اندھیروں کی چادروں میں موجود ہر چیز کو دیکھتا ہے
آسمان کی طرف اپنی شرم گاہ کا رخ کرنا وہ مکروہ جانتے تھے۔ ابن عباس ؓ کی قرآت میں تثنونی ہے۔ مجامعت کے وقت اور تنہائی میں وہ عریانی سے حجاب کرتے تھے کہ پاخانہ کے وقت آسمان تلے ننگے ہوں یا مجامعت اس حالت میں کریں۔ وہ اپنے سروں کو ڈھاپ لیتے اور یہ بھی مراد ہے کہ وہ اللہ کے بارے میں شک کرتے تھے اور کام برائی کے کرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ برے کام یا برے عمل کے وقت وہ جھک جھک کر اپنے سینے دوہرے کر ڈالتے گویا کہ وہ اللہ سے شرما رہے ہیں۔ اور اس سے چھپ رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ راتوں کو کپڑے اوڑھے ہوئے بھی جو تم کرتے ہو اس سے بھی اللہ تو خبردار ہے۔…
Read the full tafseer →سورة هُوْد 5
مکے میں جب نبی ﷺ کی دعوت کا چرچا ہوا تو بہت سے لوگ وہاں ایسے تھے جو مخالفت میں تو کچھ بہت زیادہ سرگرم نہ تھے مگر آپ ﷺ کی دعوت سے سخت بیزار تھے۔ ان لوگوں کا رویہ یہ تھا کہ آپ ﷺ سے کتراتے تھے، آپ ﷺ کسی بات کو سننے کے لیے تیار نہ تھے، کہیں آپ ﷺ کو بیٹھے دیکھتے تو الٹے پاؤں پھرجاتے، دور سے آپ کو آتے دیکھ لیتے تو رخ بدل دیتے یا کپڑے کی اوٹ میں منہ چھپا لیتے، تاکہ آمنا سامنا نہ ہوجائے اور آپ ﷺ انہیں مخاطب کر کے کچھ اپنی باتیں نہ کہنے لگیں۔ اسی قسم کے لوگوں کی طرف یہاں اشارہ کیا ہے کہ یہ لوگ حق کا سامنا کرنے سے گھبراتے ہیں اور شطر مرغ کی طرح منہ چھپا کر سمجھتے ہیں کہ وہ حقیقت ہی غائب…
Read the full tafseer →چھٹی آیت میں منافقین کے ایک گمان بد اور خیال فاسد کی تردید ہے کہ یہ لوگ اپنی عداوت اور رسول کریم ﷺ کی مخالفت کو اپنے نزدیک خوب چھپانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے سینوں میں جو حسد و بغض کی آگ بھری ہوئی ہے اس پر ہر طرح کے پردے ڈالتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ اس طرح ہمارا اصل حال کسی کو معلوم نہ ہوگا، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ کپڑوں کی تہ میں پردوں کے پیچھے جو کچھ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ پر سب کچھ روشن ہے اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ ، کیونکہ وہ تو دلوں کے پوشیدہ اسرار کو بھی خوب جانتے ہیں۔
Read the full tafseer →اَلَآ اِنَّھُمْ يَثْنُوْنَ صُدُوْرَھُمْ لِيَسْتَخْفُوْا مِنْهُ ۭ اَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُوْنَ ثِيَابَھُمْ ۙ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ ۚ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
متکبرین کے تکبر کی تصویر : " ثنی " کے معنی پھیرنے، موڑنے اور لپیٹنے کے ہیں۔ قاعدہ ہے کہ آدمی جب کسی بات کو غرور اور نفرت کے سبب سے سننا نہیں چاہتا تو مونڈھے جھٹک کر اور سینہ موڑ کر وہاں سے چل دیتا ہے۔ اسی حالت کو سورة حج آیت 9 میں " ثانی عطفہ " سے تعبیر فرمایا ہے اور یہاں يَثْنُوْنَ صُدُوْرَھُمْ سے۔ اسی چیز کی ایک شکل یہ بھی ہوتی ہے کہ آدمی اپنی چادر سنبھالتا اور اپنے اوپر لپیٹتا اور چل دیتا ہے اس کو "…
Read the full tafseer →5۔ 1 اس کی شان نزول میں مفسرین کا اختلاف ہے، اس لئے اس کے مفہوم میں بھی اختلاف ہے۔ تاہم صحیح بخاری (تفسیر سورت ہود) میں بیان کردہ شان نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو غلبہ حیا کی وجہ سے قضائے حاجت اور بیوی سے ہم بستری کے وقت برہنہ ہونا پسند نہیں کرتے تھے کہ اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے، اس لئے ایسے موقع پر وہ شرم گاہ کو چھپانے کے لئے اپنے سینوں کو دوہرا کرلیتے تھے۔ اللہ نے فرمایا کہ رات کے اندھیرے میں جب وہ بستروں میں اپنے آپ کو کپڑوں میں ڈھانپ لیتے تھے، تو اس وقت بھی وہ ان کو دیکھتا اور ان کی چھپی اور اعلانیہ باتوں کو جانتا ہے۔ مطلب یہ کہ شرم و حیا کا جذبہ اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
4: بہت سے مشرک لوگ آنحضرت ﷺ کا سامنا کرنے سے اپنے آپ کو بچاتے تھے ؛ تاکہ آپ کی کوئی بات ان کے کان میں نہ پڑے، چنانچہ کبھی آنحضرت ﷺ نظر آتے تو وہ اپنے سینوں کو دہرا کرکے اور اپنے اوپر کپڑے لپیٹ کر وہاں سے کھسک جاتے تھے، اسی طرح بعض احمق کوئی گناہ کا کام کرتے تو اس وقت بھی اپنے آپ کو چھپانے کے لئے دہرے ہوجاتے، اور اپنے اوپر کپڑے لپیٹ لیتے، اور اس طرح یہ سمجھتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے چھپ گئے، یہ آیت ان دونوں قسم کے لوگوں کی طرف اشارہ کررہی ہے۔
Read the full tafseer →اس اعلان کے بعد کہ یہ کتاب ایک فرمان الہی ہے جس کی آیتیں پختہ اور مفصل ہیں۔ اور ایک دانا اور باخبر خدا کی طرف سے ہیں۔ یہ بتایا جتا ہے کہ اس حقیقت کے باوجود جب ڈرانے والے اور بشارت دینے والے نبی ان کو سناتے ہیں تو ان آیات کے حوالے سے بعض لوگوں کا رد عمل کس قدر غلط ہے۔ قرآن کریم ان کے رد عمل اور ان کی جسمانی حرکت کو یکجا کرکے پیش کرتا ہے کہ یہ لوگ سر جھکا لیتے ہیں اور اپنے سینوں کو ایک طرف موڑ لیتے ہیں تاکہ چھپ جائیں اور پہلو تہی کر جائیں۔ کیا خدا سے یہ چھپ سکتے ہیں۔ ان کی یہ کوشش کس قدر عبث ہے۔ خدا تو اس وقت بھی سب کچھ جانتا ہے جب یہ بزعم خود کپڑے اوڑھ کر چھپے ہوتے ہیں بلکہ اللہ تو اس کرہ ارض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
9 سزا دینے کے لیے ضروری ہے کہ مجرم حاضر ہو، حاکم سزا دینے کی پوری قدرت اور کامل اختیار رکھتا ہو۔ مجرمین کی کل کارروائیاں اس کے علم میں ہوں۔ " الی مرجعکم " میں بتلا دیا کہ مجرم وغیر مجرم سب کو خدا کے یہاں حاضر ہونا ہے۔ " وہو علٰی کل شیءٍ قدیر " میں قدرت واختیار کا عموم بیان فرمایا اور (اَلَآ اِنَّھُمْ يَثْنُوْنَ صُدُوْرَھُمْ ) 11 ۔ ہود :5) سے " بِذَات الصُّدُوْرِ " تک اس کے علم محیط کی وسعت کو ظاہر کیا کہ خدا ہر کھلی چھپی چیز کو یکساں جانتا ہے حتیٰ کہ دلوں کی تہ میں جو خیالات، ارادے اور نیتیں پوشیدہ ہوتی ہیں ان پر بھی مطلع ہے۔ پھر کوئی مجرم اپنے جرم کو کس طرح اس سے مخفی رکھ کر نجات پاسکتا ہے۔…
Read the full tafseer →آیت 5 اَلاآ اِنَّہُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَہُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْہُ
یہ مقام مشکلات القرآن میں سے ہے اور اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں۔ ثَنٰی یَثْنِیْ کے معنی پھیرنے ‘ موڑنے اور لپیٹنے کے ہیں۔ مکہ میں رسول اللہ کی دعوت کے مخالفین میں سے کچھ لوگوں کا رویہ ایسا تھا کہ آپ کو آتے دیکھتے تو رخ بدل لیتے یا کپڑے کی اوٹ میں منہ چھپالیتے ‘ تاکہ کہیں آمنا سامنا نہ ہوجائے اور آپ انہیں مخاطب کر کے کچھ اپنی باتیں نہ کہنے لگیں۔ یہاں ایسے لوگوں کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ حق کا سامنا اور حقیقت کا مواجہہ کرنے سے گھبراتے ہیں ‘ حالانکہ کسی کے گریز کرنے سے حقیقت غائب نہیں ہوجاتی۔ شتر مرغ طوفان کے دوران اگر ریت…
Read the full tafseer →7 اس آیت کا مقصد تو اللہ تعالیٰ کے علم محیط کی وسعت کو بیان کرنا ہے کہ کھلی اور چھپی چیزیں تو کجا وہ تو دلوں کے ارادوں تک سے واقف ہے مگر اس آیت کے ابتدائی جملہ کی تفسیر میں مفسرین نے بہت اختلاف کیا ہے ان میں سے ہم صرف سیدنا ابن عباس ؓ کی بخاری میں مذکور روایت پر اعتماد کرتے ہیں جو درج ذیل ہے :
محمد بن عبید بن جعفر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ یہ آیت کس باب میں اتری ہے تو انہوں نے کہا : کچھ لوگ رفع حاجت کے وقت یا اپنی بیویوں سے صحبت کرتے وقت آسمان کی طرف ستر کھولنے سے (پروردگار سے) شرماتے اور شرم کے مارے جھکے جاتے تھے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ (بخاری، کتاب التفسیر)
یعنی اگر تمہیں…
Read the full tafseer →6۔ منافق اور کافر اللہ کی اس صفت عالم الغیبی کو برابر بھولے رہتے ہیں، ورنہ ان کی ہمت بھی سازشوں کی نہ پڑے۔ قرآن بار بار اسی کا استحضار چاہتا ہے۔ (آیت) ” انھم۔۔۔ منہ “۔ رسول اللہ ﷺ کو بھی ہر مزاج وطبیعت اور ہر ذہنیت کے مخالفین سے سابقہ پڑا تھا۔ ایک گروہ ان ” عقلمندوں “ میں ایسا بھی تھا کہ جب یہ لوگ آپس میں چپکے چپکے اسلام اور رسول اسلام کے خلاف سازشیں کرتے سو ان سرگوشیوں کے وقت افراط سعی اخفاء میں اس اس طرح سمٹ سمٹ کر رہتے کہ گویا اپنے سینوں کو دہرا کئے ڈالتے ہیں۔ اور کپڑا اپنے اوپر الگ ڈالتے چلے جاتے ! قرآن مجید نے ان کی اسی ہیئت کذائی کو بےنقاب کردیا اور ان پر گرفت یہ کی کہ کیا تمہاری یہ راز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
آیت نمبر 1 تا 5
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان بڑا رحم والا ہے الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ ایسی کتاب ہے کہ اس کی آیات عجیب نظم اور انوکھے معانی کے ذریعہ محکم کی گئی ہیں، پھر حکیم باخبر یعنی اللہ کی طرف سے احکام اور واقعات اور نصائح کے اعتبار سے صاف صاف بیان کی گئی ہیں، یہ کہ اللہ کے سوا کسی کو بندگی نہ کرو میں اس کی طرف سے تم کو عذاب سے ڈرانے والا ہوں اگر تم کفر کرو گے اور ثواب کی خوشخبری دینے والا ہوں اگر تم ایمان لاو گے اور یہ کہ تم اپنے رب سے شرک سے مغفرت طلب کرو پھر طاعت ل کے ذریعہ اس کی طرف رجوع کرو وہ دنیا میں تم کو معینہ مدت تک اچھا سامان…
Read the full tafseer →الا انھم یثنون صدورھم لیستخفوا منہ یاد رکھو ! وہ لوگ دوہرا کردیتے ہیں اپنے سینوں کو (اور اوپر سے کپڑا لپیٹ لیتے ہیں) تاکہ اپنی باتیں اللہ سے چھپا سکیں۔
بخاری نے حضرت ابن عباس کی روایت سے لکھا ہے کہ کچھ لوگ یعنی کچھ مسلمان خلوت میں بھی برہنہ ہونے اور کھلی جگہ میں عورتوں سے صنفی قربت کرنے سے شرماتے تھے ‘ ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے بھی بواسطہ محمد بن عباد بن جعفر ‘ حضرت ابن عباس کا یہ قول نقل کیا ہے۔
ابن ابی شیبہ ‘ ابن جریر اور ابن المنذر نے باسناد ابن ابی ملیکہ لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے آیت : اِلاآ اِنَّھُمْ یَثْنُوْنَ…
Read the full tafseer →(5) یاد رکھو کہ اخنس بن شریق اور اس کے ساتھی اپنے دلوں میں رسول اکرم ﷺ کی دشمنی اور آپ سے بغض چھپائے رکھتے ہیں تاکہ رسول اکرم ﷺ کے پاس اٹھنے بیٹھنے میں اور آپ سے اظہار محبت کرکے آپ سے بغض اور دشمنی کو پوشیدہ رکھیں یاد رکھو جس وقت وہ اپنے سینوں کو اپنے کپڑوں میں چھپاتے ہیں اور جو کچھ ان کے دلوں میں بغض و عداوت ہے وہ اس کو بھی جانتا ہے اور جو کچھ وہ قتال اور سختی وغیرہ کے ساتھ یا یہ کہ آپ سے اظہار محبت اور اٹھنے بیٹھنے میں ظاہر کرتے ہیں وہ بھی جانتا ہے اور جو کچھ وہ قتال اور سختی وغیرہ کے ساتھ یا یہ کہ آپ سے اظہار محبت اور اٹھنے بیٹھنے میں ظاہر کرتے ہیں وہ بھی جانتا ہے اور جو کچھ دلوں میں نیکی…
Read the full tafseer →اَلَآ اِنَّھُمْ يَثْنُوْنَ صُدُوْرَھُمْ۔۔ : ”یَثْنُوْنَ“ ”ثَنَی یَثْنِیْ“ (ض) سے فعل مضارع جمع مذکر غائب ہے۔ اس کا معنی ہے دوہرا کرنا، موڑنا۔ دوسرے عدد کو ثانی اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ واحد کو دو بنا دیتا ہے۔ ”لِيَسْتَخْفُوْا مِنْهُ“ ”اِخْتَفَی یَخْتَفِیْ“ کا معنی چھپنا اور استفعال کی سین اور تاء کے اضافے سے معنی میں اضافہ ہوگیا۔ اسی طرح ”یَسْتَغْشُوْنَ“ میں بھی سین اور تاء کے اضافے نے معنی میں اضافہ کردیا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے متعلق مشرکین کے جہل اور لاعلمی کی انتہا بیان ہوئی ہے، جیسا کہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے ان کا حال بیان فرمایا : (وَمَا كُنْتُمْ تَسْـتَتِرُوْنَ اَنْ يَّشْهَدَ…
Read the full tafseer →آیات نمبر 5
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : الآانھم یثنون صدورھم لیستخفوامنہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور مومنین کے ساتھ مشرکین کے رویے کی خبر دی اور وہ (مشرکین) یہ گمان کرتے کہ ان کے حالات اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ ہیں یثنون صدورھم سے مراد یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کی عداوت و دشمنی کے جذبات کو لپیٹتے (یعنی چھپاتے) ہیں اس میں علی عداوۃ المسلمین کے الفاظ حذف ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا کہ وہ اپنے سینوں میں موجود بغض اور دشمنی کو چھپاتے ہیں اور اس کے برعکس ظاہر کرتے ہیں۔ یہ اخنس بن شریق کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ ایک شیریں لسان اور شیریں کلام آدمی تھا نبی کریم ﷺ کو پسندیدہ طریقے سے ملتا اور آپ کے لیے اپنے دل میں…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ دل میں چھپی باتوں کو بھی جانتا ہے :
1:۔ البخاری وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے محمد بن عباد بن جعفر کے راستے سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” الا انہم یثنون صدورہم “ اور فرمایا لوگ اس بات سے حیا کرتے تھے کہ وہ خلوت اختیار کریں تو اس راز کو آسمان تک ظاہر کردیں۔ اور اپنی عورتوں سے جماع کرتے ہیں حیا محسوس کرتے تھے (اور اس رات کو آسمان تک پہنچا دیں تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔
2:۔ بخاری وابن مردویہ رحمہما اللہ نے عمر و (رح) کے راستے سے عمر و بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے یوں پڑھا (آیت) ” الا انہم یثنون صدورہم “…
Read the full tafseer →اَلَآ [ سن لو ] اِنَّھُمْ [ بیشک وہ لوگ ] يَثْنُوْنَ [ دوہرا کرتے ہیں ] صُدُوْرَھُمْ [ اپنے سینوں کو ] لِيَسْتَخْفُوْا [ تاکہ وہ چھپ جائیں ] مِنْهُ ۭ [ اس سے ] اَلَا [ سن لو ] حِيْنَ [ جس وقت ] يَسْتَغْشُوْنَ [وہ چھپنا چاہتے ہیں ] ثِيَابَھُمْ ۙ [ اپنے کپڑوں (کے ذریعہ ) سے ] يَعْلَمُ [ تو وہ تو جانتا ہے ] مَا [ اس کو جو ] يُسِرُّوْنَ [ وہ لوگ چھپاتے ہیں ] وَمَا [ اور اس کو جو ] يُعْلِنُوْنَ ۚ [ اعلانیہ کرتے ہیں ] اِنَّهٗ [ بیشک وہ ] عَلِيْمٌۢ [ وہ جاننے والا ہے ] بِذَاتِ الصُّدُوْرِ [ سینوں والی (بات) کو ]
Read the full tafseer →اَلَا اِنَّھُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَھُمْ کا سبب نزول :
پھر فرمایا (اَلَا اِنَّھُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَھُمْ ) (الایۃ) اس آیت کا سبب نزول بتاتے ہوئے معالم التنزیل (ص 373 ج 2) میں عبد اللہ بن شداد سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت ایک منافق کے بارے میں نازل ہوئی جس کا طریقہ یہ تھا کہ جب وہ رسول اللہ ﷺ کے قریب سے گزرتا تھا تو اپنا سینہ پھیر کر اور کمر کو خم دے کر اور سر کو جھکا کر اور چہرہ کو ڈھک کرجاتا تھا تاکہ آنحضرت ﷺ اسے نہ دیکھ سکیں۔ اور حضرت قتادہ (رح) نے فرمایا کہ منافقین اپنے سینوں کو پھیر کر بیٹھتے تھے تاکہ اللہ کی کتاب نہ سن پائیں اور اللہ کا ذکر ان کے کانوں میں نہ آجائے اور بعض حضرات سے یوں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سورة ھود
اثبات حقانیت قرآن و توحید ورسالت وتذکیر آخرت
الرا۔ کتب احکمت ایتہ۔۔ الی۔۔ انہ علیم بذات الصدور
(ربط): اول قرآن حکیم کا منزل من اللہ ہونا بیان کیا کہ اس کتاب کے نزل کرنے سے مقصود یہ ہے کہ تم ایک اللہ کی عبادت کرو پھر آں حضرت ﷺ کا مرسل من اللہ وہنا بیان کیا کہ آپ کو بشارت اور آخرت اور قیامت کو یاد دلایا جس دن بندوں کو ان کے اعمال کی جزا وسزا ملے گی۔ تاکہ پہلے سے تیاری کرلیں۔ اور چونکہ جزا وسزا کے لیے علم کامل اور قدرت کاملہ کا ہونا ضروری ہے کہ حاکم کو مجرم کے جرم کا علم ہو اور اس کے سزا دینے پر اس کو قدرت اور اختیار بھی ہو اس لیے الی اللہ مرجعکم کے بعد وھو علی کل شیئ قدیر۔ سے اپنی قدرت…
Read the full tafseer →8: دوسرا دعویٰ :۔ اللہ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں۔ یہ سورت کا دسرا دعوی ہے جو پہلے دعوے کے لیے بمنزلہ علت ہے یعنی چونکہ سب کچھ جاننے والا اور ساری کائنات کا خالق ومالک اور سب کا رازق صر اللہ تعالیٰ ہی ہے اس لیے حاجات و مشکلات میں غائبانہ صرف اسی کو پکارو۔ مشرکین جب آیات قرآنیہ اور دلائل توحید سنتے تو ان پر ان کا کوئی اثر نہ ہوتا اور ان کے سینوں میں وہی کفر و شرک کی نجاست باقی رہتی ان میں سے کچھ بطور نفاق ایمان کو ظاہر کردیتے اور ان کے دل کفر و شرک اور عداوت اسلام سے لبریز ہوتے اور ان کا خیال تھا کہ عداوت تو ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے بھلا اسے کون معلوم کرسکتا ہے، نیز ان کا گمان تھا کہ جب وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ربط آیات
سورۃ کی پہلی آیت کریمہ میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کے بعد سورة کے مرکزی مضمون توحید کا بیان ہوا ” الاتعبدوا الا اللہ “ اس کے بعد رسالت کا تذکرہ ہوا اور نبی (علیہ السلام) کی زبان سے کہلوایا گیا کہ میں نذیر اور بشیر ہوں۔ پھر دوسری اہم بات یہ ذکر کی انسانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتے رہیں اور اسی کی طرف رجوع کریں جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ انہیں اطاعت اور خوشنودی والی بہتر زندگی عطا کریگا۔ اگر انسان اللہ تعالیٰ کے احکام سے اعراض کریں گے تو بڑے دن یعنی قیامت کے عذاب میں مبتلا ہوں گے خدا تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے لہٰذا منکرین خدا کے عذاب…
Read the full tafseer →اَلَآ اِنَّھُمْ يَثْنُوْنَ صُدُوْرَھُمْ لِيَسْتَخْفُوْا مِنْہُ 0 ۭ اَلَاحِيْنَ يَسْتَغْشُوْنَ ثِيَابَھُمْ 0 ۙ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ 0 ۚ اِنَّہٗ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ 5
«أَلَا»«إِلَّا»هؤلاء
«أَلَا» للاستفتاح، و «إِلَّا» للاستثناء، وأُولَاءِ في قوله تعالی: ها أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ [ آل عمران/ 119] وقوله : أولئك : اسم مبهم موضوع للإشارة إلى جمع المذکر والمؤنث، ولا واحد له من لفظه، وقد يقصر نحو قول الأعشی: هؤلا ثم هؤلا کلّا أع طيت نوالا محذوّة بمثال
الا) الا یہ حرف استفتاح ہے ( یعنی کلام کے ابتداء میں تنبیہ کے لئے آتا ہے ) ( الا) الا یہ حرف استثناء ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
1 ؎ ثینون اس کی ماضی ثنا۔ اس کے معنی پھیرنا یا موڑنا یا لپیٹنا یقال ثنیت الشیء اذا عطفۃ وطویۃ منہ۔
Read the full tafseer →اَلآَ اِنَّہُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَہُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْہُط اَلاَحِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَہُمْ لَا یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَمَا یُعْلِنُوْنَج اِنَّہٗ عَلِیْمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۔ (سورۃ ہود : 5)
(سنو ! وہ اپنے سینے موڑتے ہیں تاکہ اس سے چھپ جائیں۔ آگاہ رہو جس وقت وہ خوب اوڑھ لیتے ہیں اپنے کپڑے تو اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔ وہ تو سینوں کے بھیدوں سے اچھی طرح باخبر ہے۔ )
یثنون اور یستغشون کا مفہوم اور مراد
یَثْنُوْنَ ۔ ثَنْیٌسے ہے۔ ثَنْیٌکا معنی ہے پھیرنا، موڑنا، طے کرنا، دہرا کرنا اور لپیٹنا۔ جب کسی شخص کے تکبر اور انکار پر مبنی رویے کی منظر کشی کی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے حضور توبہ و استغفار کرنے کی بجائے منکرین کا رویہ۔
منکرین حق نہ صرف انبیاء کی دعوت کا انکار کرتے بلکہ ہر اعتبار سے انبیاء کو اذیت پہنچانے اور انہیں زچ کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کا انبیاء ( علیہ السلام) کو اذیت دینے کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ جب وقت کا پیغمبر انہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے، شرک سے بچنے اور گناہوں کی معافی مانگنے کے لیے کہتا تو وہ لوگ وقت کے پیغمبر کا مذاق اڑانے کے ساتھ یہ بھی کرتے کہ جوں ہی پیغمبر کو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھتے یا کہیں ملاقات ہوجاتی تو اپنے چہروں کو ڈھانپ لیا کرتے تھے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بارے میں کفار…
Read the full tafseer →نفاق و انحراف کو اللہ جانتے ہیں :
5: اَلَآ اِنَّھُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَھُمْ (خبردار وہ اپنے سینوں کو دھرا کرتے ہیں) حق سے مڑتے اور منحرف ہوتے ہیں۔ کیونکہ جو آدمی کسی شئی کی طرف متوجہ ہو تو وہ سینے سے اس چیز کا سامنا کرتا ہے اور جو کسی چیز سے مڑتا ہے تو اپنے سینے کو اس چیز کی طرف کرنے سے پھیر لیتا ہے اور اعراض کرتا ہے۔ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْہُ (تاکہ وہ اس سے چھپ سکیں) تاکہ وہ اللہ تعالیٰ سے چھپ جائیں اللہ کے رسول اور مومنوں کو اسکی اطلاع نہ ہو کہ وہ منحرف ہوگئے ہیں۔
اَ لَاحِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَھُمْ (خبردار ! جبکہ وہ اپنے کپڑوں کو اپنے اوپر لپیٹتے ہیں) ان کپڑوں سے اپنے آپ کو ڈھانپ لیتے…
Read the full tafseer →آیت کا شان نزول
5۔” الا انھم یثنون صدور ھم “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اخنس بن شریق کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ شخص شیریں کلام والا اچھی صور ت والا تھا۔ نبی کریم ﷺ کو اچھے طریقے سے ملتا اور دل میں نا پسندیدگی ہوئی ۔ ” یثنون صدورھم “ یعنی دل میں جو بغض اور عداوت ہے اس کو مخفی رکھتے ہیں ۔ عبد اللہ بن شداد (رح) فرماتے ہیں کہ آیت ایک منافق کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ ان کے پاس سے گزرتے تو اپنے سینے کو جھکا لیتا ، سر نیچے کرلیتا اور چہر ہ ڈھانپ لیتا تا کہ آپ (علیہ السلام) اس کو نہ دیکھ سکیں اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ وہ اپنے سینوں کو موڑتے تھے تا کہ اللہ کی کتاب اور اس کا…
Read the full tafseer →5۔ اس آیت کی شان نزول کئی طرح سے بیان کی گئی ہے ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ لوگ آسمان کی طرف منہ کرنا اس حالت میں کہ ان کے شرمگاہ کھلے ہوں مگر وہ جانتے تھے اس پر یہ آیت اتری 1 ؎ بخاری نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے یوں روایت کی ہے کہ مرد اپنی عورت سے صحبت کرتا تھا تو آسمانوں کو نہیں دیکھتا تھا۔ اپنا منہ ڈہانک لیتا تھا اس کے حق میں یہ آیت آئی۔ 2 ؎ مجاہد کہتے ہیں کہ جب مشرک لوگ کوئی بری بات کرتے یا کوئی بد عمل کرتے تو کبڑے ہو کر کرتے اور یہ گمان کرتے تھے کہ ہم اس کو خدا سے پوشیدہ رکھتے ہیں اس پر اللہ نے فرمایا کہ جب یہ رات کو اندھیرے میں سو جاتے ہیں اور کپڑوں میں لپٹے ہوئے ہوتے ہیں اس وقت بھی خدا…
Read the full tafseer →آیت : (5)
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی جہالت اور ان کی گمراہی کی شدت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے : (یثنون صدور ھم) ” وہ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں “ (لیستخفوا منہ) ” تاکہ اس (اللہ) سے پردہ کریں۔ “ یعنی ‘ تاکہ اللہ تعالیٰ سے چھپائیں۔ پس ان کے سینے اللہ کے علم کے لئے رکاوٹ بن جائیں ‘ تاکہ وہ ان کے احوال کو جان نہ سکے اور اس کی نگاہ کے لئے بھی ‘ تاکہ وہ ان کے حالات کو دیکھ نہ سکے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے اس ظن باطل کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے (الاحین یستغشون ثیابھم) ” سن لو جس وقت اوڑھتے ہیں وہ اپنے کپڑے یعنی جب وہ اپنے آپ کو کپڑوں سے ڈھانک لیتے ہیں اللہ تعالیٰ اس حال میں بھی ان کو خوب جانتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
13 ۔ منکرین کے اعراض و استکبار کی تصویر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ پھیرتے ہیں اپنے سینوں کو تاکہ یہ چھپ سکیں اس سے۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے۔ تاکہ اس طرح یہ بچ سکیں اس کی گرفت و پکڑ سے یا (مِنہ) کی اس ضمیر کا مرجع رسول ہیں۔ ﷺ یعنی تاکہ یہ لوگ اللہ کے رسول سے چھپ سکیں۔ تاکہ اس طرح نہ یہ ان کی صورت کو دیکھ سکیں اور نہ ان کی آواز حق کو سن سکیں۔ سو (منہ) کی ضمیر کے مرجع میں یہ دونوں احتمال موجود ہیں۔ (الجامع، المنار، المعارف وغیرہ) اور اس طرح یہ بدنصیب لوگ اپنی حرمان نصیبی کا سامان خود کر رہے ہیں۔ اور یہی نتیجہ ہوتا ہے ضد وعناد اور ہٹ دھرمی کا۔ اور اس طرح یہ لوگ نور حق و ہدایت سے اور محروم ہوتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
اللہ دلوں کے بھید جانتا ہے
تشریح : پچھلی آیت کے آخر میں نبی اکرم ﷺ نے آخرت کا ذکر کیا کہ میں حساب کتاب کے دن سے بہت ڈرتا ہوں کیونکہ اس دن بروں کو دوزخ کی سزا ضرور ملے گی اور اچھوں کو جنت ملے گی تو ان آیات میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کی عظمت، قدرت اور علم کا ذکر کیا گیا ہے کہ جو لوگ یہ سوچتے ہیں کہ چھپ کر گناہ یا بد کرداری کریں گے مگر اللہ کو معلوم نہ ہو سکے گا۔ یہ بڑی غلط اور فضول سوچ ہے کیونکہ اس کے علم میں تو دنیا کا ذرہ ذرہ ہے اور اسی طرح وہ تو دل کے اندر چھپے ہوئے بھید، نیت اور ارادہ سب کچھ سے واقف ہے۔ جب یہ پکا یقین ہوجائے جو کہ ہونا چاہیے تو پھر انسان بہت سی برائیوں سے بچ سکتا ہے۔ یہ یقین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیات 1 تا 8
اسرار و معارف
الر حروف مقطعات ہیں جن کا علم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ہے یا جیسے رب چاہے سمجھ عطاکردے مگر تلاوت سب کے لئے ہے اور فائدہ بھی سب کو پہنچتا ہے۔
یہ ایسی بےمثال کتاب ہے کہ اس کی آیات محکم یعنی ناقابل تبدیل ہیں اگرچہ پہلے بھی آسمانی کتب نازل ہوتی رہیں مگر ان کی آیات اور احکام خاص قوموں یا ملکوں کے لئے اور خاص زمانوں کے لئے تھے جو بعد میں نزول قرآن سے بھی کلی طور پر منسوخ ہوگئے مگر یہ کتاب بیک وقت ساری انسانیت کے لئے تمام ملکوں کے لئے اور سب زمانوں کے لئے ہے اور اس کے احکام ہر دور اور ہر ملک میں قابل عمل بھی ہیں لہٰذا یہ ہمیشہ کے لئے ہے اور کسی بھی امر میں کوئی بات ڈھکی…
Read the full tafseer →ف 12 ۔ اوپر فرمایا کہ اگر اعراض کرو گے تو بڑے دن کے عذاب میں گرفتار ہوجائو گے۔ اب یہاں بتایا کہ باطنی اعراض بھی ظاہری اعراض کی طرح ہے (کبیر) ۔ سینے کو لپیٹینا ایک محاورہ ہے جس سے مراد ہے اعراض کرنا، یا غلط سوچنا، بےاصل شبہات سے اپنے دل کو تسلی دینا عقائد حقہ سے اعراض کرنا وغیرہ کیونکہ یہاں صدور سے مراد علوم صدر ہیں۔ (فتح الرحمن) ۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے سینوں میں جو کفر وعناد رکھتے ہیں اور اسے چھپا کر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ان کے راز ہائے بستہ کی اطلاع نہ ہونے پائے۔ (شوکانی) ۔
13 ۔ یعنی جب اپنا سارا بدن چھپا کر اپنے دروازے بند کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ اب ہمارے اصل حال…
Read the full tafseer →(11:5) یثنون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ ثنی یثنی (باب ضرب) ثنیی ۔۔ الشیٔ۔ موڑنا۔ لپٹنا۔ تہ کرنا۔ ثنی صدرہ۔ اس نے اپنے دل میں دشمنی چھپائے رکھی جب اس کا صلہ عن ہو تو بمعنی موڑنا۔ پھیرنا۔ روکنا ہوتا ہے۔ اور جب اس کا صلہ علی ہو تو اس کا معنی ہوتا ہے کسی چیز کو کسی چیز پر لپیٹنا تاکہ وہ چھپ جائے۔ یثنون۔ وہ دوہرا کئے دیتے ہیں (اپنے کفر و عداوت کو چھپانے کے لئے) ۔
لیسخفوا۔ مضارع جمع مذکر غائب استخفاء (استفعال) سے ۔ کہ وہ آڑ کرلیں ۔ پردہ کرلیں۔ چھپالیں۔ اصل میں یستخفون تھا۔ لام تعلیل کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا۔
منہ۔ کی ضمیر کا مرجع اللہ ہے۔
یستغشون ثیابھم۔ مضارع جمع مذکر غائب ثیابھم ، مضاف مضاف الیہ مل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
لغات القرآن آیت نمبر 5 تا 6
ینوتن (وہ دہرا کرتے ہیں) صدور (صدر) سینے لیستخفو (تاکہ وہ چھپا سکیں ) یستغشون (وہ پہنتے ہیں) ثیاب (ثوب) کپڑے یسرون (وہ چھپاتے ہیں) یعلنون (وہ ظاہر کرتے ہیں) دابۃ (زمین پر رینگنے چلنے والا جان دار) مستقر (ٹھکانا) مستودع (سپرد کئے جانے کی جگہ)
تشریح :- آیت نمبر 5 تا 6
اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے جس کائنات کو پیدا کیا ہے وہ اس کے ذرے ذرے کا علم رکھتا ہے اس کی نظروں سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ اس کو مخلوقات کی حیثئیت کا بھی علم ہے اور ان کی ضرویرات سے بھی وہ بیخبر نہیں ہے۔ یہاں تک کہ انسانوں کے دلوں میں جن جذبات خائلات اور آرزؤں کی پر وشر ہوتی ہے وہ ان سے بھی…
Read the full tafseer →حضور ﷺ سے عداوت رکھنے کا ذکر
شان نزول : ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ آیت اخنس بن شریق کے حق میں نازل ہوئی۔ یہ بہت شیریں گفتار شخص تھا، رسول کریم ﷺ کے سامنے آتا تو بہت خوشامد کی باتییں کرتا اور دل میں بغض وعداوت رکھتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ اس بات سے واقف ہوجاؤ کہ کفار اپنے دل میں رسول اللہ ﷺ کی عداوت رکھتے ہیں اور خدا سے بھی پوشیدہ رکھنا چاہتے ہیں۔ خبردار ہو کہ جس وقت یہ بچھونے پر لیٹ کر اپنے کپڑے اوڑھتے ہیں اس وقت ان کا بدن اور دل ہماری طرف سے پوشیدہ نہیں۔ ہم ان کی چھپائی ہوئی بات اور ظاہر کی ہوئی بات دونوں جانتے ہیں۔ یعنی خدا کے علم میں دونوں یکساں ہیں۔ اس میں…
Read the full tafseer →[2] بعض منافقین کی عادت تھی کہ جب نبی ﷺ کا سامنا ہوتا تو سینہ اور پیٹھ جھکا لیتے اور سر نیچا کرلیتے تاکہ آپ انھیں دیکھ نہ پائیں۔
Read the full tafseer →(ف 2) بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ گناہوں کو اللہ سے چھپا سکتے ہیں ، اس آیت میں اس خیال کی تردید ہے وہ دل کے بھیدوں سے آگاہ ہے اس لئے اس سے کوئی چیز مخفی نہیں رہ سکتی ،
حل لغات :
یثنون صدورھم : اعراض سے کنایہ ہے یعنی منافقین کلام الہی کو عمدا نہیں سننا چاہتے ، حضور ﷺ کو دیکھ پاتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں کہ کہیں کلمہ حق کان تک نہ پہنچ جائے ۔
Read the full tafseer →5 خبردار رہو وہ لوگ اپنے سینوں کو جھکا کر دوہرا کرلیتے ہیں تاکہ اپنی باتوں کو خدا تعالیٰ سے چھپائیں یاد رکھو کہ وہ لوگ جس وقت دوھرے ہوکر اپنے کپڑے اپنے ا وپر اوڑھا کرتے ہیں اور اپنے کپڑے اپنے اوپر لپیٹ لیتے ہیں وہ اس وقت ان سب باتوں کو جانتا ہے جو چھپا کر کرتے ہیں اور جو علانیہ کرتے ہیں یقینا سینوں کی تمام پوشیدہ باتوں سے خوب واقف ہے یعنی منکرین دین حق کی یہ عادت رہی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف چھپ چھپ کر سازشیں کیا کرتے تھے اور جس قدر وہ چھپا کر باتیں کرتے تھے وہ سب وحی کے ذریعہ نبی کریم ﷺ پر ظاہر ہوجاتی تھیں یہ چھپا کر بات کرنے کی مختلف ہیتیں اختیار کرتے تھے انہی ہئیتوں میں ایک یہ ہیئت بھی ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ف 5۔ یعنی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو باتیں کرتے ہیں تو اس ہیئت سے کرتے ہیں کہ کسی کو خبر نہ ہوجائے اور جس کو اعتقاد ہوگا کہ خدا کو ضرور خبر ہوتی ہے اور آپ کا صاحب وحی ہونا دلائل سے ثابت ہے پس وہ اخفاء کی یہ تدبیر کبھی نہ کرے گا پس یہ تدبیر کرنا گویا بدلالت حال اللہ سے پوشیدہ رہنے کی کوشش کرنا ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں اس کیلئے کپڑے ڈالنے والا اور ننگا برابر ہیں
8 ؎ اس میں ایک طرح سے منافقین کو سمجھایا جا رہا ہے کہ تم لوگ اپنی عداوت اور رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کو اپنے نزدیک خوب چھپانے کی کوشش کرتے ہو تمہارے سینوں میں حسد و بغض کی آگ بھری ہوئی ہے اور تم اس پر پردہ ڈال کر یہ خیال کرتے ہو کہ ہمارا اصل حال کسی کو معلوم نہیں ہوگا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تم کپڑوں کی تہہ میں اور پردوں کی اوٹ میں جو کچھ کرتے ہو وہ اللہ سے تو مخفی نہیں اور پھر جب اللہ پر روشن ہے تو وہ اپنے رسول ﷺ کو جس جس بات سے چاہے گا واقف کر دے گا ۔ لہٰذا تمہارے اعمال کا ذرہ ذرہ اللہ کے سامنے ہے اس کے علم سے جب…
Read the full tafseer →The sixth verse carries a refutation of what the hypocrites and the disbelievers do. They try to camouflage their hostility, and their antagonistic activism against the Holy Prophet ﷺ as deftly as they could. Their hearts blaze with malice and enmity but they maintain a cool front, find all sorts of covers to hide their true identity and intention and surmise that no one would find out who they were really and what they were doing actually. But, the truth of the matter is that Allah Ta` ala knows it all, that which they let come out in the open and that which they conceal behind all sorts of…
Read the full tafseer →5. When the Prophet's mission became the talk of the day in Makka, some people showed considerable aversion to it, even if they did not actively oppose it. These people were unwilling to listen to the Prophet (peace be on him) and made a point of avoiding him. If they saw him somewhere they would turn their faces away or try to hide themselves. Such people made every effort to avoid any encounter with the Prophet (peace be on him) lest he might invite them to accept his teaching.
The present verse refers precisely to such people; they are portrayed as being frightened at the prospect of…
Read the full tafseer →