Explained with ayahs 82–83
آج کے ایٹم بم اس وقت کے پتھروں کی بارش
سورج کے نکلنے کے وقت اللہ کا عذاب ان پر آگیا۔ ان کی بستی سدوم نامی تہ وبالا ہوگئی۔ عذاب نے اوپر تلے سے ڈھانک لیا۔ آسمان سے پکی مٹی کے پتھر ان پر برسنے لگے۔ جو سخت، وزنی اور بہت بڑے بڑے تھے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے سجین سجیل دونوں ایک ہی ہیں۔ منضود سے مراد پے بہ پے تہ بہ تہ ایک کے بعد ایک کے ہیں۔ ان پتروں پر قدرتی طور پر ان لوگوں کے نام لکھے ہوئے تھے۔ جس کے نام کا پتھر تھا اسی پر گرتا تھا۔ وہ مثل طوق کے تھے جو سرخی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ یہ ان شہریوں پر بھی برسے اور یہاں کے جو لوگ اور گاؤں گوٹھ میں تھے ان پر بھی وہیں گرے۔ ان میں سے جو جہاں تھا وہیں پتھر سے…
Read the full tafseer →سورة هُوْد 91
غالبًا یہ عذاب ایک سخت زلزلے اور آتش فشانی انفجار کی شکل میں آیا تھا۔ زلزلے نے ان کی بستیوں کو تل پٹ کیا اور آتش فشاں مادے کے پھٹنے سے ان کے اوپر زور کا پتھراؤہوا۔ پکی ہوئی مٹی کے پتھروں سے مراد شاید وہ متحجد مٹی ہے جو آتش فشاں علاقے میں زیرِ زمین حرارت اور لاوے کے اثر سے پتھر کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ آج تک بحرِ لوط کے جنوب او رمشرق کے علاقے میں اس انفجار کے آثار ہر طرف نمایاں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
اس وقت فرشتوں نے بحکم ربانی حضرت لوط ؑ کو کہا (آیت) فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّيْلِ ، یعنی آپ رات کے آخری حصہ میں اپنے اہل و عیال کو لے کر یہاں سے نکل جائے۔ اور یہ ہدایت کردیجئے کہ ان میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے، بجز آپ کی بیوی کے کیونکہ اس پر تو وہی عذاب پڑنے والا ہے جو قوم پر پڑے گا۔
اس کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ بیوی کو ساتھ نہ لیں، اور یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ بیوی ہونے کی حیثیت سے وہ آپ کے اہل میں داخل ہو کر ساتھ چلے گی مگر وہ آپ کے اس حکم پر عمل نہ کرے گی جو آپ اپنے اہل عیال کو دیں گے کہ کوئی مڑ کر نہ دیکھے، بعض روایات میں ہے کہ یونہی ہوا کہ یہ بیوی بھی ساتھ چلی مگر جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
82۔ 83:۔ فَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَاَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّيْلٍ ڏ مَّنْضُوْدٍ۔ مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ ۭ وَمَا ھِيَ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ بِبَعِيْدٍ۔
یعنی جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے ان پر ایسی تند آندھی بھیجی کہ اس نے ان کے مکانوں کو بالکل تلپٹ کر کے رکھ دیا وامطرنا علیہاحجارۃ من سجیل، سجیل، سنگ گل کا معرب ہے۔ یعنی ہم نے ان کی بستی پر خوب سنگ گل کی تہ بہ تہ بارش کردی۔ مسومۃ عند ربک۔ وہ تیرے رب کے پاس نشان لگائے ہوئے یعنی خدا کے علم اور اس کی قدرت میں پہلے سے مقدر اور مقرر تھے۔ گویا ان کے چٹے لگا کر پہلے سے ان پر نشان لگا دیا گیا تھا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
81۔ 1 جب فرشتوں نے حضرت لوط ؑ کی بےبسی اور ان کی قوم کی سرکشی کا مشاہدہ کرلیا تو بولے، اے لوط ! گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، ہم تک تو کیا، اب یہ تجھ تک بھی نہیں پہنچ سکتے۔ اب رات کے ایک حصے میں، سوائے بیوی کے، اپنے گھر والوں کو لے کر یہاں سے نکل جا ! صبح ہوتے ہی اس بستی کو ہلاک کردیا جائے گا۔
Read the full tafseer →48: روایات میں ہے کہ یہ کل چار بستیاں تھیں جن میں یہ بد قماش لوگ بستے تھے، اس ساری بستیوں کو فرشتوں نے جوں کا توں اوپر اٹھا کر زمین پر اوندھا پٹخ دیا، اور ان کا نام ونشان مٹ گیا، بعض حضرات کا کہنا ہے کہ بحر میت (dead sea) جسے بحر مردار بھی کہا جاتا ہے ان بستیوں کے الٹنے سے پیدا ہوا ہے، ورنہ کسی بڑے سمندر سے اس کا رابطہ نہیں ہے، اس کے علاوہ جس مقام پر یہ بستیاں واقع تھیں یعنی بحر مردار کے آس پاس کا علاقہ، اس کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ پورے کرہ زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے، یعنی زمین کا کوئی اور حصہ سطح سمندر سے اتنا نیچا نہیں ہے جتنا نیچا یہ ہے، قرآن کریم نے جو فرمایا ہے کہ ہم نے اس زمین کے اوپر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
یعنی جب ان پر عذاب نافذ کرنے کا وقت آیا تو ہم نے ان کی بستی کو اوپر نیچے کردیا۔ یعنی یہ سزا ان کے لیے اس لیے تجویز ہوئی کہ انہوں نے بھی اپنے آپ کو مقام انسانیت سے گرا کر مقام حیوانیت تک لے آئے تھے۔ بلکہ وہ حیوانات سے بھی نیچے گر گئے تھے کیونکہ حیوانات بہرحال حیوانی فطرت کے اصولوں کے تابع ہوتے ہیں اور اپنی حدود کے اندر رہتے ہیں۔ لیکن انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو فطرت کی حدود کو بھی پار کرلیتا ہے۔
أَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ (83 : 11) اور ہم نے ان پر مٹی آلود پتھر برسائے۔ ” یعنی ایسے پتھر جن کے ساتھ مٹی لگی ہوئی تھی۔ اس مقام پر ان کے لیے خاک آلود پتھر ان کے حال اور مقام سے زیادہ…
Read the full tafseer →1 جبرائیل (علیہ السلام) نے ان بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب سے نیچے پٹک دیا۔ اس طرح سب بستیاں تہ وبالا ہوگئیں۔ پھر ان کی نکایت اور ذلت و رسوائی کی پوری تکمیل کے لیے اوپر سے جھانوے اور پتھر برسائے گئے۔ شہر کی آبادی سے الگ جو افراد اس قوم کے جس جگہ تھے وہیں پتھروں سے ہلاک کیے گئے (العیاذ باللہ) (تنبیہ) جو سزا اس قوم کو اوپر نیچے کرنے کی ملی ان کی شرمناک حرکت سے ظاہری مناسبت بھی رکھتی ہے۔
2 " منضود " کے معنی مترجم محقق ' نے " تہ بہ تہ " کئے ہیں۔ بعض نے یہ معنی لیے کہ پتھر مسلسل یکے بعد دیگرے برس رہے تھے۔
Read the full tafseer →آیت 82 فَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا
یعنی ان بستیوں کو تلپٹ کردیا گیا۔ جب عمارتیں تباہ ہوتی ہیں تو چھت زمین بوس ہوجاتی ہے اور دیواریں اس کے اوپر گرتی ہیں بنیادیں بھی اوپر آجاتی ہیں۔
وَاَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّيْلٍ ڏ مَّنْضُوْدٍ
سِجِّیل اصل میں فارسی لفظ ہے۔ فارسی میں یہ ”سنگ گل“ تھا جو عربی میں آکر سِجِّیل کا تلفظ اختیار کرگیا۔ سنگ کے معنی پتھر اور گل کے معنی مٹی کے ہیں۔ یعنی مٹی کے پتھر جو گیلی مٹی کے دھوپ میں گرم ہو کر پختہ ہوجانے کے بعد بنتے ہیں جیسے اینٹوں کو بھٹے میں پکایا جاتا ہے۔ ان بستیوں پر عذاب دو صورتوں میں آیا ایک زمین کے اندر کوئی زور…
Read the full tafseer →93 کیا قوم لوط پر عذاب آتش فشانی انفجار تھا ؟ یہ وہ عذاب الٰہی کا حکم تھا جس پر فرشتوں کو مامور کیا گیا تھا۔ جبریل نے شہر سدوم اور آس پاس کی بستیوں کو، جو ان بدکاروں کا مسکن تھا اس پورے خطہ زمین کو اکھاڑ کر اپنے پروں پر اٹھایا پھر فضا میں بلندی پر لے جا کر اس خطہ کو الٹا کر زمین پر پٹخ دیا۔ پھر اس خطہ زمین پر اوپر سے لگاتار کھل کر پتھر برسائے گئے اور پتھر بھی عام پتھر نہ تھے بلکہ مخصوص علامت والے پتھر تھے اور یہ دوہرا عذاب انھیں غضب الٰہی کی شدت کی بنا پر دیا گیا۔
بعض لوگ اس عذاب الٰہی کی یہ عقلی توجیہ پیش کرتے ہیں کہ یہ آتش فشانی انفجار تھا۔ زمین سے شدید قوت کے ساتھ لاوا پھوٹا جس نے اس خطہ…
Read the full tafseer →122۔ یعنی لگاتار گرنے اور برسنے لگے۔ (آیت) ” جآء امرنا “۔ یعنی عذاب موعود کا وقت آپہنچا۔ (آیت) ” جعلنا عالیھا سافلھا “۔ یعنی ان بستیوں کا تختہ الٹ دیا۔ (آیت) ” سجیل “۔ سے مراد ہے سکھائی ہوئی مٹی کا پتھر جسے ہمارے ہاں جھانواں کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–83
آیت نمبر 69 تا 83
ترجمہ : ہمارے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحاق اور اس کے بعد یعقوب کی خوشخبری لے کر پہنچے، کہا تم پر سلام ہو سلامًا مصدر ہے ابراہیم نے کہا تم پر بھی سلام ہو کچھ) زیادہ ( دیر نہیں گزری کہ ابراہیم بھنا ہوا بچھڑا لے آئے مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑحٹے تو ان کو اجنبی محسوس کیا نَکِرَ بمعنی اَنکِرَ ہے تو ان کی طرف سے اپنے دل میں ابراہیم نے خوف محسوس کیا فرشتوں نے کہا خوف نہ کرو، ہمیں قوم لوط کی طرف بھیجا گیا ہے تاکہ ہم اس کو ہلاک کریں اور ابراہیم کی بیوی سارہ ان کی خدمت میں لگی ہوئی تھی تو وہ قوم کی ہلاکت) اور لوط ( کی) نجات کی ( بشارت سن کر ہنس پڑیں،…
Read the full tafseer →فلما جآء امرنا پر جب ہمارا حکم (یعنی عذاب کا حکم یا عذاب) آگیا۔ اوّل مفہوم کی تائید اگلی آیت سے ہو رہی ہے۔
جعلنا عالیھا سافلھا تو ہم نے ان بستیوں کو (اُلٹ) کر زیر و زبر کردیا (یعنی الٹ دیا ‘ اوپر کا تختہ نیچے اور نیچے کا اوپر کردیا) اگرچہ یہ فعل ملائکہ کا تھا ‘ ملائکہ نے اٹھا تھا لیکن چونکہ بحکم الٰہی تھا اس لئے الٹنے کی نسبت اللہ نے اپنی طرف کی۔ اس سے اپنے امر کی عظمت کا اظہار مقصود ہے۔ بغوی نے لکھا ہے : قوم لوط کی پانچ بستیاں تھیں ‘ حضرت جبرئیل نے بستیوں کے نیچے اپنا ایک بازو ڈال کر اتنا اٹھا لیا کہ اوپر والوں نے مرغ کی بانگ کی اور کتوں کے بھونکنے کی آواز سنی اور کسی کا کوئی برتن بھی نہ…
Read the full tafseer →(82) سو جب ہمارا عذاب انکے ہلاک کرنے کے لیے آپہنچا تو ہم نے اس زمین کو الٹ کر اوپر کا تختہ نیچے اور نیچے کا تختہ اوپر کردیا، اور ان کے مسافروں اور بکھرے ہوئے لوگوں پرکھنگر کے پتھر برسانا شروع کیے جو مسلسل گر رہے تھے جن پر سیاہی، سفیدی اور سرخی کی لکیریں تھیں یا یہ کہ ہر ایک پتھر پر ہلاک ہونیوالے گا نام لکھا ہوا تھا۔ محمد ﷺ یہ پتھر ان لوگوں پر آپ کے پروردگار کی طرف سے برس رہے تھے۔
Read the full tafseer →فَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا۔۔ : یعنی جب ہمارے عذاب کا حکم آیا تو ہم نے اس بستی کے اوپر کا حصہ اس کا نیچے کا حصہ کردیا، یعنی پوری بستی الٹ دی۔ یہ عذاب ان کے فعل شنیع سے مناسبت رکھتا تھا کہ انھوں نے بھی فطرت کو بدل کر عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کو اپنی شہوت رانی کا ذریعہ بنا لیا۔
سِجِّيْلٍ : سنگ و گِل (پتھر اور مٹی کے ملے ہوئے ڈھیلے) یا سنگ گِل (مٹی کے پتھر یعنی پختہ اینٹوں کے روڑے یا کھنگر) مزید عذاب کے طور پر بستی الٹنے کے بعد اس پر اینٹوں اور پتھروں کی ایسی مسلسل بارش برسائی کہ ان کی تہیں لگ گئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
آیت نمبر 77 تا 83
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ولماجآءت رسلنالوطًاسیٓء بھمجب فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے نکلے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستی کے درمیان چار فرسخ (بارہ شرعی میل) کا فاصلہ تھا۔ (قوم) لوط کی دو بیٹیوں نے فرشتوں کو دیکھا اور وہ دونوں پانی بھر رہی تھی۔ اور ان دونوں نے خوبصورت شکل کو دیکھا۔ تو انہوں نے کہا : تم کون ہو ؟ اور کہاں سے تم آئے ؟ انہوں نے کہا : فلاں جگہ سےِ ، ہم اس گاؤں کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا : اس کے رہنے والے فحش (کام کرنے والے) لوگ ہیں۔ تو انہوں نے کہا : کیا اس میں وہ شخص ہے جو ہمیں پناہ دے گا ؟ انہوں نے کہا : ہاں، یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–83
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجآءہ قومہ یھرعون الیہ “ یعنی وہ تیز چلتے ہوئے آئے (آیت) ” ومن قبل کانوا یعملون السیات “ یعنی وہ مردوں کے پاس آتے تھے (شہوت رانی کے لئے)
2:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجآءہ قومہ یھرعون الیہ “ یعنی وہ ان کی طرف دوڑے ہوئے آئے۔
3:۔ طستی (رح) نے نافع بن ازرق (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” یھرعون الیہ “ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا کہ وہ آپ کی طرف انتہائی غصہ کے ساتھ آرہے ہیں پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں…
Read the full tafseer →[فَلَمَا : پھر جب ] [ جَاۗءَ : آیا ] [ اَمْرُنَا : ہمارا حکم ] [جَعَلْنَا : تو ہم نے بنادیا ] [عَالِيَهَا : اس (بستی) کے بلند کو ] [سَافِلَهَا : اس کا پست ] [ وَاَمْطَرْنَا : اور ہم نے برسائے ] [عَلَيْهَا : اس پر ] [حِجَارَةً : کچھ پتھر ] [ مِّنْ سِجِّيْلٍ ڏ مَنْضُوْدٍ : تہہ بہ تہہ کئے ہوئے مٹی کے پتھر میں سے ]
س ج ل
[سَجْلًا : (ن) (1) اوپر سے پانی گرانا۔ (2) کتاب کو لگاتار پڑھنا۔] [سِجِلٌ: دعوئوں اور فیصلوں کو لکھنے کے اوراق جو قاضی اپنے پاس محفوظ رکھتا ہے۔ جو ڈیشنل ریکارڈ۔ یَوْمَ نَطْوِی السَّمَائَ کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْکُتُبِ (جس دن ہم لپیٹیں گے آسمان کو جیسے عدالتی کاروائی کی دستاویز کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
فرشتوں کا حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آنا، ان کی بد کار قوم کا ہلاک ہونا اور اہل ایمان کا نجات پانا
اللہ تعالیٰ نے جو فرشتے لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کیلئے بھیجے تھے وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بشارت دے کر اور ان کے مکالمہ اور مجادلہ سے فارغ ہو کر حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے جو انسانی شکلوں میں تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو لڑکوں اور مردوں کے ساتھ بد فعلی کی عادت تھی ‘ وہ منع کرتے تھے تو باز نہ آتے تھے اور الٹا حضرت لوط (علیہ السلام) کے ساتھیوں کو طعنہ دیتے تھے اور یوں کہتے تھے ان لوگوں کو بستی سے نکال دو یہ بڑے پاک باز بنتے ہیں (جیسا کہ سورة اعراف کے رکوع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
قصہ لوط (علیہ السلام) وقوم او کہ تتمہ قصہ سابقہ است
قال اللہ تعالیٰ ولما جاءت رسلنا لوطا سیء بھم .... الیٰ .... وما ہی من الظلمین ببعید۔
(ربط) گزشتہ قصہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ پیش آیا اب اس کے بعد لوط (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں لوط (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے اور اہل سدوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ یہ بستی حمص کے قریب تھی اور اسکے پاس اور بھی کچھ گاؤں تھے جن کی مجموعی آبادی تقریباً چار لاکھ تھی سوائے اہل ایمان کے سب ہلاک ہوگئے۔ یہ قصہ کا تتمہ ہے یا یوں کہو کہ پہلا قصہ اس قصہ کی تمہید تھا۔ اور اصل مقصود قوم لوط کی ہلاکت کا قصہ بیان کرنا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
73:۔ جب عذاب کا مقررہ وقت آپہنچا تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے قوم لوط کی بستیوں کی زمین کو اکھاڑ لیا اور آسمان کے قریب لے جا کر زمین پردے مارا اور اوپر سے سخت مٹی کے پتھروں کی بارش کی گئی۔ سِجِّیْلٍ جو مٹی جم کر سخت پتھر کی مانند ہوجائے۔ مَنْضُوْدٍ تہ بتہ۔ مُسَوَّمَۃٍ ان پتھروں پر خاص نشان لگے تھے تاکہ معلوم ہوجائے کہ وہ آسمان سے آئے ہیں یا مطلب یہ ہے کہ ہر پتھر پر اس آدمی کا نام کندہ تھا جس کی اس سے ہلاکت مقدر تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
ربط آیات
گزشتہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دی جانے والی بشارت کا ذکر تھا اور پھر لوط (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا تذکرہ تھا ، دراصل مضمون کا یہی حصہ ہے جو سابقہ موضوع کے تسلسل میں ہے بعض سابقہ ابنیاء اور ان کی قوموں کا حال پہلے بیان ہوچکا ہے اور پھر ان کی نافرمانی کی بنا پر ان قوموں پر جو عذاب آیا اس کا ذکر بھی ہوچکا ہے۔ اب لوط (علیہ السلام) کے واقعہ میں …… آپ کی قوم پر عذاب کی کیفیت بیان ہو رہی ہے۔
یہاں پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کا ذکر اکٹھا آیا ہے۔ جو فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بشارت لائے تھے۔ وہی قوم لوط پر عذاب برپا کرنے پر بھی مامور…
Read the full tafseer →فَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَہَا سَافِلَہَا وَاَمْطَرْنَا عَلَيْہَا حِجَارَۃً مِّنْ سِجِّيْلٍ 0ۥۙ مَّنْضُوْدٍ 82ۙ
لَمَّا
يستعمل علی وجهين :
أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر .
( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–83
1 ؎ الضحک ہوالسرور و انبساط الوجہ دھذا قول الجمہور وقیل ضحکت بمعنی حاضت العرب یقول اضحکت الارنب اذا خاصت وانکرہ اکثر اہل اللغۃ یعقوب بالنصب مفعول بشرنا وقری بالجرومنعہ الفراء وقری بالرفع علی الابتدا وخبرہ الظرف الذیمی قبلہ اہل البیت نصبہ علی المدح اذا الاختصاص وفیہ دلیل علی ان ازواج الرجل من اہل بیتہ۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
فَلَمَّا جَآئَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا وَاَمْطَرْنَا عَلَیْھَا حِجَارَۃً مِّنْ سِجِّیْلٍ 5 لا مَّنْضُوْدٍ ۔ مُّسْوَّمَۃً عِنْدَرَبِّکَ ط وَمَا ھِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعْیِدٍ ۔
(سورۃ ہود : 82، 83)
(پس جب آپہنچا ہمارا عذاب تو ہم نے اس کی بلندی کو اس کی پستی کردیا اور اس پر سنگ گِل کی بارش کی، تہ بہ تہ جن پر تمہارے رب کے پاس سے نشان لگے ہوئے تھے اور لوط کی بستی ظالموں سے کچھ دور نہیں۔ )
قوم لوط پر عذاب
صبح ہوتے ہی قوم لوط پر اللہ کا عذاب ٹوٹ پڑا۔ اس عذاب کی صورت کیا تھی ؟ حقیقت تو اللہ جانتا ہے، لیکن آیت کے الفاظ یہ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے ان کی زمین کو شق کیا گیا جس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
فہم القرآن
ربط کلام : قوم لوط پر نازل ہونے والے عذاب کی کیفیت بیان کی جارہی ہے۔
قوم لوط نے نفسانی خواہش اپنی بیویوں سے پوری کرنے کے بجائے لڑکوں سے شروع کر رکھی تھی۔ گویا کہ یہ ہم جنسی کے بدترین گناہ میں مرتکب چکے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے بار بار سمجھانے کے باوجود باز آنے پر تیار نہ ہوئے۔ بلکہ حضرت لوط (علیہ السلام) کو رجم کردینے کی دھمکی دینے کے ساتھ عذاب الٰہی کا مطالبہ کرتے رہے۔
(أَءِنَّکُمْ لَتَأْتُوْنَ الرِّجَالَ وَتَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ وَتَأْتُوْنَ فِیْ نَادِیْکُمُ الْمُنْکَرَ فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہِ إِلَّا أَنْ قَالُوْا اءْتِنَا بِعَذَاب اللَّہِ إِنْ کُنْتَ مِنَ…
Read the full tafseer →انجام قوم :
82: فَلَمَّا جَآئَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا (جب ہمارا حکم آیا تو ہم نے ان کے اوپر کو نیچے کردیا) جبرئیل (علیہ السلام) نے اپنے پر کو اس کے نیچے رکھا پھر آسمان کی طرف اٹھا کر بلند کیا یہاں تک کہ آسمان والوں نے کتوں کے بھونکنے اور مرغوں کی بانگ کو سنا۔ پھر اس کو الٹ دیا اور اوپر سے پتھروں کی بارش کی اور اس کا تذکرہ اس ارشاد میں ہے۔ وَاَمْطَرْنَا عَلَیْھَا حِجَارَۃً مِّنْ سِجِّیْلٍ (ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے) سجیل کا لفظ معرب ہے ( سنگ گل) سے دوسرے مقام میں اس طرح فرمایا حجارۃ من طین [ الذاریات : 33[ مَّنْضُوْدٍ (مسلسل) یہ سجیل کی صفت ہے نمبر 1۔ پہ در پہ نمبر 2۔…
Read the full tafseer →قوم لوط کی بستی کی تعداد اور عذاب کا ذکر
82” فلما جاء امرنا “ ہمارا عذاب ” جعلنا عالیھا سافلھا “ جبرئیل (علیہ السلام) نے اپنے پر کو قوم لوط کی بستی کے نیچے داخل کر کے اس کو پلٹ دیا۔ یہ پانچ شہر تھے اور ان میں چار لاکھ لوگ آباد تھے اور بعض نے کہا ہے کہ چالیس لاکھ لوگ تھے تو ان سب شہروں کو اتنا بلند کیا کہ آسمان والوں نے مرغوں کی آوازیں اور کتوں کا بھونکنا سنا ، اتنا بلند جانے کے بعد باوجود نہ ان کا کوئی برتن الٹا گیا اور نہ کوئی سونے والا جاگا ۔ پھر اس کو پلٹ کر نیچے مارا ۔
” وامطرنا علیھا “ ان کے متفرق لوگوں اور مسافروں پر اور بعض نے کہا ہے کہ ان کے پلٹنے کے بعد ان پر پتھر برسائے۔ ” حجارۃ من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
82۔ 83۔ جب لوط (علیہ السلام) کو حکم ہوگیا کہ آپ معہ اہل و عیال کے فقط اپنی بیوی کو چھوڑ کر اس گاؤں سے چلے جائیں اب ان پر عذاب آوے گا اور کوئی تم میں سے پیچھے مڑ کر نہ دیکھے غرض کہ حضرت لوط (علیہ السلام) خدا کے حکم سے باہر چلے گئے اور خدا کا عذاب آیا جبرئیل (علیہ السلام) نے اپنا پر زمین کے اندر ڈال کر اس زمین کا طبقہ اٹھا لیا اور آسمان کی طرف لے گئے۔ مفسروں نے بیان کیا ہے کہ آسمان والوں نے اس وقت مرغوں کے بولنے اور کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سنیں پھر جبرئیل (علیہ السلام) نے اس طبقہ کو اٹھا کر زمین کی طرف پھینک دیا یہ لوگ اوندھے آکر زمین پر پڑے یہی معنی ہیں جعلنا عالیھا سلفھا کے مطلب یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →“ (آیت) ” تو جب ہمارا حکم آیا “ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا (آیت) ” کردیا ہم نے “ ان کی بستیوں کو (آیت) ” اوپر نیچے “ یعنی ہم نے تلپٹ کردیا (آیت) ” اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے “ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ (آیت) ” تہ بہ تہ “ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–86
قوم لوط کی تباہی کا حکم
قول باری ہے فلما ذھب عن ابراہیم الروح و جاء تہ البشری یجادلنا فی قوم لوط ۔ پھر جب ابراہیم کی گھبراہٹ دورہو گئی اور اولاد کی بشارت سے اس کا دل خوش ہوگیا تو اس نے قوط لوط کے معاملہ میں ہم سے جھگڑا شروع کیا ۔ یعنی جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے خوف دور ہوگیا تو وہ فرشتوں سے یہ سن کر کہ انہیں قوم لوط کر ہلاک کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے ، ا ن سے جھگڑنے لگے ، اس موقعہ پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرشتوں سے فرمایا کہ تم قوط لوط کو کیسے ہلاک کرو گے جبکہ وہاں لوط (علیہ السلام) بھی موجود ہیں ؟ فرشتوں نے جواب میں کہا کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہیں ۔ ہم انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
165 ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی عذاب پانے والوں میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کو ہدایت فرمائی گئی کہ آپ رات کا کچھ حصہ اپنے لوگوں کو لیکر یہاں سے اس طرح نکل جائیں کہ تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھے سوائے تمہاری بیوی کے۔ کہ اس پر بھی وہی بلا آنے والی ہے جو ان لوگوں پر آنے والی ہے۔ اور آخرکار ایسے ہی ہوا۔ اور وہ بدبخت عورت بھی عذاب پانے والوں میں شامل ہو کر رہی۔ اور پیغمبر کی زوجیت کا عظیم الشان رشتہ بھی اس کو اس عذاب سے بچانے کے لیے کام نہ آسکا۔ سو اپنے ایمان و عقیدہ کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا رشتہ بھی انسان کے کچھ کام نہیں آسکتا۔ پس اس سے دو بنیادی باتیں معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
قوم لوط کا عمل بد اور ان پر عذاب
تشریح : حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا قصہ سورة اعراف کے رکوع 11 میں گزر چکا ہے۔ ان آیات میں بھی کافی تفصیل سے بتایا گیا ہے یہ بھی عبرت ناک واقعہ ہے جو قرآن پاک میں مسلمانوں کو سمجھانے کے لیے بیان کیا جا رہا ہے۔
حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے چچا زاد بھائی تھے آپ مصر سے ہجرت کر کے دریائے اردن کی ترائی میں آباد ہوئے یہاں سدوم، عموراہ زبویم کی بستیاں آباد تھیں اور اب ان کی جگہ بحیرہ مردار ہے جو مدینہ سے شام کے راستے میں آتا ہے۔ جیسا کہ مذکورہ آیات میں بتایا گیا ہے قوم لوط غیر فطری، خبیث اور بےحیائی کے کام کی عادی ہوگئی تھی۔ اور جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–83
آیات 69 تا 83
اسرار و معارف
اعمال وکردار اور ان پر مرتب ہونے والے نتائج کا یہ فرق اس واقعہ سے بھی ظاہر ہے کہ جب ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اپنے فرشتے بھیجے کہ انھیں اولاد کی خوشخبری دیں وہی فرشتے جو ان کے لئے نوید مسرت لائے تھے قوم لوط پر تباہی لانے کے لئے بھی مامور تھے جو ان سے صرف دس بارہ میل آباد تھی۔ یہ فرشتے انسانی شکل میں پہنچے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے سمجھا کوئی مہمان آگئے ہیں ۔ جب انھوں نے سلام کیا اور آپ نے سلام کا جواب دیا انھیں بٹھایا اور فورا ایک بچھڑاتل کرلے آئے چونکہ آپ کے ہاں گائے بیل تھے تو ایک موٹا تازہ بچھڑاکاٹ کر پکاکر حاضر کردیا۔
سلام اور جواب
یہاں ظاہر ہے کہ ہر…
Read the full tafseer →ف 10 ۔ یعنی پختہ اینٹوں کے روڑے یا کھنگر۔
11 ۔ ” نشن لگے ہوئے۔ “ یعنی ان میں سے ہر پتھر پر کوئی علامت بنائی گئی تھی کہ اس سے کس شخص کو ہلاک کرنا ہے۔ (ابن کثیر) ۔
Read the full tafseer →(11:82) سجیل۔ کنکر۔ فارسی سنگ وگل ۔ جو عربی میں آکر سجیل بن گیا۔ سجیل کا لفظ سجل سے بنا ہے بمعنی جاری کرنا۔ دے دینا۔ یعنی ہر پتھر دیا ہوا یا بھیجا ہوا تھا۔ یا سجل سے بنا ہے بمعنی لکھا ہوا۔ یعنی اللہ نے پتھروں پر لکھ دیا تھا۔ بعض نے کہا ہے کہ سجیل اصل میں سجین تھا ن کو ل میں بدلا گیا۔ دوزخ کا ایک طبقہ۔
منضود۔ اسم مفعول۔ واحد مذکر۔ تہ برتہ۔ نضدت المتاع بعضہ علی بعض کے معنی ہیں سامان کو قرینے سے اوپر نیچے رکھنا۔ قرینے سے رکھے ہوئے سامان کو منضود یا نضد کہتے ہیں۔ جس تخت پر سامان جوڑ کر رکھا جائے اسے بھی نضید کہتے ہیں۔ اس سے استعارۃ فرمایا طلع نضید (50:10) جن کا گابھا تہ برتہ ہوتا ہے۔ یا طلح منضود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 83
سیء (رنجیدہ ہوا) ضاق (تنگ ہوگیا) یوم عصیب (بھاری دن۔ مشکل وقت ) یھرعون (وہ دوڑتے ہیں) السیئات (سیئۃ ) برائیاں بناتی (میری بیٹیاں) اطھر (زیادہ پاک باز، صاف ستھری) لاتخزون (تمجھے مجھے رسوا نہ کرو) ضیفی (میرے مہمان) رجل (مرد) رشید (زیادہ بہتر، زیادہ سمجھ دار) اوی (لینے والا) رکن شدید (مضبوط سہارا) لن یصلوا (وہ ہرگز نہ پہنچیں گے) اسر (رات کو نکل جا) قطع (حصہ) اللیل (رات) لایلتفت (توجہ نہ کرنا) امراتک (تیری بیوی) عالیھا (اس کے اوپر کو) سافلھا (اس کے نیچے) امطرنا (ہم نے برسایا) سجیل (پکی اینٹ) منضود (پتھر) مسومۃ (نام لکھا ہوا، متعین و مقرر)
تشریح : آیت نمبر 77 تا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
مطلب یہ ہے کہ جب حضرت لوط (علیہ السلام) خدا کے حکم سے باہر چلے گئے اور خدا کا عذاب آیا۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے اپنا پر زمین کے اندر ڈال کر اس زمین کا طبقہ اٹھا لیا اور آسمان کی طرف لے گئے۔ آسمان والوں نے اس وقت مرغوں کے بولنے اور کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سنیں۔ پھر جبرئیل (علیہ السلام) نے اس طبقہ کو اٹھا کر زمین کی طرف پھینک دیا یہ لوگ اوندھے آکر زمین پر پڑے۔ پھر پتھر کی کنکریوں کی بھرمار اوپر سے ہوئی۔ ان کنکریوں پر لوگوں کے نام کی مہریں لگی ہوئی تھیں، جس کے نام کی کنکری ہوتی اسی پر پڑتی تھی۔ پھر خدا نے فرمایا کہ یہ بات ظالموں سے کچھ بعید نہیں۔ وہ لوگ اپنے ظلم کے سبب سے اسی لائق تھے وہاں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
[44] اس لئے کہ وہ کافرہ تھی اور بدمعاشوں سے ملی ہوئی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
(ف 2) حضرت لوط (علیہ السلام) کی عورت نے دعوت کو قبول نہ کیا اور کفر وفسق میں قوم کا ساتھ دیا ، اس لئے ضرور تھا کہ جلد اور ضروری اس کو بھی معذبین میں شامل کرلیا جائے ،
حضرت لوط (علیہ السلام) چونکہ پیغمبر تھے ، انہوں نے اس برائی کے خلاف تو قوم کو بالخصوص لعن طعن کی ، مگر ان کی دعوت وتبلیغ میں بھی تفصیلی ہدایات موجود تھیں ، جن میں توحید سے لے کر اعمال تک تمام دوسری جزئیات شامل تھیں ، آپ کی بیوی نے آپ کی دعوت کا انکار کیا ، اس طرح وہ اس نظام فسق وفجور کا موجب بنی جو قوم کو تباہ کر رہا تھا ، اور اس لئے عذاب میں اس کا شمول ضروری ٹھہرا ورنہ خلاف وضع فطرت کے فعل میں کوئی عورت ساتھ نہیں دے سکتی ، یہ…
Read the full tafseer →82 پھر جب ہمارے عذاب کا حکم آ پہونچا تو ہم نے ان بستیوں کو الٹ کر ان کے بالائی حصہ کو نیچے کا حصہ کردیا اور الٹنے کے بعد اس سرزمین پر ہم نے کھنگر کر پتھر برسائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
ف 4۔ بناتی سے مجازا امت کی عورتیں مراد ہیں کیونکہ نبی امت کے لیے بجائے باپ کے ہوتا ہے اور حقیقی معنی اس لیے مراد نہیں ہوسکتے کہ آپ کی دویاتین بیٹیاں تھیں سو کس کس سے ان کا نکاح کردیتے وہ تو سارے اسی مرض میں مبتلا تھے۔
Read the full tafseer →پھر کیا تھا کہ صبح ہونے کو تھی کہ ظالموں کی بستیاں ظالموں سمیت تہ وبالا کردی گئیں
107 ؎ (1) جب لوط (علیہ السلام) اور آپ (علیہ السلام) پر ایمان لانے والے سارے لوگ ہاں سے بحفاظت نکل گئے اور آخر شب ہونے کو تھی کہ اول ایک ہیبت ناک چیخ نے ان کو آ لیا اور پھر اچانک دیکھتے ہی دیکھتے آتش فشاں اس طرح پھٹنا شروع ہوا کہ پہلے دھواں ہی دھواں چھا گیا اور اس طرح ان کو اندھا کر کے اس زور سے وہ پھٹا کہ اس کے اوپر کے حصہ کا کچھ معلوم نہ ہوا کہ وہ کدھر گیا اور وہ جتنی بستیاں تھیں وہ سب کی سب غرق ہو کر رہ گئیں اور اس زمین کو اس وقت تک چین نہ آیا جب تک وہ سارا علاقہ بحرمیت میں تبدیل نہ ہوگیا۔ آتش فشاں پھٹنے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
At that time, the angels under Divine command said to Sayyidna Lut (علیہ السلام) : فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ اللَّيْلِ (So, move with your family in a part of night). And asked him to instruct everyone in his family not to turn and look back with the exception of his wife because she was going to be hit by the same punishment that was to fall on his people.
This could also mean that he was not to take his wife along with him. And it could also mean that, being his wife, she was to go along as part of his family, but she would not obey the instruction of not looking back he would…
Read the full tafseer →91. This scourge probably took the form of a severe earthquake combined with volcanic eruptions. The earthquake turned their dwellings upside down and by means of a volcanic eruption they were subjected to a severe rain of stones. The expression 'stones of baked clay' perhaps refers to the stones formed by the underground heat and lava in volcanic regions. The signs of this volcanic eruption can be noticed almost everywhere in the region south and east of the Dead Sea even today.
Read the full tafseer →