Explained with ayahs 9–11
انسان کا نفسیاتی تجزیہ
سوائے کامل ایمان والوں کے عموماً لوگوں میں جو برائیاں ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ راحت کے بعد کی سختی پر مایوس اور محض ناامید ہوجاتے ہیں اللہ سے بدگمانی کر کے آئندہ کے لیے بھلائی کو بھول بیٹھتے ہیں گویا کہ نہ کبھی اس سے پہلے کوئی آرام اٹھایا تھا نہ اس کے بعد کسی راحت کی توقع ہے۔ یہی حال اس کے برخلاف بھی ہے اگر سختی کے بعد آسانی ہوگئی تو کہنے لگتے ہیں کہ بس اب برا وقت ٹل گیا۔ اپنی راحت اپنی تن آسانیوں پر مست و بےفکر ہوجاتے ہیں۔ دوسروں کا استہزاء کرنے لگتے ہیں۔ اکڑ فوں میں پڑجاتے ہیں اور آئندہ کی سختی کو بالکل فراموش کردیتے ہیں۔ ہاں ایماندار اس بری خصلت سے محفوظ رہتے ہیں،…
Read the full tafseer →سورة هُوْد 11
یہاں صبر کے ایک اور مفہوم پر روشنی پڑتی ہے۔ صبر کی صفت اس چھچور پن کی ضد ہے جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ صابر وہ شخص ہے جو زمانہ کے بدلتے ہوئے حالات میں اپنے ذہن کے توازن کو برقرار رکھے۔ وقت کی ہر گردش سے اثر لے کر اپنے مزاج کا رنگ بدلتا نہ چلا جائے بلکہ ایک معقول اور صحیح رویہ پر ہر حال میں قائم رہے۔ اگر کبھی حالات سازگار ہوں اور وہ دولت مندی، اقتدار اور ناموری کے آسمانوں پر چڑھا چلا جا رہا ہو تو بڑائی کے نشے میں مست ہو کر بہکنے نہ لگے۔ اور اگر کسی دوسرے وقت مصائب و مشکلات کی چکی اسے پیسے ڈال رہی ہو تو اپنے جوہر انسانیت کو اس میں ضائع نہ کر دے۔ خدا کی طرف سے آزمائش خواہ نعمت کی…
Read the full tafseer →تیسری آیت میں ایسے ہی کامل انسانوں کی عام انسانی فطرت سے مستثنی اور ممتاز کرنے کے لئے فرمایا ہے (آیت) اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ، یعنی اس عام انسانی کمزوری سے وہ لوگ مستثنی ہیں جن میں دو صفتیں پائی جائیں، ایک صبر، دوسرے علم صالح۔
لفظ صبر عربی زبان میں اردو محاورہ سے بہت عام معنی میں استعمال ہوتا ہے اور اصلی معنی لفظ صبر کے باندھنے اور روکنے کے ہیں، قرآن و سنت کی اصطلاح میں نفس کو اس کی ناجائز خواہشات سے روکنے کا نام صبر ہے، اس لئے مفہوم صبر میں تمام گناہوں اور خلاف شرع کاموں سے پرہیز آگیا، اور عمل صالح میں تمام فرائض و واجبات اور سنن و مستحبات آگئے، معنی یہ ہوگئے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
8۔ 11:۔ وَلَىِٕنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰٓى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّيَقُوْلُنَّ مَا يَحْبِسُهٗ ۭ اَلَا يَوْمَ يَاْتِيْهِمْ لَيْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ۔
لفظ امت یہاں ٹھیک اپنے لغوی مفہوم یعنی مدت کے معنی میں ہے جس طرح سورة یوسف میں ہے " وقال الذی نجا منہا واد کر بعد امۃ : اور کہا اس نے جس نے ان دونوں میں سے رہائی پا لی تھی اور ایک مدت کے بعد اس نے یاد کیا " (یوسف :45)۔
کفار کے استہزاء کا جواب : اوپر کی آیت میں ان کے اس مذاق کا ذکر ہے جو مرنے کے بعد اٹھائے جانے کی خبر کا وہ اڑا رہے تھے۔ اس آیت میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہی مذاق کی…
Read the full tafseer →11۔ 1 اہل ایمان، راحت و فراغت ہو یا تنگی اور مصیبت، دونوں حالتوں میں اللہ کے احکام کے مطابق طرز عمل اختیار کرتے ہیں جیسا کہ حدیث میں آتا ہے نبی نے قسم کھا کر فرمایا ' قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اللہ تعالیٰ مومن کے لئے جو بھی فیصلہ فرماتا ہے، اس میں اس کے لئے بہتری کا پہلو ہوتا ہے۔ اگر اس کو کئی راحت پہنچتی ہے تو اس پر اللہ کا شکر کرتا ہے اور اگر کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے، یہ بھی اس کے لئے بہتر (یعنی اجر وثواب کا باعث) ہے۔ یہ امتیاز ایک مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں۔ (صحیح مسلم، کتاب الزھد، باب امومن امرہ کلہ خیر) اور ایک اور حدیث میں فرمایا کہ " مومن کو جو بھی فکر و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
8: یہ بات کہہ کر وہ در اصل آخرت اور عذاب الٰہی کا مذاق اڑاتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
تفسیر آیات 9 تا 11:۔ یہ لوگ مطالبہ نزول عذاب میں بےصبری کا مظاہرہ کر رہے ہیں ، انسانی مزاج کے اس پہلو پر یہاں مزید روشنی ڈالی جا رہی ہے کہ انسان کسی حالت پر بھی ثابت قدم اور صحیح رائے قائم کرنے میں صحیح الفکر نہیں ہوتا۔ اس کی نفسیات یہ ہیں :
اگر کبھی ہم انسان کو اپنی رحمت سے نوازنے کے بعد پھر اس سے محروم کردیتے ہیں تو وہ مایوس ہوتا ہے اور ناشکری کرنے لگتا ہے۔ اور اگر اس مصیبت کے بعد جو اس پر آئی تھی ، ہم اسے نعمت کا مزا چکھاتے ہیں تو وہ کہتا ہے میرے سارے دلدر پار ہوگئے ، پھر وہ پھولا نہیں سماتا اور اکڑنے لگتا ہے۔ اس عیب سے پاک اگر کوئی ہیں تو بس وہ لوگ جو صبر کرنے والے اور نیکو کار ہیں اور…
Read the full tafseer →2 یعنی جو حال اوپر عام انسانوں کا بیان ہوا، اس سے اللہ کے وہ بندے مستثنیٰ ہیں جو تکلیف و مصیبت کا مقابلہ صبرو استقامت سے کرتے اور امن و راحت کے وقت شکر گزاری کے ساتھ عمل صالح میں مستعدی دکھاتے ہیں۔ ایسے اولوالعزم وفاداروں کی جماعت ہی عظیم الشان بخشش و انعام کی مستحق ہے۔
Read the full tafseer →آیت 11 اِلاَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ
یعنی سب انسان ایک جیسے نہیں ‘ کچھ ایسے بھی ہیں جن کو اللہ نے حقیقی ایمان کی نعمت سے نواز رکھا ہے اور ایمان کے نتیجے میں ان کے دل صبر کی دولت سے مالا مال ہیں اور ان کے کردار سے اعمال صالحہ کے نور کی کرنیں پھوٹتی ہیں۔
Read the full tafseer →14 اس مقام پر صبر کا لفظ مزاج کے استقلال کے معنوں میں استعمال ہوا ہے یعنی وہ لوگ جو نہ تو مصیبت کے وقت دل برداشتہ اور مایوس ہوں بلکہ اسے صبر و استقلال سے برداشت کریں اور نہ ہی کسی خوشی کے موقعہ پر آپے سے باہر ہوں بلکہ اپنے آپ کو قابو میں رکھیں اور ہر حال میں اللہ کا شکر بجا لائیں اور مصیبت یا خوشی کے مواقع پر ان کی طبیعت میں غیر سنجیدہ قسم کا اتار چڑھاؤ نمایاں نہ ہو بلکہ وہ ہر حال میں اپنے ذہنی توازن کو برقرار رکھتے ہیں نہ مال و دولت اور آسودگی ان کا مزاج خراب کرتی ہے اور نہ ہی تنگی ترشی کے دوران اپنی ہمت ہار بیٹھتے ہیں ایسے ہی لوگوں کے اللہ قصور بھی معاف کرتا ہے اور ان کے نیک کاموں کے عوض…
Read the full tafseer →14۔ عام فطرت بشری اور اس کے مقتضائے طبعی کا بیان اوپر ہوچکا۔ اب ذکران خوش نصیبوں کا ہے جنہیں ایمان وتقوی کی تربیت مل چکی ہے۔ یہ ایسے نہیں ہوتے۔ ہر زوال نعمت کے وقت صبر و تسلیم سے اور حصول نعمت کے وقت شکر وطاعت سے کام لیتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
آیت نمبر 9 تا 24
ترجمہ : اور اگر ہم کافر انسان کو اپنی رحمت) مثلاً ( مالداری اور صحت سے نوازنے کے بعد اس کو رحمت سے محروم کردیتے ہیں تو وہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہو کر اس رحمت کی بےحد ناشکری کرنے لگتا ہے، اور اگر اس مصیبت کے بعد جو اس پر آپڑی تھی) مثلاً ( فقر اور سختی، ہم اس کو نعمتوں کا مزا چکھا دیتے ہیں تو کہنے لگتا ہے کہ میرے سب دکھ دور ہوگئے اور ان نعمتوں کے زوال کا خیال بھی نہیں کرتا اور نہ ان پر شکر ادا کرتا ہے) اور ( وہ اترانے لگتا ہے اور جو کچھ اس کا دیا گیا ہے اس کی وجہ سے لوگوں پر شیخی بگھارنے لگتا ہے، مگر جو لوگ مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں اور نعمتوں میں نیک عمل کرتے ہیں یہی ہیں وہ لوگ…
Read the full tafseer →الا الذین صبروا وعملوا الصلحت مگر وہ لوگ مستثنیٰ ہیں جنہوں نے (مصائب پر) صبر کیا اور نیک کام کئے۔
یعنی اہل ایمان اس ضابطہ سے مستثنیٰ ہیں۔ وہ نراس اور ناشکرے نہیں ہوتے بلکہ اللہ کے فضل کے امیدوار رہتے ہیں اور اس کی سابقہ و موجودہ نعمتوں کے شکرگذار ہوتے ہیں۔ نہ اتراتے اور اکڑتے ہیں ‘ نہ نعمت پا کر دوسروں پر اپنی بڑائی جتاتے ہیں۔ یہ خصوصیت اہل ایمان کی ہی ہے کہ دکھ میں صبر کرتے اور سکھ میں شکر ادا کرتے ہیں۔
حضرت صہیب راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مؤمن کا بھی عجیب معاملہ ہے ‘ اس کی ہر بات اچھی ہے اور یہ خصوصیت صرف مؤمن ہی کی ہے۔ اگر اس کو سکھ ملتا ہے تو شکر کرتا ہے اور یہ اس کیلئے خیر…
Read the full tafseer →(11) مگر رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ جو کہ ایمان پر مستقل مزاج ہیں اور انہوں نے اطاعت خدا ندی پورے کمال کے ساتھ کی ہے وہ ایسا نہیں کرتے بلکہ وہ تکلیف پر صبر اور نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں ان کے لیے دنیا میں بخشش اور جنت میں اجر عظیم ہے۔
Read the full tafseer →اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ : یعنی صابر مومن کا یہ حال نہیں، وہ نہ راحت میں پھولتا ہے اور نہ مصیبت میں رب کی نعمتوں کو بھولتا ہے۔ یہی بات سورة معارج (19 تا 35) میں تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ صہیب ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ ، إِنَّ أَمْرَہٗ کُلَّہٗ لَہٗ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذٰلِکَ لِأَحَدٍ إِلاَّ لِلْمُؤْمِنٍ ، إِنْ أَصَابَتْہٗ سَرَّاءُ شَکَرََ فَکَانَ خَیْرًا لَّہٗ ، وَ إِنْ أَصَابَتْہٗ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَّہٗ) [ مسلم، الزہد، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر : 2999 ] ”مومن کا معاملہ عجیب ہے، کیونکہ اس کا ہر کام ہی خیر ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
آیت نمبر 9 تا 11
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ولئن اذقناالانان منارحمۃ، الانانتمام کفار کے بارے میں جنس کے لیے مشترک نام ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں انسان سے مراد ولید بن مغیرہ ہے اور اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ اور ایک قول یہ ہے کہ یہ عبداللہ بن ابی امیہ مخزومی کے بارے میں نازل ہوئی۔ رحمۃ یعنی بطور نعمت۔ ثم نزعنٰھا منہ یعنی ہم اس (نعمت) کو اس سے سلب کرلیں گے۔ انہ لیوس یعنی رحمت سے مایوس ہونے والا۔ کفور یعنی نعمتوں کا انکار کرنے والا۔ ابن اعرابی نے یہ کہا ہے۔ نحاس نے کہا : لیؤوس، یئس ییآس سے ہے۔ سیبویہ نے کہا : یئس ییآس اور یآس ییئس ہے اور بعض کہتے ہیں : یئس یییس ہے۔ کلام عرب میں سوائے ان چار حروف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–14
1:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جب (آیت ) ” اقترب للناس حسابہم “ (الانبیاء آیت) نازل ہوئی تو لوگوں نے کہا قیامت قریب آگئی تو وہ (بڑے کاموں سے) رک گئے وہ تھوڑا سا وقت رکے رہے پھر وہ اپنے برے اعمال کی طرف لوٹ آئے تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” اتی امر اللہ فلا تستعجلوہ “ (رحمۃ اللہ علیہالنحل) تو لوگوں نے کہا یہ گمراہ ہونے والے ہیں اللہ کا حکم تحقیق آچکا تو قوم رک گئی پھر اپنے تدبیروں کی طرف لوٹ آئی تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری ” ولئن اخرنا عنہم العذاب الی امۃ معدودۃ “۔
2:۔ ابن جریر وابن منذر (رح) نے ابن جریر اور ابن المنذر (رح) نے فرمایا کہ (آیت) امۃ…
Read the full tafseer →اِلَّا الَّذِيْنَ [ سوائے ان لوگوں کے جو ] صَبَرُوْا [ ثابت قدم رہے ] وَعَمِلُوا [ اور عمل کئے ] الصّٰلِحٰتِ ۭ [ نیکیوں کے ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ہیں ] لَهُمْ [ جن کے لئے ] مَّغْفِرَةٌ [ مغفرت ہے ] وَّاَجْرٌ كَبِيْرٌ [ اور بڑا اجر ہے ]
نوٹ ۔ 2: آیت ۔ 11 میں صبر کے ایک مفہوم پر روشنی پڑتی ہے ۔ صبر کی صفت اس تھڑولا پن کی ضد ہے جس کا ذکر آیات ۔ 9 ۔ 10 میں کیا گیا ہے ۔ صابر وہ شخص ہے جو زمانہ کے بدلتے ہوئے حالات میں اپنے ذہن کے توازن کو برقرار رکھے ۔ اور ایک معقول رویہ پر ہر حال میں قائم رہے۔ اگر کبھی حالات ساز گار ہوں تو کامیابی کے نشے میں مست ہو کر بہکنے نہ لگے ۔ اگر کبھی مصائب و مشکلات ہوں تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
نا امیدی ‘ ناشکری ‘ اترانا ‘ شیخی بگھارنا انسان کا خاص مزاج ہے
ان دو آیتوں میں انسان کا مزاج اور اس کا طرز عمل بیان فرمایا کہ اگر ہم انسان کو اپنی رحمت اور مہربانی کا مزہ چکھا دیں اور پھر اس سے چھین لیں تو وہ ناامید بھی ہوجاتا ہے اور ناشکرا بھی ‘ نعمت کے چلے جانے کی وجہ سے واویلا کرتا ہے صبر کر کے آئندہ بھلائی اور خیر کی جو امید ہونی چاہئے تھی اسے بالکل ختم کردیتا ہے اور نہ صرف یہ کہ آئندہ کے لئے ناامید ہوجاتا ہے بلکہ اس سے پہلے جن نعمتوں میں تھا ان کا شکر بھی ادا نہیں کرتا اور جو موجودہ نعمتیں ہیں ان کے شکر سے بھی باز رہتا ہے انسان کے طرز عمل کا دوسرا رخ یہ ہے کہ جب اسے دکھ تکلیف کے بعد نعمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
بیان حال طبیعت انسانیہ و راحت و کلفت
قال اللہ تعالیٰ ولئن اذقنا الانسان منا رحمۃ .... الیٰ .... لہم مغفرۃ واجر کبیر۔
(ربط) گزشتہ آیت میں یہ بیان فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ ولیہ وآلہ وسلم جب عذاب الٰہی سے ڈراتے تو کفار نہایت بےباکی سے یہ کہہ دیتے کہ وہ عذاب کیوں نہیں آتا اب اس آیت میں طبیعت انسانی کا حال بیان کرتے ہیں کہ وہ اکثر و بیشتر ایک حال پر نہیں رہتی اگر عیش و آرام کے بعد ذرا تکلیف میں مبتلا ہوا تو ناامید ہو کر بیٹھ جاتا ہے اور اگر مصیبت کے بعد راحت پہنچتی ہے تو اترانے لگتا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اگر ہم انسان کو اپنی طرف سے کسی رحمت اور نعمت کا مزا چکھائیں اور پھر اس سے وہ اپنی…
Read the full tafseer →14:۔ یہ مؤمنین کے لی بشارت اخروی ہے۔ الا بمعنی لکن ہے یعنی وہ ایمان والے جو اللہ ہی کو کارساز اور متصرف و مختار سمجھ کر مصائب و شدائد میں پکارتے اور ہر حال میں صبر کرتے اور اللہ کی عبادت و پکار میں لگے رہتے ہیں۔ یعنی المومنین مدحھم بالصرب علی الشدائد۔۔۔ ای لکن الذین صبروا وعملوا الصلحت فی حالتی النعمۃ والمحنۃ (قرطبی ج 9 ص 11) (اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا) فی المحنۃ والبلاء (وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ ) وشکروا فی النعمۃ والرخاء (مدارک ج 2 ص 139) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
ربط آیات
دعوت الی التوحید کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے علم محیط اور قدرت تامہ کا ذکر فرمایا ۔ اس سے پہلے تمام جاندار کی روزی کا ذمہ اٹھایا اور ہر ایک کے مستقر اور مستودع کے علم کا ذکر کیا۔ پھر تخلیق کائنات کا ذکر کیا جو کہ اس کی وحدانیت اور قدرت تامہ دلیل ہے آسمان و زمین کی پیدائش اور عرش الٰہی کا ذکر ہوا۔ تخلیق کائنات کا مقصد انسانوں کی مصلحت بیان فرمایا اور انسانوں کی تخلیق کو ان کی آزمائش کا مقصود بنایا کہ ان میں سے کون اچھے اعمال انجام دیتا ہے اور کون برائیوں کا ارتکاب کرتا ہے۔ فرمایا یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی جانب سے برحق ہے۔ فرمایا اگر نافرمانوں پر خدا کی گرفت موخر ہوجائے تو وہ…
Read the full tafseer →اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّاَجْرٌ كَبِيْرٌ 11
صبر
الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر»
( ص ب ر ) الصبر
کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–19
ترکیب : صدرک مرفوع ہے ضائق کا فاعل ہو کر جو معتمد علیہ مبتداء ہے اور ممکن ہے کہ وہ مبتداء اور ضائق خبر مقدم ہو ان یقولوا ای مخافۃ ان یقولہ افمن کان موضع رفع میں ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے اور خبر محذوف ہے تقدیرہ افمن کان علی ھذہ الاشیاء کغیرہ۔
تفسیر : فرمایا تھا کہ منکروں سے جو مرنے کے بعد زندہ ہونے کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کا انکار کرتے ہیں اور ان کے اس کفر کی سزا یعنی عذاب کو جو ہم نے ابھی ان پر نہیں بھیجا ذکر کیا جاتا ہے تو کس دلیری اور استقلال سے کہتے ہیں کہ وہ کیوں نہیں آتا ؟ کس نے روک رکھا ہے ؟ اب یہاں فرماتا ہے کہ ان کی یہ سب باتیں ہماری دنیاوی نعمت اور راحت کی وجہ سے ہیں اور ان پر کچھ…
Read the full tafseer →اِلاَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِط اُوْلٰٓئِکَ لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّ اَجْرٌ کَبِیْرٌ۔
(سورۃ ہود : 11)
(مگر (وہ لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں) جو صبر کرنے والے اور نیکوکار ہیں انہی کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔ )
سابقہ دو آیتوں میں ہم نے ان کم ظرف لوگوں کا تذکرہ پڑھا ہے جو بنیادی انسانی صفات سے عاری ہونے کی وجہ سے انسانی وقار سے بھی تہی دامن ہوگئے ہیں ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو مایوس اور ناشکرے ہوجاتے ہیں کسی مصیبت کو برداشت کرنا اور ہمت سے اس کا سامنا کرنا ان کے بس کی بات نہیں ہے اور اگر انھیں نعمتوں سے نواز دیا جاتا ہے تو وہ دوسرے انسانوں کے لیے مصیبت بن جاتے ہیں۔ شیخیاں بگھارتے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : کافر اور ناشکرگزار کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کے تابعدار اور قیامت پر یقین رکھنے والوں کا کردار۔
پہلی آیات میں ” الانسان “ کے حوالے سے قیامت کے منکر اور اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرنے والا کا ذکر ہوا۔ اب ان لوگوں کا ذکر ہوتا ہے جو اپنے رب پر سچا ایمان رکھتے ہوئے نیک اعمال اختیار کرتے ہیں۔ یہاں ایمان کا لفظ استعمال کرنے کی بجائے فخروغرور کے مقابلے میں صبر کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جس کا جامع معنی ہے کہ ” مصیبت کے وقت حوصلہ کرنا، خوشی اور کامیابی ملنے پر اپنے آپ پر قابو رکھنا “ دوسرے الفاظ میں صبر کا معنی ہے ” غم اور خوشی کے وقت شریعت کی مقرر کردہ حدود وقیود کا خیال رکھنا “ ایسے…
Read the full tafseer →11: اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا (مگر وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا) مشقت و مصیبت میں وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (اور نیک عمل کرتے رہے) نعمتوں اور خوشحالی میں شکریہ ادا کیا۔ اُولٰٓئِکَ لَھُمْ مَّغْفِرَۃٌ (ان لوگوں کے لئے مغفرت ہے) ان کے گناہوں سے وَّ اَجْرٌ کَبِیْرٌ (اور بڑا جر ہے) یعنی جنت
Read the full tafseer →11۔ ” الا الذین صبروا ‘ یہ استثناء منقطع ہے اس کا معنی ہے ” لکن الذین صبروا “ الا بمعنی لکن کے ہے ” وعملوا الصالحات “ کیونکہ ان کو اگر کوئی شدت پہنچے تو صبر کرتے ہیں اور اگر نعمت ملے تو شکر کرتے ہیں ۔ ” اولئک لھم مغفرۃ “ ان کے گناہوں کی ” واجر کبیر “ اور وہ جنت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
9۔ 11 مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی ناشکری کچھ قرآن کی نعمت کی ناقدری پر منحصر نہیں ہے بلکہ ان کی ناشکری تو دنیا کی نعمتوں میں بھی ہے چناچہ ان میں سے کسی کو اللہ اپنی رحمت کا اگر نمونہ دکھاتا ہے اور اس کے رزق میں ترقی کردیتا ہے تو یہ لوگ عیش و آرام میں پڑے رہتے ہیں اور جب ان کے سر سے ذرا بھی اس رحمت کا سایہ الگ کرلیا تو پھر ان کو آئندہ کی فلاحیت کی امید نہیں رہتی اور پہلے عیش و آرام ان کے خیال سے بالکل جاتے رہتے ہیں اور اگر اللہ تکلیف کے بعد کسی کو خوش حال کردیتا ہے تو وہ بہت ہی خوش ہوتا ہے اور اپنے مال پر اس قدر اترانے لگتا ہے کہ جس کا کچھ ٹھکانا نہیں مگر جو لوگ سختی اور مصیبت کے وقت صبر کرتے…
Read the full tafseer →یہ ہے انسان کی فطرت، سوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ توفیق سے نواز دے اور اسے ان مذموم اخلاق سے نکال کر اخلاق حسنہ کی طرف لے جائے اور یہ وہ لوگ ہیں جو مصائب اور تکالیف کے وقت پر اپنے نفس کو صبر پر مجبور کرتے ہیں اور مایوس نہیں ہوتے اور خوشی کے وقت بھی صبر کرتے ہیں۔ پس خوشی میں اتراتے نہیں ہیں اور نیکیوں میں واجبات و مستجبات پر عمل کرتے ہیں۔ (اولیک لھم مغفرۃ) ان کے لئے ان کے گناہوں کی مغفرت ہے، جس سے ہر خوف زائل ہوجاتا ہے۔ (واجر کبیر) ” اور بڑا اجر ہے “ اور یہ نعمتوں سے بھر پور جنت کے حصول میں کامیابی ہے، جس میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی نفس چاہت کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔
Read the full tafseer →28 ۔ صبر کرنے والوں کی استثنائی شان : سو ارشاد فرمایا گیا بجز ان لوگوں کے جو صبر و برداشت سے کام لیتے ہیں اور وہ کام بھی نیک کرتے ہیں۔ یعنی جو راہ حق پر صبر و استقامت سے کام لیتے ہیں۔ سو ایمان و یقین کی دولت ایک انقلاب آفرین دولت ہے کہ ایسے لوگ اپنے ایمان و عقیدہ اور تسلیم و رضا کی صفات حمیدہ کی بناء پر جب صبر و استقامت سے کام لیتے ہیں تو اس سے ایک طرف تو ان سے اس مصیبت کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے جو ان کو پہنچی ہوتی ہے اور دوسری اس سے وہ اپنے اجر وثواب کے ذخیرے میں بھی اضافہ کرتے ہیں جس سے ان کو دوسرے فائدوں کے علاوہ ایک خاص قسم کا قلبی سکون و اطمینان بھی ملتا ہے۔ سو ان کا معاملہ تنگ ظرف انسان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
دنیا دار، ناشکرے شخص کی نشانیاں اور صابر لوگوں کا اجر
تشریح : ان آیات میں انسان کی نفسیات بیان کی گئی ہیں کہ ایک کمزور ایمان والا شخص ذرا سی تکلیف پہنچنے پر سخت پریشان ہوجاتا ہے جو کہ توکل کی کمزوری ہوتی ہے بلکہ اللہ سے گلے شکوے شروع کردیتا ہے۔ جب خوشیاں اور فارغ البالی ملتی ہے تو بجائے شکر ادا کرنے کے اللہ کو بالکل ہی بھول جاتا ہے، حالانکہ مضبوط ایمان والے کی یہ نشانی ہے کہ وہ پریشانی میں صبر، استغفار اور دعا سے کام لیتا ہے جب خوش ہوتا ہے تو اللہ کو تب بھی یاد کرتا ہے اور اس کا شکر بجا لاتا ہے۔ ایسے لوگ اللہ کے پسندیدہ لوگ ہیں ان کے لیے بخشش اور بہت زیادہ ثواب کی خوشخبری ہے۔ کیونکہ وہ ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
آیات 9 تا 24
اسرار و معارف
عام انسان کا حال یہ ہے کہ اگر اس کے پاس اللہ کی نعمت ہو اور وہ چھن جائے یعنی مال وغیرہ میں نقصان ہوجائے یا صحت چلی جائے یا اقتدار و وقار جاتا رہے تو وہ بالکل ناامید ہوکرناشکری کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا لیکن اگر اسی کو پھر سے وہ نعمت لوٹادی جائے بیمار کو شفا ہوجائے یا پھر مالدار ہوجائے یاجلاوطنی کے بعد پھر سے اقتدار نصیب ہوجائے تو اترانے اور اکڑنے لگتا ہے اور کہتا ہے وہ دن اب لدگئے اب میرا کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور وہ طرح طرح کی شیخیاں بگھارتا ہے۔
معرفت باری کا اثر
یہ وہ تصویر ہے جو ہراس انسان کی ہے جسے معرفت باری نصیب نہیں مگر جن کو…
Read the full tafseer →ف 8 ۔ یعنی وہ ایسا نہیں کرتے بلکہ جب تکلیف آتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور جب خوشحالی اور نعمت سے سرفراز ہوتے ہیں تو شکر بجا لاتے ہیں۔ حدیث میں ہے ” مومن کے لئے ہر حالت خیرو برکت کا سبب بنتی ہے اسے تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے اور خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو شکر بجا لاتا ہے تو یہ بھی اس کے حق میں بہتر ہے۔ (ابن کثیر) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
(11:10) نعماء وہ انعام جس کا اثر پانے والے پر ظاہر ہو۔ مراد راحت و آسائش ۔ فرح۔ وہ لذت جو مطلوب کے حاصل ہونے پر دل میں پیدا ہوتی ہے۔ صفت مشبہ کا صیغہ خوش۔ اترانے والا۔ فرحت محسوس کرنے والا۔
فخور۔ مبالغہ کا صیغہ فخر مصدر۔ بہت زیادہ فخر کرنے والا۔ شیخی خور۔ یعنی وہ اترانے لگتا ہے کہ یہ مال و دولت کی فراوانی اور اقبال مندیاں اس کی ذاتی قابلیت کا نتیجہ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 11
اذقنا (ہم نے چکھا دیا) منا (ہم سے) نزعنا (ہم نے کھینچ لیا، واپس لے لیا) یئوس (مایوس ہوجاتا ہے) کفور (ناشکرا) نعمآء (نعمتیں) مستہ (اس کو پہنچتی ہے) السیئات (خرابیاں، برائیاں ) فرح (وہ اترانے والے فخور (شیخی بگھارنا، بڑائی کرنا) اجر کبیر (بہت بڑا بدلہ)
تشریح : آیت نمبر 9 تا 11
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے کہ :
ہم نے ان کو برو بحر یعنی خشکی اور تری میں عزت و سربلندی سے نوازا ہے اور ان کو ہر طرح کا پاکیزہ رزق عطا فرمایا ہے۔
دوسری جگہ ارشاد کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنا نائب اور خلیفہ بنا کر تمام فرشتوں کو اس کی عظمت کے سامنے سجدہ کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
مصیبت پر صابر اور نعمت پر شاکر رہنے کا ذکر
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی ناشکری کچھ قرآن کی نعمت کی ناقدری پر منحصر نہیں ہے، بلکہ ان کی ناشکری تو دنیا کی نعمتوں میں بھی ہے۔ چناچہ ان میں سے کسی کو اللہ اپنی رحمت کا اگر نمونہ دکھاتا ہے اور اس کے رزق میں ترقی کردیتا ہے تو یہ لوگ عیش و آرام میں پڑے رہتے ہیں۔ اور جب ان کے سر سے ذرا بھی اس رحمت کا سایہ الگ کرلیا تو ان کو آئندہ کی فلاحیت کی امید نہیں رہتی اور پچھلے عیش و آرام ان کے خیال سے بلکل جاتے رہتے ہیں۔ اور اگر اللہ تعالیٰ تکلیف کے بعد کسی کو خوش حال کردیتا ہے تو وہ بہت خوش ہوتا ہے اور اپنے مال پر اس قدر اترانے لگتا ہے کہ جس کا کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
[4] عرش سے مراد تخت حکومت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کی حکومت پانی پر تھی یا کسی ایسی چیز پر جسے پانی سے تعبیر کیا گیا ہے۔
[5] یعنی تخلیق کائنات کا مقصد یہ تھا کہ انسان کو دنیا میں پیدا کر کے اسے خلافت کے اختیارات سپرد کئے جائیں اور پھر دیکھا جائے کہ وہ اپنے اختیارات کس طرح استعمال کرتا ہے۔ بالفاظ دیگر دنیا انسان کے لئے امتحان گاہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
(ف 2) یعنی کائنات کی ابتدا پانی سے ہے ، (آیت) ” وجعلنا من المآء کل شی حی “۔ علم الحیات کے ماہرین بیشمار تجارب اور ارتقاء کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ زندگی کی ابتداء ان حیوانات سے ہوتی ہے جو بحری ہیں قرآن نے نہایت بہتر الفاظ میں علم الحیات کے اس مسئلہ کو بیان فرمایا ہے کہ خدا کا عرش حکومت ابتداء پانی سے وابستہ تھا ۔
(آیت) ” لیبلوکم “ میں مقصد حیات کی طرف اشارہ ہے ، یعنی تمہیں اس لئے پیدا کیا گیا ہے تاکہ بہترین اعمال سے زمین کو رشک فردوس بنا دو ۔
حل لغات :
دآبۃ : ہر جاندار زمین پر چلنے والا ۔
مستقر : جائے قرار ۔
مستودع : جہاں سونپاجائے امانت کا ،
امۃ : مدت ، زمانہ ۔
Read the full tafseer →1 1 مگر ہاں وہ لوگ جو ثابت قدم اور مستقل مزاج ہوتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں وہ ایسے نہیں ہوتے ایسے لوگوں کے لئے بڑی مغفرت اور بڑا اجر وثواب ہے یعنی کافر کی یہ حالت ہے کہ مصیبت پر صبر نہیں اور نعمت پر شکر نہیں نعمت چھن جائے تو پھر دوبارہ آنے کی توقع نہ رکھے اور دکھ کے بعد سکھ آجائے تو آپے سے باہر ہوجائے لیکن وہ لوگ جو صبر کے خوگر اور نیک کاموں کے پابند ہیں وہ ایسے چھچھورے اور ناسپاس نہیں ہوا کرتے بلکہ مصیبت پر صبر اور راحت پر شکر ان کا شیوہ ہوتا ہے اور وہی بڑے اجر و مغفرت کے مستحق ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
ف 5۔ مراد اس سے مومنین ہیں۔
6۔ وہ زوال نعمت کے وقت صبر سے کام لیتے ہیں اور عطائے نعمت کے وقت شکر وطاعت کہ حاصل ہے اعمال صالحہ کا بجالاتے ہیں۔
7۔ خلاصہ یہ کہ بجز مومنین کے اکثر آدمی ایسے ہی ہیں کہ ذرا سی میں نڈر ہوجائیں اس لیے یہ لوگ تاخیر عذاب کے سبب بےخوف اور منکر ہوگئے۔
Read the full tafseer →ان نا سمجھوں کے ساتھ کچھ سمجھ والے بھی ہیں جو فی الواقع اجر کے مستحق ٹھہریں گے
18 ؎ فرمایا اس عام حالت سے جس کا ذکر پچھلی آیات میں کیا گیا کچھ لوگ مستثنیٰ بھی ہیں جن کے اندر صبر و ثبات کی روح پیدا ہوگئی ہے اور جنہوں نے نیک عمل کی راہ اختیار کی وہ نہ تو مصیبت میں مایوس ہونے والے ہیں اور نہ عیش و راحت میں غافل و ناشکر گزار ۔ یہاں یہ بات اس لئے بیان کی گئی کہ منکرین حق عذاب کی خبر سن کر ہنسی اڑاتے تھے اور مومنوں پر مصیبت کی گھڑیاں شاق گزرتی تھیں پس فرمایا کہ منکروں کی یہ حالت کوئی معمولی حالت نہیں ہے۔ انسان خوشحالیوں میں پڑ کر اس طرح غافل ہوجاتا ہے اور ڈینگیں مارنے لگتا ہے لیکن مومنوں کو چاہئے…
Read the full tafseer →In order to make such perfect models of humanity distinct from those having common human temperament, it was said in the third verse (11): إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ (except those who are patient and do good deeds). It means that people exempted from this common human frailty have two qualities: صَبر Sabr (patience) and al-Amal as-Salih (good deeds).
The word: صَبر (sabr) is used to convey a much wider range of meanings in the Arabic language, much wider than conveyed by its translation as ` patience' in English. The real meaning of صَبر Sabr is to tie, check, stop…
Read the full tafseer →11. This brings out another aspect of 'patience'; a quality in sharp contrast to that undignified trait just mentioned. Those who are patient exhibit poise and equanimity in the midst of vicissitudes of fortune. They do not allow changes of fortune to change their attitude and character. If circumstances are favourable and they enjoy wealth, power and fame, that does not make them power-drunk. Again, when they are visited with adversity, their dignity is not crushed out of all existence. Whenever God puts them to any test - be it that of prosperity or of adversity - they maintain their…
Read the full tafseer →