اہل مدین کی جانب حضرت شعیب کی آمد
عرب کا قبیلہ جو حجاز و شام کے درمیان معان کے قریب رہتا تھا ان کے شہروں کا نام اور خود ان کا نام بھی مدین تھا۔ ان کی جانب اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت شعیب ؑ بھیجے گئے۔ آپ ان میں شریف النسب اور اعلی خاندان کے تھے اور انہیں میں سے تھے۔ اسی لیے اخاہم کے لفظ سے بیان کیا یعنی ان کے بھائی آپ نے بھی انبیاء کی عادت اور سنت اور اللہ کے پہلے اور تاکیدی حکم کے مطابق اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کرنے کا حکم دیا۔ ساتھ ہی ناپ تول کی کمی سے روکا کہ کسی کا حق نہ مارو۔ اور اللہ کا یہ احسان یاد لایا کہ اس نے تمہیں فارغ البال اور آسودہ حال کر رکھا ہے۔ اور اپنا ڈر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
سورة هُوْد 94
سورۂ اعراف رکوع 11 کے حواشی پیشِ نظر رہیں۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور ہم نے مدین (والوں) کی طرف ان کے بھائی شعیب ؑ کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا انہوں نے (اہل مدین سے) فرمایا کہ اے میری قوم تم (صرف) اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود (بننے کے قابل) نہیں (یہ حکم تو دیانات و عقائد کے متعلق ان کے مناسب حال تھا) اور (دوسرا حکم معاملات کے متعلق ان کے مناسب یہ فرمایا کہ) تم ناپ تول میں کمی مت کیا کرو (کیونکہ) میں تم کو فراغت کی حالت میں دیکھتا ہوں (پھر تم کو ناپ تول میں کمی کرنے کی کیا ضرورت پڑی ہے اور حقیقۃً تو کسی کو بھی ضروت نہیں ہوتی) اور (علاوہ اس کے کہ ناپ تول میں کمی نہ کرنا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا تقاضا ہے خود خوف ضرر بھی اس کو…
Read the full tafseer →وَاِلٰي مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا ۭ قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ ۭ وَلَا تَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيْزَانَ اِنِّىْٓ اَرٰىكُمْ بِخَيْرٍ وَّاِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ مُّحِيْطٍ۔
قوم شعیب کے فساد کی نوعیت : اس امر کی وضاحت اوپر ہوچکی ہے کہ ہر قوم کے اندر انہی میں انہی کے ایک بھائی کو رسول بنا کر مبعوث کرنے میں، اتمام حجت کے نقطہ نظر سے کیا مصلحت ہے ؟ اور یہ حقیقت بھی اچھی طرح واضح ہوچکی ہے کہ توحید کو تمام انبیاء کی دعوت میں مرکز ثقل اور محوری نقطہ کی حیثیت حاصل ہے۔ اس سے انحراف تمام انحرافات کے دروازے کھولتا ہے اور اسی کی طرف باز گشت…
Read the full tafseer →84۔ 1 مدین کی تحقیق کے لئے دیکھئے سورة الا عراف، آیت 85 کا حاشیہ۔
84۔ 2 توحید کی دعوت دینے کے بعد اس قوم میں جو نمایاں اخلاقی خرابی۔ ناپ تول میں کمی کی تھی اس سے انھیں منع فرمایا۔ ان کا معمول بن چکا تھا جب ان کے پاس فروخت کندہ (بائع) اپنی چیز لے کر آتا تو اس سے ناپ اور تول میں زائد چیز لیتے اور جب خریدار (مشتری) کو کوئی چیز فروخت کرتے تو ناپ میں بھی کمی کر کے دیتے اور تول میں ڈنڈی مار لیتے۔
84۔ 3 یہ اس منع کرنے کی علت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ تم پر اپنا فضل کر رہا ہے اور اس نے تمہیں آسودگی اور مال و دولت سے نوازا ہے تو پھر تم یہ قبیح حرکت کیوں کرتے ہو۔
84۔ 4 یہ دوسری علت ہے کہ اگر تم اپنی اس حرکت…
Read the full tafseer →50: مدین اور حضرت شعیب ؑ کے مختصر تعارف کے لیے سورة اعراف (85:7) کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے
51: مدین کا علاقہ بڑا زرخیز تھا، اور یہاں کے لوگ بحیثیت مجموعی خوش حالی کی زندگی بسر کرتے تھے۔ حضرت شعیب ؑ نے ان کی خوشحالی کا دو وجہ سے خاص طور پر ذکر فرمایا۔ ایک یہ کہ اتنی خوشحالی کے بعد تمہیں دھوکا بازی کر کے کمائی کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ اور دوسرے یہ کہ اس خوشحالی کے نتیجے میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ نہ یہ کہ اس کی نافرمانی پر آمادہ ہوجاؤ۔
Read the full tafseer →درس نمبر 103 ایک نظر میں
اسلامی نظریہ حیات انسانی تاریخ میں واحد ، دائمی اور مسلسل نظریہ ہے ، اب ہم حضرت شعیب (علیہ السلام) کے دور میں پہنچ گئے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی قوم اہل مدین میں اس کا بیڑا اٹھاتے ہیں۔ لیکن ان کی دعوت میں اسلامی نظریہ حیات کے ساتھ ساتھ سوسائٹی کا ایک دوسرا اہم مسئلہ بھی سامنے آتا ہے۔ وہ یہ کہ سوسائٹی میں امانت عدل اور حسن معاملہ کے اصول نافذ کرو ، ان معاملات کا تعلق بھی اسلامی عقائد سے ہے۔ کیونکہ اللہ وحدہ کے دین میں داخل ہونے کے معنی یہ ہیں کہ صرف اللہ کی شریعت کا اتباع کیا جائے۔ لیکن اہل مدین کو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی یہ دعوت سن کر بڑا تعجب ہوا اور یہ بات ان…
Read the full tafseer →5 یہ قصہ بھی سورة " اعراف " میں گزر چکا۔
6 یعنی خدا نے فراغت اور آسودگی عنایت کی تو ڈرتے رہو کہیں نافرمانی سے چھن نہ جائے اور آسائش و خوشحالی سلب ہو کر دنیاوی یا اخروی عذاب مسلط نہ کردیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
آیت 84 وَاِلٰي مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا
اس قوم کے بارے میں ہم سورة الاعراف کے مطالعہ کے دوران پڑھ چکے ہیں کہ یہ لوگ بنی قطورہ میں سے تھے اور خلیج عقبہ کے دا ہنی مشرقی طرف کے علاقہ میں آباد تھے۔ اس علاقہ میں یہ لوگ ایک بڑی مضبوط قوم بن کر ابھرے تھے۔ یہ علاقہ اس وقت کی دو بہت اہم بین الاقوامی شاہراہوں کے مقام انقطاع intersection پر واقع تھا۔ ایک شاہراہ شمالاً جنوباً تھی جو شام سے یمن جاتی تھی اور دوسری شرقاً غرباً تھی جو عراق سے مصر کو جاتی تھی۔ چناچہ تمام تجارتی قافلے یہیں سے گزرتے تھے جس کی وجہ سے یہ علاقہ اس زمانے کا بہت بڑا تجارتی مرکز بن گیا تھا۔ نتیجتاً یہاں کے لوگ بہت خوشحال ہوگئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
95 شرک ام الامراض ہے :۔ سیدنا شعیب کا قصہ بھی سورة اعراف کی آیت نمبر 84 تا 95 میں گذر چکا ہے لہذا وہ حواشی بھی پیش نظر رکھنے چاہئیں۔
شرک ایسی بیماری ہے جو تقریباً ہر قوم میں پائی جاتی ہے اور بالخصوص ان اقوام میں ضرور موجود تھی جن کی طرف انبیاء مبعوث ہوتے رہے باقی تمام اخلاقی اور معاشرتی بیماریاں اور برائیاں اسی شرک سے ہی پھوٹتی ہیں گویا جس طرح جسمانی بیماریوں میں قبض کو ام الامراض قرار دیا گیا ہے اسی طرح روحانی بیماریوں میں شرک ام الامراض ہے۔
شرک سے اجتناب اور توحید کے عقیدہ سے معاشرہ کی اصلاح کیسے ہوتی ہے ؟ یہی وجہ ہے کہ تمام انبیاء کی دعوت کا پہلا ہدف یہی مرض رہا ہے انبیاء شرک کی تردید کے…
Read the full tafseer →124۔ مدین اور شعیب دونوں پر حاشیے سورة اعراف میں گزر چکے۔ (آیت) ” اخاھم “۔ بھائی سے مراد وہی وطنی یا نسلی بھائی ہیں قرآن میں اس لفظ کے بار بار آنے سے اس حقیقت پر بھی روشنی پڑجاتی ہے۔ نسبی اور وطنی اشتراک کے باوجود کسی کے نصیب میں ہدایت آجاتی ہے اور کوئی بدستور ظلمتوں اور ضلالتوں میں گرفتار رہتا ہے۔
125۔ (آیت) ” یوم محیط “۔ یعنی وہ دن جو مجرم کو ہر طرف سے گھیر کر اسے مجبور وبے بس کردے گا اور کوئی صورت اس کی مخلصی اور رہائی کی باقی نہ رکھے گا۔ (آیت) ” یقوم۔۔۔ غیرہ “۔ ہر نبی کی پہلی اور بنیادی دعوت دعوت توحید ہی ہوتی ہے۔ (آیت) ” ولا تنقصوا لمکیال والمیزان “۔ اہل مدین ایک مشہور تجارت پیشہ قوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–95
آیت نمبر 84 تا 95
ترجمہ : اور ہم نے اہل مدین کی جانب ان کے بھائی شعیب کو بھیجا انہوں نے کہا میرے برادران قوم اللہ کی بندگی کرو یعنی اس کو ایک سمجھو، اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں، اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو، میں تم کو خوش حالی میں دیکھ رہا ہوں جس کی وجہ سے تم کو تولنے اور کم ناپنے سے مستغنی ہو، اگر تم ایمان نہ لائے تو مجھے تمہارے بارے میں تم کو گھیرنے والے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے جو تم کو ہلاک کر دے گا، اور یوم کی صفت محیط مجاز ہے عذاب کے اس میں واقع ہونے کی وجہ سے، اور اے میرے برادران قوم تم انصاف کے ساتھ پورا پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں نقصان نہ پہنچاؤ، (یعنی)…
Read the full tafseer →والی مدین اخاھم شعیبا اور ہم نے (قوم) مدین کے (نسبی) بھائی شعیب کو (اہل) مدین کی طرف (ہدایت کے لئے) بھیجا۔
حضرت ابراہیم کے ایک بیٹے کا نام یدنہ تھا ‘ اسی کے نام پر حضرت شعیب کی بستی کا نام بھی مدین رکھ دیا گیا تھا۔ آیۃ میں مراد اہل مدین (مدین کے باشندے) یا مدین کی نسل ہے۔
قال یقوم اعبدوا اللہ ما لکم من الہ غیرہ ولا تنقصوا المکیال والمیزان حضرت شعیب نے کہا : اے میری قوم ! (صرف) اللہ کی عبادت کرو ‘ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود (واقع میں) نہیں ہے اور ناپ تول میں (خریداروں کے ساتھ یا آپس میں) کمی نہ کرو۔ توحید پر ہی تمام احکام کا مدار ہے ‘ اس لئے اوّل توحید کی تبلیغ کی ‘ پھر ناپ تول کی کمی سے…
Read the full tafseer →(84) اور ہم نے مدین والوں کی طرف انکے نبی شعیب ؑ کو بھیجا، انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کرو اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں، جس پر ایمان لانے کا میں تمہیں حکم دوں اور ناپ تول میں لوگوں کے حقوق میں کمی مت کیا کرو، میں تمہیں مال کے پھیلاؤ اور فراوانی اور بھاؤ کی تیزی کی حالت میں دیکھتا ہوں اگر تم مجھ پر ایمان نہ لائے اور ناپ تول ٹھیک طریقہ سے نہ کیا تو مجھے تم پر ایک ایسے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے جو تم پر نازل ہوگا اور پھر تم میں سے کوئی سختی اور قحط سالی وغیرہ سے نہیں بچ سکتا۔
Read the full tafseer →وَاِلٰي مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا قَالَ يٰقَوْمِ۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة اعراف (85 تا 93) اور سورة شعراء (176 تا 190) مکیال اور کیل سے مراد کسی مقرر پیمانے کے برتن مثلاً صاع (ٹوپہ وغیرہ) میں ڈال کر غلے وغیرہ کو ماپنا اور میزان اور وزن کا معنی ترازو وغیرہ سے تولنا ہے۔
اِنِّىْٓ اَرٰىكُمْ بِخَيْرٍ : یعنی تم اچھے خاصے خوش حال ہو، پھر اس قسم کی بےایمانی اور فریب کاری کی کیا ضرورت ہے۔
عَذَابَ يَوْمٍ مُّحِيْطٍ : یعنی آخرت کا عذاب یا دنیا ہی میں اس دن کا عذاب جس کے گھیرے سے کوئی نکل نہ سکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–95
آیت نمبر 84 تا 95
اللہ تعالیٰ کا ارشاد والیٰ مدین اخاھم شعیبا یعنی وارسلناإلی مدینہم نے مدین کی طرف بھیجا، مدین حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم ہے۔ ان کی وجہ تسمیہ کے متعلق دو قول ہیں : ایک قول یہ ہے کہ وہ مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں۔ مدین کہا گیا ہے جب کہ مراد بنو مدین ہیں۔ جس طرح مضر کہا جاتا ہے اور مراد بنومضر ہوتے ہیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ان کے شہر کا نام ہے اس لیے اس کی طرف ان کو منسوب کردیا گیا۔ نحاس نے کہا : مدین غیر منصرف ہئ، کیونکہ یہ شہر کا نام ہے، سورة اعراف میں یہ معنی گزرچکا ہے اور کچھ اس سے زیادہ بھی۔ قال یٰقوم اعبدوا اللہ مالکم من الٰہٍ غیرہ (اس کی تفسیر) گزر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
قوم شعیب (علیہ السلام) کا ذکر :
1:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انی ارکم بخیر “ سے مراد اشیاء کی قیمتوں کا سستا ہونا۔ (اور فرمایا) (آیت) ” وانی اخاف علیکم عذاب یوم محیط “ سے مراد ہے کہ قیمتوں کا چڑھنا اور مہنگا ہونا ہے (یعنی میں ڈرتا ہوں تم پر اس دن سے جبکہ قمیتیں چڑھ جائیں اور بھاؤ مہنگا ہوجائے۔
2:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” بقیت اللہ “ یعنی اللہ کا رزق۔
3:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” بقیت اللہ خیر لکم “ یعنی تمہارا حصہ تمہارے رب کی طرف سے بہتر ہے تمہارے…
Read the full tafseer →[وَاِلٰي مَدْيَنَ : اور (بیشک ہم بھیج چکے ہیں) مدین کی طرف ] [اَخَاهُمْ : ان کے بھائی ] [شُعَيْبًا : شعیب (علیہ السلام) کو ] [ قَالَ : انھوں نے کہا ] [يٰقَوْمِ : اے میری قوم ] [اعْبُدُوا : تم لوگ بندگی کرو ] [اللّٰهَ : اللہ کی ] [مَا لَكُمْ : نہیں ہے تمہارے لئے ] [مِّنْ اِلٰهٍ : کوئی بھی الٰہ ] [غَيْرُهٗ : اس کے علاوہ ] [وَلَا تَنْقُصُوا : اور تم لوگ کمی مت کرو ] [الْمِكْيَالَ : پیمانے میں ] [وَالْمِيْزَان : اور ترازو میں ] [انىٓ : بیشک میں ] [اَرٰىكُمْ : دیکھتا ہوں تم لوگوں کو ] [بِخَيْرٍ : (معاشی) بھلائی میں ] [ وَّانىٓ : اور بیشک میں ] [اَخَافُ : ڈرتا ہوں ] [عَلَيْكُمْ : تم پر ] [عَذَابَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–87
مدین والوں کو حضرت شعیب (علیہ السلام) کا تبلیغ فرمانا اور ان لوگوں کا الٹے جواب دینا اور استہزاء کرنا
حضرت شعیب (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اصحاب مدین اور اصحاب ایکہ کی طرف مبعوث فرمایا تھا اصحاب ایکہ کا ذکر سورة الشعرا (ع 10) میں ہے اور سورة اعراف (ع 11) میں اور یہاں سورة ہود میں اور سورة عنکبوت (ع 4) میں اصحاب مدین کا ذکر ہے۔
یہ لوگ بھی مشرک تھے غیر اللہ کی عبادت کرتے تھے اور لوگوں کو جو مال بیچتے تھے تو ناپ تول میں کمی کرتے تھے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو تبلیغ کی اور ان سے فرمایا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو ‘ اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں ہے ‘ نیز یہ بھی فرمایا کہ لوگوں کو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–95
قصہ شعیب (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ والی مدین اخاھم شعیبا .... الیٰ .... الا بعدا لمدین کما بعدت ثمود۔
(ربط) یہ چھٹا قصہ شعیب (علیہ السلام) کا ہے جو خطیب الانبیاء کے لقب سے معروف ہیں اور مدین کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ یہ لوگ بڑے سرمایہ دار تھے انکا مذہب یہ تھا کہ ہم اپنے مالوں کے تصرف میں آزاد اور مختار ہیں ( جیسا کہ آج کل کے سرمایہ دار کہتے ہیں) جس طرح چاہیں ان میں تصرف کریں حضرت شعیب (علیہ السلام) یہ فرماتے تھے کہ یہ اموال اگرچہ تمہارے مملوک ہیں مگر تمہاری ملکیت مالک حقیقی کی ملکیت اور اس کے حکم کے ماتحت ہے۔ امانت اور دیانت کے ساتھ اور صحیح کمیل اور وزن کے ساتھ تم اس میں تصرف کرسکتے ہو یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
74:۔ یہ چھٹا قصہ ہے اور پہلے دعوے سے متعلق ہے۔ پہلا دعویٰ چونکہ مقصودی ہے اس لیے اس پر شاہد کا اعادہ کیا گیا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے سب سے پہلے اپنی قوم کو یہ پیغام دیا۔ یٰقَوْمِ اعْبُدُوْا اللہ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرهٗ اے میری قوم ! صرف اللہ کی عبادت کرو اور صرف اسی کو پکارو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود اور کارساز نہیں۔ اس کے بعد ان کی دوسری کوتاہیوں سے ان کو منع کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
ربط آیات
اس سورة مبارکہ میں تاریخ انبیاء (علیہم السلام) کے ضمن میں حضرات نوح ، ہود ، صالح اور لوط (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کا حال بیان ہوچکا ہے اس بات کا تذکرہ بھی ہوچکا ہے کہ اللہ کے نبیوں نے حق تبلیغ ادا کرنے اور اپنی اپنی قوموں کو سمجھانے میں کتنی محنت اور کوشش کی اور پھر ان قوموں کا ردعمل کیا ہوا اور وہ کس طریقے سے درد ناک عذاب میں مبتلا ہو کر ہلاک ہوئے۔ اب اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر حضرت شعی (علیہ السلام) کا ذکر ہو رہا ہے۔ آپ کا ذکر اس سورة مبارکہ کے علاوہ سورة اعراف میں بھی بیان ہوچکا ہے۔ سورة شعراء اور بعض دوسری سورتوں میں بھی آپ کے واقعات بیان ہوئے ہیں۔
حضرت شعیب (علیہ…
Read the full tafseer →وَاِلٰي مَدْيَنَ اَخَاہُمْ شُعَيْبًا 0ۭ قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَيْرُہٗ 0ۭ وَلَا تَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيْزَانَ اِنِّىْٓ اَرٰىكُمْ بِخَيْرٍ وَّاِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ مُّحِيْطٍ 84
عبادت
العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان :
عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود .
وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–93
تفسیر : اس کے بعد پانچواں واقعہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا بیان فرماتا ہے جو اہل مدین کی طرف رسول بنا کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد میں بھیجے گئے تھے۔ اس قوم کی عادت بت پرستی اور بدکاری کے علاوہ کم تولنا ‘ خیانت ‘ دغابازی کرنے کی بھی تھی جس کو وہ اپنے مال میں تصرف جائز سمجھ کر طعن کی راہ سے کہتے تھے کہ ایک آپ ہی تو بڑے اچھے شخص ہیں اور ان کی نماز پر طعن کرکے کہتے تھے کہ کیا آپ کی نماز ہم کو بت پرستی سے منع کرتی ہے ؟ باقی قصہ صاف ہے۔ یہ مدین وہی جگہ ہے کہ جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون سے بھاگ کر آئے تھے اور یہ وہی شعیب (علیہ السلام) ہیں کہ جن کی ایک صاحبزادی سے آپ کی شادی ہوئی تھی۔…
Read the full tafseer →وَاِلٰی مَدْیَنَ اَخَاھُمْ شُعَیْبًا ط قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ط وَلاَ تَنْقُصُوا الْمِکْیَالَ وَالْمِیْزَانَ اِنِّیْ ٓ اَرٰکُم بِخَیْرٍوَّاِنِّیْ ٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ ۔ (سورۃ ہود : 84)
(اور اہل مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ آپ نے کہا : اے برادرانِ قوم عبادت کرو اس اللہ کی جس کے سوا تمہارا کوئی اِلٰہ نہیں اور کمی نہ کیا کرو، ناپ اور تول میں۔ میں تمہیں خوشحال دیکھتا ہوں اور میں ڈرتا ہوں، تم پر ایسے دن کے عذاب سے جو ہر چیز کو گھیر لینے والا ہے۔ )
اہل مدین کا محل وقوع اور ان کی حقیقت
مشرکینِ مکہ کو اللہ کے نبی کی دعوت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
فہم القرآن
ربط کلام : قوم لوط کے انجام کے بعد قوم صالح کے کردار اور انجام کا ذکر۔
قوم مدین کی طرف انہیں میں سے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو پیغمبر منتخب کیا گیا اور حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی دعوت کا آغاز اسی بات سے کیا جس کی دعوت ان سے پہلے انبیاء دیتے آرہے تھے۔ چناچہ انہوں نے فرمایا کہ اے میری قوم صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا کوئی تمہارا الٰہ نہیں۔ قرآن مجید میں الٰہ کے کئی معانی ہیں۔ جن میں سب سے پہلا معنی ہے کہ وہ ہستی جس کی والہانہ طور پر بندگی کی جائے۔ انتہائی مشکل کے وقت صرف اس کو پکارا جائے اور اس کے سوا کسی کو مشکل کشا اور حاجت روا تسلیم نہ کیا جائے۔ ( سورة النحل : 2 تا…
Read the full tafseer →قوم شعیب۔ :
84: وَاِلٰی مَدْیَنَ اَخَاھُمْ شُعَیْبًا (مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا) مدین ان کے شہر کا نام ہے یا ان کے جد امجد مدین بن ابراہیم کا نام ہے۔ مطلب یہ ہے ہم نے شعیب (علیہ السلام) کو ساکنین مدین کی طرف بھیجا یا مدین کی اولاد کی طرف بھیجا۔ قَالَ یٰـقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ وَلَا تَنقُصُوا الْمِکْیَالَ وَالْمِیْزَانَ (کہا اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ تمہارے لئے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور ماپ تول میں کمی نہ کرو) مکیلی چیز مکیال کے ساتھ موزونی چیز میزان کے ساتھ اِنِّیْ اَرٰکُمْ بِخَیْرٍ (میں تمہیں مالدار پاتا ہوں) دولت وو سعت والاجو…
Read the full tafseer →تفسیر : 84” والی مدین “ اور ہم نے مدین کی اولاد کی طرف بھیجا ” اخاھم شعیبا قال یا قوم اعبدوا اللہ ما لکم من الہ غیرہ ولا تنقصوا المکیال والمیزان “ ناپ تو نہ کرو۔ یہ شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں کمی کرتے تھے۔” انی اراکم بخیر “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مال دار اور نعمتوں میں اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ خوشحالی اور شادابی میں ہو تو ان کو نعمت کے زوال سے ڈرایا ۔ ” وانی اخاف علیکم عذاب یوم محیط “ جو تم کو گھیر کر ہلاک کر دے گا ۔
Read the full tafseer →84۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی ایک بیوی اور تھیں جن کا نام قنطورا تھا یہ یقظان کنعانیہ کی بیٹی تھیں ان سے آٹھ بچے پیدا ہوئے تھے جن میں سے ایک کا نام مدین تھا اس مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) نے ملک حجاز اور ملک شام کے درمیان میں ایک گاؤں بسایا جس کا نام مدین مشہور ہوگیا۔ یہ گاؤں مدین بحر قلزم کے کنارے تبوک کے سامنے چھ منزل پر واقع ہے مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) کی یہیں بودو باش رہی ان کی نسل سے جو پیدا ہوتے گئے یہیں بستے گئے۔ رفتہ رفتہ ایک بہت بڑا قبیلہ ہوگیا تبوک سے اس کی آبادی زیادہ ہوگئی مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک بیٹے کی اولاد میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کے باپ پیدا ہوئے اس لئے…
Read the full tafseer →(آیت) ” اور مدین کی طرف بھیجا “ مدین ایک معروف قبیلہ تھا جو فلسطین کے زیریں علاقے مدین میں آباد تھا۔ (آیت) یعنی نسب میں ان کے بھائی (آیت) شعیب (علیہ السلام) کو۔ “ گویا وہ جناب شعیب (علیہ السلام) کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان سے ان کے لئے کچھ حاصل کرنا ممکن تھا۔ (آیت) شعیب (علیہ السلام) نے ان سے کہا : (آیت ) ” اے میری قوم ! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ “ یعنی اس کے لئے عبودیت کو خالص کرو۔۔۔ کیونکہ وہ لوگ شرک میں مبتلا تھے۔ شرک کرنے کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے، اس لئے شعیب (علیہ السلام) نے ان کو ناپ تول میں کمی کرنے سے منع کیا۔ (آیت) ” اور نہ کم کرو ماپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–86
قوم لوط کی تباہی کا حکم
قول باری ہے فلما ذھب عن ابراہیم الروح و جاء تہ البشری یجادلنا فی قوم لوط ۔ پھر جب ابراہیم کی گھبراہٹ دورہو گئی اور اولاد کی بشارت سے اس کا دل خوش ہوگیا تو اس نے قوط لوط کے معاملہ میں ہم سے جھگڑا شروع کیا ۔ یعنی جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے خوف دور ہوگیا تو وہ فرشتوں سے یہ سن کر کہ انہیں قوم لوط کر ہلاک کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے ، ا ن سے جھگڑنے لگے ، اس موقعہ پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرشتوں سے فرمایا کہ تم قوط لوط کو کیسے ہلاک کرو گے جبکہ وہاں لوط (علیہ السلام) بھی موجود ہیں ؟ فرشتوں نے جواب میں کہا کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہیں ۔ ہم انہیں…
Read the full tafseer →168 ۔ حضرت شعیب کی بعثت اور ان کی دعوت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے مدین والوں کی طرف ان کے بھائی شعیب کو پیـغمبر بنا کر بھیجا تو انہوں نے بھی ان لوگوں سے یہی کہا کہ تم عبادت و بندگی کرو صرف اللہ کی کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اور یہ کہ تم لوگ ناپ تول میں کمی نہ کرو۔ سو ناپ تول میں کمی کرنا ان لوگوں کا دوسرا قومی مرض تھا جس میں وہ لوگ بحیثیت مجموعی مبتلا تھے کہ وہ لوگ ناپ تول میں کمی کیا کرتے تھے۔ اس لیے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے دعوت توحید کے بعد ان کو اسی قومی روگ سے روکا اور منع فرمایا تاکہ وہ اس کے ہولناک نتیجہ و انجام سے بچ سکیں۔ سو توحید تمام انبیائے کرام کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–95
سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کی گمراہی اور عذاب
تشریح : یہاں قوم مدین کا حال بیان کیا جا رہا ہے۔ یہ قوم مدین اور اس کے نواحی علاقوں میں آباد تھی۔ بحر احمر کا وہ مقام جہاں جزیرہ نمائے عرب کی دو تجارتی شاہراہیں آکر ملتی تھیں یمن و شام اور عراق و مصر کے قافلے یہیں سے گزرتے تھے، یعنی مدین بہت بڑی تجارتی منڈی تھی اسی لیے وہاں کے لوگ بڑے آسودہ حال تھے۔ مگر ان میں بت پرستی، عیش پرستی اور ناپ تول میں بددیانتی کی عادت حد سے بڑھ چکی تھی اور اس حرام خوری کی وجہ سے ان میں تمام اخلاقی برائیاں، اللہ سے دوری اور حرص و لالچ پیدا ہوچکا تھا دیکھا جائے تو مال کی حرص بہت سی اخلاقی برائیوں کی جڑ ہے یہی حال ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–95
آیات 84 تا 95
اسرار و معارف
شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا حال بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے کہ مدین جو ملک شام کا مشہور شہر تھا اس کے رہنے والوں کی طرف ان ہی میں سے شعیب (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ یہ لوگ شجرپرستی میں مبتلا تھے اور مختلف درختوں کی پوجا کرتے تھے جیسے ہندومت میں آج بھی یہ بات پائی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ان کا لین دین بھی ہندؤوں جیسا تھا ڈنڈی مارنے سے نہ چوکتے ناپ تول میں کمی کردیتے ۔ سونے کے سکوں میں سے تھوڑابہت سونا کاٹ لیتے اور سکہ پوری قیمت پر چلتا کردیتے۔
ناپ تول میں کمی
چنانچہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے توحید کی دعوت دی اور فرمایا اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ لہٰذا…
Read the full tafseer →ف 13 ۔ تشریح کے لئے دیکھئے سورة اعراف رکوع۔۔۔
ف۔ 1 اچھے خاصے خوشحال ہو پھر اس قسم کی بےایمانی اور فریب کاری کی تمہیں کیا ضرورت ہے ؟
2 ۔ یعنی آخرت کا عذاب یا دنیا ہی کا عذاب جس سے کوئی نہ بچ سکے گا۔
Read the full tafseer →(11:84) لا تنقصوا۔ فعل نہی۔ جمع مذکر حاضر۔ نقص (باب نصر) سے تم مت گھٹائو۔ تم مت کم کرو۔ المکیال۔ اسم آلہ۔ مفرد۔ غلہ کو ماپنے کا پیمانہ۔ کیل۔ مصدر۔ (باب ضرب) فاوف لنا الکیل۔ (12:88) آپ ہمیں (اس کے عوض) پورا ماپ غلہ کا دیجئے۔
المیزان۔ اسم آلہ ۔ وزن کرنے کا آلہ ۔ ترازو۔ مصدر۔ وزن کرنا۔ (باب ضرب) جمع موازین۔ انی ارکم بخیر۔ میں دیکھتا ہوں تم بخیر ہو۔
(1) یعنی تم صاحب مال و دولت ہو۔ تمہیں ڈنڈی مارنے اور کم ماپنے یا تولنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
(2) میں تم کو اچھا بھلا خوشحال پاتا ہوں لہٰذا تم اپنی مذموم حرکات اور افعال سے یہ خداداد نعمت زائل مت کرو۔
یوم محیط۔ وہ دن جو مجرم کو ہر طرف سے گھیر کر اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
لغات القرآن آیت نمبر 84 تا 88
لاتنقصوا (تم کمی نہ کرو) المکیال (ماپ) المیزان (تول) انی اری (بےشک میں دیکھ رہا ہوں) بخیر (خیر سے، بھلائی سے، اچھا حال) یوم محیط (گھیر لینے والا دن ) القسط (انصاف، برابری) لاتبخسوا (نہ گھٹائو، کمی نہ کرو) اشیاء (چیزیں) لاتعثوا (تم نہ پھرو، نہ گھومو) بقیت اللہ (اللہ کا بچایا ہوا) حفیظ (نگہبان، نگران) تامرک (تجھے حکم دیتی ہے) ان نترک (یہ کہ ہم چھوڑ دیں) ان نفعل (یہ کہ ہم کریں) نشآء (ہم چاہیں) رزقنی (اس نے مجھے دیا) انھی (میں منع کرتا ہوں، روتکا ہوں) ارید (میں چاہتا ہوں) استطعت (میں طاقت رکھتا ہوں) توفیق (عطاء، توفیق) توکلت (میں نے بھروسہ کرلیا) انیب (میں لوٹتا…
Read the full tafseer →حضرت شعیب (علیہ السلام) کی نصیحت کا ذکر
اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو قبیلہ مدین کا بھائی فرمایا۔ مدین والے بہت خوشحال تھے اب میں ایک عادت علاوہ بت پرستی کے یہ بھی تھی کہ جب وہ سودا خریدتے تھے تو بڑھتی لیتے تھے اور جب بیچتے تھے تو کم دیتے تھے۔ دوقسم کے پیمانے اور بٹے بنا رکھے تھے، بیچنے کا اورا خریدنے کا اور۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں لوگوں میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور نبی بناکر حکم دیا کہ ان کو خدا کی طرف بلاؤ۔ شعیب (علیہ السلام) نے ان کو ہدایت کی کہ : تم خدائے وحدہ لاشریک کی عبادت کرو اور ناپ تول میں کمی بیشی نہ کیا کرو۔ پورا پورا تول کرلو اور پورا پورا تول کر دو ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–87
[47] ان کا ذکر سورة اعراف رکوع 11 آیت 85 تا 93 (صفحہ 352 تا 354) میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
(ف 1) حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم تجارت سے شغف رکھنے والی قوم تھی ، مگر کم تولنے کی بد عادت میں مبتلا تھی ، اس لئے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے انہیں اس برے فعل سے روکا ، اور کہا ، کہ اللہ کی عبادت کے ساتھ معاملات میں بھی منصف اور عادل بننے کی کوشش کرو ، کیونکہ مذہب کا تعلق صرف عقائد سے نہیں ، بلکہ اس کو معاملات میں بھی اصلاحی ہدایات پیش کرنا لازم ہے ، وہ عقیدے اور عبادتیں جو برائیوں سے نہیں روکتیں تمہیں بتاؤ ان کی کیا قیمت ہے ؟ مذہب زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھتا ہے ۔
Read the full tafseer →84 اور اہل مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا حضرت شعیب (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی حقیقی معبود نہیں اور اس کے سوا کوئی معبود بننے کیل ائق نہیں اور تم پیمانہ بھرنے اور تولنے میں کمی نہ کیا کرو یعنی باپ میں اور تول میں کمی نہ کیا کرو نہ کم ماپو نہ کم تولو ! کیونکہ میں تم کو آسودہ حال اور فراغت کی حالت میں دیکھتا ہوں اور میں تم پر ایک ایسے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں جو ہر قسم کے عذاب کا جامع ہوگا اور وہ دن گھیر لینے والا ہوگا یعنی توحید کو اختیار کرکے عقیدے کی اصلاح کرو یہ تو ایک بنیادی چیز ہے پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
ف 2۔ پھر تم کو ناپ تول میں کمی کرنے کی کیا ضرورت تھی۔
Read the full tafseer →اہل مدین کی طرف شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا گیا اور انہوں نے قوم کو توحید کا درس سنایا۔
۔ 108 شعیب (علیہ السلام) کی بعثت مدین یا مدیان میں ہوئی تھی۔ مدین کسی مقام کا نام نہیں بلکہ ” قبیلہ “ کا نام ہے جو قبیلہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے مدین کی نسل سے تھا جو ابراہیم (علیہ السلام) کی تیسری بیوی قطورا کے بطن سے پیدا ہوا اس لئے حضرت ابرایم کا یہ خاندان بنی قطورا کہلایا۔ ” مدین “ اپنے اہل و عیال کے ساتھ اپنے سوتیلے بھائی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے پہلو ہی میں حجاز میں آباد ہوگیا تھا۔ یہی خاندان آگے چل کر ایک بڑا قبیلہ بن گیا اور شعیب (علیہ السلام) بھی چونکہ اسی نسل اور اسی قبیلہ سے تھے…
Read the full tafseer →Commentary
An account of Sayyidna Shu'aib and his people appears in the verses cited above. Besides being kafirs and mushriks, his people used to give less in weights and measures. Sayyidna Shu'aib (علیہ السلام) carried his call to them, told them not to give less in weights and measures, and warned them of Divine punishment if they persisted with this way of life. But, they did persist with their denial and contumacy and, as a consequence, all those people were destroyed through a severe punishment, details of which appear as follows.
In the first verse (84), it was said: وَإِلَىٰ مَدْيَنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
94. For details see Towards Understanding the Qur'an, vol. Ill, al-A'raf, nn. 69-75, pp. 53-7.
Read the full tafseer →