Explained with ayahs 15–16
ریا ہر نیکی کے لیے زہر ہے
ابن عباس فرماتے ہیں ریاکاروں کی نیکیوں کا بدلہ سب کچھ اسی دنیا میں مل جاتا ہے۔ ذرا سی بھی کمی نہیں ہوتی۔ پس جو شخص دنیا میں دکھاوے کے لے نماز پڑھے، روزے رکھے یا تہجد گزاری کرے، اس کا اجر اسے دنیا میں ہی مل جاتا ہے۔ آخرت میں وہ خالی ہاتھ اور محض بےعمل اٹھتا ہے۔ حضرت انس ؓ وغیرہ کا بیان ہے یہ آیت یہود و نصاری کے حق میں اتری اور اور مجاہد کہتے ہیں ریاکاروں کے بارے میں اتری ہے۔ الغرض کس کا جو قصد ہو اسی کے مطابق اس سے معاملہ ہوتا ہے دنیا طلبی کے لیے جو اعمال ہوں وہ آخرت میں کار آمد نہیں ہوسکتے۔ مومن کی نیت اور مقصد چونکہ آخرت طلبی ہی ہوتا ہے اللہ اسے آخرت میں اس کے اعمال…
Read the full tafseer →سورة هُوْد 16
یعنی جس کے پیش نظر محض دنیا اور اس کا فائدہ ہو، وہ اپنی دنیا بنانے کی جیسی کوشش یہاں کرے گا ویسا ہی اس کا پھل اسے یہاں مل جائیگا۔ لیکن جب کہ آخرت اس کے پیش نظر نہیں ہے اور اس کے لیے اس نے کوئی کوشش بھی نہیں کی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کی دنیا طلب مساعی کی بارآوری کا سلسلہ آخرت تک دراز ہو۔ وہاں پھل پانے کا امکان تو صرف اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب کہ دنیا میں آدمی کی سعی ان کاموں کے لیے ہو جو آخرت میں بھی مانع ہوں۔ مثال کے طور پر اگر ایک شخص چاہتا ہے کہ ایک شاندار مکان اسے رہنے کے لیے ملے اور وہ اس کے لیے ان تدابیر کو عمل میں لاتا ہے جن سے یہاں مکان بنا کرتے ہیں تو ضرور ایک عالی…
Read the full tafseer →دوسری آیت میں نبی کریم ﷺ اور مؤمنین مخلصین کا حال ان لوگوں کے مقابلہ میں پیش کیا گیا جن کا مبلغ علم اور منتہائے مقصود صرف دنیا ہے تاکہ دنیا دیکھ لے کہ یہ دو گروہ برابر نہیں ہوسکتے، پھر ان کا یہ حال بیان کرکے رسول کریم ﷺ کی نبوت و رسالت کا تمام عالم انسان کے لئے قیامت تک عام ہونا، اور جو شخص آپ پر ایمان نہ لائے خواہ اعمال کچھ بھی کرے اس کا گمراہ اور جہنمی ہونا بیان فرمایا ہے۔
پہلے جملہ میں فرمایا کہ کیا منکر قرآن ایسے شخص کی برابری کرسکتا ہے جو قرآن پر قائم ہو جو کہ اس کے رب کی طرف سے آیا ہے اور اس کے ساتھ ایک گواہ تو اسی میں موجود ہے اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب گواہ ہے جو قابل اقتداء اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
15۔ 16:۔ مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَيْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِيْهَا وَهُمْ فِيْهَا لَا يُبْخَسُوْنَ۔ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ ڮ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِيْهَا وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۔
وسعت رزق کے مطالبہ کی تردید : اوپر آیت 12 میں کفار کے اس طعنہ کا حوالہ گزر چکا ہے کہ وہ نبی ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کی بےسروسامانی کو آپ کی رسالت کے خلاف بطور دلیل پیش کرتے تھے۔ ان کا گمان یہ تھا کہ جب ہم دنیوی اسباب ووسائل کے اعتبار سے ان سے نہایت بہتر حالت میں ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا کی نگاہوں میں بھی ہم ان سے…
Read the full tafseer →16۔ 1 ان دو آیات کے بارے میں بعض کا خیال ہے اس میں اہل ریا کار کا ذکر ہے، بعض کے نزدیک اس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور بعض کے نزدیک طالبان دنیا کا ذکر ہے۔ کیونکہ دنیادار بھی بعض اچھے عمل کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی جزا انھیں دنیا میں دے دیتا ہے، آخرت میں ان کے لئے سوائے عذاب کے اور کچھ نہیں ہوگا۔ اسی مضمون کو قرآن مجید سورة بنی اسرائیل آیات 18، 21 (مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا 18 وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَسَعٰى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰۗىِٕكَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
11: کافر لوگ جو آخرت پر تو ایمان نہیں رکھتے، اور جو کچھ کرتے ہیں، دنیا ہی کی خاطر کرتے ہیں، ان کی نیکیوں، مثلا صدقہ خیرات وغیرہ کا صلہ دنیا ہی میں دے دیا جاتا ہے، آخرت میں ان کا کوئی ثواب نہیں ملتا، کیونکہ ایمان کے بغیر آخرت میں کوئی نیکی معتبر نہیں ہے۔ اسی طرح اگر کوئی مسلمان کوئی نیک کام صرف دنیوی شہرت یا دولت وغیرہ حاصل کرنے کے لیے کرے تو اسے دنیا میں تو وہ شہرت یا دولت مل سکتی ہے۔ لیکن اس نیکی کا ثواب آخرت میں نہیں ملتا۔ بلکہ واجب عبادتوں میں اخلاص کے فقدان کی وجہ سے الٹا گناہ ہوتا ہے۔ آخرت میں وہی نیکی معتبر ہے جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی نیت سے کی گئی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
اس دنیا میں جو لوگ بھی جدوجہد کرتے ہیں وہ اس کا ثمرہ پاتے ہیں۔ اب بات اس کے نصب العین پر موقوف ہے۔ بعض لوگوں کی نظر اعلی مقاصد اور بلند افق پر ہوتی ہے۔ اور بعض لوگ صرف اپنے قدموں پر نظر رکھتے ہٰں اور دنیا کے قریب اور محدود مقاصد ان کے پیش نظر ہوتے ہیں۔ جو شخص دنیاوی زندگی اور اس کے کروفر کے متلاشی ہوتے ہیں تو وہ صرف اس کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ ان کو ان کے عمل کا نتیجہ اس دنیا ہی میں ملتا ہے۔ اور پھر وہ اس سے نفع اٹھاتے ہیں جس طرح ان کی مرضی ہوتی ہے۔ لیکن آخرت میں ان کا حصہ صرف آگ ہوتی ہے کیونکہ ایسے شخص نے آخرت کے لیے کچھ کمائی نہیں کی اور نہ آخرت کو اس نے اہمیت دی۔ اس لیے وہ دنیا میں جو بھی…
Read the full tafseer →6 یعنی ان اعمال پر دوزخ کے سوا اور کسی چیز کے مستحق نہیں کفار ابدی طور پر ریاء کار مسلمان محدود مدت کے لیے۔ ہاں خدا تعالیٰ بعض مومنین کو محض اپنے فضل و کرم سے معاف فرما دے، وہ الگ بات ہے۔
7 یعنی دنیا میں جو کام دنیاوی اغراض کے لیے کیے تھے، آخرت میں پہنچ کر ظاہر ہوگا کہ وہ سب برباد ہوئے اور ریاء کاری یا دنیا پرستی کے سلسلہ میں بظاہر جو نیکیاں کمائی تھیں سب یونہی خراب گئیں یہاں کوئی کام نہ آئیں۔
Read the full tafseer →آیت 16 ااُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ
ان کی ساری محنت اور بھاگ دوڑ اسی دنیا کے لیے تھی ‘ لہٰذا ہم نے ان کی محنت کا صلہ اسی دنیا میں دے کر ان کا حساب چکا دیا ہے۔
وَحَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْہَا وَبٰطِلٌ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ
روز محشر انہیں معلوم ہوگا کہ جو کچھ انہوں نے دنیا میں بنایا اور جس کے لیے اپنی تمام تر استعدادات اور صلاحیتیں صرف کیں وہ سب ملیامیٹ ہوچکا ہے ‘ اور اگر انہوں نے اپنے دل کو بہلانے کے لیے کوئی جھوٹی سچی نیکی کی ہوگی تو وہ بھی بےبنیاد ثابت ہوگی۔
Read the full tafseer →19 دنیا میں نیک اعمال بجالانے والے کافروں کو اخروی عذاب کیوں ہوگا ؟ آیت نمبر 15 اور 16 کے مخاطب صرف کافر نہیں بلکہ اس میں مسلمان بھی شامل ہیں اور ان میں جو قانون بیان کیا گیا ہے وہ سب پر ایک جیسا لاگو ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جو نیکی کا کام صرف دنیا کے حصول کے لیے کیا جائے گا اس کا پورا پورا ثمرہ اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں دے دیتے ہیں مگر آخرت میں اس کا کچھ اجر نہ ہوگا بلکہ اسے دوزخ کا عذاب بھی ہوگا یہاں ہم اس کی چند مثالیں پیش کریں گے مثلاً ایک کافر اپنے کاروبار میں جھوٹ فریب اور دغا بازی سے پرہیز کرتا ہے اور دیانت داری سے کام لیتا ہے تو اس کا ثمرہ یہ ہے کہ اس کے کاروبار کو فروغ حاصل ہو تو وہ…
Read the full tafseer →20۔ ظاہر ہے کہ جب دوسری دنیا کا تخیل ہی سرے سے ان کے دماغوں میں نہیں اور اس کا کوئی ادنی محرک عمل بھی رضائے الہی یا ثواب آخرت نہیں تو ظاہر ہے انہیں آخرت میں نمبر کس چیز کے ملیں گے نمبر سب کے سب کٹ ہی جائیں گے۔ (آیت) ” ماصنعوا “۔ اس عموم میں ان کے وہ اعمال بھی داخل ہیں جنہیں وہ کار خیر سمجھ کر کرتے رہے تھے۔ (آیت) ” فیھا “۔ اس کا تعلق (آیت) ” حبط “۔ سے ہے اور ضمیر ھا سے مراد (آیت) ” الاخرۃ “ ہے والظاھر انہ عائد علی الاخرۃ (بحر) (آیت) ” بطل “۔ نفس الامر اور ان لوگوں کے فسادنیت کے اعتبار سے تو ان اعمال کا کھوکھلا اور باطل ہونا اب بھی ظاہر ہے۔ آخرت میں اس کا مشاہدہ سب کو ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
آیت نمبر 9 تا 24
ترجمہ : اور اگر ہم کافر انسان کو اپنی رحمت) مثلاً ( مالداری اور صحت سے نوازنے کے بعد اس کو رحمت سے محروم کردیتے ہیں تو وہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہو کر اس رحمت کی بےحد ناشکری کرنے لگتا ہے، اور اگر اس مصیبت کے بعد جو اس پر آپڑی تھی) مثلاً ( فقر اور سختی، ہم اس کو نعمتوں کا مزا چکھا دیتے ہیں تو کہنے لگتا ہے کہ میرے سب دکھ دور ہوگئے اور ان نعمتوں کے زوال کا خیال بھی نہیں کرتا اور نہ ان پر شکر ادا کرتا ہے) اور ( وہ اترانے لگتا ہے اور جو کچھ اس کا دیا گیا ہے اس کی وجہ سے لوگوں پر شیخی بگھارنے لگتا ہے، مگر جو لوگ مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں اور نعمتوں میں نیک عمل کرتے ہیں یہی ہیں وہ لوگ…
Read the full tafseer →اولئک الذین لیس لھم فی الاخرۃ الا النار یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کیلئے آخرت میں بجز دوزخ کے اور کچھ نہیں۔
یعنی جو لوگ اپنے عمل اور نیکی کے عوض محض دنیوی زندگی کی درازی ‘ صحت ‘ مال و اولاد کی کثرت ‘ حسین بیویاں اور نوکرچاکر ‘ خدمت گار حاصل کرنا چاہتے ہیں ‘ ہم دنیا میں ان کو یہ چیزیں ان کے اچھے اعمال کے بدلہ میں پوری پوری دے دیتے ہیں ‘ کسی قسم کی حق تلفی اور ادائے عوض میں کمی نہیں کرتے مگر آخرت میں ان کے اچھے عمل کا کوئی اچھا بدلہ نہیں دیا جائے گا۔ وہاں سوائے دوزخ کے ان کو اور کچھ نہیں ملے گا کیونکہ اچھے کاموں کا اچھا بدلہ تو ان کو دنیا میں دے دیا جاتا ہے اور برے کام رہ جاتے ہیں ‘ سو ان کا بدلہ…
Read the full tafseer →(16) یہ لوگ جو دنیا میں اللہ کے سوا جھوٹے معبودوں کے لیے نیکیاں کرتے ہیں وہ سب نیکیاں آخرت میں ان کے منہ پر مار دی جائیں گی اور آخرت میں ان کو ان کے اعمال کا کچھ بدلہ نہیں ملے گا جو انہوں نے دنیا میں کیے تھے کیوں کہ انہوں نے یہ نیکیاں غیر اللہ کے لیے کی تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا۔۔ : یہ دو آیات کفار اور مشرکین کے بارے میں ہیں، کیونکہ دوسری آیت میں ہے : (َيْسَ لَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ) ”ان کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں۔“ مطلب یہ ہے کہ جو کفار یہاں دنیا طلبی کے لیے صدقہ و خیرات وغیرہ اور نیک عمل کرتے ہیں، جن کا تعلق رفاہ عامہ سے ہے، انھیں ان کاموں کا بدلہ دنیا ہی میں پورا پورا دے دیا جاتا ہے، لیکن یہ بدلہ ملنا اللہ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 16
اللہ تعالیٰ کے ارشاد : اولٓئک الذین لیس ہھم فی الاٰخرۃ الا النار میں ہمیشہ (جہنم میں) رہنے کی طرف اشارہ ہے جب کہ مومن ہمیشہ (جہنم میں) نہیں رہے گا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی وجہ سے ان اللہ لایغفران یشرک بہٖ ویغفر مادون ذٰلک الایۃ (النساء :116) بیشک اللہ تعالیٰ معاف نہیں فرمائے گا کہ اس کے ساتھ شریک ٹھہرایا جائے اور اس کے علاوہ معاف فرمادے گا۔ پس اس کو اس ریاکار کی کفر پر وفات ہونے پر محمول کیا جائے گا۔ ایک قول یہ ہے لیس لھم الا النارکا معنی یہ ہے کہ وہ معلوم دن آگ میں رہیں گے پھر ان کو نکال لیا جائے گا یا تو شفاعت کے ذریعے یا ذریعے یا مٹھی بھرنے کے ذریعے (یعنی پکڑ کر) اور آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن مردویہ رحمہما اللہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا “ (یہ آیت) یہود و نصاری کے بارے میں نازل ہوئی۔
2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے عبداللہ بن معبد ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی حضرت علی ؓ کے پاس آیا اور کہا ہم کو ان آیات (آیت) ” من کان یرید الحیوۃ الدنیا “ سے لے کر (آیت) ” وبطل ماکانوا یعملون “ تک کے بارے میں بتائیے آپ نے فرمایا تو ہلاک ہوجائے اس سے مراد وہ آدمی ہے جو دنیا کا ارادہ کرتا ہے۔ اور آخرت کا ارادہ نہیں کرتا۔
3:۔ نحاس نے اپنی ناسخ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” من کان یرید الحیوۃ الدنیا “…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ [ یہ وہ لوگ ہیں ] لَيْسَ [ نہیں ہے ] لَهُمْ [ جن کے لئے ] فِي الْاٰخِرَةِ [ آخرت میں ] اِلَّا [ مگر ] النَّارُ ڮ [آگ ] وَحَبِطَ [ اور اکارت ہوا ] مَا [ وہ جو ] صَنَعُوْا [ انھوں نے کاریگری کی ] فِيْهَا [ اس (دنیا ) میں ] وَبٰطِلٌ [ اور باطل ہونے والا ہے ] مَّا [ وہ جو ] كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [ یہ لوگ کرتے تھے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
کافروں کے اعمال کا بدلہ دنیا ہی میں دے دیا جاتا ہے آخرت میں کوئی ثواب نہ ملے گا
ان آیات میں اول تو ان لوگوں کی مذمت فرمائی جو دنیا کے طالب ہیں دنیا ہی ان کا مقصود ہے اور دنیا کو مقصود بنا لینے کی وجہ سے آخرت کے طلب گار نہیں وہ ایمان لانے کے روا دار نہیں ‘ دنیا اور دنیا کی زینت ہی ان کے نزدیک سب سے بڑی چیز ہے ایسے لوگ جو کچھ ایسے اعمال کرلیتے ہیں جو نیکی کے دائرے میں آسکتے ہیں مثلاً صلۂ رحمی یا فقراء و مساکین پر خرچ کرنا وغیرہ ‘ دنیا ہی میں ان کا بدلہ دے دیا جائے گا ‘ اور جب یہ اعمال آخرت میں حبط ہوجائیں گے یعنی ان کے عوض کچھ نہ ملے گا۔ اور دنیا داری کے اصول پر جو کام کرتے تھے اور سمجھتے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ابطال غرہ اہل دنیا بر اعمال خود
قال اللہ تعالیٰ من کان یرید الحیوۃ الدنیا ... .. الیٰ ......... بطل ما کانوا یعملون۔
(ربط) جب گذشتہ آیات میں منکرین قرآن اور منکرین توحید اور منکرین رسالت کے وعید اور عذاب کا بیان ہوا تو اب اس آیت میں اہل دنیا کے وہم فاسد اور زعم کا سد کا ابطال فرماتے ہیں اہل دنیا کو جب عذاب آخرت کی وعید سنائی جاتی تو یہ کہتے کہ اگر بالفرض والتقدیر قیامت حق ہے تو ہم بڑے بڑے نیک کام کرتے ہیں۔ غریب پروری اور صلہ رحمی اور مہمان نوازی وغیرہ وغیرہ تو ہم کو قیامت کے دن ان نیک اعمال کا ثواب ملے گا۔ جیسا کہ دوسری جگہ ہے۔ لئن رجعت الی ربی ان لی عندہ للحسنی۔
اس لیے اس آیت میں اس غرہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
19: زجر مع تخویف اکروی یعنی دنیا میں ان کی روزی میں کمی نہیں کی جاتی جیسا کہ سورة بنی اسرائیل رکوع 2 میں وارد ہے مَنْ کَانَ یُرِیدُ الْعَاجِلَۃَ عَجَّلْنَا لَہٗ الایۃ مگر آخرت میں ان کے لیے جہنم کے سوا کچھ نہیں کیونکہ انہوں نے ثواب آخر کے لیے کیا ہی کچھ نہیں۔ مَاصَنَعُوْا میں ما سے مشرکانہ اعمال بےکار اور رائیگاں ثابت ہوں گے وہ فی نفسہ باطل ہیں کیونکہ ان کی بنیاد عقیدہ باطلہ پر ہے یا ما سے مراد اعمال صالحہ ہیں جو اغراض دنیویہ کی خاطر کیے گئے چونکہ مقصود غیر اللہ ہے اس لیے ایسے اعمال باطل اور بےنتیجہ ہوں گے یعنی وبطل ما عملوا فی الدنیا من اعمال البر (وَبَاطِلٌ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) لانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
ربط آیات
گذشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تسلی دی کہ مشرکوں اور کافروں کے اعتراضات کی وجہ سے آپ اپنے مشن کو نہ چھوڑیں۔ یہ لوگ تو بیہودہ اعتراض کرتے ہی رہتے ہیں۔ لہٰذا آپ کو دل میں کسی قسم کی تنگی محسوس نہیں کرنی چاہیے کہتے ہیں کہ آپ کے پاس خزانہ کیوں نہیں ہوتا یا آپ کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں ہوتا تو فرمایا آپ کہہ دیں کہ خزانوں اور فرشتوں کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے ، میرا کام تو خبردار اور برے انجام سے ڈرانا ہے۔
اب آج کی آیات میں قرآن پاک کی صداقت وحقانیت کی دلیل پیش کی گئی ہے کفار ومشرکین اللہ کی کتاب کے متعلق شکوک و شبہات کا اظہار کرتے تھے ، اللہ نے یہ دلیل پیش کی ہے کہ اگر تم قرآن…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ لَيْسَ لَہُمْ فِي الْاٰخِرَۃِ اِلَّا النَّارُ 0 ۡ ۖ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِيْہَا وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 16
آخرت
آخِر يقابل به الأوّل، وآخَر يقابل به الواحد، ويعبّر بالدار الآخرة عن النشأة الثانية، كما يعبّر بالدار الدنیا عن النشأة الأولی نحو : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ [ العنکبوت/ 64] ، وربما ترک ذکر الدار نحو قوله تعالی: أُولئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ [هود/ 16] . وقد توصف الدار بالآخرة تارةً ، وتضاف إليها تارةً نحو قوله تعالی: وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأنعام/ 32] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–19
ترکیب : صدرک مرفوع ہے ضائق کا فاعل ہو کر جو معتمد علیہ مبتداء ہے اور ممکن ہے کہ وہ مبتداء اور ضائق خبر مقدم ہو ان یقولوا ای مخافۃ ان یقولہ افمن کان موضع رفع میں ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے اور خبر محذوف ہے تقدیرہ افمن کان علی ھذہ الاشیاء کغیرہ۔
تفسیر : فرمایا تھا کہ منکروں سے جو مرنے کے بعد زندہ ہونے کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کا انکار کرتے ہیں اور ان کے اس کفر کی سزا یعنی عذاب کو جو ہم نے ابھی ان پر نہیں بھیجا ذکر کیا جاتا ہے تو کس دلیری اور استقلال سے کہتے ہیں کہ وہ کیوں نہیں آتا ؟ کس نے روک رکھا ہے ؟ اب یہاں فرماتا ہے کہ ان کی یہ سب باتیں ہماری دنیاوی نعمت اور راحت کی وجہ سے ہیں اور ان پر کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَہَا نُوَفِّ اِلَیْہِمْ اَعْمَالَہُمْ فِیْہَا وَہُمْ فِیْہَا لاَ یُبْخَسُوْنَ ۔ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ اِلاَّ النَّارُزصلے وَحَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْہَا وَ بٰطِلٌ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 15، 16)
(جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی خوشنمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ہم ان کے اعمال کا بدلہ یہیں چکا دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں اور جو کچھ انھوں نے دنیا میں کیا کرایا سب ضائع ہوجائے گا اور باطل ہے جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں۔ )
قرآن کریم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
فہم القرآن
ربط کلام : لوگ دنیا کے مفاد اور اس کی زیب وزینت کے لیے حقائق کو ٹھکراتے ہیں جس بنا پر دنیا کی حقیقت کو واضح کردیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جو شخص جس نیت کے ساتھ کسی کام کے لیے کوشش کرے گا اسے اس کی نیت اور کوشش کے مطابق صلہ دے گا۔ اگر کوئی آدمی صرف دنیا اور اس کی اچھی شہرت کے لیے جدوجہد کرتا ہے تو اسے دنیا میں نیک نامی مل جائے گی۔ اگر وہ دنیا اور آخرت کے لیے کوشاں ہے تو اسے دنیا کے ساتھ آخرت میں بھی اس کی کوشش سے کئی گنازیادہ صلہ دیا جائے گا۔ دونوں قسم کے لوگوں کے بدلہ میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ یہاں اسی اصول کو یوں بیان فرمایا ہے کہ جو شخص دنیا اور اس کی…
Read the full tafseer →16: اُولٰٓپکَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ اِلَّاالنَّارُ وَحَبِطَ مَاصَنَعُوْا فِیْھَا (یہ وہ لوگ ہیں جنکے لئے آخرت میں آگ ہی ہے اور جو انہوں نے دنیا میں کیا وہ ضائع ہوگیا) جو انہوں نے کیا وہ آخرت میں ضائع ہوگیا یا ان کا عمل ضائع ہوگیا۔ یعنی ان کے عمل کا ثواب نہ ہوگا۔ کیونکہ انہوں نے آخرت کا ارادہ ہی نہیں کیا۔ بلاشبہ انہوں نے دنیا ہی کا ارادہ کیا اور وہ ان کو پورا پور ادے دیا گیا۔ وَبٰطِلٌ مَّاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (اور باطل ہوا وہ جو وہ کرتے رہے) یعنی ان کا عمل ذات کے لحاظ سے ہی باطل تھا کیونکہ اسکی غرض صحیح نہ تھی اور باطل عمل کا کوئی ثواب نہیں۔
Read the full tafseer →16۔” اولئک الذین لیس لھم فی الاخرۃ الا النار وحبط ماصنعوا فیھا و باطل ما کانوا یعلمون “ اس آیت کے معنی میں اختلاف ہے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ریا کار لوگ مراد ہیں ، ہم تک روایت پہنچی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سب سے زیادہ خوف مجھے تم پر شرک اصغر کا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! شرک اصغر کیا ہے ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ریاء اور بعض نے کہا آیت کفار کے بارے میں ہے اور بہ حال مؤمن تو وہ دنیا اور آخرت کا ارادہ کرتا ہے اور اس کا آخرت کا ارادہ غالب ہوتا ہے تو اس کو دنیا میں نیکیوں کی جزاء اور آخرت میں ان پر ثواب دیا جاتا ہے۔ انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ…
Read the full tafseer →16۔ اس سے اوپر کی آیت میں یہ ذکر ہوچکا ہے کہ جو لوگ فقط دنیا کی عزت اور زینت کے لئے عمل کرتے ہیں ان کو اس کا بدلہ دنیا ہی میں مل جاتا ہے انہیں کی شان میں یہ آیت اتری ہے جس میں فرمایا ہے کہ ان کے عمل کا بدلہ دنیا میں ہی مل جاوے گا باقی رہی آخرت تو وہاں ان کا کچھ حصہ نہیں ہے اگر ہے تو دوزخ ہے اور جو کچھ انہوں نے دنیا میں کیا ہے وہ سب مٹ جائے گا اور جتنے عمل ان کے ہیں وہ سب بیکار ہیں کیوں کہ ان کا ارادہ اس عمل سے طلب دنیا کا تھا آخرت کے واسطے انہوں نے کچھ نہیں کیا تھا جو وہاں بھی جزا کے سزا وار ہوں۔ اعتقادی منافقوں کے حال میں صحیح مسلم کے حوالہ سے ابن عمر ؓ کی حدیث گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے…
Read the full tafseer →(اولئک الذین لیس لھم فی الاخرۃ الا النار) ” یہی ہیں جن کے واسطے آخرت میں کچھ نہیں ہے سوائے آگے کے، وہ اس میں ابد لا باد تک رہیں گے، ان کے عذاب میں کوئی وقفہ نہیں کیا جائے گا اور ثواب جزیل سے انہیں محروم کردیا جائے گا۔ (وحبط ما صنعو فیھا) ” اور برباد ہوگیا جو کچھ انہوں نے کیا دنیا میں “ یعنی وہ سب اعمال باطل اور مضمحل ہوجائیں گے جو وہ حق اور اہل حق کے خلاف سازشوں کے لئے کرتے رہے ہیں اور نیکی کے اعمال بھی باطل ہوجائیں گے جن کی کوئی اساس ہی نہیں اور ان کی قبولیت کی شرط بھی مفقود ہے اور وہ ایمان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–33
طلب دنیا یا عقبی کی چاہت
قول یاری ہے من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا نوف الیھم اعمالھم فیھا وھم فیھا لا یبخسون اولیک الذین لیس لھم فی الاخرۃ الا النار جو لوگ بس اسی دنیا کی زندگی اور اس کی خوشنمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ۔ ان کی کارگزاری کا سارا پھل ہم یہیں ان کو دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی مگر آخرت میں ایسے لوگوں کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو شخص دنیا کی خاطر کوئی عمل کرے گا آخرت میں اس کے لیے اس عمل کے ثواب کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے من کان یرید حرث الاخرۃ نزدلہ فی حرثد و من کان یرید حرث الدنیا نوتہ منھا وما لہ…
Read the full tafseer →39 ۔ صرف دنیا چاہنے والوں کے لیے آخرت میں دوزخ کی آگ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخرت میں ان کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ کہ وہاں کے لئے کوئی عمل کرنا تو درکنار انہوں نے اس کے لیے نیت ہی نہیں کی تھی کہ ان کا اس پر ایمان ہی نہیں تھا اور مزید یہ کہ وہ اپنے کئے کا بدلہ اس دنیائے فانی ہی میں پاچکے ہیں۔ سو کس قدر خسارے کا سودا ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں کہ آخرت کی ان حقیقی اور ابدی نعمتوں کو بھول کر ایسی دنیا کے حطام زائل اور متاع فانی پر قانع ہوجاتے ہیں جو کہ سب سے بڑا نقصان اور خساروں کا خسارہ ہے۔ اور ایسا خسارہ کہ اس کی تلافی وتدارک کی پھر کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی۔ والعیاذ باللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
مشرکین کو دس سورتوں کی مثل بنانے کا چیلنج
تشریح : ان آیات میں نبی اکرم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے۔ کیونکہ آپ بظاہر بالکل کمزور تھے مالی اور وسائل کے لحاظ سے آپ تنہا بےآسرا تھے۔ آپ کے پاس صرف صادق و امین ہونے کی سند تھی۔ کیونکہ بچپن سے آپ اس قدر شریف النفس، ایماندار اور نیک انسان تھے کہ سب آپ کی عزت کرتے تھے۔ لیکن جب آپ نے نبوت کا دعو ٰی کیا توحید کا پیغام دیا بتوں کی اصلیت بتائی تو تمام اہل مکہ آپ کے دشمن ہوگئے۔ کوئی آپ کا مذاق اڑاتا، کوئی دھمکیاں دیتا، کوئی آوازے کستا، کوئی تکلیفیں پہنچاتا، غرض ہر طرف آپکے دشمن ہی دشمن تھے تو ایسے میں اللہ تعالیٰ آپ کو تسلی دیتے ہیں کہ میں تمہارے ساتھ ہوں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
آیات 9 تا 24
اسرار و معارف
عام انسان کا حال یہ ہے کہ اگر اس کے پاس اللہ کی نعمت ہو اور وہ چھن جائے یعنی مال وغیرہ میں نقصان ہوجائے یا صحت چلی جائے یا اقتدار و وقار جاتا رہے تو وہ بالکل ناامید ہوکرناشکری کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا لیکن اگر اسی کو پھر سے وہ نعمت لوٹادی جائے بیمار کو شفا ہوجائے یا پھر مالدار ہوجائے یاجلاوطنی کے بعد پھر سے اقتدار نصیب ہوجائے تو اترانے اور اکڑنے لگتا ہے اور کہتا ہے وہ دن اب لدگئے اب میرا کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور وہ طرح طرح کی شیخیاں بگھارتا ہے۔
معرفت باری کا اثر
یہ وہ تصویر ہے جو ہراس انسان کی ہے جسے معرفت باری نصیب نہیں مگر جن کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ف 7 ۔ یہ آیتیں کفار اور مشرکین کے بارے میں ہیں کیونکہ بعد میں لیس لھم الا النار ہے کہ ان کے لئے آخرت میں آگ ہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو کفار یہاں دنیا طلبی کے لئے صدقہ خیرات وغیرہ نیک عمل کرتے ہیں جن کا تعلق رفاہِ عامہ سے ہے انہیں ان کاموں کا بدلہ دنیا میں ہی پورا پورا دے دیا جاتا ہے لیکن یہ بدلہ ملنا مشئیت الٰہی پر موقوف ہے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں ہے۔ عجلنا لہ ما نشاء لمن نرید ( سورة اسراء آیت 81) آخرت میں بعض کفار جیسے ابو طالب کے متعلق آیا ہے کہ اس کو ہلکا عذاب ہوگا تو یہ خاص طور پر آنحضرت ﷺ کے ساتھ نیکی کی وجہ سے ہے۔ ورنہ آخرت میں نیک عمل کی قبولیت کے لئے ایمان شرط ہے۔ علما تفسیر نے ان دو…
Read the full tafseer →(11:16) ھبط یحبط (سمع) اکارت گیا۔ ضائع ہوگیا۔ مٹ گیا۔ ماضٰ واحد مذکر غائب ۔ فیہا۔ ای فی الدنیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
لغات القرآن آیت نمبر 15 تا 16
یرید (وہ چاہتا ہے) زینتھا (اس کی زیب وزینت) نوف (ہم پورا دیں گے) لابیخسون (وہ کمی نہ کئے جائیں گے) حبط (ضائع ہوگیا) صنعوا (جو انہوں نے بتایا تھا) بطل (بیکار، فضول)
تشریح : آیت نمبر 15 تا 16
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ” تمام اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے “ اس کی نیت جس طرح کی ہوگی اللہ کا معاملہ بھی اس کے مطابق ہوگا ۔ اگر ایک شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان رکھتے ہوئے وہ اعمال سر انجام دیتا ہے جن کی زبردست فضیلتیں بیان کی گئی ہیں لیکن ان اعمال سے اس کا مقصد محض دکھاوا، شہرت اور دنیا کی بےحقیقت دولت اور مال و زر کا حصول ہو تو وہ اس شخص کے دنیاوی زندگی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
آخرت کا ذکر
اس سے اوپر کی آیت میں یہ ذکر ہوچکا ہے کہ جو لوگ فقط دنیا کی عزت اور زینت کے لئے عمل کرتے ہیں ان کو اس کا بدلہ دنیا ہی میں مل جاتا ہے۔ انہی کی شان میں یہ آیت اتری ہے جس میں فرمایا ہے کہ ان کے عمل کا بدلہ دنیا میں ہی مل جاوے گا باقی رہی آخرت تو وہاں ان کا کچھ حصہ نہیں ہے اگر ہے تو دوزخ ہے اور جو کچھ انہوں نے دنیا میں کیا ہے وہ سب مٹ جائے گا اور جتنے علم ان کے ہیں وہ سب بےکار ہیں۔ کیونکہ ان کا ارادہ اس عمل سے طلب دنیا کا تھا، آخرت کے واسطے انہوں نے کچھ نہیں کیا تھا جو وہاں بھی جزا کے سزاوار ہوں۔
ہر انسان فطرت سلامی پر پیدا ہوتا ہے
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ عالم ارواح میں مخلوقات کو…
Read the full tafseer →[7] یعنی جب آخرت کا تخیل ہی سرے سے ان کے دماغوں میں نہیں اور اس کا کوئی ادنیٰ محرک عمل بھی رضائے الٰہی اور ثواب آخرت نہیں تو ظاہر ہے کہ انھیں آخرت میں نمبر کس چیز کے ملیں گے۔ ان کے وہ اعمال جنہیں وہ کار خیر سمجھ کر کرتے رہے اکارت جائیں گے۔ علاوہ ازیں جو لوگ آخرت کی زندگی پر یقین نہیں رکھتے ان کی دنیوی زندگی غلط ہو کر رہ جاتی ہے۔ وہ دنیا میں شتر بےمہار بن کر رہ جاتے ہیں اور اپنے مقصد کے حصول کے لئے ناجائز ذرائع استعمال کرنے میں ذرا جھجک محسوس نہیں کرتے۔ اس طرح وہ فتنہ و فساد پھیلاتے ہیں جس کی بنا پر وہ دوزخ کے مستحق بن جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
(ف 2) نبی ہی کی نبوت پر زندہ دلیل وہ کلام ہے جس کو اس نے دنیا کے سامنے پیش کیا جس کے شوشے شوشے میں حکمت ومعرفت کے دریا موجزن ہیں جس میں فصاحت وبلاغت کے سمندر پنہاں ہیں جس کی آیت زندگی کا ایک عنوان ہے کائنات کی تشریح ہے جس کے لفظ لفظ میں زندگی اور زندگی کا پروگرام ہے ۔
ان آیات میں تمام دنیائے علم کو دعوت مقاء مت دی کہ آئے اور قرآن جیسی دس آیتین پیش کرے جن میں قرآن کی سی خوبیاں ہوں قرآن کی سی فصاحت وبلاغت ہو ، قرآن کی سی جامعیت ہو ، قرآن کی سی معنویت ہو ، چودہ سو سال گزر چکے ہیں ، قرآن کا اب بھی یہ دعوے موجود ہے ، مگر یہ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ ایک شخص نے بھی معاندین میں سے قرآن کے اس چیلنج کو…
Read the full tafseer →16 سو یہ ایسے لوگ ہیں کہ آخرت میں ان کے لئے بجز و دوزخ کے اور کچھ نہیں اور جو اعمال انہوں نے کئے وہ سب اکارت اور ناکارہ ہوگئے اور جو کچھ یہ کیا کرتے تھے وہ سب بیکار ثابت ہوگا یعنی یہ آگ منکروں کے لئے ابدی طورپر ہوگی اور مسلمان ریا کاروں کے لئے محدود اور معین وقت تک۔
Read the full tafseer →ف 2۔ اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ کفار کی نیت بجز دنیا کے کچھ نہیں ہوتی بلکہ ان میں جو ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی نیت بجز دنیا کے کچھ نہ ہو اس آیت میں ان کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →25 ؎ زیر نظر آیت میں یہ حقیقت واضح کی ہے کہ اگر انکار و سر کشی پر بھی انہیں دنیوی فوائد مل رہے ہیں تو صرف اتنی ہی بات دیکھ کر یہ مغرور نہ ہوجائیں اور نہ ہی مومنوں کو چاہئے کہ اس پر متعجب ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کیلئے ایسا ہی قانون ٹھہرایا ہے کہ انسان کا ہر عمل ایک نتیجہ رکھتا ہے اور جیسا کچھ عمل ہوتا ہے اس کے مطابق نتیجہ بھی نکلتا ہے۔ جس شخص نے عمل صرف اور صرف دنیا کی خاطر کیا اس لئے کہ آخرت کی طرف سے تو وہ بالکل غافل تھا چونکہ وہ دنیوی زندگی ہی کا خواہش مند ہے پھر بھی ایسا نہ ہوگا کہ اس کی سعی و طلب بےاثر ہوجائے اگر ایسا ہو تو یہ ظلم ہے۔ اس کی خواہش جس کی بناء پر اس نے عمل کیا ، کیا تھی ؟…
Read the full tafseer →The second verse (17) presents the high ground the Holy Prophet ﷺ and the purely sincere believers with him occupy. This is in sharp contrast to those the sum total of whose knowledge and the end of whose quest is restricted to worldly life only - so that the whole world could see that these two groups could not be equal. After having focused on this phenomena, it has been stated that the mission and message of the Holy Prophet ﷺ as a prophet and messenger of Allah is open to mankind right through the Last Day of Qiyamah. Then, it has been stressed that anyone who does not believe in him will…
Read the full tafseer →16. Those who keep their attention focused on this world and its benefits will reap worldly benefits in proportion to their efforts. However, since such people have not been concerned with, nor did they direct their efforts to achieving success and well-being in the Hereafter, there is no reason to suppose that their efforts, aimed merely at achieving worldly benefits, will also embrace the benefits of the Hereafter. A person can expect that his action in this world will be of some benefit to him in the Next Life only if he has engaged himself in tasks which are beneficial in the Next Life as…
Read the full tafseer →