Explained with ayahs 18–22
اللہ جل شانہ پہ بہتان باندھنے والے
جو لوگ اللہ کے ذمے بہتان باندھ لیں، ان کا انجام اور قیامت کے دن کی ساری مخلوق کے سامنے کی ان کی رسوائی کا بیان ہو رہا ہے۔ مسند احمد میں صفوان بن محزر کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عمر کا ہاتھ تھامے ہوئے تھا کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا پھر پوچھنے لگا کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ سے قیامت کے دن کی سرگوشی کی بارے میں کیا سنا ہے ؟ آپ نے فرمایا میں نے حضور ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ عزجل مومن کو اپنے سے قریب کرے گا یہاں تک کہ اپنا بازو اس پر رکھ دے گا اور اسے لوگوں کی نگاہوں سے چھپالے گا اور اسے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا کہ کیا تجھے اپنا فلاں گناہ یاد ہے ؟ اور فلاں بھی اور…
Read the full tafseer →سورة هُوْد 20
یعنی یہ کہے کہ اللہ کے ساتھ خدائی اور استحقاق بندگی میں دوسرے بھی شریک ہیں۔ یا یہ کہے کہ خدا کو اپنے بندوں کی ہدایت و ضلالت سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور اس نے کوئی کتاب اور کوئی نبی ہماری ہدایت کے لیے نہیں بھیجا ہے بلکہ ہمیں آزاد چھوڑ دیا ہے کہ جو ڈھنگ چاہیں اپنی زندگی کے لیے اختیار کرلیں۔ یا یہ کہے کہ خدا نے ہمیں یونہی کھیل کے طور پر پیدا کیا اور یونہی ہم کو ختم کر دے گا، کوئی جواب دہی ہمیں اس کے سامنے نہیں کرنی ہے اور کوئی جزا و سزا نہیں ہونی ہے۔
سورة هُوْد 21
یہ عالم آخرت کا بیان ہے کہ وہاں یہ اعلان ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
خلاصہ تفسیر
اور ایسے شخص سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے (کہ اس کی توحید کا اس کے رسول کی رسالت کا اور اس کے کلام ہونے کا انکار کرے) ایسے لوگ (قیامت کے روز) اپنے رب کے سامنے (مفتری ہونے کی حیثیت سے) پیش کئے جائیں گے اور (اعمال کے) گواہ فرشتے (علی الاعلان) یوں کہیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے اپنے رب کی نسبت جھوٹی باتیں لگائی تھیں، سب سن لو کہ ایسے ظالموں پر خدا کی (زیادہ) لعنت ہے جو کہ (اپنے کفر و ظلم کے ساتھ) دوسروں کو بھی خدا کی راہ (یعنی دین) سے روکتے تھے اور اس (راہ دین) میں کجی (اور شبہات) نکالنے کی تلاش (اور فکر) میں رہا کرتے تھے (تاکہ دوسروں کو گمراہ کریں) اور آخرت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
18۔ 19:۔ وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا ۭ اُولٰۗىِٕكَ يُعْرَضُوْنَ عَلٰي رَبِّهِمْ وَيَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ كَذَبُوْا عَلٰي رَبِّهِمْ ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ۔ الَّذِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَيَبْغُوْنَهَا عِوَجًا ۭ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ۔
مشرکین کی بدبختی پر اظہار افسوس : یہی مضمون بعینہ اسی سیاق وسباق کے ساتھ سورة یونس کی آیات 17۔ 18 میں گزر چکا ہے، وہاں تصریح ہے کہ قریش کو قرآن سے سب زیادہ چڑ اس کی دعوت توحید سے ہے۔ وہ اپنے دیوتاؤں کی مذمت سن کر آگ بگولا ہوجاتے اور پھر اس کے خلاف جو کچھ من میں…
Read the full tafseer →18۔ 1 یعنی جن کا اللہ نے کائنات میں تصرف کرنے کا یا آخرت میں شفاعت کا اختیار نہیں دیا ہے۔ ان کی بابت یہ کہا جائے کہ اللہ نے انھیں یہ اختیار دیا ہے۔
18۔ 2 حدیث میں اس کی تفسیر اس طرح آتی ہے کہ ' قیامت والے دن اللہ تعالیٰ ایک مومن سے اس کے گناہوں کا اقرار و اعتراف کروائے گا کہ تجھے معلوم ہے کہ تو نے فلاں گناہ بھی کیا تھا، فلاں بھی کیا تھا، وہ مومن کہے گا ہاں ٹھیک ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ میں نے ان گناہوں پر دنیا میں بھی پردہ ڈالے رکھا تھا، جا آج بھی انھیں معاف کرتا ہوں، لیکن دوسرے لوگ یا کافروں کا معاملہ ایسا ہوگا کہ انھیں گواہوں کے سامنے پکارا جائے گا اور گواہ یہ گواہی دیں گے کہ یہی وہ لوگ…
Read the full tafseer →13: گواہی دینے والوں میں وہ فرشتے بھی شامل ہیں جو انسانوں کے اعمال پر لکھنے پر مقرر ہیں، اور وہ انبیائے کرام (علیہم السلام) بھی جو اپنی اپنی امتوں کے بارے میں گواہی دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
اب سیاق کلام ان لوگوں کی طرف رخ کرتا ہے جن لوگوں کا زعم یہ ہے کہ حضور نعوذ باللہ اپنی جانب سے اس قرآن کو پیش کرتے ہیں۔ یہ لوگ اللہ اور رسول اللہ دونوں کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ لوگ اب قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں موجود ہیں اور ایسے افتراء پردازوں کا مقدمہ اللہ کے ہاں پیش ہے۔ چاہے ان لوگوں کی تکذیب یہ ہو کہ قرآن کریم اللہ کی طرف سے منزل ہے یا نہیں یا یہ کہ وہ اللہ کے ساتھ اور لوگوں کو شریک کرتے ہوں ، یا یہ لوگ اللہ کے ساتھ دوسرے انسانی خداؤں کو اللہ کے اقتدار اعلیٰ میں شریک ٹھہراتے ہوں۔ آیات عام ہیں تاکہ سب قسم کے افتراء پرداز اس کے مدلول میں شامل ہوجائیں۔ غرض ان لوگوں کو قیامت کے مناظر میں…
Read the full tafseer →4 یعنی قرآن جھوٹ اور افتراء نہیں۔ خدا کا سچا پیغام ہے جس کو قبول کرنا ضروری ہے خوب سمجھ لو کہ اس شخص سے زیادہ ظالم کوئی نہیں ہوسکتا جو خدا پر جھوٹ باندھے۔ مثلا اس کا کلام نہ ہو اور کہہ دے کہ اس کا کلام ہے یا واقعی اس کا ہو اور خدا بار بار فرمائے کہ میرا کلام ہے مگر باوجود روشن دلائل کے جھٹلاتا رہے اور کہتا ہے کہ اس کا نہیں۔
5 یعنی محشر میں جب خدا کے سامنے علیٰ رؤس الاشہاد پیش ہوں گے اور ان کی شرارتوں کے دفتر کھولے جائیں گے اس وقت گواہی دینے والے (ملائکہ، انبیاء، صالحین بلکہ خود ان کے ہاتھ پاؤں) کہیں گے کہ یہ ہی وہ بدبخت ظالم ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی نسبت جھوٹ بکا تھا۔
Read the full tafseer →آیت 18 وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا
جس نے خود کوئی چیز گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کردی۔
اَلاَ لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیْنَ
ان جھوٹ گھڑنے والوں میں غلام احمد قادیانی آنجہانی اور اس جیسے دوسرے مدعیان نبوت بھی شامل ہوں گی۔
Read the full tafseer →2 2 اللہ پر جھوٹ لگانے کی مختلف صورتیں :۔ افتراء کے معنی یہ ہے کہ کوئی بات خود ایجاد کرکے اللہ کے ذمہ لگا دی جائے یا اسے شریعت سے ثابت کرنے کی کوشش کی جائے اور یہ کام گناہ کبیرہ ہے پھر افتراء کی بھی کئی قسمیں ہیں۔ مثلاً کسی حلال چیز کو حرام یا حرام کو حلال قرار دینا اور شریعت کا حکم ثابت کرنا یا اللہ کے سوا کسی دوسرے بزرگ، نبی یا پیر فقیر کو یا آستانے کو اپنے نفع و نقصان کا مالک سمجھنا یا یہ سمجھنا کہ اگر قیامت کو ہم سے مواخذہ ہوا تو ہمارے پیروں میں اتنی قدرت ہے کہ وہ ہمیں چھڑا لیں گے یا منزل من اللہ کلام کو منزل من اللہ نہ سمجھنا اور یہ سب باتیں شرک یا اس سے ملتی جلتی ہیں ایسے لوگوں سے قیامت…
Read the full tafseer →25۔ ان مجرموں کی عدالت خداوندی میں حاضری اور فرشتوں کی گواہی یہ سب عالم آخرت کے واقعات ہیں۔ (آیت) ” ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا “۔ اللہ پر جھوٹ گڑھنا یہی ہے کہ اس کی توحید سے یا رسول اللہ ﷺ کی رسالت سے یا قرآن کے کلام الہی ہونے سے انکار کردیا جائے یا کسی کو اس کا شریک وہمسر قرار دے لیا جائے۔ (آیت) ” یقول الاشھاد “۔ ان گواہوں کے بیان سے مجرموں کی مزید تفضیح ورسوائی تو خیر ہو ہی گی لیکن سوال یہ پیدا ہوا ہے کہ یہ گواہی دینے والے ہوں گے کون ؟ مجاہد تابعی اور بعض اور اکابر سے منقول ہے کہ یہ گواہ کاتب اعمال فرشتے ہوں گے۔ ھم الملئکۃ الذین کانوا یحفظون اعمالھم علیھم فی الدنیا (کبیر عن مجاہد)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
آیت نمبر 9 تا 24
ترجمہ : اور اگر ہم کافر انسان کو اپنی رحمت) مثلاً ( مالداری اور صحت سے نوازنے کے بعد اس کو رحمت سے محروم کردیتے ہیں تو وہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہو کر اس رحمت کی بےحد ناشکری کرنے لگتا ہے، اور اگر اس مصیبت کے بعد جو اس پر آپڑی تھی) مثلاً ( فقر اور سختی، ہم اس کو نعمتوں کا مزا چکھا دیتے ہیں تو کہنے لگتا ہے کہ میرے سب دکھ دور ہوگئے اور ان نعمتوں کے زوال کا خیال بھی نہیں کرتا اور نہ ان پر شکر ادا کرتا ہے) اور ( وہ اترانے لگتا ہے اور جو کچھ اس کا دیا گیا ہے اس کی وجہ سے لوگوں پر شیخی بگھارنے لگتا ہے، مگر جو لوگ مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں اور نعمتوں میں نیک عمل کرتے ہیں یہی ہیں وہ لوگ…
Read the full tafseer →ومن اظلم ممن افترٰی علی اللہ کذبًا اور ان لوگوں سے زیادہ ظالم (حق ناشناس) کون ہے جو اللہ پر اپنی طرف سے دروغ بندی کرتے ہیں۔ یعنی کسی کو اس کی اولاد یا شریک قرار دیتے ہیں ‘ یا اس کی طرف ان احکام وتعلیم کی نسبت کرتے ہیں جو اس نے نازل نہیں کئے ‘ یا ان احکام کا انکار کرتے ہیں جو اس نے نازل کئے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ہدایات اللہ کی طرف سے نہیں ہیں ‘ یا کسی چیز کی تحریم کو اس کی طرف منسوب کرتے ہیں حالانکہ اس چیز کی تحریم اس کی طرف سے نہیں کی گئی ‘ یا کسی چیز کی تحلیل کو اس کی جانب منسوب کرتے ہیں حالانکہ اس چیز کو اس نے حرام کردیا ہے۔
اولئک یعرضون علی ربھم (قیامت کے دن) ان کو ان کے رب کے سامنے پیش…
Read the full tafseer →(18) اور ایسے شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ کی افتراء کرے، ایسے لوگ اپنے رب کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور فرشتے اور انبیاء کرام اعلانیہ یوں کہیں گے کہ یہ وہ کافر ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی نسبت جھوٹی باتیں لگائی تھیں ایسے مشرکوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے۔
Read the full tafseer →وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا : یعنی اپنی جان پر ظلم کرنے والے بہت ہیں، مگر اس سے بڑھ کر کوئی نہیں جو جھوٹ گھڑ کر اللہ تعالیٰ کے ذمے لگا دے، مثلاً مخلوق کو خالق کی صفات رکھنے والا قرار دے، بتوں، ولیوں اور دیوتاؤں کو اللہ کے حضور بلا اجازت سفارش کی جرأت رکھنے والے سمجھے، فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دے اور مسیح ؑ یا کسی اور کو اللہ کی اولاد یا اس کا حصہ یا ٹکڑا قرار دے۔ موضح میں ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کئی طرح سے ہے، مثلاً علم میں غلط نقل کرنا۔ (آل عمران : 78) نبوت یا وحی کا جھوٹا دعویٰ کرنا۔ (انعام : 93) خواب بنا لینا، ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
آیت نمبر 18، 19
ومن اظلم ممن افترٰی علی اللہ کذبًا۔ یعنی ان لوگوں سے زیادہ اپنے اوپر ظلم کرنے والا کوئی نہیں کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹا بہتان باندھا ہے، انہوں نے اللہ تعالیٰ کے کلام کو کسی اور کی طرف منسوب کیا اور یہ گمان کیا کہ وہ اس کا شریک اور بیٹا ہے۔ اور بتوں کے بارے میں کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس ان کے سفارشی ہیں۔ اولٰٓئک یعرضون علی ربھم۔ یعنی وہ ان کے اعمال پر ان کا محاسبہ کرے گا۔
صحیح مسلم میں حضرت ابو یونس ؓ کی نبی کریم ﷺ سے مروی روایت ہے :” اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے میرے بارے میں کسی یہودی اور نصرانی نے سنا پھر تعلیمات پر ایمان لائے بغیر مرگیا تو وہ…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ابن جریح ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا “ سے مراد ہے کافر اور منافق (آیت) ” اولئک یعرضون علی ربہم “ یعنی ان سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا (آیت) ” ویقول الاشھاد “ یعنی وہ (فرشتے) جو ان پر ان کے اعمال محفوظ کرتے تھے دنیا میں (آیت) ” ھولاء الذین کذبوا علی ربہم “ یعنی (جن فرشتوں نے) ان کے اعمال محفوظ کئے وہ ان پر قیامت کے دن گواہی دیں گے۔
2:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویقول الاشھاد “ سے مراد ہیں فرشتے۔
3:۔ ابو الشیخ (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الاشھاد “ سے مراد وہ فرشتے ہیں جو بنی…
Read the full tafseer →وَمَنْ [ اور کون ] اَظْلَمُ [ زیادہ ظالم ہے ] مِمَّنِ [ اس سے جس نے ] افْتَرٰي [ گھڑا ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ] كَذِبًا ۭ [ ایک جھوٹ ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ہیں ] يُعْرَضُوْنَ [ جو پیش کئے جائیں گے ] عَلٰي رَبِّهِمْ [ اپنے رب پر ] وَيَقُوْلُ [ اور کہیں گے ] الْاَشْهَادُ [گواہی دینے والے ] هٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ [ یہ وہ ہیں جنھوں نے ] كَذَبُوْا [ جھوٹ کہا ] عَلٰي رَبِّهِمْ ۚ [ اپنے رب پر ] اَلَا [ سن لو ] لَعْنَةُ اللّٰهِ [ اللہ کی لعنت ہے ] عَلَي الظّٰلِمِيْنَ [ ظلم کرنے والوں پر ]
(آیت ۔ 18) یعرضون باب افعال کا نہیں بلکہ ثلاثی مجرد کا مجہول ہے ۔
Read the full tafseer →ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے ‘ اور اہل ایمان کے لئے اللہ کی طرف سے جنت کا انعام
مشرکین اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد تجویز کرتے تھے اور اس کے لئے شریک ٹھہراتے تھے اور جب انہیں اس بارے میں نصیحت کی جاتی تھی تو کہتے تھے۔ (ھٰٓؤُلٓاءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰہِ ) (کہ یہ اللہ کے یہاں ہمارے لئے سفارش کردیں گے) اور یوں بھی کہتے تھے۔ (مَا نَعْبُدُھُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَا اِلَی اللّٰہِ زُلْفٰی) (کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں گے) ظاہر ہے کہ یہ باتیں انہوں نے خود ہی تجویز کرلیں جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی چیز کی خبر نہ دی گئی ہو تو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
اہل دنیا اور اہل آخرت کا مقابلہ اور موازنہ اور فریقین کے نتائج اخروی کا بیان
قال اللہ تعالیٰ افمن کان علی بینہ من ربہ ...... الیٰ ...... ہل یستوین مثلا افلا تذکرون۔
(ربط) گذشتہ آیت میں اہل دنیا کا بیان تھا اب ان آیات میں اہل دنیا اور اہل آخرت کا موازنہ اور مقابلہ ہے اور فریقین کے نتائج اخروی کا بیان اور پھر آخر میں اللہ تعالیٰ نے دونوں کی مثال بیان کی کہ کافر تو مثل اندھے اور گونگے کے ہیں اور ایماندار مثل بینا اور شنوا کے ہیں دونوں کے اعمال اور افعال میں اور دونوں کے حال اور مآل میں زمین و آسمان کا فرق ہے اسی طرح سمجھو کہ اہل دنیا اور اہل آخرت برابر نہیں ہوسکتے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ پس کیا جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
22: زجر مع تخویف اخروی تا ھُمُ الْاَخْسَرُوْنَ وہ شخص سب سے بڑا ظالم ہے جو بلا دلیل عقل ونقل اللہ کی طرف ایسی باتیں منسوب کرے جن سے اس کی ذات گرامی پاک اور منزہ ہے مثلاً اپنے کود ساختہ معبودوں کو عنداللہ شفیع غالب کہنا وغیرہ۔ بان نسب الیہ ما لا یلیق بہ کقولھم الملائکۃ بنات اللہ تعالیٰ اللہ عن ذلک علوا کبیرا و قولھم لالھتھم ھؤلاء شفعاءنا عند اللہ (روح ج 12 ص 30) ۔ 23: یہ کفار و مشرکین قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔ الاشھاد سے فرشتے (مطلقا یا حفظہ یا کراما کاتبین) انبیاء (علیہم السلام) اور مومنین مراد ہیں۔ وہ خدا کے سامنے ان افتراڑ کرنے والوں کے بارے میں شہادت دیں گے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
ربط آیات
گذشتہ درس میں قرآن کی حقانیت اور پیغمبر خدا کے بارے میں تھا کہ جو خدا کی جانب سے واضح راستے پر ہو اور قرآن بطور شاہد بھی اس کے ساتھ ہو تو ایسے لوگ یقینا کامیاب ہیں۔ جس طرح سابقہ امت میں موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب پیشوائی کرنے والی تھی اور باعث رحمت تھی اس طرح قرآن پاک ہے۔ جو گروہ اور جماعتیں اس کا انکار کریں گی ، ان کے لیے دوزخ کی آگ تیار ہے ، وہی ان کے وعدے کی جگہ ہے کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ قرآن کریم تیرے پروردگار کی طرف سے برحق ہے مگر اکثر لوگ ایمان قبول نہیں کرتے ۔
افترا علی اللہ
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے کفار ، مشرکین اور منکرین قرآن کی مذمت بیان فرمائی ہے ارشاد ہوتا…
Read the full tafseer →وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللہِ كَذِبًا 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ يُعْرَضُوْنَ عَلٰي رَبِّہِمْ وَيَقُوْلُ الْاَشْہَادُ ہٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ كَذَبُوْا عَلٰي رَبِّہِمْ 0 ۚ اَلَا لَعْنَۃُ اللہِ عَلَي الظّٰلِــمِيْنَ 18 ۙ
ظلم
وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه،
قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ:
الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی،
وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13]
والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس،
وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–19
ترکیب : صدرک مرفوع ہے ضائق کا فاعل ہو کر جو معتمد علیہ مبتداء ہے اور ممکن ہے کہ وہ مبتداء اور ضائق خبر مقدم ہو ان یقولوا ای مخافۃ ان یقولہ افمن کان موضع رفع میں ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے اور خبر محذوف ہے تقدیرہ افمن کان علی ھذہ الاشیاء کغیرہ۔
تفسیر : فرمایا تھا کہ منکروں سے جو مرنے کے بعد زندہ ہونے کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کا انکار کرتے ہیں اور ان کے اس کفر کی سزا یعنی عذاب کو جو ہم نے ابھی ان پر نہیں بھیجا ذکر کیا جاتا ہے تو کس دلیری اور استقلال سے کہتے ہیں کہ وہ کیوں نہیں آتا ؟ کس نے روک رکھا ہے ؟ اب یہاں فرماتا ہے کہ ان کی یہ سب باتیں ہماری دنیاوی نعمت اور راحت کی وجہ سے ہیں اور ان پر کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًاطاُولٰئِٓکَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰی رَبِّہِمْ وَیَقُوْلُ الْاَشْہَادُ ہٰٓؤُلَآئِ الَّذِیْنَ کَذَبُوْاعَلٰی رَبِّہِمْج اَلاَ لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیْن۔ لا الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَیَبْغُوْنَہَا عِوَجًاط وَہُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ہُمْ کٰفِرُوْنَ ۔
(سورۃ ہود : 18، 19)
(اور کون زیادہ ظالم ہے ان لوگوں سے جنھوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا۔ یہی لوگ پیش کیے جائیں گے اپنے رب کے سامنے اور گواہ گواہی دیں گے کہ یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ پر جھوٹ باندھتے تھے۔ آگاہ رہو کہ اللہ کی لعنت ہے ان ظالموں پر جو اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کی تکذیب، آخرت کا انکار کرنا۔ درحقیقت اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے کے مترادف ہے۔
کفار یہ الزام عائد کرتے کہ محمد ﷺ قرآن مجید اپنی طرف سے بنالیتا ہے۔ ان کا یہ الزام بھی تھا کہ مرنے کے بعد اللہ کے حضور پیش ہونے کا تصور اس شخص کے الفاظ کی جادوگری ہے حالانکہ آپ ﷺ یہ باتیں من جانب اللہ کیا کرتے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اے رسول ﷺ ! یہ لوگ آپ کو جھوٹا نہیں کہتے ! بلکہ اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ جو حقیقت میں اللہ کو جھٹلانا ہے۔ جو شخص اللہ پر جھوٹ بولتا ہے اس سے بڑھ کر کون بڑا ظالم ہوسکتا ہے ؟ ان جھوٹوں کا اس وقت کیا حال ہوگا جب انہیں…
Read the full tafseer →مفتری آخرت میں دوگنا عذاب کا شکار ہوگا اور خسارہ پائے گا :
18: وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اُولٓئِکَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰی رَبِّھِمْ ( اور کون بڑا ظالم ہے اس سے جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ان لوگوں کو اپنے رب کے ہاں پیش کیا جائے گا) موقف میں ان کو روک لیا جائے گا اور ان کے اعمال پیش کیے جائیں گے۔ وَیَقُوْلُ الْاَشْھَادُ ھٰٓؤُلَآئِ الَّذِیْنَ کَذَبُوْا عَلٰی رَبِّہِمْ (گواہ کہیں گے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا) ان پر گواہ ملائکہ اور انبیاء (علیہم السلام) گواہی دیں گے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے والے ہیں کہ اس کے متعلق کہتے رہے کہ اس نے بیٹا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
تفسیر : 18۔” ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا ً “ پس گمان کیا کہ اللہ کی اولاد یا شریک ہے ۔ یعنی اس سے بڑا کوئی ظالم نہیں ۔ ” اولئک “ یعنی جھوٹ بولنے والے اور جھٹلانے والے ۔ ” یعرضون علی ربھم “ پس وہ ان سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔” ویقول الاشھاد “ یعنی وہ فرشتے جو ان کے اعمال کی نگرانی کرتے ہیں ۔ یہ بات مجاہد (رح) نے کہی ہے اور ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ انبیاء (علیہم السلام) اور رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں اور یہی ضحاک (رح) کا قول ہے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ تمام مخلوق مراد ہے۔ عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ مؤمن کو قریب کریں…
Read the full tafseer →18۔ صحیحین اور مسند امام احمد بن حنبل وغیرہ میں جو حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی حدیث ہے اس میں اس آیت کی تفسیر اور شان نزول آنحضرت ﷺ نے اس طرح فرمائی ہے کہ میدان محشر میں نامہ اعمال بٹنے سے پہلے اللہ تعالیٰ بعضے مسلمان گنہگاروں کو اپنے بہت ہی پاس بلا کر ایسے ہر ایک شخص کے گناہ اس کو یاد دلاوے گا جب وہ مسلمان گنہگار اپنے ہر ایک گناہ کا اقرار کرے گا اور دل میں جان لیوے گا کہ اب میں دوزخ کو بھیجا جاؤں گا اس وقت اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے فرماوے گا کہ دنیا میں میں نے تیرے یہ گناہ چھپائے اور لوگوں سے تیری عیب پوشی کی آج بھی تیرے گناہ چھپاتا ہوں یہ کہہ کر اس شخص کا نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دینے کا حکم…
Read the full tafseer →(ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذباً ) ” اور وہ اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے “ یعنی اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہے اور اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے یا اس کی طرف کوئی شریک منسوب کرتا ہے یا اسے کسی ایسی صفت سے متصف کرتا ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں یا اس کی طرف سے کوئی ایسی بات کہتا ہے جو اس نے نہیں کہی یا وہ نبوت کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی بھی طرح سے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ پس یہ لوگ سب سے بڑے ظالم ہیں (اولیک یعرضون علی ربھم) ” یہ لوگ اپنے رب کے حضور پیش کئے جائیں گے “ تاکہ وہ انہیں ان کے ظلم کا بدلہ دے۔ جب وہ ان کے خلاف سکت عذاب کا فیصلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–33
طلب دنیا یا عقبی کی چاہت
قول یاری ہے من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا نوف الیھم اعمالھم فیھا وھم فیھا لا یبخسون اولیک الذین لیس لھم فی الاخرۃ الا النار جو لوگ بس اسی دنیا کی زندگی اور اس کی خوشنمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ۔ ان کی کارگزاری کا سارا پھل ہم یہیں ان کو دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی مگر آخرت میں ایسے لوگوں کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو شخص دنیا کی خاطر کوئی عمل کرے گا آخرت میں اس کے لیے اس عمل کے ثواب کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے من کان یرید حرث الاخرۃ نزدلہ فی حرثد و من کان یرید حرث الدنیا نوتہ منھا وما لہ…
Read the full tafseer →47 ۔ اللہ پر جھوٹ باندھنا سب سے بڑا ظلم۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوسکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ سب سے بڑا ظالم وہ جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ اور یہ جھوٹ خواہ اس کے اقوال و افعال کے بارے میں ہو یا اس کے احکام وصفات سے متعلق۔ یا اس کے اذن کے بغیر اس کے لیے اپنے طور پر مختلف قسم کے اولیاء و شفعاء مانے اور تجویز کرے۔ (المراغی وغیرہ) اور اس کے لیے طرح طرح کی فلسفہ طرازیاں کرنے لگے کہ وہ ہماری سنتا نہیں اور ان کی رد نہیں کرتا۔ اور یہ کہ ہماری ان کے آگے اور ان کی اس کے آگے وغیرہ وغیرہ۔ جیسا کہ آج کا کلمہ گو مشرک کہتا ہے۔ یا کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
منکرین اور ان کا انجام
تشریح : یہی مضمون سورة بقرہ، آیت 62 اور سورة نساء آیات 152, 150 میں بھی گزر چکا ہے۔ اس کے لیے حدیث میں آیا ہے :” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس امت کے جس یہودی، یا عیسائی نے بھی میری نبوت کے بارے میں سنا اور پھر مجھ پر ایمان نہ لایا، وہ جہنم میں جائے گا۔ “ (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب وجوب الایمان برسالۃ نبینا محمد ﷺ الیٰ جمیع الناس)
اور پھر اللہ نے نبی کریم ﷺ سے فرمایا۔” آپ کی خواہش کے مطابق اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ “ ( سورة یوسف آیت 103)
آیت نمبر 18 کے بارے میں حدیث ملاحظہ ہو۔
” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایک مومن سے اس کے گناہوں کا اعتراف کروائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
آیات 9 تا 24
اسرار و معارف
عام انسان کا حال یہ ہے کہ اگر اس کے پاس اللہ کی نعمت ہو اور وہ چھن جائے یعنی مال وغیرہ میں نقصان ہوجائے یا صحت چلی جائے یا اقتدار و وقار جاتا رہے تو وہ بالکل ناامید ہوکرناشکری کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا لیکن اگر اسی کو پھر سے وہ نعمت لوٹادی جائے بیمار کو شفا ہوجائے یا پھر مالدار ہوجائے یاجلاوطنی کے بعد پھر سے اقتدار نصیب ہوجائے تو اترانے اور اکڑنے لگتا ہے اور کہتا ہے وہ دن اب لدگئے اب میرا کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور وہ طرح طرح کی شیخیاں بگھارتا ہے۔
معرفت باری کا اثر
یہ وہ تصویر ہے جو ہراس انسان کی ہے جسے معرفت باری نصیب نہیں مگر جن کو…
Read the full tafseer →ف 1 ۔ مثلا بتوں کو اللہ کے حضور سفارشی سمجھے یا فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دے۔ (قرطبی) ۔ موضح میں ہے کہ خدا پر جھوٹ باندھنا کئی طرح ہے مثلا علم میں غلط نقل کرنا، خواب بنا لینا یا دریت و عقل کو دین کے معاملات میں درمیان میں لے آنا یا دعویٰ کرنا کہ کشف رکھتا ہوں یا اللہ کے مقرب ہوں۔
Read the full tafseer →(11:18) یعرضون علی۔ پیش کئے جائیں گے۔ مضارع مجہول صیغہ جمع مذکر غائب۔ عرض الشیٔ بفلان کسی چیز کو کسی کے پیش کرنا عرض الشیٔ علیہ کوئی چیز کسی کو دکھلانا یا پیش کرنا۔ قرآن مجید میں ہے ثم عرضہم علی الملئکۃ (2:31) پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا۔ اور یوم یعرض الذین کفروا علی النار (46:20) اور جس روز کافر دوزخ کے سامنے کئے جائیں گے۔
الاشھاد۔ گواہی دینے والے۔ گواہ۔ شاہد کی جمع ہے۔ جیسے صاحب کی جمع اصحاب ہے یا شھید کی جمع ہے۔ جیسے شریف کی جمع اشراف ہے۔ یہاں اشھاد سے مراد وہ ملائکہ ہیں جو انسان کے اعمال لکھتے رہتے ہیں۔ یا اس سے مراد رسول اور پیغمبر اور انبیاء ہیں۔ یا اس سے مراد جملہ خلائق ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 22
بینۃ (کھلی نشانی) شاھد (گواہی دینے والا) امام (رہنما، پیشوا) الاحزاب (حزب) ، جماعتیں موعد (وعدہ کیا گیا) یعرضون (پیش کئے جائیں گے) الاشھاد (شھید) گواہ یصدون (وہ روکتے ہیں) یبغون (وہ تلاش کرتے ہیں) معجزین (عاجز و بےبس کرنے والے) یضعف (دوگنا دیا جائے گا) لا جرم (یقینا لازمی) اخسرون (زیادہ نقصان اٹھانے والے)
تشریح : آیت نمبر 17 تا 22
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حق و صداقت پر چلنے والے اور باطل پرستوں کا موازنہ کرتے ہوئے سوالیہ انداز اختیار فرمایا ہے کہ غور کرنے کی بات ہے کیا یہ دونوں کسی طرح بھی برابر ہو سکتے ہیں :
1) ایک وہ شخص جو اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی…
Read the full tafseer →جو شخص کہ اللہ پر جھوٹ افترا کرتا ہے یعنی اس کی نفی کرے یا کسی کو شریک بنا کر یا اس کی فرمائی ہوئی چیزوں کو نہ مانے۔ ایسے شخص سے زیادہ ظالم کون ہوسکتا ہے۔ یہ لوگ اللہ سے بھاگ نہیں سکتے بلکہ گرفتار کر کے پیش کئے جاویں گے۔ اور جو فرشتے ان کے محافظ تھے یعنی کراما کاتبین، یا پیغمبر یا ان کے ہاتھ پاؤں یہ گواہ بن کر کہیں گے : یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ بنایا اور بےخوف ہو کر اتنا بڑا ظلم کیا۔ خبردار ہو کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
[11] اللہ پر جھوٹ گھڑنا یہی ہے کہ اس کی توحید سے یا رسول کی رسالت سے یا قرآن کے کلام الٰہی ہونے سے انکار کردیا جائے یا کسی کو اللہ کا ہمسر یا شریک ٹھہرا لیا جائے۔
[12] یہ گواہی دینے والے کاتب اعمال فرشتے، انبیائ، مومنین اور خود کافروں کے اعضاء وجوارح ہوں گے جیسا کہ قرآن کی دوسری آیات سے ثابت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
آفتاب آمد دلیل آفتاب :
(ف 1) قرآن حکیم افتراء علی اللہ کو بدترین ظلم ٹھہراتا ہے ، اس کے نزدیک خدا پر جھوٹ باندھنا نہایت مذموم فعل ہے ، اس لئے وہ شخص جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان موجود ہے ، نبوت کاذبہ کا مدعی نہیں ہو سکتا ، وہ جھوٹا مدعی مجنون ہوگا ، خلل دماغ کی وجہ سے ایسی باتیں کرتا ہے یا انتہا درجے کا بدمعاش ہوگا جس کے دل میں بالکل خوف خدا نہ ہو ، جو مذہب کو محض فریب جانتا ہو ، یہ ضرور نہیں کہ ایسا شخص بالظاہر بھی برا معلوم ہو ، البتہ اگر آپ نقاب الٹا دیں ، اور اصل چہرے کو دیکھنے کی کوشش کریں تو آپ کو معلوم ہوجائے گا ، کہ یہ چہرہ جھوٹے اور فریبی انسان کا ہے ، جسے مصنوعی تقدس کے نقاب نے چھپا…
Read the full tafseer →18 اور اس سے بڑھ کر کون شخص ظالم ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے یہ جھوٹ باندھنے والے اللہ تعالیٰ کے حضور میں پیش کئے جائیں گے اور گواہی دینے والے فرشتے یوں گواہی دیں گے کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ باندھا تھا اور افترار کیا تھا سب سن لو کہ ایسے ظالموں پر اللہ کی پھٹکار اور لعنت ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
ف 5۔ یعنی اس توحید کا اس کے رسول کی رسالت کا اس کے کلام کے کلام ہونے کا انکار کرے۔
Read the full tafseer →اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے ؟
29 ؎ اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ گھڑے ؟ یعنی یہ کہے کہ اللہ کے ساتھ خدائی اور استحقاق بندگی میں دوسرے بھی شریک ہیں یا یہ کہے کہ اللہ کو اپنے بندوں کی ہدایت و ضلالت سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور اس نے کوئی کتاب اور کوئی نبی ہماری طرف نہیں بھیجا بلکہ ہمیں بالکل آزاد چھوڑ دیا ہے کہ جو ڈھنگ چاہیں اپنی زندگی کیلئے اختیار کرلیں یا یہ کہے کہ اللہ نے ہمیں یوں ہی کھیل کے طور پر پیدا کیا ہے اور یونہی ہم کو ختم کر دے گا کوئی جواب دہی ہمیں اس کے سامنے نہیں کرنی ہے اور کوئی جزاء و سزا کا تصور نہیں سو اس طرح کے ظالم ہیں جو رحمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
The word: bayyinah (بینہ) appearing in this verse refers to the Qur'an. As for the meaning of ` shahid' (شاھِد evidence), statements of Tafsir authorities differ. The author of Bay-an a1-Qur'an takes ` shahid' to mean the miracle of the Qur'an that is present in the Qur'an as such. Thus, it comes to mean that those who adhere to the Qur'an, they already have a witness to the veracity of the Qur'an within it, that is, its miracle. Then, the other witness has already come in the form of Torah. Sayyidna Musa (علیہ السلام) had brought it as guidance and mercy for people. The reason is that the…
Read the full tafseer →20.To invent a lie against God consists of stating that beings other than God also have a share with God in His godhead, that like God they are also entitled to be served and worshipped by God's creatures. Inventing a lie against God also consists of stating that God is not concerned with providing guidance to His creatures, that He did not raise Prophets for that purpose, and that He rather left men free to behave as they pleased. Inventing a lie against God also consists of stating that God created human beings by way of jest and sport and that He will not have them render an account to…
Read the full tafseer →