Hud 11:87

Hud · from ayah 87

11:87

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا ؕ— اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ ۟قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ اَصَلٰوتُكَ تَاۡمُرُكَ اَنۡ نَّتۡرُكَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوۡ اَنۡ نَّـفۡعَلَ فِىۡۤ اَمۡوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا‌ ؕ اِنَّكَ لَاَنۡتَ الۡحَـلِيۡمُ الرَّشِيۡدُ‏

انہوں نے کہا شعیب کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے کہ جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں ہم ان کو ترک کر دیں یا اپنے مال میں تصرف کرنا چاہیں تو نہ کریں۔ تم تو بڑے نرم دل اور راست باز ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "O Shu'ayb, does your prayer command you that we should leave what our fathers worship or not do with our wealth what we please? Indeed, you are the forbearing, the discerning!"

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 8 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:87

انہوں نے جواب دیا "اے شعیبؑ، کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پر ستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے؟ یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشا کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو؟ بس تو ہی تو ایک عالی ظرف اور راستباز آدمی رہ گیا ہے!"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

انہوں نے کہا شعیب کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے کہ جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں ہم ان کو ترک کر دیں یا اپنے مال میں تصرف کرنا چاہیں تو نہ کریں۔ تم تو بڑے نرم دل اور راست باز ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

انہوں نے جواب دیا کہ اے شعیب! کیا تیری صلاة تجھے یہی حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادوں کے معبودوں کو چھوڑ دیں اور ہم اپنے مالوں میں جو کچھ چاہیں اس کا کرنا بھی چھوڑ دیں تو تو بڑا ہی باوقار اور نیک چلن آدمی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ کہنے لگے : اے شعیب ! کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہمارے باپ دادا جن کی عبادت کرتے آئے تھے، ہم انہیں بھی چھوڑ دیں اور اپنے مال و دولت کے بارے میں جو کچھ ہم چاہیں، وہ بھی نہ کریں۔ ؟ واقعی تم تو بڑے عقل مند، نیک چلن آدمی ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولے اے شعیب! کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادا کے خداؤں کو چھوڑ دیں یا اپنے مال میں جو چا ہیں نہ کریں ہاں جی تمہیں بڑے عقلمند نیک چلن ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ بولے! اے شعیب! کیا تمہاری نماز تمہیں یہی حکم دیتی ہے کہ ہم ان (معبودوں) کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے رہے ہیں یا یہ کہ ہم جو کچھ اپنے اموال کے بارے میں چاہیں (نہ) کریں؟ بیشک تم ہی (ایک) بڑے تحمل والے ہدایت یافتہ (رہ گئے) ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا اے شعیب ! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم انھیں چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے، یا یہ کہ ہم اپنے مالوں میں کریں جو چاہیں، یقینا تو تو نہایت بردبار، بڑا سمجھ دار ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ کہنے لگے : شعیب ! کیا تمہاری نماز تمہیں یہی سکھاتی ہے کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جنہیں ہمارے آباء و اجداد پوجتے آئے ہیں یا جیسے ہم چاہتے ہیں اپنے اموال میں تصرف کرنا چھوڑ دیں ؟ تم تو بڑے بردبار اور بھلے مانس آدمی تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ بولے کہ اے شعیب، کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان چیزوں کو چھوڑ بیٹھیں جن کی ہمارے باپ دادا پرستش کرتے آئے یا یہ کہ ہم اپنے مال میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف نہ کریں ؟ بت تمہیں تو ایک دانشمند اور راست رو رہ گئے ہو !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان لوگوں نے اس کے جواب میں کہا، اے شعیب کیا تمہاری نماز تمہیں یہی کچھ سکھاتی ہے کہ ہم چھوڑ دیں ان چیزوں کو جن کی پوجا (و پرستش) کرتے چلے آئے ہیں ہمارے باپ، دادا ؟ یا یہ کہ ہم اپنے مالوں میں اپنی منشا کے مطابق تصرف نہ کریں ؟ (بلکہ ان پر تمہاری ہی بات چلے کہ) بس تم ہی تم ہو ایک بڑے عالی ظرف اور راستباز انسان (اور بس ؟)

— مولانا اسحاق مدنی

وہ بولے اے شعیب ؑ کیا یہ تمہاری نماز تمہیں تعلیم دیتی ہے کہ ہم ان چیزوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے بڑے کرتے آئے ہیں یا اس کو چھوڑ دیں کہ ہم اپنے مال کے ساتھ جو چاہیں کریں واقعی تم ہی تو بڑے عقل مند بڑے دیندار ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے کہا : اے شعیب ! کیا تمہاری نماز تمہیں اس بات کا حکم دیتی ہے کہ ہم چھوڑ دیں ان کو جن کو پوجتے آئے ہیں ہمارے آباء و اَجداد یا (تمہاری نماز یہ سکھاتی ہے کہ) ہم اپنے اموال میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف نہ کریں ہاں ایک تم ہی تو ہو جو بڑے باوقار اور نیک چلن ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

انہوں نے کہا اے شعیب ! کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے کہ جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں ہم ان کو چھوڑ دیں ؟ یا جو کچھ ہم اپنے مال میں کرنا چاہتے ہیں کرنا چھوڑ دیں۔ تم تو بڑے نرم دل اور راست باز ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They replied: 'O Shu'ayb! Does your Prayer enjoin upon you that we should forsake the deities whom our forefathers worshipped, or that we should give up using our wealth as we please? Do you fancy that you, and only you, are forbearing and right-directed?'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said, :O Shu'aib, does your Salah (prayer) command you that we should forsake what our fathers used to worship or that we should not deal with our wealth as we please? You pretend to be the only man of wisdom and guidance.

— Muhammad Taqi Usmani

They said, :O Shuaib, does your Salah (prayer) command you that we should forsake what our fathers used to worship or that we should not deal with our wealth as we please? You pretend to be the only man of wisdom and guidance.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said: "O Shu`ayb! Does your Salah command you that we give up what our fathers used to worship, or that we give up doing what we like with our property Verily, you are the forbearer, right-minded!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They said: O Shu'eyb! Doth thy way of prayer command thee that we should forsake that which our fathers (used to) worship, or that we (should leave off) doing what we will with our own property. Lo! thou art the mild, the guide to right behaviour.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "O Shu'ayb, does your prayer command you that we should leave what our fathers worship or not do with our wealth what we please? Indeed, you are the forbearing, the discerning!"

— Saheeh International

They asked him, "Shu'ayb, do your prayers tell you that we must give up the worship of what our fathers had worshipped and that we must not deal with our properties as we like? We still believe that you are a person of forbearance and understanding."

— Muhammad Sarwar

They said: O Shu'aib! does your prayer enjoin you that we should forsake what our fathers worshipped or that we should not do what we please with regard to our property? Forsooth you are the forbearing, the right-directing one.

— Muhammad Habib Shakir

They said: Shu'aib, commandeth thee thy prayer that we should abandon that which our fathers have worshipped, or that we should not do with our riches whatsoever we will! thou, indeed! thou forsooth art forbearing, right-minded!

— Abdul Majid Daryabadi

They said: "O Shu'aib! Does thy (religion of) prayer command thee that we leave off the worship which our fathers practised, or that we leave off doing what we like with our property? truly, thou art the one that forbeareth with faults and is right-minded!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:87

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

پرانے معبودوں سے دستبرداری سے انکار حضرت اعمش فرماتے ہیں صلواۃ سے مراد یہاں قرأت ہے۔ وہ لوگ ازراہ مذاق کہتے ہیں کہ واہ آپ اچھے رہے کہ آپ کو آپ کی قرآت نے حکم دیا کہ ہم باپ دادوں کی روش کو چھوڑ کر اپنے پرانے معبودوں کی عبادت سے دست بردار ہوجائیں۔ یہ اور بھی لطف ہے کہ ہم اپنے مال کے بھی مالک نہ رہیں کہ جس طرح جو چاہیں اس میں تصرف کریں کسی کو ناپ تول میں کم نہ دیں۔ حضرت حسن فرماتے ہیں واللہ واقعہ یہی ہے کہ حضرت شعیب ؑ کی نماز کا حکم یہی تھا کہ آپ انہیں غیر اللہ کی عبادت اور مخلوق کے حقوق کے غصب سے روکیں۔ ثوری فرماتے ہیں کہ ان کے اس قول کا مطلب کہ جو ہم چاہیں، اپنے مالوں میں کریں یہ ہے کہ زکوٰۃ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة هُوْد 96 یہ دراصل ایک طعن آمیز فقرہ ہے جس کی روح آج بھی آپ ہر اُس سوسائٹی میں پائیں گے جو خدا سے غافل اور فسق و فجور میں ڈوبی ہوئی ہو۔ چونکہ نماز دینداری کا سب سے پہلا اور سب سے زیادہ نمایاں مظہر ہے، اور دینداری کو فاسق و فاجر لوگ ایک خطرناک ، بلکہ سب سے زیادہ خطرناک مرض سمجھتے ہیں، اس لیے نماز ایسے لوگوں کی سوسائٹی میں عبادت کے بجائے علامتِ مرض شمار ہوتی ہے۔ کسی شخص کو اپنے درمیان نماز پڑھتے دیکھ کر انہیں فورًا یہ احساس ہو جاتا ہے کہ اس شخص پر ”مرضِ دینداری“ کا حملہ ہو گیا ہے۔ پھر یہ لوگ دینداری کی اس خاصیت کو بھی جانتے ہیں کہ یہ چیز جس شخص کے اندر پیدا ہو جاتی ہے وہ صرف اپنے حسنِ عمل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤ ُ نَآ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِيْٓ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰۗؤ ُ ا ۭ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِيْمُ الرَّشِيْدُ ، یعنی کیا تمہاری نماز تمہیں یہ بتلاتی ہے کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے آبا و اجداد کرتے چلے آئے ہیں، اور یہ کہ ہم اپنے مملوک اموال میں خود مختار نہ رہیں کہ جس طرح ہمارا جی چاہے معاملہ کریں بلکہ اپنے معاملات بھی آپ سے پوچھ پوچھ کر کیا کریں کہ کیا حلال ہے کہ حرام ؟ حضرت شعیب ؑ کی نماز پوری قوم میں معروف تھی کہ بکثرت نوافل و عبادت میں لگے رہتے تھے اس لئے ان کے ارشادات کو بطور استہزاء کے نماز کی طرف منسوب کیا کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالُوْا يٰشُعَيْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُنَآ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِيْٓ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰۗؤُا ۭ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِيْمُ الرَّشِيْدُ۔ حضرت شعیب پر قوم کا طنز : یہ پورا فقرہ طنزیہ انداز میں ہے۔ وہ بولے کہ کیا تمہاری نماز تمہیں یہی سکھاتی ہے کہ جن معبودوں کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہم ان کی عبادت تر کردیں اور اپنے مال میں اپنے صواب دید کے مطابق تصرف نہ کریں۔ تمہاری ان باتوں سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ تمہاری نگاہ میں سب اگلے پچھلے بیوقوف اور گمراہ تھے، بس تم ہی ایک دانا و بینا اور راہ یاب رہ گئے ہو۔ مطلب یہ کہ تم نماز وغیرہ پڑھتے تھے تو اس سے خیال تو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

87۔ 1 صَلَوٰۃً سے مراد عبادت دین یا تلاوت ہے۔ 87۔ 2 اس سے مراد بعض مفسرین کے نزدیک زکوٰۃ و صدقات ہیں، جس کا حکم ہر آسمانی مذہب میں دیا گیا ہے اللہ کے حکم سے زکوٰ ۃ و صدقات کا اخراج، اللہ کے نافرمانوں پر نہایت شاق گزرتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ جب ہم اپنی محنت و لیاقت سے مال کماتے ہیں تو اس کے خرچ کرنے یا نہ کرنے میں ہم پر پابندی کیوں ہو۔ اور اس کا کچھ حصہ ایک مخصوص مد کے لیے نکالنے پر ہمیں مجبور کیوں کیا جائے ؟ اسی طریقے سے کمائی اور تجارت میں حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی پابندی بھی ایسے لوگوں پر نہایت گراں گزرتی ہے، ممکن ہے ناپ تول میں کمی سے روکنے کو بھی انہوں نے اپنے مالی تصرفات میں دخل…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

54: یہ در حقیقت وہ سرمایہ دارانہ ذہنیت ہے کہ جو کچھ مال ہے وہ ہماری مکمل ملکیت میں ہے، اس لیے ہمیں پورا پورا اختیار حاصل ہے کہ اس میں جو چاہیں تصرف کریں، کسی کو اس میں رکاوٹ ڈالنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ اس کے برعکس قرآن کریم کا ارشاد یہ ہے کہ ہر مال پر اصل ملکیت اللہ تعالیٰ کی ہے۔ البتہ اس نے اپنے فضل و کرم سے انسان کو عارضی ملکیت عطا فرمائی ہے۔ دیکھئے سورة یس آیت 71 لہذا اسی کو یہ حق ہے کہ وہ اس ملکیت پر کچھ پابندیاں عائد کرے۔ دیکھئے سورة قصص آیت 77 اور جہاں مناسب سمجھے وہاں خرچ کرنے کا حکم دے۔ دیکھئے سورة نور آیت 33 اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ پابندیاں اس لیے عائد کی جاتی ہیں تاکہ ہر شخص اپنی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ جواب نہایت ہی توہین آمیز اور خود سری پر مبنی ہے۔ ایک جاہل اور بگاڑ میں مبتلا اور مسخ شدہ فطرت پر مبنی جاہل شخص کا جواب ہے اور جواب دینے والا مخاطب کے ساتھ سخت عناد اور دشمنی رکھتا ہے ، ذرا غور کیجئے۔ قَالُوا يَا شُعَيْبُ أَصَلاتُكَ تَأْمُرُكَ أَنْ نَتْرُكَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا أَوْ أَنْ نَفْعَلَ فِي أَمْوَالِنَا مَا نَشَاءُ (87 : 11) “ انہوں نے جواب دیا ، “ اے شعیب (علیہ السلام) کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے ؟ یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشاء کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو ؟ ” وہ اس بات کو نہیں سمجھتے یا اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 یہ بطور استہزاء و تمسخر کہہ رہے تھے، کہ بس زیادہ بزرگ نہ بنئے۔ کیا ساری قوم میں ایک آپ ہی بڑے عقلمند، باوقار اور نیک چلن رہ گئے ہیں ؟ باقی ہم اور ہمارے بزرگ سب جاہل اور احمق ہی رہے ؟ حضرت شعیب (علیہ السلام) نماز بہت کثرت سے پڑھتے تھے، کہنے لگے کہ شاید آپ کی نماز یہ حکم دیتی ہے کہ ہم سے باپ دادوں کا پرانا دین چھڑوا دیں اور ہمارے اموال میں ہمارا مالکانہ اختیار نہ رہنے دیں۔ بس آپ اپنی نماز پڑھے جائیے، ہمارے مذہبی و دنیاوی معاملات اور ناپ تول کے قصوں میں دخل دینے کی ضرورت نہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " جاہلوں کا دستور ہے کہ نیکوں کے کام آپ نہ کرسکیں تو انھیں کو چڑانے لگیں۔ یہ ہی خصلت ہے کفر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 87 قَالُوْا يٰشُعَيْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُنَآ اگرچہ حضرت شعیب کی گفتگو میں ان کے شرک کا تذکرہ نہیں ہے ‘ مگر ان کے اس جواب سے معلوم ہوا کہ وہ بنیادی طور پر اس مرض شرک میں بھی مبتلا تھے جو تمام گمراہ قوموں کا مشترک مرض رہا ہے۔ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِيْٓ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰۗؤُا یعنی ہماری ملکیت میں جو سامان اور مال ہے کیا ہم اس کے استعمال میں بھی اپنی مرضی نہیں کرسکتے ؟ یہ وہی تصور ہے جو آج کے جدید زمانے میں sacred right of ownership کے خوبصورت الفاظ میں پیش کیا جاتا ہے جبکہ اسلام میں ملکیت کا ایسا تصور نہیں ہے۔ اسلام کی رو سے ہر چیز کا مالک اللہ ہے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

97 ٹھیک طرح سے نماز ادا کرنے کے اثرات :۔ نماز اگر فی الواقع سوچ سمجھ کر اور خشوع و خضوع سے ادا کی جائے تو فی الواقع وہی باتیں سکھلاتی ہے جن کی قوم شعیب کو سمجھ آگئی تھی۔ مگر افسوس ہے کہ ہم مسلمانوں کو ان باتوں کی بھی سمجھ نہیں آتی جو مدین والے سمجھ گئے تھے نماز انسان میں تقویٰ پیدا کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے اور تقویٰ ہی وہ چیز ہے جو انسان کو ہر طرح کی اعتقادی، اخلاقی اور معاشرتی برائیوں سے بچاتا ہے۔ غور فرمائیے کہ جو انسان ایک دن میں بیسیوں دفعہ سوچ سمجھ کر ( اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ۝ۭ ) 1 ۔ الفاتحة :5) پڑھے گا وہ مشرک رہ سکتا ہے جو انسان دن میں بیسیوں دفعہ اللہ کے آگے سجدہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

128۔ مخالفین کی یہ تقریر بہ طور طنز و تمسخر ہے۔ قال ابن عباس، ومیمون بن مھران، وابن جریج، واسلم وابن جریر یقولون ذلک اعداء اللہ علی سبیل الاستھزاء (ابن کثیر) قیل قالوا علی وجہ الاستھزاء (معالم) وصفوہ علی السلام بھذین الوصفین الجلیلین علی طریقۃ الاستعارۃ التھکمیۃ فالمراد بھما ضد معناھما وھذا ھو المروی عن ابن عباس ؓ والیہ ذھب قتادۃ والمبرد (روح) وہ بار بار اس پر الجھ رہے تھے کہ یہ کیسا دین اور کیسا نبی ہے جو ایک طرف تو ہمارے آبائی معتقدات، عبادات، رسوم وشعار کا تختہ الٹ دینا چاہتا ہے اور دوسری طرف ہمیں ہمارے آمد وخرچ پر بھی طرح طرح کی قیدیں لگاتا اور پابندیاں عائد کرتارہتا ہے۔ (آیت) ” ان نفعل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 84–95

آیت نمبر 84 تا 95 ترجمہ : اور ہم نے اہل مدین کی جانب ان کے بھائی شعیب کو بھیجا انہوں نے کہا میرے برادران قوم اللہ کی بندگی کرو یعنی اس کو ایک سمجھو، اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں، اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو، میں تم کو خوش حالی میں دیکھ رہا ہوں جس کی وجہ سے تم کو تولنے اور کم ناپنے سے مستغنی ہو، اگر تم ایمان نہ لائے تو مجھے تمہارے بارے میں تم کو گھیرنے والے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے جو تم کو ہلاک کر دے گا، اور یوم کی صفت محیط مجاز ہے عذاب کے اس میں واقع ہونے کی وجہ سے، اور اے میرے برادران قوم تم انصاف کے ساتھ پورا پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں نقصان نہ پہنچاؤ، (یعنی)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالوا یشعیب اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبد اباؤنا او ان نفعل في اموالنا ما نشوا انہوں نے کہا : شعیب ! کیا تمہاری نماز تم کو حکم دیتی ہے کہ جن (بتوں) کی پوجا ہمارے بڑے کرتے چلے آئے ہیں ‘ ہم ان کو چھوڑ دیں یا اپنے مال میں اپنی منشاء کے مطابق جو ہم تصرف کرتے ہیں ‘ اس کو ترک کردیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : حضرت شعیب نماز بہت پڑھتے تھے ‘ اسی لئے کافروں نے آپ کی نماز کا تذکرہ کیا۔ اعمش کے نزدیک نماز سے مراد ہے نماز پڑھنا۔ حضرت شعیب نے قوم کو توحید کی دعوت دی ‘ اس کے جواب میں انہوں نے آپ سے استہزاء کیا اور آپ کی نماز کا مذاق بنایا اور اس استہزاء میں اس امر کی طرف اشارہ کیا کہ اس قسم کی دعوت تم سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(87) ان کی قوم کہنے لگی اے شعیب ؑ کیا تمہاری نمازوں کی کثرت تمہیں اس بات کی تعلیم دے رہی ہے کہ ہم ان بتوں کی پوجا چھوڑ دیں یا ہم ناپ تول میں کمی کرنے کو چھوڑ دیں اور بطور مذاق بولے آپ واقعی ہیں بڑے عقل مند دین پر چلنے والے یعنی نعوذ باللہ بیوقوف بےراہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالُوْا يٰشُعَيْبُ اَصَلٰوتُكَ۔۔ : یعنی کیا تو اپنی نماز کا دائرۂ عمل اس قدر وسیع سمجھتا ہے کہ دوسروں کے مذہبی اور مالی معاملات میں بھی دخل دینے لگا ہے۔ ہماری مرضی ہے جس کی چاہیں پوجا اور جس کی چاہیں بندگی کریں اور یہ مال جو ہمارے اپنے ہیں، ان میں جس طرح چاہیں تصرف کریں، جائز و ناجائز جیسے چاہیں کمائیں، کوئی ہمیں کیوں ٹوکے ! یہ وہی سیکولر سوچ ہے جو آج کل بھی چل رہی ہے کہ نماز اور دین ہر شخص کا ذاتی مسئلہ ہے۔ مملکت اور دنیا کے معاملات میں اللہ تعالیٰ کے احکام کے ہم پابند نہیں۔ بیشک دین سود سے روکتا ہے مگر ساری دنیا کی معیشت اس پر چل رہی ہے، دین کا اس میں کیا دخل ؟ پھر کوئی شرک کرے، کفر کرے یا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 84–95

آیت نمبر 84 تا 95 اللہ تعالیٰ کا ارشاد والیٰ مدین اخاھم شعیبا یعنی وارسلناإلی مدینہم نے مدین کی طرف بھیجا، مدین حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم ہے۔ ان کی وجہ تسمیہ کے متعلق دو قول ہیں : ایک قول یہ ہے کہ وہ مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں۔ مدین کہا گیا ہے جب کہ مراد بنو مدین ہیں۔ جس طرح مضر کہا جاتا ہے اور مراد بنومضر ہوتے ہیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ان کے شہر کا نام ہے اس لیے اس کی طرف ان کو منسوب کردیا گیا۔ نحاس نے کہا : مدین غیر منصرف ہئ، کیونکہ یہ شہر کا نام ہے، سورة اعراف میں یہ معنی گزرچکا ہے اور کچھ اس سے زیادہ بھی۔ قال یٰقوم اعبدوا اللہ مالکم من الٰہٍ غیرہ (اس کی تفسیر) گزر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 84–88

قوم شعیب (علیہ السلام) کا ذکر : 1:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انی ارکم بخیر “ سے مراد اشیاء کی قیمتوں کا سستا ہونا۔ (اور فرمایا) (آیت) ” وانی اخاف علیکم عذاب یوم محیط “ سے مراد ہے کہ قیمتوں کا چڑھنا اور مہنگا ہونا ہے (یعنی میں ڈرتا ہوں تم پر اس دن سے جبکہ قمیتیں چڑھ جائیں اور بھاؤ مہنگا ہوجائے۔ 2:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” بقیت اللہ “ یعنی اللہ کا رزق۔ 3:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” بقیت اللہ خیر لکم “ یعنی تمہارا حصہ تمہارے رب کی طرف سے بہتر ہے تمہارے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [يٰشُعَيْبُ : اے شعیب (علیہ السلام) ] [اَ : کیا ] [صَلٰوتُكَ : آپ کی نماز ] [ تَاْمُرُكَ : حکم دیتی ہے آپ کو ] [ ان : کہ ] [نَّتْرُكَ : ہم چھوڑ دیں ] [مَا : ان کو جن کی ] [يَعْبُدُ : بندگی کرتے ہیں ] [ اٰبَاۗؤُنَآ : ہمارے آبا و اجداد ] [ اَوْ : یا (ہم چھوڑ دیں)] [ان : کہ ] [نَّفْعَلَ : ہم کریں ] [فِيْٓ اَمْوَالِنَا : اپنے مالوں میں ] [ مَا : وہ جو ] [ نَشٰۗؤُا : ہم چاہیں ] [انكَ لَانتَ : بیشک آپ ہی یقینا ] [الْحَلِيْمُ : بڑے بردباد ہیں ] [الرَّشِيْدُ : بڑے نیک چلن ہیں ] نوٹ۔ 1: آیت نمبر۔ 87 میں اسلام کے مقابلہ میں جاہلیت کے نظریہ کی پوری ترجمانی ہے۔ اسلام کا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 84–87

مدین والوں کو حضرت شعیب (علیہ السلام) کا تبلیغ فرمانا اور ان لوگوں کا الٹے جواب دینا اور استہزاء کرنا حضرت شعیب (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اصحاب مدین اور اصحاب ایکہ کی طرف مبعوث فرمایا تھا اصحاب ایکہ کا ذکر سورة الشعرا (ع 10) میں ہے اور سورة اعراف (ع 11) میں اور یہاں سورة ہود میں اور سورة عنکبوت (ع 4) میں اصحاب مدین کا ذکر ہے۔ یہ لوگ بھی مشرک تھے غیر اللہ کی عبادت کرتے تھے اور لوگوں کو جو مال بیچتے تھے تو ناپ تول میں کمی کرتے تھے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو تبلیغ کی اور ان سے فرمایا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو ‘ اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں ہے ‘ نیز یہ بھی فرمایا کہ لوگوں کو ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 84–95

قصہ شعیب (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ والی مدین اخاھم شعیبا .... الیٰ .... الا بعدا لمدین کما بعدت ثمود۔ (ربط) یہ چھٹا قصہ شعیب (علیہ السلام) کا ہے جو خطیب الانبیاء کے لقب سے معروف ہیں اور مدین کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ یہ لوگ بڑے سرمایہ دار تھے انکا مذہب یہ تھا کہ ہم اپنے مالوں کے تصرف میں آزاد اور مختار ہیں ( جیسا کہ آج کل کے سرمایہ دار کہتے ہیں) جس طرح چاہیں ان میں تصرف کریں حضرت شعیب (علیہ السلام) یہ فرماتے تھے کہ یہ اموال اگرچہ تمہارے مملوک ہیں مگر تمہاری ملکیت مالک حقیقی کی ملکیت اور اس کے حکم کے ماتحت ہے۔ امانت اور دیانت کے ساتھ اور صحیح کمیل اور وزن کے ساتھ تم اس میں تصرف کرسکتے ہو یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

76: مَایَعْبُدُ معبودانِ باطلہ اَنْ نَفْعَلَ فِیْ اَمْوَالِنَا یہ مَایَعْبُدُ پر معطوف ہے یا اس کا عطف اَنْ نَّتْرُکَ پر ہے اس صورت میں حرف نفی مقدر ہوگا۔ ای اَصَلٰوتُکَ تَامُرُکَ ان لا نفعل الخ اِنَّکَ لَانْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ بطور استہزاء کہا یا حقیقت میں بھی وہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کو حلیم ورشید و (بردبار یا دانا اور سوجھ بوجھ والا) سمجھتے تھے یعنی تو تو بڑا دانا اور سوجھ بوجھ ولاا ہے اور پھر ہمیں آبائی دین سے روکتا ہے اور اپنے اموال میں اپنی مرضی سے تصرف کرنے سے منع کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 87–90

ربط آیات حضرت شعیب (علیہ السلام) کے واقعہ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے ان کی تبلیغ کا ذکر کیا کہ انہوں نے قوم کو غیر اللہ کی عبادت سے منع کیا اور ماپ تول میں کمی کے ذریعے لوگوں کی حق تلفی کرنے سے ڈرایا۔ یہ دونوں قبیح چیزیں ہیں شرک اور کفر اعتقادی نجاست ہے جب کہ حقوق کا ضیاع اخلاقی گندگی ہے۔ شعیب (علیہ السلام) نے لوگوں کو سمجھایا کہ اپنے مال میں تمام حقوق ادا کرنے کے بعد جو کچھ بچ رہے گا اسی میں تمہارے لئے بہتری ہے اور اسی کا نتیجہ تمہارے حق میں اچھا ہوگا مگر آپ کی قوم نے آپ کی اس پاکیزہ نصیحت کا نہایت ہی قبیح جواب دیا ۔ آج کے درس میں قوم کا جواب ہے اور پھر حضرت شعیب (علیہ السلام) کی مزید…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْا يٰشُعَيْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُنَآ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِيْٓ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰۗؤُا۝ 0 ۭ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِيْمُ الرَّشِيْدُ۝ 87 صلا أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] والصَّلاةُ ، قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 84–93

تفسیر : اس کے بعد پانچواں واقعہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا بیان فرماتا ہے جو اہل مدین کی طرف رسول بنا کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد میں بھیجے گئے تھے۔ اس قوم کی عادت بت پرستی اور بدکاری کے علاوہ کم تولنا ‘ خیانت ‘ دغابازی کرنے کی بھی تھی جس کو وہ اپنے مال میں تصرف جائز سمجھ کر طعن کی راہ سے کہتے تھے کہ ایک آپ ہی تو بڑے اچھے شخص ہیں اور ان کی نماز پر طعن کرکے کہتے تھے کہ کیا آپ کی نماز ہم کو بت پرستی سے منع کرتی ہے ؟ باقی قصہ صاف ہے۔ یہ مدین وہی جگہ ہے کہ جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون سے بھاگ کر آئے تھے اور یہ وہی شعیب (علیہ السلام) ہیں کہ جن کی ایک صاحبزادی سے آپ کی شادی ہوئی تھی۔…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُکَ تَاْمُرُکَ اَنْ نَّتْرُکَ مَایَعْبُدُ اٰبَآؤْنَآ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْ ٓ اَمْوَالِنَا مَانَشٰٓؤُا ط اِنَّکَ لاََ نْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ ۔ (سورۃ ہود : 87) (انھوں نے کہا اے شعیب کیا تمہاری نماز تمہیں حکم دیتی ہے کہ ہم انھیں چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کیا کرتے تھے یا ہم اپنے مالوں میں تصرف نہ کریں جیسے ہم چاہیں۔ بیشک تم ہی ایک دانا اور راست رو رہ گئے ہو۔ ) حضرت شعیب کی دعوت کا جواب قوم کی طرف سے طنزیہ انداز میں حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی دعوت کے آغاز میں دو باتیں ارشاد فرمائیں۔ ایک تو یہ کہ اللہ کے سوا کسی اور کو اِلٰہ نہ مانو، اس کے سوا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 87–88

فہم القرآن ربط کلام : حضرت شعیب (علیہ السلام) کو قوم کا جواب۔ مشرکوں اور سچائی کے منکروں کا شروع سے یہ رویہ رہا ہے کہ وہ توحید کو قبول اور حق کو تسلیم کرنے کی بجائے عقیدہ توحید اور حق کے جواب میں نہ صرف انبیاء اور مصلحین پر مختلف قسم کے الزامات لگاتے ہیں بلکہ وہ انبیاء اور مصلحین کے نیک کاموں کو طعنہ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے بھی یہ روّیہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اے شعیب کیا تیری نمازیں تجھے یہی سبق سکھاتی ہیں کہ ہم اپنے باپ دادا کے طریقہ عبادت اور ان کے طرز زندگی کو چھوڑ دیں اور تیری وجہ سے ہم اپنا کاروبار اپنی مرضی اور طریقہ کے مطابق نہ کریں۔ یہ باتیں تجھے زیب…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

87: قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُکَ (کہنے لگے اے شعیب کیا تمہاری نماز) تَاْ مُرُکَ اَنْ نَّتْرُکَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآ ؤُنَآ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْ اَمْوَالِنَا مَانَشٰٓؤُا (تمہیں حکم دیتی ہے کہ چھوڑ دیں ان معبودوں کو جنکی پوجا ہمارے آباء و اجداد کرتے تھے۔ یا ہم اپنے اموال میں جو ہم کرتے ہیں وہ چھوڑ دیں) حضرت شعیب (علیہ السلام) بہت زیادہ نفلی نماز پڑھتے تھے۔ ان کی قوم ان کو کہتی اس نماز کا کیا فائدہ آپ جواب میں فرماتے نماز محاسن و خوبیوں کا حکم دیتی ہے اور قبائح سے باز رکھتی ہے۔ اس پر بطور تمسخر کہنے لگے۔ اصلٰوتک تامرک کیا تمہاری نماز تمہیں حکم دیتی ہے کہ تو ہمیں ان کی عبادت کے ترک کا حکم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

87۔” قالو یا شعیب اصاتک تا مرک ان نترک ما یعبد ابائونا “ جن بتوں کو ہم پوجا کرتے آ رہے ہیں ۔ ان کو چھوڑ دیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ شعیب (علیہ السلام) کثرت سے نماز پڑھتے تھے اس لیے کافروں نے آپ کی نمازکا تذکرہ کیا ۔” او ان نفعل فی اموالنا ما نشاء “ یا یہ کہ ہم اپنے مال میں جو کمی چاہے ، کمی ، زیادتی کرتے ہیں ، اس کو چھوڑ دیں اور کہا گیا ہے کہ شعیب (علیہ السلام) نے ان کو دراہم اور دنانیر کے کاٹنے سے منع کیا کہ یہ ان پر حرام ہیں تو انہوں نے یہ کہا ” انک لانت الحلیم الرشید “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں حضرت شعیب (علیہ السلام) کو حلیم و رشید بطور طنز کہا تھا عرب لوگ ایک مفہوم کی تعبیر اس کی ضد سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

87۔ خازن میں عبد اللہ بن عباس ؓ کا اور ابن عساکر میں اخنف میں قیس کا قول ہے کہ شعیب (علیہ السلام) پہلے رسولوں میں سے زیادہ نماز پڑہا کرتے 1 ؎ تھے۔ اسی واسطے ان کی قوم نے کہا معلوم ہوتا ہے کہ تمہاری نماز نے یہ باتیں سکھلائی ہیں جو تم ہم کو بتوں کی عبادت اور پورا ناپنے تولنے کی تاکید کرتے ہو۔ یہ اخنف بن قیس ثقہ تابعی ہیں اور سب حدیث کی کتابوں میں ان کی روایتیں ہیں بعضے سلف نے لکھا ہے کہ شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے نماز کا طعنہ اس لئے دیا کہ نماز دین کے کل رکنوں سے زیادہ مرتبہ رکھتی ہے اس لئے نماز سے مقصود گویا دین ہے بہر حال شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے ان کو یہ جواب دیا کہ یہ سب تمہاری نماز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت) ” انہوں نے کہا، اے شعیب ! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے “ یہ بات انہوں نے اپنے نبی سے تمسخر کرتے ہوئے اور ان کی دعوت کے قبول کرنے کو بعید سمجھتے ہوئے کہی تھی۔ ان کے کلام کے معنی یہ ہیں کہ تو ہمیں ان باتوں سے صرف اس لئے منع کرتا ہے کہ نماز پڑھتا ہے اور اللہ کی عبادت کرتا ہے اگر یہ معاملہ ہے، تو کیا ہم ان معبودوں کی عبادت، جنہیں ہمارے باپ دادا پوجتے تھے، محض تیرے قول پر چھوڑ دیں، جس پر کوئی دلیل نہیں ؟ سوائے اس کے کہ وہ تیری خواہش کے موافق ہے۔ پس ہم اپنے عقل مند آباؤ اجداد کو چھوڑ کر تیری اتباع کیسے کرسکتے ہیں ؟ اسی طرح…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 87–112

حقیقی نمازی مشرک نہیں ہوسکتا قول باری ہے اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبد اباء نا او ان فعل فی اموالنا ما تشاء کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشاء کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو۔ انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کی حیثیت نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے کی طرح ہے چناچہ ارشاد باری ہے ان الصلوٰۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر بیشک نماز بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت شعیب نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 87–89

176 ۔ قوم شعیب کا حضرت شعیب (علیہ السلام) کو معاندانہ جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اس دعوت حق کے جواب میں کہا کہ کیا تمہاری نماز تم کو یہی سکھاتی پڑھاتی ہے ہم ان چیزوں کو چھوڑ دیں جن کی پوجا (و پرستش) ہمارے باپ دادا کرتے چلے آئے ہیں ؟ یعنی وہی مرغے کی ایک ٹانگ کہ دلیل و حجت تو کچھ نہیں۔ صرف چونکہ بڑے ایسا کرتے آئے بس ہم بھی کریں گے کہ جہاں انہوں نے ایک مکھی ماری تھی وہاں پر ہم بھی مکھی پر مکھی مارتے چلے جائیں گے اور بس۔ اور یہی منطق آج کا جاہل مسلمان پیش کرتا ہے کہ فلاں فلاں کام چونکہ ہمارے بڑے اور بزرگ کرتے آئے ہیں اس لئے ہم بھی کرتے ہیں اگرچہ دین کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 84–95

سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کی گمراہی اور عذاب تشریح : یہاں قوم مدین کا حال بیان کیا جا رہا ہے۔ یہ قوم مدین اور اس کے نواحی علاقوں میں آباد تھی۔ بحر احمر کا وہ مقام جہاں جزیرہ نمائے عرب کی دو تجارتی شاہراہیں آکر ملتی تھیں یمن و شام اور عراق و مصر کے قافلے یہیں سے گزرتے تھے، یعنی مدین بہت بڑی تجارتی منڈی تھی اسی لیے وہاں کے لوگ بڑے آسودہ حال تھے۔ مگر ان میں بت پرستی، عیش پرستی اور ناپ تول میں بددیانتی کی عادت حد سے بڑھ چکی تھی اور اس حرام خوری کی وجہ سے ان میں تمام اخلاقی برائیاں، اللہ سے دوری اور حرص و لالچ پیدا ہوچکا تھا دیکھا جائے تو مال کی حرص بہت سی اخلاقی برائیوں کی جڑ ہے یہی حال ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 84–95

آیات 84 تا 95 اسرار و معارف شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا حال بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے کہ مدین جو ملک شام کا مشہور شہر تھا اس کے رہنے والوں کی طرف ان ہی میں سے شعیب (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ یہ لوگ شجرپرستی میں مبتلا تھے اور مختلف درختوں کی پوجا کرتے تھے جیسے ہندومت میں آج بھی یہ بات پائی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ان کا لین دین بھی ہندؤوں جیسا تھا ڈنڈی مارنے سے نہ چوکتے ناپ تول میں کمی کردیتے ۔ سونے کے سکوں میں سے تھوڑابہت سونا کاٹ لیتے اور سکہ پوری قیمت پر چلتا کردیتے۔ ناپ تول میں کمی چنانچہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے توحید کی دعوت دی اور فرمایا اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ لہٰذا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 ۔ یعنی کیا تو اپنی نماز کا دائرہ عمل اس قدر وسیع سمجھتا ہے کہ دوسروں کے مذہبی و مالی معاملات میں بھی دخل دینے لگا ہے۔ ہماری مرضی ہے جس کی چاہیں پوجا اور جس کی چاہیں بندگی کریں اور یہ مال جو ہمارے اپنے ہیں ان میں جس طرح چاہیں تصر فکریں۔ جائز ناجائز جیسے چاہیں کمائیں۔ کوئی ہمیں کیوں ٹوکے ؟ 6 ۔ پھر تو ایسی نادانی کی باتیں کرنے لگا ہے ؟ یا بس تو ہی ایک عقلمند اور نیک چلن آدمی رہ گیا ہے۔ باقی ہم اور ہمارے باپ دادا جائل اور احمق ہی رہے ! یہ بات انہوں نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) سے استہزا اور تمسخر کے انداز میں کہی۔ (ابن کثیر) شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ ” جاہلوں کا دستور ہے کہ نیکیوں کے کام آپ نہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(11:87) اصلوتک تامرک (مخول سے کہتے ہیں کیا) تمہاری نماز میں تمہیں یہی حکم دیتی ہے ۔ او ان نفعل فی اموالنا ما نشؤ۔ ای اوان نترک فعلنا فی اموالنا ما نشؤ۔ (کہ ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کرنا چھوڑدیں۔ الکشاف ذیلی نوٹ نمبر 3) انک لانت الحلیم الرشید۔ الحلیم۔ بردباد ۔ تحمل والا۔ باوقار۔ الحلم سے جس کے معنی ہیں نفس و طبیعت پر ایسا ضبط رکھنا کہ غیظ وغضب کے موقع پر بھڑک نہ اٹھے۔ بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے اس کی جمع احلام ہے۔ آیت ام تأمرہم احلامہم (52:32) میں بعض کے نزدیک عقلیں مراد ہیں۔ اصل میں حلم کے معنی متانت کے ہیں مگر چونکہ متانت بھی عقل کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے حلم کا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 84–88

لغات القرآن آیت نمبر 84 تا 88 لاتنقصوا (تم کمی نہ کرو) المکیال (ماپ) المیزان (تول) انی اری (بےشک میں دیکھ رہا ہوں) بخیر (خیر سے، بھلائی سے، اچھا حال) یوم محیط (گھیر لینے والا دن ) القسط (انصاف، برابری) لاتبخسوا (نہ گھٹائو، کمی نہ کرو) اشیاء (چیزیں) لاتعثوا (تم نہ پھرو، نہ گھومو) بقیت اللہ (اللہ کا بچایا ہوا) حفیظ (نگہبان، نگران) تامرک (تجھے حکم دیتی ہے) ان نترک (یہ کہ ہم چھوڑ دیں) ان نفعل (یہ کہ ہم کریں) نشآء (ہم چاہیں) رزقنی (اس نے مجھے دیا) انھی (میں منع کرتا ہوں، روتکا ہوں) ارید (میں چاہتا ہوں) استطعت (میں طاقت رکھتا ہوں) توفیق (عطاء، توفیق) توکلت (میں نے بھروسہ کرلیا) انیب (میں لوٹتا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا جواب حضرت شعیب (علیہ السلام) پہلے رسولوں میں سے زیادہ نماز پڑھا کرتے تھے اسی واسطے ان کی قوم نے یہ جواب دیا کہ یہ سب تمہاری نماز کا اثر ہے جو تم ہم لوگوں کو ہر بات سے منع کرتے ہو ایسا کب ممکن ہے جو ہم ان بتوں کو چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کیا کرتے تھے۔ اور اپنے مال کے بھی ہم مختار ہیں جس طرح چاہیں گے الٹ پھیر کریں گے تم کون ہو منع کرنے والے۔ پھر بطور طعن کے یہ بات کہی کہ تم بڑے بردبار اور نیک بخت ہو کہ ہماری عادتوں کو برا جانتے ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 84–87

[47] ان کا ذکر سورة اعراف رکوع 11 آیت 85 تا 93 (صفحہ 352 تا 354) میں گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

اکل حلال : (ف 1) حضرت شعیب (علیہ السلام) نے جب توحید کی طرف قوم کو بلایا ، خدا پرستی کی تلقین کی اور کہا کہ عقیدہ تو حید عام اعمال میں بھی نظر آنا چاہئے پورا تول کر دو اور پورا ناپ کرلو ، تو انہوں نے از راہ بدبختی کہا واہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم اپنے کل مال و دولت میں تمہارے تصرفات کو مان لیں ہم جیسا چاہیں گے کریں گے ، اس کے بعد یہ کہہ کر حضرت شعیب (علیہ السلام) کی کچھ چاپلوسی کی ہے ، کہ تم نہایت بردبار اور نیک ہو ، یہ تجارت اور بزنس کے داؤں گھات ہیں تم کیا جانو ، یہ کیا ہیں اس لئے ان چیزوں کی مخالفت نہ کرو ، اور دخل در معقولات سے باز آجاؤ ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے تو اکل حلال کی تلقین ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

87 یہ سن کر قوم کے لوگوں نے کہا اے شعیب (علیہ السلام) کیا تیرے نماز پڑھنے اور تیری عبادت نے تجھ کو یہی سکھایا ہے کہ جن کو ہمارے بڑے بوڑھے اور باپ دادا پوجا کرتے تھے اور جن چیزوں کی پرستش کیا کرتے تھے ان چیزوں کی پرستش ہم چھوڑ دیں اور ان معبودوں کی عبادت کو ترک کردیں یا تمہاری نماز نے تم کو یہ سکھایا ہے کہ ہم اپنے مال می اپنے حسب دل خواہ تصرف کرنا چھوڑ دیں اور جس طرح ہم چاہیں اپنے مال میں تصرف کرنے سے باز آجائیں۔ بے شک آپ ہی تو بڑے باوقار اور نیک چال والے تھے یعنی آپ کی عبادت نے آپ کو اچھا سبق پڑھایا ہے کہ جو بات قدیم سے ہوتی چلی آرہی ہے اس کو چھوڑ بیٹھیں اور جو ہمارا مال ہے اس میں اپنی مرضی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 87–90

ف 4۔ یعنی جن باتوں سے ہم کو منع کرتے ہو ان میں کوئی برائی نہیں حلیم ورشد تمسخر سے کہا جیسے بددینوں کی عادت ہوتی ہے دین داروں کے ساتھ۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قوم نے کہا اے شعیب ! کیا تیری نماز ان معبودوں اور دوسرے کاموں سے روکتی ہے ؟ ۔ 111 شعیب (علیہ السلام) کی قوم کے لوگوں نے شعیب (علیہ السلام) کو مخاطب کر کے کہا کہ اے شعیب ! کیا تیری نمازیں جو تو اپنے خدا کے لئے بڑھتا ہے ۔ تجھے یہ حکم دیتی ہیں کہ ہمیں آ کر کہے کہ ان معبودوں کو چھوڑ دو جنہیں ہمارے باپ دادا پوجتے رہے ہیں اور ان بزرگوں اور سجادہ نشینوں کی بیعت کو چھوڑ دیں جن کی بیعت ہمارے باپ دادا نے کی تھی ؟ اور یہ بھی کہ ہمیں اختیار نہیں کہ اپنے مالوں میں جس طرح کا تصرف کرنا چاہیں کرنا چاہیں کریں ؟ کیا تم ہی ایک نرم دل اور راست باز آدمی رہ گئے ہو۔ شعیب (علیہ السلام) نے دو باتوں کے متعلق زور دار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

It means if they were not to listen to him, let them remember that he was not responsible for the eventuality that they may be seized by some punishment. The Holy Prophet ﷺ said about Sayyidna Shu'aib that he was an orator among prophets. His eloquence was exceptional. He went to its farthest limits in order to make his people understand his message and take to the right path. But, even after having listened to him, the response of his people was different from that given by ignorant diehards to their reformers. They threw taunts at him, made fun of him, and said: أَصَلَاتُكَ تَأْمُرُ‌كَ أَن…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

96. This, in fact, is a taunting remark. Remarks which are expressive of the same spirit are heard today among every group of people who are heedless of God and who are engrossed in sin and evil. Prayer is obviously the first and the most obvious symbol of man's religious orientation. That orientation is not simply considered a dangerous disease, but the most dangerous one by irreligious people. Hence, Prayer is looked upon by these people as a manifestation of mental derailment rather than what it actually is - an act of worship. Irreligious people are also aware that those who become…

Read the full tafseer →