدا تعالیٰ روزی پہنچاتا ہے۔ اور خدا ہر ایک مخلوق کے قرار کی جگہ جانتا ہے کہ کہاں اس کی بودوباش ہے اور کس چیز سے اس کی پیدائش ہے، اور کہاں اور کس سرزمین میں اس کی موت ہے۔ اور یہ سب باتیں لوح محفوظ میں دنیا کی پیدائش کے پہلے سے موجود ہیں۔
Read the full tafseer →[3] یعنی لوح محفوظ میں۔
Read the full tafseer →رزق خدا کے ہاتھ میں ہے :
(ف 1) اگ لوگ اس حقیقت کو جان لیں کہ رزق کی کشائش اور دولت اللہ کے اختیار میں ہے تو بہت سے گناہوں سے بچ جائیں ، طمع اور بےجا حرص کی تمام آلودگیاں ، فتنہ و فساد کی بیشتر صورتیں اس فلسفہ سے نا آشنائی کا نتیجہ ہیں ، اللہ کا مائدہ فضل رحمت اس درجہ وسیع ہے کہ اس میں کافر و مومن کی کوئی تمیز نہیں وہ سب کو یکساں دیتا ہے ۔
اے کریمے کہ از خزانہ مغیب
گبر وتر سا وظیفہ خورداری :
بلکہ اس عموم کو اس درجہ وسعت ہے کہ ہر جاندار جو صفحہ ارض پر موجود اس کی رزاقیت سے بحرہ ور ہے ۔
چناں پہن خوان کرم گسترد
کہ سیمرغ درقاف روزی خورد :
ماں کے پیٹ میں دیتا ہے تاریکی اور ظلمتوں میں دیتا ہے بچپن…
Read the full tafseer →6 اور کوئی غذا کھانے والا ذی روح اور جاندار زمین پر چلنے پھرنے والا ایسا نہیں جس کی روزی اللہ تعالیٰ کے ذمہ پر نہ ہو اور وہی اس کے ٹھہرنے اور سپرد کئے جانے کی جگہ کو جانتا ہے ہر ایک چیز کتاب مبین میں لکھی ہوئی ہے یعنی لوح محفوظ میں موجود مرقوم ہے مستقر اور مستودع کے بہت سے معنی کئے گئے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جہاں ٹھہرنا ہے بہشت اور دوزخ جہاں سونپا جانا ہے اس کی قبر اور روزی اس کی سو دنیا میں 12 مستقر سے رحم مادر اور مستودع سے صلب پدر بھی مجاہد نے مراد لی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ف 5۔ یعنی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو باتیں کرتے ہیں تو اس ہیئت سے کرتے ہیں کہ کسی کو خبر نہ ہوجائے اور جس کو اعتقاد ہوگا کہ خدا کو ضرور خبر ہوتی ہے اور آپ کا صاحب وحی ہونا دلائل سے ثابت ہے پس وہ اخفاء کی یہ تدبیر کبھی نہ کرے گا پس یہ تدبیر کرنا گویا بدلالت حال اللہ سے پوشیدہ رہنے کی کوشش کرنا ہے۔
Read the full tafseer →زمین کا کوئی جانور ایسا نہیں جس کا مستقل ٹھکانا اور عارضی ٹھکاٹا وہ نہ جانتا ہو
10 ؎ دآبۃ کیا ہے ؟ ہر ذی روح حیوان پر دابہ کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ مستقرقرار پکڑنے کی جگہ ہے د ’ مستودع “ امانت رکھنے کی جگہ ۔ بغوی نے معالم میں لکھا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کے نزدیک ” مستقر “ سے مراد رحم مادر اور ” مستودع “ سے مراد مرنے کا مقام ۔ عطاء کا قول ہے ” مستقر “ رحم مادر اور ’ ’ مستودع “ پست پدر ہے۔ سعید بن جبیر ؓ ، علی بن ابی طلحہ ؓ اور عکرمہ ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ کا یہی قول نقل کیا ہے لیکن ابن مقسم ؓ نے کہا کہ ابن عباس ؓ کے نزدیک ” مستقر “ سے مراد شب و روز رہنے کی جگہ اور ” مستودع “ سے مراد قبر ہے…
Read the full tafseer →Commentary
Mentioned in the previous verse was the all-encompassing knowledge of Allah Ta` ala from whom nothing is hidden, nothing from the tiniest particle of the universe down to the secrets of the hearts. It is in consonance with it that the first verse (6) mentions a great favor be-stowed on human beings - that Allah Ta` ala has Himself taken the responsibility of providing their sustenance. Then, this is not restricted to human beings alone. It extends to every living form that walks over the earth. Its sustenance reaches it where it lives or goes to. That being the state of affairs,…
Read the full tafseer →6. God is, on the one hand, All-Knowing. He knows exactly where each of His creatures is, be it the nest of a small bird or the hole of a tiny worm. On the other hand, God provides sustenance to all, and provides for them wherever they might be. He is aware at all times of where His creatures spend their lives and where they will breathe their last. It would be sheer stupidity if someone were to think that by resorting to methods such as covering one's face, or closing one's eyes one would be able to escape God's punishment. Even if someone succeeds in eluding the Prophet's observation it is…
Read the full tafseer →