Explained with ayahs 15–16
ریا ہر نیکی کے لیے زہر ہے
ابن عباس فرماتے ہیں ریاکاروں کی نیکیوں کا بدلہ سب کچھ اسی دنیا میں مل جاتا ہے۔ ذرا سی بھی کمی نہیں ہوتی۔ پس جو شخص دنیا میں دکھاوے کے لے نماز پڑھے، روزے رکھے یا تہجد گزاری کرے، اس کا اجر اسے دنیا میں ہی مل جاتا ہے۔ آخرت میں وہ خالی ہاتھ اور محض بےعمل اٹھتا ہے۔ حضرت انس ؓ وغیرہ کا بیان ہے یہ آیت یہود و نصاری کے حق میں اتری اور اور مجاہد کہتے ہیں ریاکاروں کے بارے میں اتری ہے۔ الغرض کس کا جو قصد ہو اسی کے مطابق اس سے معاملہ ہوتا ہے دنیا طلبی کے لیے جو اعمال ہوں وہ آخرت میں کار آمد نہیں ہوسکتے۔ مومن کی نیت اور مقصد چونکہ آخرت طلبی ہی ہوتا ہے اللہ اسے آخرت میں اس کے اعمال…
Read the full tafseer →سورة هُوْد 15
اس سلسلہ کلام میں یہ بات اس مناسبت سے فرمائی گئی ہے کہ قرآن کی دعوت کو جس قسم کے لوگ اس زمانہ میں رد کر رہے تھے اور آج بھی رد کر رہے ہیں وہ زیادہ تر وہی تھے اور ہیں۔ جن کے دل و دماغ پر دنیا پرستی چھائی ہوئی ہے۔ خدا کے پیغام کو رد کرنے کے لیے جو دلیل بازیاں وہ کرتے ہیں وہ سب تو بعد کی چیزیں ہیں۔ پہلی چیز جو اس انکار کا اصل سبب ہے وہ ان کے نفس کا یہ فیصلہ ہے کہ دنیا اور اس کے مادی فائدوں سے بالاتر کوئی شئے قابل قدر نہیں ہے، اور یہ کہ ان فائدوں سے متمع ہونے کے لیے ان کو پوری آزادی حاصل رہنی چاہیے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
جو شخص (اپنے اعمال خیر سے) محض حیات دنیوی (کی منفعت) اور اس کی رونق (حاصل کرنا) چاہتا ہے (جیسے شہرت و نیک نامی و جاہ اور ثواب آخرت حاصل کرنے کی اس کی نیت نہ ہو) تو ہم ان لوگوں کے (ان) اعمال (کی جزا) ان کو دنیا ہی میں پورے طور سے بھگتا دیتے ہیں اور ان کے لئے دنیا میں کچھ کمی نہیں ہوتی (یعنی دنیا ہی میں ان کے اعمال کے عوض ان کو نیک نامی اور صحت و فراغ عیش و کثرت اموال و اولاد عنایت کردیا جاتا ہے جب کہ ان کے اعمال کا اثر ان کے اضداد پر غالب ہو اور اگر اضداد غالب ہوں تو پھر یہ اثر نہیں مرتب ہوتا، یہ تو دنیا میں ہوا رہا آخرت میں، سو) یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے لئے آخرت میں بجز دوزخ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
15۔ 16:۔ مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَيْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِيْهَا وَهُمْ فِيْهَا لَا يُبْخَسُوْنَ۔ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ ڮ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِيْهَا وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۔
وسعت رزق کے مطالبہ کی تردید : اوپر آیت 12 میں کفار کے اس طعنہ کا حوالہ گزر چکا ہے کہ وہ نبی ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کی بےسروسامانی کو آپ کی رسالت کے خلاف بطور دلیل پیش کرتے تھے۔ ان کا گمان یہ تھا کہ جب ہم دنیوی اسباب ووسائل کے اعتبار سے ان سے نہایت بہتر حالت میں ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا کی نگاہوں میں بھی ہم ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
14۔ 1 یعنی کیا اس کے بعد بھی کہ تم اس چیلنج کا جواب دینے سے قاصر ہو، یہ ماننے کے لئے، کہ یہ قرآن اللہ ہی کا نازل کردہ ہے، آمادہ نہیں ہوا اور نہ مسلمان ہونے کو تیار ہو ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
11: کافر لوگ جو آخرت پر تو ایمان نہیں رکھتے، اور جو کچھ کرتے ہیں، دنیا ہی کی خاطر کرتے ہیں، ان کی نیکیوں، مثلا صدقہ خیرات وغیرہ کا صلہ دنیا ہی میں دے دیا جاتا ہے، آخرت میں ان کا کوئی ثواب نہیں ملتا، کیونکہ ایمان کے بغیر آخرت میں کوئی نیکی معتبر نہیں ہے۔ اسی طرح اگر کوئی مسلمان کوئی نیک کام صرف دنیوی شہرت یا دولت وغیرہ حاصل کرنے کے لیے کرے تو اسے دنیا میں تو وہ شہرت یا دولت مل سکتی ہے۔ لیکن اس نیکی کا ثواب آخرت میں نہیں ملتا۔ بلکہ واجب عبادتوں میں اخلاص کے فقدان کی وجہ سے الٹا گناہ ہوتا ہے۔ آخرت میں وہی نیکی معتبر ہے جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی نیت سے کی گئی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
اس دنیا میں جو لوگ بھی جدوجہد کرتے ہیں وہ اس کا ثمرہ پاتے ہیں۔ اب بات اس کے نصب العین پر موقوف ہے۔ بعض لوگوں کی نظر اعلی مقاصد اور بلند افق پر ہوتی ہے۔ اور بعض لوگ صرف اپنے قدموں پر نظر رکھتے ہٰں اور دنیا کے قریب اور محدود مقاصد ان کے پیش نظر ہوتے ہیں۔ جو شخص دنیاوی زندگی اور اس کے کروفر کے متلاشی ہوتے ہیں تو وہ صرف اس کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ ان کو ان کے عمل کا نتیجہ اس دنیا ہی میں ملتا ہے۔ اور پھر وہ اس سے نفع اٹھاتے ہیں جس طرح ان کی مرضی ہوتی ہے۔ لیکن آخرت میں ان کا حصہ صرف آگ ہوتی ہے کیونکہ ایسے شخص نے آخرت کے لیے کچھ کمائی نہیں کی اور نہ آخرت کو اس نے اہمیت دی۔ اس لیے وہ دنیا میں جو بھی…
Read the full tafseer →5 یعنی ایسے واضح ثبوت کے بعد جو شخص قرآن پر ایمان نہیں لاتا، یا اس کے بتلائے ہوئے راستہ پر نہیں چلتا بلکہ دنیا کی چند روزہ زندگی اور فانی ٹیپ ٹاپ ہی کو قبلہ مقصود ٹھہرا کر عملی جدوجہد کرتا ہے۔ اگر بظاہر کوئی نیک کام مثلا خیرات وغیرہ کرتا ہے تو اس سے بھی آخرت کی بہتری اور خدا کہ خوشنودی مقصود نہیں ہوتی محض دنیاوی فوائد کا حاصل کرلینا پیش نظر ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کی بابت خواہ وہ یہود و نصاریٰ ہوں یا مشرکین یا منافقین یا دنیا پرست ریا کار مسلمان بتلا دیا کہ دنیا ہی میں ان کا بھگتان کردیا جائے گا۔ جو اعمال اور کوششیں وہ حصول دنیا کے لیے کریں گے ان کے کم و کیف کو ملحوظ رکھتے ہوئے خدا تعالیٰ اپنے…
Read the full tafseer →آیت 15 مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا
جن لوگوں کا مقصد حیات ہی دنیوی مال و متاع کو حاصل کرنا ہو اور اسی کے لیے وہ رات دن دوڑ دھوپ میں لگے ہوں تو :
نُوَفِّ اِلَيْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِيْهَا وَهُمْ فِيْهَا لَا يُبْخَسُوْنَ
ان لوگوں کے دل و دماغ پر دنیا پرستی چھائی ہوئی ہے ‘ اور انہوں نے اپنی تمام تر صلاحیتیں دنیوی زندگی کو حسین و دلکش بنانے کے لیے ہی صرف کردی ہیں۔ ان کی ساری منصوبہ بندی اسی دنیا کے مال و متاع کے حصول کے لیے ہے۔ چناچہ ان کی اونچی اونچی عمارات بھی بن گئی ہیں ‘ کاروبار بھی خوب وسیع ہوگئے ہیں ‘ ہر قسم کا سامان آسائش بھی ان کی دسترس میں ہے ‘ عیش و عشرت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
17 چیلنج کا جواب نہ دے سکنے کے نتائج :۔ قریش مکہ سب مل کر بھی اور اپنی مقدور بھر کوششوں کے بعد بھی جب اس چیلنج کے جواب میں کوئی اس جیسی سورت پیش نہ کرسکے تو اس سے درج ذیل نتائج حاصل ہوتے ہیں۔
1۔ یہ قرآن کسی انسان کا (یعنی رسول اللہ) کا تصنیف کردہ نہیں ہے کیونکہ اس میں ایسی باتیں ہیں جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔ مثلاً پیشین گوئیاں اور حشر و نشر کے مفصل حالات، اگر یہ انسان کا تصنیف کردہ ہوتا تو تم لوگ اس کی مثل پیش کرنے سے عاجز کیسے رہ سکتے تھے ؟
2۔ چونکہ تم سب مل کر بھی اس جیسی ایک سورت بھی پیش نہیں کرسکے تو معجزہ کا یہی معنی ہے پھر تم اور کون سا معجزہ طلب کرتے ہو ؟ اور کیوں کرتے…
Read the full tafseer →19۔ آیت میں ایک بڑی تلخ مگر گہری حقیقت کا اعلان ہے جو لوگ یا قومیں سرتاسر دنیا ہی کو اسی کو ” ترقیوں “ کو اپنا منتہائے نظر اور نصب العین بنائے ہوئے ہیں اور اپنی ساری سرگرمیوں کا مرکز اسی کو قرار دیئے ہوئے ہیں وہ گھبرائیں نہیں، انہیں مایوسی نہ ہوگی، انہیں اپنی ساری جدوجہد کا صلہ یہیں اور ابھی ملا جاتا ہے۔ وہ دولت چاہتے ہیں ان میں کا ایک ایک فرد قارون وقت ہو کر رہے گا۔ انہیں حکومت کی ہوس ہے دنیا کے سارے ملک انہی کے درمیان تقسیم ہو کر رہیں گے، انہیں عزت وناموری فتح مندی کی چاٹ ہے تو اچھا وہ دل کھول کر اپنے دل کے ارمان نکال کر رہیں۔ (آیت) ” من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا “۔ حیات وزینت حیات سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
آیت نمبر 9 تا 24
ترجمہ : اور اگر ہم کافر انسان کو اپنی رحمت) مثلاً ( مالداری اور صحت سے نوازنے کے بعد اس کو رحمت سے محروم کردیتے ہیں تو وہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہو کر اس رحمت کی بےحد ناشکری کرنے لگتا ہے، اور اگر اس مصیبت کے بعد جو اس پر آپڑی تھی) مثلاً ( فقر اور سختی، ہم اس کو نعمتوں کا مزا چکھا دیتے ہیں تو کہنے لگتا ہے کہ میرے سب دکھ دور ہوگئے اور ان نعمتوں کے زوال کا خیال بھی نہیں کرتا اور نہ ان پر شکر ادا کرتا ہے) اور ( وہ اترانے لگتا ہے اور جو کچھ اس کا دیا گیا ہے اس کی وجہ سے لوگوں پر شیخی بگھارنے لگتا ہے، مگر جو لوگ مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں اور نعمتوں میں نیک عمل کرتے ہیں یہی ہیں وہ لوگ…
Read the full tafseer →من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا نوف الیھم اعمالھم فیھا وھم فیھا لا یبخسون : جو شخص (اپنے نیک اعمال سے) محض دینوی زندگی (کی منفعت) اور اس کی رونق حاصل کرنا چاہتا ہے تو ہم ان کو ان کے اعمال کا دنیا میں ہی پورا پورا بدلہ دیتے ہیں اور ان کیلئے دنیوی زندگی میں ثواب کی کمی نہیں کی جاتی۔
Read the full tafseer →(15) جو شخص اپنے اعمال سے جو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ذمہ فرض کیے ہیں محض حیات دنیوی اور اس کی رونق حاصل کرنا چاہتا ہے تو ہم ان کے ان اعمال کا ثواب دنیا ہی میں دے دیتے ہیں اور ان کے اعمال کے ثواب میں دنیا میں کچھ کمی نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا۔۔ : یہ دو آیات کفار اور مشرکین کے بارے میں ہیں، کیونکہ دوسری آیت میں ہے : (َيْسَ لَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ) ”ان کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں۔“ مطلب یہ ہے کہ جو کفار یہاں دنیا طلبی کے لیے صدقہ و خیرات وغیرہ اور نیک عمل کرتے ہیں، جن کا تعلق رفاہ عامہ سے ہے، انھیں ان کاموں کا بدلہ دنیا ہی میں پورا پورا دے دیا جاتا ہے، لیکن یہ بدلہ ملنا اللہ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 15
اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمانمن کا ن میں کا نزائدہ ہے، اسی وجہ سے جواب (شرط) مجزوم ہے۔ اللہ تعالیٰ مئ فرمایا : نوف الیھمیہ فراء کا قول ہے۔ زجاج نے کہا : من کانشرط کی وجہ سے محل جزم میں ہے اور اس کا جواب نوف الیھم ہے اس سے مرادمن تکن یرید ہے۔ لفظ پہلا ماضی ہے اورت دوسرا مضارع جس طرح زہیرنے کہا :
ومن ھاب أسباب المنیۃ یلقھا ولو رام أسباب السماء لسلم
جو موت کے اسباب سے بھاگا وہ اس کو ملے گا اگرچہ سیڑھی کے ذریعہ آسمان کے اسباب کا ہی قصد کیوں نہ کرے۔ استشھاد (اس میں ” ھاب “ ماضی ہے جب کہ لیقھاٰمضارع)
اس آیت کی تاویل میں علماء کا اختلاف ہے، ایک قول یہ ہے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن مردویہ رحمہما اللہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا “ (یہ آیت) یہود و نصاری کے بارے میں نازل ہوئی۔
2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے عبداللہ بن معبد ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی حضرت علی ؓ کے پاس آیا اور کہا ہم کو ان آیات (آیت) ” من کان یرید الحیوۃ الدنیا “ سے لے کر (آیت) ” وبطل ماکانوا یعملون “ تک کے بارے میں بتائیے آپ نے فرمایا تو ہلاک ہوجائے اس سے مراد وہ آدمی ہے جو دنیا کا ارادہ کرتا ہے۔ اور آخرت کا ارادہ نہیں کرتا۔
3:۔ نحاس نے اپنی ناسخ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” من کان یرید الحیوۃ الدنیا “…
Read the full tafseer →مَنْ [ جو ] كَانَ [ وہ ہے ] يُرِيْدُ [ جو چاہتا ہے ] الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا [ دنیوی زندگی کو ] وَزِيْنَتَهَا [ اور اس کی زینت کو ] نُوَفِّ [ تم ہم پورا پورا دیں گے ] اِلَيْهِمْ [ ان کی طرف ] اَعْمَالَهُمْ [ ان کے اعمال (کے اجر) کو ] فِيْهَا [ اس (دنیا) میں ] وَهُمْ [ اور وہ لوگ ] فِيْهَا [ اس (دنیا ) میں ] لَا يُبْخَسُوْنَ [ حق سے کم نہ دیئے جائیں گے ]
(آیت ۔ 15) من شرطیہ ہے ۔ کان یرید ۔ کو ماضی استمراری ماننے کی گنجائش ہے لیکن ہماری ترجیح ہے کہ کان کو فعل ناقص مانیں ۔ اس کا اسم اس میں شامل ضمیر ہے اور یرید سے آگے جملہ فعلیہ اس کی خبر ہے ۔ اس طرح یہ جملہ اسمیہ ہوگا اور اس کا ترجمہ حال میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
کافروں کے اعمال کا بدلہ دنیا ہی میں دے دیا جاتا ہے آخرت میں کوئی ثواب نہ ملے گا
ان آیات میں اول تو ان لوگوں کی مذمت فرمائی جو دنیا کے طالب ہیں دنیا ہی ان کا مقصود ہے اور دنیا کو مقصود بنا لینے کی وجہ سے آخرت کے طلب گار نہیں وہ ایمان لانے کے روا دار نہیں ‘ دنیا اور دنیا کی زینت ہی ان کے نزدیک سب سے بڑی چیز ہے ایسے لوگ جو کچھ ایسے اعمال کرلیتے ہیں جو نیکی کے دائرے میں آسکتے ہیں مثلاً صلۂ رحمی یا فقراء و مساکین پر خرچ کرنا وغیرہ ‘ دنیا ہی میں ان کا بدلہ دے دیا جائے گا ‘ اور جب یہ اعمال آخرت میں حبط ہوجائیں گے یعنی ان کے عوض کچھ نہ ملے گا۔ اور دنیا داری کے اصول پر جو کام کرتے تھے اور سمجھتے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ابطال غرہ اہل دنیا بر اعمال خود
قال اللہ تعالیٰ من کان یرید الحیوۃ الدنیا ... .. الیٰ ......... بطل ما کانوا یعملون۔
(ربط) جب گذشتہ آیات میں منکرین قرآن اور منکرین توحید اور منکرین رسالت کے وعید اور عذاب کا بیان ہوا تو اب اس آیت میں اہل دنیا کے وہم فاسد اور زعم کا سد کا ابطال فرماتے ہیں اہل دنیا کو جب عذاب آخرت کی وعید سنائی جاتی تو یہ کہتے کہ اگر بالفرض والتقدیر قیامت حق ہے تو ہم بڑے بڑے نیک کام کرتے ہیں۔ غریب پروری اور صلہ رحمی اور مہمان نوازی وغیرہ وغیرہ تو ہم کو قیامت کے دن ان نیک اعمال کا ثواب ملے گا۔ جیسا کہ دوسری جگہ ہے۔ لئن رجعت الی ربی ان لی عندہ للحسنی۔
اس لیے اس آیت میں اس غرہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
19: زجر مع تخویف اکروی یعنی دنیا میں ان کی روزی میں کمی نہیں کی جاتی جیسا کہ سورة بنی اسرائیل رکوع 2 میں وارد ہے مَنْ کَانَ یُرِیدُ الْعَاجِلَۃَ عَجَّلْنَا لَہٗ الایۃ مگر آخرت میں ان کے لیے جہنم کے سوا کچھ نہیں کیونکہ انہوں نے ثواب آخر کے لیے کیا ہی کچھ نہیں۔ مَاصَنَعُوْا میں ما سے مشرکانہ اعمال بےکار اور رائیگاں ثابت ہوں گے وہ فی نفسہ باطل ہیں کیونکہ ان کی بنیاد عقیدہ باطلہ پر ہے یا ما سے مراد اعمال صالحہ ہیں جو اغراض دنیویہ کی خاطر کیے گئے چونکہ مقصود غیر اللہ ہے اس لیے ایسے اعمال باطل اور بےنتیجہ ہوں گے یعنی وبطل ما عملوا فی الدنیا من اعمال البر (وَبَاطِلٌ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) لانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
ربط آیات
گذشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تسلی دی کہ مشرکوں اور کافروں کے اعتراضات کی وجہ سے آپ اپنے مشن کو نہ چھوڑیں۔ یہ لوگ تو بیہودہ اعتراض کرتے ہی رہتے ہیں۔ لہٰذا آپ کو دل میں کسی قسم کی تنگی محسوس نہیں کرنی چاہیے کہتے ہیں کہ آپ کے پاس خزانہ کیوں نہیں ہوتا یا آپ کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں ہوتا تو فرمایا آپ کہہ دیں کہ خزانوں اور فرشتوں کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے ، میرا کام تو خبردار اور برے انجام سے ڈرانا ہے۔
اب آج کی آیات میں قرآن پاک کی صداقت وحقانیت کی دلیل پیش کی گئی ہے کفار ومشرکین اللہ کی کتاب کے متعلق شکوک و شبہات کا اظہار کرتے تھے ، اللہ نے یہ دلیل پیش کی ہے کہ اگر تم قرآن…
Read the full tafseer →مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوۃَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَہَا نُوَفِّ اِلَيْہِمْ اَعْمَالَہُمْ فِيْہَا وَہُمْ فِيْہَا لَا يُبْخَسُوْنَ 15
رود
والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17]
( ر و د ) الرود
الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–19
ترکیب : صدرک مرفوع ہے ضائق کا فاعل ہو کر جو معتمد علیہ مبتداء ہے اور ممکن ہے کہ وہ مبتداء اور ضائق خبر مقدم ہو ان یقولوا ای مخافۃ ان یقولہ افمن کان موضع رفع میں ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے اور خبر محذوف ہے تقدیرہ افمن کان علی ھذہ الاشیاء کغیرہ۔
تفسیر : فرمایا تھا کہ منکروں سے جو مرنے کے بعد زندہ ہونے کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کا انکار کرتے ہیں اور ان کے اس کفر کی سزا یعنی عذاب کو جو ہم نے ابھی ان پر نہیں بھیجا ذکر کیا جاتا ہے تو کس دلیری اور استقلال سے کہتے ہیں کہ وہ کیوں نہیں آتا ؟ کس نے روک رکھا ہے ؟ اب یہاں فرماتا ہے کہ ان کی یہ سب باتیں ہماری دنیاوی نعمت اور راحت کی وجہ سے ہیں اور ان پر کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَہَا نُوَفِّ اِلَیْہِمْ اَعْمَالَہُمْ فِیْہَا وَہُمْ فِیْہَا لاَ یُبْخَسُوْنَ ۔ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ اِلاَّ النَّارُزصلے وَحَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْہَا وَ بٰطِلٌ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 15، 16)
(جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی خوشنمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ہم ان کے اعمال کا بدلہ یہیں چکا دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں اور جو کچھ انھوں نے دنیا میں کیا کرایا سب ضائع ہوجائے گا اور باطل ہے جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں۔ )
قرآن کریم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
فہم القرآن
ربط کلام : لوگ دنیا کے مفاد اور اس کی زیب وزینت کے لیے حقائق کو ٹھکراتے ہیں جس بنا پر دنیا کی حقیقت کو واضح کردیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جو شخص جس نیت کے ساتھ کسی کام کے لیے کوشش کرے گا اسے اس کی نیت اور کوشش کے مطابق صلہ دے گا۔ اگر کوئی آدمی صرف دنیا اور اس کی اچھی شہرت کے لیے جدوجہد کرتا ہے تو اسے دنیا میں نیک نامی مل جائے گی۔ اگر وہ دنیا اور آخرت کے لیے کوشاں ہے تو اسے دنیا کے ساتھ آخرت میں بھی اس کی کوشش سے کئی گنازیادہ صلہ دیا جائے گا۔ دونوں قسم کے لوگوں کے بدلہ میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ یہاں اسی اصول کو یوں بیان فرمایا ہے کہ جو شخص دنیا اور اس کی…
Read the full tafseer →طالب دنیا کو آخرت میں کچھ نہ ملے گا :
15: مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَھَا نُوَفِّ اِلَیْھِمْ اَعْمَالَھُمْ فِیْھَا وَھُمْ فِیْھَا لَایُبْخَسُوْنَ (جس شخص نے دنیا کی زندگی اور اسکی زینت کا ارادہ رکھا ہو ہم ان کو ان کے اعمال اس دنیا میں پورے دے دیں گے اور ان کے حق میں کمی نہ کی جائے گی) ہم ان کو ان کے اعمال کا اجر کامل و مکمل بلاکم وکاست دنیا میں دے دیں گے۔ یہ بدلہ صحت، رزق کی شکل میں ہے اور یہ کفار یا منافقین ہیں (جن کا بدلہ دنیا میں ہی چکا دیا جاتا ہے)
Read the full tafseer →15۔” من کان یرید الحیوۃ الدنیا “ یعنی جو شخص اپنے علم سے دنیا کا ارادہ کرتا ہو ۔ ” وزینتھا “ یہ آیت ہر اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو کوئی بھی نیک کام کرے اور اللہ کے غیر کا ارادہ کرتا ہو۔ ” نوف الیھم اعمالھم فیھا “ یعنی ان کے اعمال کا اجر دنیا میں وسعت رزق اور تکالیف دور کرنے کی صورت میں دے دیں گے۔” وھم فیھا لا یبخسون “ یعنی دنیا میں ان کا حصہ کم نہ ہوگا ۔
Read the full tafseer →15۔ انس بن مالک ؓ اور حسن بصری کی روایت سے اگرچہ یہ آیت کافروں کی شان میں نازل ہوئی ہے لیکن مجاہد بن جبیر نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے یہ کہا ہے کہ آیت کا حکم ریا کاروں کو بھی شامل ہے اس صورت میں معنے آیت کے یہ ہیں کہ کافر اور منافق یا مسلمان ریا کار جو کچھ عمل نیک دنیا میں کرتے ہیں اس کا بدلہ ان کو یہیں دنیا میں مل جاوے گا اور آخر میں ان کو بلا عمل جانا اور عذاب بھگتنا پڑے گا۔ مجاہد نے تیس دفعہ سارا قرآن حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے تفسیر سیکھنے کی غرض سے پڑہا اور حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا جو مرتبہ تفسیر کے باب میں ہے وہ کئی جگہ اوپر بیان ہوچکا ہے اس واسطے مجاہد کا قول جو اس آیت کی…
Read the full tafseer →(من کان یرید الحیوۃ الدنیا وذینتھا) ” جو چاہتا ہے دنیا کی زندگی اور اس کی رونق “ یعنی جس شخص کا بھی ارادہ، دنیاوی زندگی اور اس کی زیب وزینت ہی کے گرد گھومتا ہے، مثلاً عورتوں اور بیٹوں کے حصول کی خواہش، سونے اور چاندی کے خزانوں کی ھرص، نشان زدہ گھوڑوں، مویشیوں اور کھیتیوں کی چاہت، اس نے اپنی رغبت، عمل اور کوشش کو صرف انہی چیزوں پر مرکوز رکھا ہے اور وہ آخرت کے گھر کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ ایسا شخص کافر کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا، کیونکہ اگر وہ مومن ہوتا تو اس کا ایمان اسے اس بات سے روک دیتا کہ اس کا تمام ارادہ صرف دنیا پر مرکوز رہے، بلکہ اس کا ایمان اور اس کے نیک اعمال، اس کے ارادہ آخرت ہی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–33
طلب دنیا یا عقبی کی چاہت
قول یاری ہے من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا نوف الیھم اعمالھم فیھا وھم فیھا لا یبخسون اولیک الذین لیس لھم فی الاخرۃ الا النار جو لوگ بس اسی دنیا کی زندگی اور اس کی خوشنمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ۔ ان کی کارگزاری کا سارا پھل ہم یہیں ان کو دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی مگر آخرت میں ایسے لوگوں کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو شخص دنیا کی خاطر کوئی عمل کرے گا آخرت میں اس کے لیے اس عمل کے ثواب کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے من کان یرید حرث الاخرۃ نزدلہ فی حرثد و من کان یرید حرث الدنیا نوتہ منھا وما لہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
30 ۔ پیغمبر کے لیے تسلیہ و تسکین کا سامان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر کا اصل کام تبلیغ و انذار ہے اور بس۔ سو آپ کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا اور بطور استفہام ارشاد فرمایا گیا کہ کیا آپ اس وحی کا کچھ حصہ چھوڑ دیں گے جو آپ کی طرف کی جاتی ہے۔ اور آپ کا سینہ تنگ ہو رہا ہے ان لوگوں کی ایسی اور ایسی انہونی باتوں کی بناء پر۔ استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہونے کا اور نہیں کرنے کا بلکہ آپ ان لوگوں کی باتوں کی پرواہ کئے بغیر اور ان کے ان الٹے سیدھے مطالبات پر کان دھرے بغیر اس وحی کو پورے کا پورا لوگوں تک پہنچا دیں جو آپ کی طرف بھیجی جاتی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
مشرکین کو دس سورتوں کی مثل بنانے کا چیلنج
تشریح : ان آیات میں نبی اکرم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے۔ کیونکہ آپ بظاہر بالکل کمزور تھے مالی اور وسائل کے لحاظ سے آپ تنہا بےآسرا تھے۔ آپ کے پاس صرف صادق و امین ہونے کی سند تھی۔ کیونکہ بچپن سے آپ اس قدر شریف النفس، ایماندار اور نیک انسان تھے کہ سب آپ کی عزت کرتے تھے۔ لیکن جب آپ نے نبوت کا دعو ٰی کیا توحید کا پیغام دیا بتوں کی اصلیت بتائی تو تمام اہل مکہ آپ کے دشمن ہوگئے۔ کوئی آپ کا مذاق اڑاتا، کوئی دھمکیاں دیتا، کوئی آوازے کستا، کوئی تکلیفیں پہنچاتا، غرض ہر طرف آپکے دشمن ہی دشمن تھے تو ایسے میں اللہ تعالیٰ آپ کو تسلی دیتے ہیں کہ میں تمہارے ساتھ ہوں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
آیات 9 تا 24
اسرار و معارف
عام انسان کا حال یہ ہے کہ اگر اس کے پاس اللہ کی نعمت ہو اور وہ چھن جائے یعنی مال وغیرہ میں نقصان ہوجائے یا صحت چلی جائے یا اقتدار و وقار جاتا رہے تو وہ بالکل ناامید ہوکرناشکری کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا لیکن اگر اسی کو پھر سے وہ نعمت لوٹادی جائے بیمار کو شفا ہوجائے یا پھر مالدار ہوجائے یاجلاوطنی کے بعد پھر سے اقتدار نصیب ہوجائے تو اترانے اور اکڑنے لگتا ہے اور کہتا ہے وہ دن اب لدگئے اب میرا کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور وہ طرح طرح کی شیخیاں بگھارتا ہے۔
معرفت باری کا اثر
یہ وہ تصویر ہے جو ہراس انسان کی ہے جسے معرفت باری نصیب نہیں مگر جن کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ف 7 ۔ یہ آیتیں کفار اور مشرکین کے بارے میں ہیں کیونکہ بعد میں لیس لھم الا النار ہے کہ ان کے لئے آخرت میں آگ ہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو کفار یہاں دنیا طلبی کے لئے صدقہ خیرات وغیرہ نیک عمل کرتے ہیں جن کا تعلق رفاہِ عامہ سے ہے انہیں ان کاموں کا بدلہ دنیا میں ہی پورا پورا دے دیا جاتا ہے لیکن یہ بدلہ ملنا مشئیت الٰہی پر موقوف ہے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں ہے۔ عجلنا لہ ما نشاء لمن نرید ( سورة اسراء آیت 81) آخرت میں بعض کفار جیسے ابو طالب کے متعلق آیا ہے کہ اس کو ہلکا عذاب ہوگا تو یہ خاص طور پر آنحضرت ﷺ کے ساتھ نیکی کی وجہ سے ہے۔ ورنہ آخرت میں نیک عمل کی قبولیت کے لئے ایمان شرط ہے۔ علما تفسیر نے ان دو…
Read the full tafseer →(11:15) نوف۔ وفی یوفی توفیۃ (باب تفعیل) پورا پورا دینا۔ نوف اصل میں نوفی تھا جواب شرط ہونے کے سبب ی ساقط ہوگئی
آیۃ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع الدنیا ہے۔
لایبخسون۔ مضارع منفی مجہول جمع مذکر غائب بخس سے اور وہ دنیا میں گھاٹے میں نہیں رکھے جائیں گے۔ اگر ھا ضمیر کا مرجع اعمال کا بدلہ ہے۔ تو ترجمہ ہوگا ان کے اعمال کے عوض میں کمی نہیں کی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
لغات القرآن آیت نمبر 15 تا 16
یرید (وہ چاہتا ہے) زینتھا (اس کی زیب وزینت) نوف (ہم پورا دیں گے) لابیخسون (وہ کمی نہ کئے جائیں گے) حبط (ضائع ہوگیا) صنعوا (جو انہوں نے بتایا تھا) بطل (بیکار، فضول)
تشریح : آیت نمبر 15 تا 16
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ” تمام اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے “ اس کی نیت جس طرح کی ہوگی اللہ کا معاملہ بھی اس کے مطابق ہوگا ۔ اگر ایک شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان رکھتے ہوئے وہ اعمال سر انجام دیتا ہے جن کی زبردست فضیلتیں بیان کی گئی ہیں لیکن ان اعمال سے اس کا مقصد محض دکھاوا، شہرت اور دنیا کی بےحقیقت دولت اور مال و زر کا حصول ہو تو وہ اس شخص کے دنیاوی زندگی میں…
Read the full tafseer →دنیا میں منافقوں کے نیک عملوں کا ذکر
شان نزول : ضحاک نے کہا کہ یہ آیت مشرکین اور منافقیں کے حق میں اتری ہے کہ وہ صلہ رحمی کریں یا محتاجوں کو دیں، یا کسی پریشان حال کی مدد کریں یا اس طرح کی کوئی نیکی کریں تو اللہ تعالیٰ وسعت رزق وغیرہ سے ان کے عمل کی جزا دنیا ہی میں دے دیتا ہے اور آخرت میں ان کے لئے کوئی حصہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ عذاب بھگتنا پڑے گا۔
Read the full tafseer →[6] یعنی جو لوگ دنیا ہی کو اور اسی کی '' ترقیوں '' کو اپنا منتہائے نظر اور نصب العین بنائے ہوئے ہیں اور اپنی ساری سرگرمیوں کا مرکز اسی کو قرار دیتے ہیں انھیں اپنی ساری جدوجہد کا صلہ اسی دنیا میں دے دیا جائے گا۔ فقہاء نے یہاں سے یہ مسئلہ بھی نکالا ہے کہ جو اعمال محض دنیوی نفع اور حصول معاوضہ کے خیال سے کئے جاتے ہیں گو وہ ذکر و تلاوت ہی پر مشتمل ہوں موجب ثواب آخرت نہ ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
(ف 2) نبی ہی کی نبوت پر زندہ دلیل وہ کلام ہے جس کو اس نے دنیا کے سامنے پیش کیا جس کے شوشے شوشے میں حکمت ومعرفت کے دریا موجزن ہیں جس میں فصاحت وبلاغت کے سمندر پنہاں ہیں جس کی آیت زندگی کا ایک عنوان ہے کائنات کی تشریح ہے جس کے لفظ لفظ میں زندگی اور زندگی کا پروگرام ہے ۔
ان آیات میں تمام دنیائے علم کو دعوت مقاء مت دی کہ آئے اور قرآن جیسی دس آیتین پیش کرے جن میں قرآن کی سی خوبیاں ہوں قرآن کی سی فصاحت وبلاغت ہو ، قرآن کی سی جامعیت ہو ، قرآن کی سی معنویت ہو ، چودہ سو سال گزر چکے ہیں ، قرآن کا اب بھی یہ دعوے موجود ہے ، مگر یہ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ ایک شخص نے بھی معاندین میں سے قرآن کے اس چیلنج کو…
Read the full tafseer →15 جو لوگ اپنے نیک اعمال کے صلہ میں محض دنیا کی زندگی کا نفع اور حیات دنیو ی کی رونق اور بہار چاہتے ہیں تو ہم ان کے اعمال کا صلہ ان کو دنیا ہی میں پورا پورا دے دیتے ہیں اور دنیا میں ان کی حق تلفی اور ان کے لئے کمی نہیں کی جاتی اور ان کو دنیا میں کچھ نقصان نہیں یعنی بعض لوگ اچھے اور بھلے کام کرتے ہیں مگر ان کا مقصدآخرت کا اجر وثواب نہیں ہوتا بلکہ دنیا کی شہرت اور طلب جاہ اور دنیا میں مال کی کثرت وغیرہ کے لئے بھلے کام کرتا ہے تو ہم ان کی یہ خواہشات دنیا میں پوری کردیتے ہیں بشرطیکہ بھلے اعمال زیادہ ہوں اور اگر بھلے کام کم ہوں اور برے کام زیادہ ہوں تو پھر ایسا اثر مرتب نہیں ہوتا البتہ بھلے کام…
Read the full tafseer →ف 1۔ یعنی دنیا میں ہی ان اعمال کے عوض ان کو نیک نامی اور صحت وفراغ عیش و کثرت اموال اولا عنایت کردیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →جو کوئی دنیا کی زندگی اور اس کی دلفریبیاں ہی چاہتا ہو تو ہم اس کو دے دیتے ہیں
24 ؎ مخالفین اسلام کو جب عذاب الٰہی کی وعیدیں سنائی جاتی ہیں تو وہ اپنی خیرات و صدقات اور خدمت خلق اور رفاہ عام کے کاموں کو سند میں پیش کرتے تھے کہ ہم ایسے نیک کام کرتے ہیں پھر ہم کو عذاب ، آخر کیوں ؟ غور کرو گے تو پائو گے کہ اس آیت میں ایک بڑی تلخ مگر گہری حقیقت کا اعلان ہے جو لوگ یا تو سر تا سر دنیا ہی کو اور اس کی ” ترقیوں “ کو اپنا منتہائے نظر اور نصب العین بنائے ہوئے ہیں اور اپنی ساری سرگرمیوں کا مرکز اس کو رار دیتے ہیں وہ گھبرائیں نہیں ، انہیں مایوسی نہیں ہوگی ۔ انہیں اپنی ساری جدوجہد کا صلہ یہیں اور ابھی ملا…
Read the full tafseer →Commentary
When warnings of punishment were given to opponents of Islam, they referred to the charities they contributed to and the social welfare work they did. With this testimonial of good deeds in their hands, why would they be punished? It is interesting that, in our time too, there are a lot of unaware Muslims who seem to be suffering from the same doubt. They look at disbelieving non-Muslims who impart a good image of their outward deeds and morals, are active in social work, give out in charities, and make roads, bridges, hospitals, free drinking water counters. This view leads them…
Read the full tafseer →15. What prompted this Qur'anic remark is the fact that the kind of people who rejected the message of the Qur'an both in the time of the Prophet (peace be on him) and subsequently have one major characteristic in common - they are all steeped in worldliness. Many of the arguments which they advance in order to reject the Qur'an are probably after-thoughts, merely rationalized excuses for not accepting the truth. What lies at the root of these people's rejection is the hypothesis that everything other than this world and its gains are worthless, and that everyone should have the fullest…
Read the full tafseer →