Hud 11:80

Hud · from ayah 80

11:80

قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰی رُكْنٍ شَدِیْدٍ ۟قَالَ لَوۡ اَنَّ لِىۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِىۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ‏

لوط نے کہا اے کاش مجھ میں تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا کسی مضبوط قلعے میں پناہ پکڑ سکتا

— Fateh Muhammad Jalandhari

He said, "If only I had against you some power or could take refuge in a strong support."

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 7 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:80

لوطؑ نے کہا "کاش میرے پاس اتنی طاقت ہوتی کہ تمہیں سیدھا کر دیتا، یا کوئی مضبوط سہارا ہی ہوتا کہ اس کی پناہ لیتا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

لوط نے کہا اے کاش مجھ میں تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا کسی مضبوط قلعے میں پناہ پکڑ سکتا

— مولانا فتح محمد جالندہری

لوط (علیہ السلام) نے کہا کاش کہ مجھ میں تم سے مقابلہ کرنے کی قوت ہوتی یا میں کسی زبردست کا آسرا پکڑ پاتا

— مولانا محمد جوناگڑہی

لو ط نے کہا : کاش کہ میرے پاس تمہارے مقابلے میں کوئی طاقت ہوتی، یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لے سکتا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولے اے کاش! مجھے تمہارے مقابل زور ہوتا یا کسی مضبوط پائے کی پناہ لیتا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

لوط ؑ نے کہا: کاش! مجھ میں تمہارے مقابلہ کی ہمت ہوتی یا میں (آج) کسی مضبوط قلعہ میں پناہ لے سکتا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے کہا کاش ! واقعی میرے پاس تمہارے مقابلہ کی کچھ طاقت ہوتی، یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لیتا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

لوط نے کہا : کاش ! میں تمہارا مقابلہ کرسکتا یا کسی مضبوط سہارے کی طرف پناہ لے سکتا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے کہا کاش میرے پاس تم سے مقابلہ کی قوت ہوتی یا میں کسی طاقت ور سہارے کی پناہ لے سکتا ! !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس پر لوط نے کہا، کاش کہ میرے پاس تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا ایسا کوئی مضبوط سہارا ہوتا، جس کی پناہ لے لیتا

— مولانا اسحاق مدنی

(لوط علیہ السلام) بولے کاش میرا تم پر کچھ زور دباؤ ہوتا یا میں کسی مضبوط پایہ کی پناہ لیتا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

لوط ؑ نے کہا : کاش میرے پاس تمہارے مقابلہ کے لیے کوئی طاقت ہوتی یا کوئی مضبوط سہارا ہوتا جس کی میں پناہ لے لیتا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

لوط نے کہا، اے کاش ! مجھ میں تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا کسی مضبوط قلعہ میں جا بیٹھتا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He said: 'Would that I had the strength to set you straight, or could seek refuge in some powerful support.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :Would that I had some power over you, or could seek refuge in a strong support!

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :Would that I had some power over you, or could seek refuge in a strong support!

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "Would that I had strength to overpower you, or that I could betake myself to some powerful support."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: Would that I had strength to resist you or had some strong support (among you)!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He said, "If only I had against you some power or could take refuge in a strong support."

— Saheeh International

He said, "Would that I had the power (to overcome you) or could seek strong protection."

— Muhammad Sarwar

He said: Ah! that I had power to suppress you, rather I shall have recourse to a strong support.

— Muhammad Habib Shakir

He said. Would that I had strength against you or could betake me to a powerful support!

— Abdul Majid Daryabadi

He said: "Would that I had power to suppress you or that I could betake myself to some powerful support."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:80

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 80–81

لوط ؑ کی قوم پر عذاب نازل ہوتا ہے۔ حضرت لوط ؑ نے جب دیکھا کہ میری نصیحت ان پر اثر نہیں کرتی تو انہیں دھمکایا کہ اگر مجھ میں قوت، طاقت ہوتی یا میرا کنبہ، قبیلہ زور دار ہوتا تو میں تمہیں تمہاری اس شرارت کا مزہ چکھا دیتا۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا ہے کہ اللہ کی رحمت ہو لوط ؑ پر کہ وہ زور آور قوم کی پناہ لینا چاہتے تھے۔ مراد اس سے ذات اللہ تعالیٰ عزوجل ہے۔ آپ کے بعد پھر جو پیغمبر بھیجا گیا وہ اپنے آبائی وطن میں ہی بھیجا گیا۔ ان کی اس افسردگی، کامل ملال اور سخت تنگ دلی کے وقت فرشتوں نے آپ کو ظاہر کردیا کہ ہم اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں یہ لوگ ہم تک یا آپ تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔ آپ رات کے آخری…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 79–80

سورة هُوْد 88 یہ فقرہ ان لوگوں کے نفس کی پوری تصویر کھینچ دیتا ہے کہ وہ خباثت میں کس قدر ڈوب گئے تھے۔ بات صرف اس حد تک ہی نہیں رہی تھی کہ وہ فطرت اور پاکیزگی کی راہ سے ہٹ کر ایک گندی خلاف فطرت راہ پر چل پڑے تھے، بلکہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ ان کی ساری رغبت اور تمام دلچسپی اب اسی گندی راہ ہی میں تھی۔ ان کے نفس میں اب طلب اُس گندگی ہی کہ رہ گئی تھی اور فطرت اور پاکیزگی کی راہ کے متعلق یہ کہنے میں کوئی شرم محسوس نہ کرتے تھے کہ یہ راستہ تو ہمارے لیے بنا ہی نہیں ہے۔ یہ اخلاق کے زوال اور نفس کے بگاڑ کا انتہائی مرتبہ ہے جس سے فرو تر کسی مرتبے کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اس شخص کا معاملہ تو بہت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اس وقت ہر طرح سے عاجز ہو کر لوط ؑ کی زبان پر یہ کلمہ آیا (آیت) لَوْ اَنَّ لِيْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِيْٓ اِلٰي رُكْنٍ شَدِيْدٍ ، یعنی کاش مجھ میں اتنی قوت ہوتی کہ میں میں اس پوری قوم کا خود مقابلہ کرسکتا یا پھر کوئی جتھہ اور جماعت ہوتی جو مجھے ان ظالموں کے ہاتھ سے نجات دلاتی۔ فرشتوں نے حضرت لوط ؑ کا یہ اضطراب دیکھ کر بات کھول دی اور کہا کہ گھبرائیے نہیں آپ کی جماعت بڑی قوی اور مضبوط ہے، ہم اللہ کے فر شتے ہیں ان کے قابو میں آنے والے نہیں ان پر عذاب واقع کرنے کے لئے آئے ہیں۔ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے متعلق فرمایا کہ اللہ تعالیٰ لوط پر رحم فرماویں وہ کسی مضبوط جماعت کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالَ لَوْ اَنَّ لِيْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِيْٓ اِلٰي رُكْنٍ شَدِيْدٍ۔ حضرت لوط کی طرف سے قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی آخری کوشش حضرت لوط کی زبان سے یہ فقرہ انتہائی اضطراب اور غنڈوں کے رویہ سے آخری درجے میں مایوس ہوجانے کے بعد نکلا ہے۔ فرمایا کہ کاش ! میرے پاس یا تو خود اپنی اتنی قوت و جمعیت ہوتی کہ تم سے نبٹ سکتا یا کوئی ایسا صاحب جمعیت اور باثر شخص ہی ہوتا کہ میں اس کی پناہ لے سکتا اور وہ مجھے تمہاری چیرہ دستیوں سے بچا سکتا۔ یہ آخری فقرہ بھی حضرت لوط نے قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے فرمایا۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ عرب میں کسی مصیبت زدہ اور مظلوم کو پناہ دینا، جب کہ وہ طالب پناہ ہو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

80۔ 1 قوت سے اپنے دست بازو اور اپنے وسائل کی قوت یا اولاد کی قوت مراد ہے اور شدید (مضبوط اسرا) سے خاندان، قبیلہ یا اسی قسم کا کوئی مضبوط سہارا۔ یعنی نہایت بےبسی کے عالم میں آرزو کر رہے ہیں کہ کاش ! میرے اپنے پاس کوئی قوت ہوتی یا کسی خاندان اور قبیلے کی پناہ اور مدد مجھے حاصل ہوتی تو آج مجھے مہمانوں کی وجہ سے یہ ذلت و رسوائی نہ ہوتی، میں ان بد قماشوں سے نمٹ لیتا اور مہمانوں کی حفاظت کرلیتا۔ حضرت لوط ؑ کی یہ آرزو اللہ تعالیٰ پر توکل کے منافی نہیں ہے۔ بلکہ ظاہری اسباب کے مطابق ہے۔ اور توکل علی اللہ کا صحیح مفہوم و مطلب بھی یہی ہے۔ کہ پہلے تمام ظاہر اسباب و وسائل بروئے کار لائے جائیں اور پھر اللہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 80–81

47: سدوم کی اس بستی میں حضرت لوط ؑ کے خاندان یا قبیلے کا کوئی آدمی نہیں تھا۔ وہ تو عراق کے باشندے تھے۔ اور اس قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گئے تھے۔ سدوم کے لوگوں کو ان کی قوم بھی قرآن کریم نے اس معنی میں کہا ہے کہ وہ ان کی امت تھے جن کی طرف ان کو بھیجا گیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے انتہائی بےچارگی محسوس کی کہ اگر میرے خاندان کا کوئی فرد یہاں ہوتا تو شاید میری کچھ مدد کرسکتا۔ جیسا کہ اگلی آیت میں بتایا گیا ہے، اس موقع پر فرشتوں نے بات کھول دی کہ ہم فرشتے ہیں، اس لیے آپ بالکل نہ گھبرائیں، یہ آپ کا یا ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، اور ہمیں ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ صبح تک ان کا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

جب حضرت لوط (علیہ السلام) یہ کلمات کہہ رہے تھے تو روئے سخن ان نوجوانوں کی طرف تھا۔ یعنی فرشتوں کی طرف جو خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں موجود تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی نظر میں یہ نوجوان اس قدر مضبوط نہ تھے کہ اپنا دفاع کرسکیں۔ چناچہ حضرت لوط (علیہ السلام) یہ اشارہ دینا چاہتے تھے کہ اگر تم لوگ مضبوط ہوتے تو بھی ان ظالموں کا مقابلہ کیا جا سکتا تھا یا یہ کہ اور کوئی ان کا حامی و مدد گار ہوتا تو وہ اس کی مدد اور معاونت طلب کرلیتے لیکن کوئی نہیں ہے۔ حضرت لوط جن مشکلات سے دو چار تھے اور جس پریشانی میں مبتلا تھے۔ اس میں ان کی نظروں سے وقتی طور پر یہ حقیقت اوجھل ہوگئی کہ وہ تو ایک مضبوط سہارے کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 لوط (علیہ السلام) کی زبان سے انتہائی گھبراہٹ اور پریشانی میں بےساختہ الفاظ نکلے کہ کاش مجھ میں بذات خود تم سب سے لڑنے اور مقابلہ کرنے کی طاقت ہوتی یا کوئی طاقتور اور مضبوط پناہ دینے والا ہوتا۔ یعنی میرا کنبہ اور جتھا یہاں ہوتا۔ حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ " یَرْحَمُ اللّٰہُ لُوْطًالَقَدْکَانَ یَاْوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ " خدا لوط پر رحم فرمائے، بیشک وہ مضبوط مستحکم پناہ حاصل کر رہے تھے۔ یعنی خداوند قدوس کی مگر اس وقت سخت گھبراہٹ اور بیحد ضیق کی وجہ سے ادھر خیال نہ گیا۔ بےساختہ ظاہری اسباب پر نظر گئی۔ لوط کے بعد جو انبیاء مبعوث ہوئے سب بڑے جتھے اور قبیلے والے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 80 قَالَ لَوْ اَنَّ لِيْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِيْٓ اِلٰي رُكْنٍ شَدِيْدٍ اس ضمن میں نبی اکرم نے فرمایا : یَرْحَمُ اللّٰہُ لُوْطًا لَقَدْ کَانَ یَاْوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ 1 ”اللہ رحم فرمائے لوط علیہ السلام پر وہ ایک مضبوط قلعہ میں ہی تو تھے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کی پشت پناہی اور حفاظت تو حضرت لوط کو حاصل تھی۔ لیکن اس وقت جو صورت حال بن گئی تھی اس میں بر بنائے طبع بشری پریشانی اور خوف کا طاری ہوجانا نبوت کی عصمت کے منافی نہیں ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ بھی وقتی طور پر جادوگروں کے سانپوں سے ڈر گئے تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

90 سیدنا لوط کی بےبسی :۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) اس علاقہ سدوم میں غریب الدیار تھے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ پہلے عراق سے ہجرت کرکے فلسطین آئے پھر جب انھیں نبوت عطا ہوئی تو سیدنا ابراہیم نے انھیں بغرض تبلیغ سدوم بھیج دیا۔ یہاں ان کا کوئی کنبہ قبیلہ بھی نہ تھا۔ بیوی بھی کافر تھی اور اسی قوم کی فرد تھی اور ان لواطت کرنے والے مشٹنڈوں سے ساز باز رکھتی تھی اور جب کوئی مہمان گھر پر آتا تو انھیں خفیہ طور پر یا اشاروں سے مطلع کردیا کرتی تھی ان فرشتوں کی آمد کی بھی اسی نے ان لوگوں کو اطلاع دی تھی۔ یہ تھا سیدنا لوط (علیہ السلام) کی بےبسی کا عالم کہ گھر میں بیوی بھی ان کی مخالف تھی۔ اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

118۔ یعنی یا تو خود مجھ میں اتنی طاقت ہوتی کہ میں بہ زور حکومت تم کو تمہارے شر سے روک سکتا یا میرا کوئی زبردست جتھا، کنبہ، قبیلہ ہوتا ! حضرت لوط (علیہ السلام) تو خود ہی پردیس میں مقیم تھے اس لیے قدرۃ آپ کے ساتھ عزیزوں، قریبوں کی کوئی خاص جماعت نہ تھی۔ پریشان کن حالات میں اسباب ظاہری سے تمسک کرنا ایک امر طبعی ہے اور شریعت میں بالکل جائز ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 69–83

آیت نمبر 69 تا 83 ترجمہ : ہمارے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحاق اور اس کے بعد یعقوب کی خوشخبری لے کر پہنچے، کہا تم پر سلام ہو سلامًا مصدر ہے ابراہیم نے کہا تم پر بھی سلام ہو کچھ) زیادہ ( دیر نہیں گزری کہ ابراہیم بھنا ہوا بچھڑا لے آئے مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑحٹے تو ان کو اجنبی محسوس کیا نَکِرَ بمعنی اَنکِرَ ہے تو ان کی طرف سے اپنے دل میں ابراہیم نے خوف محسوس کیا فرشتوں نے کہا خوف نہ کرو، ہمیں قوم لوط کی طرف بھیجا گیا ہے تاکہ ہم اس کو ہلاک کریں اور ابراہیم کی بیوی سارہ ان کی خدمت میں لگی ہوئی تھی تو وہ قوم کی ہلاکت) اور لوط ( کی) نجات کی ( بشارت سن کر ہنس پڑیں،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال لو ان لی بکم قوۃ لوط نے (ان سے) کہا : اگر میرے (بدن کے) اندر تم کو دفع کرنے کی طاقت ہوتی ‘ تو میں بچاؤ کرلیتا (تم کو دفع کردیتا) ۔ او اوي الی رکن شدید یا میں کسی مضبوط پایہ کی پناہ پکڑ سکتا۔ یعنی یا میرے خاندان طاقتور ہوتا اور مجھے برادری کی طاقت حاصل ہوتی تو میں برادری کی قوّت پر تم سے اپنی حفاظت کرلیتا۔ رُکْنٍ شَدِیْدٍ : (مضبوط تھم) سے قوت و استحکام میں اپنے خاندان کو تشبیہ دی۔ اس سے مراد ہے : قوی پہلو۔ صاحب قاموس نے رکن کے معنی لکھے ہیں : قوی ترین پہلو۔ قوت کے تمام اسباب جیسے حکومت ‘ فوج ‘ عزت ‘ غلبۂ اقتدار۔ بخاری و مسلم نے صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(80) حضرت لوط ؑ دل میں فرمانے لگے کیا اچھا ہوتا اگر بدن اور اولاد کی قوت کے ذریعہ میرا تم پر کچھ زور چلتا یا کسی بڑے خاندان کے ساتھ میرا تعلق ہوتا کہ وہاں میں پناہ لے کر تم سے اپنی حفاظت کرلیتا حضرت لوط ؑ کی قوم کی زیادتی پر حضرت جبریل امین ؑ اور دیگر فرشتوں نے جب حضرت لوط ؑ کو اس قدر مضطراب دیکھا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ لَوْ اَنَّ لِيْ بِكُمْ قُوَّةً۔۔ : لوط ؑ اس قوم میں ایک طرح سے اجنبی تھے، اللہ تعالیٰ نے انھیں اہل سدوم کی اصلاح کے لیے مقرر فرمایا تھا۔ اس وجہ سے انھوں نے اس تمنا کا اظہار کیا کہ کاش ! مجھ میں تمہارے مقابلے کی قوت ہوتی، یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لیتا، یعنی میرا خاندان یہاں ہوتا تو میں تم سے نمٹ لیتا۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (یَرْحَمُ اللّٰہُ لُوْطًا لَقَدْ کَانَ یَأْوِيْ إِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ) [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قولہ عزو جل : (و نبءھم عن ضیف إبراہیم): 3372 ] ”اللہ تعالیٰ لوط پر رحم کرے، یقیناً وہ بہت مضبوط سہارے کی پناہ رکھتے تھے۔“ یعنی وہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 77–83

آیت نمبر 77 تا 83 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ولماجآءت رسلنالوطًاسیٓء بھمجب فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے نکلے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستی کے درمیان چار فرسخ (بارہ شرعی میل) کا فاصلہ تھا۔ (قوم) لوط کی دو بیٹیوں نے فرشتوں کو دیکھا اور وہ دونوں پانی بھر رہی تھی۔ اور ان دونوں نے خوبصورت شکل کو دیکھا۔ تو انہوں نے کہا : تم کون ہو ؟ اور کہاں سے تم آئے ؟ انہوں نے کہا : فلاں جگہ سےِ ، ہم اس گاؤں کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا : اس کے رہنے والے فحش (کام کرنے والے) لوگ ہیں۔ تو انہوں نے کہا : کیا اس میں وہ شخص ہے جو ہمیں پناہ دے گا ؟ انہوں نے کہا : ہاں، یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 78–83

1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجآءہ قومہ یھرعون الیہ “ یعنی وہ تیز چلتے ہوئے آئے (آیت) ” ومن قبل کانوا یعملون السیات “ یعنی وہ مردوں کے پاس آتے تھے (شہوت رانی کے لئے) 2:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجآءہ قومہ یھرعون الیہ “ یعنی وہ ان کی طرف دوڑے ہوئے آئے۔ 3:۔ طستی (رح) نے نافع بن ازرق (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” یھرعون الیہ “ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا کہ وہ آپ کی طرف انتہائی غصہ کے ساتھ آرہے ہیں پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ لَوْ ان : کاش کہ ] [ لِيْ : میرے لئے ] [ بِكُمْ : تم لوگوں پر ] [ قُوَّةً : کوئی طاقت ہوتی ] [اَوْ : یا ] [اٰوِيْٓ : میں پناہ نہ لیتا ] [اِلٰي رُكْنٍ شَدِيْدٍ : کسی مضبوط سہارے کی طرف ] ر ک ن [رَکَانَۃً : (ک) باوقار ہونا۔ قابل اعتماد ہونا۔] [رُکُوْنًا : (س) کسی طرف مائل ہونا۔ وَلَا تَرْکَنُوْا اِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا (اور تم لوگ مت مائل ہو ان کی طرف جنھوں نے ظلم کیا) 11:113 ۔] [رُکْنٌ: ہر وہ چیز جس پر بھروسہ یا تکیہ کر کے تقویت حاصل کی جائے۔ سہارا۔ یہ واحد کے علاوہ اسم جمع کے طور پر بھی آتا ہے جیسے رُکْنُ الرَّجُلِ ۔ آدمی کے سہارے یعنی قوم۔ اور اس…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 77–83

فرشتوں کا حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آنا، ان کی بد کار قوم کا ہلاک ہونا اور اہل ایمان کا نجات پانا اللہ تعالیٰ نے جو فرشتے لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کیلئے بھیجے تھے وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بشارت دے کر اور ان کے مکالمہ اور مجادلہ سے فارغ ہو کر حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے جو انسانی شکلوں میں تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو لڑکوں اور مردوں کے ساتھ بد فعلی کی عادت تھی ‘ وہ منع کرتے تھے تو باز نہ آتے تھے اور الٹا حضرت لوط (علیہ السلام) کے ساتھیوں کو طعنہ دیتے تھے اور یوں کہتے تھے ان لوگوں کو بستی سے نکال دو یہ بڑے پاک باز بنتے ہیں (جیسا کہ سورة اعراف کے رکوع…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 77–83

قصہ لوط (علیہ السلام) وقوم او کہ تتمہ قصہ سابقہ است قال اللہ تعالیٰ ولما جاءت رسلنا لوطا سیء بھم .... الیٰ .... وما ہی من الظلمین ببعید۔ (ربط) گزشتہ قصہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ پیش آیا اب اس کے بعد لوط (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں لوط (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے اور اہل سدوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ یہ بستی حمص کے قریب تھی اور اسکے پاس اور بھی کچھ گاؤں تھے جن کی مجموعی آبادی تقریباً چار لاکھ تھی سوائے اہل ایمان کے سب ہلاک ہوگئے۔ یہ قصہ کا تتمہ ہے یا یوں کہو کہ پہلا قصہ اس قصہ کی تمہید تھا۔ اور اصل مقصود قوم لوط کی ہلاکت کا قصہ بیان کرنا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 79–80

71: وہ چونکہ خلاف فطرت فعل کے عادی ہوچکے تھے اس لیے انہوں نے جواب دیا کہ عورتوں کی طرف ہمیں کوئی رغبت نہیں تمہیں معلوم ہی ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔ قَالَ لَوْ اَنَّ بِکُمْ قُوَّۃً حضرت لوط (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ معاملہ اختیار سے باہر ہو رہا ہے تو اپنی بےبسی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کاش مجھ میں تمہارا مقابلہ کرنے کی طاقت ہو یا کوئی ایسی پناہ گاہ ہوتی جس میں اپنے مہمانوں سمیت محفوظ ہوجاتا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 77–83

ربط آیات گزشتہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دی جانے والی بشارت کا ذکر تھا اور پھر لوط (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا تذکرہ تھا ، دراصل مضمون کا یہی حصہ ہے جو سابقہ موضوع کے تسلسل میں ہے بعض سابقہ ابنیاء اور ان کی قوموں کا حال پہلے بیان ہوچکا ہے اور پھر ان کی نافرمانی کی بنا پر ان قوموں پر جو عذاب آیا اس کا ذکر بھی ہوچکا ہے۔ اب لوط (علیہ السلام) کے واقعہ میں …… آپ کی قوم پر عذاب کی کیفیت بیان ہو رہی ہے۔ یہاں پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کا ذکر اکٹھا آیا ہے۔ جو فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بشارت لائے تھے۔ وہی قوم لوط پر عذاب برپا کرنے پر بھی مامور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ لَوْ اَنَّ لِيْ بِكُمْ قُوَّۃً اَوْ اٰوِيْٓ اِلٰي رُكْنٍ شَدِيْدٍ۝ 80 قوی القُوَّةُ تستعمل تارة في معنی القدرة نحو قوله تعالی: خُذُوا ما آتَيْناكُمْ بِقُوَّةٍ [ البقرة/ 63] ( ق وو ) القوۃ یہ کبھی قدرت کے معنی میں اسعماقل ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ خُذُوا ما آتَيْناكُمْ بِقُوَّةٍ [ البقرة/ 63] اور حکم دیا کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی اس کو زور سے پکڑے رہو ۔ أوى المَأْوَى مصدر أَوَى يَأْوِي أَوِيّاً ومَأْوًى، تقول : أوى إلى كذا : انضمّ إليه يأوي أويّا ومأوى، وآوَاهُ غيره يُؤْوِيهِ إِيوَاءً. قال عزّ وجلّ : إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ [ الكهف/ 10] ، وقال : سَآوِي إِلى جَبَلٍ [هود/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 71–83

1 ؎ الضحک ہوالسرور و انبساط الوجہ دھذا قول الجمہور وقیل ضحکت بمعنی حاضت العرب یقول اضحکت الارنب اذا خاصت وانکرہ اکثر اہل اللغۃ یعقوب بالنصب مفعول بشرنا وقری بالجرومنعہ الفراء وقری بالرفع علی الابتدا وخبرہ الظرف الذیمی قبلہ اہل البیت نصبہ علی المدح اذا الاختصاص وفیہ دلیل علی ان ازواج الرجل من اہل بیتہ۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 78–80

وَجَآئَ ہٗ قَوْمُہٗ یُھْرَعُوْنَ اِلَیْہِ ط وَمِنْ قَبْلُ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ ط قَالَ یٰـقَوْمِ ھٰٓؤْ لَآئِ بَنَاتِیْ ھُنَّ اَطْھَرُلَکُمْ فَاتَّـقُوا اللّٰہَ وَلاَ تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ ط اَلَیْسَ مِنْکُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ۔ قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَالَنَا فِیْ بَنٰـتِکَ مِنْ حَقٍّ ج وَاِنَّکَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ ۔ قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْاٰوِیْٓ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ ۔ (سورۃ ہود : 78، 79، 80) (اور اس کی قوم کے لوگ جھپٹے ہوئے اس کے پاس پہنچے اور یہ پہلے سے ہی بدکاریوں میں مبتلا تھے۔ (حضرت) لوط (رح) نے کہا : اے میری قوم یہ میری بیٹیاں ہیں، وہ تمہارے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 79–80

فہم القرآن ربط کلام : اوباشوں کی بےانتہا بدمعاشی پر حضرت لوط (علیہ السلام) کی انتہا درجے کی پریشانی اور اپنی کمزوری پر حسرت کا اظہار۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے انہیں بہت سمجھایا مگر اوباش کہنے لگے کہ ہمیں آپ کی بیٹیوں سے کوئی سروکار نہیں۔ ہم جس کام کے لیے آئے ہیں۔ تو اچھی طرح جانتا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) مہمانوں کے سامنے اپنی بےعزتی کو اس قدر محسوس کرتے ہیں کہ ان کی زبان سے بےساختہ یہ الفاظ نکلے۔ کاش ان کے مقابلے میں میرے پاس طاقت ہوتی یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لیتا۔ قوم کی بدمعاشی پر حضرت لوط (علیہ السلام) کی بےبسی اور غم دیکھ کر ملائکہ نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا اے اللہ کے پیغمبر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

80: قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ ٰاوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ (کہا اگر میرے اندر تمہیں دفع کرنے کی قوت ہوتی (تو تمہیں دفع کردیتا) یا میں مضبوط رکن کی طرف سہارا لیتا) لَوْ کا جواب محذوف ہے۔ یعنی تو میں ایسا کر گزرتا اور ضرور کرتا۔ مطلب یہ ہے اگر میں ذاتی طور پر تمہارے خلاف طاقت پاتا یا ایسے مضبوط کی پناہ لیتا جس سے میں اپنی پشت کو سہارا دیتا اور اس کے ذریعہ تمہیں روکتا۔ وہ اپنے دست وبازو کے ساتھ تم سے حفاظت کرتا طاقتور زبردست کو پہاڑ کے ستون سے مضبوطی میں تشبیہ دی اور حفاظت میں مشابہت دی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

80۔ ’ قال “ ان کو لوط (علیہ السلام) نے اس وقت ” لو ان لی بکم قوۃ “ بدن اور پیروکاروں کی قوت مراد ہے۔” او آوی الی رکن شدید “ یعنی ایسے قبیلہ میں ملتا جو تمہیں روکنے والا ہوتا اور ” لو “ کا جواب مضمر ہے یعنی ہم تم سے لڑائی کرتے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد ہر نبی کو اس کے مضبوط قبیلہ میں بھیجا ہے۔ اعرج ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ لوط (علیہ السلام) کی بخشش کریں وہ مضبوط قبیلہ کی طرف ٹھکانہ حاصل کرنا چاہتے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

80۔ جب لوط کی قوم نہیں مانی اور مہمانوں کے لینے میں ضد کی تو لوط (علیہ السلام) نے کہا کاش مجھ میں ذاتی قوت ہوتی یا یہاں میرا کنبہ ہوتا یا اور کوئی دوست احباب حامی مددگار وقت پر ساتھ دینے والے ہوتے تو میں ان سے کہہ کر تمہیں یہاں سے دھکے دلواتا۔ اصل میں اس قوم میں لوط (علیہ السلام) کے کنبہ رشتہ کا کوئی نہ تھا۔ پہلے یہ عراق میں رہتے تھے جب ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ہجرت کر کے شام کی طرف آئے تو انہیں یہ حکم ہوا کہ تم سدوم گاؤں میں لوگوں کی ہدایت کو جاؤ۔ معتبر سند سے مسند امام احمد میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ حضرت لوط کے بعد پھر جو نبی ہوا وہ اہل ثروت ہوا۔ مختصر طور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

پس لوط (علیہ السلام) کو شدید قلق ہوا۔ (آیت) ” انہوں نے کہا، کاش میرے پاس تمہارے مقابلے میٰں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا “ مثلاً کوئی قبیلہ ہوتا جو تمہاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انہوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوط (علیہ السلام) سب سے زیادہ، مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 74–86

قوم لوط کی تباہی کا حکم قول باری ہے فلما ذھب عن ابراہیم الروح و جاء تہ البشری یجادلنا فی قوم لوط ۔ پھر جب ابراہیم کی گھبراہٹ دورہو گئی اور اولاد کی بشارت سے اس کا دل خوش ہوگیا تو اس نے قوط لوط کے معاملہ میں ہم سے جھگڑا شروع کیا ۔ یعنی جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے خوف دور ہوگیا تو وہ فرشتوں سے یہ سن کر کہ انہیں قوم لوط کر ہلاک کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے ، ا ن سے جھگڑنے لگے ، اس موقعہ پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرشتوں سے فرمایا کہ تم قوط لوط کو کیسے ہلاک کرو گے جبکہ وہاں لوط (علیہ السلام) بھی موجود ہیں ؟ فرشتوں نے جواب میں کہا کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہیں ۔ ہم انہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

164 ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی کمال بےبسی کا ایک مظہر اور نمونہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس پر لوط نے ان لوگوں سے کہا کہ کاش کہ تمہارے مقابلے میں میرے پاس کوئی طاقت ہوتی یا کوئی ایسا مضبوط سہارا جس کی میں پناہ لیتا یعنی قوم قبیلہ۔ کیونکہ آپ اس قوم میں سے نہیں تھے بلکہ باہر سے آئے تھے۔ کیونکہ آپ اصل میں عراق کے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ وہاں سے شام کی طرف ہجرت کی تھی اور وہاں سے آپ کو اللہ کی طرف سے سدوم وغیرہ کی ان بدنصیب و بدبخت بسیتوں کی طرف مبعوث فرمایا گیا تھا۔ اسی بناء پر حضرت قتادہ وغیرہ سے مروی ہے کہ اس کے بعد کسی نبی کو اس کی قوم قبیلہ سے باہر مبعوث نہیں فرمایا گیا تھا۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 77–83

قوم لوط کا عمل بد اور ان پر عذاب تشریح : حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا قصہ سورة اعراف کے رکوع 11 میں گزر چکا ہے۔ ان آیات میں بھی کافی تفصیل سے بتایا گیا ہے یہ بھی عبرت ناک واقعہ ہے جو قرآن پاک میں مسلمانوں کو سمجھانے کے لیے بیان کیا جا رہا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے چچا زاد بھائی تھے آپ مصر سے ہجرت کر کے دریائے اردن کی ترائی میں آباد ہوئے یہاں سدوم، عموراہ زبویم کی بستیاں آباد تھیں اور اب ان کی جگہ بحیرہ مردار ہے جو مدینہ سے شام کے راستے میں آتا ہے۔ جیسا کہ مذکورہ آیات میں بتایا گیا ہے قوم لوط غیر فطری، خبیث اور بےحیائی کے کام کی عادی ہوگئی تھی۔ اور جب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 69–83

آیات 69 تا 83 اسرار و معارف اعمال وکردار اور ان پر مرتب ہونے والے نتائج کا یہ فرق اس واقعہ سے بھی ظاہر ہے کہ جب ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اپنے فرشتے بھیجے کہ انھیں اولاد کی خوشخبری دیں وہی فرشتے جو ان کے لئے نوید مسرت لائے تھے قوم لوط پر تباہی لانے کے لئے بھی مامور تھے جو ان سے صرف دس بارہ میل آباد تھی۔ یہ فرشتے انسانی شکل میں پہنچے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے سمجھا کوئی مہمان آگئے ہیں ۔ جب انھوں نے سلام کیا اور آپ نے سلام کا جواب دیا انھیں بٹھایا اور فورا ایک بچھڑاتل کرلے آئے چونکہ آپ کے ہاں گائے بیل تھے تو ایک موٹا تازہ بچھڑاکاٹ کر پکاکر حاضر کردیا۔ سلام اور جواب یہاں ظاہر ہے کہ ہر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 ۔ حضرت لوط ( علیہ السلام) اس قوم میں ایک طرح سے اجنبی تھے۔ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے ان کو اہل روم کی اصلاح پر مقرر فرمایا تھا۔ اس بنا پر انہوں نے دھمکی کے طور پر ان سے کہا کہ اگر میرا کوئی زبردست کنبہ یہاں ہوتا تو تم سے نبٹ لیتا۔ حضرت لوط ( علیہ السلام) کی زبان سے یہ الفاظ پریشانی کی حالت میں بےساختہ نکل گئے ورنہ ان کو اللہ تعالیٰ کا سہارا ہی کافی تھا۔ حدیث میں آیا ہے “۔ اللہ تعالیٰ لوط پر رحم فرمائے کہ وہ زبردست آسرا یعنی اللہ کا سہارا رکھتے تھے۔ ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو بھی نبی بھیجا وہ اپنی قوم میں ایک کنبہ رکھتا تھا۔ (ابن کثیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(11:80) اوی۔ میں بیٹھوں گا۔ میں فروکش ہوجائوں گا۔ اوی سے باب ضرب اوی الی البیت۔ گھر میں اترا ۔ ٹھکانہ لیا۔ یا پناہ لی۔ قرآن میں ہے ساوی الی جبل (11:43) میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لے لیتا ہوں۔ رکن۔ سہارا ۔ کسی چیز کی وہ جانب جس کے سہارے وہ قائم ہوتی ہے۔ استعارہ کے طور پر زور اور قوت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ آیۃ ہذا : اے کاش ! مجھ کو تمہارے مقابلہ کی طاقت ہوتی یا میں کسی زبردست سہارے کا آسرا پکڑ سکتا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 77–83

لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 83 سیء (رنجیدہ ہوا) ضاق (تنگ ہوگیا) یوم عصیب (بھاری دن۔ مشکل وقت ) یھرعون (وہ دوڑتے ہیں) السیئات (سیئۃ ) برائیاں بناتی (میری بیٹیاں) اطھر (زیادہ پاک باز، صاف ستھری) لاتخزون (تمجھے مجھے رسوا نہ کرو) ضیفی (میرے مہمان) رجل (مرد) رشید (زیادہ بہتر، زیادہ سمجھ دار) اوی (لینے والا) رکن شدید (مضبوط سہارا) لن یصلوا (وہ ہرگز نہ پہنچیں گے) اسر (رات کو نکل جا) قطع (حصہ) اللیل (رات) لایلتفت (توجہ نہ کرنا) امراتک (تیری بیوی) عالیھا (اس کے اوپر کو) سافلھا (اس کے نیچے) امطرنا (ہم نے برسایا) سجیل (پکی اینٹ) منضود (پتھر) مسومۃ (نام لکھا ہوا، متعین و مقرر) تشریح : آیت نمبر 77 تا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

قوم لوط (علیہ السلام) پر عذاب کا آنا جب حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم نہیں مانی اور مہمانوں کے لینے میں ضد کی تو حضرت لوط (علیہ السلام) نے کہا :'' کاش مجھ میں ذاتی قوت ہوتی یا یہاں میرا کنبہ ہوتا یا کوئی اور دوست احباب حامی و مددگار وقت پر ساتھ دینے والے ہوتے تو میں ان سے کہ کر تمہیں یہاں سے دھکے دلواتا ''۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 78–80

[43] بیٹیوں سے مراد قوم کی لڑکیاں بھی ہوسکتی ہیں کہ نبی اپنی امت کے لئے بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ لوط (علیہ السلام) کا اشارہ خود اپنی لڑکیوں کی طرف ہو۔ بہرحال دونوں صورتوں میں یہ گمان کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ لوط (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو لڑکیوں سے زنا کرنے کے لئے کہا ہوگا کیونکہ ان کا یہ کہنا کہ یہ تمہارے لئے پاکیزہ ہیں ایسا مفہوم لینے کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا۔ لوط (علیہ السلام) کا منشا یہ تھا کہ اپنی شہوانی خواہش کو نکاح کے ذریعے جائز طریقے سے پورا کرو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) حضرت لوط (علیہ السلام) کا قوت طلب کرنا اس کے صاف صاف معنی یہ ہیں کہ اس مرض کو سختی کے ساتھ روکنے کی کوشش کرنا چاہئے کیونکہ یہ نہایت خوفناک بداخلاقی ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

80 حضرت لوط نہایت پریشان ہوکر عاجزانہ انداز میں فرمانے لگے کاش ! مجھ میں تمہارے مقابلہ کی قوت ہوتی اور زور ہوتا یا میں کسی زور آور مددگار کی پناہ پکڑ لیتا یا کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا یعنی انتہائی اضطراب و پریشانی میں حضرت لوط کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے کہ میرا کوئی کنبہ قبیلہ ہوتا تا کوئی طاقتور سہارا ہوتا اور ایسا کبھی کبھی گھبراہٹ میں ہوجایا کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 78–82

ف 4۔ بناتی سے مجازا امت کی عورتیں مراد ہیں کیونکہ نبی امت کے لیے بجائے باپ کے ہوتا ہے اور حقیقی معنی اس لیے مراد نہیں ہوسکتے کہ آپ کی دویاتین بیٹیاں تھیں سو کس کس سے ان کا نکاح کردیتے وہ تو سارے اسی مرض میں مبتلا تھے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

لوط (علیہ السلام) نے کہا اے کاش کہ مجھے ان بدبختوں کے مقابلہ کی طاقت ہوتی 104 ؎ قوم کے اس رویہ سے لوط (علیہ السلام) کو بہت دکھ ہوا اور بولے کہ کاش میرا تم پر کچھ دبائو اور زور ہوتا یا کوئی مضبوط سہارا ہوتا جس کا میں آسرا پکڑتا اور ظاہر ہے کہ سارے مضبوط سہاروں سے بڑا سہارا اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس ہے اور آپ (علیہ السلام) کی مراد بھی وہی ہے کہ کاش اب تو اللہ تعالیٰ کسی طرف ہجرت کر جانے کی اجازت مرحمت فرما دیتا کیونکہ کوئی نبی جس قوم کی طرف نبی و رسول بنا کر بھیجا جائے اگر قوم اس کی مخالفت میں کمر بستہ ہوجائے تو وہ اس وقت تک ہجرت نہیں کرسکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہجرت نازل نہ ہوجائے اور یہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Totally exasperated, what Sayyidna Lut (علیہ السلام) could say at that time was: لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَىٰ رُ‌كْنٍ شَدِيدٍ that is, ` only if I had enough strength in me to stand against this onslaught by my people, or that I had the backing of some strong group who would have helped me get rid of these oppressors.' Seeing this anxiety of Sayyidna Lut (علیہ السلام) the angels disclosed their identity and said, ` do not worry. Your group is very strong and very powerful. We are angels of Allah. They cannot touch us. We have come to execute the punishment for them.' It…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 79–80

88. This Qur'anic statement vividly portrays the moral degradation and perversity of those people. They had brazenly deviated from the natural way of satisfying their sexual desires and had adopted instead an altogether perverse and filthy way. What was even more heinous was that their interest had become confined only to those perverse forms of sexual gratification which had come into vogue in their society. This perversity had reached such a point where they felt no shame in stating that they were not interested at all in what was universally held to be the natural and legitimate way of…

Read the full tafseer →