Explained with ayahs 1–4
تعارف قرآن حکیم
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جو حروف سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان کی پوری تفصیل اس تفسیر کے شروع میں سورة بقرہ کے ان حروف کے بیان میں گزر چکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہاں فرمان ہے کہ یہ قرآن لفظوں میں محکم اور معنی میں مفصل ہے۔ پس مضمون اور معنی ہر طرح سے کامل ہے۔ یہ اس للہ کا کلام ہے جو اپنے اقوال و احکام میں حکیم ہے۔ جو کاموں کے انجام سے خبردار ہے۔ یہ قرآن اللہ کی عبادت کرانے اور دوسروں کی عبادت سے روکنے کے لیے اترا ہے۔ سب رسولوں پر پہلی وحی توحید کی آتی رہی ہے۔ سب سے یہی فرمایا گیا ہے کہ لوگ اللہ کی عبادت کریں۔ اس کے سوا اور کسی کی پرستش نہ کریں۔ پھر فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
سورة هُوْد 3
یعنی دنیا میں تمہارے ٹھیرنے کے لیے جو وقت مقرر ہے اس وقت تک وہ تم کو بری طرح نہیں بلکہ اچھی طرح رکھے گا۔ اس کی نعمتیں تم پر برسیں گی۔ اس کی برکتوں سے سرفراز ہوگے۔ خوش حال و فارغ البال رہو گے۔ زندگی میں امن اور چین نصیب ہوگا۔ ذلت و خواری کے ساتھ نہیں بلکہ عزت و شرف کے ساتھ جیو گے۔ یہی مضمون دوسرے موقع پر اس طرح ارشاد ہوا ہے کہ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی وَھُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً (النحل۔ آیت 97) ”جو شخص بھی ایمان کے ساتھ نیک عمل کرے گا، خواہ مرد ہو یا عورت، ہم اس کو پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے“۔ اس سے لوگوں کی اس غلط فہمی کو رفع کرنا…
Read the full tafseer →پانچویں آیت میں اسی مضمون کی مزید تا کید فرمائی گئی ہے کہ دنیا میں تم کچھ بھی کرو اور کسی طرح بھی بسر کرو مگر انجام کار مرنے کے بعد تمہیں خدا تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اس کے لئے کچھ مشکل نہیں کہ مرنے اور خاک ہوجانے کے بعد تمہارے سب ذرات کو جمع کر کے تم کو ازسرنو انسان بنا کر کھڑا کردے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ 4۔ الۗرٰ ۣ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ۔ الرا اس سورة کا قرآنی نام ہے۔ یہی نام پچھلی سورة کا بھی ہے اور یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ عمود و مضمون کے اعتبار سے دونوں سورتیں باہم ملتی جلتی ہیں چنانہ آگے آپ دیکھیں گے کہ ان دونوں میں فرق صرف اجمال و تفصیل کا ہے۔ پچھلی سورة میں جو پہلو مجمل رہ گئے تھے وہ اس میں وضاحت سے سامنے آگئے ہیں۔ یہ فرق یوں تو ہر پہلو میں نمایاں ہے لیکن خاص طور پر واقعات کے بیان میں یہ فرق بہت زیادہ نظر آئے گا۔ اجمال کے بعد تفصیل کا یہ طریقہ، جو قرآن نے اختیار کیا ہے، یہ صرف تنوع کی خاطر نہیں اختیار کیا ہے بلکہ تعلیم و تربیت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3۔ 1 یہاں اس سامان دنیا کو جس کو قرآن نے عام طور پر ' متاع غرور ' دھوکے کا سامان کہا ہے، یہاں اسے ' متاع حسن ' قرار دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو آخرت سے غافل ہو کر متاع دنیا سے استفادہ کرلے گا، اس کے لئے یہ متاع غرور ہے، کیونکہ اس کے بعد اسے برے انجام سے دو چار ہونا ہے اور جو آخرت کی تیاری کے ساتھ ساتھ اس سے فائدہ اٹھائے گا، اس کے لئے یہ چند روزہ سامان زندگی متاع حسن ہے، کیونکہ اس نے اللہ کے احکام کے مطابق برتا ہے۔
3۔ 2 بڑے دن سے مراد قیامت کا دن ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3: یہاں رجوع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ صرف معافی مانگ لینا کافی نہیں، آئندہ کے لیے گناہوں سے بچنے اور اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے کا عزم بھی ضروری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
درس نمبر 99 ایک نظر میں
یہ پہلا سبق ایک مقدمے کی شکل میں ہے اس کے بعد قصص کا حصہ اور آخر میں نتائج اور تبصرے تبصرے ہیں۔ اس تمہیدی حصے میں وہ تمام اساسی باتیں کہی گئیں ہیں جو اسلامی نظریہ حیات کی اساسی باتیں ہیں اور بنیادی حقائق ہیں۔ یعنی اطاعت اور بندگی صرف اللہ وحدلہ لا شریک کی ہوگی اور دین صرف اللہ کا ہوگا۔ اور یہ اعتقاد رکھنا لازم ہوگا کہ ایک دن ہم نے جزاء و سزا اور حساب و کتاب کے لیے اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ اور یہ حساب و کتاب دنیا میں اچھے اور برے اعمال کی اساس پر ہوگا۔ کیونکہ دنیا دار الامتحان ہے۔ اس ابتدائیہ میں اللہ کی معرفت اور اللہ کی صفات کو اس زاویہ سے بیان کیا گیا ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
9 سزا دینے کے لیے ضروری ہے کہ مجرم حاضر ہو، حاکم سزا دینے کی پوری قدرت اور کامل اختیار رکھتا ہو۔ مجرمین کی کل کارروائیاں اس کے علم میں ہوں۔ " الی مرجعکم " میں بتلا دیا کہ مجرم وغیر مجرم سب کو خدا کے یہاں حاضر ہونا ہے۔ " وہو علٰی کل شیءٍ قدیر " میں قدرت واختیار کا عموم بیان فرمایا اور (اَلَآ اِنَّھُمْ يَثْنُوْنَ صُدُوْرَھُمْ ) 11 ۔ ہود :5) سے " بِذَات الصُّدُوْرِ " تک اس کے علم محیط کی وسعت کو ظاہر کیا کہ خدا ہر کھلی چھپی چیز کو یکساں جانتا ہے حتیٰ کہ دلوں کی تہ میں جو خیالات، ارادے اور نیتیں پوشیدہ ہوتی ہیں ان پر بھی مطلع ہے۔ پھر کوئی مجرم اپنے جرم کو کس طرح اس سے مخفی رکھ کر نجات پاسکتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
آیت 3 وَّاَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَیْہِ یُمَتِّعْکُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا الآی اَجَلٍ مُّسَمًّی وَّیُؤْتِ کُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَہٗ
یہاں ذِیْ فَضْلٍ سے مراد ہے مستحق فضل۔ یعنی جو بھی فضل کا مستحق ہوگا ‘ اللہ تعالیٰ اسے اپنا فضل ضرور عطا فرمائے گا۔
Read the full tafseer →6 کسی مجرم کو سزا دینے کے لیے دو باتوں کی ضرورت ہوتی ہے ایک یہ کہ مجرم حاضر ہو دوسرے سزا دینے والا اسے سزا دینے کی قدرت رکھتا ہو چناچہ اللہ تعالیٰ ایسے دعوت حق سے اعراض کرنے والوں کو اپنے پاس حاضر کرنے کی بھی قدرت رکھتا ہے اور سزا دینے کی بھی ایسے مجرموں کو اپنے انجام سے ضرور ڈرنا چاہیے۔
Read the full tafseer →5۔ (تو پھر ایسے قدرت لامحدود والے کو ماننے کے بعد تمہیں نظام آخرت اور سلسلہ جزا کی کسی کڑی پر بھی حیرت کیوں ہے ؟ ) (آیت) ” الی اللہ مرجعکم “۔ یعنی آخری واسطہ اسی ایک سے پڑنا ہے نہ کہ کسی اور سے ترکیب کلام کلمہ حصر کی ہے۔ فیہ دقیقۃ وھی ان ھذا اللفظ یفید الحصر یعنی ان مرجعنا الی اللہ لا الی غیرہ فیدل ھذا علی انہ لا مدبر ولا متصرف ھناک الا ھو (کبیر) فخر المفسرین فخر رازی (رح) نے آیت مذکور کے تحت میں جو نکتہ سنجی کی ہے، اس کے لئے اصل تفسیر کبیر ہی مطالعہ کرلیجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
آیت نمبر 1 تا 5
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان بڑا رحم والا ہے الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ ایسی کتاب ہے کہ اس کی آیات عجیب نظم اور انوکھے معانی کے ذریعہ محکم کی گئی ہیں، پھر حکیم باخبر یعنی اللہ کی طرف سے احکام اور واقعات اور نصائح کے اعتبار سے صاف صاف بیان کی گئی ہیں، یہ کہ اللہ کے سوا کسی کو بندگی نہ کرو میں اس کی طرف سے تم کو عذاب سے ڈرانے والا ہوں اگر تم کفر کرو گے اور ثواب کی خوشخبری دینے والا ہوں اگر تم ایمان لاو گے اور یہ کہ تم اپنے رب سے شرک سے مغفرت طلب کرو پھر طاعت ل کے ذریعہ اس کی طرف رجوع کرو وہ دنیا میں تم کو معینہ مدت تک اچھا سامان…
Read the full tafseer →الی اللہ مرجعکم تمہارے تمام امور کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہے (دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی) ۔
وھو علی کل شیئ قدیر۔ اور وہ ہی ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔
یعنی دنیا اور آخرت میں ہر جگہ سزا جزا دینا اس کے اختیار میں ہے۔ یہ آیت سابق آیت کی تاکید اور تقریر ہے۔
Read the full tafseer →(4) تم سب کو مرنے کے بعد اللہ ہی کے پاس جانا ہے اور وہ جزا وسزا پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ۔۔ : ”اِلَی اللّٰہ“ کے پہلے آنے سے حصر پیدا ہوگیا، یعنی اگر تمہیں آخرت کے عذاب کا اس لیے خوف نہیں کہ تم اس دن کے منکر ہو تو یاد رکھو کہ اللہ کے سوا تم کہیں جا ہی نہیں سکتے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھنے والا ہے۔ جب اس نے پہلی دفعہ تمہیں پیدا کیا تو دوبارہ اپنے پاس حاضر کیوں نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
آیات نمبر 1 تا 4
اللہ تعالیٰ کا ارشاد الٓرٰ اس کے بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ کتٰبٌسے مراد ھذا کتاب ہے۔ احکمت اٰیٰتہٗ یہ محل رفع میں ہے کتاب کی صفت ہے۔ احکمت اٰیٰتہٗ کے معنی کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس میں سب سے عمدہ قول حضرت قتادہ کا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اس سارے کے سارے کو محکم بنا دیا گیا ہے نہ اس میں کوئی خلل ہے اور نہ ہی یہ باطل ہے۔ الاحکام سے مراد کلام کا فساد سے محفوظ ہوتا ہے یعنی اس کی نظم، نظم محکم ہے نہ اس میں تناقض ہے اور نہ کوئی خلل۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا کہ اس سے مراد ہے کہ کسی کتاب نے اس کو منسوخ نہیں کیا بخلاف تورات اور انجیل کے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ اس کی بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الٓرکتب احکمت ایتہ “ فرمایا یہ سب آیات مکی ہیں اور محکم ہیں یعنی سورة ھود (آیت) ” ثم فصلت “ یعنی پھر محمد ﷺ کا ذکر کیا گیا اور اس میں فیصلہ فرمایا آپ ﷺ اور آپ کے مخالفین کے درمیان اور ساری آیات کو دو فریقوں کی مثل پڑھا پھر ذکر کیا گیا قوم نوح کا پھر قوم ھود کا یہ تفصیل ہے اس کی اور اس کا اصل محکم ہے زید بن اسلم نے کہا کہ حضرت ابی ؓ اسی طرح کہتے تھے۔
2:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم ابوالشیخ رحمہم اللہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” کتب احکمت ایتہ ثم فصلت “ کے بارے میں فرمایا کہ مستحکم کیا گیا ہے ساتھ امر ونہی کے…
Read the full tafseer →اِلَى اللّٰهِ [ اللہ کی طرف ہی ] مَرْجِعُكُمْ ۚ [ تم لوگوں کو لوٹنا ہے ] وَھُوَ [ اور وہ ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ [ ہر چیز پر ] قدیر [ قدرت رکھنے والا ہے ]
Read the full tafseer →(اِلَی اللّٰہِ مَرْجِعُکُمْ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) (اللہ ہی کی طرف تم سب کو لوٹنا ہے اور وہ ہر چیز پر قاد رہے) اسے سب کو لوٹانے پر بھی قدرت ہے اور ہر ایک کو پورا پورا بدلہ دینے پر بھی قدرت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سورة ھود
اثبات حقانیت قرآن و توحید ورسالت وتذکیر آخرت
الرا۔ کتب احکمت ایتہ۔۔ الی۔۔ انہ علیم بذات الصدور
(ربط): اول قرآن حکیم کا منزل من اللہ ہونا بیان کیا کہ اس کتاب کے نزل کرنے سے مقصود یہ ہے کہ تم ایک اللہ کی عبادت کرو پھر آں حضرت ﷺ کا مرسل من اللہ وہنا بیان کیا کہ آپ کو بشارت اور آخرت اور قیامت کو یاد دلایا جس دن بندوں کو ان کے اعمال کی جزا وسزا ملے گی۔ تاکہ پہلے سے تیاری کرلیں۔ اور چونکہ جزا وسزا کے لیے علم کامل اور قدرت کاملہ کا ہونا ضروری ہے کہ حاکم کو مجرم کے جرم کا علم ہو اور اس کے سزا دینے پر اس کو قدرت اور اختیار بھی ہو اس لیے الی اللہ مرجعکم کے بعد وھو علی کل شیئ قدیر۔ سے اپنی قدرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
6: یہ اور ثُمَّ تُوْبُوْا دونوں اَلَّا تَعْبُدُوْا پر معطوف ہیں۔ اپنے سابقہ گناہوں کی اللہ سے معافی مانگو اور آئندہ کیلئے ان گناہوں (غیر اللہ کی عبادت اور پکار وغیرہ) کے نزدیک نہ جانے کا سچے دل سے عزم کرو۔ یُمَتِّعُکُمْ مَّتَاعًا الخ امر کا جواب ہے یعنی اگر تم شرک سے بچو گے اور اپنے گناہوں کی اللہ سے معافی مانگتے رہو گے تو تا زندگی اللہ کے عذاب سے محفوط رہو گے۔ قال الزجاج یبقیکم ولا یستاملکم بالعذاب کما استاصل اھل القری الذین کفروا (روح ج 11 ص 208) ۔ وَیُؤْتِ الخ یہ یُمَتِّعُکُمْ پر معطوف ہے اور صالح اور زیادہ نیک اعمال بجالانے والے کو اس کے اعمال صالحہ کی جزاء دنیا وآخرت میں عطا فرمائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة ہود ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے عظیم رسول تھے جو حضرت نوع ح کے بعد قوم عاد کی طرف مبعوث ہوئے ، اس سورة میں آپ کی تبلیغ کے حالات بیان ہوئے ہیں ، اس لحاظ سے اس سورة کا نام آپ کے نام پر سورة ہود رکھا گیا ہے۔
گذشتہ سورة یونس کی طرح یہ بھی مکی سورة ہے۔ سورة یونس اور سورة ہود ہجرت سے پہلے مکی زندگی کی آخری سورتیں ہیں اور ان کا زمانہ نزول قریب قریب ہی ہے۔ اس سورة مبارکہ کی ایک سو تیئس آیات اور دس رکوع ہیں۔ ا س میں ایک ہزار چھو سو پچیس کلمات اور چھ ہزار نو سو پانچ سو پانچ حروف ہیں۔
مضامین سورة
اس سورة کا مرکزی مضمون دعوت الی التوحید ہے۔ اس کے…
Read the full tafseer →اِلَى اللہِ مَرْجِعُكُمْ 0 ۚ وَھُوَعَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 4
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] .
( ا ل ہ ) اللہ
(1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔
رجع
الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترکیب : الر اسم ہے اس سورة کا مبتداء کتاب موصوف حکمت الخ صفت مجموعہ خبر یا مبتداء محذوف کی خبر یا بالعکس ان لا تعبدوا الخ مفعول لہ ہے فصلت کا اے فصلت لا جل ان لاتعبدوا وقیل ان مفسرۃ لان فی تفصیل الآیات معنی القول وان استغفروا اس پر معطوف الاحین کا عامل یعلم۔
تفسیر : یہ سورة بھی مکہ میں اسی ہنگامہ میں نازل ہوئی ہے کہ جب جہالت اور بت پرستی کا بازار گرم تھا۔ خدا پرستی کا نام لینے والے پر نہ صرف انگلیاں ہی اٹھتی تھیں بلکہ زہر آلود تیروں کا تودہ بنایا جاتا تھا۔ اس میں منجملہ حالات دیگر انبیاء کے حضرت ہود (علیہ السلام) کا قصہ نہایت عبرت انگیز ہے جس لئے ان کے نام سے یہ سورة نامزد کی جاتی ہے اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
الٓرٰ قف کِتٰبٌ اُحْکِمَتْ اٰیٰتُہٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَکِیْمٍ خَبِیْرٍ ۔ اَلاَّ تَعْبُدُوْآ اِلاَّ اللّٰہَط اِنَّنِیْ لَکُمْ مِّنْہُ نَذِیْرٌ وَّبَشِیْرٌ۔ وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْآ اِلَیْہِ یُمَتِّعْکُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی وَّ یُؤْتِ کُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَہٗط وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ کَبِیْرٍ ۔ اِلَی اللّٰہِ مَرْجِعُکُمْج وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔
الٓرٰ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں پہلے محکم کی گئیں پھر ان کی وضاحت کی گئی خدائے حکیم وخبیر کی طرف سے۔ کہ تم عبادت نہ کرو مگر اللہ کی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عبادت تب ہی قبول ہوسکتی ہے جب انسان اپنے گناہوں بالخصوص شرک سے توبہ کرے گا۔
قرآن مجید اس بات پر بھی روشنی ڈالتا ہے کہ انبیاء کرام نہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیتے تھے بلکہ وہ اللہ کی عبادت کرنے کے ساتھ گناہوں سے معافی مانگنے اور شرک سے توبہ کرنے کی تلقین کرتے تھے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگو ! اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو بیشک وہ معاف کرنے والا ہے۔ استغفار کے بدلے وہ تم پر رحمت کی برکھا برسائے گا اور تمہیں مال اور بیٹے عنایت فرمائے گا۔ (نوح : 11۔ 12)
استغفار کرنے کا یہ بھی فائدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →4: اِلَی اللّٰہِ مَرْجِعُکُمْ (اللہ تعالیٰ ہی کی طرف تم نے لوٹنا ہے) مرجع بمعنی لوٹنا ( مصدر میمی) وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ (وہ ہر چیز پر قدرت والے ہیں) اس کو تمہارے دوبارہ لوٹانے پر بھی قدرت ہے۔
Read the full tafseer →4۔ ” الی اللہ مرجعکم وھو علی کل شی قدیر “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ 4 الر بھی حروف مقطعات میں سے ہے جس کے معنے سوائے خدا کے اور کسی کو نہیں معلوم جیسے الم وغیرہ چناچہ اس کی تفصیل سورة بقر اور سورة آل عمران میں گزر چکی ہے ان آیتوں میں اللہ پاک نے قرآن مجید کی تعریف بیان فرمائی ہے کہ یہ کتاب ایسی ہے کہ اس کی کل آیتیں شروع سے آخر تک بالکل مضبوط ہیں جیسے ایک دیوار کی بنیاد کہ کبھی اس میں ردو بدل ہونے والا نہیں ہے جیسے پہلی کتابیں توریت و انجیل وغیرہ کہ ایک کے بعد ایک منسوخ ہوتی گئیں پہلے یہ کتاب لوح محفوظ میں تھی پھر اللہ پاک نے اپنے سچے رسول پر تفصیل کے ساتھ اس کو نازل فرمایا اور حرام حلال کی تفصیل بتلادی جو قیامت تک قائم رہے گی فرمایا کہ تم لوگ سوائے خدا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
تفسیر سورة ھود
آیت : ( 1-4)
(کتب) یہ عظیم کتاب اور بہترین فضل و عنایت ہے۔ (احکمت ایتہ) ” جس کی آیتیں مستحکم ہیں۔ “ یعنی اس کی آیات کو بہت اچھے اور محکم طریقے سے بیان کیا گیا ہے ‘ اس کی خبریں سچی ‘ اس کے او امر و نواہی عدل پر مبنی ‘ اس کے الفاظ نہایت فصیح اور اس کے معانی بہت خوبصورت ہیں۔ (ثم فصلت) ” پھر ان کی تفصیل بیان کردی گئی “ یعنی ان کو علیحدہ علیحدہ اور معانی وبیان کی بہترین انواع کے ذریعے سے کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ (من لدن حکیم) ” حکمت والے کی طرف سے “ وہ تمام اشیاء کو ان کے مناسب مقام پر رکھتا ہے اور ان کے لائق جگہ پر نازل کرتا ہے۔ صرف اسی چیز کا حکم دیا ہے اور اسی چیز سے روکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
5 ۔ پیغمبر کی صفت و شان تبشیر : سو پیغمبر کی زبان سے اعلان کروایا گیا کہ میرا کام ہے خوش خبری سنانا۔ یعنی دارین کی سعادت و سرخروئی اور حقیقی فوز و فلاح کی خوشخبری سنانا ان لوگوں کو جو عقیدہ توحید سے سرشار اور صرف ایک اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت و بندگی سے مشرف ہوں کہ ان کے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی ہے کہ ایسوں کو دنیا میں حیات طیبہ " پاکیزہ زندگی " کی نعمت نصیب ہوگئی اور آخرت میں ان کو جنت کی سدا بہار نعمتوں اور وہاں کی نعیم مقیم سے نوازا جائے گا۔ سو اللہ پاک کے بھیجے ہوئے انبیاء و رسل ہمیشہ یہی پیغام لے کر آئے کہ عبادت و بندگی اور اس کی ہر قسم و شکل اللہ وحدہ لاشریک ہی کا حق ہے اور اسی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
اللہ دلوں کے بھید جانتا ہے
تشریح : پچھلی آیت کے آخر میں نبی اکرم ﷺ نے آخرت کا ذکر کیا کہ میں حساب کتاب کے دن سے بہت ڈرتا ہوں کیونکہ اس دن بروں کو دوزخ کی سزا ضرور ملے گی اور اچھوں کو جنت ملے گی تو ان آیات میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کی عظمت، قدرت اور علم کا ذکر کیا گیا ہے کہ جو لوگ یہ سوچتے ہیں کہ چھپ کر گناہ یا بد کرداری کریں گے مگر اللہ کو معلوم نہ ہو سکے گا۔ یہ بڑی غلط اور فضول سوچ ہے کیونکہ اس کے علم میں تو دنیا کا ذرہ ذرہ ہے اور اسی طرح وہ تو دل کے اندر چھپے ہوئے بھید، نیت اور ارادہ سب کچھ سے واقف ہے۔ جب یہ پکا یقین ہوجائے جو کہ ہونا چاہیے تو پھر انسان بہت سی برائیوں سے بچ سکتا ہے۔ یہ یقین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیات 1 تا 8
اسرار و معارف
الر حروف مقطعات ہیں جن کا علم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ہے یا جیسے رب چاہے سمجھ عطاکردے مگر تلاوت سب کے لئے ہے اور فائدہ بھی سب کو پہنچتا ہے۔
یہ ایسی بےمثال کتاب ہے کہ اس کی آیات محکم یعنی ناقابل تبدیل ہیں اگرچہ پہلے بھی آسمانی کتب نازل ہوتی رہیں مگر ان کی آیات اور احکام خاص قوموں یا ملکوں کے لئے اور خاص زمانوں کے لئے تھے جو بعد میں نزول قرآن سے بھی کلی طور پر منسوخ ہوگئے مگر یہ کتاب بیک وقت ساری انسانیت کے لئے تمام ملکوں کے لئے اور سب زمانوں کے لئے ہے اور اس کے احکام ہر دور اور ہر ملک میں قابل عمل بھی ہیں لہٰذا یہ ہمیشہ کے لئے ہے اور کسی بھی امر میں کوئی بات ڈھکی…
Read the full tafseer →ف 11 ۔ اگر تم توبہ و استغفار نہ کرو گے تو وہ تمہیں عذاب بھی دے سکتا ہے۔ تم اس کی گرفت سے باہر نہیں ہو۔ (وحیدی) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(11:3) توبوا الیہ۔ اس کی طرف لوٹو۔ ای ارجعوا الیہ بالطاعۃ والعبادۃ۔ اس کی اطاعت و عبادت کو حزر جان بنا کر اس کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔
یمتعکم۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر ۔ وہ تم کو بہرہ اندوز کریگا۔ (باب تفعیل) متاعا حسنا اچھا مال و متاع۔ خوشگوار نعمتیں۔
ذی فضل زیادہ نیکی کرنے والا۔ من کان لہ فضل فی العمل۔ جو زیادہ عمل (نیک) کرے گا۔ فضلہ۔ عطاء ہ۔ جزاء ہ یعنی اسی قدر اس کی جزاء اور عطا میں اضافہ ہوگا۔ یوم کبیر۔ یوم القیامۃ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 4
احکمت (مضبوط کی گئی ہے) فصلت (کھول کھول کر بیان کی گئی) الاتعبدوا (یہ کہ تم عبادت نہ کرو گے) نذیر (برے انجام سے ڈرانے والا) بشیر (اچھے اعمال پر خوش خبری دینے والا) استغفروا (تم گناہوں کی معافی مانگو) تو بوا (تم توبہ کرو، توجہ کرو) یمتع (وہ سامان (زندگی) دے گا مسمی (مقرر ، متعین) یوت (وہ دے گا) ذی فضل (فضل والا، زیادہ کام کرنے والا) اخاف (میں ڈرتا ہوں)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 4
سورئہ ھود کی ان چار آیات میں سمندر کو کو زے میں سمیٹ دیا گیا ہے۔ ان آیات کی مختصر تشریح ملاحظہ کر لیجیے۔
1) آلر
اس سورت کا آغاز حروف مقطعات سے کیا گیا ہے۔ یعنی جن حروف کے معنی اور مراد کا علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
سوائے خدا تعالیٰ کے کسی کی عبادت جائز نہیں
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ حکم اس کتاب میں سب سے زیادہ ضروری اور اول درجے کا یہ ہے کہ سوائے معبود حقیقی کے اور کسی کی عبادت نہ کرو اور یہ بھی ان سے کہہ دو کہ میں بشارت دینے والا بھی ہوں اور ڈرانے والا بھی ہوں۔ اگر تم خدا کا حکم مانو گے تو تمہارے لئے جنت کی بشارت ہے اور اگر نہ مانو گے تو تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے۔ صرف اللہ ہی کی عبادت ہونی چاہیے اور جو کچھ تم پہلے کرچکے اس سے استغفار کرو اور آئندہ کے لئے توبہ کرلو۔ خدا اس کا نفع تمہیں دنیا میں بہت ہی اچھا دے گا، تمہارے رزق بڑھائے گا عیش و آرام میں رکھے گا اور آخرت میں ہر شخص کے عمل کے موافق دس گونہ فضل کرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
[1] یعنی جس نے دنیا میں اعمال فاضلہ کئے ہوں اور اس کے حسنات زیادہ ہوں اس کو آخرت میں بقدر اعمال درجات عطا فرمائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(ف 1) توحید کے بعد اسلامی تعلیمات میں توبہ و استغفار کو خاص اہمیت حاصل ہے یہی وجہ ہے جو یہاں توبہ و استغفار کر خاص اہمیت حاصل ہے ، یہی وجہ ہے جو یہاں توبہ و استغفار کو توحید کے بالکل بعد بیان فرمایا ہے ۔
غرض یہ ہے کہ مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ ہر وقت اپنے گناہوں کا جائزہ لیتا ہے اور اس مرکز قدس سے اکتساب خیر میں مصروف رہے ، کیونکہ گناہوں کا احساس ہی نیکی طرف پہلا قدم ہے جو شخص گناہوں کو محسوس نہیں کرتا ، وہ نیکی جانب کبھی راغب نہیں ہوسکتا ۔
Read the full tafseer →4 تم سب کو اللہ کی طرف لوٹنا اور اسی کی طرف واپس جانا ہے اور وہ ہر شے پر پوری طرح قادر ہے یعنی عذاب کو دو طرح سمجھو جانا بھی اسی کی طرف اور اس کو پوری پوری قدرت بھی حاصل پھر نجات کی کیا صورت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ف 4۔ خوش عیشی سے مراد وہ ہے جس کواٰتنا فی الدنیا حسنة اور لنحیینہ حیوة طیبہ میں ذکر فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →تم سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور اس کے علم سے کچھ بھی باہر نہیں
7 ؎ زیر نظر آیت میں پچھلی آیت کی مزید وضاحت فرما دی کہ تم جیسا کرو گے یقینا ویسا ہی بھرو گے اور دنیا میں تم جو کچھ بھی کرو گے اچھا یا برا انجام کار تم سب کو مرنے کے بعد اس مالک حقیقی کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور وہ ہرچیز پر قادر ہے۔ اس کیلئے کچھ مشکل نہیں کہ مرنے اور خاک ہونے کے بعد تم کو دوبارہ جمع کر کے از سر نو انسان بنا کر کھڑا کر دے۔ کیونکہ وہ پیدائش تمہاری دنیوی زندگی کی پیدائش نہیں ہوگی جس کے ساتھ مرنا لازم کیا گیا ہو اور تم آہستہ آہستہ بڑھ کر جوان ہو اور بلوغت کو پہنچوتا کہ تمہارے اعمال دیکھے جائیں کہ تم کیا…
Read the full tafseer →In the fifth verse, the theme has been emphasized further. Let man do what he elects to. Let him live the way he fancies. But, ultimately, once dead, man has to return to Him and He is powerful over everything. It is not at all difficult for Him to have each particle man is made of reassembled after he is dead and becomes dust and see to it that there rises the man he was, all over again.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3. If a person turns to God in sincere devotion, He will enable him to spend his life felicitously. God will lavish upon him His bounties, confer a variety of benedictions, provide a life of prosperity, grant peace and tranquillity, and cause him to live honourably rather than in ignominy and disgrace. The same idea has been brought forth elsewhere in the Qur'an in the following words:
Whoever acts righteously - whether male or female - the while he is a believer, We will surely grant him a clean life . . . (al-Nahl 16: 97). This verse dispels the Satanic misconception to which simpletons…
Read the full tafseer →