Hud 11:79

Hud · from ayah 79

11:79

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ ۚ— وَاِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ ۟قَالُوۡا لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَـنَا فِىۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ‌ ۚ وَاِنَّكَ لَـتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ‏

وہ بولے تم کو معلوم ہے کہ تمہاری (قوم کی) بیٹیوں کی ہمیں کچھ حاجت نہیں۔ اور جو ہماری غرض ہے اسے تم (خوب) جانتے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "You have already known that we have not concerning your daughters any claim, and indeed, you know what we want."

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 7 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:79

انہوں نے جواب دیا "تجھے تو معلوم ہی ہے کہ تیری بیٹیوں میں ہمارا کوئی حصہ نہیں ہے اور تو یہ بھی جانتا ہے کہ ہم چاہتے کیا ہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ بولے تم کو معلوم ہے کہ تمہاری (قوم کی) بیٹیوں کی ہمیں کچھ حاجت نہیں۔ اور جو ہماری غرض ہے اسے تم (خوب) جانتے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

انہوں نے جواب دیا کہ تو بخوبی جانتا ہے کہ ہمیں تو تیری بیٹیوں پر کوئی حق نہیں ہے اور تو ہماری اصلی چاہت سے بخوبی واقف ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہنے لگے : تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری بیٹیوں سے ہمیں کچھ مطلب نہیں، اور تم خوب جانتے ہو کہ ہم کیا چاہتے ہیں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولے تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری قوم کی بیٹیوں میں ہمارا کوئی حق نہیں اور تم ضرور جانتے ہو جو ہماری خواہش ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ بولے: تم خوب جانتے ہو کہ ہمیں تمہاری (قوم کی) بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں، اور تم یقینًا جانتے ہو جو کچھ ہم چاہتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا بلاشبہ یقینا تو جانتا ہے کہ تیری بیٹیوں میں ہمارا کوئی حق نہیں اور بلاشبہ یقینا تو جانتا ہے ہم کیا چاہتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ کہنے لگے : تم یہ تو جانتے ہو کہ تمہاری بیٹیوں سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں اور یہ بھی جانتے ہو کہ ہم کیا چاہتے ہیں ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ بولے کہ تمہیں تو معلوم ہی ہے کہ تمہاری بیٹیوں پر ہمارا کوئی حق نہیں اور تم خوب جانتے ہو جو کچھ ہم چاہتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان لوگوں نے اس کے جواب میں کہا، آپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ہمیں آپ کی بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں، اور آپ یہ بھی خوب جانتے ہیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں ؟

— مولانا اسحاق مدنی

وہ بولے تم تو خوب جانتے ہو کہ ہم کو تمہاری بیٹیوں کی کوئی ضرورت نہیں اور تم وہ بھی خوب جانتے ہو جو کچھ ہم ارادہ رکھتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے کہا کہ تمہیں تو معلوم ہی ہے کہ تمہاری ان بیٹیوں پر ہمارا کوئی حق نہیں ہے اور تم خوب جانتے ہو جو ہم چاہتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ بولے تم کو معلوم ہے کہ تمہاری بیٹیوں کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں اور ہماری غرض کو تم خوب جانتے ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They said: 'Surely you already know that we have nothing to do with your daughters. You also know well what we want.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said, :You know that we have no claim on your daughters, and you know well what we want.

— Muhammad Taqi Usmani

They said, :You know that we have no claim on your daughters, and you know well what we want.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said: "Surely, you know that we have no need of your daughters, and indeed you know well what we want!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They said: Well thou knowest that we have no right to thy daughters, and well thou knowest what we want.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "You have already known that we have not concerning your daughters any claim, and indeed, you know what we want."

— Saheeh International

They said, "You certainly know that we have no right to your daughters and you know what we want".

— Muhammad Sarwar

They said: Certainly you know that we have no claim on your daughters, and most surely you know what we desire.

— Muhammad Habib Shakir

They said: assuredly thou knowest that we have no right to thy daughters, and verily thou knowest that which we would have.

— Abdul Majid Daryabadi

They said: "Well dost thou know we have no need of thy daughters: indeed thou knowest quite well what we want!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:79

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 77–79

حضرت لوط ؑ کے گھر فرشتوں کا نزول۔ حضرت ابراہیم کو یہ فرشتے اپنا بھید بتا کر وہاں سے چل دیئے اور حضرت لوط ؑ کے پاس ان کے زمین میں یا ان کے مکان میں پہنچے۔ مرد خوبصورت لڑکوں کی شکل میں تھے تاکہ قوم لوط کی پوری آزمائش ہوجائے، حضرت لوط ان مہمانوں کو دیکھ کر قوم کی حالت سامنے رکھ کر سٹ پٹا گئے، دل ہی دل میں پیچ تاب کھانے لگے کہ اگر انہیں مہمان بناتا ہوں تو ممکن ہے خبر پاکر لوگ چڑھ دوڑیں اور اگر مہمان نہیں رکھتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑجائیں گے۔ زبان سے بھی نکل گیا کہ آج کا دن بڑا ہیبت ناک دن ہے۔ قوم والے اپنی شرارت سے باز نہیں آئیں گے۔ مجھ میں ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں۔ کیا ہوگا ؟ قتادہ فرماتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 79–80

سورة هُوْد 88 یہ فقرہ ان لوگوں کے نفس کی پوری تصویر کھینچ دیتا ہے کہ وہ خباثت میں کس قدر ڈوب گئے تھے۔ بات صرف اس حد تک ہی نہیں رہی تھی کہ وہ فطرت اور پاکیزگی کی راہ سے ہٹ کر ایک گندی خلاف فطرت راہ پر چل پڑے تھے، بلکہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ ان کی ساری رغبت اور تمام دلچسپی اب اسی گندی راہ ہی میں تھی۔ ان کے نفس میں اب طلب اُس گندگی ہی کہ رہ گئی تھی اور فطرت اور پاکیزگی کی راہ کے متعلق یہ کہنے میں کوئی شرم محسوس نہ کرتے تھے کہ یہ راستہ تو ہمارے لیے بنا ہی نہیں ہے۔ یہ اخلاق کے زوال اور نفس کے بگاڑ کا انتہائی مرتبہ ہے جس سے فرو تر کسی مرتبے کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اس شخص کا معاملہ تو بہت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 78–79

حضرت لوط ؑ کا سابقہ اندیشہ سامنے آگیا، جس کا بیان دوسری آیت میں ہے (آیت) وَجَاۗءَهٗ قَوْمُهٗ يُهْرَعُوْنَ اِلَيْهِ ، یعنی آگئی ان کے پاس ان کی قوم دوڑی ہوئی، اور وہ پہلے سے نامعقول حرکتیں کیا ہی کرتے تھے۔ اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ یہ اپنے خبیث عمل کی نحوست سے اس قدر بےحیاء ہوچکے تھے کہ علانیہ حضرت لوط ؑ کے مکان پر چڑھ دوڑے۔ حضرت لوط ؑ نے جب دیکھا کہ ان کی مدافعت مشکل ہے تو ان کو شر سے باز رکھنے کے لئے فرمایا کہ تم اس شر و فساد سے باز آجاؤ تو میں اپنی لڑکیاں تمہارے سرداروں کے نکاح میں دیدوں گا، اس زمانہ میں مسلمان لڑکی کا نکاح کافر سے جائز تھا، اور حضور ﷺ کے ابتدائی زمانہ تک یہی حکم…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِيْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ ۚ وَاِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيْدُ۔ قوم لط کی ضد : وہ جواب میں بولے کہ زیادہ بات کو بڑھانے اور الجھانے سے کیا فائدہ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ہمیں کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ ہم تمہاری لڑکیوں پر ہاتھ ڈالیں۔ ہم جو کچھ چاہتے ہیں وہ تم سے مخفی نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خواہ مخواہ ہماری اس خواہش میں مزاحم کیوں ہوتے ہو ؟ ہم جو کچھ چاہتے ہیں کرلینے دو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

79۔ 1 یعنی ایک جائز اور فطری طریقے کو انہوں نے بالکل رد کردیا اور غیر فطری کام اور بےحیائی پر اصرار کیا، جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ قوم اپنی اس بےحیائی کی عادت خبیثہ میں کتنی آگے جا چکی تھی اور کس قدر اندھی ہوگئی تھی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 78–79

46: نبی کی امت میں جتنی عورتیں ہوتی ہیں، وہ اس نبی کی روحانی بیٹیاں ہوتی ہیں۔ حضرت لوط ؑ نے ان بد قماش لوگوں کو نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی کہ تمہاری عورتیں جو میری روحانی بیٹیاں ہیں۔ تمہارے گھروں میں موجود ہیں۔ تم اپنی نفسانی خواہشات ان سے پوری کرسکتے ہو۔ اور یہی فطرت کا پاکیزہ طریقہ ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

انہوں نے کہا کہ تمہیں معلوم ہے کہ اگر ہم تمہاری بیٹیوں کا رشتہ چاہتے تو تم ضرور نکاح کر کے ہمارے حوالے کردیتے اور تم جانتے ہو کہ ہم کیا چاہتے ہیں ؟ یہ ان کی جانب سے ان کے خبیث اور گندے ارادے کی طرف نہایت ہی خبیثانہ اشارہ ہے۔ اس موقعہ پر حضرت لوط (علیہ السلام) نڈھال ہوگئے۔ انہوں نے محسوس کرلیا کہ وہ اب ان کے مقابلے میں بالکل بےبس ہیں ، وہ اس قوم میں اس طرح ہیں جس طرح ایک مسافر ہوتا ہے۔ گویا یہاں ان کا کوئی خاندان اور کوئی مددگار نہیں ہے۔ اور اس مصیبت کے وقت کوئی نہیں ہے جو ان کی دستگیری کرے۔ ایسے حالات میں وہ جس پریشانی کا اظہار کر رہے ہیں ، وہ یہ ہے :

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 پھر اتنی حجت و تکرار کیوں کر رہا ہے۔ ہم اپنا ناپاک ارادہ پورے کیے بدون نہ ہٹیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 79 قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِيْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ ۚ وَاِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيْدُ قوم کے لوگوں نے کہا کہ اب آپ ادھر ادھر کی باتیں مت کیجیے آپ خوب سمجھتے ہیں کہ ہمارا یہاں آنے کا مقصد کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

89 یعنی اس قوم کا مزاج اس قدر بگڑ چکا تھا کہ اخلاقی انحطاط اس قدر واقع ہوچکا تھا کہ حلال کام سے فائدہ اٹھانے میں ان کی دلچسپیاں ہی ختم ہوگئی تھیں ان کی ساری دلچسپیاں لونڈے بازی جیسے مکروہ حرام اور خلاف فطرت فعل پر ہی مرکوز ہو کر رہ گئی تھیں اور جب کوئی قوم حرام کاموں کی نہ صرف عادی ہوجائے بلکہ اس میں دلچسپی لینے اور فخر محسوس کرنے لگے تو ایسی قوم کا علاج یہی ہے کہ اسے صفحہ ہستی سے نیست و نابود کرکے اللہ کی زمین کو ایسی نجاست سے پاک کردیا جائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

117۔ ہم کو عورتوں کی طرف رغبت والتفات ہے کب ؟ ہم تو کسی اور ہی پھیر میں ہیں جو تم پر خوب روشن ہے۔ ا ی وانک یلوط لتعلم ان حاجتنا فی غیربناتک (ابن جریر) والظاھر ان معنی من حق من نصیب ولا من غرض ولا من شھوۃ (بحر) من حق ای حاجۃ (جلالین) ای من حاجۃ (بیضاوی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 69–83

آیت نمبر 69 تا 83 ترجمہ : ہمارے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحاق اور اس کے بعد یعقوب کی خوشخبری لے کر پہنچے، کہا تم پر سلام ہو سلامًا مصدر ہے ابراہیم نے کہا تم پر بھی سلام ہو کچھ) زیادہ ( دیر نہیں گزری کہ ابراہیم بھنا ہوا بچھڑا لے آئے مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑحٹے تو ان کو اجنبی محسوس کیا نَکِرَ بمعنی اَنکِرَ ہے تو ان کی طرف سے اپنے دل میں ابراہیم نے خوف محسوس کیا فرشتوں نے کہا خوف نہ کرو، ہمیں قوم لوط کی طرف بھیجا گیا ہے تاکہ ہم اس کو ہلاک کریں اور ابراہیم کی بیوی سارہ ان کی خدمت میں لگی ہوئی تھی تو وہ قوم کی ہلاکت) اور لوط ( کی) نجات کی ( بشارت سن کر ہنس پڑیں،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالوا لقد علمت ما لنا فی بنتک من حق قوم والوں نے کہا : (لوط ! ) تم جانتے ہو کہ تمہاری لڑکیوں پر ہمارا کوئی حق نہیں ہے۔ یعنی وہ ہماری بیویاں نہیں ‘ ان سے ہمارا نکاح نہیں ہوا کہ ہم ان کے حقدار بن جائیں۔ بعض علماء نے اس جملہ کا یہ مطلب بیان کیا کہ تمہاری لڑکیوں کی ہم کو کوئی ضرورت نہیں۔ وانک لتعلم ما نرید اور ہمارا جو کچھ ارادہ ہے ‘ اس کو تم یقیناً جانتے ہو۔ یعنی ہم لڑکوں کو چاہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(79) وہ کہنے لگے اے لوط آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں آپ کی ان بیٹیوں کی کوئی ضرورت نہیں اور آپ جانتے ہیں کہ جو ہمارا مطلب اور ارادہ ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِيْ بَنٰتِكَ۔۔ : یعنی ہمارا تمہاری بیٹیوں میں کوئی حق نہیں (گویا آنے والے مہمان مردوں سے بدفعلی ان کا پورا حق ہے) ، یا یہ مطلب ہے کہ ہمیں عورتوں یا بیویوں سے کوئی دلچسپی نہیں، ہم جو چاہتے ہیں وہ تجھے معلوم ہی ہے کہ ہم کس بدفعلی کے عادی ہیں، اس لیے تم ہماری راہ میں رکاوٹ نہ بنو۔ ان کے اس جواب سے ان کی خباثت کا پورا نقشہ سامنے آجاتا ہے اور صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ کیوں ان کو اس عذاب کا مستحق سمجھا گیا جو ان کے علاوہ کسی قوم پر نازل نہیں کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 77–83

آیت نمبر 77 تا 83 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ولماجآءت رسلنالوطًاسیٓء بھمجب فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے نکلے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستی کے درمیان چار فرسخ (بارہ شرعی میل) کا فاصلہ تھا۔ (قوم) لوط کی دو بیٹیوں نے فرشتوں کو دیکھا اور وہ دونوں پانی بھر رہی تھی۔ اور ان دونوں نے خوبصورت شکل کو دیکھا۔ تو انہوں نے کہا : تم کون ہو ؟ اور کہاں سے تم آئے ؟ انہوں نے کہا : فلاں جگہ سےِ ، ہم اس گاؤں کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا : اس کے رہنے والے فحش (کام کرنے والے) لوگ ہیں۔ تو انہوں نے کہا : کیا اس میں وہ شخص ہے جو ہمیں پناہ دے گا ؟ انہوں نے کہا : ہاں، یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 78–83

1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجآءہ قومہ یھرعون الیہ “ یعنی وہ تیز چلتے ہوئے آئے (آیت) ” ومن قبل کانوا یعملون السیات “ یعنی وہ مردوں کے پاس آتے تھے (شہوت رانی کے لئے) 2:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجآءہ قومہ یھرعون الیہ “ یعنی وہ ان کی طرف دوڑے ہوئے آئے۔ 3:۔ طستی (رح) نے نافع بن ازرق (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” یھرعون الیہ “ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا کہ وہ آپ کی طرف انتہائی غصہ کے ساتھ آرہے ہیں پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [لَقَدْ عَلِمْتَ : یقینا آپ (علیہ السلام) جان چکے ہیں ] [مَا لَنَا : ہمارے لئے نہیں ہے ] [فِيْ بَنٰتِكَ : آپ (علیہ السلام) کی بیٹیوں میں ] [مِنْ حَقٍّ : کوئی بھی حق ] [وَانكَ : اور بیشک آپ (علیہ السلام) ] [ لَتَعْلَمُ : یقینا جانتے ہیں ] [مَا : اس کو جو ] [ نُرِيْدُ : ہم چاہتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 77–83

فرشتوں کا حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آنا، ان کی بد کار قوم کا ہلاک ہونا اور اہل ایمان کا نجات پانا اللہ تعالیٰ نے جو فرشتے لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کیلئے بھیجے تھے وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بشارت دے کر اور ان کے مکالمہ اور مجادلہ سے فارغ ہو کر حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے جو انسانی شکلوں میں تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو لڑکوں اور مردوں کے ساتھ بد فعلی کی عادت تھی ‘ وہ منع کرتے تھے تو باز نہ آتے تھے اور الٹا حضرت لوط (علیہ السلام) کے ساتھیوں کو طعنہ دیتے تھے اور یوں کہتے تھے ان لوگوں کو بستی سے نکال دو یہ بڑے پاک باز بنتے ہیں (جیسا کہ سورة اعراف کے رکوع…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 77–83

قصہ لوط (علیہ السلام) وقوم او کہ تتمہ قصہ سابقہ است قال اللہ تعالیٰ ولما جاءت رسلنا لوطا سیء بھم .... الیٰ .... وما ہی من الظلمین ببعید۔ (ربط) گزشتہ قصہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ پیش آیا اب اس کے بعد لوط (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں لوط (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے اور اہل سدوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ یہ بستی حمص کے قریب تھی اور اسکے پاس اور بھی کچھ گاؤں تھے جن کی مجموعی آبادی تقریباً چار لاکھ تھی سوائے اہل ایمان کے سب ہلاک ہوگئے۔ یہ قصہ کا تتمہ ہے یا یوں کہو کہ پہلا قصہ اس قصہ کی تمہید تھا۔ اور اصل مقصود قوم لوط کی ہلاکت کا قصہ بیان کرنا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 79–80

71: وہ چونکہ خلاف فطرت فعل کے عادی ہوچکے تھے اس لیے انہوں نے جواب دیا کہ عورتوں کی طرف ہمیں کوئی رغبت نہیں تمہیں معلوم ہی ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔ قَالَ لَوْ اَنَّ بِکُمْ قُوَّۃً حضرت لوط (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ معاملہ اختیار سے باہر ہو رہا ہے تو اپنی بےبسی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کاش مجھ میں تمہارا مقابلہ کرنے کی طاقت ہو یا کوئی ایسی پناہ گاہ ہوتی جس میں اپنے مہمانوں سمیت محفوظ ہوجاتا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 77–83

ربط آیات گزشتہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دی جانے والی بشارت کا ذکر تھا اور پھر لوط (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا تذکرہ تھا ، دراصل مضمون کا یہی حصہ ہے جو سابقہ موضوع کے تسلسل میں ہے بعض سابقہ ابنیاء اور ان کی قوموں کا حال پہلے بیان ہوچکا ہے اور پھر ان کی نافرمانی کی بنا پر ان قوموں پر جو عذاب آیا اس کا ذکر بھی ہوچکا ہے۔ اب لوط (علیہ السلام) کے واقعہ میں …… آپ کی قوم پر عذاب کی کیفیت بیان ہو رہی ہے۔ یہاں پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کا ذکر اکٹھا آیا ہے۔ جو فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بشارت لائے تھے۔ وہی قوم لوط پر عذاب برپا کرنے پر بھی مامور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِيْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ۝ 0ۚ وَاِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيْدُ۝ 79 علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 71–83

1 ؎ الضحک ہوالسرور و انبساط الوجہ دھذا قول الجمہور وقیل ضحکت بمعنی حاضت العرب یقول اضحکت الارنب اذا خاصت وانکرہ اکثر اہل اللغۃ یعقوب بالنصب مفعول بشرنا وقری بالجرومنعہ الفراء وقری بالرفع علی الابتدا وخبرہ الظرف الذیمی قبلہ اہل البیت نصبہ علی المدح اذا الاختصاص وفیہ دلیل علی ان ازواج الرجل من اہل بیتہ۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 78–80

وَجَآئَ ہٗ قَوْمُہٗ یُھْرَعُوْنَ اِلَیْہِ ط وَمِنْ قَبْلُ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ ط قَالَ یٰـقَوْمِ ھٰٓؤْ لَآئِ بَنَاتِیْ ھُنَّ اَطْھَرُلَکُمْ فَاتَّـقُوا اللّٰہَ وَلاَ تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ ط اَلَیْسَ مِنْکُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ۔ قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَالَنَا فِیْ بَنٰـتِکَ مِنْ حَقٍّ ج وَاِنَّکَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ ۔ قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْاٰوِیْٓ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ ۔ (سورۃ ہود : 78، 79، 80) (اور اس کی قوم کے لوگ جھپٹے ہوئے اس کے پاس پہنچے اور یہ پہلے سے ہی بدکاریوں میں مبتلا تھے۔ (حضرت) لوط (رح) نے کہا : اے میری قوم یہ میری بیٹیاں ہیں، وہ تمہارے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 79–80

فہم القرآن ربط کلام : اوباشوں کی بےانتہا بدمعاشی پر حضرت لوط (علیہ السلام) کی انتہا درجے کی پریشانی اور اپنی کمزوری پر حسرت کا اظہار۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے انہیں بہت سمجھایا مگر اوباش کہنے لگے کہ ہمیں آپ کی بیٹیوں سے کوئی سروکار نہیں۔ ہم جس کام کے لیے آئے ہیں۔ تو اچھی طرح جانتا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) مہمانوں کے سامنے اپنی بےعزتی کو اس قدر محسوس کرتے ہیں کہ ان کی زبان سے بےساختہ یہ الفاظ نکلے۔ کاش ان کے مقابلے میں میرے پاس طاقت ہوتی یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لیتا۔ قوم کی بدمعاشی پر حضرت لوط (علیہ السلام) کی بےبسی اور غم دیکھ کر ملائکہ نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا اے اللہ کے پیغمبر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

79: قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَالَنَا فِیْ بَنٰتِکَ مِنْ حَقٍّ (انہوں نے کہا تو جانتا ہے کہ ہمیں تمہاری بیٹیوں میں کوئی حق نہیں) حق کا معنی حاجت ہے کیونکہ عورتوں سے نکاح کرنا یہ ہمارے مذہب سے خارج ہے۔ ہمارا مذہب تو مذکروں سے بدفعلی ہے۔ وَاِنَّکَ لَتَعْلَمُ مَانُرِیْدُ (اور تم ہمارا رادہ جانتے ہو) مراد انہوں نے مذکروں سے بدفعلی لی۔ حالانکہ ان کیلئے اس میں کوئی شہوت نہ تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

79” قالو القد علمت “ اے لوط (علیہ السلام) ” ما لنا فی بناتک من حق “ یعنی وہ ہماری بیویاں نہیں ہیں کہ نکاح کی وجہ سے ہم ان کے مستحق ہوں اور بعض نے کہا ہے کہ معنی یہ ہے کہ ہمارے لیے ان میں کوئی حاجت اور مزہ نہیں ہے۔ ” وانک لتعلم ما نرید “ مردوں سے بدفعلی کا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 77–79

77۔ 79۔ خدا کے بھیجے ہوئے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے ہو کر لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے بعضے مفسروں نے یہ بیان کیا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی صاحبزادی شہر کے دروازے پر پانی بھر رہی تھیں فرشتوں نے آکر ان سے پوچھا اے لڑکی اس بستی میں کوئی جگہ ٹھہرنے کی بھی ہے۔ انہوں نے کہا تم یہی ٹھہرو میں ابھی آتی ہوں وہ دوڑ کر اپنے باپ کے پاس آئیں اور کہا کہ شہر کے دروازہ پر دو تین لڑکے خوبصورت خوبصورت کھڑے ہیں تمہاری قوم کو اگر معلوم ہوجائے گا تو وہ انہیں پکڑ لیں گے کیوں کہ ان کی قوم نے ان سے کہہ رکھا تھا تم کسی کو اپنا مہمان نہ بنایا کرو جو آدمی شہر میں آئے گا اس کو ہم اپنے گھر لے جا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت) انہوں نے لوط (علیہ السلام) سے کہا : (آیت) ” تو تو جانتا ہے ہمیں ٰ تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں، اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں “ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 74–86

قوم لوط کی تباہی کا حکم قول باری ہے فلما ذھب عن ابراہیم الروح و جاء تہ البشری یجادلنا فی قوم لوط ۔ پھر جب ابراہیم کی گھبراہٹ دورہو گئی اور اولاد کی بشارت سے اس کا دل خوش ہوگیا تو اس نے قوط لوط کے معاملہ میں ہم سے جھگڑا شروع کیا ۔ یعنی جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے خوف دور ہوگیا تو وہ فرشتوں سے یہ سن کر کہ انہیں قوم لوط کر ہلاک کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے ، ا ن سے جھگڑنے لگے ، اس موقعہ پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرشتوں سے فرمایا کہ تم قوط لوط کو کیسے ہلاک کرو گے جبکہ وہاں لوط (علیہ السلام) بھی موجود ہیں ؟ فرشتوں نے جواب میں کہا کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہیں ۔ ہم انہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

163 ۔ اخلاقی گراوٹ کی انتہاء کا مظہر و نمونہ۔ والعیاذ باللہ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی اس درد بھری اپیل کے جواب میں ان لوگوں نے کہا کہ آپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ہمیں آپ کی بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور آپ یہ بھی خوب جانتے ہیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔ سو قوم لوط کا حضرت لوط (علیہ السلام) کو یہ جواب اخلاقی گراوٹ کی انتہا ہے کہ انسان گندگی کے اس کیڑے کی طرح بن جائے جو گندگی ہی کو پسند کرتا ہے اور طیبات سے اس کا کوئی لگاؤ ہی نہیں رہتا۔ ایسے کیڑوں کو کیڑے مار دوا چھڑک کر فورا ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تو پھر خدائے پاک اپنی دھرتی پر ایسے کیڑوں کو کیونکر برداشت کرسکتا ہے ؟…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 77–83

قوم لوط کا عمل بد اور ان پر عذاب تشریح : حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا قصہ سورة اعراف کے رکوع 11 میں گزر چکا ہے۔ ان آیات میں بھی کافی تفصیل سے بتایا گیا ہے یہ بھی عبرت ناک واقعہ ہے جو قرآن پاک میں مسلمانوں کو سمجھانے کے لیے بیان کیا جا رہا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے چچا زاد بھائی تھے آپ مصر سے ہجرت کر کے دریائے اردن کی ترائی میں آباد ہوئے یہاں سدوم، عموراہ زبویم کی بستیاں آباد تھیں اور اب ان کی جگہ بحیرہ مردار ہے جو مدینہ سے شام کے راستے میں آتا ہے۔ جیسا کہ مذکورہ آیات میں بتایا گیا ہے قوم لوط غیر فطری، خبیث اور بےحیائی کے کام کی عادی ہوگئی تھی۔ اور جب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 69–83

آیات 69 تا 83 اسرار و معارف اعمال وکردار اور ان پر مرتب ہونے والے نتائج کا یہ فرق اس واقعہ سے بھی ظاہر ہے کہ جب ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اپنے فرشتے بھیجے کہ انھیں اولاد کی خوشخبری دیں وہی فرشتے جو ان کے لئے نوید مسرت لائے تھے قوم لوط پر تباہی لانے کے لئے بھی مامور تھے جو ان سے صرف دس بارہ میل آباد تھی۔ یہ فرشتے انسانی شکل میں پہنچے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے سمجھا کوئی مہمان آگئے ہیں ۔ جب انھوں نے سلام کیا اور آپ نے سلام کا جواب دیا انھیں بٹھایا اور فورا ایک بچھڑاتل کرلے آئے چونکہ آپ کے ہاں گائے بیل تھے تو ایک موٹا تازہ بچھڑاکاٹ کر پکاکر حاضر کردیا۔ سلام اور جواب یہاں ظاہر ہے کہ ہر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 ۔ یعنی ہمیں عورتوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ہم تو اس بدکاری کے خوگر ہوچکے ہیں۔ (ابن کثیر) ۔ ان کے اس جواب سے انکی خباثٹ کو پورا نقشہ سامنے آجاتا ہے اور معلوم ہوجاتا ہے کہ کیوں ان کو اس عذاب کا مستحق سمجھا گیا جو ان کے علاوہ اور کسی قوم پر نازل نہیں کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(11:79) حق۔ حق سے یہاں مراد حاجت۔ ضرورت۔ سروکا رہے۔ ای لیس لنا بھن ھاجۃ ولا لنا فیھن شھوۃ۔ یعنی نہ ہمیں ان کی ضرورت ہے اور نہ ہی ان کی خواہش۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 77–83

لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 83 سیء (رنجیدہ ہوا) ضاق (تنگ ہوگیا) یوم عصیب (بھاری دن۔ مشکل وقت ) یھرعون (وہ دوڑتے ہیں) السیئات (سیئۃ ) برائیاں بناتی (میری بیٹیاں) اطھر (زیادہ پاک باز، صاف ستھری) لاتخزون (تمجھے مجھے رسوا نہ کرو) ضیفی (میرے مہمان) رجل (مرد) رشید (زیادہ بہتر، زیادہ سمجھ دار) اوی (لینے والا) رکن شدید (مضبوط سہارا) لن یصلوا (وہ ہرگز نہ پہنچیں گے) اسر (رات کو نکل جا) قطع (حصہ) اللیل (رات) لایلتفت (توجہ نہ کرنا) امراتک (تیری بیوی) عالیھا (اس کے اوپر کو) سافلھا (اس کے نیچے) امطرنا (ہم نے برسایا) سجیل (پکی اینٹ) منضود (پتھر) مسومۃ (نام لکھا ہوا، متعین و مقرر) تشریح : آیت نمبر 77 تا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 77–79

حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ جب فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو وہ ان کے آنے سے دل ہی دل میں بہت کڑھے اور بہت پریشان ہوئے۔ کیونکہ وہ اپنی قوم سے واقف تھے سمجھے کہ آج کا روز بہت سخت ہوگا قوم سے ان کی خاطر جھگڑنا پڑے گا۔ جب گھر میں وہ فرشتے آچکے تو ان کی بیوی نے اپنی قوم کو خبر دی کہ ہمارے گھر میں جوان جوان اور حسین حسین تین لڑکے مہمان آئے ہیں۔ ان کی قوم یہ خبر سنتے ہی دوڑ پڑی کیونکہ ان کو برے کاموں کی چاٹ لگی ہوئی تھی۔ لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا :'' بھائیو ! میری قوم کی لڑکیاں حاضر ہیں تم ان سے نکاح کرلو۔ یہ تمہارے واسطے حلال اور پاک ہیں اور خدا سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے خیال سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 78–80

[43] بیٹیوں سے مراد قوم کی لڑکیاں بھی ہوسکتی ہیں کہ نبی اپنی امت کے لئے بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ لوط (علیہ السلام) کا اشارہ خود اپنی لڑکیوں کی طرف ہو۔ بہرحال دونوں صورتوں میں یہ گمان کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ لوط (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو لڑکیوں سے زنا کرنے کے لئے کہا ہوگا کیونکہ ان کا یہ کہنا کہ یہ تمہارے لئے پاکیزہ ہیں ایسا مفہوم لینے کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا۔ لوط (علیہ السلام) کا منشا یہ تھا کہ اپنی شہوانی خواہش کو نکاح کے ذریعے جائز طریقے سے پورا کرو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 78–79

(ف 1) حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم خلاف وضع فطرت کی عادی تھی ، ان کا خبث باطن اس حد تک پہنچ چکا تھا کہ ہر وقت ان کی نظر انہیں شہوانی مشاغل کی جالب رہتی ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جب فرشتے بطور مہمان کے آئے تو انہیں خوبصورت دیکھ کر خباثت نفس میں جوش پیدا ہوا بھاگتے اور لپکتے ہوئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کی بدمعاشی سے ڈرے کہ کہیں یہ میرے مہمانوں کو ذلیل نہ کریں ، چناچہ انہیں نصیحت فرمائی کہ کمبختو ! یہ عورتیں موجود ہیں ، جو فطرت کے تسکین نفس کے لئے پیدا کی ہیں ، ان کو چھوڑ کر تم لونڈوں پر کیوں مرتے ہو ، انہوں نے کہا ، آپ کی ان بیٹیوں (یعنی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

79 قوم کی لوگوں نے کہا اے لوط (علیہ السلام) تو جانتا ہے ہم کو تیری بیٹیوں سے کوئی دعویٰ نہیں اور تیری بیٹیوں سے ہم کو کوئی غر ض اور ہم کو کوئی حاجت نہیں اور جو کچھ ہمارا مقصد ہے اور جو کچھ ہم چاہتے ہیں اس سے تو بخوبی واقف اور باخبر ہے۔ یعنی تیری بیٹیوں سے خواہ وہ تیری اپنی ہوں یا قوم کی بیٹیاں ہوں ہمیں کوئی واسطہ اور رغبت نہیں اور جو ہمارا مطلب ہے تو اس کا خوب سمجھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 78–82

ف 4۔ بناتی سے مجازا امت کی عورتیں مراد ہیں کیونکہ نبی امت کے لیے بجائے باپ کے ہوتا ہے اور حقیقی معنی اس لیے مراد نہیں ہوسکتے کہ آپ کی دویاتین بیٹیاں تھیں سو کس کس سے ان کا نکاح کردیتے وہ تو سارے اسی مرض میں مبتلا تھے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قوم کے لوگوں نے لوط (علیہ السلام) کو جواب دیا کہ تو جانتا ہے کہ تیری بیٹیوں کی ہمیں حاجت نہیں 103 ؎ سدومی اتنے چھوٹ اور واہیات تھے کہ انہوں نے لوط (علیہ السلام) سے صاف صاف کہہ دیا کہ لوط ! تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ہمیں ان عورتوں کی چنداں ضرورت نہیں اور نہ ہی ہم ان کی طرف رغبت رکھتے ہیں اور ہمارے عزائم اور ارادوں سے تو پہلے ہی اچھی طرح واقف ہے اور ” حق “ سے اس جگہ حاجت مراد ہے یعنی ہمیں ان عورتوں کی ضرورت نہیں ہم جس مقصد کیلئے آئے ہیں تم اس کو اچھی طرح جانتے ہو اس لئے بہتر ہے کہ ہماری مزاحمت نہ کرو اور درمیان سے ہٹ جائو اس لئے کہ اس بستی پر کنٹرول ہمارا ہے تمہارا نہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 78–79

Things turned out as Sayyidna Lut (علیہ السلام) had first apprehended. This finds mention in the second verse (78): وَجَاءَهُ قَوْمُهُ يُهْرَ‌عُونَ إِلَيْهِ (And his people came to him, rushing upon him) - and they were already used to committing evil deeds. It has been hinted here that such was the curse of their evil deed that they had lost all sense of modesty and propriety, so much so that they did not hesitate to storm even the home of Sayyidna Lut (علیہ السلام) for a purpose that sinister. When Sayyidna Lut (علیہ السلام) realized that it was difficult to protect his guests, he tried…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 79–80

88. This Qur'anic statement vividly portrays the moral degradation and perversity of those people. They had brazenly deviated from the natural way of satisfying their sexual desires and had adopted instead an altogether perverse and filthy way. What was even more heinous was that their interest had become confined only to those perverse forms of sexual gratification which had come into vogue in their society. This perversity had reached such a point where they felt no shame in stating that they were not interested at all in what was universally held to be the natural and legitimate way of…

Read the full tafseer →