Explained with ayahs 12–14
کافروں کی تنقید کی پر اہ نہ کریں
کافروں کی زبان پر جو آتا وہی طعنہ بازی رسول اللہ ﷺ پر کرتے ہیں اسلیے اللہ تعالیٰ اپنے سچے پیغمبر کو دلاسا اور تسلی دیتا ہے کہ آپ نہ اس سے کام میں سستی کریں، نہ تنگ دل ہوں یہ تو ان کا شیوہ ہے۔ کبھی وہ کہتے ہیں اگر یہ رسول ہے تو کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے ؟ بازاوں میں کیوں آتا جاتا ہے ؟ اس کی ہم نوائی میں کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتر ؟ اسے کوئی خزانہ کیوں نہیں دیا گیا ؟ اس کے کھانے کو کوئی خاص باغ کیوں نہیں بنایا گیا ؟ مسلمانوں کو طعنہ دیتے ہیں کہ تم تو اس کے پیچھے چل رہے ہو۔ جس پر جادو کردیا گیا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے پیغمبر آپ ملول خاطر نہ ہوں، آزردہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
سورة هُوْد 13
اس ارشاد کا مطلب سمجھنے کے لیے ان حالات کو پیش نظر رکھنا چاہیے جن میں یہ فرمایا گیا ہے۔ مکہ ایک ایسے قبیلے کا صرف مقام ہے جو تمام عرب پر اپنے مذہبی اقتدار، اپنی دولت و تجارت اور اپنے سیاسی دبدبے کی وجہ سے چھایا ہوا ہے۔ عین اس حالت میں جب کہ یہ لوگ اپنے انتہائی عروج پر ہیں اس بستی کا ایک آدمی اٹھتا ہے اور علی الاعلان کہتا کہ جس مذہب کے تم پیشوا ہو وہ سراسر گمراہی ہے، جس نظام تمدن کے تم سردار ہو وہ اپنی جڑ تک گلا اور سڑا ہوا نظام ہے، خدا کا عذاب تم پر ٹوٹ پڑنے کے لیے تلا کھڑا ہے اور تمہارے لیے اس سے بچنے کی کوئی صورت اس کے سوا نہیں کہ اس مذہب حق اور اس نظام صالح کو قبول کرلو جو…
Read the full tafseer →چوتھی آیت ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئی ہے، واقعہ یہ تھا کہ مشرکین مکہ نے آنحضرت ﷺ کے سامنے مختلف قسم کی فرمائشیں پیش کیں ایک یہ کہ اس قرآن میں ہمارے بتوں کو برا کہا گیا ہے اس لئے ہم اس پر ایمان نہیں لاسکتے، اس لئے یا تو آپ کوئی دوسرا قرآن لائیں یا اسی میں بدل کر ترمیم کردیں، ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَيْرِ ھٰذَآ اَوْ بَدِّلْهُ (بغوی، مظہری)
دوسرے یہ کہ ہم آپ کے رسول ہونے پر جب یقین کریں کہ یا تو دنیا کے بادشاہوں کی طرح آپ پر کوئی خزانہ نازل ہوجائے جس سے سب کو بخشش کریں، یا پھر کوئی فرشتہ آسمان سے آجائے وہ آپ کے ساتھ یہ تصدیق کرتا پھرے کہ بیشک یہ اللہ کے رسول ہیں۔
رسول کریم ﷺ ان کی لغو و بیہودہ…
Read the full tafseer →پیغمبر ﷺ کو تسلی : فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا يُوْحٰٓى اِلَيْكَ وَضَاۗىِٕقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ يَّقُوْلُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ كَنْزٌ اَوْ جَاۗءَ مَعَهٗ مَلَكٌ ۭ اِنَّمَآ اَنْتَ نَذِيْرٌ ۭ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ۔
یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے کہ تم ان لوگوں کے رویے سے برداشتہ خاطر ہو کر اپنے فرض کی ادائیگی میں ذرا ڈھیلے نہ پڑنا۔ اگر یہ تمہیں خدا کا رسول ماننے کے لیے یہ شرط ٹھہراتے ہیں کہ تمہارے پاس بہت بڑا خزانہ ہو یا تمہارے ساتھ کوئی فرشتہ تمہاری رسالت کی گواہی دیتا پھرے تو اس قسم کے احمقانہ طالبات تمہارے لیے وجہ پریشانی نہ ہوں۔ تم صرف ان کے لیے نذیر بنا کر بھیجے…
Read the full tafseer →12۔ 1 مشرکین نبی کی بابت کہتے رہتے تھے کہ اس کے ساتھ کوئی فرشتہ نازل کیوں نہیں ہوتا، یا اس کی طرف سے کوئی خزانہ کیوں نہیں اتار دیا جاتا، ایک دوسرے مقام پر فرمایا گیا ' ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ آپ کی بابت جو باتیں کہتے ہیں ' ان سے آپ کا سینہ تنگ ہوتا ہے۔ سورة الحجر اس آیت میں انہی باتوں کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ شاید آپ کا سینہ تنگ ہو اور کچھ باتیں جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہیں اور وہ مشرکین پر گراں گزرتی ہیں ممکن ہے آپ وہ انھیں سنانا پسند نہ کریں آپ کا کام صرف انذار و تبلیغ ہے، وہ آپ ہر صورت میں کئے جائیں۔
Read the full tafseer →9: مشرکین آنحضرت ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ ہمارے بتوں کو برا کہنا چھوڑ دیں تو ہمارا آپ سے کوئی جھگڑا نہیں رہے گا۔ اس کے جواب میں آنحضرت ﷺ سے فرمایا گیا ہے کہ آپ کے لیے یہ تو ممکن نہیں ہے کہ جو وحی آپ پر نازل کی جا رہی ہے، اس کا کوئی حصہ آپ ان لوگوں کو راضی کرنے کے لیے چھوڑ بیٹھیں۔ لہذا ان کی ایسی باتوں سے آپ زیادہ رنجیدہ نہ ہوں، کیونکہ آپ کا کام تو یہ ہے کہ انہیں حقیقت سے آگاہ فرما دیں اس کے بعد یہ لوگ مانیں، یا نہ مانیں، یہ آپ کی نہیں، خود ان کی ذمہ داری ہے۔ اور یہ لوگ جو فرمائشیں کر رہے ہیں کہ آپ پر کوئی خزانہ نازل ہو، تو بھلا نبوت کا خزانے سے کیا تعلق ہے ؟ تمام تر اختیار اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔…
Read the full tafseer →اللہ کی مخلوقات میں سے جو لوگ سنن الہیہ سے واقف نہیں ہوتے ، اللہ کی حکمت تخلیق سے وہ بےبہرہ ہوتے ہیں۔ وہ کم فہم ، غافل ، مایوس ، متکبر اور جھوٹی باتوں پر فخر کرنے والے ہوتے ہیں جن کو معلوم نہیں ہے کہ رسولوں کے بھیجنے کی حکمت کیا ہوتی ہے اور پھر یہ کہ رسول انسانوں میں سے کیوں بھیجے گئے ہیں اس قسم کے لوگ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ خود رسول فرشتہ کیوں نہیں ہے یا اس کے ساتھ فرشتہ مامور کیوں نہیں ہے ؟ یہ لوگ رسول اور رسالت کے مقام سے اس قدر بیخبر ہوتے ہیں کہ رسول کے لیے مالدار ہونا ضروری خیال کرتے ہیں۔ یہ لوگ جھوٹے عقائد میں گم رہتے ہیں اور یہ لوگ تکذیب کے لیے اس قسم کے بھونڈے جواز تلاش کرتے ہیں۔ لہذا…
Read the full tafseer →3 مشرکین مکہ شرک و بت پرستی کی تردید سے بہت غیظ کھاتے تھے مشرکانہ خرافات پر جس قدر ان کی تحمیق و تجہیل کی جاتی اسی قدر ان کے غصہ کی آگ بھڑکتی تھی۔ کبھی کوشش کرتے تھے کہ آپ کو اس معاملہ میں ذرا ڈھیلا کردیں اور اس سب سے بڑے اور بنیادی مسئلہ کی تبلیغ میں نرمی اور تساہل برتنے پر آمادہ کریں جب ادھر سے مایوس ہوتے تو محض دق کرنے کو عجیب بیہودہ فرمائشیں کرنے لگتے مثلا یہ کہتے کہ آپ سچے ہیں اور منصب رسالت پر مامور ہو کر آئے ہیں تو آپ کے ساتھ خدا کے یہاں سے مال و دولت کا بڑا خزانہ آنا چاہیے تھا۔ یا آسمان سے ایک فرشتہ آتا جو آپ کے ہمراہ تصدیق کے لیے ہر طرف جایا کرتا۔ (لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ كَنْزٌ…
Read the full tafseer →وَضَاۗىِٕقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ يَّقُوْلُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ كَنْزٌ اَوْ جَاۗءَ مَعَهٗ مَلَكٌ ۭ
یہ مضمون اس سے پہلے بڑی وضاحت کے ساتھ سورة الانعام میں آچکا ہے لیکن زیر مطالعہ گروپ کی مکی سورتوں میں بھی جا بجا مشرکین کی ایسی باتوں کا ذکر ملتا ہے۔ اس لیے کہ ان دونوں گروپس میں شامل یہ تمام مکی سورتیں ایک ہی دور میں نازل ہوئی ہیں۔
یہاں مکی سورتوں کی ترتیب مصحف کے بارے میں ایک اہم نکتہ سمجھ لیں۔ رسول اللہ کے قیام مکہ کے بارہ سال کے عرصے کو اگر چار چار سال کے تین حصوں میں تقسیم کریں تو پہلے حصے یعنی پہلے چار سال میں جو سورتیں نازل ہوئیں وہ قرآن مجید کے آخری دو گروپوں میں شامل ہیں ‘ یعنی…
Read the full tafseer →15 آپ قریش مکہ کے معبودوں کو نہ کوئی گالی دیتے تھے اور نہ ہی انھیں برا بھلا کہتے تھے بلکہ صرف یہ کہتے تھے کہ تمہارے یہ معبود نہ کسی کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ سنوار سکتے ہیں اور اسی بات پر مشرکین چڑ جاتے تھے کیونکہ اس بات کو وہ اپنے معبودوں کی بھی توہین تصور کرتے تھے اپنی بھی اور اپنے آباؤ اجداد کی بھی۔ اس بات کا کوئی معقول جواب تو ان کے پاس تھا نہیں اس کے بجائے وہ یہ کرتے کہ کبھی اللہ تعالیٰ کی آیات کا مذاق اڑانے لگتے، کبھی تکذیب کرتے اور کبھی کچھ اعتراضات یا مطالبے شروع کردیتے ممکن ہے ان کی مسلسل اس قسم کی حرکات کے نتیجہ میں آپ کے دل میں یہ خیال آیا ہو کہ انھیں ایسی آیات سنانے کا کیا فائدہ…
Read the full tafseer →15۔ (رسول معصوم سے اس کا وقوع ممکن کیونکر ہے) (آیت) ” لعل “۔ کے عام معنی توقع وترجی کے ہیں۔ اس صورت میں بےتکلف توجیہ کلام یہ ہوگی کہ یہ کافر اور منکر آپ ﷺ سے اس جزئی ترک تبلیغ کی لو لگائے بیٹھے ہیں۔ ای یظن بک الناس ذلک (راغب) اے انک بلغت من التھالک علی ایمانھم مبلغا یرجون ان تترک بعض ما یوحی الیک (ابو البقاء) اور یہ آپ ﷺ کے لئے عصمت رسالت کی بنا پر ممتنع ہے۔ تو آپ ﷺ کو چاہیے کہ آپ باب تبلیغ میں اور زیادہ مستعد وباہمت ہوجائیں۔ والمقصود من ذلک تحریضہ ﷺ وتھییج داعیتہ لاداء الرسالۃ (روح) باقی لعل کا استعمال محاورۂ عرب میں علاوہ ترجی کے موقع تبعید پر بھی ہوتا ہے۔ یعنی اظہار بعد کے لئے اس صورت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
آیت نمبر 9 تا 24
ترجمہ : اور اگر ہم کافر انسان کو اپنی رحمت) مثلاً ( مالداری اور صحت سے نوازنے کے بعد اس کو رحمت سے محروم کردیتے ہیں تو وہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہو کر اس رحمت کی بےحد ناشکری کرنے لگتا ہے، اور اگر اس مصیبت کے بعد جو اس پر آپڑی تھی) مثلاً ( فقر اور سختی، ہم اس کو نعمتوں کا مزا چکھا دیتے ہیں تو کہنے لگتا ہے کہ میرے سب دکھ دور ہوگئے اور ان نعمتوں کے زوال کا خیال بھی نہیں کرتا اور نہ ان پر شکر ادا کرتا ہے) اور ( وہ اترانے لگتا ہے اور جو کچھ اس کا دیا گیا ہے اس کی وجہ سے لوگوں پر شیخی بگھارنے لگتا ہے، مگر جو لوگ مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں اور نعمتوں میں نیک عمل کرتے ہیں یہی ہیں وہ لوگ…
Read the full tafseer →فلعلک تارک بعض ما یوحی الیک سو شاید آپ (تنگ ہو کر) ان احکام میں سے چند جو وحی کے ذریعہ سے آپ کے پاس بھیجے جاتے ہیں ‘ چھوڑ دینے والے ہیں۔
بغوی نے لکھا ہے کہ مشرکوں نے کہا تھا : کوئی ایسا قرآن پیش کرو جس میں ہمارے معبودوں کو برا نہ کہا گیا ہو۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اس قول پر بعض ما یوحٰی سے مراد ہوگی وہ وحی جس میں کافروں کے معبودوں کو برا کہا گیا ہو۔
(چونکہ آیت میں لفظ لَعَلَّآیا ہے جس کا معنی ہے شاید ‘ توقع ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی شان کے خلاف تھا کہ وہ کافروں کی رعایت سے وہ آیات بیان کرنا ترک کردیتے جن کے اندر مشرکوں کے بتوں کو برا کہا گیا ہے ‘ پھر شاید اور توقع ہے کہنے کا کیا مکان تھا ‘…
Read the full tafseer →(12) محمد ﷺ قرآن کریم میں جو تبلیغ رسالت اور ان کفار کے معبودوں کی تردید اور برائی بیان کرنے کا حکم دیا گیا ہے، سو شاید ان کے مذاق سے تنگ آکر آپ اس کو چھوڑ دینا چاہتے ہیں۔
اور ان امور کے پورا کرنے میں آپ کا دل کفار مکہ کی اس بات سے تنگ ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ محمد ﷺ پر آسمان سے کوئی خزانہ کیوں نہیں نازل ہوا تاکہ آپ عیش و عشرت کے ساتھ زندگی گزارتے یا ان کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا جو ان کی نبوت کی گواہی دیتا، آپ تو اے محمد ﷺ صرف ڈرانے والے پیغمبر ہیں اور ان کی باتوں اور ان کو عذاب دینے پر پورا اختیار رکھنے والا اور اس کا علم رکھنے والا اللہ ہی ہے۔
Read the full tafseer →فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا يُوْحٰٓى اِلَيْكَ۔۔ : کفار ہر وقت کوئی نہ کوئی معجزہ لانے کی فرمائش کرتے رہتے تھے کہ آپ پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟ چلیے آپ احد پہاڑ ہی سونے کا بنا دیجیے، یا کوئی فرشتہ ہی ساتھ لے آئیے۔ ان کی عجیب و غریب فرمائشوں کا ذکر سورة بنی اسرائیل (90 تا 93) اور سورة فرقان (7، 8) میں کچھ تفصیل کے ساتھ ہے۔ ان آیات میں آپ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ ان کے شبہات، مطالبات اور طعن و تشنیع سے تنگ آ کر آپ پریشان اور غم زدہ نہ ہوجائیں، بلکہ شرک کی مذمت کے لیے اور توحید کے اثبات کے لیے جو بھی وحی آئے آپ کسی بھی کمی بیشی کے بغیر ان تک پہنچاتے رہیں۔ یہ نہ ہو کہ وحی کا وہ حصہ حذف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
آیت نمبر 12 تا 13
اللہ تعالیٰ کا فرمان : فلعلک تارک بعض مایوحٰٓی الیک یعنی شاید آپ ان کی طرف سے جو کفر اور تکذیب دیکھتے ہیں اس کو بڑا خیال کریں اور یہ گمان کریں کہ وہ آپ کو وحی کے بعض حصہ سے ہٹا دیں گے۔ ایک قول یہ ہے : جب انہوں نے کہا لو لا انزل علیہ کنز اوجآء معہ ملکتو آپ نے ارادہ فرمایا کہ آپ ان کے بتوں کو برا بھلا کہنا چھوڑ دیں گے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ کلام کا معنی استفہام ہے یعنی کیا آپ چھوڑیں گے جو قرآن میں ان کے بتوں کو برا بھلا کہا گیا ہے جس طرح کہ وہ آپ سے سوال (مطالبہ) کرتے ہیں ؟ اور آپ پر تبلیغ کے سلسلہ میں اللہ ے تعالیٰ نے امر کو اور زیادہ پختہ فرما دیا جس طرح اللہ تعالیٰ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–14
1:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جب (آیت ) ” اقترب للناس حسابہم “ (الانبیاء آیت) نازل ہوئی تو لوگوں نے کہا قیامت قریب آگئی تو وہ (بڑے کاموں سے) رک گئے وہ تھوڑا سا وقت رکے رہے پھر وہ اپنے برے اعمال کی طرف لوٹ آئے تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” اتی امر اللہ فلا تستعجلوہ “ (رحمۃ اللہ علیہالنحل) تو لوگوں نے کہا یہ گمراہ ہونے والے ہیں اللہ کا حکم تحقیق آچکا تو قوم رک گئی پھر اپنے تدبیروں کی طرف لوٹ آئی تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری ” ولئن اخرنا عنہم العذاب الی امۃ معدودۃ “۔
2:۔ ابن جریر وابن منذر (رح) نے ابن جریر اور ابن المنذر (رح) نے فرمایا کہ (آیت) امۃ…
Read the full tafseer →فَلَعَلَّكَ [ پس شائد کہ آپ ] تَارِكٌۢ [ چھوڑنے والے ہوں ] بَعْضَ مَا [ اس کے بعض کو جو ] يُوْحٰٓى [ وحی کیا گیا ] اِلَيْكَ [آپ کی طرف ] وَضَاۗىِٕقٌۢ [ اور تنگ ہونے والا ہو ] بِهٖ صَدْرُكَ [ آپ کا سینہ اس سے ] اَنْ [ کہ ] يَّقُوْلُوْا [ وہ لوگ کہیں گے ] لَوْلَآ [ کیوں نہیں ] اُنْزِلَ [ اتارا گیا ] عَلَيْهِ [ ان پر ] كَنْزٌ [ کوئی خزانہ ] اَوْ [ یا ] جَاۗءَ [ (کیوں نہیں ) آیا ] مَعَهٗ [ ان کے ساتھ ] مَلَكٌ ۭ [ کوئی فرشتہ ] اِنَّمَآ اَنْتَ [ کچھ نہیں آپ تو بس ] نَذِيْرٌ ۭ [ خبردار کرنے والے ہیں ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز پر ] وَّكِيْلٌ [ نگہبان ہے ]
(آیت ۔ 12) اسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
منکرین کو چیلنج کہ قرآن جیسی دس سورتیں بنا کر لائیں
شروع سورت میں اللہ تعالیٰ کی توحید بیان فرمائی اور اس کی صفت قدرت صفت رازقیت اور صفت خالقیت کو بیان فرمایا پھر بعث بعد الموت کے منکرین کی تردید فرمائی۔ پھر انسان کا مزاج بتایا کہ وہ نعمتوں کے چلے جانے پر ناامید اور ناشکرا ہوجاتا ہے۔ اور نعمتیں ملنے پر شیخی بگھارتا ہے اور فخر و غرور میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ انسان کی یہ صفات آخرت پر ایمان نہیں لانے دیتی ہیں اللہ تعالیٰ شانہ نے اپنی کتاب اور اپنے رسول ﷺ کے ذریعہ توحید کی بھی دعوت دی اور آخرت پر ایمان لانے کا بھی حکم فرمایا لیکن یہ لوگ نہ اللہ کے رسول کو مانتے تھے اور نہ اللہ کی کتاب پر ایمان لاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
بیان نوع دیگر از طعنہائے کفار ناہنجار و تسلی نبی اکرم ﷺ
قال اللہ تعالیٰ فلعلک تارک بعض ما یوحی الیک ........ الی ....... فہل انتم مسلمون۔
(ربط) اس سورت کا آغاز قرآن کریم کے ذکر سے فرمایا جس کے ساتھ ساتھ یہ بتلایا کہ قرآن کا موضوع دعوت توحید ہے اور آنحضرت ﷺ خدائے تعالیٰ کی جانب سے بشیر و نذیر ہیں۔ اس لیے بھیجے گئے ہیں کہ تم ناشائستہ اعمال سے توبہ کرو۔ مگر وہ لوگ قرآن کو سحر اور آپ ﷺ کو ساحر بتلاتے تھے اب ان آیات میں ان کی دوسری ناشائستہ اور طعن آمیز باتوں کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ لوگ آپ ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں اور آپ ﷺ کا استہزاء اور تمسخر کرتے ہیں اور احکام الٰہی کو سن کر ان کا مذاق اڑاتے ہیں اور آپ…
Read the full tafseer →15: تیسرا دعوی : مایوحی کی تبلیغ میں کوتاہی نہ ہونے پائے۔ یہ تیسرے دعوے کا بیان ہے اگر مسئلہ توحید بیان کرنے پر مشرکین طرح طرح کے طعن اور اعتراض کریں تکلیفیں اور اذیتیں پہنچانے کی کوشش کریں مثلًا وہ کہیں کہ اگر یہ پیغمبر خدا ہے تو اس کے پاس دولت دنیا کے خزانے کیوں نہیں یا اس کے ساتھ فرشتہ کیوں نہیں آیا جو لوگوں میں اس کی صداقت کا اعلان کرتا پھرے۔ ایسا نہ ہو خہ ان کی باتوں سے آپ تنگدل اور آزردہ خاطر ہو کر مَا یُوْحیٰ اِلَیْکَ (مسئلہ توحید) کے بعض پہلوؤں کو بیان ہی نہ کریں۔ آپ ان کے مطاعن و اعتراضات کی پرواہ نہ کریں اور مسئلہ کھول کر بیان کریں۔ اِنَّمَا انْتَ نَذِیْرٌ : آپ کی ذمہ داری اور ڈیوٹی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
ربط آیات
دعوت الی التوحید کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے علم محیط اور قدرت تامہ کا ذکر فرمایا ۔ اس سے پہلے تمام جاندار کی روزی کا ذمہ اٹھایا اور ہر ایک کے مستقر اور مستودع کے علم کا ذکر کیا۔ پھر تخلیق کائنات کا ذکر کیا جو کہ اس کی وحدانیت اور قدرت تامہ دلیل ہے آسمان و زمین کی پیدائش اور عرش الٰہی کا ذکر ہوا۔ تخلیق کائنات کا مقصد انسانوں کی مصلحت بیان فرمایا اور انسانوں کی تخلیق کو ان کی آزمائش کا مقصود بنایا کہ ان میں سے کون اچھے اعمال انجام دیتا ہے اور کون برائیوں کا ارتکاب کرتا ہے۔ فرمایا یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی جانب سے برحق ہے۔ فرمایا اگر نافرمانوں پر خدا کی گرفت موخر ہوجائے تو وہ…
Read the full tafseer →فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا يُوْحٰٓى اِلَيْكَ وَضَاۗىِٕقٌۢ بِہٖ صَدْرُكَ اَنْ يَّقُوْلُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْہِ كَنْزٌ اَوْ جَاۗءَ مَعَہٗ مَلَكٌ 0 ۭ اِنَّمَآ اَنْتَ نَذِيْرٌ 0 ۭ وَاللہُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ 12 ۭ
لعل
لَعَلَّ : طمع وإشفاق، وذکر بعض المفسّرين أنّ «لَعَلَّ» من اللہ واجب، وفسّر في كثير من المواضع ب «كي» ، وقالوا : إنّ الطّمع والإشفاق لا يصحّ علی اللہ تعالی، و «لعلّ» وإن کان طمعا فإن ذلك يقتضي في کلامهم تارة طمع المخاطب، وتارة طمع غيرهما . فقوله تعالیٰ فيما ذکر عن قوم فرعون : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40]
( لعل ) لعل
( حرف ) یہ طمع اور اشفاق (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–19
ترکیب : صدرک مرفوع ہے ضائق کا فاعل ہو کر جو معتمد علیہ مبتداء ہے اور ممکن ہے کہ وہ مبتداء اور ضائق خبر مقدم ہو ان یقولوا ای مخافۃ ان یقولہ افمن کان موضع رفع میں ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے اور خبر محذوف ہے تقدیرہ افمن کان علی ھذہ الاشیاء کغیرہ۔
تفسیر : فرمایا تھا کہ منکروں سے جو مرنے کے بعد زندہ ہونے کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کا انکار کرتے ہیں اور ان کے اس کفر کی سزا یعنی عذاب کو جو ہم نے ابھی ان پر نہیں بھیجا ذکر کیا جاتا ہے تو کس دلیری اور استقلال سے کہتے ہیں کہ وہ کیوں نہیں آتا ؟ کس نے روک رکھا ہے ؟ اب یہاں فرماتا ہے کہ ان کی یہ سب باتیں ہماری دنیاوی نعمت اور راحت کی وجہ سے ہیں اور ان پر کچھ…
Read the full tafseer →فَلَعَلَّکَ تَارِکٌ م بَعْضَ مَا یُوْحٰیٓ اِلَیْکَ وَضَائِقٌ م بِہٖ صَدْرُکَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ کَنْزٌ اَوْ جَآئَ مَعَہٗ مَلَکٌطاِنَّمَآ اَنْتَ نَذِیْرٌط وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ وَّکِیْلٌ۔
(سورۃ ہود : 12)
(شاید آپ چھوڑ دینے والے ہیں اس چیز کا کچھ حصہ جو آپ پر وحی کی جاتی ہے۔ اور تنگ ہو رہا ہے اس سے آپ کا سینہ اس اندیشہ سے کہ وہ کہیں گے کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اتارا گیا یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا۔ آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا نگہبان ہے۔ )
اس آیت کریمہ پر سرسری نگاہ ڈالنے سے جو مفہوم سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ اے پیغمبر !…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : صبر کا اجروثواب ذکر کرنے کے بعدرسول محترم ﷺ کو تسلی اور اطمینان دلایا گیا ہے۔ جس میں بالواسطہ صبر کی ترغیب دی گئی ہے۔
رسول محترم ﷺ بےپناہ اخلاص اور انتھک محنت کے ساتھ صبح وشام لوگوں کو سمجھاتے کہ جس راہ پر تم چلے جا رہے ہو یہ تمہیں تباہی کے گھاٹ اتار دے گا۔ لیکن لوگ سمجھنے کی بجائے آپ ﷺ کی ذات اقدس پر مختلف قسم کے الزامات اور آپ سے الٹے سیدھے مطالبات کرتے۔ ان مطالبات میں یہ مطالبے بھی تھے کہ تم کیسے رسول ہو کہ نہ تیری تائید اور حمایت کے لیے فرشتہ بھیجا گیا اور نہ ہی تجھے خوشحالی حاصل ہے۔ تیرے پاس تو کثیر مال ہونا چاہیے تھا۔ اس کے جواب میں ایک طرف رسول محترم ﷺ کو تسلی دی…
Read the full tafseer →12: کفار آپ سے آیات کا سوال کرتے مگر ہدایت کیلئے نہیں بلکہ ضد کی وجہ سے کیونکہ اگر وہ رشد و ہدایت کے طالب ہوتے تو لائی جانے والی آیات میں سے ایک بھی راہنمائی کے لئے کافی تھی۔ ان کے بےجا مطالبات میں سے ایک یہ تھا کہ اس کے پاس خزانہ کیوں نہیں یا اسکے ساتھ فرشتہ کیوں نہیں وہ قرآن مجید کو کچھ نہیں سمجھتے تھے۔ اس کے متعلق بتکلف سستی کا اظہار کرتے۔ رسول اللہ ﷺ کا سینہ مبارک اس بات سے تنگی محسوس کرتا آپ پر وہ چیز ڈالی جارہی ہے جس کو وہ قبول نہیں کرتے بلکہ اس سے ہنستے ہیں اس آیت میں آپ کو فریضہ رسالت کی ادائیگی پر آمادہ کیا گیا اور ان کے قرآن مجید کو مسترد کرنے کی بالکل پرواہ نہ کرنے کا حکم فرمایا۔…
Read the full tafseer →12۔ ” فلعلک “ اے محمد ﷺ ” تارک بعض مایوحیٰ الیک “ کہ وہ ان کو نہ پہنچائیں ۔ اس کی صورت یہ ہوئی کہ کفار مکہ نے جب کہا ” ائت بقرآن غیر ھذا “ جس میں ہمارے معبودوں کو برا بھلا نہ کہا گیا ہو تو نبی کریم ﷺ نے ارادہ کیا کہ ظاہر ا ً ان کے معبودوں کو چھوڑ دیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ۔
” فلعلک تارک بعض ما یوحیٰ الیک “ یعنی معبودوں کو برا کھلا کہنا ” وضائق بہ صدرک “ شاید کہ آپ کو دلی تنگی ہو رہی ہے ” ان یقولوا لولا انزل علیہ کنز “ جس کو خرچ کرے ” او جاء معہ ملک “ یا کوئی فرشتہ جو اس کی تصدیق کرے ۔ اس بات کو عبد اللہ بن امیہ مخزو می نے کہا تھا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” انما انت نذیر “ آپ تو صرف…
Read the full tafseer →12۔ اس آیت کی شان نزول اور اس آیت کے معنے بیان کرنے سے پہلے ایک تمثیل بیان کی جاتی ہے اس تمثیل کے سمجھ لینے کے بعد اس آیت کا مطلب اور اس آیت کی شان نزول دونوں خوب سمجھ میں آجاویں گے وہ تمثیل یہ ہے کہ فرض کیا جاوے کہ ایک شخص زید اہل حرفت ہے اور اس نے بڑی محنت سے بہت دنوں میں ایک کام سیکھا اور اب اس کی عمر بھی اس قابل نہیں کہ وہ دوسرا کوئی کام سیکھ سکے اور خاندان اور برادری کے وتیرہ اور عادت سے یہ ممکن بھی نہیں کہ زید دوسرا کام کرسکے۔ ایسی حالت میں زید اپنا کام کرتے کرتے اپنے کام میں کچھ دقتیں پا کر اپنے کسی دوست سے ان دقتوں کو بیان کرے اور زید کا دوست فہمائش کے طور پر زید سے یہ کہے کہ کیا تم…
Read the full tafseer →اللہ تبارک وتعالیٰ کی تکذیب پر اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے : (فلعلک تارک بعض ما یوحی الیک وضائق بہ صدرک ان یقولوا) ” شاید آپ پر کچھ چیز وحی میں سے جو آپ کے پاس آتی ہے چھوڑ دیں اور اس (خیال) سے آپ کا دل تنگ ہو کہ یہ (کافر) کہنے لگیں “ یعنی آپ جیسی ہستی لائق نہیں کہ ان کا قول آپ پر اثر انداز ہو اور آپ کو اپنے راستے سے روک دے اور آپ وحی کے کچھ حصے کو ترک کردیں اور ان کی عیب چینی اور ان کے اس قول پر تنگ دل ہوں کہ (لولا انزل علیہ کنز اوجاء معہ ملک) ” کیوں نہ اترا اس پر خزانہ یا کیوں نہ آیا اس کے ساتھ فرشتہ “ کیونکہ یہ قول عیب چینی، ظلم، عناد اور دلائل سے جہالت کی بنا پر جنم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
30 ۔ پیغمبر کے لیے تسلیہ و تسکین کا سامان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر کا اصل کام تبلیغ و انذار ہے اور بس۔ سو آپ کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا اور بطور استفہام ارشاد فرمایا گیا کہ کیا آپ اس وحی کا کچھ حصہ چھوڑ دیں گے جو آپ کی طرف کی جاتی ہے۔ اور آپ کا سینہ تنگ ہو رہا ہے ان لوگوں کی ایسی اور ایسی انہونی باتوں کی بناء پر۔ استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہونے کا اور نہیں کرنے کا بلکہ آپ ان لوگوں کی باتوں کی پرواہ کئے بغیر اور ان کے ان الٹے سیدھے مطالبات پر کان دھرے بغیر اس وحی کو پورے کا پورا لوگوں تک پہنچا دیں جو آپ کی طرف بھیجی جاتی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
مشرکین کو دس سورتوں کی مثل بنانے کا چیلنج
تشریح : ان آیات میں نبی اکرم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے۔ کیونکہ آپ بظاہر بالکل کمزور تھے مالی اور وسائل کے لحاظ سے آپ تنہا بےآسرا تھے۔ آپ کے پاس صرف صادق و امین ہونے کی سند تھی۔ کیونکہ بچپن سے آپ اس قدر شریف النفس، ایماندار اور نیک انسان تھے کہ سب آپ کی عزت کرتے تھے۔ لیکن جب آپ نے نبوت کا دعو ٰی کیا توحید کا پیغام دیا بتوں کی اصلیت بتائی تو تمام اہل مکہ آپ کے دشمن ہوگئے۔ کوئی آپ کا مذاق اڑاتا، کوئی دھمکیاں دیتا، کوئی آوازے کستا، کوئی تکلیفیں پہنچاتا، غرض ہر طرف آپکے دشمن ہی دشمن تھے تو ایسے میں اللہ تعالیٰ آپ کو تسلی دیتے ہیں کہ میں تمہارے ساتھ ہوں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
آیات 9 تا 24
اسرار و معارف
عام انسان کا حال یہ ہے کہ اگر اس کے پاس اللہ کی نعمت ہو اور وہ چھن جائے یعنی مال وغیرہ میں نقصان ہوجائے یا صحت چلی جائے یا اقتدار و وقار جاتا رہے تو وہ بالکل ناامید ہوکرناشکری کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا لیکن اگر اسی کو پھر سے وہ نعمت لوٹادی جائے بیمار کو شفا ہوجائے یا پھر مالدار ہوجائے یاجلاوطنی کے بعد پھر سے اقتدار نصیب ہوجائے تو اترانے اور اکڑنے لگتا ہے اور کہتا ہے وہ دن اب لدگئے اب میرا کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور وہ طرح طرح کی شیخیاں بگھارتا ہے۔
معرفت باری کا اثر
یہ وہ تصویر ہے جو ہراس انسان کی ہے جسے معرفت باری نصیب نہیں مگر جن کو…
Read the full tafseer →ف 9 ۔ ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ ان کے شبہات، مطالبات اور طعن وتشنیع سے تنگ آکر کبیدہ خاطر نہ ہوجائیں بلکہ مشرک کی مذمت اور توحید کے اثبات کے متعلق جو وحی بھی آئے اسے بلا کم وکاست ان تک پہنچاتے ہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ وحی کا وہ حصہ حذف کردیں جس میں بتوں کی عیب جوئی ہے۔ (ابن کثیر) ۔
1 ۔ یعنی آپ ﷺ نے عذاب سے ڈرانے ولا بنا کر بھیجا ہے لہذا بلو خوف لومۃ لائم آپ ﷺ اس فریضہ کو سرانجام دیتے ہیں۔ (از وحیدی) ۔
2 ۔ یعنی ان کے مطالبات کو پورا کرنا یا نہ کرنا اللہ کا کام ہے۔ ہر چیز اسی کے اختیار میں ہے۔ وہ اگر چاہے تو آپ ﷺ کا ایک خزانہ کیا روئے زمین کے تمام خزانے دے دے گا اور ایک فرشتہ کیا…
Read the full tafseer →(11:12) لعلک۔ لعل اور ک پر مشتمل ہے۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر ہے اور لعل حرف مشابہ بفعل ہے۔ حرف عامل ہے اسم کو نصب دیتا ہے اور خبر کو رفع۔ ان یا ان۔ کان لیت لکن لعل۔ ناصب اسم اندرافع درخبر ضدما ولا۔ امید و خوف پر دلالت کرنے کیلئے آتا ہے۔
(1) امید کا رجوع کبھی متکلم کی طرف ہوتا ہے ۔ جیسے لعلنا نتبع السحرۃ (26:40) فرعون کی قوم والوں نے کہا ” ہم کو امید ہے کہ (اگر وہ جیت گئے تو) ہم جادوگروں کی پیروی کریں گے “۔ یہاں امید کا رجوع خود یہ کلام کرنے والوں کی طرف تھا۔
(2) کبھی مخاطب کو امید دلانے اور امیدوار رکھنے کے لئے آتا ہے اس وقت امید کا رجوع مخاطب کی طرف آتا ہے کیونکہ امید و بیم کی کیفیت مخاطب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
لغات القرآن آیت نمبر 12 تا 14
لعلک (شاید کہ آپ) تارک (چھوڑنے والا) ضائق (تنگ ہونے والا) کنز (خزانہ) ملک (فرشتہ) عشر سور (دس سورتیں) مفتریت (گھڑی گئیں) استطعتم (تم میں طاقت ہو، استطاعت ہو) لم یستجیبوا (انہوں نے جواب نہ دیا) اعلموا (تم جان لو) مسلمون (فرماں بردار، گردن جھکانے والے )
تشریح : آیت نمبر 12 تا 14
نبی کریم ﷺ کو اللہ نے اس لئے مبعوث فرمایا تھا تاکہ بھٹکے ہوئے لوگوں کو اس صراط مستقیم کی طرف دعوت دیں جن میں ان کی حقیقی کامیابی اور بھلائی ہے۔ جب آپ اللہ کے پیغام کو پہنچانے کی کوشش فرماتے تو کفار و مشرکین چاروں سے آپ کو عاجز و بےبس کرنے کے لئے طرح طرح کے اعتراضات کرتے تاکہ نبی کریم ﷺ یا…
Read the full tafseer →حضور ﷺ کو تبلیغ کا حکم
شان نزول : عبد اللہ بن امیہ مخزومی نے رسول کریم ﷺ سے کہا تھا کہ اگر آپ سچے ہیں اور آپ کا خدا ہر چیز پر قادر ہے تو اس نے آپ پر خزانہ کیوں نہیں اتارا، یا آپ کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا جو آپ کی رسالت کی گواہی دیتا اس پر یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ اے نبی اللہ ﷺ کے ! یہ تو ممکن نہیں کہ ان کفار مکہ کی ایسی باتیں بنانے پر تم ان کی مخالفت طبیعت آیتوں کو ان کو سنانا چھوڑ دو ۔ کیونکہ کل نبی اس بات سے معصوم پیدا کئے گئے ہیں کہ وہ اللہ کا ہر طرح کا حکم صاف صاف بغیر اپنے ذاتی تصرف کے امت کو پہنچا دیویں۔ اس لئے جب تک اللہ تعالیٰ تم کو قت دیوے اور ان کافروں کو زیر کرے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
[4] عرش سے مراد تخت حکومت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کی حکومت پانی پر تھی یا کسی ایسی چیز پر جسے پانی سے تعبیر کیا گیا ہے۔
[5] یعنی تخلیق کائنات کا مقصد یہ تھا کہ انسان کو دنیا میں پیدا کر کے اسے خلافت کے اختیارات سپرد کئے جائیں اور پھر دیکھا جائے کہ وہ اپنے اختیارات کس طرح استعمال کرتا ہے۔ بالفاظ دیگر دنیا انسان کے لئے امتحان گاہ ہے۔
Read the full tafseer →خزائن رحمت کی فراوانی :
(ف 1) حضور ﷺ شفقت و رحمت کے پیکر تھے ، تمام تکالیف جو دعوت تبلیغ کی پیش آتیں ، بخندہ پیشانی برداشت کرتے ، قوم کی مخالفت کی ذرہ برابر پرواہ نہ کرتے ، گالیوں ، اور طعنوں اور الزاموں کو سنتے اور صبر کرتے ، دن رات قوم کی اصلاح کے درپے رہتے مگر جب کھلا اور واضح عنا د کی واشگاف دشمنی دیکھتے ، تو پھر فطرتا آپ کو تکلیف محسوس ہوتی ، اور اس وقت آپ باوجود تحمل و برداشت کے گھبرا اٹھتے ، کیونکہ قوم جب تک بےعلم رہے جاہل اور ناآشنا ہو ، مرشد کامل کا فرض ہے کہ اسے سمجھائے مگر جب جان بوجھ کر بار بار مخالفت وعداوت کی جائے اس وقت ایک مخلص رہنما کو طبعا دکھ ہوتا ہے ، اور یہ دیکھ نتیجہ…
Read the full tafseer →12 سو شاید جو احکام آپ کی جانب وحی کے ذریعہ بھیجے گئے ہیں کیا ان میں سے آپ بعض احکام کی تبلیغ کو چھوڑ دیناچاہتے ہیں اور آپ کا دل کافروں کی اس بات سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ شخص نبی ہے تو اس پر کوئی خزانہ کیوں نہیں نازل ہوا یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نازل نہیں ہوا اے پیغمبر آپ تو ان کفار کو صرف ڈرانے والے ہیں اور ہر شئی پر مختار کار اور پورا اختیار رکھنے والا تو اللہ ہی ہے یعنی کیا ایسا ممکن ہے کہ آپ کفار کی باتوں سے تنگ ہوکر احکام کی تبلیغ یا احکام کے کچھ حصے کی تبلیغ ترک کردیں تو آپ ایسا نہیں کرسکتے پھر ان کے لغو اعتراضات سے تنگ دل نہ ہوا کیجئے کوئی فرشتہ ان کے ہمراہ کیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
ف 5۔ مراد اس سے مومنین ہیں۔
6۔ وہ زوال نعمت کے وقت صبر سے کام لیتے ہیں اور عطائے نعمت کے وقت شکر وطاعت کہ حاصل ہے اعمال صالحہ کا بجالاتے ہیں۔
7۔ خلاصہ یہ کہ بجز مومنین کے اکثر آدمی ایسے ہی ہیں کہ ذرا سی میں نڈر ہوجائیں اس لیے یہ لوگ تاخیر عذاب کے سبب بےخوف اور منکر ہوگئے۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! کیا آپ ﷺ ایسا کریں گے کہ بعض وحی کی گئی باتوں کو ترک کردیں ؟
19 ؎ دنیا میں ایک انسان کی زبان سے جتنی باتیں نکل سکتی ہیں ان میں کوئی بات بھی اس سے بڑھ کر بوجھل اور تھکا دینے والی نہیں کہ ایک آدمی ایک مطمئن اور خوش و خرم قوم کے سامنے آکھڑا ہو اور اچانک اعلان کر دے کہ ” تمہاری ہلاکت کی گھڑی سر پر آگئی ، اگر سر کشی سے باز نہ آئو گے تو نیست و نابود کردیئے جائو گے “ کتنا بڑا اور عجیب اعلان ہے ؟ کتنی عظیم اس کی ذمہ داری ہے ؟ اور کس درجہ مافوق انسانیت صبر و تحمل کی ضرورت ہے کہ وہ سب کچھ جھیل لیا جائے جو یہ اعلان سن کر لوگوں کی زبان سے نکلے گا ؟ لیکن اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو یہ بوجھ…
Read the full tafseer →The fourth verse (12) has been revealed about a particular event. What happened was that the Mushriks of Makkah placed a host of demands before the Holy Prophet One of these was, ` our idols have been maligned in this Qur'an, therefore, we cannot believe in it. So, you should either bring some other Qur'an, or improve it by making alterations in it:;i ائْتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هَـٰذَا أَوْ بَدِّلْ (Bring a Qur'an other than this, or change it - Yunus, 10:15) '. (Al-Baghawi, Mazhari)
Another demand they came up with was, ` we are to believe in your prophesy only when some treasure, like the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
13. In order to fully understand the verse one should take mental note of the circumstantial background of its revelation. At the time this verse was revealed, Makka was the centre of the Quraysh who had a preponderant influence over the whole of Arabia because of their religious prestige, wealth, trade, and political power. At the very moment when the Quraysh were at the zenith of their power and authority, a Makkan - the Prophet - stood up and vehemently denounced the religion of which they were custodians as a bundle of ignorance and error. He also condemned the social system of which they…
Read the full tafseer →