Hud 11:10

Hud · from ayah 10

11:10

وَلَىِٕنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ ؕ— اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌ ۟ۙوَلَئِنۡ اَذَقۡنٰهُ نَـعۡمَآءَ بَعۡدَ ضَرَّآءَ مَسَّتۡهُ لَيَـقُوۡلَنَّ ذَهَبَ السَّيِّاٰتُ عَنِّىۡ‌ ؕ اِنَّهٗ لَـفَرِحٌ فَخُوۡرٌۙ

اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد آسائش کا مزہ چکھائیں تو (خوش ہو کر) کہتا ہے کہ (آہا) سب سختیاں مجھ سے دور ہوگئیں۔ بےشک وہ خوشیاں منانے والا (اور) فخر کرنے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But if We give him a taste of favor after hardship has touched him, he will surely say, "Bad times have left me." Indeed, he is exultant and boastful -

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:10

اور اگر اُس مصیبت کے بعد جو اُس پر آئی تھی ہم اسے نعمت کا مزا چکھاتے ہیں تو کہتا ہے میرے تو سارے دلدر پار ہو گئے، پھر وہ پھولا نہیں سماتا اور اکڑنے لگتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد آسائش کا مزہ چکھائیں تو (خوش ہو کر) کہتا ہے کہ (آہا) سب سختیاں مجھ سے دور ہوگئیں۔ بےشک وہ خوشیاں منانے والا (اور) فخر کرنے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اگر ہم اسے کوئی نعمت چکھائیں اس سختی کے بعد جو اسے پہنچ چکی تھی تو وه کہنے لگتا ہے کہ بس برائیاں مجھ سے جاتی رہیں، یقیناً وه بڑا ہی اترانے واﻻ شیخی خور ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچنے کے بعد ہم اسے نعمتوں کا مزہ چکھا دیں تو وہ کہتا ہے کہ ساری برائیاں مجھ سے دور ہوگئیں۔ (اس وقت) وہ اترا کر شیخیاں بگھارنے لگتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اگر ہم اسے نعمت کا مزہ دیں اس مصیبت کے بعد جس اسے پہنچی تو ضرور کہے گا کہ برائیاں مجھ سے دور ہوئیں بیشک وہ خوش ہونے والا بڑائی مارنے والا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر ہم اسے (کوئی) نعمت چکھاتے ہیں اس تکلیف کے بعد جو اسے پہنچ چکی تھی تو ضرور کہہ اٹھتا ہے کہ مجھ سے ساری تکلیفیں جاتی رہیں، بیشک وہ بڑا خوش ہونے والا (اور) فخر کرنے والا (بن جاتا) ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بیشک اگر ہم اسے کوئی نعمت چکھائیں کسی تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی ہو تو یقینا ضرور کہے گا سب تکلیفیں مجھ سے دور ہوگئیں۔ بلاشبہ وہ یقینا بہت پھولنے والا، بہت فخر کرنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اگر کوئی مصیبت آنے کے بعد ہم اسے نعمتیں عطا کریں تو کہتا ہے میرے تو دلدّر دور ہوگئے پھر وہ اترانے اور تکبر کرنے لگتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر کسی تکلیف کے بعد، جو اس کو پہنچی اس کو نعمت سے نوازتے ہیں تو کہتا ہے میری مصیبتیں دفع ہوئیں اور وہ اکڑنے والا اور شیخی بگھارنے والا بن جاتا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اگر (اس کے برعکس) ہم اس کو چکھا دیں کوئی نعمت کسی ایسی تکلیف کے بعد جو اس کو پہنچ چکی ہو، تو یہ (پھول کر) کہنے لگتا ہے کہ دور ہوگئیں مجھ سے سب برائیاں، بیشک یہ بڑا ہی اترانے والا اور شیخی باز ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر ہم اس کو بعد تکلیف کے جو اسے واقع ہوچکتی ہے کسی نعمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ کہنے لگتا ہے کہ میرا دکھ دردرخصت ہوگیا بیشک وہ بڑا اترانے والا ہے بڑا شیخی بگھارنے والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اگر ہم مزہ چکھائیں اسے نعمتوں کا کسی تکلیف کے بعد جو اس کو پہنچی ہوئی تھی تو ضرور کہے گا کہ میرے تو سارے دلدّر دو رہو گئے بیشک وہ اترانے والا اور فخر جتانے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد آسائش پہنچائیں تو خوش ہو کر کہتا ہے آہا مجھ سے سب مصیبتیں دور ہوگئیں بیشک وہ خوش ہونے والا اور فخر کرنے والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And if We let him taste favour after harm has touched him, he says: 'All my ills are gone', and he suddenly becomes exultant and boastful,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And if We give him a taste of comfort after a hardship has touched him, he will say, :Evils have gone away from me , (and thus) He will become over-exulting, boastful,

— Muhammad Taqi Usmani

And if We give him a taste of comfort after a hardship has touched him, he will say, :Evils have gone away from me , (and thus) He will become over-exulting, boastful,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But if We let him taste good (favor) after evil (poverty and harm) has touched him, he is sure to say: "Ills have departed from me." Surely, he is exultant and boastful (ungrateful to Allah).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And if We cause him to taste grace after some misfortune that had befallen him, he saith: The ills have gone from me. Lo! he is exultant, boastful;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But if We give him a taste of favor after hardship has touched him, he will surely say, "Bad times have left me." Indeed, he is exultant and boastful -

— Saheeh International

If after his hardship, We grant him a blessing, he grows proud and rejoicing and says, "All my hardships have gone".

— Muhammad Sarwar

And if We make him taste a favor after distress has afflicted him, he will certainly say: The evils are gone away from me. Most surely he is exulting, boasting;

— Muhammad Habib Shakir

And if We let him taste favour after harm hath touched him, he saith: the ills have departed from me; verily he becometh elated, boastful.

— Abdul Majid Daryabadi

But if We give him a taste of (Our) favours after adversity hath touched him, he is sure to say, "All evil has departed from me:" Behold! he falls into exultation and pride.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 9–11

انسان کا نفسیاتی تجزیہ سوائے کامل ایمان والوں کے عموماً لوگوں میں جو برائیاں ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ راحت کے بعد کی سختی پر مایوس اور محض ناامید ہوجاتے ہیں اللہ سے بدگمانی کر کے آئندہ کے لیے بھلائی کو بھول بیٹھتے ہیں گویا کہ نہ کبھی اس سے پہلے کوئی آرام اٹھایا تھا نہ اس کے بعد کسی راحت کی توقع ہے۔ یہی حال اس کے برخلاف بھی ہے اگر سختی کے بعد آسانی ہوگئی تو کہنے لگتے ہیں کہ بس اب برا وقت ٹل گیا۔ اپنی راحت اپنی تن آسانیوں پر مست و بےفکر ہوجاتے ہیں۔ دوسروں کا استہزاء کرنے لگتے ہیں۔ اکڑ فوں میں پڑجاتے ہیں اور آئندہ کی سختی کو بالکل فراموش کردیتے ہیں۔ ہاں ایماندار اس بری خصلت سے محفوظ رہتے ہیں،…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة هُوْد 10 یہ انسان کے چھچورے پن، سطح بینی، اور قلت تدبر کا حال ہے جس کا مشاہدہ ہر وقت زندگی میں ہوتا رہتا ہے اور جس کو عام طور پر لوگ اپنے نفس کا حساب لے کر خود اپنے اندر بھی محسوس کرسکتے ہیں۔ آج خوشحال اور زور آور ہیں تو اکڑ رہے ہیں اور فخر کر رہے ہیں۔ ساون کے اندھے کی طرح ہر طرف ہرا ہی ہرا نظر آرہا ہے اور خیال تک نہیں آتا کہ کبھی اس بہار پر خزاں بھی آسکتی ہے۔ کل کسی مصیبت کے پھیر میں آگئے تو بلبلا اٹھے، حسرت و یاس کی تصویر بن کر رہ گئے، اور بہت تلملائے تو خدا کو گالیاں دے کر اور اس کی خدائی پر طعن کر کے غم غلط کرنے لگے۔ پھر جب برا وقت گزر گیا اور بھلے دن آئے تو وہی اکڑ، وہی ڈینگیں اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–10

خلاصہ تفسیر اور اگر ہم انسان کو اپنی مہربانی کا مزا چکھا کر اس سے چھین لیتے، ہیں تو وہ ناامید اور ناشکرا ہوجاتا ہے اور اگر اس کو کسی تکلیف کے بعد جو کہ اس پر واقع ہوئی ہو کسی نعمت کا مزا چکھاویں تو (ایسا اتراتا ہے کہ) کہنے لگتا ہے کہ میرا سب دکھ درد رخصت ہوا (اب کبھی نہ ہوگا پس) وہ اترانے لگتا ہے شیخی بگھارنے لگتا ہے مگر جو لوگ مستقل مزاج ہیں اور نیک کام کرتے ہیں (مراد اس سے مؤمنین ہیں کہ ان میں کم وبیش یہ خصائل ہوتے ہیں سو) وہ ایسے نہیں ہوتے (بلکہ زوال نعمت کے وقت صبر سے کام لیتے ہیں اور عطاء نعمت کے وقت شکر و اطاعت بجا لاتے ہیں پس) ایسے لوگوں کے لئے بڑی مغفرت اور بڑا اجر ہے (خلاصہ یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 8–11

8۔ 11:۔ وَلَىِٕنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰٓى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّيَقُوْلُنَّ مَا يَحْبِسُهٗ ۭ اَلَا يَوْمَ يَاْتِيْهِمْ لَيْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ۔ لفظ امت یہاں ٹھیک اپنے لغوی مفہوم یعنی مدت کے معنی میں ہے جس طرح سورة یوسف میں ہے " وقال الذی نجا منہا واد کر بعد امۃ : اور کہا اس نے جس نے ان دونوں میں سے رہائی پا لی تھی اور ایک مدت کے بعد اس نے یاد کیا " (یوسف :45)۔ کفار کے استہزاء کا جواب : اوپر کی آیت میں ان کے اس مذاق کا ذکر ہے جو مرنے کے بعد اٹھائے جانے کی خبر کا وہ اڑا رہے تھے۔ اس آیت میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہی مذاق کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

10۔ 1 یعنی سمجھتا ہے کہ سختیوں کا دور گزر گیا، اب اسے کوئی تکلیف نہیں آئے گی۔ امۃ کے مختلف مفہوم : آیت نمبر 8 میں امۃ کا لفظ آیا ہے۔ یہ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر مختلف مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ یہ ام سے مشتق ہے، جس کے معنی قصد کے ہیں۔ یہاں اس کے معنی اس وقت اور مدت کے ہیں جو نزول عذاب کے لیے مقصود ہے۔ (فتح القدیر) سورة یوسف کی آیت 45 (واد کر بعد امۃ) میں یہی مفہوم ہے اس کے علاوہ جن معنوں میں اس کا استعمال ہوا ہے، ان میں ایک امام و پیشوا ہے۔ جیسے (ان ابراہیم کان امۃ) ملت اور دین ہے، جیسے انا وجدنا آباءنا علی امۃ) جماعت اور طائفہ ہے۔ جیسے (ولما ورد ماء امدین وجد علیہ امۃ من الناس) ومن قوم…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–11

8: یہ بات کہہ کر وہ در اصل آخرت اور عذاب الٰہی کا مذاق اڑاتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 9–11

تفسیر آیات 9 تا 11:۔ یہ لوگ مطالبہ نزول عذاب میں بےصبری کا مظاہرہ کر رہے ہیں ، انسانی مزاج کے اس پہلو پر یہاں مزید روشنی ڈالی جا رہی ہے کہ انسان کسی حالت پر بھی ثابت قدم اور صحیح رائے قائم کرنے میں صحیح الفکر نہیں ہوتا۔ اس کی نفسیات یہ ہیں : اگر کبھی ہم انسان کو اپنی رحمت سے نوازنے کے بعد پھر اس سے محروم کردیتے ہیں تو وہ مایوس ہوتا ہے اور ناشکری کرنے لگتا ہے۔ اور اگر اس مصیبت کے بعد جو اس پر آئی تھی ، ہم اسے نعمت کا مزا چکھاتے ہیں تو وہ کہتا ہے میرے سارے دلدر پار ہوگئے ، پھر وہ پھولا نہیں سماتا اور اکڑنے لگتا ہے۔ اس عیب سے پاک اگر کوئی ہیں تو بس وہ لوگ جو صبر کرنے والے اور نیکو کار ہیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی مصیبت کے بعد اگر خدا آرام و آسائش نصیب کرے تو سمجھتا ہے کہ گویا اب ہمیشہ کے لیے مصائب و تکالیف کا خاتمہ ہوچکا پچھلی کیفیت کبھی لوٹ کر آنے والی نہیں۔ اس وقت غافل و مغرور ہو کر شیخیاں مارتا اور اتراتا پھرتا ہے حالانکہ چاہیے تھا کہ پچھلی حالت یاد کر کے خدا کا شکر ادا کرتا اور اس کے احسان کے سامنے جھک جاتا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُــوْرٌ جب کسی سختی کے بعد انسان کو آسائش یا کوئی نعمت مل جاتی ہے تو بجائے اس کے کہ اسے اللہ کی رحمت اور اس کا انعام سمجھتے ہوئے سجدۂ شکر بجا لائے وہ اس پر اترانا اور ڈینگیں مارنا شروع کردیتا ہے اور اسے اپنی تدبیر کا نتیجہ اور اپنی محنت کا صلہ قرار دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

13 انسان کی تنگ ظرفی اور ناشکری :۔ اس آیت اور اس سے پہلی آیت میں ایک دنیا دار اور خدا فراموش انسان کی کم حوصلگی اور تنگ ظرفی کا نقشہ پیش کیا گیا ہے جو یہ ہے کہ اگر زندگی بھر اللہ کی نعمتیں میسر آتی رہیں پھر کسی وقت کوئی مصیبت آجائے تو اسی وقت مصیبت کا رونا رونے لگتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے متعلق سخت سست الفاظ کہنے لگتا ہے اور یہ بھول ہی جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کتنی مدت آسودہ حال بھی رکھا تھا جس کا اس نے شکر بھی کبھی ادا نہیں کیا تھا اور اگر ہم اسے مصیبت سے نجات دے دیں تو پھر بھی اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا بلکہ اس وقت بھی اللہ سے غافل اور مغرور ہو کر شیخیاں بگھارنے لگتا ہے اور پھولے نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

13۔ (کہ گویا اب پھر وہ دکھ درد کبھی ہونے ہی کا نہیں) اب بیان اسی فطرت بشری کے دوسرے پہلو کا ہورہا ہے۔۔۔۔ واقعی ان گڑھ، تربیت سے محروم انسان بھی کیسا افراط وتفریط کے دونوں سروں کے درمیان جھولا کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–24

آیت نمبر 9 تا 24 ترجمہ : اور اگر ہم کافر انسان کو اپنی رحمت) مثلاً ( مالداری اور صحت سے نوازنے کے بعد اس کو رحمت سے محروم کردیتے ہیں تو وہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہو کر اس رحمت کی بےحد ناشکری کرنے لگتا ہے، اور اگر اس مصیبت کے بعد جو اس پر آپڑی تھی) مثلاً ( فقر اور سختی، ہم اس کو نعمتوں کا مزا چکھا دیتے ہیں تو کہنے لگتا ہے کہ میرے سب دکھ دور ہوگئے اور ان نعمتوں کے زوال کا خیال بھی نہیں کرتا اور نہ ان پر شکر ادا کرتا ہے) اور ( وہ اترانے لگتا ہے اور جو کچھ اس کا دیا گیا ہے اس کی وجہ سے لوگوں پر شیخی بگھارنے لگتا ہے، مگر جو لوگ مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں اور نعمتوں میں نیک عمل کرتے ہیں یہی ہیں وہ لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولئن اذقنٰہ نعمآء بعد ضرآء مستہ لیقولن ذھب السیات عنی ان لفرح فخور۔ اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد ہم اس کو راحت کا مزہ چکھا دیتے ہیں (دُکھ کے بعد کچھ سکھ دیتے ہیں) تو انسان کہتا ہے : اب تو تمام مصائب مجھ سے چلی گئیں (ا اللہ کی طرف مصائب دور کرنے کی نسبت نہیں کرتا بلکہ تقاضائے نیچر کے زیر اثر مصائب کا خاتمہ سمجھتا ہے) یہ حقیقت ہے کہ وہ بڑا اترانے والا ‘ شیخیاں مارنے والا (ہو جاتا) ہے۔ حصول مقصد سے دل میں جو لذت پیدا ہوتی ہے اس کو فرح (یا فرحت) کہتے ہیں۔ فَرِحٌسے مراد ہے نعمت پر مغرور ‘ اترانے والا۔ فَخوربڑا شیخی باز جو اپنے آپ کو نعمت کا حقدار قرار دیتے ہوئے لوگوں پر اپنی فوقیت جتاتا ہے اور یہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(10) اور اگر اس کافر کو کسی تکلیف کے بعد جو کہ اس پر واقع ہوئی ہے کسی نعمت کا مزہ چکھائیں تو وہ کافر کہنے لگتا ہے کہ میری سب تکلیف دور ہوئی اور اترانے لگتا ہے اور نعمت خداوندی کی ناشکری کرکے شیخی بگھارنے لگتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَىِٕنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَاۗءَ بَعْدَ ضَرَّاۗءَ۔۔ : ”نَعْمَاۗءَ“ ایسی نعمت جس کا اثر صاحب نعمت پر ظاہر ہو۔ اسی طرح ”ضَرَّاۗءَ“ ایسی مصیبت جس کا برا اثر انسان پر ظاہر ہو۔ (طنطاوی) ”اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُــوْرٌ“ یعنی بہت پھولنے اور اترانے لگتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اب تمام مصیبتیں اور سختیاں دور ہوگئیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 9–11

آیت نمبر 9 تا 11 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ولئن اذقناالانان منارحمۃ، الانانتمام کفار کے بارے میں جنس کے لیے مشترک نام ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں انسان سے مراد ولید بن مغیرہ ہے اور اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ اور ایک قول یہ ہے کہ یہ عبداللہ بن ابی امیہ مخزومی کے بارے میں نازل ہوئی۔ رحمۃ یعنی بطور نعمت۔ ثم نزعنٰھا منہ یعنی ہم اس (نعمت) کو اس سے سلب کرلیں گے۔ انہ لیوس یعنی رحمت سے مایوس ہونے والا۔ کفور یعنی نعمتوں کا انکار کرنے والا۔ ابن اعرابی نے یہ کہا ہے۔ نحاس نے کہا : لیؤوس، یئس ییآس سے ہے۔ سیبویہ نے کہا : یئس ییآس اور یآس ییئس ہے اور بعض کہتے ہیں : یئس یییس ہے۔ کلام عرب میں سوائے ان چار حروف…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 8–14

1:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جب (آیت ) ” اقترب للناس حسابہم “ (الانبیاء آیت) نازل ہوئی تو لوگوں نے کہا قیامت قریب آگئی تو وہ (بڑے کاموں سے) رک گئے وہ تھوڑا سا وقت رکے رہے پھر وہ اپنے برے اعمال کی طرف لوٹ آئے تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” اتی امر اللہ فلا تستعجلوہ “ (رحمۃ اللہ علیہالنحل) تو لوگوں نے کہا یہ گمراہ ہونے والے ہیں اللہ کا حکم تحقیق آچکا تو قوم رک گئی پھر اپنے تدبیروں کی طرف لوٹ آئی تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری ” ولئن اخرنا عنہم العذاب الی امۃ معدودۃ “۔ 2:۔ ابن جریر وابن منذر (رح) نے ابن جریر اور ابن المنذر (رح) نے فرمایا کہ (آیت) امۃ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَىِٕنْ [ اور البتہ اگر ] اَذَقْنٰهُ [ ہم چکھائیں اس کو ] نَعْمَاۗءَ [ کوئی آسائش ] بَعْدَ ضَرَّاۗءَ [ ایسی تکلیف کے بعد ] مَسَّتْهُ [ اس کو چھوا جس نے ] لَيَقُوْلَنَّ [ تو وہ لازما کہے گا ] ذَهَبَ [ گئیں ] السَّـيِّاٰتُ [ برائیاں ] عَنِّيْ ۭ [ مجھ سے ] اِنَّهٗ [ بیشک وہ ] لَفَرِحٌ [ یقینا بہت خوش ہے ] فَخُــوْرٌ [ بےانتہا فخر کرنے والا ] ترکیب : (آیت ۔ 10) نعماء اور ضراء دونوں میں غیر منصرف ہیں ۔ اذقنا کا مفعول ثانی ہونے کی وجہ سے نعماء حالت نصب میں ہے جبکہ بعد کا مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے ضراء حالت جر میں ہے ۔ اور ضراء نکرہ مخصوصہ ہے ، مستہ اس کی خصوصیت ہے ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 9–11

نا امیدی ‘ ناشکری ‘ اترانا ‘ شیخی بگھارنا انسان کا خاص مزاج ہے ان دو آیتوں میں انسان کا مزاج اور اس کا طرز عمل بیان فرمایا کہ اگر ہم انسان کو اپنی رحمت اور مہربانی کا مزہ چکھا دیں اور پھر اس سے چھین لیں تو وہ ناامید بھی ہوجاتا ہے اور ناشکرا بھی ‘ نعمت کے چلے جانے کی وجہ سے واویلا کرتا ہے صبر کر کے آئندہ بھلائی اور خیر کی جو امید ہونی چاہئے تھی اسے بالکل ختم کردیتا ہے اور نہ صرف یہ کہ آئندہ کے لئے ناامید ہوجاتا ہے بلکہ اس سے پہلے جن نعمتوں میں تھا ان کا شکر بھی ادا نہیں کرتا اور جو موجودہ نعمتیں ہیں ان کے شکر سے بھی باز رہتا ہے انسان کے طرز عمل کا دوسرا رخ یہ ہے کہ جب اسے دکھ تکلیف کے بعد نعمت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–11

بیان حال طبیعت انسانیہ و راحت و کلفت قال اللہ تعالیٰ ولئن اذقنا الانسان منا رحمۃ .... الیٰ .... لہم مغفرۃ واجر کبیر۔ (ربط) گزشتہ آیت میں یہ بیان فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ ولیہ وآلہ وسلم جب عذاب الٰہی سے ڈراتے تو کفار نہایت بےباکی سے یہ کہہ دیتے کہ وہ عذاب کیوں نہیں آتا اب اس آیت میں طبیعت انسانی کا حال بیان کرتے ہیں کہ وہ اکثر و بیشتر ایک حال پر نہیں رہتی اگر عیش و آرام کے بعد ذرا تکلیف میں مبتلا ہوا تو ناامید ہو کر بیٹھ جاتا ہے اور اگر مصیبت کے بعد راحت پہنچتی ہے تو اترانے لگتا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اگر ہم انسان کو اپنی طرف سے کسی رحمت اور نعمت کا مزا چکھائیں اور پھر اس سے وہ اپنی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 9–10

13:۔ یہ زجر ہے اور الانسان سے مشرک انسان مراد ہے فرمایا جب ہم مشرکوں کو انسان مراد ہے فرمایا جب ہم مشرکوں کو رحمت سے نوازتے ہیں اور دنیوی آرام و راحت اور فراخی عیش کا ان پر دروازہ کھول دیتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ ان کے خود ساختہ معبودوں کی مہربانی ہے۔ پھر جب ہم نے کے آرام و عیش کو تکلیف اور تنگدستی سے بدل دیتے ہیں تو وہ اپنے معبودوں سے مایوس ہوجاتے ہیں اور ان کا عقیدہ ڈانواں ڈول ہوجاتا ہے اور وہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ ہمارے معبود تو کچھ نہیں کرسکتے اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کو پکارنے لگ جاتے ہیں۔ وَلَئِنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَاءَ الخ : لیکن جب پھر ہم اس کی تکلیف، تنگدستی اور مصیبت وگیرہ دور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 9–12

ربط آیات دعوت الی التوحید کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے علم محیط اور قدرت تامہ کا ذکر فرمایا ۔ اس سے پہلے تمام جاندار کی روزی کا ذمہ اٹھایا اور ہر ایک کے مستقر اور مستودع کے علم کا ذکر کیا۔ پھر تخلیق کائنات کا ذکر کیا جو کہ اس کی وحدانیت اور قدرت تامہ دلیل ہے آسمان و زمین کی پیدائش اور عرش الٰہی کا ذکر ہوا۔ تخلیق کائنات کا مقصد انسانوں کی مصلحت بیان فرمایا اور انسانوں کی تخلیق کو ان کی آزمائش کا مقصود بنایا کہ ان میں سے کون اچھے اعمال انجام دیتا ہے اور کون برائیوں کا ارتکاب کرتا ہے۔ فرمایا یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی جانب سے برحق ہے۔ فرمایا اگر نافرمانوں پر خدا کی گرفت موخر ہوجائے تو وہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَىِٕنْ اَذَقْنٰہُ نَعْمَاۗءَ بَعْدَ ضَرَّاۗءَ مَسَّـتْہُ لَيَقُوْلَنَّ ذَہَبَ السَّـيِّاٰتُ عَنِّيْ۝ 0 ۭ اِنَّہٗ لَفَرِحٌ فَخُــوْرٌ۝ 10 ۙ نعم النِّعْمَةُ : الحالةُ الحسنةُ ، وبِنَاء النِّعْمَة بِناء الحالةِ التي يكون عليها الإنسان کالجِلْسَة والرِّكْبَة، والنَّعْمَةُ : التَّنَعُّمُ ، وبِنَاؤُها بِنَاءُ المَرَّة من الفِعْلِ کا لضَّرْبَة والشَّتْمَة، والنِّعْمَةُ للجِنْسِ تقال للقلیلِ والکثيرِ. قال تعالی: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] ( ن ع م ) النعمۃ اچھی حالت کو کہتے ہیں ۔ اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو کسی حالت کے معنی کو ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے جیسے : ۔ جلسۃ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–19

ترکیب : صدرک مرفوع ہے ضائق کا فاعل ہو کر جو معتمد علیہ مبتداء ہے اور ممکن ہے کہ وہ مبتداء اور ضائق خبر مقدم ہو ان یقولوا ای مخافۃ ان یقولہ افمن کان موضع رفع میں ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے اور خبر محذوف ہے تقدیرہ افمن کان علی ھذہ الاشیاء کغیرہ۔ تفسیر : فرمایا تھا کہ منکروں سے جو مرنے کے بعد زندہ ہونے کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کا انکار کرتے ہیں اور ان کے اس کفر کی سزا یعنی عذاب کو جو ہم نے ابھی ان پر نہیں بھیجا ذکر کیا جاتا ہے تو کس دلیری اور استقلال سے کہتے ہیں کہ وہ کیوں نہیں آتا ؟ کس نے روک رکھا ہے ؟ اب یہاں فرماتا ہے کہ ان کی یہ سب باتیں ہماری دنیاوی نعمت اور راحت کی وجہ سے ہیں اور ان پر کچھ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 9–10

وَلَئِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَۃً ثُمَّ نَزَعْنٰہَا مِنْہُج اِنَّہٗ لَیَئُوْسٌ کَفُوْرٌ۔ وَ لَئِنْ اَذَقْنٰہُ نَعْمَآئَ بَعْدَ ضَرَّآئَ مَسَّتْہُ لَیَقُوْلَنَّ ذَہَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْط اِنَّہٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌ۔ (سورۃ ہود : 9، 10) (اگر ہم انسان کو اپنے کسی فضل سے نوازتے ہیں اور پھر اس کو اس سے محروم کردیتے تو وہ مایوس اور ناشکرا بن جاتا ہے۔ اور اگر کسی تکلیف کے بعد جو اس کو پہنچی اس کو نعمت سے نوازتے ہیں تو کہتا ہے میری مصیبتیں جاتی رہیں اور وہ اکڑنے والا اور شیخی بگھارنے والا بن جاتا ہے۔ ) آیات کی تشریح سے پہلے چند مشکل الفاظ کی وضاحت۔ یہاں ” رحمت “ سے مراد صحت، امن و…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 9–10

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب اور قیامت کو بھول جاتے ہیں ان کی طبیعت میں ناشکری اور فخروغرور پیدا ہوجاتا ہے۔ ایسے لوگوں کی حالت کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر ایسے آدمی کو ہم اپنی رحمت سے بہرہ ور کریں اور اس کے بعد اپنے کرم کا ہاتھ پیچھے ہٹائیں تو وہ حوصلہ کرنے کی بجائے ناشکری کا اظہار کرتا ہے۔ اگر تکلیف کے بعد اسے راحت اور خوشی عطا کریں تو وہ یہ کہتے ہوئے فخروغرور کا مظاہرہ کرتا ہے کہ میرے دکھ دور ہوگئے۔ گویا کہ اسے نعمت عطا ہو تو ناشکری کی صورت میں اور اس کا دکھ دور ہوجائے تو فخروغرور کی حالت میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے۔ اس طرح اللہ اور قیامت پر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

10: وَلَئِنْ اَذَقْنٰہُ نَعْمَآ ئَ بَعْدَ ضَرَّآ ئَ مَسَّتْہُ (اگر ہم اسے نعمتیں چکھائیں اس تکلیف کے بعد جس نے اس کو چھو لیا) فقر موجود کے بعد نعمت میں وسعت کردیں۔ لَیَقُوْلَنَّ ذَھَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ (تو ضرور کہنے لگے گا مجھ سے برائیاں دور ہوگئیں) سیئات سے وہ مصائب مراد ہیں جنہوں نے میری حالت کو بگاڑ دیا تھا۔ اِنَّہٗ لَفَرِحٌ (بیشک وہ اترانے لگتا ہے) تکبر و شیخی فَخُوْرٌ (فخر کرنے والا) ان نعمتوں پر جو اللہ تعالیٰ نے اس کو دی ہیں مگر اس کو فرح اور فخر شکر کرنے سے باز رکھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

10۔” ولئن اذقناہ نعماء بعد ضراء مستہ “ مصیبت کے بعد جوان کو پہنچی ہو ۔” لیقولن ذھب السیئات عنی سختیاں مجھ سے چلی گئیں انہ لفرح فخور متکبر ہے فرح بمعنی دل میں لذت اپنی پسندیدہ چیز کے ملنے کی وجہ سے اور فخر اپنے مناقب شما ر کرکے لوگوں پر بڑا بنتا اس سے روکا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 9–11

9۔ 11 مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی ناشکری کچھ قرآن کی نعمت کی ناقدری پر منحصر نہیں ہے بلکہ ان کی ناشکری تو دنیا کی نعمتوں میں بھی ہے چناچہ ان میں سے کسی کو اللہ اپنی رحمت کا اگر نمونہ دکھاتا ہے اور اس کے رزق میں ترقی کردیتا ہے تو یہ لوگ عیش و آرام میں پڑے رہتے ہیں اور جب ان کے سر سے ذرا بھی اس رحمت کا سایہ الگ کرلیا تو پھر ان کو آئندہ کی فلاحیت کی امید نہیں رہتی اور پہلے عیش و آرام ان کے خیال سے بالکل جاتے رہتے ہیں اور اگر اللہ تکلیف کے بعد کسی کو خوش حال کردیتا ہے تو وہ بہت ہی خوش ہوتا ہے اور اپنے مال پر اس قدر اترانے لگتا ہے کہ جس کا کچھ ٹھکانا نہیں مگر جو لوگ سختی اور مصیبت کے وقت صبر کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اور جب اللہ تعالیٰ اسے تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی ہے، اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے، تو خوش ہوتا ہے اور اتراتا ہے اور سمجھنے لگتا ہے کہ یہ بھلائی کے پاس ہمیشہ رہے گی اور کہتا ہے (ذھب السیات عنی انہ لفرخ فخور) ” دور ہوگئیں برائیاں مجھ سے، بیشک وہ تو اترانے والا، شیخی خورہ ہے “ یعنی اسے جو کچھ اس کی خواہشات نفس کے موافق عطا کیا گیا ہے اس پر خوش ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں پر اس کے بندوں کے سامنے فخر اور تکبر کا اظہار کرتا ہے اور یہ چیز اسے غرور، خود پسندی، مخلوق الہٰی کے ساتھ تکبر کرنے، ان کے ساتھ حقارت سے پیش آنے اور انہیٰں کم تر سمجھنے پر آمادہ کرتی ہے اور اس سے بڑھ کر اور کون سا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 9–10

26 ۔ تنگ ظرف اور تھڑ دلے انسان کا حال : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ایسے انسان کو ہم اپنی طرف سے کوئی زحمت چکھا دیں پھر ہم اس کو اس سے چھین لیں تو یہ بالکل مایوس اور ناشکرا ہوجاتا ہے۔ سو یہ اس تنگ ظرف اور تھڑ دلے انسان کا حال ہے کہ یہ صبر و شکر کی خصال عالیہ اور صفات حمیدہ سے عاری اور محروم ہوتا ہے کہ نعمت ملنے پر یہ اتراتا اور شیخی بگھارتا ہے۔ اور اس کے چھن جانے پر یہ مایوس اور ناشکرا بن جاتا ہے اور حضرت واہب مطلق۔ جل وعلا۔ کی دوسری ان تمام نعمتوں کو بھول جاتا ہے جن سے وہ اس سے پہلے مستفید و فیضیاب ہوتا رہتا ہے اور جن سے وہ اب بھی مستفید و فیضیاب ہورہا ہوتا ہے کہ اس کی نعمتیں تو بےحد و حساب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–11

دنیا دار، ناشکرے شخص کی نشانیاں اور صابر لوگوں کا اجر تشریح : ان آیات میں انسان کی نفسیات بیان کی گئی ہیں کہ ایک کمزور ایمان والا شخص ذرا سی تکلیف پہنچنے پر سخت پریشان ہوجاتا ہے جو کہ توکل کی کمزوری ہوتی ہے بلکہ اللہ سے گلے شکوے شروع کردیتا ہے۔ جب خوشیاں اور فارغ البالی ملتی ہے تو بجائے شکر ادا کرنے کے اللہ کو بالکل ہی بھول جاتا ہے، حالانکہ مضبوط ایمان والے کی یہ نشانی ہے کہ وہ پریشانی میں صبر، استغفار اور دعا سے کام لیتا ہے جب خوش ہوتا ہے تو اللہ کو تب بھی یاد کرتا ہے اور اس کا شکر بجا لاتا ہے۔ ایسے لوگ اللہ کے پسندیدہ لوگ ہیں ان کے لیے بخشش اور بہت زیادہ ثواب کی خوشخبری ہے۔ کیونکہ وہ ہر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 9–24

آیات 9 تا 24 اسرار و معارف عام انسان کا حال یہ ہے کہ اگر اس کے پاس اللہ کی نعمت ہو اور وہ چھن جائے یعنی مال وغیرہ میں نقصان ہوجائے یا صحت چلی جائے یا اقتدار و وقار جاتا رہے تو وہ بالکل ناامید ہوکرناشکری کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا لیکن اگر اسی کو پھر سے وہ نعمت لوٹادی جائے بیمار کو شفا ہوجائے یا پھر مالدار ہوجائے یاجلاوطنی کے بعد پھر سے اقتدار نصیب ہوجائے تو اترانے اور اکڑنے لگتا ہے اور کہتا ہے وہ دن اب لدگئے اب میرا کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور وہ طرح طرح کی شیخیاں بگھارتا ہے۔ معرفت باری کا اثر یہ وہ تصویر ہے جو ہراس انسان کی ہے جسے معرفت باری نصیب نہیں مگر جن کو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 10–11

(11:10) نعماء وہ انعام جس کا اثر پانے والے پر ظاہر ہو۔ مراد راحت و آسائش ۔ فرح۔ وہ لذت جو مطلوب کے حاصل ہونے پر دل میں پیدا ہوتی ہے۔ صفت مشبہ کا صیغہ خوش۔ اترانے والا۔ فرحت محسوس کرنے والا۔ فخور۔ مبالغہ کا صیغہ فخر مصدر۔ بہت زیادہ فخر کرنے والا۔ شیخی خور۔ یعنی وہ اترانے لگتا ہے کہ یہ مال و دولت کی فراوانی اور اقبال مندیاں اس کی ذاتی قابلیت کا نتیجہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 8–11

لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 11 اذقنا (ہم نے چکھا دیا) منا (ہم سے) نزعنا (ہم نے کھینچ لیا، واپس لے لیا) یئوس (مایوس ہوجاتا ہے) کفور (ناشکرا) نعمآء (نعمتیں) مستہ (اس کو پہنچتی ہے) السیئات (خرابیاں، برائیاں ) فرح (وہ اترانے والے فخور (شیخی بگھارنا، بڑائی کرنا) اجر کبیر (بہت بڑا بدلہ) تشریح : آیت نمبر 9 تا 11 اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے کہ : ہم نے ان کو برو بحر یعنی خشکی اور تری میں عزت و سربلندی سے نوازا ہے اور ان کو ہر طرح کا پاکیزہ رزق عطا فرمایا ہے۔ دوسری جگہ ارشاد کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنا نائب اور خلیفہ بنا کر تمام فرشتوں کو اس کی عظمت کے سامنے سجدہ کرنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–11

مصیبت پر صابر اور نعمت پر شاکر رہنے کا ذکر ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی ناشکری کچھ قرآن کی نعمت کی ناقدری پر منحصر نہیں ہے، بلکہ ان کی ناشکری تو دنیا کی نعمتوں میں بھی ہے۔ چناچہ ان میں سے کسی کو اللہ اپنی رحمت کا اگر نمونہ دکھاتا ہے اور اس کے رزق میں ترقی کردیتا ہے تو یہ لوگ عیش و آرام میں پڑے رہتے ہیں۔ اور جب ان کے سر سے ذرا بھی اس رحمت کا سایہ الگ کرلیا تو ان کو آئندہ کی فلاحیت کی امید نہیں رہتی اور پچھلے عیش و آرام ان کے خیال سے بلکل جاتے رہتے ہیں۔ اور اگر اللہ تعالیٰ تکلیف کے بعد کسی کو خوش حال کردیتا ہے تو وہ بہت خوش ہوتا ہے اور اپنے مال پر اس قدر اترانے لگتا ہے کہ جس کا کچھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–14

[4] عرش سے مراد تخت حکومت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کی حکومت پانی پر تھی یا کسی ایسی چیز پر جسے پانی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ [5] یعنی تخلیق کائنات کا مقصد یہ تھا کہ انسان کو دنیا میں پیدا کر کے اسے خلافت کے اختیارات سپرد کئے جائیں اور پھر دیکھا جائے کہ وہ اپنے اختیارات کس طرح استعمال کرتا ہے۔ بالفاظ دیگر دنیا انسان کے لئے امتحان گاہ ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 7–11

(ف 2) یعنی کائنات کی ابتدا پانی سے ہے ، (آیت) ” وجعلنا من المآء کل شی حی “۔ علم الحیات کے ماہرین بیشمار تجارب اور ارتقاء کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ زندگی کی ابتداء ان حیوانات سے ہوتی ہے جو بحری ہیں قرآن نے نہایت بہتر الفاظ میں علم الحیات کے اس مسئلہ کو بیان فرمایا ہے کہ خدا کا عرش حکومت ابتداء پانی سے وابستہ تھا ۔ (آیت) ” لیبلوکم “ میں مقصد حیات کی طرف اشارہ ہے ، یعنی تمہیں اس لئے پیدا کیا گیا ہے تاکہ بہترین اعمال سے زمین کو رشک فردوس بنا دو ۔ حل لغات : دآبۃ : ہر جاندار زمین پر چلنے والا ۔ مستقر : جائے قرار ۔ مستودع : جہاں سونپاجائے امانت کا ، امۃ : مدت ، زمانہ ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

10 اور اگر ہم اسی کو کسی تکلیف کے بعد جو اس پر واقع ہوئی تھی راحب و نعمت کا مزہ چکھاتے ہیں اور راحت سے لطف اندوز کردیتے ہیں تو کہنے لگتا ہے اب تمام مصائب اور درد دکھ مجھ سے دور ہوگئے پس دو اترانے والا شیخی مارنے والا ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–10

ف 3۔ یعنی اگر عذاب کوئی چیز ہوتی تو اب تک ہو چکتا۔ جب نہیں ہوا تو معلوم ہوا کہ کچھ بھی نہیں۔ 4۔ مطلب یہ ہوا کہ باوجود استحقاق کے یہ تاخیر اس لیے ہے کہ بعض حکمتوں سے اس کا وقت معین ہے پھر اس وقت ساری کسر نکل جائے گی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگر ہم اس کا دکھ دور کر کے راحت و آرام کا مزہ چکھا دیں تو پھر آپے سے باہر ہونے لگتا ہے 17 ؎ اب پھر اس فطرت بشری کا بیان شروع ہے اور اس کے مقتضائے طبعی کا بیان جاری ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ دیکھو واقعی ان گھڑ ، تربیت سے محروم انسان بھی کیسا افراط وتفریط کے دونوں سروں کے درمیان جھولا کرتا ہے۔ فرمایا کہ اگر ہجوم مصائب سے اسے نجات دے دی جاتی ہے۔ تو وہ یہ نہیں سمجھتا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کرم کیا اور میری بےکسی پر رحم فرمایا ہے بلکہ مصائب کے ٹل جانے کو حادثات روزگار سے منسوب کرتا ہے اور خوش ہو کر اترانے لگتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ عزتیں اور یہ اقبال مندیاں ، یہ مال و دولت کی فراوانیاں ایسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–10

Commentary In the verses appearing above, it has been confirmed that the Holy Prophet ﷺ is a Messenger of Allah and an answer has been given to those who engineer doubts about it. At the beginning, in the first three verses (9-11), an instinctively bad human habit has been mentioned with an instruction to Muslims that they should stay away from it. That man is naturally fickle-minded and haste-prone, and that he tends to be consumed by his immediate condition and puts all concerns of the past and future out of his mind, has been described in the first two verses (9, 10). It has been said: If…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

10. There are weaknesses in human beings which they themselves can observe if only they engage in self-introspection. It is a measure of man's shallowness and short-sightedness that whenever he has power and wealth he brags and swaggers. In times of prosperity, he becomes incapable of even imagining that his spring can suffer a winter. The result is that whenever he is afflicted with adversity, he is driven to utter despair, becomes an incarnation of grief and despondency so much so that at times he tries to make himself forget his misfortunes by flinging abuses and taunts at God. But when…

Read the full tafseer →