Explained with ayahs 12–14
کافروں کی تنقید کی پر اہ نہ کریں
کافروں کی زبان پر جو آتا وہی طعنہ بازی رسول اللہ ﷺ پر کرتے ہیں اسلیے اللہ تعالیٰ اپنے سچے پیغمبر کو دلاسا اور تسلی دیتا ہے کہ آپ نہ اس سے کام میں سستی کریں، نہ تنگ دل ہوں یہ تو ان کا شیوہ ہے۔ کبھی وہ کہتے ہیں اگر یہ رسول ہے تو کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے ؟ بازاوں میں کیوں آتا جاتا ہے ؟ اس کی ہم نوائی میں کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتر ؟ اسے کوئی خزانہ کیوں نہیں دیا گیا ؟ اس کے کھانے کو کوئی خاص باغ کیوں نہیں بنایا گیا ؟ مسلمانوں کو طعنہ دیتے ہیں کہ تم تو اس کے پیچھے چل رہے ہو۔ جس پر جادو کردیا گیا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے پیغمبر آپ ملول خاطر نہ ہوں، آزردہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
سورة هُوْد 13
اس ارشاد کا مطلب سمجھنے کے لیے ان حالات کو پیش نظر رکھنا چاہیے جن میں یہ فرمایا گیا ہے۔ مکہ ایک ایسے قبیلے کا صرف مقام ہے جو تمام عرب پر اپنے مذہبی اقتدار، اپنی دولت و تجارت اور اپنے سیاسی دبدبے کی وجہ سے چھایا ہوا ہے۔ عین اس حالت میں جب کہ یہ لوگ اپنے انتہائی عروج پر ہیں اس بستی کا ایک آدمی اٹھتا ہے اور علی الاعلان کہتا کہ جس مذہب کے تم پیشوا ہو وہ سراسر گمراہی ہے، جس نظام تمدن کے تم سردار ہو وہ اپنی جڑ تک گلا اور سڑا ہوا نظام ہے، خدا کا عذاب تم پر ٹوٹ پڑنے کے لیے تلا کھڑا ہے اور تمہارے لیے اس سے بچنے کی کوئی صورت اس کے سوا نہیں کہ اس مذہب حق اور اس نظام صالح کو قبول کرلو جو…
Read the full tafseer →آیات مذکورہ میں مشرکین کی طرف سے خاص قسم کے معجزات کا مطالبہ تھا، اگلی آیتوں میں ان کو اس بات سے آگاہ کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا معجزہ قرآن ایک ایسا معجزہ تمہارے سامنے آچکا ہے جس کے معجزہ ہونے کا تم بھی انکار نہیں کرسکتے، تو اگر یہ معجزات کا مطالبہ نیک نیتی سے رسول کی سچی حقانیت معلوم کرنے کے لئے ہے تو وہ پورا ہوچکا اور اگر محض عناد کے لئے ہے تو اگر تمہارے مطلوبہ معجزات بھی دکھلا دیئے جائیں تو اہل عناد سے کیا توقع ہے کہ ان کو دیکھ کر بھی وہ اسلام قبول کریں گے، بہرحال قرآن کریم کا واضح معجزہ ہونا ناقابل انکار ہے۔
اس پر مشرکین و کفار کی طرف سے جو غلط شبہات پیدا کئے گئے ان کی تردید اگلی دو آیتوں…
Read the full tafseer →مخالفین قرآن کو متبادل کلام پیش کرنے کا چیلنج : اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ ۭ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَيٰتٍ وَّادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۔
یہ استفہام اظہار تعجب کی نوعیت کا ہے۔ اوپر کے اعتراضات تو سادہ اسلوب میں نقل کردیے ہیں، لیکن قرآن کو پیغمبر کی گھڑی ہوئی کتاب قرار دینا ایک نہایت عجیب بات تھی۔ بالخصوص ان لوگوں کی زبان سے جو کلام کے حسن و قبح کے نقاد اور اس کے ایجاز و اعجاز کے قدر دان بھی تھے اور موازنہ اور مقابلہ کے لیے ان کے پاس اپنے چوٹی کے شاعروں اور خطیبوں کے کلام کا ایک دفتر بھی موجود تھا۔ اس وجہ سے اس کا ذکر…
Read the full tafseer →13۔ 1 امام ابن کثیر لکھتے ہیں کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے چلینج دیا کہ اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے کہ یہ محمد ﷺ کا بنایا ہوا قرآن ہے، تو اس کی نظیر پیش کر کے دکھا دو ، اور تم جس کی چاہو، مدد حاصل کرلو، لیکن تم کبھی ایسا نہیں کرسکو گے۔ فرمایا " قُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓي اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا " 17۔ الاسراء :88) (اعلان کر دیجئے کہ اگر تمام انسان اور کل جنات مل کر اس قرآن کے مثل لانا چاہیں تو ان سب سے اس کے مثل لانا مشکل ہے، گو وہ آپس میں ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں) اس کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
10: شروع میں ان کو دس سورتیں قرآن جیسی بنا کر لانے کا چیلنج دیا گیا تھا۔ بعد میں اس چیلنج کو مزید آسان کردیا گیا۔ اور سورة بقرہ (23:2) اور سورة یونس (38:10) میں صرف ایک سورت بنا کر لانے کو کہا گیا۔ مگر مشرکین عرب جو اپنی فصاحت و بلاغت پر ناز کرتے تھے، ان میں سے کوئی بھی چیلنج کو قبول نہ کرسکا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ایک دوسری بات جسے وہ بار بار دہراتے چلے جاتے تھے ، یہ کہ حضور نبی کریم ﷺ اس کتاب کو اپنی جانب سے پیش کر رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ تم اس جیسی دس سورتیں تو بنا لاؤ اور اس مہم میں پورے جہاں سے مدد بھی لے لو۔
قدماء مفسرین نے کہا ہے یہ چیلنج علی الترتیب تھا۔ پہلے یہ تھا کہ اس قرآن جیسا قرآن لاؤ، پھر دس سورتوں کا چیلنج تھا ، آخر میں ایک سورت کا چیلنج دیا گیا۔ لیکن اس چیلنج کی اس مخصوص ترتیب پر کوئی منقول دلیل نہیں ہے۔ بظاہر دلیل اس کے خلاف ہے کیونکہ سورة یونس اس سورت سے پہلے نازل شدہ ہے اور اس میں ایک سورت کا چیلنج دیا گیا ہے اور زیر نظر سورت اس کے بعد نازل ہوئی ہے۔ اور اس میں دس سورتوں کا چیلنج ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
4 یعنی فرمائشی معجزے طلب کرتے ہیں، جن کا دیا جانا مصلحت نہیں۔ اور جو سب سے بڑا معجزہ (قرآن) ان کے سامنے ہے، اسے مانتے نہیں، کہتے ہیں یہ تو (معاذ اللہ) تمہاری بنائی ہوئی گھڑت ہے۔ اس کا جواب دیا کہ تم بھی آخر عرب ہو، فصاحت و بلاغت کا دعویٰ رکھتے ہو، سب مل کر ایسی ہی دس سورتیں گھڑ کر پیش کردو اور اس کام میں مدد دینے کے لیے تمام مخلوق کو بلکہ اپنے ان معبودوں کو بھی بلا لاؤ جنہیں خدائی کا شریک سمجھتے ہو اگر نہ کرسکو اور کبھی نہ کرسکو گے تو سمجھ لو کہ ایسا کلام خالق ہی کا ہوسکتا ہے جس کا مثل لانے سے تمام مخلوق عاجز رہ جائے۔ تو یقینا یہ وہ کلام ہے جو خدا نے اپنے علم کامل سے پیغمبر پر اتارا ہے۔ بیشک…
Read the full tafseer →قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَيٰتٍ
مشرکین کو یہ چیلنج مختلف درجوں میں بار بار دیا گیا تھا۔ اس سے پہلے انہیں کہا گیا تھا کہ اس جیسا قرآن تم بھی بنا کر دکھاؤ بنی اسرائیل : 88۔ یہاں دوسرے درجے میں 10 سورتوں کا چیلنج دیا گیا۔ پھر اس کے بعد برسبیل تنزل صرف ایک سورت بناکر لانے کو کہا گیا ‘ جس کا تذکرہ سورة یونس آیت 38 میں بھی ہے اور سورة البقرۃ آیت 23 میں بھی۔
Read the full tafseer →16 قرآن جیسی سورت بنا لانے کا چیلنج :۔ قریش مکہ کا آپ کی نبوت سے انکار کے معاملہ میں ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے کہاں ؟ یہ تو تمہارا اپنا تصنیف کردہ ہے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے انھیں چیلنج کیا کہ اگر تم اپنے اس دعویٰ میں سچے ہو تو تم بھی اس جیسی دس سورتیں بنا کے دکھا دو ۔ واضح رہے کہ یہاں تو کفار سے دس سورتیں بنا کر لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے جبکہ سورة یونس کی آیت نمبر 37، 38 میں صرف ایک سورت بنا لانے کا مطالبہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ سورة یونس، سورة ہود کے بعد نازل ہوئی تھی اسی طرح سورة بقرہ کی آیت نمبر 23 میں بھی صرف ایک ہی سورت بنا لانے کا مطالبہ کیا گیا…
Read the full tafseer →17۔ (اپنے اس پندار باطل میں کہ قرآن ایک انسانی تصنیف ہے۔ ) آج کے ” روشن دماغ فرنگی محققین “ ہی کی طرح عرب جاہلیت کے ” روشن خیال “ بھی اپنی اس تحقیق پر نازاں تھے کہ قرآن کلام محمدی ﷺ ہے ان کے اس خیال کے جواب میں ان سے ارشاد ہورہا ہے کہ اچھا اگر محمد ﷺ ایسے کلام کے اتنے بڑے مجموعہ پر قادر ہوسکتے ہیں تو تم کیوں نہیں قادر ہوسکتے ؟ تم میں سے ایک ایک نہ سہی تم سب مل ملا کر اپنے سارے حمایتیوں کو شریک کر کرا کے تو اس قرآن کا کوئی تھوڑا سا حصہ تو تیار کر ہی سکتے ہو۔ پھر آؤ اس میں دیر ہی کیا ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
آیت نمبر 9 تا 24
ترجمہ : اور اگر ہم کافر انسان کو اپنی رحمت) مثلاً ( مالداری اور صحت سے نوازنے کے بعد اس کو رحمت سے محروم کردیتے ہیں تو وہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہو کر اس رحمت کی بےحد ناشکری کرنے لگتا ہے، اور اگر اس مصیبت کے بعد جو اس پر آپڑی تھی) مثلاً ( فقر اور سختی، ہم اس کو نعمتوں کا مزا چکھا دیتے ہیں تو کہنے لگتا ہے کہ میرے سب دکھ دور ہوگئے اور ان نعمتوں کے زوال کا خیال بھی نہیں کرتا اور نہ ان پر شکر ادا کرتا ہے) اور ( وہ اترانے لگتا ہے اور جو کچھ اس کا دیا گیا ہے اس کی وجہ سے لوگوں پر شیخی بگھارنے لگتا ہے، مگر جو لوگ مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں اور نعمتوں میں نیک عمل کرتے ہیں یہی ہیں وہ لوگ…
Read the full tafseer →ام یقولون افترا ہ قل فاتوا بعشر سور مثلہ کیا کفار کہتے ہیں کہ محمد ﷺ نے قرآن خود اپنی طرف سے بنا لیا ہے ؟ آپ کہہ دیجئے : (اگر یہ بات ہے) تو پھر تم بھی اس جیسی دس سورتیں بنا کر پیش کرو۔
ایک شبہ : سورة یونس میں آیا ہے : فَأتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّثْلِہٖایک سورت اس جیسی پیش کرو۔ مگر غیر مسلم ایک سورت بھی قرآن جیسی پیش نہیں کرسکے ‘ اب یہاں دس سورتیں پیش کرنے کی دعوت دی گئی ‘ اس کے کیا معنی ؟ جو شخص سائل کو ایک روپیہ دینے سے قاصر رہا ہو ‘ اس سے کیا دس روپے طلب کئے جاسکتے ہیں ؟ کیا اس قسم کا کلام نامناسب بلکہ مہمل نہیں سمجھا جائے گا ؟
ازالہ : سورة ہود کی یہ آیت جس میں دس سورتیں پیش کرنے کی دعوت دی گئی…
Read the full tafseer →(13) بلکہ مکہ کے کافر تو نعوذ باللہ یوں کہتے ہیں کہ قرآن کریم کو رسول اکرم ﷺ نے خود گھڑ لیا ہے اور پھر ہمارے پاس لے کر آئے ہیں۔
اے محمد ﷺ آپ ان سے جواب میں کہہ دیجیے کہ تم بھی قرآن کریم جیسی دس سورتیں ذرا بنا کرلے آؤ جیسا کہ سورة بقرہ آل عمران، نساء مائدہ، انعام، اعراف، انفال، توبہ، یونس اور ہود ہیں۔
اور اپنے تمام معبودوں سے بھی اس بات میں مدد طلب کرلو اگر تم سچے ہو کہ محمد ﷺ نے اس قرآن کو اپنے پاس سے بنایا، چناچہ اس کے بعد وہ خاموش ہوگئے۔
Read the full tafseer →اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ ۭ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ۔۔ : یعنی اگر تمہیں اس قرآن کے اللہ تعالیٰ کا کلام ہونے میں شک و شبہ ہے تو تم سب جمع ہو کر اس چیلنج کا جواب دینے کی کوشش کرو۔ واضح رہے کہ قرآن میں متعدد مرتبہ اہل عرب کو چیلنج کیا گیا ہے۔ سورة بنی اسرائیل (88) اور سورة طور (34) میں پورے قرآن کی مثل لانے کا چیلنج کیا گیا ہے۔ اس کے بعد یہاں سورة ہود میں دس سورتوں کا چیلنج کیا گیا ہے۔ پھر سورة یونس اور بقرہ میں ایک سورت کا۔ لیکن اہل عرب پورا قرآن یا دس سورتیں تو کیا ایک سورت بھی بنا کر پیش نہ کرسکے۔ یہ قرآن کے کلام اللہ ہونے کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔ (ابن کثیر) یاد رہے کہ قرآن مجید کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
آیت نمبر 12 تا 13
اللہ تعالیٰ کا فرمان : فلعلک تارک بعض مایوحٰٓی الیک یعنی شاید آپ ان کی طرف سے جو کفر اور تکذیب دیکھتے ہیں اس کو بڑا خیال کریں اور یہ گمان کریں کہ وہ آپ کو وحی کے بعض حصہ سے ہٹا دیں گے۔ ایک قول یہ ہے : جب انہوں نے کہا لو لا انزل علیہ کنز اوجآء معہ ملکتو آپ نے ارادہ فرمایا کہ آپ ان کے بتوں کو برا بھلا کہنا چھوڑ دیں گے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ کلام کا معنی استفہام ہے یعنی کیا آپ چھوڑیں گے جو قرآن میں ان کے بتوں کو برا بھلا کہا گیا ہے جس طرح کہ وہ آپ سے سوال (مطالبہ) کرتے ہیں ؟ اور آپ پر تبلیغ کے سلسلہ میں اللہ ے تعالیٰ نے امر کو اور زیادہ پختہ فرما دیا جس طرح اللہ تعالیٰ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–14
1:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جب (آیت ) ” اقترب للناس حسابہم “ (الانبیاء آیت) نازل ہوئی تو لوگوں نے کہا قیامت قریب آگئی تو وہ (بڑے کاموں سے) رک گئے وہ تھوڑا سا وقت رکے رہے پھر وہ اپنے برے اعمال کی طرف لوٹ آئے تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” اتی امر اللہ فلا تستعجلوہ “ (رحمۃ اللہ علیہالنحل) تو لوگوں نے کہا یہ گمراہ ہونے والے ہیں اللہ کا حکم تحقیق آچکا تو قوم رک گئی پھر اپنے تدبیروں کی طرف لوٹ آئی تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری ” ولئن اخرنا عنہم العذاب الی امۃ معدودۃ “۔
2:۔ ابن جریر وابن منذر (رح) نے ابن جریر اور ابن المنذر (رح) نے فرمایا کہ (آیت) امۃ…
Read the full tafseer →اَمْ [ یا ] يَقُوْلُوْنَ [ وہ لوگ کہیں گے ] افْتَرٰىهُ ۭ [ اس نے گھڑا ہے اس کو (یعنی قرآن کو ) ] قُلْ [ آپ کہئے ] فَاْتُوْا [ تو تم لوگ لے آؤ] بِعَشْرِ سُوَرٍ [ دس سورتیں ] مِّثْلِهٖ [ اس کے مانند ] مُفْتَرَيٰتٍ [ گھڑی ہوئی ] وَّادْعُوْا [ اور تم لوگ بلالو ] مَنِ [ اس کو جس کو ] اسْتَطَعْتُمْ [ (بلانے کی ) تم استطاعت رکھتے ہو ] مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] اِنْ [ا گر ] كُنْتُمْ [ تم لوگ ] صٰدِقِيْنَ [ سچ کہنے والے ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
منکرین کو چیلنج کہ قرآن جیسی دس سورتیں بنا کر لائیں
شروع سورت میں اللہ تعالیٰ کی توحید بیان فرمائی اور اس کی صفت قدرت صفت رازقیت اور صفت خالقیت کو بیان فرمایا پھر بعث بعد الموت کے منکرین کی تردید فرمائی۔ پھر انسان کا مزاج بتایا کہ وہ نعمتوں کے چلے جانے پر ناامید اور ناشکرا ہوجاتا ہے۔ اور نعمتیں ملنے پر شیخی بگھارتا ہے اور فخر و غرور میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ انسان کی یہ صفات آخرت پر ایمان نہیں لانے دیتی ہیں اللہ تعالیٰ شانہ نے اپنی کتاب اور اپنے رسول ﷺ کے ذریعہ توحید کی بھی دعوت دی اور آخرت پر ایمان لانے کا بھی حکم فرمایا لیکن یہ لوگ نہ اللہ کے رسول کو مانتے تھے اور نہ اللہ کی کتاب پر ایمان لاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
بیان نوع دیگر از طعنہائے کفار ناہنجار و تسلی نبی اکرم ﷺ
قال اللہ تعالیٰ فلعلک تارک بعض ما یوحی الیک ........ الی ....... فہل انتم مسلمون۔
(ربط) اس سورت کا آغاز قرآن کریم کے ذکر سے فرمایا جس کے ساتھ ساتھ یہ بتلایا کہ قرآن کا موضوع دعوت توحید ہے اور آنحضرت ﷺ خدائے تعالیٰ کی جانب سے بشیر و نذیر ہیں۔ اس لیے بھیجے گئے ہیں کہ تم ناشائستہ اعمال سے توبہ کرو۔ مگر وہ لوگ قرآن کو سحر اور آپ ﷺ کو ساحر بتلاتے تھے اب ان آیات میں ان کی دوسری ناشائستہ اور طعن آمیز باتوں کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ لوگ آپ ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں اور آپ ﷺ کا استہزاء اور تمسخر کرتے ہیں اور احکام الٰہی کو سن کر ان کا مذاق اڑاتے ہیں اور آپ…
Read the full tafseer →17: یہ شکویٰ ہے۔ مشرکین آنحضرت ﷺ کا پیش کردہ دعویٰ (کہ اللہ کے یہاں کوئی شفیع غالب نہیں) تو مانتے نہ تھے اور الٹا اکثر یہ الزام دہرایا کرتے تھے کہ محمد ﷺ یہ قرٓان اپنے پاس سے بنا کر خدا کی طرف منسوب کردیتا ہے اور یہ اللہ کا کلام نہیں ہے۔ قُلْ فَاتُوْا الخ : یہ جواب شکوی ہے فرمایا آپ جواب میں کہہ دیں اگر میں ایسا قرآن بنا سکتا ہوں تو تم بھی ایسی دس سورتیں بنا کرلے آؤ کیونکہ تم بھی اہل لسان ہو اور دنیا تمہاری فصاحات وبلاگت کو لوہا مانتی ہے اور پھر اس کام میں اپنی مدد کے لیے اللہ کے ماسوی جس جس سے کام لے سکتے ہو اس کو بلالو اور اپنی اجتماعی طاقت سے اس کام کو انجام دینے کی کوشش کرلو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
ربط آیات
گذشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تسلی دی کہ مشرکوں اور کافروں کے اعتراضات کی وجہ سے آپ اپنے مشن کو نہ چھوڑیں۔ یہ لوگ تو بیہودہ اعتراض کرتے ہی رہتے ہیں۔ لہٰذا آپ کو دل میں کسی قسم کی تنگی محسوس نہیں کرنی چاہیے کہتے ہیں کہ آپ کے پاس خزانہ کیوں نہیں ہوتا یا آپ کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں ہوتا تو فرمایا آپ کہہ دیں کہ خزانوں اور فرشتوں کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے ، میرا کام تو خبردار اور برے انجام سے ڈرانا ہے۔
اب آج کی آیات میں قرآن پاک کی صداقت وحقانیت کی دلیل پیش کی گئی ہے کفار ومشرکین اللہ کی کتاب کے متعلق شکوک و شبہات کا اظہار کرتے تھے ، اللہ نے یہ دلیل پیش کی ہے کہ اگر تم قرآن…
Read the full tafseer →اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىہُ 0 ۭ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِہٖ مُفْتَرَيٰتٍ وَّادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ 13
أَمْ»حرف
إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه : أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–19
ترکیب : صدرک مرفوع ہے ضائق کا فاعل ہو کر جو معتمد علیہ مبتداء ہے اور ممکن ہے کہ وہ مبتداء اور ضائق خبر مقدم ہو ان یقولوا ای مخافۃ ان یقولہ افمن کان موضع رفع میں ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے اور خبر محذوف ہے تقدیرہ افمن کان علی ھذہ الاشیاء کغیرہ۔
تفسیر : فرمایا تھا کہ منکروں سے جو مرنے کے بعد زندہ ہونے کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کا انکار کرتے ہیں اور ان کے اس کفر کی سزا یعنی عذاب کو جو ہم نے ابھی ان پر نہیں بھیجا ذکر کیا جاتا ہے تو کس دلیری اور استقلال سے کہتے ہیں کہ وہ کیوں نہیں آتا ؟ کس نے روک رکھا ہے ؟ اب یہاں فرماتا ہے کہ ان کی یہ سب باتیں ہماری دنیاوی نعمت اور راحت کی وجہ سے ہیں اور ان پر کچھ…
Read the full tafseer →اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰہُ ط قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِہٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (سورۃ ہود : 13)
(کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس کو گھڑ لیا ہے۔ کہہ دیجیے کہ تم لے آؤ اس جیسی گھڑی ہوئی دس سورتیں اور بلا لوجن کو تم بلا سکتے ہو اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو۔ )
مخالفین قرآن کو متبادل کلام پیش کرنے کا چیلنج
” ام “ حرف استفہام ہے۔ یہ جس طرح کسی بات کو پوچھنے کے لیے آتا ہے اسی طرح اظہارِ تعجب کے لیے بھی آتا ہے یہاں اسی مقصد کے لیے آیا ہے۔ پروردگار تعجب کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عجیب بات ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
فہم القرآن
ربط کلام : کفار کی مزید ہرزہ سرائی۔ رسول اللہ ﷺ کی مزید تسلی کے لیے کفار کو چیلنج کہ اس قرآن جیسی دس سورتیں بنالاؤ۔
انسان جب جان بوجھ کر ضد اور کفرکا راستہ اختیار کرلے۔ تو پھر اسے کسی دلیل سے مطمئن نہیں کیا جاسکتا۔ رسول معظم ﷺ کے مخالفوں کی یہی حالت تھی کہ وہ کسی صورت میں بھی آپ کو رسول ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ لیکن جب آپ ﷺ کی سیرت اور دلائل کے مقابلے میں لاجواب ہوجاتے تو پھر قرآن مجید کی تکذیب کرتے۔ اس میں بھی ان کا موقف تبدیل ہوتا رہتا تھا۔ ایک بار کہتے کہ یہ شخص اپنی طرف سے کلام بنا کر اللہ کے ذمہ لگاتا ہے۔ دوسری مرتبہ یہ کہتے کہ یہ روم کے فلاں شخص سے کلام سیکھ کر ہمارے سامنے…
Read the full tafseer →دس سورتوں سے چیلنج :
13: اَمْ یَقُوْلُوْنَ (کیا وہ یہ کہتے ہیں) امؔ منقطعہ ہے۔ افْتَرٰ ہُ (اس کو بنا لیا ہے) ہٗ کی ضمیر وحی کی طرف جارہی ہے۔ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ (ان کو کہہ دو تم دس سورتیں لے آئو) پہلے دس سورتوں سے ان کو چیلنج دیا پھر ایک سورت سے جیسا خط میں مقابلہ کرنے والا اپنے مقابل کو کہے دس سطر اس طرح کی لکھو جیسی میں نے لکھی ہیں۔ جب اس کا عجز معلوم ہوجاتا ہے تو پھر اسکو کہتا ہے میں تیرے متعلق ایک سطر پر اکتفاء کرتا ہوں کہ وہ تو لکھ کر دکھا دے۔ دس نہ سہی۔
مِّثْلِہٖ (جو اسکی مثل ہو) حسن و خوبی میں اور مثلہ کا معنی امثالہ ہے ان میں سے ہر ایک مماثلت کی طرف بہت زیادہ جانے والی ہو۔…
Read the full tafseer →تفسیر 13۔” ام یقولون افتراہ “ بلکہ وہ کہتے ہیں آپ نے اس کو گھڑ لیا ہے ” قل فاتوا بعشر سورة مثلہ مفتریات “ اگر یہ اعتراض ہو کہ سورة یونس میں فرمایا ” فاتوا بسورۃ مثلہ “ وہ اس سے عاجز تھے پھر ان کو یہ کیسے کہہ دیا کہ ” فاتوا بعشر سود مثلہ “ یہ تو ایسے ہوگیا کہ کوئی آدمی دوسرے کو کہے مجھے ایک درہم دے وہ اس سے عاجز ہو تو اس کو کہے مجھے دس درہم دے ؟ اس کا جواب بعض حضرات کی طرف سے یہ دیا گیا ہے کہ سورة ہودپہلے نازل ہوئی تھی اور سورة یونس بعد میں ۔ لیکن مبرد (رح) نے اس کا انکار کیا اور فرمایا کہ سورة یونس پہلے نازل ہوئی تھی اور سوال کا جواب یہ دیا کہ سورة یونس میں ” فاتوا بسورۃ مثلہ “ کا معنی یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
13۔ 14۔ اوپر گزرا کہ آنحضرت ﷺ کو کفار جھٹلاتے تھے اور طعن کرتے تھے کہ اگر تم سچے ہو کہ تمہیں خدا نے بھیجا ہے تو اس سے کہو وہ آسمان سے تم کو خزانہ بھیج دے اور یہ بھی کہتے تھے کہ تمہارے ساتھ کوئی فرشتہ آسمان سے آنا چاہیے تھا جو تمہارے رسول ہونے کی تصدیق کرتا اس پر اللہ پاک نے اپنے رسول کی تسلی کی کہ تم ان مشرکوں کی باتوں پر نہ جاؤ تم سے پہلے بھی رسولوں کو لوگوں نے جھٹلایا ہے تم تو ڈرانے کے واسطے آئے ہو اس لئے تم اپنا کام کئے جاؤ خدا ہر شئی کا نگہبان ہے جو کچھ یہ لوگ بکتے ہیں سب وہ سنتا ہے وقت مقررہ پر ان لوگوں کو اس جھٹلانے کی حقیقت معلوم ہوجاوے گی اب ان آیتوں میں فرمایا یہ لوگ یہی کہتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →(ام یقولون افترہہ) ” کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس (قرآن) کو از خود بنا لیا ہے “ یعنی اس قرآن کو محمد ﷺ نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا : (قل) ان سے ” کہہ دیجیے ! “ (فاتو بعشر سورمثلہ مفتریت وادعو من استطعتم من دون اللہ ان کنتم صدقین) ” اگر سچے ہو تو تم بھی ایسی دس صورتیں بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جس جس کو بلا سکتے ہو بلا لو۔ “ یعنی اگر اس قرآن کو تمہارے قول کے مطابق۔۔۔ محمد ﷺ نے اپنی طرف سے تصنیف کیا ہے، تب تو فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے تمہیں اور محمد ﷺ کے درمیان کوئی فرق نہیں اور تم حقیقی دشمن ہو اور محمد ﷺ کی دعوت کے ابطال کے لئے انتہائی حریص ہو۔۔۔ اگر تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
30 ۔ پیغمبر کے لیے تسلیہ و تسکین کا سامان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر کا اصل کام تبلیغ و انذار ہے اور بس۔ سو آپ کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا اور بطور استفہام ارشاد فرمایا گیا کہ کیا آپ اس وحی کا کچھ حصہ چھوڑ دیں گے جو آپ کی طرف کی جاتی ہے۔ اور آپ کا سینہ تنگ ہو رہا ہے ان لوگوں کی ایسی اور ایسی انہونی باتوں کی بناء پر۔ استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہونے کا اور نہیں کرنے کا بلکہ آپ ان لوگوں کی باتوں کی پرواہ کئے بغیر اور ان کے ان الٹے سیدھے مطالبات پر کان دھرے بغیر اس وحی کو پورے کا پورا لوگوں تک پہنچا دیں جو آپ کی طرف بھیجی جاتی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
مشرکین کو دس سورتوں کی مثل بنانے کا چیلنج
تشریح : ان آیات میں نبی اکرم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے۔ کیونکہ آپ بظاہر بالکل کمزور تھے مالی اور وسائل کے لحاظ سے آپ تنہا بےآسرا تھے۔ آپ کے پاس صرف صادق و امین ہونے کی سند تھی۔ کیونکہ بچپن سے آپ اس قدر شریف النفس، ایماندار اور نیک انسان تھے کہ سب آپ کی عزت کرتے تھے۔ لیکن جب آپ نے نبوت کا دعو ٰی کیا توحید کا پیغام دیا بتوں کی اصلیت بتائی تو تمام اہل مکہ آپ کے دشمن ہوگئے۔ کوئی آپ کا مذاق اڑاتا، کوئی دھمکیاں دیتا، کوئی آوازے کستا، کوئی تکلیفیں پہنچاتا، غرض ہر طرف آپکے دشمن ہی دشمن تھے تو ایسے میں اللہ تعالیٰ آپ کو تسلی دیتے ہیں کہ میں تمہارے ساتھ ہوں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
آیات 9 تا 24
اسرار و معارف
عام انسان کا حال یہ ہے کہ اگر اس کے پاس اللہ کی نعمت ہو اور وہ چھن جائے یعنی مال وغیرہ میں نقصان ہوجائے یا صحت چلی جائے یا اقتدار و وقار جاتا رہے تو وہ بالکل ناامید ہوکرناشکری کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا لیکن اگر اسی کو پھر سے وہ نعمت لوٹادی جائے بیمار کو شفا ہوجائے یا پھر مالدار ہوجائے یاجلاوطنی کے بعد پھر سے اقتدار نصیب ہوجائے تو اترانے اور اکڑنے لگتا ہے اور کہتا ہے وہ دن اب لدگئے اب میرا کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور وہ طرح طرح کی شیخیاں بگھارتا ہے۔
معرفت باری کا اثر
یہ وہ تصویر ہے جو ہراس انسان کی ہے جسے معرفت باری نصیب نہیں مگر جن کو…
Read the full tafseer →ف 3 ۔ یعنی اگر تمہیں اس قرآن کے خدا کا کلام ہونے میں شک و شبہ ہے تو تم سب جمع ہو کر اس چیلنج کا جواب دینے کی کوشش کرو۔ واضح رہے کہ قرآن میں متعدد مرتبہ عرب کی تحدی کی گئی ہے۔ سورة اسراء (آیت 88) میں پورے قرآن کے لئے چیلنج کیا گیا ہے۔ اس کے بعد یہاں سے سورتوں کے لئے تحدی کی گئی ہے اور سورة یونس (آیت 82) اور سورة بقرہ (آیت 32) میں ایک ہی سورة بنالانے کا چیلنج کیا گیا ہے۔ لیکن عرب پورا قرآن یا دس سورتیں تو کیا ایک سورة بھی بنا کر پیش نہ کرسکے۔ یہ قرآن کے کلام اللہ ہونے کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ (ابن کثیر) ۔ واضح رہے کہ قرآن کا معجز ہونا جیسے اس کی فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے ہے اسی طور پر وہ اپنے…
Read the full tafseer →(11:13) ام۔ کیا۔ افترہ۔ اس نے اس کو خود گھڑ لیا ہے۔ ماضی واحد مذکر غائب افتراء (افتعال) سے۔ افتری یفتری۔ فری مادہ۔ من گھڑت بات بنانا۔ عجب بات۔ عظیم بات۔ لقد جئت شیئا فریا (19:37) تم ایک عجیب شے لائی ہو۔ افترہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب ما یوحی الیک کی طرف راجع ہے۔
(11:13) مفتریت۔ اسم مفعول جمع مؤنث۔ خود ساختہ۔ من گھرٹ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
لغات القرآن آیت نمبر 12 تا 14
لعلک (شاید کہ آپ) تارک (چھوڑنے والا) ضائق (تنگ ہونے والا) کنز (خزانہ) ملک (فرشتہ) عشر سور (دس سورتیں) مفتریت (گھڑی گئیں) استطعتم (تم میں طاقت ہو، استطاعت ہو) لم یستجیبوا (انہوں نے جواب نہ دیا) اعلموا (تم جان لو) مسلمون (فرماں بردار، گردن جھکانے والے )
تشریح : آیت نمبر 12 تا 14
نبی کریم ﷺ کو اللہ نے اس لئے مبعوث فرمایا تھا تاکہ بھٹکے ہوئے لوگوں کو اس صراط مستقیم کی طرف دعوت دیں جن میں ان کی حقیقی کامیابی اور بھلائی ہے۔ جب آپ اللہ کے پیغام کو پہنچانے کی کوشش فرماتے تو کفار و مشرکین چاروں سے آپ کو عاجز و بےبس کرنے کے لئے طرح طرح کے اعتراضات کرتے تاکہ نبی کریم ﷺ یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
قرآن مجید کے بےمثل کتاب الٰہی ہونے کی تصدیق
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لوگ یہی کہتے ہیں کہ محمد ﷺ خود یہ قرآن بنا کر لائے ہیں تو تم ان سے کہو : اس کی سی دس سورتیں تم بھی بنا کر لاؤ تمہاری شاعری اور سب زبان دانی اور فصاحت وبلاغت دیکھی جائے۔ اور اکیلے نہ بنا سکو تو جس سے جی چاہے مدد لو پھر اگر بنا کر نہ لائیں تو تم لوگ جان لو یہ عاجز ہوگئے اور ان لوگوں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ یہ قرآن خدا نے اپنے علم خاص سے اتارا ہے اور وہ ایسا ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور جب قرآن کلام الٰہی ٹھہر جاوے تو ان لوگوں کو اس کی پابندی میں پھر کیا عذر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
[4] عرش سے مراد تخت حکومت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کی حکومت پانی پر تھی یا کسی ایسی چیز پر جسے پانی سے تعبیر کیا گیا ہے۔
[5] یعنی تخلیق کائنات کا مقصد یہ تھا کہ انسان کو دنیا میں پیدا کر کے اسے خلافت کے اختیارات سپرد کئے جائیں اور پھر دیکھا جائے کہ وہ اپنے اختیارات کس طرح استعمال کرتا ہے۔ بالفاظ دیگر دنیا انسان کے لئے امتحان گاہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
(ف 2) نبی ہی کی نبوت پر زندہ دلیل وہ کلام ہے جس کو اس نے دنیا کے سامنے پیش کیا جس کے شوشے شوشے میں حکمت ومعرفت کے دریا موجزن ہیں جس میں فصاحت وبلاغت کے سمندر پنہاں ہیں جس کی آیت زندگی کا ایک عنوان ہے کائنات کی تشریح ہے جس کے لفظ لفظ میں زندگی اور زندگی کا پروگرام ہے ۔
ان آیات میں تمام دنیائے علم کو دعوت مقاء مت دی کہ آئے اور قرآن جیسی دس آیتین پیش کرے جن میں قرآن کی سی خوبیاں ہوں قرآن کی سی فصاحت وبلاغت ہو ، قرآن کی سی جامعیت ہو ، قرآن کی سی معنویت ہو ، چودہ سو سال گزر چکے ہیں ، قرآن کا اب بھی یہ دعوے موجود ہے ، مگر یہ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ ایک شخص نے بھی معاندین میں سے قرآن کے اس چیلنج کو…
Read the full tafseer →13 کیا یہ منکریوں کہتے ہیں کہ اس قرآن کریم کو پیغمبر نے خود ہی بنا لیا ہے آپ فرما دیجئے اگر میں نے بنا لیا ہے تو تم اس قرآن کریم جیسی دس سورتیں جو تمہاری بنائی ہوئی ہوں لے آئو اور اللہ تعالیٰ کے سوا جس جس کو تم بلا سکتے ہو بلا لو اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو یعنی اگر یہ خدا کا کلام نہیں اور محض میری من گھڑت ہے تو تم اس جیسی دس 10 سورتیں من گھڑت کرکے لے آئو اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جس جس سے مدد حاصل کرسکتے ہو کرلو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
ف 5۔ مراد اس سے مومنین ہیں۔
6۔ وہ زوال نعمت کے وقت صبر سے کام لیتے ہیں اور عطائے نعمت کے وقت شکر وطاعت کہ حاصل ہے اعمال صالحہ کا بجالاتے ہیں۔
7۔ خلاصہ یہ کہ بجز مومنین کے اکثر آدمی ایسے ہی ہیں کہ ذرا سی میں نڈر ہوجائیں اس لیے یہ لوگ تاخیر عذاب کے سبب بےخوف اور منکر ہوگئے۔
Read the full tafseer →کیا یہ لوگ آپ پر اے پیغمبر اسلام ﷺ ! یہ الزام رکھتے ہیں کہ قرآن تو نے گھڑ لیا ہے ؟
22 ؎ سورة بنی اسرائیل مکی سورت ہے اگرچہ وہ مکی زندگی کے آخری سالوں ہی میں نازل ہوئی تھی ۔ اس میں ارشاد الٰہی تھا کہ :
” اے پیغمبر اسلام ! اس بات کا اعلان کردیں کہ اگر تمام انسان و جن اکٹھے ہو کر چاہیں کہ اس قرآن کریم کی مانند کوئی کلام پیش کردیں تو کبھی پیش نہ کرسکیں گے اگرچہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کا مدد گار ہی کیوں نہ ہو “۔ ( بنی اسرائیل 17 : 88) ظاہر ہے کہ اس سے وہ سارا قرآن کریم ہی مراد لیا جائے گا جتنا حصہ اس کا اس وقت جب یہ چیلنج کیا گیا اتر چکا تھا لیکن اس کے بعد سورة ہود کی زیر نظر آیت میں ارشادہوا کہ…
Read the full tafseer →In the cited verses, the Mushriks had demanded the kind of miracles they chose. Verses that follow tell them that they already have a miracle, the miracle of the Qur'an shown at the hands of the Holy Prophet ﷺ before them, a miracle even they could not deny. Now if they were demanding these miracles honestly, only to determine the veracity of the messenger of Allah, then, their demand stands accepted (and the miracle is on). And if this demand is simply to gratify their hostility, the showing of miracles demanded by them would remain redundant, for who could expect from such hostile people…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
13. In order to fully understand the verse one should take mental note of the circumstantial background of its revelation. At the time this verse was revealed, Makka was the centre of the Quraysh who had a preponderant influence over the whole of Arabia because of their religious prestige, wealth, trade, and political power. At the very moment when the Quraysh were at the zenith of their power and authority, a Makkan - the Prophet - stood up and vehemently denounced the religion of which they were custodians as a bundle of ignorance and error. He also condemned the social system of which they…
Read the full tafseer →