Explained with ayahs 77–79
حضرت لوط ؑ کے گھر فرشتوں کا نزول۔
حضرت ابراہیم کو یہ فرشتے اپنا بھید بتا کر وہاں سے چل دیئے اور حضرت لوط ؑ کے پاس ان کے زمین میں یا ان کے مکان میں پہنچے۔ مرد خوبصورت لڑکوں کی شکل میں تھے تاکہ قوم لوط کی پوری آزمائش ہوجائے، حضرت لوط ان مہمانوں کو دیکھ کر قوم کی حالت سامنے رکھ کر سٹ پٹا گئے، دل ہی دل میں پیچ تاب کھانے لگے کہ اگر انہیں مہمان بناتا ہوں تو ممکن ہے خبر پاکر لوگ چڑھ دوڑیں اور اگر مہمان نہیں رکھتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑجائیں گے۔ زبان سے بھی نکل گیا کہ آج کا دن بڑا ہیبت ناک دن ہے۔ قوم والے اپنی شرارت سے باز نہیں آئیں گے۔ مجھ میں ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں۔ کیا ہوگا ؟ قتادہ فرماتے ہیں۔…
Read the full tafseer →سورة هُوْد 87
ہوسکتا ہے کہ حضرت لوط کا اشارہ قوم کی لڑکیوں کی طرف ہو، کیونکہ نبی اپنی قوم کے لیے بمنزلہ باپ ہوتا ہے اور قوم کی لڑکیاں اس کی نگاہ میں اپنی بیٹیوں کی طرح ہوتی ہیں، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کا اشارہ خود اپنی صاحبزادی کی طرف ہو، بہرحال دونوں صورتوں میں یہ گمان کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ حضرت لوط نے ان سے زنا کرنے کے لیے کہا ہوگا، یہ تمہارے لیے پاکیزہ تر ہیں، کا فقرہ ایسا غلط مفہوم لینے کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا۔ حضرت لوط کا منشا صاف طور پر یہ تھا کہ اپنی شہوت نفس کو اس فطری اور جائز طریقے سے پورا کرو جو اللہ نے مقرر کیا ہے اور اس کے لیے عورتوں کی کمی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
حضرت لوط ؑ کا سابقہ اندیشہ سامنے آگیا، جس کا بیان دوسری آیت میں ہے (آیت) وَجَاۗءَهٗ قَوْمُهٗ يُهْرَعُوْنَ اِلَيْهِ ، یعنی آگئی ان کے پاس ان کی قوم دوڑی ہوئی، اور وہ پہلے سے نامعقول حرکتیں کیا ہی کرتے تھے۔
اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ یہ اپنے خبیث عمل کی نحوست سے اس قدر بےحیاء ہوچکے تھے کہ علانیہ حضرت لوط ؑ کے مکان پر چڑھ دوڑے۔
حضرت لوط ؑ نے جب دیکھا کہ ان کی مدافعت مشکل ہے تو ان کو شر سے باز رکھنے کے لئے فرمایا کہ تم اس شر و فساد سے باز آجاؤ تو میں اپنی لڑکیاں تمہارے سرداروں کے نکاح میں دیدوں گا، اس زمانہ میں مسلمان لڑکی کا نکاح کافر سے جائز تھا، اور حضور ﷺ کے ابتدائی زمانہ تک یہی حکم…
Read the full tafseer →وَجَاۗءَهٗ قَوْمُهٗ يُهْرَعُوْنَ اِلَيْهِ ۭ وَمِنْ قَبْلُ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ السَّيِّاٰتِ ۭ قَالَ يٰقَوْمِ هٰٓؤُلَاۗءِ بَنَاتِيْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخْزُوْنِ فِيْ ضَيْفِيْ ۭ اَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيْدٌ۔ حضرت لوط کی فریاد : چناچہ ان کا اندیشہ بالکل صحیح ثابت ہوا۔ جب اوباشوں نے دیکھا کہ حضرت لوط کے دروازے پر پر چند خوبرو لڑکے آئے ہوئے ہیں۔ تو وہ جھپٹے ہوئے پہنچے۔ حضرت لوط نے ان کے تیور دیکھے تو فرمایا یقوم ھؤلاء بناتی ھن اطہر لکم فاتقوا اللہ ولا تخزون فی ضیفی۔ یہ پیشکش نہیں بلکہ اپنی قوم کے ضمیر کو جگانے اور جھنجھوڑنے کے لیے گویا حضرت لوط کی آخری بیتابانہ…
Read the full tafseer →78۔ 1 جب اغلام بازی کے ان مریضوں کو پتہ چلا کہ چند خوبرو نوجوان لوط ؑ کے گھر آئے ہیں تو دوڑے ہوئے آئے اور انھیں اپنے ساتھ لے جانے پر اصرار کیا، تاکہ ان سے اپنی غلط خواہشات پوری کریں۔
78۔ 2 یعنی تمہیں اگر جنسی خواہش ہی کی تسکین مقصود ہے تو اس کے لئے میری اپنی بیٹیاں موجود ہیں، جن سے تم نکاح کرلو اور اپنا مقصد پورا کرلو۔ یہ تمہارے لئے ہر طرح سے بہتر ہے۔ بعض نے کہا کہ بنات سے مراد عام عورتیں ہیں اور انھیں اپنی لڑکیاں اس لئے کہا کہ پیغمبر اپنی امت کے لئے ایک طرح کا باپ ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کام کے لئے عورتیں موجود ہیں، ان سے نکاح کرلو اور اپنا مقصد پورا کرو (ابن کثیر)
78۔ 3 یعنی میرے گھر آئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
46: نبی کی امت میں جتنی عورتیں ہوتی ہیں، وہ اس نبی کی روحانی بیٹیاں ہوتی ہیں۔ حضرت لوط ؑ نے ان بد قماش لوگوں کو نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی کہ تمہاری عورتیں جو میری روحانی بیٹیاں ہیں۔ تمہارے گھروں میں موجود ہیں۔ تم اپنی نفسانی خواہشات ان سے پوری کرسکتے ہو۔ اور یہی فطرت کا پاکیزہ طریقہ ہے۔
Read the full tafseer →(يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ ) یعنی اس طرح دوڑے جس طرح بخار میں مبتلا شخص کانپتے ہوئے دوڑتا ہے۔ بےچینی سے ، ہرع بخار کی حالت میں کانپنا۔
اس سے قبل ان کے ہاں مہمانوں کے ساتھ بد سلوکی عام تھی۔ اس لیے حضرت لوط (علیہ السلام) ان فرشتوں کے بارے میں سخت دل تنگ ہوئے اور اس دن کو مصیبت کے دن سے تعبیر کیا۔
حضرت لوط (علیہ السلام) نے دیکھا کہ یہ لوگ بدکاری کے لیے اس طرح بےاختیار دوڑے چلے آتے ہیں جس طرح بخار میں مبتلا شخص بےاختیار کانپتا ہے اور ان کے مہمانوں کی توہین پر تلے ہوئے ہیں تو انہوں نے ان کی ذات کے اندرموجود فطرت سلیمہ کو اپیل کی۔ ان کو متوجہ کیا کہ دیکھو عورتیں موجود ہیں جن کو اللہ نے اسی مقصد کے لیے…
Read the full tafseer →3 یعنی اس قوم کو نامعقول حرکتوں اور خلاف فطرت فواحش کی جو عادت پڑی ہوئی تھی کہاں چین سے بیٹھنے دیتی، وہ ایسے خوبصورت لڑکوں کی خبر پاتے ہی نہایت بےحیائی کے ساتھ لوط (علیہ السلام) کے مکان پر اندھا دھند چڑھ دوڑے اور پوری قوت و شدت سے مطالبہ کیا کہ مہمان ان کے حوالے کردیئے جائیں کیونکہ ہم پہلے ہی منع کرچکے ہیں کہ تم کسی مرد کو اپنا مہمان نہ بنایا کرو۔ یہاں آنے والے مہمان کو ہم پر چھوڑ دو ہم جو چاہیں کریں۔
4 حضرت لوط نے مہمانوں کی آبرو بچانے کے لیے ہر قسم کی کوشش کی۔ آخری بات اس شہوت پرست قوم سے یہ کہی کہ ظالمو ! یہ میری بیٹیاں تمہارے لیے حاضر ہیں۔ نکاح ہوجانے پر اس سے بطریق حلال تمتع کرسکتے ہو جو…
Read the full tafseer →قَالَ يٰقَوْمِ هٰٓؤُلَاۗءِ بَنَاتِيْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ
مفسرین نے اس کے ایک معنی تو یہ مراد لیے ہیں کہ تمہارے گھروں میں تمہاری بیویاں موجود ہیں جو میری بیٹیوں ہی کی مانند ہیں ‘ کیونکہ نبی اپنی پوری قوم کے لیے باپ کی طرح ہوتا ہے۔ جیسے سورة الاحزاب آیت 6 میں حضور کے بارے میں فرمایا گیا ہے : وَاَزْوَاجُہٗٓ اُمَّہٰتُہُمْ کہ آپ کی تمام ازواج مطہرات مؤمنین کی مائیں ہیں۔ اس کے دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ حضرت لوط نے اپنی بیٹیوں کے بارے میں فرمایا کہ یہ میری بیٹیاں ہیں ان سے جائز اور پاکیزہ طریقے سے نکاح کرلو میں اس کے لیے تیار ہوں لیکن میرے ان مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔
فَاتَّقُوا…
Read the full tafseer →88 مشٹنڈوں کا گھس آنا اور سیدنا لوط (علیہ السلام) کی پیش کش :۔ ان مہمانوں کی آمد کی اطلاع پاتے ہی کچھ مشٹنڈے گھر کی دیواریں پھاند کر وہاں پہنچ گئے اور سیدنا لوط سے مطالبہ کیا کہ ان مہمانوں کو ہمارے حوالہ کردو یہی وہ لمحہ تھا جو سیدنا لوط کے لیے سوہان روح بنا ہوا تھا۔ چناچہ سیدنا لوط نے مہمانوں کا دفاع کرنے کی خاطر کہا کہ یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں میں تم سے ان کا نکاح کردیتا ہوں اور یہی تمہارے لیے پاکیزہ تر راستہ ہے اور مہمانوں کا مجھ سے مطالبہ نہ کرو۔ نہ ہی ان کے سامنے مجھے رسوا کرو اور یہ بات آپ نے اس لیے کہی کہ یہ لوگ آپ سے آپ کی بیٹیوں کے رشتہ کا مطالبہ کرچکے تھے لیکن آپ نے ان کی بری حرکات…
Read the full tafseer →114۔ (اپنے اس ارادۂ بد کے ساتھ حسب معمول) (آیت) ” قومہ “۔ سے مراد ساری کی ساری قوم نہیں بلکہ مراد ہیں ان کی قوم کے کچھ لوگ۔
115۔ قوم لوط (علیہ السلام) والے علاوہ اس مخصوص فسق کے اور بھی طرح طرح کی شناعتوں میں مبتلا تھے اور اجنبیوں اور پردیسیوں کے ساتھ تو ان کی بدسلوکی خاص طور پر بڑھی ہوئی تھی، ملاحظہ ہوں انگریزی تفسیر القرآن کے حواشی۔
116۔ (آیت) ” بناتی “۔ کے لفظ پر بڑی بحث ہوئی ہے لیکن ظاہر ہے کہ اس سے مراد حضرت لوط (علیہ السلام) کی صلبی بیٹیاں تو ہو ہی نہیں سکتیں وہ تو کل دوتھیں اور یہاں مجمع کا مجمع نشہ فسق میں مست تھا۔ مراد امت کی عورتیں ہیں امت کی عورتیں پیغمبر کے لیے بہ منزلہ بیٹیوں ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–83
آیت نمبر 69 تا 83
ترجمہ : ہمارے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحاق اور اس کے بعد یعقوب کی خوشخبری لے کر پہنچے، کہا تم پر سلام ہو سلامًا مصدر ہے ابراہیم نے کہا تم پر بھی سلام ہو کچھ) زیادہ ( دیر نہیں گزری کہ ابراہیم بھنا ہوا بچھڑا لے آئے مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑحٹے تو ان کو اجنبی محسوس کیا نَکِرَ بمعنی اَنکِرَ ہے تو ان کی طرف سے اپنے دل میں ابراہیم نے خوف محسوس کیا فرشتوں نے کہا خوف نہ کرو، ہمیں قوم لوط کی طرف بھیجا گیا ہے تاکہ ہم اس کو ہلاک کریں اور ابراہیم کی بیوی سارہ ان کی خدمت میں لگی ہوئی تھی تو وہ قوم کی ہلاکت) اور لوط ( کی) نجات کی ( بشارت سن کر ہنس پڑیں،…
Read the full tafseer →وجاء ہ قومہ یھرعون الیہ اور لوط کے پاس اس کی قوم والے لپکتے ہوئے آئے۔ حضرت ابن عباس اور قتادہ نے ترجمہ کیا ہے : تیز تیز آئے۔ مجاہد نے کہا : لپکتے آئے۔ شمر بن عطیہ نے کہا : تیز چال اور لپکنے کے درمیان چال سے آئے۔ حسن نے کہا : دونوں چالوں کے درمیانی رفتار سے آئے۔ صاحب قاموس نے ہرع کا ترجمہ کیا ہے : ایسی چال جس میں جھپک اور تیزی ہو۔
یُھْرَعُوْنَ (فعل مجہول) انتہائی سرعت و اضطراب پر دلالت کر رہا ہے ‘ گویا کوئی (اندرونی یا بیرونی قوت) ان کو تیز تیز لئے جا رہی تھی۔
ومن قبل کانوا یعملون السیاٰت اور اس سے پہلے بھی وہ بری حرکتیں کرتے رہے تھے۔ مردوں سے لواطت کرتے
تھے اور طرح طرح کی فحش حرکتوں کے عادی…
Read the full tafseer →(78) اور لوط ؑ کی قوم یہ خبر سن کر (کہ نوجوان مہمان آئے ہیں) لوط ؑ کے پاس بہت تیزی کے ساتھ دوڑے ہوئے آئے اور جبریل امین ؑ کی تشریف آوری کے قبل ہی سے وہ نامعقول حرکتیں کیا کرتے تھے۔
لوط ؑ ان سے فرمانے لگے، اے میری قوم یہ میری بیٹیاں ہیں یا میری قوم کی لڑکیاں ہیں میں تم سے ان کی شادی کردیتا ہوں فعل حرام کے ارتکاب سے اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے شرمندہ مت کرو کیا تم میں کوئی بھلا مانس نہیں کہ صحیح راستہ پر تمہیں چلائے نیکیوں کا حکم دے اور برائیوں سے روکے۔
Read the full tafseer →وَجَاۗءَهٗ قَوْمُهٗ يُهْرَعُوْنَ اِلَيْهِ : ”ھَرَعَ“ (ف) کا معنی کسی کو تیزی سے دھکیلنا ہے۔ فعل مجہول کا مطلب یہ ہے کہ جب اس خبیث قوم کو لوط ؑ کے گھر ایسے حسینوں کے آنے کی خبر ملی تو وہ ان کی طرف تیزی سے اس طرح بےاختیار دوڑتے ہوئے آئے جیسے کوئی انھیں پیچھے سے دھکیل رہا ہے۔
وَمِنْ قَبْلُ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ السَّيِّاٰتِ : فعل مضارع پر ”کَانَ“ آئے تو استمرار اور ہمیشگی کا معنی دیتا ہے، الا یہ کہ اس کے خلاف کوئی دلیل ہو۔ اس لیے زمخشری نے اس کا معنی کیا ہے : ”وَ مِنْ قَبْلِ ذٰلِکَ الْوَقْتِ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ الْفَوَاحِشَ وَیُکْثِرُوْنَھَا فَضَرَوْا بِھَا وَمَرَنُوْا عَلَیْھَا“ ”اس سے پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
آیت نمبر 77 تا 83
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ولماجآءت رسلنالوطًاسیٓء بھمجب فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے نکلے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستی کے درمیان چار فرسخ (بارہ شرعی میل) کا فاصلہ تھا۔ (قوم) لوط کی دو بیٹیوں نے فرشتوں کو دیکھا اور وہ دونوں پانی بھر رہی تھی۔ اور ان دونوں نے خوبصورت شکل کو دیکھا۔ تو انہوں نے کہا : تم کون ہو ؟ اور کہاں سے تم آئے ؟ انہوں نے کہا : فلاں جگہ سےِ ، ہم اس گاؤں کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا : اس کے رہنے والے فحش (کام کرنے والے) لوگ ہیں۔ تو انہوں نے کہا : کیا اس میں وہ شخص ہے جو ہمیں پناہ دے گا ؟ انہوں نے کہا : ہاں، یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–83
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجآءہ قومہ یھرعون الیہ “ یعنی وہ تیز چلتے ہوئے آئے (آیت) ” ومن قبل کانوا یعملون السیات “ یعنی وہ مردوں کے پاس آتے تھے (شہوت رانی کے لئے)
2:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجآءہ قومہ یھرعون الیہ “ یعنی وہ ان کی طرف دوڑے ہوئے آئے۔
3:۔ طستی (رح) نے نافع بن ازرق (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” یھرعون الیہ “ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا کہ وہ آپ کی طرف انتہائی غصہ کے ساتھ آرہے ہیں پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں…
Read the full tafseer →[وَجَاۗءَهٗ : اور آئی ان (علیہ السلام) کے پاس ] [قَوْمُهٗ : ان کی قوم ] [يُهْرَعُوْنَ : بےتحاشہ دوڑائی ہوئی ] [اِلَيْهِ : ان کی طرف ] [وَمِنْ قَبْلُ : اور پہلے سے (ہی)] [ كَانوْا يَعْمَلُوْنَ : وہ لوگ عمل کرتے تھے ] [السَيِّاٰتِ : برائیوں کا ] [قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ يٰقَوْمِ : اے میری قوم ] [ هٰٓؤُلَاۗءِ : یہ ] [ بَنَاتِيْ : میری بیٹیاں ہیں ] [هُنَّ : یہ ] [اَطْهَرُ : زیادہ پاکیزہ ہیں ] [لَكُمْ : تمہارے لئے ] [فَاتَّقُوا : تو تقوٰی کرو ] [اللّٰهَ : اللہ کا ] [وَلَا تُخْزُوْنِ : اور تم لوگ رسوا مت کرو مجھ کو ] [ فِيْ ضَيْفِيْ : میرے مہمانوں (کے بارے) میں ] [اَ : کیا ] [ لَيْسَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
فرشتوں کا حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آنا، ان کی بد کار قوم کا ہلاک ہونا اور اہل ایمان کا نجات پانا
اللہ تعالیٰ نے جو فرشتے لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کیلئے بھیجے تھے وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بشارت دے کر اور ان کے مکالمہ اور مجادلہ سے فارغ ہو کر حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے جو انسانی شکلوں میں تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو لڑکوں اور مردوں کے ساتھ بد فعلی کی عادت تھی ‘ وہ منع کرتے تھے تو باز نہ آتے تھے اور الٹا حضرت لوط (علیہ السلام) کے ساتھیوں کو طعنہ دیتے تھے اور یوں کہتے تھے ان لوگوں کو بستی سے نکال دو یہ بڑے پاک باز بنتے ہیں (جیسا کہ سورة اعراف کے رکوع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
قصہ لوط (علیہ السلام) وقوم او کہ تتمہ قصہ سابقہ است
قال اللہ تعالیٰ ولما جاءت رسلنا لوطا سیء بھم .... الیٰ .... وما ہی من الظلمین ببعید۔
(ربط) گزشتہ قصہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ پیش آیا اب اس کے بعد لوط (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں لوط (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے اور اہل سدوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ یہ بستی حمص کے قریب تھی اور اسکے پاس اور بھی کچھ گاؤں تھے جن کی مجموعی آبادی تقریباً چار لاکھ تھی سوائے اہل ایمان کے سب ہلاک ہوگئے۔ یہ قصہ کا تتمہ ہے یا یوں کہو کہ پہلا قصہ اس قصہ کی تمہید تھا۔ اور اصل مقصود قوم لوط کی ہلاکت کا قصہ بیان کرنا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور…
Read the full tafseer →70: حضرت لوط (علیہ السلام) کا خدشہ درست نکلا جب قوم کے غنڈوں کو ان کے پاس خوبصورت نوجوانوں کی آمد کا علم ہوا تو بری نیت سے ان کی طرف بےاختیار لپکے کیونکہ وہ پہلے ہی سے خلاف فطرت فعل کے عادی تھے۔ قَالَ یٰقَوْمِ ھٰؤُلَاءِ بَنٰتِیْ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو معقول طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی اور فرمایا نادانو ! یہ عورتیں جو تمہارے پاس موجود ہیں تمہارے لیے حلال و طیب ہیں۔ اللہ سے ڈرو اور اس کی حدود کو نہ توڑو اور میرے مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی بھی عقل وفہم والاآدمی موجود نہیں۔ جس طرح قوم کا بڑا آدمی اپنی قوم کی عورتوں کو اپنی بیٹیاں کہہ دیتا ہے اسی طرح حضرت لوط (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
ربط آیات
گزشتہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دی جانے والی بشارت کا ذکر تھا اور پھر لوط (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا تذکرہ تھا ، دراصل مضمون کا یہی حصہ ہے جو سابقہ موضوع کے تسلسل میں ہے بعض سابقہ ابنیاء اور ان کی قوموں کا حال پہلے بیان ہوچکا ہے اور پھر ان کی نافرمانی کی بنا پر ان قوموں پر جو عذاب آیا اس کا ذکر بھی ہوچکا ہے۔ اب لوط (علیہ السلام) کے واقعہ میں …… آپ کی قوم پر عذاب کی کیفیت بیان ہو رہی ہے۔
یہاں پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کا ذکر اکٹھا آیا ہے۔ جو فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بشارت لائے تھے۔ وہی قوم لوط پر عذاب برپا کرنے پر بھی مامور…
Read the full tafseer →وَجَاۗءَہٗ قَوْمُہٗ يُہْرَعُوْنَ اِلَيْہِ 0ۭ وَمِنْ قَبْلُ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ السَّيِّاٰتِ 0ۭ قَالَ يٰقَوْمِ ہٰٓؤُلَاۗءِ بَنَاتِيْ ہُنَّ اَطْہَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللہَ وَلَا تُخْزُوْنِ فِيْ ضَيْفِيْ 0ۭ اَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيْدٌ 78
هرع
يقال هَرِعَ وأَهْرَعَ : ساقه سوقا بعنف وتخویف . قال اللہ تعالی: وَجاءَهُ قَوْمُهُ يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ [هود/ 78] وهَرَعَ برمحه فَتَهَرَّعَ :إذا أشرعه سریعا، والهَرِعُ : السّريع المشي والبکاء، قيل : والْهَرِيعُ والْهَرْعَةُ : القملة الصّغيرة .
( ھ ر ع ) ھرع
واھرع کے معنی سختی اور تخویف سے ہانکنے اور ۔۔۔۔ چلانے کے ہیں چناچہ قرآن میں ہے : ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–83
1 ؎ الضحک ہوالسرور و انبساط الوجہ دھذا قول الجمہور وقیل ضحکت بمعنی حاضت العرب یقول اضحکت الارنب اذا خاصت وانکرہ اکثر اہل اللغۃ یعقوب بالنصب مفعول بشرنا وقری بالجرومنعہ الفراء وقری بالرفع علی الابتدا وخبرہ الظرف الذیمی قبلہ اہل البیت نصبہ علی المدح اذا الاختصاص وفیہ دلیل علی ان ازواج الرجل من اہل بیتہ۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
وَجَآئَ ہٗ قَوْمُہٗ یُھْرَعُوْنَ اِلَیْہِ ط وَمِنْ قَبْلُ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ ط قَالَ یٰـقَوْمِ ھٰٓؤْ لَآئِ بَنَاتِیْ ھُنَّ اَطْھَرُلَکُمْ فَاتَّـقُوا اللّٰہَ وَلاَ تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ ط اَلَیْسَ مِنْکُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ۔ قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَالَنَا فِیْ بَنٰـتِکَ مِنْ حَقٍّ ج وَاِنَّکَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ ۔ قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْاٰوِیْٓ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ ۔ (سورۃ ہود : 78، 79، 80)
(اور اس کی قوم کے لوگ جھپٹے ہوئے اس کے پاس پہنچے اور یہ پہلے سے ہی بدکاریوں میں مبتلا تھے۔ (حضرت) لوط (رح) نے کہا : اے میری قوم یہ میری بیٹیاں ہیں، وہ تمہارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
فہم القرآن
ربط کلام : ملائکہ کی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے فارغ ہونے کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضری۔
جب ابراہیم (علیہ السلام) ملائکہ کی زبان سے بیٹے اور پوتے کی خوشخبری سن چکے۔ تو پھر قوم لوط کے بارے میں ملائکہ سے تکرار کرنے لگے۔ جس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ مجرموں کے حمایتی تھے۔ بلکہ وہ اس وجہ سے قوم لوط کے بارے میں تکرار کر رہے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نہایت حوصلہ مند، دوسرے کی تکلیف دیکھ کر تڑپ جانے والے اور ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ جس بناء پر وہ ملائکہ سے تکرار کرنے لگے کہ آپ انہیں کچھ اور مہلت دیں۔ شاید وہ سنبھل جائیں۔ حضرت نے یہ بھی…
Read the full tafseer →قوم کا کردار اور لوط ( علیہ السلام) کا طرز عمل :
78: وَجَآ ئَ ہٗ قَوْمُہٗ یُھْرَعُوْنَ اِلَیْہِ (اور لوط (علیہ السلام) کے پاس ان کی قوم تیز تیز آئی) تیزی کرتے ہوئے گویا ان کو کوئی پیچھے سے دھکیل کر لا رہا ہے۔ وَمِنْ قَبْلُ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ (اس سے پہلے وہ برے کام کرتے تھے) اسوقت سے پہلے وہ بےحیائی کے کام کرتے تھے۔ یہاں تک وہ اس کے عادی ہوچکے اور اسکی برائی ان کے ہاں سے اڑ چکی۔ اسی لئے سرعام دوڑتے ہوئے آئے ان کو حیاء مانع نہ ہوا۔ قَالَ یٰـقَوْمِ ھٰٓؤُلَآئِ بََنَاتِیْ (کہا اے میری قوم یہ میری بیٹیاں ہیں) پس تم ان سے نکاح کرلو انہوں نے اپنے مہمانوں کو اپنی بیٹیوں کے ذریعہ بچانا…
Read the full tafseer →تفسیر 78” وجاء ہ قومہ یھرعون الیہ “ ابن عباس ؓ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ دوڑتے ہوئے آئے ۔ مجاہد کا قول ہے کہ وہ لپکتے ہوئے آئے ۔ شمر بن عطیہ نے کہا کہ تیز چال اور لپکنے کے درمیان چال سے آئے ” ومن قبل “ لوط (علیہ السلام) کے پاس آنے سے پہلے۔” کانوا یعملون السیات “ مردوں کے پچھلے حصے میں آتے تھے ” قال “ ان کو لوط (علیہ السلام) نے کہا جب انہوں نے لوط (علیہ السلام) کے مہمانوں کو لڑکے سمجھ کر بدفعلی کا ارادہ کیا ۔ ” یا قوم ھولاء بناتی ھن اطھر لکم “ نکاح کے ذریعے تمہارے لئے حلال کردی گئی ہیں ۔
اس وقت کافر کا مسلمان عورت سے نکاح جائز تھا۔ جیسے نبی کریم ﷺ نے اپنی بیٹیوں کا ناح عتبہ بن ابی لھب اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
77۔ 79۔ خدا کے بھیجے ہوئے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے ہو کر لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے بعضے مفسروں نے یہ بیان کیا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی صاحبزادی شہر کے دروازے پر پانی بھر رہی تھیں فرشتوں نے آکر ان سے پوچھا اے لڑکی اس بستی میں کوئی جگہ ٹھہرنے کی بھی ہے۔ انہوں نے کہا تم یہی ٹھہرو میں ابھی آتی ہوں وہ دوڑ کر اپنے باپ کے پاس آئیں اور کہا کہ شہر کے دروازہ پر دو تین لڑکے خوبصورت خوبصورت کھڑے ہیں تمہاری قوم کو اگر معلوم ہوجائے گا تو وہ انہیں پکڑ لیں گے کیوں کہ ان کی قوم نے ان سے کہہ رکھا تھا تم کسی کو اپنا مہمان نہ بنایا کرو جو آدمی شہر میں آئے گا اس کو ہم اپنے گھر لے جا کر…
Read the full tafseer →(آیت) ” اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بےتحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔ “ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوط (علیہ السلام) کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جیسے وہ پہلے سے کرتے آئے ہیں، جیسے اللہ کا فرمان ہے : (آیت) ” اور یہ لوگ پہلے ہی سے فعل شنیع (بدکاری) کیا کرتے تھے۔ “ یعنی ایسی بدکاری جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔
(آیت) ” انہوں نے کہا، اے میری قوم ! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمہارے لئے زیادہ پاکیزہ ہیں۔ “ یعنی میری بیٹیاں تمہارے لئے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں۔ جناب لوط (علیہ السلام) کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–86
قوم لوط کی تباہی کا حکم
قول باری ہے فلما ذھب عن ابراہیم الروح و جاء تہ البشری یجادلنا فی قوم لوط ۔ پھر جب ابراہیم کی گھبراہٹ دورہو گئی اور اولاد کی بشارت سے اس کا دل خوش ہوگیا تو اس نے قوط لوط کے معاملہ میں ہم سے جھگڑا شروع کیا ۔ یعنی جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے خوف دور ہوگیا تو وہ فرشتوں سے یہ سن کر کہ انہیں قوم لوط کر ہلاک کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے ، ا ن سے جھگڑنے لگے ، اس موقعہ پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرشتوں سے فرمایا کہ تم قوط لوط کو کیسے ہلاک کرو گے جبکہ وہاں لوط (علیہ السلام) بھی موجود ہیں ؟ فرشتوں نے جواب میں کہا کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہیں ۔ ہم انہیں…
Read the full tafseer →160 ۔ قوم لوط کا عمل بد اور دور حاضر کے ایک جمہوری ملک کا حیا باختہ کردار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پہنچے ان کے پاس ان کی قوم کے بد اطوار لوگ رسیاں توڑ کر۔ اور وہ پہلے سے ہی برائیاں کرتے آرہے تھے کہ ان میں یہ خبیث مرض موجود تھا کہ مرد مرد سے بدکاری کرتا تھا۔ اور یہ ایسا قبیح اور خلاف وضع فطرت فعل تھا کہ شرافت کی زبان پر اس کو لانا اور بیان کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے قرآن حکیم میں اس کی تصریح کئے بغیر اس کو (السیات) کے عمومی اور کنائی لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ مگر دور حاضر میں جمہوریت کے بت نو کے ایک پجاری اور جمہوریت کے چمپئن کہلانے والے ملک برطانیہ نے کچھ ہی سال قبل اس خلاف وضع فطری فعل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
قوم لوط کا عمل بد اور ان پر عذاب
تشریح : حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا قصہ سورة اعراف کے رکوع 11 میں گزر چکا ہے۔ ان آیات میں بھی کافی تفصیل سے بتایا گیا ہے یہ بھی عبرت ناک واقعہ ہے جو قرآن پاک میں مسلمانوں کو سمجھانے کے لیے بیان کیا جا رہا ہے۔
حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے چچا زاد بھائی تھے آپ مصر سے ہجرت کر کے دریائے اردن کی ترائی میں آباد ہوئے یہاں سدوم، عموراہ زبویم کی بستیاں آباد تھیں اور اب ان کی جگہ بحیرہ مردار ہے جو مدینہ سے شام کے راستے میں آتا ہے۔ جیسا کہ مذکورہ آیات میں بتایا گیا ہے قوم لوط غیر فطری، خبیث اور بےحیائی کے کام کی عادی ہوگئی تھی۔ اور جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–83
آیات 69 تا 83
اسرار و معارف
اعمال وکردار اور ان پر مرتب ہونے والے نتائج کا یہ فرق اس واقعہ سے بھی ظاہر ہے کہ جب ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اپنے فرشتے بھیجے کہ انھیں اولاد کی خوشخبری دیں وہی فرشتے جو ان کے لئے نوید مسرت لائے تھے قوم لوط پر تباہی لانے کے لئے بھی مامور تھے جو ان سے صرف دس بارہ میل آباد تھی۔ یہ فرشتے انسانی شکل میں پہنچے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے سمجھا کوئی مہمان آگئے ہیں ۔ جب انھوں نے سلام کیا اور آپ نے سلام کا جواب دیا انھیں بٹھایا اور فورا ایک بچھڑاتل کرلے آئے چونکہ آپ کے ہاں گائے بیل تھے تو ایک موٹا تازہ بچھڑاکاٹ کر پکاکر حاضر کردیا۔
سلام اور جواب
یہاں ظاہر ہے کہ ہر…
Read the full tafseer →ف 2 ۔ ” بناتی “ (بیٹیوں) سے مراد ان لوگوں کو اپنی عورتیں ہیں کیونکہ نبی اپنی قوم کے لئے بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے اور قوم کی ساری عورتیں نبی کی بیٹیاں ہوتی ہیں جیسا کہ نبی ﷺ کے بارے میں ارشاد ہے۔ النبی اولی بالمومنین من انفسھم و ازواجھہ امھاتھم (احزاب آیت 6) ۔ یہی تفسیر راضح ہے گو بعض نے لوط (علیہ السلام) کی اپنی بیٹیاں بھی مراد ی ہیں کہ ان سے شادی کرلو۔ (کمانی الفوضح) ۔
Read the full tafseer →(11:78) یھرعون مضارع مجہول جمع مذکر غائب اھراع مصدر۔ افعال۔ تیز دوڑتے ہوئے مجہول کا صیغہ سرعت اور شدت جذبات کو ظاہر کرنے کے لئے لایا گیا ہے۔ یعنی وہ تیزی اور سرعت سے حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر کی طرف دوڑے جیسے انہیں کوئی بیرونی طاقت مجبور کر رہی ہے اور وہ اڑے جا رہے ہیں۔
یہ مجبوری کا مفہوم اس آیۃ میں بھی ہے فھم علی اثارہم یھرعون (37:70) سو وہ بھی ان کے نقش قدم پر تیزی سے اندھا دھند چل پڑے (یعنی ان کے شوق و رغبت کی یہ شدت تھی کہ انہوں نے دلیل صحیح کی پیروی چھوڑ کر اندھی تقلید شروع کردی گویا مجبور محض تھے) ۔ نیز ملاحظہ ہو 7:120 (والقی السحرۃ سجدین اور جادوگر بےاختیار سجدہ میں گرگئے)
بنتی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 83
سیء (رنجیدہ ہوا) ضاق (تنگ ہوگیا) یوم عصیب (بھاری دن۔ مشکل وقت ) یھرعون (وہ دوڑتے ہیں) السیئات (سیئۃ ) برائیاں بناتی (میری بیٹیاں) اطھر (زیادہ پاک باز، صاف ستھری) لاتخزون (تمجھے مجھے رسوا نہ کرو) ضیفی (میرے مہمان) رجل (مرد) رشید (زیادہ بہتر، زیادہ سمجھ دار) اوی (لینے والا) رکن شدید (مضبوط سہارا) لن یصلوا (وہ ہرگز نہ پہنچیں گے) اسر (رات کو نکل جا) قطع (حصہ) اللیل (رات) لایلتفت (توجہ نہ کرنا) امراتک (تیری بیوی) عالیھا (اس کے اوپر کو) سافلھا (اس کے نیچے) امطرنا (ہم نے برسایا) سجیل (پکی اینٹ) منضود (پتھر) مسومۃ (نام لکھا ہوا، متعین و مقرر)
تشریح : آیت نمبر 77 تا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ
جب فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو وہ ان کے آنے سے دل ہی دل میں بہت کڑھے اور بہت پریشان ہوئے۔ کیونکہ وہ اپنی قوم سے واقف تھے سمجھے کہ آج کا روز بہت سخت ہوگا قوم سے ان کی خاطر جھگڑنا پڑے گا۔ جب گھر میں وہ فرشتے آچکے تو ان کی بیوی نے اپنی قوم کو خبر دی کہ ہمارے گھر میں جوان جوان اور حسین حسین تین لڑکے مہمان آئے ہیں۔ ان کی قوم یہ خبر سنتے ہی دوڑ پڑی کیونکہ ان کو برے کاموں کی چاٹ لگی ہوئی تھی۔ لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا :'' بھائیو ! میری قوم کی لڑکیاں حاضر ہیں تم ان سے نکاح کرلو۔ یہ تمہارے واسطے حلال اور پاک ہیں اور خدا سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے خیال سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
[43] بیٹیوں سے مراد قوم کی لڑکیاں بھی ہوسکتی ہیں کہ نبی اپنی امت کے لئے بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ لوط (علیہ السلام) کا اشارہ خود اپنی لڑکیوں کی طرف ہو۔ بہرحال دونوں صورتوں میں یہ گمان کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ لوط (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو لڑکیوں سے زنا کرنے کے لئے کہا ہوگا کیونکہ ان کا یہ کہنا کہ یہ تمہارے لئے پاکیزہ ہیں ایسا مفہوم لینے کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا۔ لوط (علیہ السلام) کا منشا یہ تھا کہ اپنی شہوانی خواہش کو نکاح کے ذریعے جائز طریقے سے پورا کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
(ف 1) حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم خلاف وضع فطرت کی عادی تھی ، ان کا خبث باطن اس حد تک پہنچ چکا تھا کہ ہر وقت ان کی نظر انہیں شہوانی مشاغل کی جالب رہتی ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جب فرشتے بطور مہمان کے آئے تو انہیں خوبصورت دیکھ کر خباثت نفس میں جوش پیدا ہوا بھاگتے اور لپکتے ہوئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کی بدمعاشی سے ڈرے کہ کہیں یہ میرے مہمانوں کو ذلیل نہ کریں ، چناچہ انہیں نصیحت فرمائی کہ کمبختو ! یہ عورتیں موجود ہیں ، جو فطرت کے تسکین نفس کے لئے پیدا کی ہیں ، ان کو چھوڑ کر تم لونڈوں پر کیوں مرتے ہو ، انہوں نے کہا ، آپ کی ان بیٹیوں (یعنی…
Read the full tafseer →78 اور لوط کی قوم کے لوگ لوط کے پاس دوڑتے ہوئے آئے اور ان کی حالت یہ تھی کہ وہ پہلے ہی سے برے کام کے عادی اور خوگر تھے لوط نے یہ پریشان کن منظر دیکھ کر کہا اے میری قوم یہ میری بیٹیاں موجود ہیں یہ تمہارے لئے اچھی اور پاکیزہ ہیں ان سے نکاح کرلو پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو کیا تم میں کوئی شخص بھی شائستہ اور نیک چلن نہیں ہے۔
جب قوم کے بدذوق لوگ ہجوم کرکے لوط (علیہ السلام) پر چڑھ آئے تو حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو سمجھایا کہ تم حلال طریقہ پر اپنی خواہش پوری کرو اور میرے مہمانوں سے کوئی تعارض نہ کرو کہ اس میں میری رسوائی ہے اور حلال طریقہ یہ کہ میری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
ف 4۔ بناتی سے مجازا امت کی عورتیں مراد ہیں کیونکہ نبی امت کے لیے بجائے باپ کے ہوتا ہے اور حقیقی معنی اس لیے مراد نہیں ہوسکتے کہ آپ کی دویاتین بیٹیاں تھیں سو کس کس سے ان کا نکاح کردیتے وہ تو سارے اسی مرض میں مبتلا تھے۔
Read the full tafseer →مہمانوں کی آمد کی خبر لوط (علیہ السلام) کی قوم کو لگ گئی تو وہ لوط کے گھر کی طرف دوڑے
101 ؎ لوط (علیہ السلام) ابھی تک اسی حیص بیص میں تھے کہ قوم کو خبر لگ گئی اور لوط (علیہ السلام) کے گھر پر چڑھ آئے اور مطالبہ کرنے لگے کہ تم ان مہمانوں کو ہمارے حوالے کر دو ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو بہت سمجھایا لیکن وہ سمجھنے والے کب تھے ؟ یھر عون الاھراع سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں کہ شدت جوش و غضب سے کانپتے ہوئے بھاگتے چلے آنا اور لفظ نے قوم لوط کے وڈیروں کی ساری کیفیت ایک لفظ میں بیان کردی اور یہ قرآن کریم کا معجزہ بلاغت ہے کہ وہ ایسا اشارہ کردیتا ہے جس میں صفحات کے صفحات مضمون پوشیدہ ہوتا ہے اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
Things turned out as Sayyidna Lut (علیہ السلام) had first apprehended. This finds mention in the second verse (78): وَجَاءَهُ قَوْمُهُ يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ (And his people came to him, rushing upon him) - and they were already used to committing evil deeds.
It has been hinted here that such was the curse of their evil deed that they had lost all sense of modesty and propriety, so much so that they did not hesitate to storm even the home of Sayyidna Lut (علیہ السلام) for a purpose that sinister.
When Sayyidna Lut (علیہ السلام) realized that it was difficult to protect his guests, he tried…
Read the full tafseer →87. It is possible that Lot (peace be on him) used the word 'daughters' to refer to the totality of females in his nation as such. For a Messenger is indeed like a father to his people, and all the females of that nation are to him like his own daughters. It is also possible that when Lot used the word 'daughters' he meant his own daughters. Whatever is the correct interpretation, one should not misunderstand the statement and think it an invitation for Lot's people to indulge in illegitimate sex. For the very next part of his remark, viz. 'they are purer for you', excludes all justification…
Read the full tafseer →