Hud 11:14

Hud · from ayah 14

11:14

فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَاَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ— فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ۟فَاِلَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَـكُمۡ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ بِعِلۡمِ اللّٰهِ وَاَنۡ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ۚ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ

اگر وہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ وہ خدا کے علم سے اُترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو تمہیں بھی اسلام لے آنا چاہئیے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And if they do not respond to you - then know that the Qur'an was revealed with the knowledge of Allah and that there is no deity except Him. Then, would you [not] be Muslims?

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:14

اب اگر وہ (تمہارے معبود) تمہاری مدد کو نہیں پہنچتے تو جان لو کہ یہ اللہ کے علم سے نازل ہوئی ہے اور یہ کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے پھر کیا تم (اس امر حق کے آگے) سر تسلیم خم کر تے ہو؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اگر وہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ وہ خدا کے علم سے اُترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو تمہیں بھی اسلام لے آنا چاہئیے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر اگر وه تمہاری اس بات کو قبول نہ کریں تو تم یقین سے جان لو کہ یہ قرآن اللہ کے علم کے ساتھ اتارا گیا ہے اور یہ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، پس کیا تم مسلمان ہوتے ہو؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس کے بعد اگر یہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو (اے لوگو) یقین کرلو کہ یہ وحی صرف اللہ کے علم سے اتری ہے، اور یہ کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ تو کیا اب تم فرمانبردار بنو گے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اے مسلمانو اگر وہ تمہاری اس بات کا جواب نہ دے سکیں تو سمجھ لو کہ وہ اللہکے علم ہی سے اترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں تو کیا اب تم مانو گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اے مسلمانو!) سو اگر وہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو یقین رکھو کہ قرآن فقط اﷲ کے علم سے اتارا گیا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پس کیا (اب) تم اسلام پر (ثابت قدم) رہو گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس اگر وہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ یہ صرف اللہ کے علم سے اتارا گیا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم حکم ماننے والے ہو ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر اگر وہ تمہیں اس چیلنج کا جواب نہ دے سکیں تو جان لو کہ یہ قرآن اللہ کے علم سے اتارا گیا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ پھر کیا تم اس (امر حق) کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہو ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس اگر وہ تمہاری مدد کو نہ پہنچیں تم سمجھ لو کہ یہ اللہ ہی کے علم سے اترا ہے اور یہ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو کیا اب تم مانتے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو اگر پھر بھی یہ لوگ پورا نہ کرسکیں تمہارے اس چیلنج کو، تو (ان سے کہو کہ اب تو تم) یقین جان لو کہ اس (کتاب حکیم) کو اللہ ہی کے علم سے اتارا گیا ہے، اور یہ بھی (یقین کرلو) کہ کوئی معبود نہیں سوائے ایک اللہ کے، تو کیا اب تم لوگ سر تسلیم خم کرتے ہو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

پھر اگر یہ تم لوگوں کا یہ کہنا نہ کرسکیں سو (ان سے کہو کہ) یقین کرلو کہ یہ (قرآن) اللہ ہی کے علم (وقدرت) سے اترا ہے اور (یہ بھی یقین کرلو) کہ کوئی معبود نہیں بجز نہیں بجز اس کے تو اب بھی مسلمان ہوتے ہو ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر اگر وہ (تمہارے مدد گار) تمہاری اس دعا کو قبول نہ کریں تو جان لو کہ یہ اللہ ہی کے علم سے نازل ہوا ہے اور یہ کہ کوئی معبود نہیں ہے سوائے اس کے۔ تو کیا اب تم سرتسلیم خم کرتے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اگر وہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ وہ اللہ کے علم سے اترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو کیا تم تسلیم کرتے ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then if (your deities) do not respond to your call for help then feel assured that this Book was revealed with the knowledge of Allah, and that there is no true god but Him. Will you, then, surrender (to this truth)?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, if they do not respond to your call, then be assured that it has been sent down with the knowledge of Allah and that there is no god but He. So, do you submit?

— Muhammad Taqi Usmani

So, if they do not respond to your call, then be assured that it has been sent down with the knowledge of Allah and that there is no god but He. So, do you submit?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

If then they answer you not, know then that it is sent down with the knowledge of Allah and that there is no god besides Him! Will you then be Muslims

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And if they answer not your prayer, then know that it is revealed only in the knowledge of Allah; and that there is no Allah save Him. Will ye then be (of) those who surrender?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And if they do not respond to you - then know that the Qur'an was revealed with the knowledge of Allah and that there is no deity except Him. Then, would you [not] be Muslims?

— Saheeh International

If they will not respond to you, know that God has sent it with His knowledge and that He is the only God. Will you then become Muslims?"

— Muhammad Sarwar

But if they do not answer you, then know that it is revealed by Allah's knowledge and that there is no god but He; will you then submit?

— Muhammad Habib Shakir

Then if they respond you not, know that it hath been sent down only with the Knowledge of Allah, and that there is no god but he; are ye Muslims then?

— Abdul Majid Daryabadi

"If then they (your false gods) answer not your (call), know ye that this revelation is sent down (replete) with the knowledge of Allah, and that there is no god but He! will ye even then submit (to Islam)?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 12–14

کافروں کی تنقید کی پر اہ نہ کریں کافروں کی زبان پر جو آتا وہی طعنہ بازی رسول اللہ ﷺ پر کرتے ہیں اسلیے اللہ تعالیٰ اپنے سچے پیغمبر کو دلاسا اور تسلی دیتا ہے کہ آپ نہ اس سے کام میں سستی کریں، نہ تنگ دل ہوں یہ تو ان کا شیوہ ہے۔ کبھی وہ کہتے ہیں اگر یہ رسول ہے تو کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے ؟ بازاوں میں کیوں آتا جاتا ہے ؟ اس کی ہم نوائی میں کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتر ؟ اسے کوئی خزانہ کیوں نہیں دیا گیا ؟ اس کے کھانے کو کوئی خاص باغ کیوں نہیں بنایا گیا ؟ مسلمانوں کو طعنہ دیتے ہیں کہ تم تو اس کے پیچھے چل رہے ہو۔ جس پر جادو کردیا گیا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے پیغمبر آپ ملول خاطر نہ ہوں، آزردہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة هُوْد 14 یہاں ایک ہی دلیل سے قرآن کے کلام الہٰی ہونے کا ثبوت بھی دیا گیا ہے اور توحید کا ثبوت بھی۔ استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ (1) اگر تمہارے نزدیک یہ انسانی کلام ہے تو انسان کو ایسے کلام پر قادر ہونا چاہیے، لہٰذا تمہارا یہ دعویٰ کے میں نے اسے خود تصنیف کیا ہے صرف اسی صورت میں صحیح ہوسکتا ہے کہ تم ایسی ایک کتاب تصنیف کر کے دکھاؤ۔ لیکن اگر بار بار چیلنج دینے پر بھی تم سب مل کر اس کی نظیر پیش نہیں کرسکتے تو میرا یہ دعویٰ صحیح ہے کہ میں اس کتاب کا مصنف نہیں ہوں بلکہ یہ اللہ کے علم سے نازل ہوئی ہے۔ (2) پھر جب کہ اس کتاب میں تمہارے معبودوں کی بھی کھلم کھلا مخالفت کی گئی ہے اور صاف صاف کہا گیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

وجہ یہ ہے کہ پہلے دس سورتیں بنانے کا حکم دیا گیا، جب وہ اس سے عاجز ہوگئے تو پھر ان کے عاجز ہونے کو اور زیادہ واضح کرنے کے لئے سورة بقرہ کی آیت میں فرمایا کہ اگر تم قرآن کو کسی انسان کلام سمجھتے ہو تو تم بھی زیادہ نہیں صرف ایک ہی سورت اس جیسی بنا لاؤ مگر وہ قرآن کریم کی اس تحدی اور ان کے لئے انتہائی آسانی کردینے کے باوجود کچھ نہ کرسکے تو قرآن کریم کا معجزہ ہونا اور بلا شبہ اللہ کا کلام ہونا ثابت ہوگیا، اسی لئے آخر میں فرمایا (آیت) فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ یعنی کیا تم اب بھی مسلمان اور اطاعت گزار بنو گے، یا اسی خواب غفلت میں رہو گے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مخالفین قرآن پر اتمام حجت : فَاِنْ لَّمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَاَنْ لَّآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۔ اوپر والی آیت میں بات بالواسطہ کہی گئی تھی اس میں ان کو براہ راست خطاب کر کے فرمایا کہ اگر تمہارے یہ شفعاء و شرکاء قرآن کا جواب پیش کرنے کی مہم میں تمہاری حاجت روائی کے لیے نہ اٹھیں تو پھر یہ مانو کہ یہ کتاب علم الٰہی کا فیضان ہے جیسا کہ پیغمبر کہتے ہیں، نہ کہ ان کی گھڑی ہوئی، جیسا کہ تم الزام لگاتے ہو۔ انما انزل بعلم اللہ، سے یہ بات واضح ہوئی کہ قرآن کے اعجاز کا اصل پہلو یہ ہے کہ وہ جس علم و معرفت کا خزانہ ہے وہ خزانہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 14–15

14۔ 1 یعنی کیا اس کے بعد بھی کہ تم اس چیلنج کا جواب دینے سے قاصر ہو، یہ ماننے کے لئے، کہ یہ قرآن اللہ ہی کا نازل کردہ ہے، آمادہ نہیں ہوا اور نہ مسلمان ہونے کو تیار ہو ؟

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 13–14

10: شروع میں ان کو دس سورتیں قرآن جیسی بنا کر لانے کا چیلنج دیا گیا تھا۔ بعد میں اس چیلنج کو مزید آسان کردیا گیا۔ اور سورة بقرہ (23:2) اور سورة یونس (38:10) میں صرف ایک سورت بنا کر لانے کو کہا گیا۔ مگر مشرکین عرب جو اپنی فصاحت و بلاغت پر ناز کرتے تھے، ان میں سے کوئی بھی چیلنج کو قبول نہ کرسکا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 13–14

ایک دوسری بات جسے وہ بار بار دہراتے چلے جاتے تھے ، یہ کہ حضور نبی کریم ﷺ اس کتاب کو اپنی جانب سے پیش کر رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ تم اس جیسی دس سورتیں تو بنا لاؤ اور اس مہم میں پورے جہاں سے مدد بھی لے لو۔ قدماء مفسرین نے کہا ہے یہ چیلنج علی الترتیب تھا۔ پہلے یہ تھا کہ اس قرآن جیسا قرآن لاؤ، پھر دس سورتوں کا چیلنج تھا ، آخر میں ایک سورت کا چیلنج دیا گیا۔ لیکن اس چیلنج کی اس مخصوص ترتیب پر کوئی منقول دلیل نہیں ہے۔ بظاہر دلیل اس کے خلاف ہے کیونکہ سورة یونس اس سورت سے پہلے نازل شدہ ہے اور اس میں ایک سورت کا چیلنج دیا گیا ہے اور زیر نظر سورت اس کے بعد نازل ہوئی ہے۔ اور اس میں دس سورتوں کا چیلنج ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 13–14

4 یعنی فرمائشی معجزے طلب کرتے ہیں، جن کا دیا جانا مصلحت نہیں۔ اور جو سب سے بڑا معجزہ (قرآن) ان کے سامنے ہے، اسے مانتے نہیں، کہتے ہیں یہ تو (معاذ اللہ) تمہاری بنائی ہوئی گھڑت ہے۔ اس کا جواب دیا کہ تم بھی آخر عرب ہو، فصاحت و بلاغت کا دعویٰ رکھتے ہو، سب مل کر ایسی ہی دس سورتیں گھڑ کر پیش کردو اور اس کام میں مدد دینے کے لیے تمام مخلوق کو بلکہ اپنے ان معبودوں کو بھی بلا لاؤ جنہیں خدائی کا شریک سمجھتے ہو اگر نہ کرسکو اور کبھی نہ کرسکو گے تو سمجھ لو کہ ایسا کلام خالق ہی کا ہوسکتا ہے جس کا مثل لانے سے تمام مخلوق عاجز رہ جائے۔ تو یقینا یہ وہ کلام ہے جو خدا نے اپنے علم کامل سے پیغمبر پر اتارا ہے۔ بیشک…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 14 فَاِنْ لَّمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ یعنی اگر وہ اس چیلنج کو قبول کرنے کی جرأت نہ کرسکیں اور تمہاری مدد کو نہ پہنچ سکیں : فَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَاَنْ لَّآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ یہ کفار ہی سے خطاب ہے کہ تم لوگ اس چیلنج کا جواب دینے کے لیے اپنے معبودوں کو پکار دیکھو کچھ خود محنت کرو اور کچھ ان سے کہو کہ وہ القاء اور الہام کریں اور اس طرح مل جل کر دس سورتیں بنا لاؤ۔ اور اگر تمہارے یہ معبود تمہاری اس درخواست کو قبول نہ کرسکیں تو جان لو کہ نہ صرف یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے بلکہ اللہ کے سوا کوئی اور معبود بھی نہیں۔ تو اس سب کچھ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 14–15

17 چیلنج کا جواب نہ دے سکنے کے نتائج :۔ قریش مکہ سب مل کر بھی اور اپنی مقدور بھر کوششوں کے بعد بھی جب اس چیلنج کے جواب میں کوئی اس جیسی سورت پیش نہ کرسکے تو اس سے درج ذیل نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ 1۔ یہ قرآن کسی انسان کا (یعنی رسول اللہ) کا تصنیف کردہ نہیں ہے کیونکہ اس میں ایسی باتیں ہیں جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔ مثلاً پیشین گوئیاں اور حشر و نشر کے مفصل حالات، اگر یہ انسان کا تصنیف کردہ ہوتا تو تم لوگ اس کی مثل پیش کرنے سے عاجز کیسے رہ سکتے تھے ؟ 2۔ چونکہ تم سب مل کر بھی اس جیسی ایک سورت بھی پیش نہیں کرسکے تو معجزہ کا یہی معنی ہے پھر تم اور کون سا معجزہ طلب کرتے ہو ؟ اور کیوں کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

18۔ (یا ابھی کوئی اور انتظار باقی ہے ؟ ) (آیت) ” لکم “۔ یہ خطاب جمع عام مومنین سے ہے۔ تحدی جس طرح رسول اللہ ﷺ کرسکتے تھے ساری امت بھی کرسکتی ہے۔ جمع الضمیر لان ال مومنین ایضا کانوا یتحدونھم (بیضاوی) (آیت) ” فاعلموا “۔ تقدیر کلام یہاں یوں مانی گئی ہے کہ اے مومنین ! کفار سے کہو کہ یقین کرلو، فیہ اضمار والتقدیر تقولوا ایھا المسلمون للکفار اعلموا (کبیر) (آیت) ” انما انزل بعلم اللہ “۔ یعنی اللہ ہی کے علم وقدرت سے اترا ہے نہ کہ کسی اور کے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–24

آیت نمبر 9 تا 24 ترجمہ : اور اگر ہم کافر انسان کو اپنی رحمت) مثلاً ( مالداری اور صحت سے نوازنے کے بعد اس کو رحمت سے محروم کردیتے ہیں تو وہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہو کر اس رحمت کی بےحد ناشکری کرنے لگتا ہے، اور اگر اس مصیبت کے بعد جو اس پر آپڑی تھی) مثلاً ( فقر اور سختی، ہم اس کو نعمتوں کا مزا چکھا دیتے ہیں تو کہنے لگتا ہے کہ میرے سب دکھ دور ہوگئے اور ان نعمتوں کے زوال کا خیال بھی نہیں کرتا اور نہ ان پر شکر ادا کرتا ہے) اور ( وہ اترانے لگتا ہے اور جو کچھ اس کا دیا گیا ہے اس کی وجہ سے لوگوں پر شیخی بگھارنے لگتا ہے، مگر جو لوگ مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں اور نعمتوں میں نیک عمل کرتے ہیں یہی ہیں وہ لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فالم یستجیبوا لکم پھر اگر کفار تم لوگوں کا چیلنج پورا نہ کرسکیں۔ لَکُمْکی ضمیر خطاب یا تو رسول اللہ ﷺ کیلئے ہے ‘ تعظیم رسول کیلئے جمع کی ضمیر استعمال کی گئی ہے۔ یا مسلمان مخاطب ہیں کیونکہ مسلمان بھی مشرکوں کو مقابلہ کی دعوت دیتے تھے اور جو حکم رسول اللہ ﷺ کو دیا گیا تھا کہ کافروں کو دعوت مقابلہ دو ‘ وہ حکم ضمناً تمام مسلمانوں کو بھی تھا کیونکہ سوائے خاص خاص احکام کے باقی احکام کے مکلف رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تمام مسلمان بھی ہیں۔ یا مسلمانوں کو خصوصیت کے ساتھ مخاطب کرنے سے اس بات پر تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ دعوت مقابلہ سے مسلمانوں کے ایمان میں ثبات اور یقین میں مزید استحکام پیدا ہوگا ‘ اسلئے اس سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(14) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ پھر اگر یہ ظالم تم لوگوں کا کہنا نہ کرسکیں تو کفار مکہ یقین کرلو کہ یہ قرآن کریم بذریعہ جبریل امین ؑ بحکم الہی نازل ہوا ہے تو پھر اب بھی رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کا اقرار کرتے ہو یا نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَاِنْ لَّمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْٓا۔۔ : اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ اے مسلمانو ! اگر وہ کفار تمہارا یہ چیلنج قبول نہ کریں تو یقین کرلو کہ یہ صرف اللہ کے علم سے اتارا گیا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم حکم ماننے والے ہو ؟ یعنی اپنی کتاب کی حقانیت اس قدر واضح اور روشن ہونے پر تمہارے ایمان و یقین اور اس پر عمل میں اضافہ ہونا لازم ہے، تو کیا تم ایسا کرو گے ؟ یا ایمان لانے کے باوجود حکم ماننے میں کوتاہی کرتے رہو گے ؟ دوسرا معنی یہ ہے کہ پچھلی آیت میں مشرکین کو جو فرمایا تھا : (وَادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتٗم مِّنْ دُوْنِ اللّٰہ) کہ اللہ کے سو اج سے بلا سکتے ہو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 14 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : فالم یسجیبوالکم یعنی معارضیت (چیلنج) کے بارے میں اور یہ اس کے لیے تیار نہیں تو ان پر حجت قائم ہوچکی کیونکہ وہ بلیغ لغت اور فصیح زبان والے ہیں۔ فاعلموٓاانمآانزل بعلم اللہ یعنی تم محمد ﷺ کی سچائی کو جان لو۔ اور جان لووان لا الٰہ الاھو ۚفھل انتم مسلمونیہ استفہام بمعنی امر ہے آیت کے معنی کے بارے میں گفتگو پہلے گزرچکی ہے اور یہ کہ قرآن معجز ہے (مقدمہ کتاب میں) والحمدللہ۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : قل فاتوا اور اس کے بعد فالم یستجیبوالکم (اس میں لکم کے بجائے) لک نہیں کہا۔ ایک قول یہ ہے : یہ مخاطب کو بطور تعظیم وتفخیم مفرد سے جمع کی طرف پھیرنا ہے۔ بعض اوقات رئیس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 8–14

1:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جب (آیت ) ” اقترب للناس حسابہم “ (الانبیاء آیت) نازل ہوئی تو لوگوں نے کہا قیامت قریب آگئی تو وہ (بڑے کاموں سے) رک گئے وہ تھوڑا سا وقت رکے رہے پھر وہ اپنے برے اعمال کی طرف لوٹ آئے تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” اتی امر اللہ فلا تستعجلوہ “ (رحمۃ اللہ علیہالنحل) تو لوگوں نے کہا یہ گمراہ ہونے والے ہیں اللہ کا حکم تحقیق آچکا تو قوم رک گئی پھر اپنے تدبیروں کی طرف لوٹ آئی تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری ” ولئن اخرنا عنہم العذاب الی امۃ معدودۃ “۔ 2:۔ ابن جریر وابن منذر (رح) نے ابن جریر اور ابن المنذر (رح) نے فرمایا کہ (آیت) امۃ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاِنْ لَّمْ يَسْتَجِيْبُوْا [ پھر اگر وہ لوگ جواب نہ دیں ] لَكُمْ [ تم کو ] فَاعْلَمُوْٓا [ تو جان لو ] اَنَّمَآ اُنْزِلَ [ کہ اس کو تو بس اتارا گیا ] بِعِلْمِ اللّٰهِ [ اللہ کے علم سے ] وَاَنْ [ اور یہ کہ ] لَّآ اِلٰهَ [ کوئی بھی الہ نہیں ہے ] اِلَّا [ مگر ] هُوَ ۚ [ وہ ] فَهَلْ [ تو کیا ] اَنْتُمْ [ تم لوگ ] مُّسْلِمُوْنَ [ فرمانبرداری کرنے والے ہو ] (آیت ۔ 14) فالم دراصل فان لم ہے ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 12–14

منکرین کو چیلنج کہ قرآن جیسی دس سورتیں بنا کر لائیں شروع سورت میں اللہ تعالیٰ کی توحید بیان فرمائی اور اس کی صفت قدرت صفت رازقیت اور صفت خالقیت کو بیان فرمایا پھر بعث بعد الموت کے منکرین کی تردید فرمائی۔ پھر انسان کا مزاج بتایا کہ وہ نعمتوں کے چلے جانے پر ناامید اور ناشکرا ہوجاتا ہے۔ اور نعمتیں ملنے پر شیخی بگھارتا ہے اور فخر و غرور میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ انسان کی یہ صفات آخرت پر ایمان نہیں لانے دیتی ہیں اللہ تعالیٰ شانہ نے اپنی کتاب اور اپنے رسول ﷺ کے ذریعہ توحید کی بھی دعوت دی اور آخرت پر ایمان لانے کا بھی حکم فرمایا لیکن یہ لوگ نہ اللہ کے رسول کو مانتے تھے اور نہ اللہ کی کتاب پر ایمان لاتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–14

بیان نوع دیگر از طعنہائے کفار ناہنجار و تسلی نبی اکرم ﷺ قال اللہ تعالیٰ فلعلک تارک بعض ما یوحی الیک ........ الی ....... فہل انتم مسلمون۔ (ربط) اس سورت کا آغاز قرآن کریم کے ذکر سے فرمایا جس کے ساتھ ساتھ یہ بتلایا کہ قرآن کا موضوع دعوت توحید ہے اور آنحضرت ﷺ خدائے تعالیٰ کی جانب سے بشیر و نذیر ہیں۔ اس لیے بھیجے گئے ہیں کہ تم ناشائستہ اعمال سے توبہ کرو۔ مگر وہ لوگ قرآن کو سحر اور آپ ﷺ کو ساحر بتلاتے تھے اب ان آیات میں ان کی دوسری ناشائستہ اور طعن آمیز باتوں کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ لوگ آپ ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں اور آپ ﷺ کا استہزاء اور تمسخر کرتے ہیں اور احکام الٰہی کو سن کر ان کا مذاق اڑاتے ہیں اور آپ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

18:۔ یہ بھی جواب شکوی سے متعلق ہے۔ لَکُمْ کی ضمیر مومنین کے لیے اور فَاعْلَمُوْا کی مشرکین کے لیے اور قُلْ مقدر ہے ای فقل اعلموا یعنی اگر مشرکین یہ معارضہ اور چیلنج قبول نہ کریں اور قرآن کا مثل پیش نہ کرسکیں تو آپ ان سے فرما دیں کہ اب تو یقین کرلو کہ یہ قرآن میرا ساختہ پر داکتہ نہیں بلکہ اللہ نے اپنے علم کے ساتھ نازل فرمایا ہے لہذا اس مسئلہ توحید کو مان لو وہ اللہ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ کیا اب بھی نہیں مانوگے ؟۔ وَاَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ : انما انزل پر معطوف ہے یا لَکُمْ کی ضمیر بھی مشرکین کے لیے ہے یعنی اے مشرکین اگر تمہارے مزعومہ مددگار اور شرکاء تمہاری مدد کے لیے نہ آئیں تو یقین…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 13–16

ربط آیات گذشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تسلی دی کہ مشرکوں اور کافروں کے اعتراضات کی وجہ سے آپ اپنے مشن کو نہ چھوڑیں۔ یہ لوگ تو بیہودہ اعتراض کرتے ہی رہتے ہیں۔ لہٰذا آپ کو دل میں کسی قسم کی تنگی محسوس نہیں کرنی چاہیے کہتے ہیں کہ آپ کے پاس خزانہ کیوں نہیں ہوتا یا آپ کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں ہوتا تو فرمایا آپ کہہ دیں کہ خزانوں اور فرشتوں کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے ، میرا کام تو خبردار اور برے انجام سے ڈرانا ہے۔ اب آج کی آیات میں قرآن پاک کی صداقت وحقانیت کی دلیل پیش کی گئی ہے کفار ومشرکین اللہ کی کتاب کے متعلق شکوک و شبہات کا اظہار کرتے تھے ، اللہ نے یہ دلیل پیش کی ہے کہ اگر تم قرآن…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاِلَّمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللہِ وَاَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ۝ 0 ۚ فَہَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۝ 14 استجاب والاستجابة قيل : هي الإجابة، وحقیقتها هي التحري للجواب والتهيؤ له، لکن عبّر به عن الإجابة لقلة انفکاکها منها، قال تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ [ الأنفال/ 24] ( ج و ب ) الجوب الاستاأبتہ بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی اجابتہ ( افعال ) کے ہے اصل میں اس کے معنی جواب کے لئے تحری کرنے اور اس کے لئے تیار ہونے کے ہیں لیکن اسے اجابتہ سے تعبیر کرلیتے ہیں کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوتے ۔ قرآن میں ہے : اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–19

ترکیب : صدرک مرفوع ہے ضائق کا فاعل ہو کر جو معتمد علیہ مبتداء ہے اور ممکن ہے کہ وہ مبتداء اور ضائق خبر مقدم ہو ان یقولوا ای مخافۃ ان یقولہ افمن کان موضع رفع میں ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے اور خبر محذوف ہے تقدیرہ افمن کان علی ھذہ الاشیاء کغیرہ۔ تفسیر : فرمایا تھا کہ منکروں سے جو مرنے کے بعد زندہ ہونے کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کا انکار کرتے ہیں اور ان کے اس کفر کی سزا یعنی عذاب کو جو ہم نے ابھی ان پر نہیں بھیجا ذکر کیا جاتا ہے تو کس دلیری اور استقلال سے کہتے ہیں کہ وہ کیوں نہیں آتا ؟ کس نے روک رکھا ہے ؟ اب یہاں فرماتا ہے کہ ان کی یہ سب باتیں ہماری دنیاوی نعمت اور راحت کی وجہ سے ہیں اور ان پر کچھ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوا لَکُمْ فَاعْلَمُوْآ اَنَّمَآ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰہِ وَ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلاَّ ہُوَج فَہَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 14) (پس اگر وہ تمہاری بات کو قبول نہ کریں تو پھر خوب جان لو کہ یہ قرآن اللہ کے علم ہی سے اترا ہے اور یہ کہ اللہ کے سواء کوئی معبود نہیں ہے تو کیا تم اسلام لاتے ہو۔ ) مخالفینِ قرآن پر اتمامِ حجت اس آیت کریمہ میں معلوم ہوتا ہے کہ سابقہ مضمون ہی کو آگے بڑھایا جا رہا ہے لیکن اس میں خطاب مسلمانوں سے نہیں مشرکین سے ہے۔ مشرکین سے براہ راست خطاب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ اگر یہ تمہارے شفعاء وشرکاء ایسے نازک موقع پر بھی تمہاری مدد کے لیے نہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 13–14

فہم القرآن ربط کلام : کفار کی مزید ہرزہ سرائی۔ رسول اللہ ﷺ کی مزید تسلی کے لیے کفار کو چیلنج کہ اس قرآن جیسی دس سورتیں بنالاؤ۔ انسان جب جان بوجھ کر ضد اور کفرکا راستہ اختیار کرلے۔ تو پھر اسے کسی دلیل سے مطمئن نہیں کیا جاسکتا۔ رسول معظم ﷺ کے مخالفوں کی یہی حالت تھی کہ وہ کسی صورت میں بھی آپ کو رسول ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ لیکن جب آپ ﷺ کی سیرت اور دلائل کے مقابلے میں لاجواب ہوجاتے تو پھر قرآن مجید کی تکذیب کرتے۔ اس میں بھی ان کا موقف تبدیل ہوتا رہتا تھا۔ ایک بار کہتے کہ یہ شخص اپنی طرف سے کلام بنا کر اللہ کے ذمہ لگاتا ہے۔ دوسری مرتبہ یہ کہتے کہ یہ روم کے فلاں شخص سے کلام سیکھ کر ہمارے سامنے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

14: فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَکُمْ فَاعْلَمُوْا اَنَّمَآ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰہِ وَاَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ (اگر وہ آپ کا چیلنج قبول نہ کریں تو یقین کرلو بیشک آپ پر اللہ تعالیٰ کے علم سے اتاری جارہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے سواء کوئی معبود نہیں۔ ) یعنی وہ ایسی چیزوں کے ساتھ اتارا گیا جنکا علم سوائے باری تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں جیسے مخلوق کو عاجز کرنے والے الفاظ، غیب کی اطلاعات جنکی طرف معلومات کا بندوں کے پاس کوئی راستہ نہیں۔ اس وقت جان لو کہ اس کے سواء کوئی معبود حقیقی نہیں اور اس کو وحد ہٗ لاشریک ماننا ضروری ہے۔ اور اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرانا ظلم عظیم ہے۔ نکتہ : اولاً خطاب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

14۔” فان لم یستجیبوالکم “ اے محمد کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور بعض نے کہا ہے کہ اس کا لفظ جمع کا ہے اور مراد تنہا رسو ل ﷺ ہیں ۔ ” فاعملوا “ بعض نے کہا یہ خطاب مؤمنین کو ہے اور بعض نے کہا کہ خطاب مشرکین کو ہے۔ ” انما انزل بعلم اللہ ‘ ‘ یعنی قرآن اور بعض نے کہا یہ خطاب مؤمنین کو ہے اور بعض نے کہا کہ خطاب مشرکین کو ہے۔” انما انزل بعلم اللہ ‘ ‘ یعنی قرآن اور بعض نے کہا ہے کہ اس کو اتارا اور اس میں اس کا علم ہے۔” وان لا الہ الا ھو “ یعنی جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ” فھل انتم مسلمون “ اس کا لفظ استفہام ہے اور معنی امر ہے یعنی اسلام لے آئو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–14

13۔ 14۔ اوپر گزرا کہ آنحضرت ﷺ کو کفار جھٹلاتے تھے اور طعن کرتے تھے کہ اگر تم سچے ہو کہ تمہیں خدا نے بھیجا ہے تو اس سے کہو وہ آسمان سے تم کو خزانہ بھیج دے اور یہ بھی کہتے تھے کہ تمہارے ساتھ کوئی فرشتہ آسمان سے آنا چاہیے تھا جو تمہارے رسول ہونے کی تصدیق کرتا اس پر اللہ پاک نے اپنے رسول کی تسلی کی کہ تم ان مشرکوں کی باتوں پر نہ جاؤ تم سے پہلے بھی رسولوں کو لوگوں نے جھٹلایا ہے تم تو ڈرانے کے واسطے آئے ہو اس لئے تم اپنا کام کئے جاؤ خدا ہر شئی کا نگہبان ہے جو کچھ یہ لوگ بکتے ہیں سب وہ سنتا ہے وقت مقررہ پر ان لوگوں کو اس جھٹلانے کی حقیقت معلوم ہوجاوے گی اب ان آیتوں میں فرمایا یہ لوگ یہی کہتے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(فالم یستجیبو الکم) ” پس اگر وہ تمہاری بات قبول نہ کریں “ یعنی وہ اس کا کوئی جواب نہ دیں (فاعلمو انما انزل بعلم اللہ ) ” تو جان لو کہ قرآن تو اترا ہے اللہ کے علم سے “ دلیل و مقتضی کے قیام اور معارض کی نفی کی بنا پر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ (وان لا الہ الا ہو) ” اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں “ یعنی یہ جان لو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الہ نہیں، وہی الواہیت اور عبادت کا مستحق ہے۔ (فھل انتھم مسلمون) ” تو کیا مسلمان ہوتے ہو ؟ “ یعنی کیا تم اس کی الواہیت کو مانتے ہو اور اس کی عبادت کے لئے سر تسلیم خم کرتے ہو ؟ ان آیات کریمہ میں اس امر کی طرف راہ نمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 12–15

30 ۔ پیغمبر کے لیے تسلیہ و تسکین کا سامان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر کا اصل کام تبلیغ و انذار ہے اور بس۔ سو آپ کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا اور بطور استفہام ارشاد فرمایا گیا کہ کیا آپ اس وحی کا کچھ حصہ چھوڑ دیں گے جو آپ کی طرف کی جاتی ہے۔ اور آپ کا سینہ تنگ ہو رہا ہے ان لوگوں کی ایسی اور ایسی انہونی باتوں کی بناء پر۔ استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہونے کا اور نہیں کرنے کا بلکہ آپ ان لوگوں کی باتوں کی پرواہ کئے بغیر اور ان کے ان الٹے سیدھے مطالبات پر کان دھرے بغیر اس وحی کو پورے کا پورا لوگوں تک پہنچا دیں جو آپ کی طرف بھیجی جاتی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 12–16

مشرکین کو دس سورتوں کی مثل بنانے کا چیلنج تشریح : ان آیات میں نبی اکرم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے۔ کیونکہ آپ بظاہر بالکل کمزور تھے مالی اور وسائل کے لحاظ سے آپ تنہا بےآسرا تھے۔ آپ کے پاس صرف صادق و امین ہونے کی سند تھی۔ کیونکہ بچپن سے آپ اس قدر شریف النفس، ایماندار اور نیک انسان تھے کہ سب آپ کی عزت کرتے تھے۔ لیکن جب آپ نے نبوت کا دعو ٰی کیا توحید کا پیغام دیا بتوں کی اصلیت بتائی تو تمام اہل مکہ آپ کے دشمن ہوگئے۔ کوئی آپ کا مذاق اڑاتا، کوئی دھمکیاں دیتا، کوئی آوازے کستا، کوئی تکلیفیں پہنچاتا، غرض ہر طرف آپکے دشمن ہی دشمن تھے تو ایسے میں اللہ تعالیٰ آپ کو تسلی دیتے ہیں کہ میں تمہارے ساتھ ہوں ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 9–24

آیات 9 تا 24 اسرار و معارف عام انسان کا حال یہ ہے کہ اگر اس کے پاس اللہ کی نعمت ہو اور وہ چھن جائے یعنی مال وغیرہ میں نقصان ہوجائے یا صحت چلی جائے یا اقتدار و وقار جاتا رہے تو وہ بالکل ناامید ہوکرناشکری کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا لیکن اگر اسی کو پھر سے وہ نعمت لوٹادی جائے بیمار کو شفا ہوجائے یا پھر مالدار ہوجائے یاجلاوطنی کے بعد پھر سے اقتدار نصیب ہوجائے تو اترانے اور اکڑنے لگتا ہے اور کہتا ہے وہ دن اب لدگئے اب میرا کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور وہ طرح طرح کی شیخیاں بگھارتا ہے۔ معرفت باری کا اثر یہ وہ تصویر ہے جو ہراس انسان کی ہے جسے معرفت باری نصیب نہیں مگر جن کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 ۔ یستجوا میں ضمیر ” ھم “ کفار کے لئے ہے اور ” لکم “ میں ” کم “ کے مخاطب آنحضرت ﷺ اور مسلمان ہیں۔ یعنی اگر وہ کفار تمہارے سامنے اس چیلنج کا جواب پیش نہ کریں۔ اور اگر ” ھم “ تمہارے سامنے اس چیلنج کا جواب پیش نہ کریں۔ اور اگر ” ھم “ ضمیر کا مرجع ممن، موصولہ ہو اور ” لکم “ سے مراد کافر ہوں تو معنی یہ ہوں گے کہ جن کو تم اللہ کے سوا مدد کے لئے پکارتے ہو بلائو اگر وہ تمہاری دعوت قبول نہ کریں۔ (شوکانی) ۔ 5 ۔ تو سمجھ لو اور یقین کرلو کہ اس میں سی کے دئے ہوئے احکام ہیں۔ کسی بندے کے بس میں نہیں کہ اس قسم کے احکام دے سکے۔ (شوکانی) ۔ 6 ۔ یہ بھی کافروں سے خطاب ہے یعنی تمہیں چاہیے کہ اسلام میں داخل ہو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(11:14) فالم ای فان لم۔ لم یستجیبوا لکم۔ اور اگر وہ تمہاری دعوت (برائے معاونت) قبول نہ کریں۔ مضارع نفی جحد بلم۔ لکم میں ضمیر جمع مذکر حاضر۔ مشرکین کی طرف راجع ہے جن کو یہ چیلنچ دیا جا رہا ہے اسی طرح سے فاعلموا میں بھی خطاب مشرکین سے ہے۔ فہل انتم مسلمون۔ پس کیا (اب ) تم اسلام لے آؤ گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 12–14

لغات القرآن آیت نمبر 12 تا 14 لعلک (شاید کہ آپ) تارک (چھوڑنے والا) ضائق (تنگ ہونے والا) کنز (خزانہ) ملک (فرشتہ) عشر سور (دس سورتیں) مفتریت (گھڑی گئیں) استطعتم (تم میں طاقت ہو، استطاعت ہو) لم یستجیبوا (انہوں نے جواب نہ دیا) اعلموا (تم جان لو) مسلمون (فرماں بردار، گردن جھکانے والے ) تشریح : آیت نمبر 12 تا 14 نبی کریم ﷺ کو اللہ نے اس لئے مبعوث فرمایا تھا تاکہ بھٹکے ہوئے لوگوں کو اس صراط مستقیم کی طرف دعوت دیں جن میں ان کی حقیقی کامیابی اور بھلائی ہے۔ جب آپ اللہ کے پیغام کو پہنچانے کی کوشش فرماتے تو کفار و مشرکین چاروں سے آپ کو عاجز و بےبس کرنے کے لئے طرح طرح کے اعتراضات کرتے تاکہ نبی کریم ﷺ یا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 13–14

قرآن مجید کے بےمثل کتاب الٰہی ہونے کی تصدیق ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لوگ یہی کہتے ہیں کہ محمد ﷺ خود یہ قرآن بنا کر لائے ہیں تو تم ان سے کہو : اس کی سی دس سورتیں تم بھی بنا کر لاؤ تمہاری شاعری اور سب زبان دانی اور فصاحت وبلاغت دیکھی جائے۔ اور اکیلے نہ بنا سکو تو جس سے جی چاہے مدد لو پھر اگر بنا کر نہ لائیں تو تم لوگ جان لو یہ عاجز ہوگئے اور ان لوگوں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ یہ قرآن خدا نے اپنے علم خاص سے اتارا ہے اور وہ ایسا ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور جب قرآن کلام الٰہی ٹھہر جاوے تو ان لوگوں کو اس کی پابندی میں پھر کیا عذر ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–14

[4] عرش سے مراد تخت حکومت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کی حکومت پانی پر تھی یا کسی ایسی چیز پر جسے پانی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ [5] یعنی تخلیق کائنات کا مقصد یہ تھا کہ انسان کو دنیا میں پیدا کر کے اسے خلافت کے اختیارات سپرد کئے جائیں اور پھر دیکھا جائے کہ وہ اپنے اختیارات کس طرح استعمال کرتا ہے۔ بالفاظ دیگر دنیا انسان کے لئے امتحان گاہ ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–16

(ف 2) نبی ہی کی نبوت پر زندہ دلیل وہ کلام ہے جس کو اس نے دنیا کے سامنے پیش کیا جس کے شوشے شوشے میں حکمت ومعرفت کے دریا موجزن ہیں جس میں فصاحت وبلاغت کے سمندر پنہاں ہیں جس کی آیت زندگی کا ایک عنوان ہے کائنات کی تشریح ہے جس کے لفظ لفظ میں زندگی اور زندگی کا پروگرام ہے ۔ ان آیات میں تمام دنیائے علم کو دعوت مقاء مت دی کہ آئے اور قرآن جیسی دس آیتین پیش کرے جن میں قرآن کی سی خوبیاں ہوں قرآن کی سی فصاحت وبلاغت ہو ، قرآن کی سی جامعیت ہو ، قرآن کی سی معنویت ہو ، چودہ سو سال گزر چکے ہیں ، قرآن کا اب بھی یہ دعوے موجود ہے ، مگر یہ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ ایک شخص نے بھی معاندین میں سے قرآن کے اس چیلنج کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

14 پھر اگر وہ تمہارا کہنا نہ کرسکیں اور قرآن کریم کی مثل دس 10 سورتیں نہ لاسکیں تو ان سے کہو کہ تم یقین کرو اور اس بات کو جان لو کہ یہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی وحی سے نازل کیا گیا ہے اور اس کا بھی یقین کرو کہ اس سے سوا کوئی اور حقیقی معبود نہیں ہے سو تم اب بھی مسلمان ہوتے ہو یا نہیں یعنی اگر قرآن کریم کی مثل لانے سے عاجز ہوجائیں تب تو اس قرآن کریم کے منجانب اللہ ہونے کا یقین کریں اور اس کو پیغمبر کی من گھڑت نہ کہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 11–14

ف 5۔ مراد اس سے مومنین ہیں۔ 6۔ وہ زوال نعمت کے وقت صبر سے کام لیتے ہیں اور عطائے نعمت کے وقت شکر وطاعت کہ حاصل ہے اعمال صالحہ کا بجالاتے ہیں۔ 7۔ خلاصہ یہ کہ بجز مومنین کے اکثر آدمی ایسے ہی ہیں کہ ذرا سی میں نڈر ہوجائیں اس لیے یہ لوگ تاخیر عذاب کے سبب بےخوف اور منکر ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگر وہ تمہاری بات کا جواب نہ دیں تو ان کے پیچھے پڑنے کی بھی ضرورت نہیں 23 ؎ ” پھر اگر وہ آپ لوگوں کی پکار کا جواب نہ دیں “ ۔ یہ خطاب جمع عام مومنین سے ہے۔۔۔۔۔ تحدی جس طرح رسول اللہ ﷺ کرسکتے تھے ساری امت بھی اسی طرح کرسکتی ہے۔ ( بیضاوی) اے مومنین کفار سے کہو کہ یقین کرلو کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کے علم وقدرت سے اترا ہے نہ کسی اور کے علم اور قدرت سے ۔ اس کا ایک مفہوم تو یہ ہو سکتا ہے کہ اے مسلمانو ! اگر وہ اس چیلنج کا جواب نہ دے سکیں تو تم جان لو کہ یہ کلام الٰہی ہے اس صورت میں لکم اور فاعلموا میں جو ضمیر ہے دونوں کا مرجمع مسلمان ہوں گے لیکن آیت کا سیاق اس کی تائید نہیں کرتا کیونکہ مسلمان تو پہلے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The reason is that they were first asked to bring ten Surahs. They failed to do so. Then, to make their inability look more pronounced, it was said in the verse of Surah al-Baqarah quoted above: If you take the Qur'an to be a word of man, then, you too, bring no more than just one Surah being the like of it. But, despite this challenge of the Qur'an, made so easy for them, they could do nothing. It stood proved that the Holy Qur'an was a miracle, and the Word of Allah without any doubt. Therefore, at the end, it was said: , that is, 'would you now believe and obey, or would you prefer to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

14. The argument advanced here serves to establish the divine origin of the Qur'an as well as the oneness of God. The argument, put succinctly, is as follows: (i) If the unbelievers thought that the Qur'an had been authored by some human being, then it ought to be possible for them to compose something which would be the like of it. Now, unbelievers claim that it is the Prophet (peace be on him) - a human being rather than God - who has produced the Qur'an. In such a case it should be possible for them - for they too are human - to produce such a book. However, despite the repeated challenges…

Read the full tafseer →