Explained with ayahs 85–86
ناپ تول میں انصاف کرو۔
پہلے تو اپنی قوم کو ناپ تول کی کمی سے روکا۔ اب لین دین کے دونوں وقت عدل و انصاف کے ساتھ پورے پورے ناپ تول کا حکم دیتے ہیں۔ اور زمین میں فساد اور تباہ کاری کرنے کو منع کرتے ہیں۔ ان میں رہزنی اور ڈاکے مارنے کی بد خصلت بھی تھی۔ لوگوں کے حق مار کر نفع اٹھانے سے اللہ کا دیا ہوا نفع بہت بہتر ہے۔ اللہ کی یہ وصیت تمہارے لیے خیریت لیے ہوئے ہے۔ عذاب سے جیسے ہلاکت ہوتی ہے اس کے مقابلے میں رحمت سے برکت ہوتی ہے۔ ٹھیک تول کر پورے ناپ کر حلال سے جو نفع ملے اسی میں برکت ہوتی ہے۔ خبیث و طیب میں کیا مساوات ؟ دیکھو میں تمہیں ہر وقت دیکھ نہیں رہا۔ تمہیں برائیوں کا ترک اور نیکیوں کا فعل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
سورة هُوْد 94
سورۂ اعراف رکوع 11 کے حواشی پیشِ نظر رہیں۔
Read the full tafseer →اور اگرچہ ناپ تول کی کمی کو منع کرنے سے پورا ناپنا تولنا خود ہی ضروری ہوجاتا ہے لیکن مزید تاکید کے لئے شعیب ؑ نے فرمایا، (آیت) وَيٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيْزَان بالْقِسْطِ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَاۗءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ ، یعنی اے میری قوم تم ناپ اور تول کو انصاف کے ساتھ پورا کیا کرو اور لوگوں کی چیزوں کو کم نہ کرو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو، پھر ان کو شفقت کے ساتھ سمجھایا۔
Read the full tafseer →وَيٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيْزَانَ بِالْقِسْطِ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَاۗءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ۔
حضرت شعیب کی دعوت اصلاح : قسط کے معنی عدل و انصاف کے ہیں۔ یعنی ناپ ہو یا تول دونوں میں پورے پورے عدل و انصاف کو مدنظر رکھو۔ ولا تبخسوا الناس اشیاء ھم۔ اور لوگوں کے ساتھ ان کی چیزوں کی ناپ تول میں کوئی ناانصافی اور کمی نہ کرو۔ ولا تعثوا فی الارض مفسدین۔ یعنی زمین میں بڑھو تو خیر و صلاح اور عدل و قسط کے حامل اور علم بردار بن کر بڑھو۔ اس کے عدل و قسط کو درہم برہم کرنے والے اور اس میں فساد برپا کرنے والے بن کر نہ بڑھو۔ اس طرح کے بڑھنے کو اس زمین کا خالق…
Read the full tafseer →85۔ 1 انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت دو اہم بنیادوں پر مشتمل ہوتی ہے 1۔ حقوق اللہ کی ادائیگی 2، حقوق العباد کی ادائیگی۔ اول الذکر کی طرف لفظ (اَعْبُدُو اللّٰہَ) اور آخر الذکر کی جانب (وَلَا تَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيْزَانَ) 11۔ ہود :84) سے اشارہ کیا گیا اور اب تاکید کے طور پر انھیں انصاف کے ساتھ پورا پورا ناپ تول کا حکم دیا جا رہا ہے اور لوگوں کو چیزیں کم کر کے دینے سے منع کیا جا رہا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ بھی ایک بہت بڑا جرم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک پوری سورت میں اس جرم کی شناعت و قباحت اور اس کی اخروی سزا بیان فرمائی ہے۔ (وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ ۙ الَّذِيْنَ اِذَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
52: قرآن کریم نے یہاں جو الفاظ استعمال فرمائے ہیں وہ بڑے جامع ہیں، اور ان میں ہر قسم کے حقوق داخل ہوجاتے ہی، مطلب یہ ہے کہ جب تم پر کسی بھی شخص کا کوئی حق واجب ہو تو اس میں ڈنڈی مار کر یا تاویلا کر کے اسے کم کرنے کی کوشش نہ کرو۔ بلکہ ہر حق دار کو اس کا حق پورا پورا ادا کرو۔
53: جیسا کہ سورة اعراف میں عرض کیا گیا تھا اس قوم کے بعض افراد راستوں پر چوکیاں لگا کر بیٹھ جاتے اور مسافروں سے زبردستی ٹیکس وصول کرتے تھے، اور بعض لوگ مسافروں پر ڈاکا ڈالا کرتے تھے۔ اس فقرے میں ان کی اسی بد عنوانی کی طرف اشارہ ہ۔
Read the full tafseer →وَيَا قَوْمِ أَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ (85 : 11) “ اور اے برادران قوم ، ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ پوارا ناپو اور تولو ”۔ یہاں یہ کہا کہ ناپ اور تول پورا پورا کرو ، یعنی کم ناپ تول کے مقابلے میں پورا ناپنے اور تولنے کے معنی یہ ہیں کہ وہ پورے سے بھی دقرے زیادہ ہو۔ چناچہ اس انداز تعبیر یعنی
أَوْفُوا الْمِكْيَالَ (85 : 11) کے اندر وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِکْیَالَ (84 : 11) کے مقابلے میں زیادہ خوبصورتی ہے۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ زیادتی کی طرف مائل ناپ و تول کی راہ لو۔
وَلا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ (85 : 11) “ اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھاٹا نہ دیا کرو۔ ” یہ فقرہ ناپ…
Read the full tafseer →7 یعنی اب تک جو ظلم وعدوان کا معیارو قانون تھا، اس کی اصلاح کرو۔
8 یعنی صرف ناپ تول میں نہیں بلکہ کسی چیز میں بھی لوگوں کے حقوق تلف مت کرو۔
9 یعنی شرک و کفر سے یا کم ناپنے تولنے سے یا دوسری طرح اتلاف حقوق اور ظلم و ستم کر کے زمین میں فساد مت مچاؤ۔ کہتے ہیں وہ لوگ ڈکیتی ڈالتے تھے اور امانت میں خیانت کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
آیت 84 وَاِلٰي مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا
اس قوم کے بارے میں ہم سورة الاعراف کے مطالعہ کے دوران پڑھ چکے ہیں کہ یہ لوگ بنی قطورہ میں سے تھے اور خلیج عقبہ کے دا ہنی مشرقی طرف کے علاقہ میں آباد تھے۔ اس علاقہ میں یہ لوگ ایک بڑی مضبوط قوم بن کر ابھرے تھے۔ یہ علاقہ اس وقت کی دو بہت اہم بین الاقوامی شاہراہوں کے مقام انقطاع intersection پر واقع تھا۔ ایک شاہراہ شمالاً جنوباً تھی جو شام سے یمن جاتی تھی اور دوسری شرقاً غرباً تھی جو عراق سے مصر کو جاتی تھی۔ چناچہ تمام تجارتی قافلے یہیں سے گزرتے تھے جس کی وجہ سے یہ علاقہ اس زمانے کا بہت بڑا تجارتی مرکز بن گیا تھا۔ نتیجتاً یہاں کے لوگ بہت خوشحال ہوگئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
95 شرک ام الامراض ہے :۔ سیدنا شعیب کا قصہ بھی سورة اعراف کی آیت نمبر 84 تا 95 میں گذر چکا ہے لہذا وہ حواشی بھی پیش نظر رکھنے چاہئیں۔
شرک ایسی بیماری ہے جو تقریباً ہر قوم میں پائی جاتی ہے اور بالخصوص ان اقوام میں ضرور موجود تھی جن کی طرف انبیاء مبعوث ہوتے رہے باقی تمام اخلاقی اور معاشرتی بیماریاں اور برائیاں اسی شرک سے ہی پھوٹتی ہیں گویا جس طرح جسمانی بیماریوں میں قبض کو ام الامراض قرار دیا گیا ہے اسی طرح روحانی بیماریوں میں شرک ام الامراض ہے۔
شرک سے اجتناب اور توحید کے عقیدہ سے معاشرہ کی اصلاح کیسے ہوتی ہے ؟ یہی وجہ ہے کہ تمام انبیاء کی دعوت کا پہلا ہدف یہی مرض رہا ہے انبیاء شرک کی تردید کے…
Read the full tafseer →126۔ قرآن مجید نے یہاں صاف صاف بتا دیا کہ تجارتی خیانتوں اور مالی معاملات میں بد دیانتی کا نتیجہ معاشرہ کی درہمی برہمی اور ملک وقوم کے حق میں عدم توازن کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اور اس سب کے لیے قرآن مجید کی ایک جامع اصطلاح فساد فی الارض کی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–95
آیت نمبر 84 تا 95
ترجمہ : اور ہم نے اہل مدین کی جانب ان کے بھائی شعیب کو بھیجا انہوں نے کہا میرے برادران قوم اللہ کی بندگی کرو یعنی اس کو ایک سمجھو، اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں، اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو، میں تم کو خوش حالی میں دیکھ رہا ہوں جس کی وجہ سے تم کو تولنے اور کم ناپنے سے مستغنی ہو، اگر تم ایمان نہ لائے تو مجھے تمہارے بارے میں تم کو گھیرنے والے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے جو تم کو ہلاک کر دے گا، اور یوم کی صفت محیط مجاز ہے عذاب کے اس میں واقع ہونے کی وجہ سے، اور اے میرے برادران قوم تم انصاف کے ساتھ پورا پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں نقصان نہ پہنچاؤ، (یعنی)…
Read the full tafseer →ویقوم اوفوا المکیال والمیزان اور اے میری قوم ! ناپ تول پوری پوری کیا کرو۔ پہلے ناپ تول میں کمی کرنے کی ممانعت تھی (جس سے ضمناً پورا ناپ تولنے کا حکم معلوم ہوگیا) پھر زور دینے کے لئے اس جملہ میں صراحۃً پورا ناپنے تولنے کا حکم دیا۔ اس صریح حکم سے اس امر پر بھی تنبیہ ہوگئی کہ قصداً ناپ تول میں کمی سے اجتناب کرنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ پورا پورا دینے کی کوشش کرنا بھی ضروری ہے۔ اگرچہ کچھ زیادہ ہی دینا پڑے ‘ جس کے بغیر پورا پورا ادا کرنا مقصود نہ ہو۔ اسی لئے امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا کہ اگر کوئی پیمائشی یا وزنی چیز کسی نے ناپ تول کر خریدی ہو اور بائع نے ناپ تول کردی ہو تو جب تک خریدار خود دوبارہ…
Read the full tafseer →(85) اور اے میری قوم تم ناپ تول پورا پورا کیا کرو اور ناپ تول میں لوگوں کے حقوق مت مارا کرو اور زمین میں فساد کرتے ہوئے اور بتوں کی پوجا کرتے ہوئے اور لوگوں کی دعوت دیتے ہوئے اور ناپ تول میں کمی کرتے ہوئے توحید و عدل کی حد سے مت نکلو۔
Read the full tafseer →وَيٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيْزَان بالْقِسْطِ : پہلے فرمایا کہ ماپ اور تول میں کمی نہ کرو، اب اس کی مزید تاکید فرمائی کہ ماپ اور تول پورا کرو، نہ دیتے وقت کم دو ، نہ لیتے وقت زیادہ لو۔ مزید دیکھیے سورة مطففین (1 تا 3)۔
وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَاۗءَهُمْ : پہلے ماپ تول کا خاص طور پر ذکر فرمایا، اب لینے دینے کے ہر طریقے کو ان الفاظ کے ذریعے سے شامل کرلیا، مثلاً کسی بھی طرح کے میٹروں کے ذریعے، یا گننے کے ذریعے، غرض کسی بھی طرح لوگوں کو ان کی چیز کم مت دو ، نہ زیادہ لو۔
وَلَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ : ”عَثِیَ یَعْثٰی“ بروزن ”رَضِیَ یَرْضٰی“ حد سے بڑھ کر فساد کرنا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–95
آیت نمبر 84 تا 95
اللہ تعالیٰ کا ارشاد والیٰ مدین اخاھم شعیبا یعنی وارسلناإلی مدینہم نے مدین کی طرف بھیجا، مدین حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم ہے۔ ان کی وجہ تسمیہ کے متعلق دو قول ہیں : ایک قول یہ ہے کہ وہ مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں۔ مدین کہا گیا ہے جب کہ مراد بنو مدین ہیں۔ جس طرح مضر کہا جاتا ہے اور مراد بنومضر ہوتے ہیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ان کے شہر کا نام ہے اس لیے اس کی طرف ان کو منسوب کردیا گیا۔ نحاس نے کہا : مدین غیر منصرف ہئ، کیونکہ یہ شہر کا نام ہے، سورة اعراف میں یہ معنی گزرچکا ہے اور کچھ اس سے زیادہ بھی۔ قال یٰقوم اعبدوا اللہ مالکم من الٰہٍ غیرہ (اس کی تفسیر) گزر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
قوم شعیب (علیہ السلام) کا ذکر :
1:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انی ارکم بخیر “ سے مراد اشیاء کی قیمتوں کا سستا ہونا۔ (اور فرمایا) (آیت) ” وانی اخاف علیکم عذاب یوم محیط “ سے مراد ہے کہ قیمتوں کا چڑھنا اور مہنگا ہونا ہے (یعنی میں ڈرتا ہوں تم پر اس دن سے جبکہ قمیتیں چڑھ جائیں اور بھاؤ مہنگا ہوجائے۔
2:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” بقیت اللہ “ یعنی اللہ کا رزق۔
3:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” بقیت اللہ خیر لکم “ یعنی تمہارا حصہ تمہارے رب کی طرف سے بہتر ہے تمہارے…
Read the full tafseer →[وَيٰقَوْمِ : اور اے میری قوم ] [ اَوْفُوا : تم لوگ پورا بھرو ] [الْمِكْيَالَ : پیمانے کو ] [وَالْمِيْزَان : اور ترازو کو ] [بِالْقِسْطِ : انصاف سے ] [وَلَا تَبْخَسُوا : اور حق سے کم مت دو ] [ النَاسَ : لوگوں کو ] [اَشْيَاۗءَهُمْ : ان کی چیزیں ] [وَلَا تَعْثَوْا : اور انتشار مت پھیلائو ] [فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ مُفْسِدِيْنَ : نظم بگاڑنے والے ہوتے ہوئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–87
مدین والوں کو حضرت شعیب (علیہ السلام) کا تبلیغ فرمانا اور ان لوگوں کا الٹے جواب دینا اور استہزاء کرنا
حضرت شعیب (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اصحاب مدین اور اصحاب ایکہ کی طرف مبعوث فرمایا تھا اصحاب ایکہ کا ذکر سورة الشعرا (ع 10) میں ہے اور سورة اعراف (ع 11) میں اور یہاں سورة ہود میں اور سورة عنکبوت (ع 4) میں اصحاب مدین کا ذکر ہے۔
یہ لوگ بھی مشرک تھے غیر اللہ کی عبادت کرتے تھے اور لوگوں کو جو مال بیچتے تھے تو ناپ تول میں کمی کرتے تھے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو تبلیغ کی اور ان سے فرمایا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو ‘ اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں ہے ‘ نیز یہ بھی فرمایا کہ لوگوں کو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–95
قصہ شعیب (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ والی مدین اخاھم شعیبا .... الیٰ .... الا بعدا لمدین کما بعدت ثمود۔
(ربط) یہ چھٹا قصہ شعیب (علیہ السلام) کا ہے جو خطیب الانبیاء کے لقب سے معروف ہیں اور مدین کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ یہ لوگ بڑے سرمایہ دار تھے انکا مذہب یہ تھا کہ ہم اپنے مالوں کے تصرف میں آزاد اور مختار ہیں ( جیسا کہ آج کل کے سرمایہ دار کہتے ہیں) جس طرح چاہیں ان میں تصرف کریں حضرت شعیب (علیہ السلام) یہ فرماتے تھے کہ یہ اموال اگرچہ تمہارے مملوک ہیں مگر تمہاری ملکیت مالک حقیقی کی ملکیت اور اس کے حکم کے ماتحت ہے۔ امانت اور دیانت کے ساتھ اور صحیح کمیل اور وزن کے ساتھ تم اس میں تصرف کرسکتے ہو یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
74:۔ یہ چھٹا قصہ ہے اور پہلے دعوے سے متعلق ہے۔ پہلا دعویٰ چونکہ مقصودی ہے اس لیے اس پر شاہد کا اعادہ کیا گیا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے سب سے پہلے اپنی قوم کو یہ پیغام دیا۔ یٰقَوْمِ اعْبُدُوْا اللہ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرهٗ اے میری قوم ! صرف اللہ کی عبادت کرو اور صرف اسی کو پکارو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود اور کارساز نہیں۔ اس کے بعد ان کی دوسری کوتاہیوں سے ان کو منع کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
ربط آیات
اس سورة مبارکہ میں تاریخ انبیاء (علیہم السلام) کے ضمن میں حضرات نوح ، ہود ، صالح اور لوط (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کا حال بیان ہوچکا ہے اس بات کا تذکرہ بھی ہوچکا ہے کہ اللہ کے نبیوں نے حق تبلیغ ادا کرنے اور اپنی اپنی قوموں کو سمجھانے میں کتنی محنت اور کوشش کی اور پھر ان قوموں کا ردعمل کیا ہوا اور وہ کس طریقے سے درد ناک عذاب میں مبتلا ہو کر ہلاک ہوئے۔ اب اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر حضرت شعی (علیہ السلام) کا ذکر ہو رہا ہے۔ آپ کا ذکر اس سورة مبارکہ کے علاوہ سورة اعراف میں بھی بیان ہوچکا ہے۔ سورة شعراء اور بعض دوسری سورتوں میں بھی آپ کے واقعات بیان ہوئے ہیں۔
حضرت شعیب (علیہ…
Read the full tafseer →وَيٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيْزَانَ بِالْقِسْطِ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْـيَاۗءَہُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ 85
قسط
الْقِسْطُ : هو النّصيب بالعدل کالنّصف والنّصفة . قال تعالی: لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ بِالْقِسْطِ [يونس/ 4] ، وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ [ الرحمن/ 9] والقِسْطُ : هو أن يأخذ قسط غيره، وذلک جور، والْإِقْسَاطُ : أن يعطي قسط غيره، وذلک إنصاف، ولذلک قيل : قَسَطَ الرّجل : إذا جار، وأَقْسَطَ : إذا عدل . قال : أَمَّا الْقاسِطُونَ فَكانُوا لِجَهَنَّمَ حَطَباً
[ الجن/ 15] وقال : وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–93
تفسیر : اس کے بعد پانچواں واقعہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا بیان فرماتا ہے جو اہل مدین کی طرف رسول بنا کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد میں بھیجے گئے تھے۔ اس قوم کی عادت بت پرستی اور بدکاری کے علاوہ کم تولنا ‘ خیانت ‘ دغابازی کرنے کی بھی تھی جس کو وہ اپنے مال میں تصرف جائز سمجھ کر طعن کی راہ سے کہتے تھے کہ ایک آپ ہی تو بڑے اچھے شخص ہیں اور ان کی نماز پر طعن کرکے کہتے تھے کہ کیا آپ کی نماز ہم کو بت پرستی سے منع کرتی ہے ؟ باقی قصہ صاف ہے۔ یہ مدین وہی جگہ ہے کہ جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون سے بھاگ کر آئے تھے اور یہ وہی شعیب (علیہ السلام) ہیں کہ جن کی ایک صاحبزادی سے آپ کی شادی ہوئی تھی۔…
Read the full tafseer →وَیٰـقَوْمِ اَوْفُوا الْمِکْیَالَ وَالْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ ولاَ تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآئَ ھُمْ وَلاَ تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ ۔ (سورۃ ہود : 85)
(اور اے میری قوم پورا کیا کرو ناپ اور تول کو انصاف کے ساتھ، اور نہ گھٹا کردیا کرو لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ پھر و زمین میں فساد برپا کرتے ہوئے۔ )
سابقہ آیت کا مضمون ایک دوسرے پہلو سے
وہ بات جو پہلی آیت میں کہی گئی ہے اسے دوسرے پہلو سے ارشاد فرمایا جارہا ہے۔ پہلے صرف ناپ تول میں کمی سے روکا گیا، اب یہ فرمایا جارہا ہے کہ زندگی کی اصل ضرورت قسط کا قائم کرنا ہے۔ اس کی ضرورت صرف ناپ تول میں نہیں، زندگی کے ہر شعبے میں ہے۔ جہاں کہیں قسط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
فہم القرآن
ربط کلام : قوم لوط کے انجام کے بعد قوم صالح کے کردار اور انجام کا ذکر۔
قوم مدین کی طرف انہیں میں سے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو پیغمبر منتخب کیا گیا اور حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی دعوت کا آغاز اسی بات سے کیا جس کی دعوت ان سے پہلے انبیاء دیتے آرہے تھے۔ چناچہ انہوں نے فرمایا کہ اے میری قوم صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا کوئی تمہارا الٰہ نہیں۔ قرآن مجید میں الٰہ کے کئی معانی ہیں۔ جن میں سب سے پہلا معنی ہے کہ وہ ہستی جس کی والہانہ طور پر بندگی کی جائے۔ انتہائی مشکل کے وقت صرف اس کو پکارا جائے اور اس کے سوا کسی کو مشکل کشا اور حاجت روا تسلیم نہ کیا جائے۔ ( سورة النحل : 2 تا…
Read the full tafseer →ایک معاشرتی مرض :
85: وَیٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِکْیَالَ وَالْمِیْزَانَ (اے میری قوم تم ماپ تول اور وزن کو پورا کرو) پوراکر کے دو بِالْقِسْطِ (انصاف سے) عدل کے ساتھ
نکتہ : پہلے انہیں اس قباحت سے بچنے کا حکم دیا جس میں وہ مبتلا تھے۔ ماپ تول میں ڈنڈی مارنا پھر اس کو جو عقل میں بھی خوب ہے پورا کرنے کا حکم دیا۔ تاکہ اسکی طرف ان کی رغبت بڑھے اسی لئے بالقسط کے لفظ کا اضافہ کیا کہ تمہیں انصاف کے ساتھ برابر تول، ماپ کردینا چاہیئے کہ نہ کمی رہے نہ زیادتی ہو۔
وَلَاتَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآ ئَ ھُمْ (لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے نہ دو ) البخسؔ۔ کمی کو کہتے ہیں۔ وہ جو چیزیں خریدتے ان کی چیزوں میں کمی…
Read the full tafseer →85” ویاقوم اوفوا المکیال والمیزان “ ان کو پورا کرو ” بالقسط “ انصاف کے ساتھ میزان ترازو کی زبان برابر کر دو ، ” ولا تبخسوا “ تم نہ کم کرو ” الناس اشیاء ھم ولا تعثوا فی الارض مفسدین “۔
Read the full tafseer →85۔ جمہور مفسرین کا قول ہے کہ اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ ایک ہی امت کا نام ہے اور اسی ایک امت کے حضرت شعیب (علیہ السلام) نبی تھے لیکن فقط قتادہ اور عکرمہ کا یہ قول ہے کہ اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ جدا جدا دو امتیں ہیں اور حضرت شعیب (علیہ السلام) دو امتوں کے نبی ہوئے ہیں جمہور مفسرین نے اس قول پر طرح طرح سے اعتراض کیا ہے۔ اس سورت اور سورت شعراء کے قصہ کو ملا کر دیکھا جاتا ہے تو کم تولنے اور قراقی کی اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ کی ایک ہی سی بد عادتیں اللہ تعالیٰ نے دونوں سورتوں میں ذکر فرمائی ہیں جس سے اسی قول کی تائید ہوتی ہے کہ دونوں سورتوں میں ایک ہی امت کا ذکر ہے یہ قصہ سورت قصص میں آوے…
Read the full tafseer →(آیت) ” اے میری قوم ! پورا کرو ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ “ یعنی عدل و انصاف کے ساتھ، جو تم چاہتے ہو کہ تمہیں بھی اسی طرح دیا جائے۔ (آیت) ” اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔ “ یعنی لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور ناپ اور تول میں کمی کرکے لوگوں کی چیزیں چوری نہ کرو۔ (آیت) ” اور زمین میں فساد مت مچاؤ “ کیونکہ گناہوں پر اصرار، دیان و عقائد اور دین و دنیا کو خراب اور کھیتیوں اور نسلوں کو تباہ کردیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–86
قوم لوط کی تباہی کا حکم
قول باری ہے فلما ذھب عن ابراہیم الروح و جاء تہ البشری یجادلنا فی قوم لوط ۔ پھر جب ابراہیم کی گھبراہٹ دورہو گئی اور اولاد کی بشارت سے اس کا دل خوش ہوگیا تو اس نے قوط لوط کے معاملہ میں ہم سے جھگڑا شروع کیا ۔ یعنی جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے خوف دور ہوگیا تو وہ فرشتوں سے یہ سن کر کہ انہیں قوم لوط کر ہلاک کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے ، ا ن سے جھگڑنے لگے ، اس موقعہ پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرشتوں سے فرمایا کہ تم قوط لوط کو کیسے ہلاک کرو گے جبکہ وہاں لوط (علیہ السلام) بھی موجود ہیں ؟ فرشتوں نے جواب میں کہا کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہیں ۔ ہم انہیں…
Read the full tafseer →171 ۔ لوگوں کی چیزوں کو کم کرنے کی ممانعت : سو حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے فرمایا کہ تم لوگ ناپ تول کو پورا کرو انصاف کے ساتھ اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کرکے نہ دو ۔ یعنی ان کے حقوق خواہ وہ حسی ہوں یا معنوی۔ افراد کے ہوں یا گروہوں، قوموں اور نسلوں کے (المراغی، الصفوۃ وغیرہ) ۔ سو جس کا جو حق بنتا ہو وہ اس کو پورا پورا ادا کرو خواہ اس کا تعلق کیل سے ہو یا وزن سے یا عدد سے یا کسی اور اعتبار سے (اشیاءھم) کا عموم ان سب ہی صورتوں اور شکلوں کو عام اور شامل ہے۔ اور دوسروں کے حقوق کی ادائیگی دینی تعلیم کا ایک نہایت ہی اہم حصہ ہے۔ وباللہ التوفیق۔ قسط کے معنی عدل و انصاف کے ہیں۔ سو حضرت شعیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–95
سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کی گمراہی اور عذاب
تشریح : یہاں قوم مدین کا حال بیان کیا جا رہا ہے۔ یہ قوم مدین اور اس کے نواحی علاقوں میں آباد تھی۔ بحر احمر کا وہ مقام جہاں جزیرہ نمائے عرب کی دو تجارتی شاہراہیں آکر ملتی تھیں یمن و شام اور عراق و مصر کے قافلے یہیں سے گزرتے تھے، یعنی مدین بہت بڑی تجارتی منڈی تھی اسی لیے وہاں کے لوگ بڑے آسودہ حال تھے۔ مگر ان میں بت پرستی، عیش پرستی اور ناپ تول میں بددیانتی کی عادت حد سے بڑھ چکی تھی اور اس حرام خوری کی وجہ سے ان میں تمام اخلاقی برائیاں، اللہ سے دوری اور حرص و لالچ پیدا ہوچکا تھا دیکھا جائے تو مال کی حرص بہت سی اخلاقی برائیوں کی جڑ ہے یہی حال ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–95
آیات 84 تا 95
اسرار و معارف
شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا حال بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے کہ مدین جو ملک شام کا مشہور شہر تھا اس کے رہنے والوں کی طرف ان ہی میں سے شعیب (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ یہ لوگ شجرپرستی میں مبتلا تھے اور مختلف درختوں کی پوجا کرتے تھے جیسے ہندومت میں آج بھی یہ بات پائی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ان کا لین دین بھی ہندؤوں جیسا تھا ڈنڈی مارنے سے نہ چوکتے ناپ تول میں کمی کردیتے ۔ سونے کے سکوں میں سے تھوڑابہت سونا کاٹ لیتے اور سکہ پوری قیمت پر چلتا کردیتے۔
ناپ تول میں کمی
چنانچہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے توحید کی دعوت دی اور فرمایا اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ لہٰذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
ف 3 ۔ نقل ہے کہ امانت کا روپیہ۔۔ لیتے تھے۔ (موضح) ۔ ابن کثیر میں ہے وہ لوگ ڈاکتے ڈالتے تھے۔
4 ۔ یعنی تم پر نگران تو نہیں ہوں جو ہر وقت تمہاری ناپ تول کو دیکھتا رہوں میرا کام تو تمہیں سمجھا دینا اور خدا کے عذاب سے ڈرا دینا ہے۔ ماننا نہ ماننا تمہارا کام ہے۔
Read the full tafseer →(11:85) اوفوا۔ ایفاء (افعال) اوفی یوفی ایفائ۔ وفی (لفیف مفروق) فعل امر جمع مذکر حاضر۔ تم پورا کرو۔ ولا تبخسوا۔ فعل نہی۔ جمع مذکر حاضر۔ تم کم نہ دو ۔ بخس سے باب فتح۔
ولا تعثوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ تم فساد نہ کرو۔ العیث والعثی۔ سخت فساد پیدا کرنا۔ جس فساد کا ادراک حسی ہو عیث وعثو کہلاتا ہے اور جس فساد کا ادراک حکمی ہوا سے عشی کہتے ہیں۔ عیث وعثو۔ باب نصر کے مصدر ہیں اور عثی وعثی (باب سمع) کے۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں بھی آیا ہے ولا تعثوا فی الارض مفسدین (2:160) اور ملک میں فساد اور انتشار مت پیدا کرو
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
لغات القرآن آیت نمبر 84 تا 88
لاتنقصوا (تم کمی نہ کرو) المکیال (ماپ) المیزان (تول) انی اری (بےشک میں دیکھ رہا ہوں) بخیر (خیر سے، بھلائی سے، اچھا حال) یوم محیط (گھیر لینے والا دن ) القسط (انصاف، برابری) لاتبخسوا (نہ گھٹائو، کمی نہ کرو) اشیاء (چیزیں) لاتعثوا (تم نہ پھرو، نہ گھومو) بقیت اللہ (اللہ کا بچایا ہوا) حفیظ (نگہبان، نگران) تامرک (تجھے حکم دیتی ہے) ان نترک (یہ کہ ہم چھوڑ دیں) ان نفعل (یہ کہ ہم کریں) نشآء (ہم چاہیں) رزقنی (اس نے مجھے دیا) انھی (میں منع کرتا ہوں، روتکا ہوں) ارید (میں چاہتا ہوں) استطعت (میں طاقت رکھتا ہوں) توفیق (عطاء، توفیق) توکلت (میں نے بھروسہ کرلیا) انیب (میں لوٹتا…
Read the full tafseer →اس آیت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ بھی حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی امت کو نصیحت کی تھی کہ تم لوگوں کے زمانہ سے تھوڑے ہی زمانہ پہلے قوم لوط (علیہ السلام) کے لوگ عذاب الہی میں گرفتار ہوچکے ہیں۔ سرکشی کروگے تو تم لوگ بھی عذاب الہی میں گرفتار ہوجاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–87
[47] ان کا ذکر سورة اعراف رکوع 11 آیت 85 تا 93 (صفحہ 352 تا 354) میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
(ف 1) حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم تجارت سے شغف رکھنے والی قوم تھی ، مگر کم تولنے کی بد عادت میں مبتلا تھی ، اس لئے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے انہیں اس برے فعل سے روکا ، اور کہا ، کہ اللہ کی عبادت کے ساتھ معاملات میں بھی منصف اور عادل بننے کی کوشش کرو ، کیونکہ مذہب کا تعلق صرف عقائد سے نہیں ، بلکہ اس کو معاملات میں بھی اصلاحی ہدایات پیش کرنا لازم ہے ، وہ عقیدے اور عبادتیں جو برائیوں سے نہیں روکتیں تمہیں بتاؤ ان کی کیا قیمت ہے ؟ مذہب زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھتا ہے ۔
Read the full tafseer →85 اور اے میری قوم تم انصاف کے ساتھ ماپ اور تول کو پورا کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں نقصان نہ پہونچایا کرو اور نقصان مت دیا کرو اور زمین میں فساد نہ برپا کرتے پھرو یعنی شرک و کفر کرکے اور لوگوں کو نقصان پہنچا کر توحید اور عدل کی حدود سے تجاوز نہ کرو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں نقل ہے کہ امانت کے روپے کتر لیتے 12 کہتے ہیں کہ امانت میں خیانت اور رہرنی وغیرہ بھی کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
ف 2۔ پھر تم کو ناپ تول میں کمی کرنے کی کیا ضرورت تھی۔
Read the full tafseer →اے میری قوم کے لوگو ! لوگوں کی چیزوں میں کھوٹ نہ ملایا کرو اور نہ ہی کم دیا کرو
۔ 109 جس طرح ہر قوم کی بیماریوں مختلف تھیں شعیب (علیہ السلام) کی قوم کی بھی کچھ مخصوص بیماریاں تھیں۔ آپ کی قوم مدین اور اس کے نواحی علاقہ میں آباد تھی یہ شہر بحر احمر کے اس مقام پر آباد تھا۔ جہاں جزیرئہ نمائے عرب کی دو تجارتی شاہراہیں آ کر ملتی تھیں۔ یمن و شام اور عراق و مصر کے قافلے یہیں سے گزرتے تھے۔ آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مدین کتنی بڑی تجارتی منڈی تھی اور وہاں کاروبار کا کیا حال ہوگا اور وہاں کے باشندے کتنے آسودہ حال ہوں گے۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ ہر قوم اپنے مخصوص حالات اور ماحول کی وجہ سے مخصوص…
Read the full tafseer →Obviously, the very prohibition of weighing and measuring short makes weighing and measuring in full necessary. But, to emphasize it further, Sayyidna Shu'aib علیہ السلام said:
وَيَا قَوْمِ أَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ ۖ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ
And 0 my people, perfect the measure and the balance with justice and do not make the people short of their things, and do not go about the earth spreading disorder - 85.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
94. For details see Towards Understanding the Qur'an, vol. Ill, al-A'raf, nn. 69-75, pp. 53-7.
Read the full tafseer →