مومن کون ہیں ؟
ان مومنوں کا وصف بیان ہو رہا ہے جو فطرت پر قائم ہیں جو اللہ کی وحدانیت کو دل سے مانتے ہیں۔ جیسے حکم الٰہی ہے کہ (فَاَقِمْ وَجْهَكَ للدِّيْنِ حَنِيْفًا ۭ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ ڎ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 30ڎ) 30۔ الروم :30) اپنا منہ دین حنیف پر قائم کر دے اللہ کی فطرت جس پر اس نے انسانی فطرت پیدا کی ہے بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے کہ جانوروں کے بچے صحیح سالم…
Read the full tafseer →سورة هُوْد 17
یعنی جس کو خود اپنے وجود میں اور زمین و آسمان کی ساخت میں اور کائنات کے نظم و نسق میں اس امر کی کھلی شہادت مل رہی تھی کہ اس دنیا کا خالق، مالک، پروردگار اور حاکم و فرمانروا صرف ایک خدا ہے، اور پھر انہی شہادتوں کو دیکھ کر جس کا دل یہ گواہی بھی پہلے ہی دے رہا تھا کہ اس زندگی کے بعد کوئی اور زندگی ضرور ہونی چاہیے جس میں انسان اپنے خدا کو اپنے اعمال کا حساب دے اور اپنے کیے کی جزا اور سزا پائے۔
سورة هُوْد 18
یعنی قرآن، جس نے آکر اس فطری و عقلی شہادت کی تائید کی اور اسے بتایا کہ فی الواقع حقیقت وہی ہے جس کا نشان آفاق وانفس کے آثار میں تو نے پایا ہے۔
سورة هُوْد 19
سلسلہ کلام کے لحاظ سے…
Read the full tafseer →اس آیت میں بیّنہ سے مراد قرآن ہے اور شاھد کے معنی میں ائمہ تفسیر کے مختلف اقوال ہیں، بیان القرآن میں حضرت تھانوی قدس سرہ نے اس کو اختیار کیا ہے کہ شاہد سے مراد وہ اعجار قرآنی ہے جو خود قرآن میں موجود ہے، تو معنی یہ ہوگئے کہ وہ لوگ جو قرآن پر قائم ہیں اور ان کے پاس قرآن کی حقانیت کا ایک گواہ تو خود قرآن میں موجود ہے یعنی اس کا اعجاز اور دوسرا گواہ اس سے پہلے بصورت تورات آچکا ہے جو موسیٰ ؑ لوگوں کے لئے قابل اقتداء اور رحمت حق کی حیثیت سے لائے تھے کیونکہ تو ارت میں قرآن کریم کا حق ہونا واضح طور پر بیان کیا گیا۔
دوسرے جملہ میں آنحضرت ﷺ پر ایمان کو قیامت تک مدار نجات قرار دینے کا بیان اس طرح…
Read the full tafseer →اَفَمَنْ كَانَ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَيَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَمِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰٓى اِمَامًا وَّرَحْمَةً ۭ اُولٰۗىِٕكَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ ۭ وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ ۚ فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ ۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ۔
اب یہ پیغمبر ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ جو لوگ قرآن سے گریز و فرار کے لیے یہ بہانے تراش رہے ہیں ان کی اصل بیماری یہ ہے کہ ان کی فطرت کا نور بجھ چکا ہے اور جن کی فطرت کا نور بجھ چکا ہے اور جن کی فطرت کا نور بجھ چکا ہو وہ قرآن پر ایمان لانے والے نہیں بن سکتے۔ اس…
Read the full tafseer →17۔ 1 منکرین اور کافرین کے مقابلے میں اہل فطرت اور اہل ایمان کا تذکرہ کیا جا رہا ہے ' اپنے رب کی طرف سے دلیل ' سے مراد وہ فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا فرمایا اور وہ اللہ واحد کا اعتراف اور اسی کی عبادت جس طرح کہ نبی کا فرمان ہے کہ ' ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پس اس کے بعد اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں (صحیح بخاری) یتلوہ کے معنی ہیں اس کے پیچھے یعنی اس کے ساتھ اللہ کی طرف سے ایک گواہ بھی ہو گواہ سے مراد قرآن، یا محمد ﷺ ہیں، جو اس فطرت صحیحہ کی طرف دعوت دیتے اور اس کی نشاندہی کرتے ہیں اور اس سے پہلے
حضرت موسیٰ ؑ کی کتاب تورات بھی جو پیشوا بھی ہے اور…
Read the full tafseer →12: یعنی قرآن کریم کی حقانیت کا ایک ثبوت تو خود قرآن کریم کا اعجاز ہے، جس کا مظاہرہ پیچھے آیت نمبر 13 میں ہوچکا ہے کہ ساری دنیا کو اس جیسا کلام بنا لانے کا چیلنج دیا گیا، مگر کوئی آگے نہ بڑھا۔ اور دوسرا ثبوت حضرت موسیٰ علیہ السلا پر نازل ہونے والی تورات ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علی ہو سلم کی تشریف آوری کی خبر اور آپ کی علامتیں واضح طور پر بتائی گئی تھیں۔
Read the full tafseer →یہ (آیات 17 تا 24) ایک طویل تنقیدی جملہ ہے ، اس کے اندر پائے جانے والے اشارات و ہدایات ، متنوع یاد دہانیوں اور تنبیہا اور موثر ضربات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ کے اس دور میں مسلمانوں کی قلیل تعداد اور دعوت اسلامی کو کن مشکلات کا سامنا تھا اور یہ کہ اس اشاراتی تقریر کی اس دور میں کیوں ضرور پیش آئی۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم اپنے اندر ایک تحریکی مزاج رکھتا ہے۔ اور وہ ایک واقع حالات میں ان تھک جدوجہد کی ہدایات دیتا ہے اور قیامت تک کے لیے ایسی تحریکات کے لیے ایک گائیڈ بک ہے۔
اس قرآن کا مزہ وہی شخص چکھ سکتا ہے جو عملاً احیائے اسلام کے معرکے میں کود چکا ہوتا ہے اور اسے انہی…
Read the full tafseer →1 یعنی یہ شخص اور وہ ریاء کار دنیا پرست جن کا ذکر پہلے ہوا کیا برابر ہوسکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں۔ " بَیِّنَۃ " (صاف راستہ) سے مراد وہ راستہ ہے جس پر انسان اپنی اصلی اور صحیح فطرت کے موافق چلنا چاہتا ہے۔ بشرطیکہ گردوپیش کے حالات و خیالات سے متاثر نہ ہو، اور وہ توحید، اسلام اور قرآن کا راستہ ہے۔ (فَاَقِمْ وَجْهَكَ للدِّيْنِ حَنِيْفًا ۭ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ ) 30 ۔ الروم :30) وفی حدیث کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُّوْلَدُ عَلَی الْفَطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہٖ اَوْیُنَصِّرَانِہٖ اَوْیُمَجِّسَانِہٖ " الخ اور "…
Read the full tafseer →آیت 17 اَفَمَنْ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّہٖ
بَیِّنَۃ واضح دلیل سے مراد انسان کی فطرت سلیمہ ہے۔ انسان کے اندر جو روح ربانی پھونکی گئی ہے اس کی وجہ سے اللہ کی معرفت اس کے اندر موجود ہے۔ مگر یہ معرفتِ الٰہی انسان کے اندر خوابیدہ dormant ہوتی ہے۔ پھر جب وحی کے ذریعے واضح ہدایت اس تک پہنچتی ہے تو وہ خوابیدہ معرفت فوراً جاگ جاتی ہے۔
وَیَتْلُوْہُ شَاہِدٌ مِّنْہُ
یعنی ایک سلیم الفطرت شخص جس کو خود اپنے وجود میں اور زمین و آسمان کی ساخت اور کائنات کے نظم و نسق میں توحید باری تعالیٰ کی واضح شہادت مل رہی تھی ‘ جب اس کے پاس قرآن کی صورت میں اللہ کی طرف سے ایک گواہی بھی آگئی ‘ تو یہ ”نورٌ علٰی…
Read the full tafseer →20 دونوں شہادتوں کے بعد بھی ایمان نہ لانے والے :۔ یہاں واضح دلیل سے مراد داعیہ فطرت یا عہد الست ہے جو ہر انسان کے تحت الشعور میں موجود ہے (تفصیل کے لیے دیکھیے الاعراف کی آیت نمبر 172، 173) اب اگر اس آیت میں شخص سے مراد رسول اللہ کی ذات لی جائے تو شاہد سے مراد جبرئیل ہیں اور اگر شخص سے مراد عام آدمی لیا جائے تو شاہد سے مراد رسول اللہ ہیں۔ یعنی یہ داعیہ فطرت ہر انسان کے تحت الشعور میں پہلے سے ہی موجود ہے کہ اس کائنات کا اور خود ہمارا بھی خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہوسکتا پھر اس داعیہ کی تائید میں خارج سے دو قوی شاہد بھی مل جائیں جن میں سے ایک تو رسول اللہ اور قرآن…
Read the full tafseer →21۔ (نہیں دونوں برابر ہرگز نہیں ہوسکتے) (آیت) ” بینۃ “۔ سے مراد قرآن ہی سمجھی گئی ہے۔ البینۃ ھو القران (کبیر) والمراد بھا القران (روح) (آیت) ” بینۃ “۔ تنوین اس دلیل کی عظمت واہمیت کے لئے ہے۔ التنوین فیھا ھنا للتعظیم ای بینۃ عظیم الشان (روح) تقدیر کلام یوں سمجھی گئی ہے۔ افمن کان علی بینۃ من ربہ کمن یرید الحیوۃ الدنیا (کبیر)
22۔ امام تو اپنی تعلیمات و احکام کی عظیم الشان اہمیت تقدس کے لحاظ سے اور رحمت اس معنی میں کہ باعث رحمت ہے۔ ؛ (آیت) ” ویتلوہ شاھد منہ “۔ یتلوہ کو یتبعہ کے مرادف سمجھا گیا ہے اور مراد یہ لی گئی ہے کہ قرآن کا ایک گواہ تو خود قرآن کے اندر موجود ہے اور یہ داخلی گواہ قرآن کا معجز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
آیت نمبر 9 تا 24
ترجمہ : اور اگر ہم کافر انسان کو اپنی رحمت) مثلاً ( مالداری اور صحت سے نوازنے کے بعد اس کو رحمت سے محروم کردیتے ہیں تو وہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہو کر اس رحمت کی بےحد ناشکری کرنے لگتا ہے، اور اگر اس مصیبت کے بعد جو اس پر آپڑی تھی) مثلاً ( فقر اور سختی، ہم اس کو نعمتوں کا مزا چکھا دیتے ہیں تو کہنے لگتا ہے کہ میرے سب دکھ دور ہوگئے اور ان نعمتوں کے زوال کا خیال بھی نہیں کرتا اور نہ ان پر شکر ادا کرتا ہے) اور ( وہ اترانے لگتا ہے اور جو کچھ اس کا دیا گیا ہے اس کی وجہ سے لوگوں پر شیخی بگھارنے لگتا ہے، مگر جو لوگ مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں اور نعمتوں میں نیک عمل کرتے ہیں یہی ہیں وہ لوگ…
Read the full tafseer →افمن کان علی بینۃ من ربہ کیا منکر قرآن ایسے شخص کی برابری کرسکتا ہے جو اس قرآن پر قائم ہو جو اس کے رب کی طرف سے بھیجا گیا ہے ؟
بیّنۃ دلیل جو حق اور امر صحیح کی راہنمائی کرتی ہے جس کی روشنی میں وہ بت پرستی چھوڑ کر خدا پرستی اختیار کرتا ہے اور دنیا کی (ناجائز) فانی لذتوں کو ترک کر کے آخرت کی دوامی راحت کو پسند کرتا ہے۔
اس جملے کی خبر محذوف ہے اور مَنْ کان مبتداء ہے اور فَمَنْمیں فاء تعقیب کیلئے ہے اور استفہام انکاری ہے۔ صحیح علم کے ... بعد بھی جو لوگ کافروں اور ریاکاروں کا طریقہ اختیار کرتے ہیں ‘ ان کی سزا بھی دوزخ ہے۔ دونوں باہم مشابہ ہیں۔
اصل کلام اس طرح تھا کہ جو شخص اللہ کی نازل کردہ دلیل…
Read the full tafseer →(17) کیا منکر قرآن ایسے شخص کی برابری کرسکتا ہے جو قرآن کریم پر قائم ہو جو کہ اسکے رب کی طرف سے آیا ہے، اور اس کے ساتھ ایک گواہ اللہ کی طرف سے یعنی جبریل امین ؑ تو اسی میں موجود ہے اور ایک قرآن حکیم سے پہلے موسیٰ ؑ کی کتاب توریت ہے جو ان پر جبرئیل امین ؑ کے ذریعے نازل ہوئی ہے جو پیروی کرنے والوں کے لیے امام اور جو اس پر ایمان لائے اس کے لیے رحمت ہے۔
جو حضرات یعنی حضرت عبداللہ بن سلام اور اس کے ساتھ جو کتاب موسیٰ پر ایمان رکھتے ہیں، وہ رسول اکرم ﷺ اور اس قرآن کریم ﷺ پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔
اور جو کفار میں سے ہے اور وہ اس قرآن حکیم اور رسول اکرم ﷺ کا انکار کرے گا تو جہنم اس کا ٹھکانا ہے۔ اے…
Read the full tafseer →اَفَمَنْ كَانَ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ۔۔ : ”یَتْلُوا“ ”تَلاَ یَتْلُوْ“ کا معنی ہے پیچھے آنا، مراد اس کی تائید کرنا ہے۔ اس آیت کی مفسرین نے کئی تفسیریں کی ہیں، ان میں سے دو تفسیریں زیادہ درست معلوم ہوتی ہیں۔ سب سے واضح اور درست تفسیر تو یہ ہے کہ کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ”بَیِّنَۃٍ“ (واضح دلیل) پر ہے، اس شخص سے مراد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے متبع مومن ہیں۔ ”َیِّنَۃٍ“ سے مراد نبوت کی نشانیاں اور دلائل ہیں اور ”وَيَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ“ (اس کی طرف سے ایک گواہ اس کی تائید کر رہا ہو) میں ”شَاهِدٌ“ سے مراد قرآن مجید ہے جو آپ کے صدق کا شاہد ہے اور اس سے پہلے موسیٰ ؑ کی کتاب سے مراد…
Read the full tafseer →آیت نمبر 17
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : افمن کان علی بینۃٍ من ربہٖمبتدا ہے اور خبر محذوف ہے یعنی کیا نبی کریم ﷺ کے پیروکاروں میں سے وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہے اور اس کے پاس وہ فضل ہے جس کو اللہ تعالیٰ اس کے لیے بیان فرماتا ہے وہ اپنے علاوہ کسی ایسے آدمی کی طرح ہوسکتا ہے جو دینوی زندگی اور اس کی زینت کو چاہتا ہے ؟ یہ علی بن حسین اور حسن بن ابی الحسن سے مروی ہے۔ اور اسی طرح ابن زید نے بھی کہا ہے۔ بیشک جو روشن دلیل پر ہے وہ وہ ہے جس نے نبی کریم ﷺ کی اتباع کی ویتلوہ شاھدٌ منہ یعنی اللہ کی طرف سے اور وہ (شاہد) نبی کریم ﷺ ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ افمن کان علٰی بینۃٍ من ربہٖسے مراد نبی کریم…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ و ابونعیم نے المعرفۃ میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ قریش میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں مگر یہ کہ نازل کیا گیا ہے اس کے بارے میں قرآن مجید (یعنی چند آیات) ایک آدمی نے ان سے کہا آپ کے بارے میں کیا نازل ہوا انہوں نے فرمایا کیا تو نے سورة ھود کو نہیں پڑھا۔ (آیت) ” افمن کان علی بینۃ من ربہ ویتلوہ شاھد منہ “ یعنی اللہ کے رسول اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہیں اور میں بھی ان کی طرف سے گواہی دینے والا ہوں۔
2:۔ ابن مردویہ وابن عساکر رحمہما اللہ نے علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل ہیں اور میں بھی اس میں سے گواہی دینے والا ہوں۔
3:۔ ابن…
Read the full tafseer →اَفَمَنْ [ تو کیا وہ لوگ جو ] كَانَ [ ہوں ] عَلٰي بَيِّنَةٍ [ ایک شفاف (فطرت) پر ] مِّنْ رَّبِّهٖ [ اپنے (کی جانب ) سے ] وَيَتْلُوْهُ [ اور اس کے ساتھ ساتھ چلتا ہو ] شَاهِدٌ [ ایک گواہی دینے والا (قرآن ) ] مِّنْهُ [ اس (کی طرف) سے ] وَمِنْ قَبْلِهٖ [ اور اس سے پہلے ] كِتٰبُ مُوْسٰٓى [ موسیٰ کی کتاب ہو ] اِمَامًا [ رہنما ہوتے ہوئے ] وَّرَحْمَةً ۭ [ اور رحمت ہوتے ہوئے (ان کے برابر ہوں گے جوان سے محروم ہیں ) ] اُولٰۗىِٕكَ [ یہ لوگ ہی ] يُؤْمِنُوْنَ [ ایمان لاتے ہیں ] بِهٖ ۭ [ اس (قرآن ) پر ] وَمَنْ [اور جو کوئی ] يَّكْفُرْ [ انکار کرے گا ] بِهٖ [ اس (قرآن ) کا ] مِنَ الْاَحْزَابِ [ تمام گروہوں…
Read the full tafseer →پھر فرمایا (اَفَمَنْ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَبِّہٖ ) (الایۃ) اس کے شروع میں جو ہمزہ ہے یہ استفہام انکاری کے لئے ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ ایک وہ شخص ہے جو قرآن کو تھامے ہوئے ہے اس کی سچائی کا عقیدہ رکھتا ہے اور اس کے پاس قرآن کی سچائی کے دو گواہ موجود ہیں ایک تو خود قرآن کے اندر ہی ہے یعنی اس کا اعجاز اور اس کی فصاحت و بلاغت اور دوسرا گواہ دنیا میں قرآن کے آنے سے پہلے ہی موجود ہے ‘ یعنی تورات شریف جو موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی ‘ جو کتاب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے وہ امام بھی ہے اور احکام قرآنیہ کی تصدیق کرتی ہے اور امتثال او امر پر جو ثواب ملنے کے اللہ تعالیٰ نے وعدے فرمائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
اہل دنیا اور اہل آخرت کا مقابلہ اور موازنہ اور فریقین کے نتائج اخروی کا بیان
قال اللہ تعالیٰ افمن کان علی بینہ من ربہ ...... الیٰ ...... ہل یستوین مثلا افلا تذکرون۔
(ربط) گذشتہ آیت میں اہل دنیا کا بیان تھا اب ان آیات میں اہل دنیا اور اہل آخرت کا موازنہ اور مقابلہ ہے اور فریقین کے نتائج اخروی کا بیان اور پھر آخر میں اللہ تعالیٰ نے دونوں کی مثال بیان کی کہ کافر تو مثل اندھے اور گونگے کے ہیں اور ایماندار مثل بینا اور شنوا کے ہیں دونوں کے اعمال اور افعال میں اور دونوں کے حال اور مآل میں زمین و آسمان کا فرق ہے اسی طرح سمجھو کہ اہل دنیا اور اہل آخرت برابر نہیں ہوسکتے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ پس کیا جو…
Read the full tafseer →20: یہ چوتھا دعویٰ ہے۔ بَیِّنَۃٌ سے عقل سلیم رماد ہے یعنی جو شخص عقل سلیم رکھتا ہو اور دین اسلام اور توحید کی سچائی دلائل عقلیہ سے اس پر واضح اور روشن ہو ای علی برھان من اللہ وبیان ان دین الاسلام حق وھو دلیل العقل (مدارک ج 2 ص 140) ۔ وَیَتْلُوْہُ ای و یلحقہ ویتبعہ اور شَاھِدٌ سے مراد قرا ان ہے اور مِنْہُ کی ضمری لفظ جلالت سے کنایہ ہے ای من اللہ یعنی عقل سلیم کے ساتھ پھر قرا ان بھی مسئلہ توحید کی حقانیت پر شاہد ہے (مدارک) وَمِنْ قبَلِہٖ اور پھر اس قرآن سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب (تورات) موجود ہے جو بنی اسرائیل کے لیے دین کی راہنما اور اپنے زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت تھی وہ…
Read the full tafseer →ربط آیات
گذشتہ آیات میں قرآن کی حقانیت اور صداقت کا ذکر تھا۔ اللہ نے معترضین کو چیلنج کیا کہ اگر قرآن انسانی تخلیق ہے تو پھر تم بھی اس جیسی دس سورتیں ہی بنا کرلے آئو اور اس کام کے لیے دوسروں کو بھی شامل کرلو۔ پھر پتہ چل جائے گا کہ کیا کوئی انسانی ایسا کلام بنا سکتا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ اگر تم اس چیلنج کو قبول نہ کرسکو تو اچھی طرح جان لو کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے علم کے ساتھ اتاری گئی ہے فرمایا اس کتاب کا مرکزی مضمون توحید خداوندی ہے یعنی اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور نہ ہی کوئی قرآن جیسی کتاب لاسکتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ تمہارا فرض ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →اَفَمَنْ كَانَ عَلٰي بَيِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّہٖ وَيَتْلُوْہُ شَاہِدٌ مِّنْہُ وَمِنْ قَبْلِہٖ كِتٰبُ مُوْسٰٓى اِمَامًا وَّرَحْمَۃً 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ يُؤْمِنُوْنَ بِہٖ 0 ۭ وَمَنْ يَّكْفُرْ بِہٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُہٗ 0 ۚ فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَۃٍ مِّنْہُ 0 ۤ اِنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ 17
بَيِّنَة
والبَيِّنَة : الدلالة الواضحة عقلية کانت أو محسوسة، وسمي الشاهدان بيّنة لقوله عليه السلام : «البيّنة علی المدّعي والیمین علی من أنكر» «وقال سبحانه : أَفَمَنْ كانَ عَلى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ [هود/ 17] ، وقال : لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–19
ترکیب : صدرک مرفوع ہے ضائق کا فاعل ہو کر جو معتمد علیہ مبتداء ہے اور ممکن ہے کہ وہ مبتداء اور ضائق خبر مقدم ہو ان یقولوا ای مخافۃ ان یقولہ افمن کان موضع رفع میں ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے اور خبر محذوف ہے تقدیرہ افمن کان علی ھذہ الاشیاء کغیرہ۔
تفسیر : فرمایا تھا کہ منکروں سے جو مرنے کے بعد زندہ ہونے کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کا انکار کرتے ہیں اور ان کے اس کفر کی سزا یعنی عذاب کو جو ہم نے ابھی ان پر نہیں بھیجا ذکر کیا جاتا ہے تو کس دلیری اور استقلال سے کہتے ہیں کہ وہ کیوں نہیں آتا ؟ کس نے روک رکھا ہے ؟ اب یہاں فرماتا ہے کہ ان کی یہ سب باتیں ہماری دنیاوی نعمت اور راحت کی وجہ سے ہیں اور ان پر کچھ…
Read the full tafseer →اَفَمَنْ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّہٖ وَیَتْلُوْہُ شَاہِدٌ مِّنْہُ وَمِنْ قَبْلِہٖ کِتٰبُ مُوْسٰیٓ اِمَامًا وَّرَحْمَۃًط اُولٰٓئِکَ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖط وَمَنْ یَّکْفُرْ بِہٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُہٗج فَلاَ تَکُ فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْہُق اِنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یُؤْمِنُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 17)
(کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک بینہ پر ہے پھر اس کے بعد اس کی طرف سے ایک گواہ بھی آجاتا ہے اور اس کے پہلے سے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت کی حیثیت سے موجود ہے اور ( وہ جو نور بصیرت سے محروم ہیں دونوں یکساں ہوجائیں گے ؟ ) یہی لوگ ہیں جو اس پر…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ اور آخرت کا وہی شخص انکار کرسکتا ہے۔ جس کا ضمیر مردہ ہوچکا ہو۔ زندہ ضمیر شخص کی ہدایت کے لیے درج ذیل دلائل میں سے کوئی ایک دلیل بھی کافی ہے۔
یہاں اس سے پہلی آیات کا مضمون سامنے رکھتے ہوئے اس شخص کے ساتھ مقابلہ کیا جارہا ہے جو زندہ ضمیر ہو اور اس کے سامنے آسمانی کتابوں کے دلائل ہوں۔ وہ اللہ اور آخرت پر ایمان لاتے ہوئے قرآن مجید کی تصدیق کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جو مردہ ضمیر ہونے کی وجہ سے حقائق کا انکار کرنے پر تل چکا ہو، اس کے ساتھ جہنم کے سوا کیا وعدہ کیا جاسکتا ہے ؟
اے رسول ﷺ ! آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے حق پہنچ چکا ہے۔ جس میں شک کرنے کی ذرہ برابر گنجائش…
Read the full tafseer →17: اَفَمَنْ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّہٖ (کیا آیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہو) کیا وہ جو دنیا کا ارادہ رکھتا ہو پھر وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہو۔ یہ دونوں مرتبہ میں برابر تو کیا قریب بھی نہیں ہوسکتے۔ یعنی ان دونوں کے درمیان واضح فرق ہے۔ اَفَمَنْ سے وہ لوگ مراد ہیں جو یہود میں سے اسلام لائے۔ جیسا عبداللہ بن سلام وغیرہ وہ اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہے اس میں وضاحت ہے کہ دین اسلام برحق ہے اور رب کی طرف سے ہے اور یہ عقلی دلیل ہے۔ وَیَتْلُوْہُ (اور اس برہان کی اتباع کرتا اور پیچھے آتا ہے۔ شَاھِدٌ (ایک گواہ) جو اسکی صحت کا گواہ ہے اور یہ شاہد قرآن ہے۔ مِّنْہُ (اسکی طرف…
Read the full tafseer →17۔” افمن کان علی بینۃ “ بیان میں ” من ربہ “ بعض نے کہا ہے کہ آیت میں حذف ہے اور معنی یہ ہے کہ کیا بھلا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے بیان پر ہوا اس شخص کی طرح ہے جو دنیا کی زندگی اور اس کی رونق کا ارادہ رکھتا ہو یا جو شخص اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہو وہ اس شخص کی طرح ہے جو گمراہی اور جہالت میں ہو اور ” علی بینۃ من ربہ “ سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں ۔ ” ویتلوہ شاھد منہ “ یعنی اس کے پیچھے وہ ہے جو اس کے سچے ہونے کی گواہی دے۔
” ویتلوہ شاھد “ سے کیا مراد ہے
اس شاہد میں اختلاف ہے۔ ابن عباس ؓ ، علقمہ ، ابراہیم ، مجاہد ، عکرمہ اور ضحاک رحمہما اللہ اور اکثر مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ یہ شاہد جبرئیل…
Read the full tafseer →17۔ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کافروں اور منافقوں اور ریاکاروں کا ذکر فرمایا تھا اس آیت میں خالص مسلمانوں کا ذکر فرمایا ہے۔ حاصل معنے آیت کے یہ ہیں کہ جن لوگوں نے کفر و نفاق اور ریا کاری کے سبب سے دنیا کی بہبود پر اپنا بھروسہ رکھ کر کفر و نفاق کے سبب سے آخرت کا انکار کیا ہے یا ریاکاری کے سبب سے آخرت کے اجر کو کھو دیا ہے جن لوگوں کا ذکر اس آیت میں ہے وہ لوگ ویسے نہیں جو فطرت سلیمہ پر پیدا ہو کر اس فطرت سلیمہ کے پیچھے پیچھے انبیاء اور آسمانی کتابیں اس فطرت سلیمہ کی صداقت کے طور پر جو کچھ آیا اس کو وہ پورا پورا مانتے ہیں یہ لوگ نہ کافروں اور منافقوں کی طرح آخرت کے منکر ہیں نہ ریا کاروں کی…
Read the full tafseer →اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ آپ کے قائم مقام، آپ کے دین کو قائم کرنے والے آپ کے ورثاء کا حال اور اہل ایقان کے دلائل کا ذکر کرتا ہے اور یہ ایسے اوصاف ہیں جن سے ان کے سوا کوئی اور متصف نہیں ہے اور نہ ہی ان جیسا کوئی اور ہے۔ فرمایا : (افمن کان علی بینۃ من ربہ ) ” بھلا وہ شخص جو ہے واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے “ یعنی اس وحی کے ذریعے سے جس میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہم مسائل اور ان کے ظاہری دلائل نازل کئے ہیں پس ان سے یہ ثبوت اور دلیل مزید متیقن ہوجاتی ہے۔ (ویتلوہ) ” اور اس کے پیچھے ہے “ یعنی اس دلیل اور برہان کے پیچھے ایک اور دلیل ہے۔ (شاھد منہ) ” ایک گواہ اس کی طرف سے “ اور وہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–33
طلب دنیا یا عقبی کی چاہت
قول یاری ہے من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا نوف الیھم اعمالھم فیھا وھم فیھا لا یبخسون اولیک الذین لیس لھم فی الاخرۃ الا النار جو لوگ بس اسی دنیا کی زندگی اور اس کی خوشنمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ۔ ان کی کارگزاری کا سارا پھل ہم یہیں ان کو دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی مگر آخرت میں ایسے لوگوں کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو شخص دنیا کی خاطر کوئی عمل کرے گا آخرت میں اس کے لیے اس عمل کے ثواب کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے من کان یرید حرث الاخرۃ نزدلہ فی حرثد و من کان یرید حرث الدنیا نوتہ منھا وما لہ…
Read the full tafseer →41 ۔ نور فطرت کی دولت ایک عظیم الشان دولت : سو ارشاد فرمایا گیا بھلا وہ شخص جو قائم ہو ایک روشن دلیل پر اپنے رب کی طرف سے یعنی جو اپنے رب کی طرف سے ملنے والے نور فطرت پر قائم ہو۔ یعنی استعداد فطری کے اس نور پر جو کہ حضرت حق۔ جل مجدہ۔ نے ہر انسان کے اندر ودیعت فرمایا۔ (المراغی، المدارک، المنار، ابن کثیر، جامع البیان اور معارف القرآن وغیرہ) سو نور فطرت ایک عظیم الشان دولت ہے جس سے حضرت واہب مطلق جل وعلا شانہ نے اپنی قدرت و عنایت سے ہر انسان کو نوازا ہے۔ اسی کی حفاظت پر آگے اس کو نور وحی سے سرفرازی نصیب ہوتی ہے اور وہ نور علی نور کا مصداق بن جاتا ہے۔ اور جو کوئی نور وحی و ہدایت سے منہ موڑتا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
منکرین اور ان کا انجام
تشریح : یہی مضمون سورة بقرہ، آیت 62 اور سورة نساء آیات 152, 150 میں بھی گزر چکا ہے۔ اس کے لیے حدیث میں آیا ہے :” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس امت کے جس یہودی، یا عیسائی نے بھی میری نبوت کے بارے میں سنا اور پھر مجھ پر ایمان نہ لایا، وہ جہنم میں جائے گا۔ “ (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب وجوب الایمان برسالۃ نبینا محمد ﷺ الیٰ جمیع الناس)
اور پھر اللہ نے نبی کریم ﷺ سے فرمایا۔” آپ کی خواہش کے مطابق اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ “ ( سورة یوسف آیت 103)
آیت نمبر 18 کے بارے میں حدیث ملاحظہ ہو۔
” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایک مومن سے اس کے گناہوں کا اعتراف کروائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
آیات 9 تا 24
اسرار و معارف
عام انسان کا حال یہ ہے کہ اگر اس کے پاس اللہ کی نعمت ہو اور وہ چھن جائے یعنی مال وغیرہ میں نقصان ہوجائے یا صحت چلی جائے یا اقتدار و وقار جاتا رہے تو وہ بالکل ناامید ہوکرناشکری کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا لیکن اگر اسی کو پھر سے وہ نعمت لوٹادی جائے بیمار کو شفا ہوجائے یا پھر مالدار ہوجائے یاجلاوطنی کے بعد پھر سے اقتدار نصیب ہوجائے تو اترانے اور اکڑنے لگتا ہے اور کہتا ہے وہ دن اب لدگئے اب میرا کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور وہ طرح طرح کی شیخیاں بگھارتا ہے۔
معرفت باری کا اثر
یہ وہ تصویر ہے جو ہراس انسان کی ہے جسے معرفت باری نصیب نہیں مگر جن کو…
Read the full tafseer →ف 8 ۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں : یعنی دل میں اس کا نور اور مزہ پاتا ہے اور قرآن کی حلاوت۔ (موضع)
9 ۔ وہ شخص اس کی طرح ہوگا جس کے پیش نظر دنیا اور اس کی خوشحال اور فارغ البالی ہو۔ مطلب یہ ہے کہ دونوں کی حالت یکساں نہیں ہوسکتی۔ (ازوحیدی) ۔
10 ۔ جو لوگ عقل سلیم سے کا لیتے ہیں اور خدا کا گواہ بھی ان کو پہنچ چکا ہے اور انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ توراۃ میں آنحضرت ﷺ کے بارے میں کیا بشارتیں اور علامات بیان کی گئی ہیں۔ (وحیدی) ۔
11 ۔ یہ وعید تمام گروہوں (اہلِ ایمان) کے لئے ہے جو بھی قرآن سے روگردانی اور اس کے احکام سے انکار کرے گا خواہ نام کے اعتبار سے مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔ (ت۔ ن) ۔
21 ۔ بظاہر خطاب آنحضرت ﷺ…
Read the full tafseer →(11:17) بینۃ۔ کھلی دلیل۔ برہان قاطع۔ واضح دلالت کو بینۃ کہتے ہیں خواہ دلالت عقلیہ ہو یا محسوسہ۔ بینۃ سے یہاں کیا مراد ہے۔ مفسرین کے متعدد اقوال ہیں۔ عقلی دلیل۔ قرآن مجید۔ حضور اکرم ﷺ ۔ دین حق۔
افمن کان علی بینۃ من ربہ۔ پچھلی دو آیات (15-16) میں ان لوگوں کا ذکر ہوا جن کی ساری تگ و دو ۔ دنیاوی زندگی اور اس کے لوازمات کے حصول کی خاطر تھی۔ اور اب آیہ ہذا میں وہ لوگ مذکور ہیں جو محض رضائے الٰہی اور ثواب آخرت کے لئے کوشاں ہیں۔ اس سوالیہ جملہ کا جواب محذوف ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے۔
افمن کان علی بینۃ من ربہ کمن یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا ولیس لہم فی الاخرۃ الا النار۔ کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 22
بینۃ (کھلی نشانی) شاھد (گواہی دینے والا) امام (رہنما، پیشوا) الاحزاب (حزب) ، جماعتیں موعد (وعدہ کیا گیا) یعرضون (پیش کئے جائیں گے) الاشھاد (شھید) گواہ یصدون (وہ روکتے ہیں) یبغون (وہ تلاش کرتے ہیں) معجزین (عاجز و بےبس کرنے والے) یضعف (دوگنا دیا جائے گا) لا جرم (یقینا لازمی) اخسرون (زیادہ نقصان اٹھانے والے)
تشریح : آیت نمبر 17 تا 22
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حق و صداقت پر چلنے والے اور باطل پرستوں کا موازنہ کرتے ہوئے سوالیہ انداز اختیار فرمایا ہے کہ غور کرنے کی بات ہے کیا یہ دونوں کسی طرح بھی برابر ہو سکتے ہیں :
1) ایک وہ شخص جو اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
آخرت کا ذکر
اس سے اوپر کی آیت میں یہ ذکر ہوچکا ہے کہ جو لوگ فقط دنیا کی عزت اور زینت کے لئے عمل کرتے ہیں ان کو اس کا بدلہ دنیا ہی میں مل جاتا ہے۔ انہی کی شان میں یہ آیت اتری ہے جس میں فرمایا ہے کہ ان کے عمل کا بدلہ دنیا میں ہی مل جاوے گا باقی رہی آخرت تو وہاں ان کا کچھ حصہ نہیں ہے اگر ہے تو دوزخ ہے اور جو کچھ انہوں نے دنیا میں کیا ہے وہ سب مٹ جائے گا اور جتنے علم ان کے ہیں وہ سب بےکار ہیں۔ کیونکہ ان کا ارادہ اس عمل سے طلب دنیا کا تھا، آخرت کے واسطے انہوں نے کچھ نہیں کیا تھا جو وہاں بھی جزا کے سزاوار ہوں۔
ہر انسان فطرت سلامی پر پیدا ہوتا ہے
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ عالم ارواح میں مخلوقات کو…
Read the full tafseer →[8] روشن دلیل سے مراد وہ عقلی دلیل ہے جو اسلام کی حقانیت پر دلالت کرے۔
[9] یعنی قرآن۔
[10] یعنی تورات۔
Read the full tafseer →قرآن خود دلیل ہے اپنی صداقت کی !
(ف 1) حضور ﷺ نے جو دین پیش کیا وہ دلائل وبراہین کا دین ہے ، اس میں کوئی بات ایسی نہیں ، جو محض تقلید کا نتیجہ ہو ، سابقہ کتب میں اس دین کی تصدیق موجود ہے ، یا یوں کہئے کہ تمام سابقہ دین اسلام کے لئے بمنزلہ تمہید کے ہیں ، اسلام اس نقطہ اعتدال و توازن کا نام ہے ، جو افراط تفریط کے ناہموار خطوط کے درمیان واقع ہے ۔
(آیت) ” ویتلوہ شاھد منہ “۔ قرآن کی ایک مخصوص صفت پر دال ہے ، یعنی قرآن کی صداقت پر کھنے کے لئے بروانی شہادتوں اور گواہیوں کی ضرورت نہیں ، قرآن کا لفظ لفظ نقطہ نطقہ اور شوشہ شوشہ دلائل وبراہین کا بحر متواج ہے ، نگاہ اگر دقیقہ رس ہو ، فطرت سعید ہو ، اور…
Read the full tafseer →17 بھلا وہ شخص کہیں ان دنیا پرستوں اور قرآن کریم کے منکروں کے برابر ہوسکتا ہے جو اپنے رب کی صاف اور کھلی دلیل پر قائم ہو اور اس کے ساتھ ساتھ خدا کی طرف سے ایک گواہ بھی ہو اور اس گواہ سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب ہو جو مقدم ہونکے اعتبار سے امام اور رہنمائی کی حیثیت سے رحمت تھی ایسے ہی لوگ تو اس قرآن کریم کی تصدیق کرتے ہیں اور تمام فرقوں اور جماعتوں میں سے جو شخص قرآن کریم کا منکر ہوگا اس کے لئے دوزخ آخری ٹھکانا اورا سکے وعدے کی جگہ ہوگی لہٰذا اے مخاطب تو قرآن کریم کی طرف کسی شب و شبہ میں نہ پڑوہ تیرے رب کی جانب سے آئی ہوئی سچی کتاب ہے لیکن اکثر لوگ اس پر ایمان نہیں لاتے یعنی دنیا پرست…
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی اس کا معجزہ ہونا جو کہ دلیل عقلی ہے۔
4۔ یہ دلیل نقلی ہے غرض قرآن کے صدق وصحت کے لیے دونوں دلیلیں موجود ہیں۔
Read the full tafseer →اپنے پروردگار کی طرف روشن دلیل رکھنے والے ہی ایمان کا استحقاق رکھتے ہیں
26 ؎” بینہ “ سے کیا مراد ہے ؟ بینہ سے مراد قرآن کریم ہی سمجھتا صحیح اور درست ہے اور یہی معنی مفسرین نے قرار دیئے ہیں لیکن بعض نے اس کے معنی عقل و دلیل اور بعض نے نبی اعظم و آخر ﷺ بھی مراد لئے ہیں اور اس طرح ” شاھد “ سے بھی مختلف معنی مراد لئے گئے جیسے جبریل (علیہ السلام) نبی اعظم و آخر ﷺ کی زبان اقدس اور بعض نے کچھ اور بھی مراد لی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا کے طلب گار اسلام سے منہ موڑنے کیلئے بہانے تلاش کرتے رہیں لیکن وہ شخص جس کے پاس اسلام کی حقانیت کی روشن دلیل بھی ہو اور اس کے ساتھ ایک سچا گواہ کو گواہی بھی دے رہا ہو پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
The word: bayyinah (بینہ) appearing in this verse refers to the Qur'an. As for the meaning of ` shahid' (شاھِد evidence), statements of Tafsir authorities differ. The author of Bay-an a1-Qur'an takes ` shahid' to mean the miracle of the Qur'an that is present in the Qur'an as such. Thus, it comes to mean that those who adhere to the Qur'an, they already have a witness to the veracity of the Qur'an within it, that is, its miracle. Then, the other witness has already come in the form of Torah. Sayyidna Musa (علیہ السلام) had brought it as guidance and mercy for people. The reason is that the…
Read the full tafseer →17. This shows that even apart from revelation, there is ample evidence in man's own self, in the structure of the heavens and the earth, and in the order that prevails in the universe to prove that God is the only creator, master, lord and sovereign of the universe. The evidence referred to above also inclines man to believe that the present life will be followed by another one in which man will be required to render an account of his deeds and wherein he might be requited.
18. The 'witness from Him' is the Qur'an. The testimony of the natural phenomena combined with that provided by man's…
Read the full tafseer →