Explained with ayahs 80–81
لوط ؑ کی قوم پر عذاب نازل ہوتا ہے۔
حضرت لوط ؑ نے جب دیکھا کہ میری نصیحت ان پر اثر نہیں کرتی تو انہیں دھمکایا کہ اگر مجھ میں قوت، طاقت ہوتی یا میرا کنبہ، قبیلہ زور دار ہوتا تو میں تمہیں تمہاری اس شرارت کا مزہ چکھا دیتا۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا ہے کہ اللہ کی رحمت ہو لوط ؑ پر کہ وہ زور آور قوم کی پناہ لینا چاہتے تھے۔ مراد اس سے ذات اللہ تعالیٰ عزوجل ہے۔ آپ کے بعد پھر جو پیغمبر بھیجا گیا وہ اپنے آبائی وطن میں ہی بھیجا گیا۔ ان کی اس افسردگی، کامل ملال اور سخت تنگ دلی کے وقت فرشتوں نے آپ کو ظاہر کردیا کہ ہم اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں یہ لوگ ہم تک یا آپ تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔ آپ رات کے آخری…
Read the full tafseer →سورة هُوْد 89
مطلب یہ ہے کہ اب تم لوگوں کو بس یہ فکر ہونی چاہیے کہ کسی طرح جلدی سے جلدی اس علاقے سے نکل جاؤ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ پیچھے شور اوردھماکوں کی آوازیں سُن کر راستے میں ٹھیر جاؤا ور جورقبہ عذاب کے لیے نامزد کیا جا چکا ہے اس میں عذا ب کا وقت آجانے کے بعد بھی تم میں سے کوئی رُکا رہ جائے۔
سورة هُوْد 90
یہ تیسرا عبرت ناک واقعہ ہے جو اس سورہ میں لوگوں کو یہ سبق دینے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ تم کو کسی بزرگ کی رشتہ داری اور کسی بزرگ کی سفارش اپنے گناہوں کی پاداش سے نہیں بچا سکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
اس وقت فرشتوں نے بحکم ربانی حضرت لوط ؑ کو کہا (آیت) فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّيْلِ ، یعنی آپ رات کے آخری حصہ میں اپنے اہل و عیال کو لے کر یہاں سے نکل جائے۔ اور یہ ہدایت کردیجئے کہ ان میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے، بجز آپ کی بیوی کے کیونکہ اس پر تو وہی عذاب پڑنے والا ہے جو قوم پر پڑے گا۔
اس کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ بیوی کو ساتھ نہ لیں، اور یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ بیوی ہونے کی حیثیت سے وہ آپ کے اہل میں داخل ہو کر ساتھ چلے گی مگر وہ آپ کے اس حکم پر عمل نہ کرے گی جو آپ اپنے اہل عیال کو دیں گے کہ کوئی مڑ کر نہ دیکھے، بعض روایات میں ہے کہ یونہی ہوا کہ یہ بیوی بھی ساتھ چلی مگر جب…
Read the full tafseer →قَالُوْا يٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَّصِلُوْٓا اِلَيْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّيْلِ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَ ۭ اِنَّهٗ مُصِيْبُهَا مَآ اَصَابَهُمْ ۭ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ ۭ اَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيْبٍ۔
بولے اے لوط تم پریشان نہ ہو، ہم چھوکرے نہیں ہیں، جیسا کہ یہ شیاطین سجھے ہوئے ہیں، بلکہ ہم تیرے رب کے فرستادے ہیں۔ یہ ہرگز تم تک نہیں پہنچسکتے تو یوں کرو کہ راتوں رات اس بستی سے اپنے اہل و عیال سمیت نکل جاؤ اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کے بھی نہ دیکھے۔ ہاں، تمہاری بیوی تمہارے اہل سے مستثنی ہے۔ اس پر بھی وہی آفت آنی ہے جو پوری قوم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
81۔ 1 جب فرشتوں نے حضرت لوط ؑ کی بےبسی اور ان کی قوم کی سرکشی کا مشاہدہ کرلیا تو بولے، اے لوط ! گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، ہم تک تو کیا، اب یہ تجھ تک بھی نہیں پہنچ سکتے۔ اب رات کے ایک حصے میں، سوائے بیوی کے، اپنے گھر والوں کو لے کر یہاں سے نکل جا ! صبح ہوتے ہی اس بستی کو ہلاک کردیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
47: سدوم کی اس بستی میں حضرت لوط ؑ کے خاندان یا قبیلے کا کوئی آدمی نہیں تھا۔ وہ تو عراق کے باشندے تھے۔ اور اس قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گئے تھے۔ سدوم کے لوگوں کو ان کی قوم بھی قرآن کریم نے اس معنی میں کہا ہے کہ وہ ان کی امت تھے جن کی طرف ان کو بھیجا گیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے انتہائی بےچارگی محسوس کی کہ اگر میرے خاندان کا کوئی فرد یہاں ہوتا تو شاید میری کچھ مدد کرسکتا۔ جیسا کہ اگلی آیت میں بتایا گیا ہے، اس موقع پر فرشتوں نے بات کھول دی کہ ہم فرشتے ہیں، اس لیے آپ بالکل نہ گھبرائیں، یہ آپ کا یا ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، اور ہمیں ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ صبح تک ان کا…
Read the full tafseer →چناچہ انہوں نے اپنے مشن کی بابت بتادیا اور حکم دیا کہ وہ اپنے پاکیزہ خاندان کے ساتھ نکل جائیں۔ ہاں تمہاری بیوی تمہارے ساتھ نہیں ہے۔ یہ فاسقین کی جماعت میں شامل ہے۔
اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍِ (81 : 11) “ کیا صبح کا وقت قریب نہیں ہے۔ ” یہ فقرہ اس لیے آیا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی روح خوش ہوجائے کیونکہ انہوں نے گزشتہ محفل بڑی اذیت کے ساتھ گزاری تھی۔
مقصد یہ تھا کہ ان لوگوں کا انجام بہت ہی قریب ہے۔ صبح ہوتے ہی یہ لوگ ہلاک ہوجائیں گے۔ اب وہ خواہش اللہ پوری فرمائیں گے جو خواہش حضرت لوط اپنی کم قوت کی بناء پر پوری نہ کرسکتے تھے۔
Read the full tafseer →7 جب لوط (علیہ السلام) کے اضطراب و قلق کی حد ہوگئی، تب مہمانوں نے کہا کہ حضرت آپ کس فکر میں ہیں مطلق پریشان نہ ہوں، ہم خدا کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو ان کو تباہ و ہلاک کرنے کے لیے آئے ہیں یہ خبیث ہمارا تو کیا بگاڑ سکتے آپ تک بھی نہیں پہنچ سکیں گے۔ تفاسیر میں ہے کہ وہ شریر لوگ دروازہ توڑ کر یا دیوار پھاند کر اندر گھسے جاتے تھے، تب جبرائیل (علیہ السلام) نے خدا سے اجازت لے کر لوط (علیہ السلام) کو علیحد بٹھا دیا اور ایک ذرا بازو ان ملعونوں کی طرف ہلایا۔ جو سب کے سب نپٹ اندھے ہوگئے اور کہنے لگے کہ بھاگو ! لوط کے مہمان تو بڑے جادوگر معلوم ہوتے ہیں۔
8 یعنی صبح کو عذاب آنے والا ہے۔ تھوڑی رات رہے آپ…
Read the full tafseer →آیت 81 قَالُوْا يٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَّصِلُوْٓا اِلَيْكَ
فرشتوں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے آپ کو تسلی دی کہ آپ اطمینان رکھیں یہ لوگ آپ کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکیں گے۔ پھر فرشتے نے اپنا ہاتھ ہلایا تو وہ سب نابکار اندھے ہوگئے۔
فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّيْلِ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ
یعنی یہاں سے جاتے ہوئے آپ لوگوں کو پیچھے رہ جانے والوں کی طرف کسی قسم کی کوئی توجہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
اِلَّا امْرَاَتَكَ ۭ اِنَّهٗ مُصِيْبُهَا مَآ اَصَابَهُمْ
یعنی جب آپ اپنے گھر والوں کو لے کر یہاں سے نکلیں گے تو اپنی بیوی کو ساتھ لے کر نہیں جائیں گے۔ آپ علیہ السلام کی اس بیوی…
Read the full tafseer →91 مشٹنڈوں کا اندھا ہونا :۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) کی زبان سے ایسے بےبسی کے الفاظ سن کر فرشتے چپ نہ رہ سکے اور کہنے لگے کہ آپ اتنے پریشان نہ ہوں ہم لڑکے نہیں بلکہ آپ کے پروردگار کے فرستادہ فرشتے ہیں اور فکر نہ کرو یہ لوگ ہمیں چھیڑنا تو درکنار تمہارا بھی کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ بعض مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ کہنے کے بعد سیدنا جبریل نے لوط کو ایک علیحدہ جگہ بٹھلا دیا اور صرف اپنا بازو تھوڑا سا ان ملعونوں کی طرف بڑھایا تو سب کے سب اندھے ہوگئے انھیں کچھ نظر ہی نہیں آتا تھا وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ بھاگو یہاں سے۔ یہ لوط کے مہمان تو بڑے جادوگر معلوم ہوتے ہیں اور جب وہ بھاگنے لگے تو ایک دوسرے پر گرے…
Read the full tafseer →119۔ فرشتوں کو حضرت لوط (علیہ السلام) ابھی تک تو اپنے نوعمر و حسین مہمان سمجھے جارہے تھے اب انہوں نے آپ کا اضطراب واضطرار دیکھ کر اپنا فرشتہ ہونا ظاہر کیا اور اطمینان دلایا کہ ہم تو ہم ان فساق کی اتنی بھی مجال نہیں کہ آپ تک بھی پہنچ سکیں۔
120۔ یہ عورت دل سے کافرہ اور ان بدمعاشوں سے ملی ہوئی تھی فرشتوں نے کہا کہ اس کے حق میں کوئی نصیحت کارگر نہ ہوگی اور نہ یہ ہماری ہدایت پر عمل کرے گی اس کا دل تو کافروں میں اٹکا ہوا ہے عین نزول عذاب کے وقت یہ بہ کمال ہمدردی ادھر مڑ کر دیکھے گی ضرور۔ اور خود بھی عذاب کا شکار ہو کر رہے گی، توریت میں ہے :۔ ” مگر اس کی جورو نے اس کے پیچھے سے پھر کے دیکھا اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–83
آیت نمبر 69 تا 83
ترجمہ : ہمارے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحاق اور اس کے بعد یعقوب کی خوشخبری لے کر پہنچے، کہا تم پر سلام ہو سلامًا مصدر ہے ابراہیم نے کہا تم پر بھی سلام ہو کچھ) زیادہ ( دیر نہیں گزری کہ ابراہیم بھنا ہوا بچھڑا لے آئے مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑحٹے تو ان کو اجنبی محسوس کیا نَکِرَ بمعنی اَنکِرَ ہے تو ان کی طرف سے اپنے دل میں ابراہیم نے خوف محسوس کیا فرشتوں نے کہا خوف نہ کرو، ہمیں قوم لوط کی طرف بھیجا گیا ہے تاکہ ہم اس کو ہلاک کریں اور ابراہیم کی بیوی سارہ ان کی خدمت میں لگی ہوئی تھی تو وہ قوم کی ہلاکت) اور لوط ( کی) نجات کی ( بشارت سن کر ہنس پڑیں،…
Read the full tafseer →قالوا یلوط انا رسل ربک لن یصلوا الیک انہوں نے کہا : لوط ! ہم آپ کے رب کے فرستادہ ہیں ‘ ان لوگوں کی دسترس آپ تک ہرگز نہیں ہو سکے گی۔ دروازہ کھول دیجئے اور ہم کو ان سے نبٹنے دیجئے۔ حضرت لوط نے دروازہ کھول دیا ‘ وہ لوگ اندر گھس آئے۔ حضرت جبرئیل نے اپنے رب سے عذاب نازل کرنے کی اجازت طلب کی ‘ اجازت مل گئی تو انہوں نے اپنی وہی صورت اختیار کرلی جو ان کی (عموماً اور معمولاً ) ہوتی ہے۔ پَر پھیلا دئیے ‘ موتیوں کا ہار پہنے ‘ چمکدار دانت ‘ جھلکتی پیشانی ‘ سر کے بال گھنگریالے ‘ برف کی طرح سفید اور دونوں پاؤں مائل بہ سبزی (یہ شکل تھی حضرت جبرئیل کی) پھر جبرئیل نے اپنا ایک پَر ان لوگوں کے منہ پر مارا جس کی…
Read the full tafseer →(81) تو کہنے لگے اے لوط ہم آپ کے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہم تو کیا آپ تک انکی رسائی نہیں ہوسکتی کہ آپ کو کچھ تکلیف پہنچائیں۔ ہم ہی ان کو ہلاک کرنے کے لیے آئے ہیں۔
تو آپ رات کے کسی حصہ میں یعنی سحر کے وقت اپنے گھر والوں کو لے کر یہاں سے کسی اور مقام پر چلے جائیے اور آپ میں سے کوئی پیچھے نہ رہے مگر ہاں آپ کی بیوی واعلہ مسلمان نہ ہونے کے باعث نہ جائے گی اس پر بھی وہ عذاب نازل ہوگا جو اوروں پر ہوگا انکی ہلاکت کا وقت صبح کا وقت ہے۔
تب لوط ؑ نے فرمایا جبریل ؑ ابھی ہوجائے، جبریل امین ؑ نے فرمایا کیا صبح کا وقت قریب نہیں کیوں کہ جبریل امین ؑ تو اس منظر کو دیکھ رہے تھے اور لوط ؑ کے سامنے ابھی تک یہ…
Read the full tafseer →قَالُوْا يٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ۔۔ : قوم کے بدمعاش جب باز نہ آئے بلکہ دیواریں پھلانگ کر یا دروازہ توڑ کر اندر آگئے تو فرشتے نے پر مارا، جس سے سب اندھے ہو کر بھاگ اٹھے۔ سورة قمر میں اس کی طرف اشارہ ہے، فرمایا : (وَلَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَيْفِهٖ فَطَمَسْـنَآ اَعْيُنَهُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِيْ وَنُذُرِ) [ القمر : 37 ] ”اور بلاشبہ یقیناً انھوں نے اسے اس کے مہمانوں سے بہکانے کی کوشش کی تو ہم نے ان کی آنکھیں مٹا دیں، پس چکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا۔“ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب فرشتوں نے دیکھا کہ لوط ؑ بالکل عاجز آگئے ہیں اور اپنی قوم کے بدکاروں کو نہ روک سکنے کی وجہ سے سخت رنجیدہ ہیں تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
آیت نمبر 77 تا 83
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ولماجآءت رسلنالوطًاسیٓء بھمجب فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے نکلے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستی کے درمیان چار فرسخ (بارہ شرعی میل) کا فاصلہ تھا۔ (قوم) لوط کی دو بیٹیوں نے فرشتوں کو دیکھا اور وہ دونوں پانی بھر رہی تھی۔ اور ان دونوں نے خوبصورت شکل کو دیکھا۔ تو انہوں نے کہا : تم کون ہو ؟ اور کہاں سے تم آئے ؟ انہوں نے کہا : فلاں جگہ سےِ ، ہم اس گاؤں کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا : اس کے رہنے والے فحش (کام کرنے والے) لوگ ہیں۔ تو انہوں نے کہا : کیا اس میں وہ شخص ہے جو ہمیں پناہ دے گا ؟ انہوں نے کہا : ہاں، یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–83
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجآءہ قومہ یھرعون الیہ “ یعنی وہ تیز چلتے ہوئے آئے (آیت) ” ومن قبل کانوا یعملون السیات “ یعنی وہ مردوں کے پاس آتے تھے (شہوت رانی کے لئے)
2:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجآءہ قومہ یھرعون الیہ “ یعنی وہ ان کی طرف دوڑے ہوئے آئے۔
3:۔ طستی (رح) نے نافع بن ازرق (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” یھرعون الیہ “ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا کہ وہ آپ کی طرف انتہائی غصہ کے ساتھ آرہے ہیں پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں…
Read the full tafseer →[قَالُوْا : انھوں نے کہا ] [يٰلُوْطُ : اے لوط (علیہ السلام) ] [انا : بیشک ہم ] [رُسُلُ رَبِكَ : آپ (علیہ السلام) کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ] [ لَنْ يَّصِلُوْٓا : یہ لوگ ہرگز نہیں پہنچیں گے ] [ اِلَيْكَ : آپ (علیہ السلام) تک ] [فَاَسْرِ : پس آپ (علیہ السلام) لے کر نکلیں ] [بِاَهْلِكَ : اپنے گھر والوں کو ] [ بِقِطْعٍ : ایک حصے میں ] [ مِّنَ الَّيْلِ : رات میں سے ] [وَلَا يَلْتَفِتْ : اور چاہیے کہ مڑکر نہ دیکھے ] [ مِنْكُمْ : تم میں سے ] [اَحَدٌ: کوئی ایک بھی ] [اِلَّا : سوائے ] [امْرَاَتَكَ : آپ (علیہ السلام) کی عورت (یعنی بیوی) کے ] [انهٗ : حقیقت یہ ہے کہ ] [مُصِيْبُهَا : آ لگنے والا ہے اس کو ]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
فرشتوں کا حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آنا، ان کی بد کار قوم کا ہلاک ہونا اور اہل ایمان کا نجات پانا
اللہ تعالیٰ نے جو فرشتے لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کیلئے بھیجے تھے وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بشارت دے کر اور ان کے مکالمہ اور مجادلہ سے فارغ ہو کر حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے جو انسانی شکلوں میں تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو لڑکوں اور مردوں کے ساتھ بد فعلی کی عادت تھی ‘ وہ منع کرتے تھے تو باز نہ آتے تھے اور الٹا حضرت لوط (علیہ السلام) کے ساتھیوں کو طعنہ دیتے تھے اور یوں کہتے تھے ان لوگوں کو بستی سے نکال دو یہ بڑے پاک باز بنتے ہیں (جیسا کہ سورة اعراف کے رکوع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
قصہ لوط (علیہ السلام) وقوم او کہ تتمہ قصہ سابقہ است
قال اللہ تعالیٰ ولما جاءت رسلنا لوطا سیء بھم .... الیٰ .... وما ہی من الظلمین ببعید۔
(ربط) گزشتہ قصہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ پیش آیا اب اس کے بعد لوط (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں لوط (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے اور اہل سدوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ یہ بستی حمص کے قریب تھی اور اسکے پاس اور بھی کچھ گاؤں تھے جن کی مجموعی آبادی تقریباً چار لاکھ تھی سوائے اہل ایمان کے سب ہلاک ہوگئے۔ یہ قصہ کا تتمہ ہے یا یوں کہو کہ پہلا قصہ اس قصہ کی تمہید تھا۔ اور اصل مقصود قوم لوط کی ہلاکت کا قصہ بیان کرنا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور…
Read the full tafseer →72:۔ جب فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کا کرب و اضطراب دیکھا تو بول اٹھے اے لوط ! ان کو آنے دو ہم تو اللہ کے فرشتے ہیں اور انہیں عذاب الٰہی سے ہلاک کرنے آئے ہیں۔ آپ راتوں رات اپنے اہل و عیال کو لے کر بستی سے باہر چلے جائیں اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے اِلَّا امْرَاَتَکَ یہ اَسْرِ بِاَھْلَکَ سے استثناء ہے یعنی اپنی بیوی کو ساتھ مت لے جانا کیونکہ وہ بھی قوم کے ساتھ عذاب سے ہلاک کی جائے گی اور ہلاکت کے لیے صبح کا وقت مقرر ہوچکا ہے۔ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ یہ گویا سوال مقدرہ کا جواب ہے۔ ایبقون الی الصبح کیا وہ صبح تک زندہ رہیں گے یعنی ابھی ہلاک کیوں نہیں کیے جاتے ؟ فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
ربط آیات
گزشتہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دی جانے والی بشارت کا ذکر تھا اور پھر لوط (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا تذکرہ تھا ، دراصل مضمون کا یہی حصہ ہے جو سابقہ موضوع کے تسلسل میں ہے بعض سابقہ ابنیاء اور ان کی قوموں کا حال پہلے بیان ہوچکا ہے اور پھر ان کی نافرمانی کی بنا پر ان قوموں پر جو عذاب آیا اس کا ذکر بھی ہوچکا ہے۔ اب لوط (علیہ السلام) کے واقعہ میں …… آپ کی قوم پر عذاب کی کیفیت بیان ہو رہی ہے۔
یہاں پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کا ذکر اکٹھا آیا ہے۔ جو فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بشارت لائے تھے۔ وہی قوم لوط پر عذاب برپا کرنے پر بھی مامور…
Read the full tafseer →قَالُوْا يٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَّصِلُوْٓا اِلَيْكَ فَاَسْرِ بِاَہْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّيْلِ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَ 0ۭ اِنَّہٗ مُصِيْبُہَا مَآ اَصَابَہُمْ 0ۭ اِنَّ مَوْعِدَہُمُ الصُّبْحُ 0ۭ اَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيْبٍ 81
وصل
الِاتِّصَالُ : اتّحادُ الأشياء بعضها ببعض کاتّحاد طرفي الدائرة، ويضادّ الانفصال، ويستعمل الوَصْلُ في الأعيان، وفي المعاني .
يقال : وَصَلْتُ فلاناً. قال اللہ تعالی: وَيَقْطَعُونَ ما أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ [ البقرة/ 27]
( و ص ل ) الا تصال
کے معنی اشیاء کے باہم اس طرح متحد ہوجانے کے ہیں جس طرح کہ قطرہ دائرہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–83
1 ؎ الضحک ہوالسرور و انبساط الوجہ دھذا قول الجمہور وقیل ضحکت بمعنی حاضت العرب یقول اضحکت الارنب اذا خاصت وانکرہ اکثر اہل اللغۃ یعقوب بالنصب مفعول بشرنا وقری بالجرومنعہ الفراء وقری بالرفع علی الابتدا وخبرہ الظرف الذیمی قبلہ اہل البیت نصبہ علی المدح اذا الاختصاص وفیہ دلیل علی ان ازواج الرجل من اہل بیتہ۔ 12 منہ
Read the full tafseer →قَالُوْا یٰلُوْطْ اِنَّا رُسُلُ رَبِّکَ لَنْ یَّصِلُوْٓا اِلَیْکَ فَاَسْرِ بِاَھْلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَلاَ یَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اَحَدٌ اِلاَّ امْرَاَتَکَ ط اِنَّہٗ مُصِیْبُھَا مَآ اَصَابَھُمْ ط اِنَّ مَوْعِدَ ھُمُ الصُّبْحُ ط اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ ۔ (سورۃ ہود : 81)
(فرشتوں نے کہا، اے لوط ! ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے ہیں، یہ ہرگز آپ تک پہنچ نہیں سکتے۔ پس آپ اپنے اہل و عیال کو لے کر کچھ رات رہے نکل جایئے اور تم میں سے کوئی مڑ کر بھی نہ دیکھے۔ مگر اپنی بیوی کو ساتھ نہ لے جایئے۔ اس پر بھی وہی آفت آنی ہے جو ان پر مقدر ہوچکی ہے۔ ان پر عذاب آنے کا مقررہ وقت صبح کا وقت ہے۔ کیا صبح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
فہم القرآن
ربط کلام : قوم لوط پر نازل ہونے والے عذاب کی کیفیت بیان کی جارہی ہے۔
قوم لوط نے نفسانی خواہش اپنی بیویوں سے پوری کرنے کے بجائے لڑکوں سے شروع کر رکھی تھی۔ گویا کہ یہ ہم جنسی کے بدترین گناہ میں مرتکب چکے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے بار بار سمجھانے کے باوجود باز آنے پر تیار نہ ہوئے۔ بلکہ حضرت لوط (علیہ السلام) کو رجم کردینے کی دھمکی دینے کے ساتھ عذاب الٰہی کا مطالبہ کرتے رہے۔
(أَءِنَّکُمْ لَتَأْتُوْنَ الرِّجَالَ وَتَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ وَتَأْتُوْنَ فِیْ نَادِیْکُمُ الْمُنْکَرَ فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہِ إِلَّا أَنْ قَالُوْا اءْتِنَا بِعَذَاب اللَّہِ إِنْ کُنْتَ مِنَ…
Read the full tafseer →81: روایت میں ہے کہ جب وہ مہمان آئے تو آپ نے دروازہ بند کرلیا اور کفار کو لوٹانے کی کوشش کرنے لگے۔ جیسا اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور ان سے جھگڑ رہے تھے کہ وہ دیوار پھاند کر اندر آگئے۔ جب ملائکہ نے لوط (علیہ السلام) کی تکلیف دیکھی تو انہوں نے کہا قَالُوْا یٰلُوْطُ (کہا اے لوط) بیشک تمہارا ستون تو بڑا مضبوط ہے۔ اِنَّا رُسُلُ رَبِّکَ (بیشک ہم تیرے رب کے قاصد ہیں) پس دروازہ کھول دیں۔ اور ان سے ہم نپٹ لیں گے۔ آپ نے دروازہ کھولا جوں ہی وہ داخل ہوئے۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے ان کی سزا کی اجازت چاہی اللہ تعالیٰ نے اجازت دے دی۔ آپ نے اپنا پر ان کے مونہوں پر مارا جس سے ان کی آنکھوں کا نشان…
Read the full tafseer →تفسیر :۔ ابن عباس ؓ عنہمامفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ لوط (علیہ السلام) نے اپنا دروازہ بند کرلیا تھا اور فرشتے آپ (علیہ السلام) کے ساتھ گھر میں تھے اور یہ سارا مناظرہ اور واسطے ان کو دروازہ کے پیچھے سے دیئے تھے اور وہ دیوار پھلانگنے کی کوشش کر رہے تھے جب فرشتوں نے لوط (علیہ السلام) کو ان کی وجہ سے پریشانی میں دیکھا۔
نوح (علیہ السلام) کا فرشتوں سے مکالمہ
81۔” قالوا یالوط “ آپ کا قبیلہ مضبوط ہے ” انا رسل ربک لن یصلوا الیک “ آپ دروازہ کھول دیں اور ہمیں اور ان کو چھوڑ دیں تو آپ (علیہ السلام) نے دروازہ کھول دیا ، وہ داخل ہوئے تو جبرئیل (علیہ السلام) نے اپنے رب سے ان کو سزا دینے کی اجازت مانگی…
Read the full tafseer →81۔ اس سورت میں اور سورت شعراء میں سورت نمل اور سورة والصافات چند سورتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ قصہ ذکر فرمایا ہے حاصل اس قصہ کا یہی ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عراق سے ملک شام کی طرف ہجرت فرمائی تو حضرت لوط (علیہ السلام) نے بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ہجرت فرمائی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے ہیں۔ ہجرت کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو فلسطین کے نواح میں رہتے تھے اور حضرت لوط (علیہ السلام) سدوم بستی کے لوگوں کی ہدایت کے لئے نبی ہوئے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے مدت تک ان لوگوں کو ہدایت کی مگر وہ راہ راست پر نہ آئے جب اس قوم کی ہلاکت…
Read the full tafseer →اس لئے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو (آیت) فرشتوں نے لوط (علیہ السلام) سے کہا : (آیت) ” اے لوط ! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں۔ “ یعنی فرشتوں نے لوط (علیہ السلام) کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا، تاکہ انہیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ (آیت) ” یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ” پھر حضرت جبریل (علیہ السلام) نے اپنا پر ہلایا اور ان کو اندھا کردیا اور وہ لوط (علیہ السلام) کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں (آیت) ” رات کے کسی حصہ میں “ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں، تاکہ وہ صبح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–86
قوم لوط کی تباہی کا حکم
قول باری ہے فلما ذھب عن ابراہیم الروح و جاء تہ البشری یجادلنا فی قوم لوط ۔ پھر جب ابراہیم کی گھبراہٹ دورہو گئی اور اولاد کی بشارت سے اس کا دل خوش ہوگیا تو اس نے قوط لوط کے معاملہ میں ہم سے جھگڑا شروع کیا ۔ یعنی جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے خوف دور ہوگیا تو وہ فرشتوں سے یہ سن کر کہ انہیں قوم لوط کر ہلاک کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے ، ا ن سے جھگڑنے لگے ، اس موقعہ پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرشتوں سے فرمایا کہ تم قوط لوط کو کیسے ہلاک کرو گے جبکہ وہاں لوط (علیہ السلام) بھی موجود ہیں ؟ فرشتوں نے جواب میں کہا کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہیں ۔ ہم انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
165 ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی عذاب پانے والوں میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کو ہدایت فرمائی گئی کہ آپ رات کا کچھ حصہ اپنے لوگوں کو لیکر یہاں سے اس طرح نکل جائیں کہ تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھے سوائے تمہاری بیوی کے۔ کہ اس پر بھی وہی بلا آنے والی ہے جو ان لوگوں پر آنے والی ہے۔ اور آخرکار ایسے ہی ہوا۔ اور وہ بدبخت عورت بھی عذاب پانے والوں میں شامل ہو کر رہی۔ اور پیغمبر کی زوجیت کا عظیم الشان رشتہ بھی اس کو اس عذاب سے بچانے کے لیے کام نہ آسکا۔ سو اپنے ایمان و عقیدہ کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا رشتہ بھی انسان کے کچھ کام نہیں آسکتا۔ پس اس سے دو بنیادی باتیں معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
قوم لوط کا عمل بد اور ان پر عذاب
تشریح : حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا قصہ سورة اعراف کے رکوع 11 میں گزر چکا ہے۔ ان آیات میں بھی کافی تفصیل سے بتایا گیا ہے یہ بھی عبرت ناک واقعہ ہے جو قرآن پاک میں مسلمانوں کو سمجھانے کے لیے بیان کیا جا رہا ہے۔
حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے چچا زاد بھائی تھے آپ مصر سے ہجرت کر کے دریائے اردن کی ترائی میں آباد ہوئے یہاں سدوم، عموراہ زبویم کی بستیاں آباد تھیں اور اب ان کی جگہ بحیرہ مردار ہے جو مدینہ سے شام کے راستے میں آتا ہے۔ جیسا کہ مذکورہ آیات میں بتایا گیا ہے قوم لوط غیر فطری، خبیث اور بےحیائی کے کام کی عادی ہوگئی تھی۔ اور جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–83
آیات 69 تا 83
اسرار و معارف
اعمال وکردار اور ان پر مرتب ہونے والے نتائج کا یہ فرق اس واقعہ سے بھی ظاہر ہے کہ جب ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اپنے فرشتے بھیجے کہ انھیں اولاد کی خوشخبری دیں وہی فرشتے جو ان کے لئے نوید مسرت لائے تھے قوم لوط پر تباہی لانے کے لئے بھی مامور تھے جو ان سے صرف دس بارہ میل آباد تھی۔ یہ فرشتے انسانی شکل میں پہنچے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے سمجھا کوئی مہمان آگئے ہیں ۔ جب انھوں نے سلام کیا اور آپ نے سلام کا جواب دیا انھیں بٹھایا اور فورا ایک بچھڑاتل کرلے آئے چونکہ آپ کے ہاں گائے بیل تھے تو ایک موٹا تازہ بچھڑاکاٹ کر پکاکر حاضر کردیا۔
سلام اور جواب
یہاں ظاہر ہے کہ ہر…
Read the full tafseer →ف 5 ۔ یعنی جب فرشتوں نے دیکھا کہ حضرت لوط ( علیہ السلام) بالکل عاجز آگئے ہیں اور اپنی قوم کے بدکاروں کو رونہ نہ سکنے کی وہج سے سخت رنجیدہ ہیں تو انہوں نے ظاہر کردیا کہ ہم فرشتے ہیں۔
6 ۔ پیچھے سے عذاب کی بنا پر شور اور دھماکوں کی آواز بھی آئے تب بھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھو بلکہ اس علاقے جلد از جلد نکل جانے کی فکر کرو۔
7 ۔ اسے ساتھ نہ لے جائو کیونکہ وہ کافر ہے یا وہ پیچھے مڑ کر دیکھے گی۔ (وحیدی) ۔
8 ۔ علمائے تفسیر کا بیان ہے کہ جب حضرت لوط ( علیہ السلام) اپنے گھر والوں کو لے کر بستی سے چل دئیے تو ان کی بیوی بھی ساتھ تھی لیکن جب عذاب نازل ہونے کی آوازیں آنے لگیں تو وہ پیچھے مڑ کر اپنی قوم کی تباہی…
Read the full tafseer →(11:81) لن یصلوا الیک یہ (لوگ) تجھ تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ ای لن یصلوا الیک بضرر ولا مکروہ۔ یعنی وہ تمہیں کوئی گزند یا تکلیف نہیں پہنچا سکیں گے۔
اسر۔ تو رات کو لے کر چل۔ اسراء سے جس کے معنی رات کو لے کر چلنے کے اور رات کو سفر کرنے کے ہیں۔ امر ۔ واحد مذکر حاضر۔ قرآن مجید میں ہے سبحان الذی اسری بعبدہ لیلا (17:1) پاک ہے وہ ذات جو لے گیا اپنے بندہ کو راتوں رات۔
بقطع من اللیل۔ القطع فی اخر الیل۔ رات کے پچھلے حصہ میں وقیل من اول الیل۔ رات کے پہلے حصہ میں۔ لا یلتفت۔ نہی واحد مذکر غائب۔ التفات (افتعال) مصدر۔ لفت مادہ مڑ کر نہ دیکھے ۔
الا امرأتک۔ الا۔ حرف استثناء امرأتک مضاف مضاف الیہ مل کر مستثنیٰ ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 83
سیء (رنجیدہ ہوا) ضاق (تنگ ہوگیا) یوم عصیب (بھاری دن۔ مشکل وقت ) یھرعون (وہ دوڑتے ہیں) السیئات (سیئۃ ) برائیاں بناتی (میری بیٹیاں) اطھر (زیادہ پاک باز، صاف ستھری) لاتخزون (تمجھے مجھے رسوا نہ کرو) ضیفی (میرے مہمان) رجل (مرد) رشید (زیادہ بہتر، زیادہ سمجھ دار) اوی (لینے والا) رکن شدید (مضبوط سہارا) لن یصلوا (وہ ہرگز نہ پہنچیں گے) اسر (رات کو نکل جا) قطع (حصہ) اللیل (رات) لایلتفت (توجہ نہ کرنا) امراتک (تیری بیوی) عالیھا (اس کے اوپر کو) سافلھا (اس کے نیچے) امطرنا (ہم نے برسایا) سجیل (پکی اینٹ) منضود (پتھر) مسومۃ (نام لکھا ہوا، متعین و مقرر)
تشریح : آیت نمبر 77 تا…
Read the full tafseer →جب حضرت لوط علیہ السلان قوم کے لوگوں کے حملہ سے بہت ہی پریشان ہوئے تو حضرت لوط (علیہ السلام) کی پریشانی دور کرنے کی غرض سے ان فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو جتلا یا کہ : ہم اللہ کے فرشتے ہیں، اور پتھروں کا مینہ برساکر اور بستی الٹ کر اس قوم کو ہلاک اور بستی کو نیست و نابود کریں گے۔ آپ معہ اہل و عیال کے فقط اپنی بیوی کو چھوڑ کر اس بستی سے چلے جائیں۔ صبح اس قو پر عذاب آئے گا اور کوئی تم میں سے پیچھے مڑ کر نہ دیکھے ''۔ بعض سلف کا قول ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) اپنی قوم کی سرکشی سے یہاں تک تنگ آگئے تھے کہ انہوں نے رات ہی کو عذاب کے آجانے کی تمنا ظاہر کی۔ اس کا جواب حضرت جبرئیل (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
[44] اس لئے کہ وہ کافرہ تھی اور بدمعاشوں سے ملی ہوئی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
(ف 2) حضرت لوط (علیہ السلام) کی عورت نے دعوت کو قبول نہ کیا اور کفر وفسق میں قوم کا ساتھ دیا ، اس لئے ضرور تھا کہ جلد اور ضروری اس کو بھی معذبین میں شامل کرلیا جائے ،
حضرت لوط (علیہ السلام) چونکہ پیغمبر تھے ، انہوں نے اس برائی کے خلاف تو قوم کو بالخصوص لعن طعن کی ، مگر ان کی دعوت وتبلیغ میں بھی تفصیلی ہدایات موجود تھیں ، جن میں توحید سے لے کر اعمال تک تمام دوسری جزئیات شامل تھیں ، آپ کی بیوی نے آپ کی دعوت کا انکار کیا ، اس طرح وہ اس نظام فسق وفجور کا موجب بنی جو قوم کو تباہ کر رہا تھا ، اور اس لئے عذاب میں اس کا شمول ضروری ٹھہرا ورنہ خلاف وضع فطرت کے فعل میں کوئی عورت ساتھ نہیں دے سکتی ، یہ…
Read the full tafseer →81 وہ فرشتے جو مہمان تھے لوط سے کہنے لگے اے لوط (علیہ السلام) ہم آدمی نہیں ہیں آپ اس قدر کیوں گھبراتے ہیں ہم تو آپ کے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں یہ لوگ آپ تک ہرگز نہیں پہونچ سکیں گے اب آپ اپنے گھر والوں کو رات کے کسی حصے میں لے کر نکل جائیے اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے مگر ہاں آپ کی بیوی چونکہ وہ مسلمان نہیں ہے اس لئے وہ نہیں جائے گی۔
واقعہ یہ ہے کہ آپ کی بیوی پر وہی عذاب اور آفت آنے والی ہے جو آفت قوم کے لوگوں پر آنے والی ہے ان لوگوں کے عذاب کے وعدے کا وقت صبح کا وقت ہے کیا صبح کا وقت قریب نہیں ہے جب حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی زیادتی یہاں تک پہونچ چکی تو ان فرشتوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
ف 4۔ بناتی سے مجازا امت کی عورتیں مراد ہیں کیونکہ نبی امت کے لیے بجائے باپ کے ہوتا ہے اور حقیقی معنی اس لیے مراد نہیں ہوسکتے کہ آپ کی دویاتین بیٹیاں تھیں سو کس کس سے ان کا نکاح کردیتے وہ تو سارے اسی مرض میں مبتلا تھے۔
Read the full tafseer →لوط کو مہمانوں نے کہا کہ آپ یہاں سے ہجرت کریں ان کا کام تمام ہونے والا ہے۔
105 ؎ لوط (علیہ السلام) کے مہمان اب تک تو یہ منظر خاموشی سے دیکھ رہے تھے جب ان اوباشوں کی گستاخی اور لوط (علیہ السلام) کی پریشانی اور بےبسی کی انتہا ہوگئی تو کہنے لگے اے لوط (علیہ السلام) گھبرائو نہیں دروازہ کھول دو اور ان مسخروں کو آگے آنے دو ہم ایسے نہیں ہیں کہ یہ بدمعاش ہمیں دبوچ لیں گے ہم تیرے اللہ کے فرستادہ ہیں ہم پر یہ لوگ کبھی قابو نہ پا سکیں گے۔ ہمارے آنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کے قانون ” جزائے اعمال “ کا فلہھب ان کے حق میں اٹل ہے وہ اب ان کے سر سے ٹلنے والا نہیں۔ بلاشبہ آپ (علیہ السلام) اور آپ (علیہ السلام) کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
At that time, the angels under Divine command said to Sayyidna Lut (علیہ السلام) : فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ اللَّيْلِ (So, move with your family in a part of night). And asked him to instruct everyone in his family not to turn and look back with the exception of his wife because she was going to be hit by the same punishment that was to fall on his people.
This could also mean that he was not to take his wife along with him. And it could also mean that, being his wife, she was to go along as part of his family, but she would not obey the instruction of not looking back he would…
Read the full tafseer →89. The warning implied in directing Lot (peace be on him) and his household to depart at their earliest was loud and clear. They were told not to tarry behind in the region which had been marked for total destruction.
90. This is the third instructive event related in this surah. The purpose of relating it is to underscore the fact that family connections with, and the intercession of, people of high spiritual standing can be of no avail in rescuing a people from the punishment they invite upon themselves by their evil deeds.
Read the full tafseer →