Hud 11:83

Hud · from ayah 83

11:83

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ ؕ— وَمَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ ۟۠مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ‌ؕ وَ مَا هِىَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ

جن پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نشان کئے ہوئے تھے اور وہ بستی ان ظالموں سے کچھ دور نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Marked from your Lord. And Allah 's punishment is not from the wrongdoers [very] far.

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 7 of surah · Ruku 7 of juzع

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:83

جن میں سے ہر پتھر تیرے رب کے ہاں نشان زدہ تھا اور ظالموں سے یہ سزا کچھ دور نہیں ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جن پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نشان کئے ہوئے تھے اور وہ بستی ان ظالموں سے کچھ دور نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

تیرے رب کی طرف سے نشان دار تھے اور وه ان ﻇالموں سے کچھ بھی دور نہ تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جن پر تمہارے رب کی طرف سے نشان لگے ہوئے تھے۔ اور یہ بستی (مکہ کے ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جو نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس ہیں اور وہ پتھر کچھ ظالموں سے دور نہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو آپ کے رب کی طرف سے نشان کئے ہوئے تھے، اور یہ (سنگ ریزوں کا عذاب) ظالموں سے (اب بھی) کچھ دور نہیں ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جو تیرے رب کے ہاں سے نشان لگائے ہوئے تھے اور وہ ان ظالموں سے ہرگز کچھ دور نہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور یہ (خطہ ان) ظالموں سے کچھ دور بھی نہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تمہارے رب کے پاس نشان لگائے ہوئے، اور وہ ان ظالموں سے کچھ دور نہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جن پر خاص نشان لگے ہوئے تھے تمہارے رب کے یہاں سے، اور وہ بستیاں (دور حاضر کے) ان ظالموں سے کچھ زیادہ دور نہیں ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

خاص نشان کئے ہوئے آپ کے پروردگار کے پاس اور وہ (مقام) ان ظالموں سے کچھ دور بھی نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ نشان زدہ تھے تمہارے رب کی طرف سے اور یہ ان ظالموں سے کوئی زیادہ دور نہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جن پر تمہارے رب کی طرف سے نشان کیے ہوئے تھے اور وہ بستی ان ظالموں سے کچھ دور نہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

marked from your Lord. Nor is the punishment far off from the wrong-doers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

marked from your Lord. And it is not far from the transgressors.

— Muhammad Taqi Usmani

marked from your Lord. And it is not far from the transgressors.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Marked from your Lord; and they are not ever far from the wrongdoers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Marked with fire in the providence of thy Lord (for the destruction of the wicked). And they are never far from the wrong-doers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Marked from your Lord. And Allah 's punishment is not from the wrongdoers [very] far.

— Saheeh International

marked by your Lord. Such a punishment is not far away from the unjust people.

— Muhammad Sarwar

Marked (for punishment) with your Lord and it is not far off from the unjust.

— Muhammad Habib Shakir

Marked from before thy Lord. Nor are they from the wrong- doers far away.

— Abdul Majid Daryabadi

Marked as from thy Lord: Nor are they ever far from those who do wrong!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:83

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 82–83

آج کے ایٹم بم اس وقت کے پتھروں کی بارش سورج کے نکلنے کے وقت اللہ کا عذاب ان پر آگیا۔ ان کی بستی سدوم نامی تہ وبالا ہوگئی۔ عذاب نے اوپر تلے سے ڈھانک لیا۔ آسمان سے پکی مٹی کے پتھر ان پر برسنے لگے۔ جو سخت، وزنی اور بہت بڑے بڑے تھے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے سجین سجیل دونوں ایک ہی ہیں۔ منضود سے مراد پے بہ پے تہ بہ تہ ایک کے بعد ایک کے ہیں۔ ان پتروں پر قدرتی طور پر ان لوگوں کے نام لکھے ہوئے تھے۔ جس کے نام کا پتھر تھا اسی پر گرتا تھا۔ وہ مثل طوق کے تھے جو سرخی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ یہ ان شہریوں پر بھی برسے اور یہاں کے جو لوگ اور گاؤں گوٹھ میں تھے ان پر بھی وہیں گرے۔ ان میں سے جو جہاں تھا وہیں پتھر سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة هُوْد 92 یعنی ہر ہر پتھر خدا کی طرف سے نامزد کیا ہوا تھا کہ اسے تباہ کاری کا کیا کام کرنا ہے اور کس پتھر کو کس مجرم پر پڑنا ہے۔ سورة هُوْد 93 یعنی آج جو لوگ ظلم کی اس روش پر چل رہے ہیں وہ بھی اس عذاب کو اپنے سے دور نہ سمجھیں۔ عذاب اگر قومِ لوط ؑ پر آسکتا تھا تو ان پر بھی آسکتا ہے۔ خدا کو نہ لوط ؑ کی قوم عاجز کر سکی تھی ، نہ یہ کر سکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

آخر آیت میں قوم لوط کا عذاب ذکر کرنے کے بعد موجودہ اقوام دنیا کو متنبہ کرنے کے لئے ارشاد فرمایا (آیت) وَمَا ھِيَ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ بِبَعِيْدٍ ، یعنی پتھراؤ کا عذاب آج بھی ظالموں سے کچھ دور نہیں، جو لوگ اس قوم کی طرح ظلم و بےحیائی پر جمے رہیں وہ اپنے آپ کو اس عذاب سے دور نہ سمجھیں آج بھی یہ عذاب آسکتا ہے، رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں بھی کچھ لوگ وہ عمل کریں گے جو قوم لوط کرتی تھی، جب ایسا ہونے لگے تو انتظار کرو کہ ان پر بھی وہی عذاب آئے گا جو قوم لوط پر آیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 82–83

82۔ 83:۔ فَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَاَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّيْلٍ ڏ مَّنْضُوْدٍ۔ مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ ۭ وَمَا ھِيَ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ بِبَعِيْدٍ۔ یعنی جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے ان پر ایسی تند آندھی بھیجی کہ اس نے ان کے مکانوں کو بالکل تلپٹ کر کے رکھ دیا وامطرنا علیہاحجارۃ من سجیل، سجیل، سنگ گل کا معرب ہے۔ یعنی ہم نے ان کی بستی پر خوب سنگ گل کی تہ بہ تہ بارش کردی۔ مسومۃ عند ربک۔ وہ تیرے رب کے پاس نشان لگائے ہوئے یعنی خدا کے علم اور اس کی قدرت میں پہلے سے مقدر اور مقرر تھے۔ گویا ان کے چٹے لگا کر پہلے سے ان پر نشان لگا دیا گیا تھا کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

83۔ 1 اس آیت میں ھی کا مرجع بعض مفسرین کے نزدیک وہ نشان زدہ کنکریلے پتھر ہیں جو ان پر برسائے گئے اور بعض کے نزدیک اس کا مرجع وہ بستیاں ہیں جو ہلاک کی گئیں اور جو شام اور مدینہ کے درمیان تھیں اور ظالمین سے مراد مشرکین مکہ اور دیگر منکرین ہیں۔ مقصد ان کو ڈرانا ہے کہ تمہارا حشر بھی ویسا ہہی ہوسکتا ہے جس سے گزشتہ قومیں دو چار ہوئیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

49: حضرت لوط ؑ کے واقعے کے آخر میں اب روئے سخن مکہ مکرمہ کے کافروں کی طرف موڑا گیا ہے، اور ان کو توجہ دلائی گئی ہے کہ حضرت لوط ؑ کی قوم کا یہ علاقہ تم سے زیادہ دور نہیں ہے۔ جب تم تجارت کے لیے شام جاتے ہو تو یہ علاقہ تمہارے راستے میں پڑتا ہے اور اگر تم میں ذرا بھی معقولیت ہو تو تمہیں اس سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 82–83

یعنی جب ان پر عذاب نافذ کرنے کا وقت آیا تو ہم نے ان کی بستی کو اوپر نیچے کردیا۔ یعنی یہ سزا ان کے لیے اس لیے تجویز ہوئی کہ انہوں نے بھی اپنے آپ کو مقام انسانیت سے گرا کر مقام حیوانیت تک لے آئے تھے۔ بلکہ وہ حیوانات سے بھی نیچے گر گئے تھے کیونکہ حیوانات بہرحال حیوانی فطرت کے اصولوں کے تابع ہوتے ہیں اور اپنی حدود کے اندر رہتے ہیں۔ لیکن انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو فطرت کی حدود کو بھی پار کرلیتا ہے۔ أَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ (83 : 11) اور ہم نے ان پر مٹی آلود پتھر برسائے۔ ” یعنی ایسے پتھر جن کے ساتھ مٹی لگی ہوئی تھی۔ اس مقام پر ان کے لیے خاک آلود پتھر ان کے حال اور مقام سے زیادہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی کوئی خاص علامت ان پر تھی جو عام پتھروں سے ممتاز کر کے ظاہر کرتی تھی کہ یہ عذاب الٰہی کے پتھر ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ ہر پتھر پر اس کا نام درج تھا جس کی ہلاکت کا وہ سبب بنا۔ واللہ اعلم۔ 11 یعنی باعتبار زمانہ کے بھی قریب ہے کیونکہ " عاد " و " ثمود " اور قوم نوح وغیرہ کے بعد یہ واقعہ ہوا۔ اور باعتبار مکان کے بھی کیونکہ ان کی بستیاں مدینہ اور شام کے درمیان میں تھیں۔ گزرنے والے قافلے وہاں کھنڈرات مشاہدہ کرتے تھے۔ یا اس جملہ (وَمَا ھِيَ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ بِبَعِيْدٍ ) 11 ۔ ہود :83) کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح کا عذاب ایسے ظالموں سے اب بھی کچھ دور نہیں۔ ہمیشہ خدا کے غضب سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ (تنبیہ)…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 83 مُّسَوَّمَۃً عِنْدَ رَبِّکَ یعنی ہر پتھر ایک آدمی کے لیے نشان زدہ اور مخصوص تھا۔ وَمَا ھِيَ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ بِبَعِيْدٍ یعنی مشرکین مکہ سے قوم لوط علیہ السلام کی یہ بستیاں زیادہ دور نہیں ہیں۔ قریش کے قافلے جب فلسطین کی طرف جاتے تھے تو پہلے قوم ثمود اور قوم مدین کے علاقے سے گزرتے تھے پھر قوم لوط کی بستیوں کے آثار بھی ان کے راستے میں آتے تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

94 اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں اور دونوں ہی درست ہیں۔ ایک کی تو ترجمہ میں ہی قوسین کے ذریعہ وضاحت کردی گئی ہے اس صورت میں خطہ سے مراد قوم لوط کا تباہ شدہ خطہ اور ظالموں سے مراد دور نبوی کے منکرین حق ہیں یعنی یہ برباد شدہ علاقہ ان ظالموں سے کچھ دور نہیں یہ سب کچھ وہ بچشم خود ملاحظہ کرسکتے ہیں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ایسا عذاب کچھ قوم لوط سے ہی مخصوص نہیں بلکہ ظالموں اور منکرین حق اور بدکرداروں کو آج بھی ایسا عذاب دینے پر اللہ تعالیٰ پوری قدرت رکھتا ہے اور یہ کوئی بعید از عقل بات نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

123۔ یعنی اہل مکہ سے۔ قوم لوط (علیہ السلام) کا مسکن دریائے یردن کی وادی میں تھا جہاں اب بحر مردہ واقع ہے اور لوطیوں کے بڑے شہر سدوم اور عمورہ بحر مردہ کے ساحل پر واقع تھے۔ اور قریش مکہ اپنے سفر شام میں برابر اسی راہ سے آتے جاتے تھے اور ان آبادیوں کی آسمانی ہلاکت کا زمانہ وقوع جدید تحقیق کے مطابق 2061 ؁ ق، م ہے۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔ (آیت) ” مسومۃ “۔ یعنی دوسرے پتھروں سے ممتاز۔ (آیت) ” عند ربک “۔ یعنی عالم غیب میں۔ (آیت) ” حجارۃ من سجیل “۔ اس آتشیں پتھراؤ کی توجیہ کوہ آتش فشاں کی آتش فشانیوں سے بھی کی گئی ہے جو کسی قرآنی بیان کے منافی نہیں عذاب الہی وہ بہر صورت تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 69–83

آیت نمبر 69 تا 83 ترجمہ : ہمارے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحاق اور اس کے بعد یعقوب کی خوشخبری لے کر پہنچے، کہا تم پر سلام ہو سلامًا مصدر ہے ابراہیم نے کہا تم پر بھی سلام ہو کچھ) زیادہ ( دیر نہیں گزری کہ ابراہیم بھنا ہوا بچھڑا لے آئے مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑحٹے تو ان کو اجنبی محسوس کیا نَکِرَ بمعنی اَنکِرَ ہے تو ان کی طرف سے اپنے دل میں ابراہیم نے خوف محسوس کیا فرشتوں نے کہا خوف نہ کرو، ہمیں قوم لوط کی طرف بھیجا گیا ہے تاکہ ہم اس کو ہلاک کریں اور ابراہیم کی بیوی سارہ ان کی خدمت میں لگی ہوئی تھی تو وہ قوم کی ہلاکت) اور لوط ( کی) نجات کی ( بشارت سن کر ہنس پڑیں،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

مسومۃ عند ربک جو نشان زدہ تھے تمہارے رب کے پاس۔ ابن جریج نے کہا : ان پتھروں پر ایک خاص علامت تھی ‘ وہ زمین کے پتھروں کے ہم شکل نہ تھے۔ قتادہ اور عکرمہ نے ان پر سرخ دھاریاں بتائی ہیں۔ حسن اور سدی نے کہا : وہ مہر زدہ تھے ‘ مہر کی طرح ان پر نشان تھا۔ ہر پتھر پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جس پر وہ گرنے والا تھا۔ وما ھي من الطلمین ببعید اور وہ (اجاڑ بستیاں) ان ظالموں سے کچھ دور نہیں۔ الظلمین سے مراد ہے مشرکین مکہ ‘ بغوی نے لکھا ہے کہ قتادہ اور عکرمہ کے نزدیک الظلمین سے مراد ہیں : اس امت کے ظالم۔ ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے بھی قتادہ کی طرف اس قول کی نسبت کی ہے ‘ یعنی اس امت کے ظالم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(83) اور یہ پتھر ان ظالموں سے چوک نہیں سکتے بلکہ ان پر برسیں گے یا یہ کہ آپکی امت کے ظالم ان لوگوں کے افعال کی پیروی میں ان سے دور نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ : ”نشان لگے ہوئے“ یعنی ان میں سے ہر پتھر پر کوئی علامت بنائی گئی تھی کہ اس سے کس کو ہلا ک کرنا ہے۔ (ابن کثیر) وَمَا ھِيَ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ بِبَعِيْدٍ : اس کے دو معنی ہیں، ایک تو یہ کہ جو لوگ بھی ظلم کی روش پر چلیں گے (مثلاً مغربی اقوام اور ان کے پرستار جو دھڑلے سے اس فعل بد کا ارتکاب اور اس کی اشاعت کر رہے ہیں) ان پر بھی یہ عذاب آنا کچھ دور نہیں، یا الف لام عہد کا ہو تو ان ظالموں (یعنی رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے کافروں) پر بھی نزول عذاب بعید از قیاس نہیں۔ اگر قوم لوط پر عذاب آسکتا ہے تو ان پر بھی آسکتا ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ وہ الٹی ہوئی بستیاں ان مکہ کے ظالموں سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 77–83

آیت نمبر 77 تا 83 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ولماجآءت رسلنالوطًاسیٓء بھمجب فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے نکلے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستی کے درمیان چار فرسخ (بارہ شرعی میل) کا فاصلہ تھا۔ (قوم) لوط کی دو بیٹیوں نے فرشتوں کو دیکھا اور وہ دونوں پانی بھر رہی تھی۔ اور ان دونوں نے خوبصورت شکل کو دیکھا۔ تو انہوں نے کہا : تم کون ہو ؟ اور کہاں سے تم آئے ؟ انہوں نے کہا : فلاں جگہ سےِ ، ہم اس گاؤں کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا : اس کے رہنے والے فحش (کام کرنے والے) لوگ ہیں۔ تو انہوں نے کہا : کیا اس میں وہ شخص ہے جو ہمیں پناہ دے گا ؟ انہوں نے کہا : ہاں، یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 78–83

1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجآءہ قومہ یھرعون الیہ “ یعنی وہ تیز چلتے ہوئے آئے (آیت) ” ومن قبل کانوا یعملون السیات “ یعنی وہ مردوں کے پاس آتے تھے (شہوت رانی کے لئے) 2:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجآءہ قومہ یھرعون الیہ “ یعنی وہ ان کی طرف دوڑے ہوئے آئے۔ 3:۔ طستی (رح) نے نافع بن ازرق (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” یھرعون الیہ “ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا کہ وہ آپ کی طرف انتہائی غصہ کے ساتھ آرہے ہیں پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[مُّسَوَّمَةً : نشان لگے ہوئے ] [ عِنْدَ رَبِكَ : آپ (علیہ السلام) کے رب کے پاس سے ] [ وَمَا : اور نہیں ہے ] [ھِيَ : یہ (بستی) ] [مِنَ الظّٰلِمِيْنَ : ان ظالموں سے (یعنی مکہ والوں سے)] [ بِبَعِيْدٍ : کچھ دور ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 77–83

فرشتوں کا حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آنا، ان کی بد کار قوم کا ہلاک ہونا اور اہل ایمان کا نجات پانا اللہ تعالیٰ نے جو فرشتے لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کیلئے بھیجے تھے وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بشارت دے کر اور ان کے مکالمہ اور مجادلہ سے فارغ ہو کر حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے جو انسانی شکلوں میں تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو لڑکوں اور مردوں کے ساتھ بد فعلی کی عادت تھی ‘ وہ منع کرتے تھے تو باز نہ آتے تھے اور الٹا حضرت لوط (علیہ السلام) کے ساتھیوں کو طعنہ دیتے تھے اور یوں کہتے تھے ان لوگوں کو بستی سے نکال دو یہ بڑے پاک باز بنتے ہیں (جیسا کہ سورة اعراف کے رکوع…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 77–83

قصہ لوط (علیہ السلام) وقوم او کہ تتمہ قصہ سابقہ است قال اللہ تعالیٰ ولما جاءت رسلنا لوطا سیء بھم .... الیٰ .... وما ہی من الظلمین ببعید۔ (ربط) گزشتہ قصہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ پیش آیا اب اس کے بعد لوط (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں لوط (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے اور اہل سدوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ یہ بستی حمص کے قریب تھی اور اسکے پاس اور بھی کچھ گاؤں تھے جن کی مجموعی آبادی تقریباً چار لاکھ تھی سوائے اہل ایمان کے سب ہلاک ہوگئے۔ یہ قصہ کا تتمہ ہے یا یوں کہو کہ پہلا قصہ اس قصہ کی تمہید تھا۔ اور اصل مقصود قوم لوط کی ہلاکت کا قصہ بیان کرنا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 82–83

73:۔ جب عذاب کا مقررہ وقت آپہنچا تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے قوم لوط کی بستیوں کی زمین کو اکھاڑ لیا اور آسمان کے قریب لے جا کر زمین پردے مارا اور اوپر سے سخت مٹی کے پتھروں کی بارش کی گئی۔ سِجِّیْلٍ جو مٹی جم کر سخت پتھر کی مانند ہوجائے۔ مَنْضُوْدٍ تہ بتہ۔ مُسَوَّمَۃٍ ان پتھروں پر خاص نشان لگے تھے تاکہ معلوم ہوجائے کہ وہ آسمان سے آئے ہیں یا مطلب یہ ہے کہ ہر پتھر پر اس آدمی کا نام کندہ تھا جس کی اس سے ہلاکت مقدر تھی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 77–83

ربط آیات گزشتہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دی جانے والی بشارت کا ذکر تھا اور پھر لوط (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا تذکرہ تھا ، دراصل مضمون کا یہی حصہ ہے جو سابقہ موضوع کے تسلسل میں ہے بعض سابقہ ابنیاء اور ان کی قوموں کا حال پہلے بیان ہوچکا ہے اور پھر ان کی نافرمانی کی بنا پر ان قوموں پر جو عذاب آیا اس کا ذکر بھی ہوچکا ہے۔ اب لوط (علیہ السلام) کے واقعہ میں …… آپ کی قوم پر عذاب کی کیفیت بیان ہو رہی ہے۔ یہاں پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کا ذکر اکٹھا آیا ہے۔ جو فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بشارت لائے تھے۔ وہی قوم لوط پر عذاب برپا کرنے پر بھی مامور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مُّسَوَّمَۃً عِنْدَ رَبِّكَ۝ 0ۭ وَمَا ہِيَ مِنَ الظّٰلِـمِيْنَ بِبَعِيْدٍ۝ 83 ۧ سام السَّوْمُ أصله : الذّهاب في ابتغاء الشیء، فهو لفظ لمعنی مركّب من الذّهاب والابتغاء، وأجري مجری الذّهاب في قولهم : سَامَتِ الإبل، فهي سَائِمَةٌ ، ومجری الابتغاء في قولهم : سُمْتُ كذا، قال : يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذابِ [إبراهيم/ 6] ، ومنه قيل : سِيمَ فلان الخسف، فهو يُسَامُ الخسف، ومنه : السَّوْمُ في البیع، فقیل :( صاحب السّلعة أحقّ بالسّوم) ويقال : سُمْتُ الإبل في المرعی، وأَسَمْتُهَا، وسَوَّمْتُهَا، قال : وَمِنْهُ شَجَرٌ فِيهِ تُسِيمُونَ [ النحل/ 10] ، والسِّيمَاءُ والسِّيمِيَاءُ : العلامة، قال الشاعر : له…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 71–83

1 ؎ الضحک ہوالسرور و انبساط الوجہ دھذا قول الجمہور وقیل ضحکت بمعنی حاضت العرب یقول اضحکت الارنب اذا خاصت وانکرہ اکثر اہل اللغۃ یعقوب بالنصب مفعول بشرنا وقری بالجرومنعہ الفراء وقری بالرفع علی الابتدا وخبرہ الظرف الذیمی قبلہ اہل البیت نصبہ علی المدح اذا الاختصاص وفیہ دلیل علی ان ازواج الرجل من اہل بیتہ۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 82–83

فَلَمَّا جَآئَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا وَاَمْطَرْنَا عَلَیْھَا حِجَارَۃً مِّنْ سِجِّیْلٍ 5 لا مَّنْضُوْدٍ ۔ مُّسْوَّمَۃً عِنْدَرَبِّکَ ط وَمَا ھِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعْیِدٍ ۔ (سورۃ ہود : 82، 83) (پس جب آپہنچا ہمارا عذاب تو ہم نے اس کی بلندی کو اس کی پستی کردیا اور اس پر سنگ گِل کی بارش کی، تہ بہ تہ جن پر تمہارے رب کے پاس سے نشان لگے ہوئے تھے اور لوط کی بستی ظالموں سے کچھ دور نہیں۔ ) قوم لوط پر عذاب صبح ہوتے ہی قوم لوط پر اللہ کا عذاب ٹوٹ پڑا۔ اس عذاب کی صورت کیا تھی ؟ حقیقت تو اللہ جانتا ہے، لیکن آیت کے الفاظ یہ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے ان کی زمین کو شق کیا گیا جس سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 81–83

فہم القرآن ربط کلام : قوم لوط پر نازل ہونے والے عذاب کی کیفیت بیان کی جارہی ہے۔ قوم لوط نے نفسانی خواہش اپنی بیویوں سے پوری کرنے کے بجائے لڑکوں سے شروع کر رکھی تھی۔ گویا کہ یہ ہم جنسی کے بدترین گناہ میں مرتکب چکے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے بار بار سمجھانے کے باوجود باز آنے پر تیار نہ ہوئے۔ بلکہ حضرت لوط (علیہ السلام) کو رجم کردینے کی دھمکی دینے کے ساتھ عذاب الٰہی کا مطالبہ کرتے رہے۔ (أَءِنَّکُمْ لَتَأْتُوْنَ الرِّجَالَ وَتَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ وَتَأْتُوْنَ فِیْ نَادِیْکُمُ الْمُنْکَرَ فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہِ إِلَّا أَنْ قَالُوْا اءْتِنَا بِعَذَاب اللَّہِ إِنْ کُنْتَ مِنَ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

83: مُّسَوَّمَۃً (نشان زدہ) یہ حجارۃ کی صفت ہے یعنی عذاب کیلئے ان پر نشان کیا گیا تھا۔ ایک قول یہ ہے کہ ہر ایک پر اس ظالم کا نام لکھا تھا۔ عِنْدَ رَبِّکَ (تمہارے رب کی طرف سے) نمبر 1۔ اس کے خزانوں سے نمبر 2۔ اس کے حکم سے وَمَاھِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ ( اور وہ بستیاں ان ظالموں سے کچھ دور نہیں) نمبر 1۔ کوئی بعید چیز نہیں۔ اسمیں اہل مکہ کو وعید ہے۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا آپ کی امت کے ظالم ان میں کوئی ظالم ایسا نہیں جو پتھر کے نشانے پر نہ ہو۔ اور وہ کسی بھی گھڑی اس پر گرسکتا ہے۔ نمبر 2۔ ضمیر کامر جمع بسیتوں والوں کی طرف ہے۔ کہ یہ بستیاں مکہ کے ظالموں سے کچھ دور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

قوم لوط کے ہر شخص کا نام اس کے نصیب کے پتھر پر تھا 83” مسومۃ “ یہ حجارۃ کی صف ہے حال ہونے کی بناء پر منصوب ہے اور اس کا معنی ہے نشان لگے ہوئے۔ ابن جریج رحمہ للہ فرماتے ہیں کہ ان پر علامتیں تھیں زمین کے پتھروں سے ان کی شکل نہ ملتی تھی اور بعض نے کہا ہے کہ جس کو لگنا ہوتا اس کا نام پتھر پر لکھا ہوا ہوتا۔” عند ربک وماھی “ یعنی یہ پتھر ” من الظالمین “ یعنی مکہ کے مشرکین سے ” ببعید “ قتادہ (رح) اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی اس امت کے ظالمین سے، اللہ کی قسم ! اللہ نے ان پتھروں سے اس کے بعد کسی ظالم کو پناہ نہیں دی اور بعض آثار میں ہے کہ جو بھی ظالم ہوگا وہ پتھر والی زمین میں ہوگا ، اس پر پتھر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 82–83

82۔ 83۔ جب لوط (علیہ السلام) کو حکم ہوگیا کہ آپ معہ اہل و عیال کے فقط اپنی بیوی کو چھوڑ کر اس گاؤں سے چلے جائیں اب ان پر عذاب آوے گا اور کوئی تم میں سے پیچھے مڑ کر نہ دیکھے غرض کہ حضرت لوط (علیہ السلام) خدا کے حکم سے باہر چلے گئے اور خدا کا عذاب آیا جبرئیل (علیہ السلام) نے اپنا پر زمین کے اندر ڈال کر اس زمین کا طبقہ اٹھا لیا اور آسمان کی طرف لے گئے۔ مفسروں نے بیان کیا ہے کہ آسمان والوں نے اس وقت مرغوں کے بولنے اور کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سنیں پھر جبرئیل (علیہ السلام) نے اس طبقہ کو اٹھا کر زمین کی طرف پھینک دیا یہ لوگ اوندھے آکر زمین پر پڑے یہی معنی ہیں جعلنا عالیھا سلفھا کے مطلب یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت) ” نشان کئے ہوئے تیرے رب کے پاس “ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی (آیت) ” اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں۔ “ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے، تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہوجائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 74–86

قوم لوط کی تباہی کا حکم قول باری ہے فلما ذھب عن ابراہیم الروح و جاء تہ البشری یجادلنا فی قوم لوط ۔ پھر جب ابراہیم کی گھبراہٹ دورہو گئی اور اولاد کی بشارت سے اس کا دل خوش ہوگیا تو اس نے قوط لوط کے معاملہ میں ہم سے جھگڑا شروع کیا ۔ یعنی جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے خوف دور ہوگیا تو وہ فرشتوں سے یہ سن کر کہ انہیں قوم لوط کر ہلاک کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے ، ا ن سے جھگڑنے لگے ، اس موقعہ پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرشتوں سے فرمایا کہ تم قوط لوط کو کیسے ہلاک کرو گے جبکہ وہاں لوط (علیہ السلام) بھی موجود ہیں ؟ فرشتوں نے جواب میں کہا کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہیں ۔ ہم انہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

167 ۔ قوم لوط کے عذاب کے لیے خاص نشان زدہ پتھر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب آپہنچا ہمارا حکم تو ہم نے تلپٹ کردیا ان بستیوں کو اور تابڑ توڑ برسائے ان پر کھنگر کے ایسے پتھر جن پر خاص نشان لگے ہوئے تھے تمہارے رب کی طرف سے۔ اور وہ بستیاں کچھ زیادہ دور نہیں دور حاضر کے ان ظالموں سے۔ سو ان پر برسائے جانے والے ان پتھروں پر خاص نشان لگے ہوئے تھے۔ کہ فلاں پتھر سے فلاں کافر کا کام تمام کیا جائے تاکہ وہ انہی کو لگیں جو ان کے حق دار تھے۔ نیز یہ کہ وہ پتھر عام زمینی پتھروں سے الگ اور خاص قسم کی امتیازی شکل والے پتھر تھے جو اس مجرم قوم کے لیے بطور خاص تیار کئے گئے تھے۔ (قرطبی، مراغی، وغیرہ) سو ان پتھروں کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 77–83

قوم لوط کا عمل بد اور ان پر عذاب تشریح : حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا قصہ سورة اعراف کے رکوع 11 میں گزر چکا ہے۔ ان آیات میں بھی کافی تفصیل سے بتایا گیا ہے یہ بھی عبرت ناک واقعہ ہے جو قرآن پاک میں مسلمانوں کو سمجھانے کے لیے بیان کیا جا رہا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے چچا زاد بھائی تھے آپ مصر سے ہجرت کر کے دریائے اردن کی ترائی میں آباد ہوئے یہاں سدوم، عموراہ زبویم کی بستیاں آباد تھیں اور اب ان کی جگہ بحیرہ مردار ہے جو مدینہ سے شام کے راستے میں آتا ہے۔ جیسا کہ مذکورہ آیات میں بتایا گیا ہے قوم لوط غیر فطری، خبیث اور بےحیائی کے کام کی عادی ہوگئی تھی۔ اور جب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 69–83

آیات 69 تا 83 اسرار و معارف اعمال وکردار اور ان پر مرتب ہونے والے نتائج کا یہ فرق اس واقعہ سے بھی ظاہر ہے کہ جب ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اپنے فرشتے بھیجے کہ انھیں اولاد کی خوشخبری دیں وہی فرشتے جو ان کے لئے نوید مسرت لائے تھے قوم لوط پر تباہی لانے کے لئے بھی مامور تھے جو ان سے صرف دس بارہ میل آباد تھی۔ یہ فرشتے انسانی شکل میں پہنچے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے سمجھا کوئی مہمان آگئے ہیں ۔ جب انھوں نے سلام کیا اور آپ نے سلام کا جواب دیا انھیں بٹھایا اور فورا ایک بچھڑاتل کرلے آئے چونکہ آپ کے ہاں گائے بیل تھے تو ایک موٹا تازہ بچھڑاکاٹ کر پکاکر حاضر کردیا۔ سلام اور جواب یہاں ظاہر ہے کہ ہر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 12 ۔ یعنی آج جو لوگ ظلم کی روش پر چل رہے ہیں ( جیسے کفار مکہ) ان پر بھی نزول عذاب بعید قیاس نہیں۔ عذاب اگر قوم لوط پر آسکتا تھا تو ان پر بھی آسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(11:83) مسومۃ۔ اسم مفعول واحد مؤنث تسویم (تفعیل) مصدر۔ نشان زدہ حجارۃ کی صفت ہے۔ سیمۃ۔ سومۃ وسیما۔ علامت ۔ نشانی۔ ھی۔ ضمیر واحد مؤنث غائب حجارۃ مسومۃ کی طرف راجع ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 77–83

لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 83 سیء (رنجیدہ ہوا) ضاق (تنگ ہوگیا) یوم عصیب (بھاری دن۔ مشکل وقت ) یھرعون (وہ دوڑتے ہیں) السیئات (سیئۃ ) برائیاں بناتی (میری بیٹیاں) اطھر (زیادہ پاک باز، صاف ستھری) لاتخزون (تمجھے مجھے رسوا نہ کرو) ضیفی (میرے مہمان) رجل (مرد) رشید (زیادہ بہتر، زیادہ سمجھ دار) اوی (لینے والا) رکن شدید (مضبوط سہارا) لن یصلوا (وہ ہرگز نہ پہنچیں گے) اسر (رات کو نکل جا) قطع (حصہ) اللیل (رات) لایلتفت (توجہ نہ کرنا) امراتک (تیری بیوی) عالیھا (اس کے اوپر کو) سافلھا (اس کے نیچے) امطرنا (ہم نے برسایا) سجیل (پکی اینٹ) منضود (پتھر) مسومۃ (نام لکھا ہوا، متعین و مقرر) تشریح : آیت نمبر 77 تا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 82–83

مطلب یہ ہے کہ جب حضرت لوط (علیہ السلام) خدا کے حکم سے باہر چلے گئے اور خدا کا عذاب آیا۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے اپنا پر زمین کے اندر ڈال کر اس زمین کا طبقہ اٹھا لیا اور آسمان کی طرف لے گئے۔ آسمان والوں نے اس وقت مرغوں کے بولنے اور کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سنیں۔ پھر جبرئیل (علیہ السلام) نے اس طبقہ کو اٹھا کر زمین کی طرف پھینک دیا یہ لوگ اوندھے آکر زمین پر پڑے۔ پھر پتھر کی کنکریوں کی بھرمار اوپر سے ہوئی۔ ان کنکریوں پر لوگوں کے نام کی مہریں لگی ہوئی تھیں، جس کے نام کی کنکری ہوتی اسی پر پڑتی تھی۔ پھر خدا نے فرمایا کہ یہ بات ظالموں سے کچھ بعید نہیں۔ وہ لوگ اپنے ظلم کے سبب سے اسی لائق تھے وہاں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[45] یعنی ہر پتھر پر کوئی خاص علامت تھی جو اسے عام پتھروں سے ممتاز کرتی تھی کہ عذالب الٰہی کے پتھر ہیں۔ [46] یعنی کفار مکہ سے جو اپنے سفر شام میں برابر اس راہ سے آتے جاتے رہتے تھے جس پر یہ بستی واقع تھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ناپاک اور خبیث النفس لوگ : (ف 3) اس بستی کو جہاں یہ ناپاک لوگ رہتے تھے ، اللہ کے عذاب نے آگھیرا اور اسے الٹ دیا گیا ، وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مٹ گئے ، یہ کیوں ؟ اس لئے کہ جب قوم میں شہوانی خیالات اس درجہ رائج ہوجائیں کہ اٹھتے بیٹھتے انہیں سوا اس کے اور کوئی مشغلہ ہی پسند نہ ہو ، جس کا روز مرہ فحش اور گندا ہو ، جو فطرت کے مضبوط اور مستقیم اصولوں کو پس پشت ڈالدے ، جو خیر خواہوں کی باتوں کا مضحکہ اڑائے ، جو اس درجہ ذلیل ہوجائے کہ نفس کی خباثتیں اس پر غالب آجائیں ، اس قوم کا ہلاک ہوجانا ہی بہتر ہے ۔ ” فبطن الارض خیرمن ظھرھا “۔ ہر پیغمبر توحید کے ساتھ کچھ مخصوص تعلیمات بھی پیش کرتا ہے جن کا تعلق قوم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

83 جن پر آپ کے رب کی طرف سے خاص نشان کئے ہوئے تھے اور یہ بستیاں کفار مکہ کے ظالموں سے کچھ دور نہیں ہیں یعنی لوط (علیہ السلام) تورات کو نکل گئے صبح ہوتے عذاب آیا تو سدوم کی بستیاں الٹ پلٹ کردی گئیں نیچے کا حصہ اوپر اور اوپر کا حصہ نیچے ہوگیا پھر اوپر سے پتھر برسے نشان کئے ہوئے پتھر پر کوئی ایسا نشان ہوگا جو عام پتھروں کے اعتبار سے ممتاز تھے یعنی عذاب کے پتھر دوسرے پتھروں سے ممتاز تھے بعض نے کہا ہر پتھر پر مجرم کا نام لکھا ہوا تھا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی غیبی نشان جسے ہرش خص نہ دیکھ سکتا ہو کفار مکہ سے بستیاں دور نہیں با اعتبار زمانہ یا با اعتبار مسافت یہ بستیاں ملک شام کو جاتے وقت راستے میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ کنکریوں کو جو مماز کہا سودرمنثور میں روایات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان پر کچھ خاص رنگ اور ہیبت کے نقوش بنے تھے جو دنیا کے احجار میں نہیں دیکھے جاتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

خاص نشان کئے گئے پتھر برسانے کا مطلب کیا ہے ؟ 107 (ب) ؎ ان پتھروں کو نشان لگائے گئے اس لئے کہا گیا ہے کہ گویا وہ ان کے لئے مقدر ہوچکے تھے اور ہر ایک پر وہی پتھر گرا جس میں اس کی ہلاکت طے کردی گئی جس کو ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ اس کا پتھر صحیح نشانہ پر بیٹھا کہ جہاں لگانا چاہا وہیں جا کر لگا۔ اس وقت اس قوم کے لوگوں کی یہی حالت ہوئی تھی اور ایک بھی ایسا نہ ہوا کہ جو ان میں سے بچ نکلا۔ اس آیت پر لوط (علیہ السلام) کے قصہ کا خاتمہ ہوگیا اور اب لوط (علیہ السلام) کا مختصر تذکرہ یہاں نقل کیا جاتا ہے جو اس سورة میں بیان کئے گئے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے تذکار میں سے چوتھا تذکرہ ہے۔ سیدنا لوط (علیہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

At the end of the verse (83), after having mentioned the actual punishment that hit the people of Sayyidna Lut (علیہ السلام) was to warn the contemporary peoples of the world that it was said: وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ (And it is not far from the transgressors). It means that people who insist upon indulging in this shameful act should not consider themselves very far from this punishment. It can come even today. The Holy Prophet said, ` even in my Ummah, some people will do what the people of Lut (علیہ السلام) used to do. When this starts happening, then wait, for they too…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

92. This implies that each stone had been earmarked for a specific act of destruction. 93. The moral of the story is that those who engage in acts of transgression should not delude themselves into believing that they are safe from God's punishment. For, if the people of Prophet Lot (peace be on him) could be overtaken by a severe chastisement, so can they. For none can overwhelm God or frustrate His plan: neither the people of Lot nor any other.

Read the full tafseer →