Hud 11:86

Hud · from ayah 86

11:86

بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۚ۬— وَمَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ ۟بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۚوَمَاۤ اَنَا عَلَيۡكُمۡ بِحَفِيۡظٍ‏

اگر تم کو (میرے کہنے کا) یقین ہو تو خدا کا دیا ہوا نفع ہی تمہارے لیے بہتر ہے اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

What remains [lawful] from Allah is best for you, if you would be believers. But I am not a guardian over you."

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 8 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:86

اللہ کی دی ہوئی بچت تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم مومن ہو اور بہر حال میں تمہارے اوپر کوئی نگران کار نہیں ہوں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اگر تم کو (میرے کہنے کا) یقین ہو تو خدا کا دیا ہوا نفع ہی تمہارے لیے بہتر ہے اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ تعالی کا حلال کیا ہوا جو بچ رہے تمہارے لئے بہت ہی بہتر ہے اگر تم ایمان والے ہو، میں تم پر کچھ نگہبان (اور داروغہ) نہیں ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اگر تم میری بات مانو تو (لوگوں کا حق ان کو دینے کے بعد) جو کچھ اللہ کا دیا بچ رہے، وہ تمہارے حق میں کہیں بہتر ہے، اور (اگر نہ مانو تو) میں تم پر پہرہ دار مقرر نہیں ہوا ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ کا دیا جو بچ رہے وہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تمہیں یقین ہو اور میں کچھ تم پر نگہبان نہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو اﷲ کے دیئے میں بچ رہے (وہی) تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم ایمان والے ہو، اور میں تم پر نگہبان نہیں ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ کا باقی بچا ہوا تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم مومن ہو اور میں ہرگز تم پر کوئی نگہبان نہیں ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تمہارے لئے اللہ کی دی ہوئی بچت ہی بہتر ہے اگر تم مومن ہو اور میں تم پر کوئی محافظ تو نہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ کا بخشا ہوا منافع ہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم سچے ایمان والے ہو۔ اور میں تم پر نگران نہیں ہوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اللہ کی دی ہوئی بچت تمہارے لئے بہرحال بہتر ہے، اگر تم ایماندار ہو، اور میں تم پر کوئی نگران کار نہیں ہوں،

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ (کے دیئے میں سے) بچا ہوا کہیں بہتر ہے تمہارے حق میں اگر تم ایمان والے ہو اور میں تم پر کوئی پاسبان تو ہوں نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ کی عطا کردہ بچت ہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم مؤمن ہو لیکن میں تمہارے اوپر کوئی نگران نہیں ہوں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اگر تمہیں میرے کہنے کا یقین ہو تو اللہ کا دیا ہوا منافع ہی تمہارے لیے بہتر ہے اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The gains that Allah lets you retain are better for you, if you indeed believe. In any case, I have not been appointed a keeper over you.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Whatever is allowed by Allah to retain (lawfully) is better for you, if you are believers. And I am not a watchman over you.

— Muhammad Taqi Usmani

Whatever is allowed by Allah to retain (lawfully) is better for you, if you are believers. And I am not a watchman over you.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"That which is left by Allah is better for you, if you are believers. And I am not a guardian over you."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That which Allah leaveth with you is better for you if ye are believers; and I am not a keeper over you.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

What remains [lawful] from Allah is best for you, if you would be believers. But I am not a guardian over you."

— Saheeh International

If you are true believers then know that the profit which God has left for you is better for you (than what you may gain through deceitful ways). I am not responsible for your deeds."

— Muhammad Sarwar

What remains with Allah is better for you if you are believers, and I am not a keeper over you.

— Muhammad Habib Shakir

And the remainder of Allah is better for you, if ye believers, and I am not over you a guardian.

— Abdul Majid Daryabadi

"That which is left you by Allah is best for you, if ye (but) believed! but I am not set over you to keep watch!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:86

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 85–86

ناپ تول میں انصاف کرو۔ پہلے تو اپنی قوم کو ناپ تول کی کمی سے روکا۔ اب لین دین کے دونوں وقت عدل و انصاف کے ساتھ پورے پورے ناپ تول کا حکم دیتے ہیں۔ اور زمین میں فساد اور تباہ کاری کرنے کو منع کرتے ہیں۔ ان میں رہزنی اور ڈاکے مارنے کی بد خصلت بھی تھی۔ لوگوں کے حق مار کر نفع اٹھانے سے اللہ کا دیا ہوا نفع بہت بہتر ہے۔ اللہ کی یہ وصیت تمہارے لیے خیریت لیے ہوئے ہے۔ عذاب سے جیسے ہلاکت ہوتی ہے اس کے مقابلے میں رحمت سے برکت ہوتی ہے۔ ٹھیک تول کر پورے ناپ کر حلال سے جو نفع ملے اسی میں برکت ہوتی ہے۔ خبیث و طیب میں کیا مساوات ؟ دیکھو میں تمہیں ہر وقت دیکھ نہیں رہا۔ تمہیں برائیوں کا ترک اور نیکیوں کا فعل…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة هُوْد 95 یعنی میرا کوئی زور تم پر نہیں ہے۔ میں تو بس ایک خیر خواہ ناصح ہوں۔ زیادہ سے زیادہ اتنا ہی کر سکتا ہوں کہ تمہیں سمجھا دوں۔ آگے تمہیں اختیار ہے، چاہے مانو ، چاہے نہ مانو۔ سوال میری بازپرس سے ڈرنے یا نہ ڈرنے کا نہیں ہے۔ اصل چیز خدا کی باز پرس ہے جس کا اگر تمہیں کچھ خوف ہو تو اپنی اِن حرکتوں سےباز آجاؤ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤ ْمِنِيْنَ ڬ وَمَآ اَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيْظٍ ، یعنی لوگوں کے حقوق ناپ تول پورا کرکے ادا کرنے کے بعد جو کچھ بچ رہے تمہارے لئے وہی بہتر ہے اگر تم میری بات مانو، اور اگر میری بات نہ مانو گے تو یاد رکھو میں اس کا ذمہ دار نہیں کہ تم پر کوئی عذاب آجائے۔ حضرت شعیب ؑ کے بارے میں رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ خطیب الانبیاء ہیں، آپ نے اپنے حسن بیان سے اپنی قوم کو سمجھانے اور ہدایت پر لانے کی پوری کوشش میں انتہا کردی، مگر یہ سب کچھ سننے کے بعد قوم نے وہی جواب دیا جو جاہل قومیں اپنے مصلحین کو دیا کرتی ہیں ان پر پھبتیاں کسیں استہزاء کیا، کہنے لگے

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ڬ وَمَآ اَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيْظٍ۔ بقیت اللہ سے مراد جائز نفع ہے۔ اگر ایک تاجر ناپ تول میں ٹھیک ٹھیک عدل کو ملحوظ رکھے، جھوٹ فریب ملاوٹ اور اس قسم کے دوسرے ہتھکنڈوں سے بچے، دوسروں کی ریس میں غلط راستے نہ اختیار کرے تو گو وہ اتنا زیادہ منافع نہ لوٹ سکے جتنا دوسروں نے جنوں نے حرام و حلال کی تمیز اٹھا دی۔ لوٹا ہو لیکن اس کا حاصل کیا ہوا نفع بقیۃ اللہ کی حیثیت رکھتا ہے اور وہ قلیل بھی ہو تو دوسروں کے کثیر سے ہزار درجہ افضل ہے اس لیے کہ اس میں دنیا اور آخرت دونوں میں برکت ہوگی۔ اس کے برعکس بےایمانی کا حاصل کیا ہوا نفع دنیا میں بےبرکت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

86۔ 1 (بَقِیَّتُ اللّٰہِ) سے مراد جو ناپ تول میں کسی قسم کی کمی کئے بغیر، دیانتداری کے ساتھ سودا دینے کے بعد حاصل ہو۔ یہ چونکہ حلال و طیب ہے اور خیرو برکت بھی اسی میں ہے، اس لئے اللہ کا بقیہ قرار دیا گیا ہے۔ 86۔ 2 یعنی میں تمہیں صرف تبلیغ کرسکتا ہوں اور اللہ کے حکم سے کر رہا ہوں۔ لیکن برائیوں سے میں تمہیں روک دوں یا اس پر سزا دوں، یہ میرے اختیار میں نہیں ہے، ان دونوں باتوں کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 85–86

52: قرآن کریم نے یہاں جو الفاظ استعمال فرمائے ہیں وہ بڑے جامع ہیں، اور ان میں ہر قسم کے حقوق داخل ہوجاتے ہی، مطلب یہ ہے کہ جب تم پر کسی بھی شخص کا کوئی حق واجب ہو تو اس میں ڈنڈی مار کر یا تاویلا کر کے اسے کم کرنے کی کوشش نہ کرو۔ بلکہ ہر حق دار کو اس کا حق پورا پورا ادا کرو۔ 53: جیسا کہ سورة اعراف میں عرض کیا گیا تھا اس قوم کے بعض افراد راستوں پر چوکیاں لگا کر بیٹھ جاتے اور مسافروں سے زبردستی ٹیکس وصول کرتے تھے، اور بعض لوگ مسافروں پر ڈاکا ڈالا کرتے تھے۔ اس فقرے میں ان کی اسی بد عنوانی کی طرف اشارہ ہ۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

بَقِيَّةُ اللَّهِ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (11 : 85) “ اللہ کی دی ہوئی بچت تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم مومن ہو۔ ” کیونکہ اللہ کے ہاں جو اجر ہے یا اللہ کی شریعت کے مطابق جائز ذرائع سے آنے والی کمائی زیادہ قیمتی اور زیادہ باقی رہنے والی ہے۔ اس سے قبل اللہ نے بتایا تھا کہ صرف اللہ کی بندگی اور اطاعت کرو اور اللہ کے دین میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ۔ اور اب یہ بتایا جاتا ہے کہ اس دین کے مطابق جو منافع وہ کمائیں گے وہ زیادہ نفع بخش کام ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور معاشی سرگرمیوں میں پاکیزہ راہ اختیار کرنا اس ایمان اور نظریہ کا لازمی تقاضا بھی ہے۔ اب حضرت شعیب (علیہ السلام) ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 ایک ایماندار کے لیے اللہ کا دیا ہوا جو ٹھیک ٹھیک حقوق ادا کر کے بچ رہے گو قلیل ہو، اس کثیر سے بہتر ہے جو حرام طریقہ سے حاصل کیا جائے یا جس میں لوگوں کے حقوق مارے جائیں۔ مال حلال میں جو ٹھیک ناپ تول کرلیا دیا جائے فی الحال برکت ہوتی ہے، اور خدا کے یہاں اجر ملتا ہے۔ 11 یعنی میں نے تم کو نصیحت کردی۔ آگے اس کا ذمہ دار نہیں کہ تم سے زبردستی عمل کرا کے چھوڑوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 86 بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ انصاف کے ساتھ پورا پورا ناپو اور تولو ‘ اور لوگوں کی چیزوں میں کمی کر کے ان کی حق تلفی نہ کیا کرو۔ اگر تم لوگ دیانتداری سے تجارت کرو ‘ اور اس طرح اللہ تعالیٰ تمہیں جو منافع عطا کریں اسی پر قناعت کرو تو یہ تمہاری دنیا و آخرت کے لیے بہت بہتر ہوگا۔ وَمَآ اَنَا عَلَیْکُمْ بِحَفِیْظٍ میں تو تمہیں سمجھا سکتا ہوں نیکی کی تلقین کرسکتا ہوں تم پر میرا کوئی زور نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

96 یعنی اچھے بھلے کھاتے پیتے لوگ ہو تمہیں بددیانتی کرنے کی کچھ ضرورت بھی نہیں لہذا جتنا منافع حلال ذرائع سے حاصل ہوتا ہے اسے کافی سمجھو اسی میں اللہ برکت عطا فرمائے گا۔ اگر تم یہ باتیں مان کر ان پر عمل کرو تو تمہارے حق میں بہتر ہے اور یہ سب کام اللہ سے ڈرتے ہوئے کرو میں تمہارا محتسب نہیں ہوں کہ یہ دیکھتا رہوں کہ کون کم تولتا ہے اور کون پورا ماپتا ہے اور کون سودے بازی میں بددیانتی کر رہا ہے اور کون نہیں کر رہا۔ اس جملے کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میں نے تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور میری بس اتنی ہی ذمہ داری تھی تمہیں راہ راست پہ لاکے چھوڑنا میری ذمہ داری نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

127۔ اپنے ہر قول وعمل کی ذمہ داری تمہیں خود محسوس کرنی چاہیے) حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی تقریر سے ایک طرف تو مخاطبین میں ان کی ذمہ داری کا شعور پیدا کرنا چاہا دوسرے یہ بتایا کہ پاک مال اور ناجائز ذرائع سے حاصل کی ہوئی آمدنی سے بہتر ہے۔ (آیت) ” بقیت اللہ “۔ یعنی وہ مال جو شریعت الہی نے تمہارے لیے جائز رکھا ہے اور جس کو ناجائز نہیں قراردیا ہے۔ ای ماابقاہ اللہ حلالالکم ولم یحرمہ علیکم (بحر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 84–95

آیت نمبر 84 تا 95 ترجمہ : اور ہم نے اہل مدین کی جانب ان کے بھائی شعیب کو بھیجا انہوں نے کہا میرے برادران قوم اللہ کی بندگی کرو یعنی اس کو ایک سمجھو، اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں، اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو، میں تم کو خوش حالی میں دیکھ رہا ہوں جس کی وجہ سے تم کو تولنے اور کم ناپنے سے مستغنی ہو، اگر تم ایمان نہ لائے تو مجھے تمہارے بارے میں تم کو گھیرنے والے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے جو تم کو ہلاک کر دے گا، اور یوم کی صفت محیط مجاز ہے عذاب کے اس میں واقع ہونے کی وجہ سے، اور اے میرے برادران قوم تم انصاف کے ساتھ پورا پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں نقصان نہ پہنچاؤ، (یعنی)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

بقیت اللہ خیر لکم اللہ کا دیا ہوا جو کچھ (حلال مال) بچ جائے ‘ وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اس جملہ کا یہ مطلب بیان کیا کہ صحیح صحیح ناپ تول کردینے کے بعد جو حلال چیز باقی رہ جاتی ہے ‘ وہ بہتر ہے اس حرام مقدار سے جو ناپ تول میں کمی کر کے تم حاصل کرتے ہو۔ مجاہد نے کہا : بَقِیَّتُ اللّٰہِ سے مراد ہے اللہ کی اطاعت ‘ جیسے دوسری آیت میں فرمایا ہے : وَالْبَاقیات الصالحات خیر۔ ان کنتم مؤمنین اگر تم مؤمن ہو۔ یعنی بَقِیَّتُ اللّٰہِ کا تمہارے لئے بہتر ہونا ایمان کے ساتھ مشروط ہے۔ مؤمن کو ہی نیکی کا اجر ملے گا ‘ کافر کی بھلائیاں تو اکارت جائیں گی۔ بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا کہ اگر تم میرے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(86) ناپ تول کو پورے طریقہ پر ادا کرنے میں جو اللہ کی طرف سے ثواب مل جائے، وہ تمہارے لیے بہتر ہے یا یہ کہ ناپ تول کو پورا کرنے کے بعد جو حلال رزق تمہارے لیے بچ جائے، وہ اس مال سے بہتر ہے جو ناپ تول کی کمی میں تمہیں ملتا ہے، اگر تمہیں میری باتوں کا یقین آئے اور میں تمہارا پہرہ دینے والا تو ہوں نہیں کہ تمہاری نگرانی کروں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۔۔ : یعنی بےایمانی سے جمع کردہ مال سے اتنی بچت اور منافع ہر طرح سے بہتر ہے جو اللہ کے حکم کے مطابق حاصل ہو۔ ”اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ“ (بشرطیکہ تم مومن ہو) کیونکہ کافر کے نیک اعمال بھی قیامت کے دن اس کے کسی کام نہیں آئیں گے۔ دیکھیے سورة کہف (105)۔ وَمَآ اَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيْظٍ : یعنی میں تم پر نگران تو نہیں ہوں جو ہر وقت تمہارے ناپ تول کو دیکھتا رہوں اور نہ یہ میرے بس میں ہے۔ ہر ایک کے ایک ایک لمحہ پر نظر تو صرف رب تعالیٰ کی ہے، میرا کام تو تمہیں سمجھا دینا اور اللہ کے عذاب سے ڈرا دینا ہے، ماننا نہ ماننا تمہارا کام ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 84–95

آیت نمبر 84 تا 95 اللہ تعالیٰ کا ارشاد والیٰ مدین اخاھم شعیبا یعنی وارسلناإلی مدینہم نے مدین کی طرف بھیجا، مدین حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم ہے۔ ان کی وجہ تسمیہ کے متعلق دو قول ہیں : ایک قول یہ ہے کہ وہ مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں۔ مدین کہا گیا ہے جب کہ مراد بنو مدین ہیں۔ جس طرح مضر کہا جاتا ہے اور مراد بنومضر ہوتے ہیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ان کے شہر کا نام ہے اس لیے اس کی طرف ان کو منسوب کردیا گیا۔ نحاس نے کہا : مدین غیر منصرف ہئ، کیونکہ یہ شہر کا نام ہے، سورة اعراف میں یہ معنی گزرچکا ہے اور کچھ اس سے زیادہ بھی۔ قال یٰقوم اعبدوا اللہ مالکم من الٰہٍ غیرہ (اس کی تفسیر) گزر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 84–88

قوم شعیب (علیہ السلام) کا ذکر : 1:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انی ارکم بخیر “ سے مراد اشیاء کی قیمتوں کا سستا ہونا۔ (اور فرمایا) (آیت) ” وانی اخاف علیکم عذاب یوم محیط “ سے مراد ہے کہ قیمتوں کا چڑھنا اور مہنگا ہونا ہے (یعنی میں ڈرتا ہوں تم پر اس دن سے جبکہ قمیتیں چڑھ جائیں اور بھاؤ مہنگا ہوجائے۔ 2:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” بقیت اللہ “ یعنی اللہ کا رزق۔ 3:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” بقیت اللہ خیر لکم “ یعنی تمہارا حصہ تمہارے رب کی طرف سے بہتر ہے تمہارے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[بَقِيَّتُ اللّٰهِ : اللہ کی چھوڑی ہوئی چیزیں (جو حرام نہیں ہوئیں)] [خَيْرٌ: بہتر ہیں ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے ] [ان : اگر ] [ كُنْتم : تم لوگ ہو ] [مُّؤْمِنِيْنَ : ایمان لانے والے ] [وَمَآ : اور میں نہیں ہوں ] [انا عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [بِحَفِيْظٍ : نگہبان ] ترکیب : (آیت۔ 86) یَقِیَّتُ دراصل بَقِیَّۃُ ہے۔ اس آیت میں اس کو لمبی تا سے لکھنا قرآن مجید کا مخصوص املا ہے۔ یہاں کے علاوہ یہ لفظ قرآن مجید میں دو جگہ (2:248 ۔ 11:117) آیا ہے اور وہاں دونوں جگہ اسے گول تا سے بَقِیَّۃٌ لکھا جاتا ہے۔ (آیت۔ 87) اَنْ نَّفْعَلُ سے پہلے اَنْ نَتْرُکَ محذوف ہے اس آیت میں نُشْؤُا بھی قرآن حکیم کی مخصوص…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 84–87

مدین والوں کو حضرت شعیب (علیہ السلام) کا تبلیغ فرمانا اور ان لوگوں کا الٹے جواب دینا اور استہزاء کرنا حضرت شعیب (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اصحاب مدین اور اصحاب ایکہ کی طرف مبعوث فرمایا تھا اصحاب ایکہ کا ذکر سورة الشعرا (ع 10) میں ہے اور سورة اعراف (ع 11) میں اور یہاں سورة ہود میں اور سورة عنکبوت (ع 4) میں اصحاب مدین کا ذکر ہے۔ یہ لوگ بھی مشرک تھے غیر اللہ کی عبادت کرتے تھے اور لوگوں کو جو مال بیچتے تھے تو ناپ تول میں کمی کرتے تھے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو تبلیغ کی اور ان سے فرمایا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو ‘ اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں ہے ‘ نیز یہ بھی فرمایا کہ لوگوں کو ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 84–95

قصہ شعیب (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ والی مدین اخاھم شعیبا .... الیٰ .... الا بعدا لمدین کما بعدت ثمود۔ (ربط) یہ چھٹا قصہ شعیب (علیہ السلام) کا ہے جو خطیب الانبیاء کے لقب سے معروف ہیں اور مدین کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ یہ لوگ بڑے سرمایہ دار تھے انکا مذہب یہ تھا کہ ہم اپنے مالوں کے تصرف میں آزاد اور مختار ہیں ( جیسا کہ آج کل کے سرمایہ دار کہتے ہیں) جس طرح چاہیں ان میں تصرف کریں حضرت شعیب (علیہ السلام) یہ فرماتے تھے کہ یہ اموال اگرچہ تمہارے مملوک ہیں مگر تمہاری ملکیت مالک حقیقی کی ملکیت اور اس کے حکم کے ماتحت ہے۔ امانت اور دیانت کے ساتھ اور صحیح کمیل اور وزن کے ساتھ تم اس میں تصرف کرسکتے ہو یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

75:۔ یہ لوگ ناپ تول میں کمی بیشی کر کے لوگوں کا حق مار لیتے تھے اس لیے فرمایا تجارت سے جو نفع ہو اور لوگوں کے حقوق ادا کرنے سے بچ رہے وہ اس طرح کی بد دیانتی کی کمائی سے بہتر ہے اور زیادہ بابرکت ہے بشرطیکہ تم ایمان لے آؤ کیونکہ ایمان کے بغیر کسی چیز میں خیر و برکت نہیں۔ ای مابقیہ اللہ لکم بعد ایفاء الحقوق بالقسط اکثر برکة واحمد عاقبة مما تبقونه انتم لانفسکم من فضل التطفیف بالتجبر والظلم (قرطبی ج 9 ص 88) ای بشرط ان تؤمنوا اذ مع الکفر لا خیر فی شیء اصلاً (روح ج 12 ص 116) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 84–86

ربط آیات اس سورة مبارکہ میں تاریخ انبیاء (علیہم السلام) کے ضمن میں حضرات نوح ، ہود ، صالح اور لوط (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کا حال بیان ہوچکا ہے اس بات کا تذکرہ بھی ہوچکا ہے کہ اللہ کے نبیوں نے حق تبلیغ ادا کرنے اور اپنی اپنی قوموں کو سمجھانے میں کتنی محنت اور کوشش کی اور پھر ان قوموں کا ردعمل کیا ہوا اور وہ کس طریقے سے درد ناک عذاب میں مبتلا ہو کر ہلاک ہوئے۔ اب اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر حضرت شعی (علیہ السلام) کا ذکر ہو رہا ہے۔ آپ کا ذکر اس سورة مبارکہ کے علاوہ سورة اعراف میں بھی بیان ہوچکا ہے۔ سورة شعراء اور بعض دوسری سورتوں میں بھی آپ کے واقعات بیان ہوئے ہیں۔ حضرت شعیب (علیہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

بَقِيَّتُ اللہِ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۝ 0ۥۚ وَمَآ اَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيْظٍ۝ 86 بقي البَقَاء : ثبات الشیء علی حاله الأولی، وهو يضادّ الفناء، وقد بَقِيَ بَقَاءً ، وقیل : بَقَي في الماضي موضع بقي، وفي الحدیث : «بقینا رسول الله» أي : انتظرناه وترصّدنا له مدة كثيرة، والباقي ضربان : باق بنفسه لا إلى مدّة وهو الباري تعالی، ولا يصحّ عليه الفناء، وباق بغیره وهو ما عداه ويصح عليه الفناء . والباقي بالله ضربان : - باق بشخصه إلى أن يشاء اللہ أن يفنيه، کبقاء الأجرام السماوية . - وباق بنوعه وجنسه دون شخصه وجزئه، كالإنسان والحیوان . وكذا في الآخرة باق بشخصه كأهل الجنة، فإنهم يبقون علی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 84–93

تفسیر : اس کے بعد پانچواں واقعہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا بیان فرماتا ہے جو اہل مدین کی طرف رسول بنا کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد میں بھیجے گئے تھے۔ اس قوم کی عادت بت پرستی اور بدکاری کے علاوہ کم تولنا ‘ خیانت ‘ دغابازی کرنے کی بھی تھی جس کو وہ اپنے مال میں تصرف جائز سمجھ کر طعن کی راہ سے کہتے تھے کہ ایک آپ ہی تو بڑے اچھے شخص ہیں اور ان کی نماز پر طعن کرکے کہتے تھے کہ کیا آپ کی نماز ہم کو بت پرستی سے منع کرتی ہے ؟ باقی قصہ صاف ہے۔ یہ مدین وہی جگہ ہے کہ جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون سے بھاگ کر آئے تھے اور یہ وہی شعیب (علیہ السلام) ہیں کہ جن کی ایک صاحبزادی سے آپ کی شادی ہوئی تھی۔…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

بَقِیَّتُ اللّٰہِ خَیْرٌلَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ 5 ج وَمَآ اَنَا عَلَیْکُمْ بِحَفِیْظٍ ۔ (سورۃ ہود : 86) (اللہ کا بخشا ہوا منافع تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم صاحب ایمان ہو اور میں تم پر نگران نہیں ہوں۔ ) گزشتہ مضمون کی تکمیل یہ گزشتہ آیت کے مضمون کی تکمیل ہے اور اس میں انسان کی نفسیاتی کمزوریوں میں سے ایک بہت بڑی کمزوری کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ انسان کی کمزوری یہ ہے کہ چاہے اس کے پاس قارون کا خزانہ کیوں نہ ہو، وہ کبھی اسے اپنے لیے کافی نہیں سمجھتا۔ جب اپنے پاس کچھ نہیں ہوتا تو وہ یہ خواہش کرتا ہے کہ کاش مجھے اتنا مل جائے کہ میری ضرورتوں کے لیے کفایت کرے لیکن جب بقدر کفایت مل جاتا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 84–86

فہم القرآن ربط کلام : قوم لوط کے انجام کے بعد قوم صالح کے کردار اور انجام کا ذکر۔ قوم مدین کی طرف انہیں میں سے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو پیغمبر منتخب کیا گیا اور حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی دعوت کا آغاز اسی بات سے کیا جس کی دعوت ان سے پہلے انبیاء دیتے آرہے تھے۔ چناچہ انہوں نے فرمایا کہ اے میری قوم صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا کوئی تمہارا الٰہ نہیں۔ قرآن مجید میں الٰہ کے کئی معانی ہیں۔ جن میں سب سے پہلا معنی ہے کہ وہ ہستی جس کی والہانہ طور پر بندگی کی جائے۔ انتہائی مشکل کے وقت صرف اس کو پکارا جائے اور اس کے سوا کسی کو مشکل کشا اور حاجت روا تسلیم نہ کیا جائے۔ ( سورة النحل : 2 تا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

86: بَقِیَّتُ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا جو بچ جائے) جو حلال مال حرام سے پرہیز کے بعد بچ جائے۔ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (وہ تمہارے لیئے بہت بہتر ہے۔ اگر تم مومن ہو) اس شرط پر کہ تم ایمان لائو۔ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا بہت بہتر ہے کفار کیلئے بھی کیونکہ وہ اسکی وجہ اسلام لا کر بخس و تطفیف کی مصیبت سے چھوٹ جائیں گے۔ البتہ ایمان کے ساتھ تو اس کا فائدہ حصول ثواب، عقاب سے نجات کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ ایمان کے بغیر یہ فائدہ ظاہر نہ ہوگا۔ کیونکہ وہ مالدار اس صورت میں کفر کے گہرے پانی میں ڈبکیاں کھا رہا ہے۔ اس میں ایمان کی عظمت ذکر کردی اور اللہ تعالیٰ کی جلالت شان کے متعلق خبردار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر : 86” بقیت اللہ خیر لکم ان کنتم مومنین “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جو حلال مال اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے باقی رکھا ہے ماپ اور تول کو پورا کرنے کے بعد وہ تمہارے لیے بہتر ہے اس سے جو تم کمی کر کے لیتے ہو اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ” بقیت اللہ “ یعنی اللہ کی طاعت تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم ایمان رکھنے والے ہو کہ جو تمہارے پاس ہے وہ اللہ کے رزق اور اسی کی عطا سے ہے۔” وما انا علیکم بحفیظ “ وکیل اور بعض نے کہا ہے کہ شعیب (علیہ السلام) نے یہ اس لیے کہا کہ ان کو قتال کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

86۔ جب شعیب (علیہ السلام) قوم مدین کو خالص خدا ہی کی عبادت کرنے اور ناپ تول میں پورا پورا لینے دینے کو کہہ چکے تو پھر فرمایا کہ پورا پورا ناپنے اور تولنے کے بعد خدا کا دیا ہوا تم کو بچ رہے وہ تمہارے لئے بالکل پاک اور حلال ہے اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں کہ تمہیں گناہ میں نہ پڑنے دوں یا میرے ہاتھ میں تمہارا حساب کتاب نہیں ہے جس کا بدلہ تمہیں میں دوں میں تو خدا کی طرف سے صرف تمہاری جس نصیحت کو بھیجا گیا ہوں اس نصیحت کا مطلب میں نے تمہیں سمجھا دیا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے بقیت اللہ کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ خدا کا رزق تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم ایماندار ہو اور مجاہد نے کہا ہے کہ اگر تم لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت) ” جو بچ رہے اللہ کا دیا، وہ تمہارے لئے بہتر ہے “ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے جو بھلائی باقی رکھی ہے وہ تمہارے لئے کافی ہے، پس ایسے معاملے کی طمع نہ کرو جس سے تم مستعفی ہو اور وہ تمہارے لئے بہت نقصان دہ ہے۔ (آیت) ” اگر تم مومن ہو “ پس اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ (آیت) ” اور میں تم پر نگران نہیں ہوں۔ “ یعنی میں تمہارے اعمال کا محافظ اور ان پر نگران نہیں ہوں۔ تمہارے اعمال کا نگران تو اللہ تعالیٰ ہے میں تو تمہیں وہ پیغام پہنچا دیتا ہوں جو میری طرف بھیجا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 74–86

قوم لوط کی تباہی کا حکم قول باری ہے فلما ذھب عن ابراہیم الروح و جاء تہ البشری یجادلنا فی قوم لوط ۔ پھر جب ابراہیم کی گھبراہٹ دورہو گئی اور اولاد کی بشارت سے اس کا دل خوش ہوگیا تو اس نے قوط لوط کے معاملہ میں ہم سے جھگڑا شروع کیا ۔ یعنی جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے خوف دور ہوگیا تو وہ فرشتوں سے یہ سن کر کہ انہیں قوم لوط کر ہلاک کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے ، ا ن سے جھگڑنے لگے ، اس موقعہ پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرشتوں سے فرمایا کہ تم قوط لوط کو کیسے ہلاک کرو گے جبکہ وہاں لوط (علیہ السلام) بھی موجود ہیں ؟ فرشتوں نے جواب میں کہا کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہیں ۔ ہم انہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

173 ۔ حلال کمائی باعث خیر و برکت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے مزید فرمایا کہ اللہ کی بخشی ہوئی بچت تمہارے لیے بہرحال بہتر ہے کہ خیر و برکت بہرحال اسی میں ہے جو حلال اور پاکیزہ ہو، اور یہ اللہ پاک کا ایک محیر العقول اور پر حکمت نظام ہے جس میں غور و فکر کا بڑا سامان ہے، چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک بکری سال میں ایک دو بچے دیتی ہے۔ پھر بھی بکریوں کے ہر جگہ ریوڑوں کے ریوڑ ملیں گے جبکہ اس کے مقابلے میں ایک بلی اور کتیا سال میں پانچ چھ بچے دیتی ہے یا اس سے بھی زیادہ۔ اور ان کے کاٹنے ذبح کرنے کا بھی کوئی سوال نہیں۔ مگر اس کے باوجود کتوں بلوں کے اتنے بڑے ریوڑ ڈھونڈنے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 84–95

سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کی گمراہی اور عذاب تشریح : یہاں قوم مدین کا حال بیان کیا جا رہا ہے۔ یہ قوم مدین اور اس کے نواحی علاقوں میں آباد تھی۔ بحر احمر کا وہ مقام جہاں جزیرہ نمائے عرب کی دو تجارتی شاہراہیں آکر ملتی تھیں یمن و شام اور عراق و مصر کے قافلے یہیں سے گزرتے تھے، یعنی مدین بہت بڑی تجارتی منڈی تھی اسی لیے وہاں کے لوگ بڑے آسودہ حال تھے۔ مگر ان میں بت پرستی، عیش پرستی اور ناپ تول میں بددیانتی کی عادت حد سے بڑھ چکی تھی اور اس حرام خوری کی وجہ سے ان میں تمام اخلاقی برائیاں، اللہ سے دوری اور حرص و لالچ پیدا ہوچکا تھا دیکھا جائے تو مال کی حرص بہت سی اخلاقی برائیوں کی جڑ ہے یہی حال ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 84–95

آیات 84 تا 95 اسرار و معارف شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا حال بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے کہ مدین جو ملک شام کا مشہور شہر تھا اس کے رہنے والوں کی طرف ان ہی میں سے شعیب (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ یہ لوگ شجرپرستی میں مبتلا تھے اور مختلف درختوں کی پوجا کرتے تھے جیسے ہندومت میں آج بھی یہ بات پائی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ان کا لین دین بھی ہندؤوں جیسا تھا ڈنڈی مارنے سے نہ چوکتے ناپ تول میں کمی کردیتے ۔ سونے کے سکوں میں سے تھوڑابہت سونا کاٹ لیتے اور سکہ پوری قیمت پر چلتا کردیتے۔ ناپ تول میں کمی چنانچہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے توحید کی دعوت دی اور فرمایا اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ لہٰذا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 85–86

ف 3 ۔ نقل ہے کہ امانت کا روپیہ۔۔ لیتے تھے۔ (موضح) ۔ ابن کثیر میں ہے وہ لوگ ڈاکتے ڈالتے تھے۔ 4 ۔ یعنی تم پر نگران تو نہیں ہوں جو ہر وقت تمہاری ناپ تول کو دیکھتا رہوں میرا کام تو تمہیں سمجھا دینا اور خدا کے عذاب سے ڈرا دینا ہے۔ ماننا نہ ماننا تمہارا کام ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(11:86) بقیت اللہ۔ ای ما ابقی اللہ لکم من الحلال۔ حلال کی روزی اللہ جو بحث دیوے۔ (ھو) خیرلکم (مماتاخذونہ بالتطفیف) وہ بہتر ہے تمہارے لئے اس بحث سے جو تم ڈنڈی مار کر حاصل کرو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 84–88

لغات القرآن آیت نمبر 84 تا 88 لاتنقصوا (تم کمی نہ کرو) المکیال (ماپ) المیزان (تول) انی اری (بےشک میں دیکھ رہا ہوں) بخیر (خیر سے، بھلائی سے، اچھا حال) یوم محیط (گھیر لینے والا دن ) القسط (انصاف، برابری) لاتبخسوا (نہ گھٹائو، کمی نہ کرو) اشیاء (چیزیں) لاتعثوا (تم نہ پھرو، نہ گھومو) بقیت اللہ (اللہ کا بچایا ہوا) حفیظ (نگہبان، نگران) تامرک (تجھے حکم دیتی ہے) ان نترک (یہ کہ ہم چھوڑ دیں) ان نفعل (یہ کہ ہم کریں) نشآء (ہم چاہیں) رزقنی (اس نے مجھے دیا) انھی (میں منع کرتا ہوں، روتکا ہوں) ارید (میں چاہتا ہوں) استطعت (میں طاقت رکھتا ہوں) توفیق (عطاء، توفیق) توکلت (میں نے بھروسہ کرلیا) انیب (میں لوٹتا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

جب حضرت شعیب (علیہ السلام) نے قوم مدین کو خالص خدا ہی کی عبادت کرنے اور ناپ تو میں پورا پورا لینے دینے کو کہ چکے، تو پھر فرمایا کہ پورا پورا ناپنے اور تولنے کے بعد جو خدا کا دیا ہوا تم کو بچ رہے وہ تمہارے لئے بالکل پاک اور حلال ہے اور میں تمہارا نگہبان ہوں کہ تمہیں گناہ میں نہ پڑنے دوں یا میرے ہاتھ میں تمہارا حساب وکتاب نہیں ہے جس کا بدلہ میں تمہیں دوں۔ میں تو خدا کی طرف سے صرف تمہاری جس نصیحت کو بھیجا گیا ہوں اس نصیحت کا مطلب میں نے تمہیں سمجھا دیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 84–87

[47] ان کا ذکر سورة اعراف رکوع 11 آیت 85 تا 93 (صفحہ 352 تا 354) میں گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 84–86

(ف 1) حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم تجارت سے شغف رکھنے والی قوم تھی ، مگر کم تولنے کی بد عادت میں مبتلا تھی ، اس لئے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے انہیں اس برے فعل سے روکا ، اور کہا ، کہ اللہ کی عبادت کے ساتھ معاملات میں بھی منصف اور عادل بننے کی کوشش کرو ، کیونکہ مذہب کا تعلق صرف عقائد سے نہیں ، بلکہ اس کو معاملات میں بھی اصلاحی ہدایات پیش کرنا لازم ہے ، وہ عقیدے اور عبادتیں جو برائیوں سے نہیں روکتیں تمہیں بتاؤ ان کی کیا قیمت ہے ؟ مذہب زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

86 لوگوں کے حقوق ادا کرنے کے بعد جو اللہ کا دیا ہوا نفع بچا رہا کرے وہ تمہارے لئے بدرجہا بہتر اور حلال ہے اگر تم کو یقین آوے اور تم مومن ہو اور میں تم پر کوئی نگہبان اور پہرہ دار نہیں ہوں یعنی حلال سے جو بچ رہے بدرجہا بہتر ہے حرام مال سے خواہ حلال کم ہو حرام سے تم کو یقین ہو تو مان لوورنہ تم جانو میں کوئی تم پر نگہبان نہیں ہوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ کیونکہ حرام میں گو وہ کثیر ہو برکت نہیں۔ اور انجام اس کا جہنم اور حلال میں گو وہ قلیل ہو برکت ہوتی ہے اور انجام اس کا رضائے حق۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ الٰہی ہدایات کے مطابق کمایا ہوا مال ہی بہتر ہے ۔ 110 شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو ! حرام ذرائع کو چھوڑ کر حلال ذرائع سے جو مالی منفعت تمہارے لئے باقی بچے وہی تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم ایماندار ہو ، میں تم پر داروغہ تو نہیں ہوں کہ تمہارے افعال کی نگہداشت کرتا پھروں میں تو اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں اور پیغام پہنچانا میرا کام ہے ، وہ میں نے پہنچا دیا ہے اور جب تک ہوں پہنچاتا رہوں گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Then, affectionately, he explained to them: بَقِيَّتُ اللَّـهِ خَيْرٌ‌ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ۚ وَمَا أَنَا عَلَيْكُم بِحَفِيظٍ Whatever is left { with you ] by Allah is better for you, if you are believers. And I am not a watchman over you - 86.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

95. Shu'ayb (peace be on him) made it clear to his people that he had no power to compel them to adopt one kind of behaviour or another. His task was merely that of a sincere adviser. All he could do was to admonish and warn them. It was up to them either to pay heed to that advice or to disregard it. What really mattered was that one day all human beings will be mustered by God to render an account of their deeds. It is this - the rendering of an account before God - that people should truly fear. It matters little whether they care for Shu'ayb or not. What really matters is whether they…

Read the full tafseer →