Hud 11:77

Hud · from ayah 77

11:77

وَلَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّقَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ ۟وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُـنَا لُوۡطًا سِىۡٓءَ بِهِمۡ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ

اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ ان (کے آنے) سے غمناک اور تنگ دل ہوئے اور کہنے لگے کہ آج کا دن بڑی مشکل کا دن ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when Our messengers, [the angels], came to Lot, he was anguished for them and felt for them great discomfort and said, "This is a trying day."

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 7 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:77

اور جب ہمارے فرشتے لوطؑ کے پاس پہنچے تو اُن کی آمد سے وہ بہت گھبرایا اور دل تنگ ہوا اور کہنے لگا کہ آج بڑی مصیبت کا دن ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ ان (کے آنے) سے غمناک اور تنگ دل ہوئے اور کہنے لگے کہ آج کا دن بڑی مشکل کا دن ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے لوط کے پاس پہنچے تو وه ان کی وجہ سے بہت غمگین ہوگئے اور دل ہی دل میں کڑھنے لگے اور کہنے لگے کہ آج کا دن بڑی مصیبت کا دن ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس پہنچے تو وہ ان کی وجہ سے گھبرائے، ان کا دل پریشان ہوا اور وہ کہنے لگے کہ : آج کا یہ دن بہت کٹھن ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب لوط کے یہاں ہمارے فرشتے آئے اسے ان کا غم ہوا او ر ان کے سبب دل تنگ ہوا اور بولا یہ بڑی سختی کا دن ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب ہمارے فرستادہ فرشتے لوط ؑ کے پاس آئے (تو) وہ ان کے آنے سے پریشان ہوئے اور ان کے باعث (ان کی) طاقت کمزور پڑ گئی اور کہنے لگے: یہ بہت سخت دن ہے (فرشتے نہایت خوب رُو تھے اور حضرت لوط علیہ السلام کو اپنی قوم کی بری عادت کا علم تھا سو ممکنہ فتنہ کے اندیشہ سے پریشان ہوئے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب ہمارے بھیجے ہوئے لوط کے پاس آئے، وہ ان کی وجہ سے مغموم ہوا اور ان سے دل تنگ ہوا اور اس نے کہا یہ بہت سخت دن ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر جب ہمارے فرستادہ (فرشتے) لوط کے پاس آئے تو انھیں ان کا آنا ناگوار محسوس ہوا اور دل گھٹ گیا اور کہنے لگے۔ یہ تو مصیبت کا دن ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب ہمارے فرستادے لوط کے پاس پہنچے وہ ان کے سبب سے غمگین ہوا اور اس کا دل بھنچا اور بولا کہ یہ تو بہت ہی کٹھن دن ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب پہنچ گئے ہمارے فرشتے لوط کے پاس (اپنی اصل مہم کی انجام دہی کے لئے) تو وہ بہت غمگین ہوئے ان کی (آمد کی) بناء پر، اور ان کا دل سخت تنگ ہوگیا ان کی وجہ سے، اور انہوں نے کہا کہ یہ بڑا ہی سخت دن ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب ہمارے فرستادے لوط ؑ کے پاس سے پہنچے تو لوط ؑ ان کی وجہ سے کڑھے اور ان کی وجہ سے بہت تنگدل ہوئے اور بولے یہ آج کا دن بہت بھاری ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب آئے ہمارے فرستادے لوط ؑ کے پاس تو آپ ان کی وجہ سے بڑے غمگین ہوئے اور آپ کا دل بہت تنگ ہوا اور آپ کہنے لگے کہ آج تو بہت سختی کا دن ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ ان کے آنے سے غم ناک اور تنگدل ہوئے اور کہنے لگے کہ آج کا دن بڑا مشکل دن ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And when Our messengers came to Lot, he was perturbed by their coming and felt troubled on their account, and said: 'This is a distressing day.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When Our emissaries (angels) came to LuT, he was saddened because of them, and his heart felt uneasy for their sake, and He said, :This is a very hard day.

— Muhammad Taqi Usmani

When Our emissaries (angels) came to LuT, he was saddened because of them, and his heart felt uneasy for their sake, and He said, :This is a very hard day.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when Our messengers came to Lut, he was grieved on account of them and was concerned for them. He said: "This is a distressful day."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when Our messengers came unto Lot, he was distressed and knew not how to protect them. He said: This is a distressful day.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when Our messengers, [the angels], came to Lot, he was anguished for them and felt for them great discomfort and said, "This is a trying day."

— Saheeh International

When Our Messengers came to Lot, he became sorrowful and felt totally helpless. He said, "This is indeed a distressful day".

— Muhammad Sarwar

And when Our apostles came to Lut, he was grieved for them, and he lacked strength to protect them, and said: This is a hard day.

— Muhammad Habib Shakir

And when Our messengers came unto Lut, he was distressed on their account, and he felt straitened on their account, and he said: this is a lay dreadful.

— Abdul Majid Daryabadi

When Our messengers came to Lut, he was grieved on their account and felt himself powerless (to protect) them. He said: "This is a distressful day."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:77

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 77–79

حضرت لوط ؑ کے گھر فرشتوں کا نزول۔ حضرت ابراہیم کو یہ فرشتے اپنا بھید بتا کر وہاں سے چل دیئے اور حضرت لوط ؑ کے پاس ان کے زمین میں یا ان کے مکان میں پہنچے۔ مرد خوبصورت لڑکوں کی شکل میں تھے تاکہ قوم لوط کی پوری آزمائش ہوجائے، حضرت لوط ان مہمانوں کو دیکھ کر قوم کی حالت سامنے رکھ کر سٹ پٹا گئے، دل ہی دل میں پیچ تاب کھانے لگے کہ اگر انہیں مہمان بناتا ہوں تو ممکن ہے خبر پاکر لوگ چڑھ دوڑیں اور اگر مہمان نہیں رکھتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑجائیں گے۔ زبان سے بھی نکل گیا کہ آج کا دن بڑا ہیبت ناک دن ہے۔ قوم والے اپنی شرارت سے باز نہیں آئیں گے۔ مجھ میں ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں۔ کیا ہوگا ؟ قتادہ فرماتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة هُوْد 85 سورۃ اعراف رکوع 10 کے حواشی پیش نظر ہیں۔ سورة هُوْد 86 اس قصے کی جو تفصیلات قرآن مجید میں بیان ہوئی ہیں ان کے فحوائے کلام سے یہ بات صاف مترشح ہوتی ہے کہ یہ فرشتے خوبصورت لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط ؑ کے ہاں پہنچے تھے اور حضرت لوط ؑ اس بات سے بیخبر تھے کہ یہ فرشتے ہیں۔ یہی سبب تھا کہ ان مہمانوں کی آمد سے آپ کو سخت پریشانی و دل تنگی لاحق ہوئی۔ اپنی قوم کو جانتے تھے کہ وہ کیسی بدکردار اور کتنی بےحیا ہوچکی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 74–77

خلاصہ تفسیر پھر جب ابراہیم ؑ کا وہ خوف زائل ہوگیا (جب فرشتوں نے لَا تَخَفْ کہا اور ان کا فرشتہ ہونا معلوم ہوگیا) اور ان کو خوشی کی خبر ملی (کہ اولاد پیدا ہوگی) تو (ادھر سے بےفکر ہو کر دوسری طرف متوجہ ہوئے کہ قوم لوط ہلاک کی جاوے گی اور) ہم سے لوط ؑ کی قوم کے بارے میں (سفارش جو باعتبار مبالغہ و اصرار کے صورۃً) جدال (تھا) کرنا شروع کیا (جس کی تفصیل دوسری آیت میں ہے کہ وہاں تو لوط ؑ بھی موجود ہیں اس لئے عذاب نہ بھیجا جاوے کہ ان کو گزند پہنچے گا، مطلب یہ ہوگا کہ اس بہانہ سے قوم بچ جاوے جیسا فِيْ قَوْمِ لُوْطٍ سے ظا ہرا معلوم ہوتا ہے اور شاید ابراہیم ؑ کو ان کے مومن ہونے کی امید ہو) واقعی ابراہیم…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَلَمَّا جَاۗءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِيْۗءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّقَالَ ھٰذَا يَوْمٌ عَصِيْبٌ۔ فرشتوں کی آمد پر حضرت لوط کی تشویش : حضرت ابراہیم کو بشارت پہنچانے اور قوم لوط کے انجام سے باخبر کرنے کے بعد یہ فرشتے حضرت لوط کے پاس پہنچے۔ حضرت لوط نے جب دیکھا کہ چند خوبرو نوجوان دروازے پر ہیں تو وہ سخت منقبض اور دل تنگ ہوئے۔ دل میں کہا کہ آج کا دن تو بڑا کٹھن دن ہوگا۔ اس انقباض و پریشانی کی وجہ ظاہر ہے کہ جب قوم کی قوم اس فساد اخلاق میں مبتلا ہو جس میں حضرت لوط کی قوم مبتلا تھی تو ایسے خوش شکل نوواردوں کا دروازے پر آنا گویا شہر کے سارے غنڈوں کو دعوت دینے کے ہم معنی تھا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

77۔ 1 حضرت لوط ؑ کی اس سخت پریشانی کی وجہ مفسرین نے لکھی ہے کہ یہ فرشتے نوجوانوں کی شکل میں آئے تھے، جو بےریش تھے، جس سے حضرت لوط ؑ نے اپنی قوم کی عادت قبیحہ کے پیش نظر سخت خطرہ محسوس کیا۔ کیونکہ ان کو یہ پتہ نہیں تھا کہ آنے والے یہ نوجوان، مہمان نہیں ہیں، بلکہ اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو اس قوم کو ہلاک کرنے کے لئے آئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

45: حضرت لوط ؑ کے پاس یہ فرشتے خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں آئے تھے۔ اور انہیں ابھی یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ فرشتے ہیں۔ دوسری طرف وہ اپنی قوم کی بد فطرت بےحیائی سے واقف تھے۔ اس لیے ان کی پریشانی کی وجہ یہ تھی کہ ان کی قوم ان مہمانوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کی کوشش کرے گی، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ جیسا کہ اگلی آیت میں یہ بیان فرمایا گیا ہے، وہ لوگ ان نوجوانوں کی آمد کی خبر سنتے ہی اس مقصد سے دورتے ہوئے آئے، اور حضرت لوط ؑ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان مہمانوں کو ان کے حوالے کردیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آپ اپنی قوم کو اچھی طرح جانتے تھے ، ان کی فطرت کے اندر جو بگاڑ اور گندگی پیدا ہوگئی تھی وہ ناقابل تصور اور بےمثل تھی۔ وہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ شہوانی تعلقات قائم کرتے تھے۔ اور یہ حرکت اس نظام فطرت کے خلاف تھی جس کے مطابق اللہ نے تمام مخلوقات کو نر اور مادہ کی شکل میں پیدا کیا ، تا کہ تمام انواع کی بقا اور تسلسل قائم رہ سکے اور جس کے ذریعے نوامیس فطرت نے انسان کے لیے جو لذت اور خوشی ودیعت کی ہے اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔ یہ راہ فطرت انسان خود اپنے غور و فکر اور اپنی تدابیر اور محنت سے حاصل نہیں کرسکتا ، صرف راہ راست پر استقامت اور ہدایت ربانی سے یہ لذت مل سکتی ہے۔ جنسی بےراہ روی کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 فرشتے نہایت حسین و جمیل بےریش و بروت نوجوانوں کی شکل میں تھے۔ ابتداء حضرت لوط نے نہ پہچانا کہ فرشتے ہیں۔ معمولی مہمان سمجھے۔ ادھر اس قوم کی بےحیائی اور خوئے بد معلوم تھی۔ سخت فکر مند اور تنگ دل ہوئے کہ یہ بدمعاش اور مہمانوں کا پیچھا کریں گے۔ مہمانوں کو چھوڑنا بھی مشکل اور ان خبیثوں کے ہاتھوں سے چھڑانا بھی دشوار، گویا ساری قوم سے لڑائی مول لینا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

وَّقَالَ ہٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ چونکہ ان بستیوں کے لوگوں میں امرد پرستی عام تھی لہٰذا ان کی آخری آزمائش کے لیے فرشتوں کو ان کے پاس نوجوان خوبصورت لڑکوں کے روپ میں بھیجا گیا تھا۔ حضرت لوط ان خوبصورت مہمان لڑکوں کو دیکھ کر اسی لیے پریشان ہوئے کہ اب وہ اپنے ان مہمانوں کا دفاع کیسے کریں گے۔ اس لیے کہ آپ جانتے تھے کہ ان کی قوم کے لوگ کسی اپیل یا دلیل سے باز آنے والے نہیں تھے اور آپ اکیلے زبردستی انہیں روک نہیں سکتے تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

87 خوش شکل فرشتے اور سیدنا لوط کو خدشہ :۔ سیدنا ابراہیم سے ہو کر یہ فرشتے نہایت خوبصورت جوان اور بےریش لڑکوں کی شکل میں سیدنا لوط کے پاس آئے جنہیں دیکھ کر سیدنا لوط کے دل میں سخت گھٹن پیدا ہوئی کئی طرح کے خطرات ان کے سامنے منڈلانے لگے بڑا خطرہ یہی تھا کہ یہ مہمان خوبصورت لڑکے ہیں اور میری قوم جس بدکاری میں مبتلا ہے وہ انھیں کبھی چھوڑے گی نہیں اور دوسری فکر یہ تھی کہ اگر میں ان کی مدافعت بھی کرنا چاہوں تو یہ مرے بس کا روگ نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

113۔ (دیکھا چاہیے جو عزت وآبرو سے گزر جائے) (آیت) ” لما جآءت رسلنا “۔ یعنی جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے کمسن اور خوبرو لڑکوں کی شکل میں لوط (علیہ السلام) کے شہر سدوم میں (جوملک شام میں بحرمردہ کے عین ساحل پر واقع تھا) پہنچے۔ لوط حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے اور خود بھی پیغمبر تھے آپ پر حاشیہ سورة اعراف میں گزر چکا۔ قوم لوط (علیہ السلام) کی غیر طبعی اور خلاف وضع فطرت شہوانیت آج ضرب المثل کے درجہ تک پہنچ گئی ہے اور کسی مزید صراحت کی ضرورت نہیں۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو قدرۃ اپنے مہمانوں سے متعلق یہی اندیشہ پیدا ہوا کہ ان بیچاروں کی کیسی بےعزتی ان نابکاروں کے ہاتھ ہوگئی۔ (آیت) ” ضاق بھم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 69–83

آیت نمبر 69 تا 83 ترجمہ : ہمارے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحاق اور اس کے بعد یعقوب کی خوشخبری لے کر پہنچے، کہا تم پر سلام ہو سلامًا مصدر ہے ابراہیم نے کہا تم پر بھی سلام ہو کچھ) زیادہ ( دیر نہیں گزری کہ ابراہیم بھنا ہوا بچھڑا لے آئے مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑحٹے تو ان کو اجنبی محسوس کیا نَکِرَ بمعنی اَنکِرَ ہے تو ان کی طرف سے اپنے دل میں ابراہیم نے خوف محسوس کیا فرشتوں نے کہا خوف نہ کرو، ہمیں قوم لوط کی طرف بھیجا گیا ہے تاکہ ہم اس کو ہلاک کریں اور ابراہیم کی بیوی سارہ ان کی خدمت میں لگی ہوئی تھی تو وہ قوم کی ہلاکت) اور لوط ( کی) نجات کی ( بشارت سن کر ہنس پڑیں،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولما جآءت رسلنا لوطا اور جب ہمارے قاصد (یعنی وہی ملائکہ) لوط کے پاس پہنچے۔ نوخیز ‘ خوبصورت ‘ بےڈاڑھی مونچھ کے لڑکوں کی شکل میں۔ سیء بھم تو لوط کو ان کا آنا ناگوار ہوا۔ حضرت لوط ان کو آدمی سمجھے ‘ اسلئے (قوم کی طرف سے خطرے کے زیراثر) آپ کو فکر ہوگئی کہ کہیں قوم والے کچھ ناشائستہ ارادہ نہ کریں اور میں ان کو دفع کرنے پر قادر نہ ہوں۔ وضاق بھم ذرعًا ان قاصدوں کی وجہ سے لوط دل تنگ ہوئے۔ بغوی نے ذرع کا ترجمہ کیا ہے : دل۔ بیضاوی نے لکھا ہے : ان کی موجودگی سے حضرت لوط کا سینہ تنگ ہوگیا۔ یعنی آنے والی مصیبت کو دفع کرنے کی قوت نہ تھی اور کوئی تدبیر نظر نہ آتی تھی ‘ اسلئے آپ کے دل میں کوفت پیدا ہوگئی کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(77) اور جب جبریل امین ؑ اور انکے ساتھ دوسرے فرشتے لوط ؑ کے پاس آئے تو لوط ؑ انکے آنے کی وجہ سے مغموم اور پریشان ہوئے (کیوں کہ وہ بہت حسین تھے اور لوط ؑ نے ان کو آدمی سمجھا کیونکہ ان کی قوم کی غلط حرکات تھیں اور بہت غمگین ہوئے اور اپنی قوم کے برے افعال کی وجہ سے درے اور دل میں کہنے لگے آج کا دن بہت ہی بھاری ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَمَّا جَاۗءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِيْۗءَ بِهِمْ۔۔ : یہاں سے لوط ؑ کا قصہ شروع ہوتا ہے جو کئی سورتوں میں مختلف انداز سے ذکر ہوا ہے، مثلاً سورة اعراف، حجر، شعراء، نمل، عنکبوت، صافات، ذاریات اور قمر۔ ان سورتوں میں بھی تفسیر دیکھ لیں۔ لوط ؑ ابراہیم ؑ کے آگ سے صحیح سلامت باہر نکل آنے پر ان پر ایمان لے آئے تھے اور انھوں نے ان کے ساتھ ہی شام کی طرف ہجرت کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں نبوت سے سرفراز فرمایا اور وادی اردن میں ”سدوم“ نامی بستی اور اس کے گرد و نواح کے لیے مبعوث فرمایا۔ یہ قوم شرک و کفر کے ساتھ ساتھ ایسے فعل بد کی مرتکب تھی جس کا ارتکاب ان سے پہلے دنیا بھر میں کسی نے نہیں کیا تھا۔ یہ لوگ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 77–83

آیت نمبر 77 تا 83 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ولماجآءت رسلنالوطًاسیٓء بھمجب فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے نکلے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستی کے درمیان چار فرسخ (بارہ شرعی میل) کا فاصلہ تھا۔ (قوم) لوط کی دو بیٹیوں نے فرشتوں کو دیکھا اور وہ دونوں پانی بھر رہی تھی۔ اور ان دونوں نے خوبصورت شکل کو دیکھا۔ تو انہوں نے کہا : تم کون ہو ؟ اور کہاں سے تم آئے ؟ انہوں نے کہا : فلاں جگہ سےِ ، ہم اس گاؤں کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا : اس کے رہنے والے فحش (کام کرنے والے) لوگ ہیں۔ تو انہوں نے کہا : کیا اس میں وہ شخص ہے جو ہمیں پناہ دے گا ؟ انہوں نے کہا : ہاں، یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن جریر وابو الشیخ وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ولما جآءت رسلنا لوطا سیٓء بہم وضاق بہم ذرعا “ سے مراد ہے کہ لوط (علیہ السلام) بڑے غمگین ہوئے اپنی قوم کی بری عادات کی وجہ سے اور اپنے مہمانوں کی وجہ سے بہت پریشان ہوئے (آیت) ” وقال ھذا یوم عصیب “ اور فرمایا یہ دن بڑا سخت ہے۔ 2:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا آپ اپنی قوم کے بارے میں بدگمانی کے سبب سے خوف کھانے لگے اپنے مہمانوں پر اور آپ بہت پریشان ہوئے اپنے مہمانوں کے بارے میں ان پر خوف کرتے ہوئے (اپنی قوم کی بری حرکتوں کی وجہ سے) 3: ابن الانباری نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَلَمَا : اور جب ] [جَاۗءَتْ : آئے ] [رُسُلُنَا : ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے)] [لُوْطًا : لوط (علیہ السلام) کے پاس ] [سِيْۗءَ : تو ان (علیہ السلام) کو برا لگایا گیا ] [بِهِمْ : ان (کے آنے) سے ] [وَضَاقَ : اور وہ (علیہ السلام) تنگ ہوئے ] [بِهِمْ : ان (کے آنے) سے ] [ذَرْعًا : بلحاظ کمزوری کے ] [وَّقَالَ : اور انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ھٰذَا : یہ ] [يَوْمٌ عَصِيْبٌ: ایک سخت دن ہے ] ذ رع [ذَرْعًا : (ف) (1) کسی چیز کو ذِراع (ایک پیمانہ کا نام) سے ناپنا۔ (2) پیچھے سے آکر بازو سے کسی کا گلا گھونٹنا۔ کمزور کرنا۔] [ذَرْعٌ: اسم ذات ہے۔ (1) پیمائش۔ لمبائی۔ (2) کمزوری۔ زیر مطالعہ آیت۔ 77] [ذِرَاعٌ:…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 77–83

فرشتوں کا حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آنا، ان کی بد کار قوم کا ہلاک ہونا اور اہل ایمان کا نجات پانا اللہ تعالیٰ نے جو فرشتے لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کیلئے بھیجے تھے وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بشارت دے کر اور ان کے مکالمہ اور مجادلہ سے فارغ ہو کر حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے جو انسانی شکلوں میں تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو لڑکوں اور مردوں کے ساتھ بد فعلی کی عادت تھی ‘ وہ منع کرتے تھے تو باز نہ آتے تھے اور الٹا حضرت لوط (علیہ السلام) کے ساتھیوں کو طعنہ دیتے تھے اور یوں کہتے تھے ان لوگوں کو بستی سے نکال دو یہ بڑے پاک باز بنتے ہیں (جیسا کہ سورة اعراف کے رکوع…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 77–83

قصہ لوط (علیہ السلام) وقوم او کہ تتمہ قصہ سابقہ است قال اللہ تعالیٰ ولما جاءت رسلنا لوطا سیء بھم .... الیٰ .... وما ہی من الظلمین ببعید۔ (ربط) گزشتہ قصہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ پیش آیا اب اس کے بعد لوط (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں لوط (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے اور اہل سدوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ یہ بستی حمص کے قریب تھی اور اسکے پاس اور بھی کچھ گاؤں تھے جن کی مجموعی آبادی تقریباً چار لاکھ تھی سوائے اہل ایمان کے سب ہلاک ہوگئے۔ یہ قصہ کا تتمہ ہے یا یوں کہو کہ پہلا قصہ اس قصہ کی تمہید تھا۔ اور اصل مقصود قوم لوط کی ہلاکت کا قصہ بیان کرنا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

69:۔ یہ پانچواں واقعہ ہے اور دوسرے دعوے ہی سے متعلق ہے۔ جب فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے رخصت ہو کر حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو وہ اپنی قوم کی عادت بد کے پیش نظر انہیں دیکھ کر بہت غمگین ہوئے اور اپنے کو کمزور اور بےبس محسوس کیا۔ یا دل میں ان کی آمد کو ناپسند کیا۔ ذرع کے معنی اصل میں فراخی کے ہیں یہاں سینے یا طاقت سے کنایہ۔ ضَاقَ بِھِمْ ذَرْعًا ای طاقۃ و جھدا (روح ج 12 ص 105) ۔ وَ ضَاقَ بِھِمْ ذَرْعًا ای ضاق صدرہ بمجیئہم وکرھہ (قرطبی ج 8 ص 74) اس واقعہ سے حضرت لوط (علیہ السلام) کے غیب داں ہوں نے کی نفی ہوتی ہے اگر انہیں معلوم ہوتا کہ یہ فرشتے ہیں تو انہیں غم کرنے کی ضرورت نہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 77–83

ربط آیات گزشتہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دی جانے والی بشارت کا ذکر تھا اور پھر لوط (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا تذکرہ تھا ، دراصل مضمون کا یہی حصہ ہے جو سابقہ موضوع کے تسلسل میں ہے بعض سابقہ ابنیاء اور ان کی قوموں کا حال پہلے بیان ہوچکا ہے اور پھر ان کی نافرمانی کی بنا پر ان قوموں پر جو عذاب آیا اس کا ذکر بھی ہوچکا ہے۔ اب لوط (علیہ السلام) کے واقعہ میں …… آپ کی قوم پر عذاب کی کیفیت بیان ہو رہی ہے۔ یہاں پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کا ذکر اکٹھا آیا ہے۔ جو فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بشارت لائے تھے۔ وہی قوم لوط پر عذاب برپا کرنے پر بھی مامور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَمَّا جَاۗءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِيْۗءَ بِہِمْ وَضَاقَ بِہِمْ ذَرْعًا وَّقَالَ ھٰذَا يَوْمٌ عَصِيْبٌ۝ 77 ويقال : سَاءَنِي كذا، وسُؤْتَنِي، وأَسَأْتَ إلى فلان، قال : سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الملک/ 27] ، وقال : لِيَسُوؤُا وُجُوهَكُمْ [ الإسراء/ 7] ساء اور ساءنی کذا وسؤتنی کہاجاتا ہے ۔ اور اسات الی ٰ فلان ( بصلہ الی ٰ ) بولتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الملک/ 27] تو کافروں کے منہ برے ہوجائیں گے ۔ لِيَسُوؤُا وُجُوهَكُمْ [ الإسراء/ 7] تاکہ تمہارے چہروں کو بگاڑیں ۔ ضيق الضِّيقُ : ضدّ السّعة، ويقال : الضَّيْقُ أيضا، والضَّيْقَةُ يستعمل في الفقر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 71–83

1 ؎ الضحک ہوالسرور و انبساط الوجہ دھذا قول الجمہور وقیل ضحکت بمعنی حاضت العرب یقول اضحکت الارنب اذا خاصت وانکرہ اکثر اہل اللغۃ یعقوب بالنصب مفعول بشرنا وقری بالجرومنعہ الفراء وقری بالرفع علی الابتدا وخبرہ الظرف الذیمی قبلہ اہل البیت نصبہ علی المدح اذا الاختصاص وفیہ دلیل علی ان ازواج الرجل من اہل بیتہ۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 76–77

یٰٓاِبْرٰھِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا ج اِنَّہٗ قَدْجَآئَ اَمْرُ رَبِّکَ ج وَاِنَّھُمْ اٰتِیْھِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ ۔ (سورۃ ہود : 76) (اے ابراہیم ! اس بات کو رہنے دیجیے، اب تمہارے رب کا حکم آچکا اور ان پر ایک ایسا عذاب آکر رہے گا جو ٹالے نہ ٹالا جاسکے۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو سفارش سے روک دیا گیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تمام تر الحاح وزاری اور اصرار کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : کہ اے ابراہیم اب اس اصرار کو چھوڑو۔ تمہاری دردمندی اور اللہ کی طرف انابت اپنی جگہ لیکن قوم لوط نے جس طرح اللہ کی نافرمانی کی اور اللہ کے نبی کی تکذیب کی اور ایک ایک اخلاقی قدر کو پامال…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 76–78

فہم القرآن ربط کلام : ملائکہ کی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے فارغ ہونے کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضری۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) ملائکہ کی زبان سے بیٹے اور پوتے کی خوشخبری سن چکے۔ تو پھر قوم لوط کے بارے میں ملائکہ سے تکرار کرنے لگے۔ جس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ مجرموں کے حمایتی تھے۔ بلکہ وہ اس وجہ سے قوم لوط کے بارے میں تکرار کر رہے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نہایت حوصلہ مند، دوسرے کی تکلیف دیکھ کر تڑپ جانے والے اور ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ جس بناء پر وہ ملائکہ سے تکرار کرنے لگے کہ آپ انہیں کچھ اور مہلت دیں۔ شاید وہ سنبھل جائیں۔ حضرت نے یہ بھی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

لوط ( علیہ السلام) اور فرشتے : 77: پھر وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے نکل کر قوم لوط کی طرف متوجہ ہوئے، ابراہیم (علیہ السلام) اور قوم لوط کے مابین چارفرسخ کا فاصلہ تھا۔ وَلَمَّا جَآئَ تْ رُسُلُنَا لُوْطًا (اور جب ہمارے قاصد لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے) ان کے پاس آئے اور آپ نے ان کی ہیئت اور خوبصورتی کو دیکھا۔ سِیْ ئَ بِھِمْ (تو ان کو ناگوار ہوا) ان کو غمزدہ کردیا، کیونکہ انہوں نے گمان کیا کہ وہ انسان ہیں۔ پس ان کے متعلق اپنی قوم کی خباثت کا خطرہ محسوس کیا اور اس وجہ سے بھی کہ وہ ان کی مدافعت اور قوم کے مقابلے سے عاجز تھے۔ وَ ضَاقَ بِھِمْ ذَرْعًا (ان کا دل تنگ ہوا) ذرعًا یہ تمیز ہے۔ یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا واقعہ 77۔” ولماجاء ت رسلنا “ یہی فرشتے ” لوطا “ بےریش خوبصورت لڑکوں کی صورت میں ’ ’ سیء بھم “ یعنی ان کے آنے کی وجہ سے لوط (علیہ السلام) غمگین ہوگئے۔ ” وضاق بھم ذرعا “ یعنی دل کہا جاتا ہے۔ ضاق ذرع فلان بکذا ذرع کا معنی دل سے کیا ہے۔ جب وہ کسی ایسے ناپسند کام میں واقع ہوجائے جس سے نکلنے کی طاقت نہ رکھتا ہو ، کیونکہ جب لوط (علیہ السلام) نے ان کے حسین چہروں اور عمدہ خوشبو کو دیکھا تو ڈرے کہ ان کی قوم ان سے برائی کا اراد کریں گے اور یہ بھی جان لیا کہ اب ان کا دفاع کرنا پڑے گا ۔ ” وقال ھذا یوم عصیب “ یعنی سخت گویا کہ شر اور آزمائش اس میں باندھے دیئے گئے ہیں۔ قتادہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 77–79

77۔ 79۔ خدا کے بھیجے ہوئے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے ہو کر لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے بعضے مفسروں نے یہ بیان کیا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی صاحبزادی شہر کے دروازے پر پانی بھر رہی تھیں فرشتوں نے آکر ان سے پوچھا اے لڑکی اس بستی میں کوئی جگہ ٹھہرنے کی بھی ہے۔ انہوں نے کہا تم یہی ٹھہرو میں ابھی آتی ہوں وہ دوڑ کر اپنے باپ کے پاس آئیں اور کہا کہ شہر کے دروازہ پر دو تین لڑکے خوبصورت خوبصورت کھڑے ہیں تمہاری قوم کو اگر معلوم ہوجائے گا تو وہ انہیں پکڑ لیں گے کیوں کہ ان کی قوم نے ان سے کہہ رکھا تھا تم کسی کو اپنا مہمان نہ بنایا کرو جو آدمی شہر میں آئے گا اس کو ہم اپنے گھر لے جا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت) ” اور جب ہمارے فرشتے آئے۔ “ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ (آیت) ” لوط لوط (علیہ السلام) کے پاس، تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔ “ (آیت) ” اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے “ یعنی بہت حرج والا دن ہے، کیونکہ لوط (علیہ السلام) کو لعم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بےریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لئے ان کے بارے میں ان کے دل میں خیال گزرا تھا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 74–86

قوم لوط کی تباہی کا حکم قول باری ہے فلما ذھب عن ابراہیم الروح و جاء تہ البشری یجادلنا فی قوم لوط ۔ پھر جب ابراہیم کی گھبراہٹ دورہو گئی اور اولاد کی بشارت سے اس کا دل خوش ہوگیا تو اس نے قوط لوط کے معاملہ میں ہم سے جھگڑا شروع کیا ۔ یعنی جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے خوف دور ہوگیا تو وہ فرشتوں سے یہ سن کر کہ انہیں قوم لوط کر ہلاک کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے ، ا ن سے جھگڑنے لگے ، اس موقعہ پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرشتوں سے فرمایا کہ تم قوط لوط کو کیسے ہلاک کرو گے جبکہ وہاں لوط (علیہ السلام) بھی موجود ہیں ؟ فرشتوں نے جواب میں کہا کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہیں ۔ ہم انہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 76–77

158 ۔ اللہ کے عذاب کو کوئی بھی نہیں ٹال سکتا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا کہ ابراہیم اب جانے دو اس قصے کو کہ اب بہرحال آکر رہنا ہے ان لوگوں پر ایک ایسے ہولناک عذاب نے جس کے ٹلنے کی اب کوئی صورت نہیں۔ کہ اللہ پاک کی طرف سے طے شدہ کسی امر کو کوئی بھی نہیں ٹال سکتا۔ اور جب ابو الانبیاء جد الانبیاء افضل الانبیاء بعد نبینا محمد حضرت ابراہیم خلیل۔ علیہما الصلوۃ والسلام۔ بھی اللہ کے حکم کو ٹالنے کے مجاز نہیں تو پھر اور کس کی یہ شان ہوسکتی ہے کہ وہ ایسے کرسکے ؟ پس غلط اور مردود ہے وہ کچھ جو کہ فرزندان شرک و بدعت کہتے ہیں کہ ولی اور بزرگ سب کچھ کرا سکتے ہیں۔ اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 77–83

قوم لوط کا عمل بد اور ان پر عذاب تشریح : حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا قصہ سورة اعراف کے رکوع 11 میں گزر چکا ہے۔ ان آیات میں بھی کافی تفصیل سے بتایا گیا ہے یہ بھی عبرت ناک واقعہ ہے جو قرآن پاک میں مسلمانوں کو سمجھانے کے لیے بیان کیا جا رہا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے چچا زاد بھائی تھے آپ مصر سے ہجرت کر کے دریائے اردن کی ترائی میں آباد ہوئے یہاں سدوم، عموراہ زبویم کی بستیاں آباد تھیں اور اب ان کی جگہ بحیرہ مردار ہے جو مدینہ سے شام کے راستے میں آتا ہے۔ جیسا کہ مذکورہ آیات میں بتایا گیا ہے قوم لوط غیر فطری، خبیث اور بےحیائی کے کام کی عادی ہوگئی تھی۔ اور جب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 69–83

آیات 69 تا 83 اسرار و معارف اعمال وکردار اور ان پر مرتب ہونے والے نتائج کا یہ فرق اس واقعہ سے بھی ظاہر ہے کہ جب ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اپنے فرشتے بھیجے کہ انھیں اولاد کی خوشخبری دیں وہی فرشتے جو ان کے لئے نوید مسرت لائے تھے قوم لوط پر تباہی لانے کے لئے بھی مامور تھے جو ان سے صرف دس بارہ میل آباد تھی۔ یہ فرشتے انسانی شکل میں پہنچے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے سمجھا کوئی مہمان آگئے ہیں ۔ جب انھوں نے سلام کیا اور آپ نے سلام کا جواب دیا انھیں بٹھایا اور فورا ایک بچھڑاتل کرلے آئے چونکہ آپ کے ہاں گائے بیل تھے تو ایک موٹا تازہ بچھڑاکاٹ کر پکاکر حاضر کردیا۔ سلام اور جواب یہاں ظاہر ہے کہ ہر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 ۔ یہ فرشتے گئے لڑکے بنکر اور حضرت لوط ( علیہ السلام) کو اس قوم کی خو معلوم تھی، اس سے خفا ہوئے کہ لڑائی کرنی پڑی۔ (موضح) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(11:77) سیٔ بھم۔ سوء سے ماضی مجہول، واحد مذکر غائب، وہ دل گیر ہوا، غمگین ہوا۔ ضاق۔ ضیق سے۔ وسعت کی ضد ہے۔ وہ تنگ ہوا۔ ذرعا۔ طاقت ۔ گنجائش۔ ہاتھ کی کشادگی۔ الذراع۔ کہنی سے لے کر درمیانی انگلی کے اخیر تک کا حصہ۔ ہاتھ (لمبائی کی اصلاح میں) ذراع جمع ۔ ذرعان واذرع۔ تفسیر الخازن میں ہے ” ازہری کا بیان ہے کہ : ذرع۔ طاقت کی جگہ استعمال کیا جاتا ہے : اور اس کی اصل یوں ہے کہ اونٹ اپنی رفتار میں اگلے قدموں کو پچھلے قدموں کی وسعت کے اعتبار سے بڑھاتا ہے اور جب اس پر طاقت سے زیادہ بوجھ ڈال دیا جاتا ہے تو اس کی وجہ سے اس کے اگلے قدم تنگ ہوجاتے ہیں اور وہ کمزور ہوکر اپنی گردن لمبی کردیتا ہے۔ پس ضیق الذرع…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 77–83

لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 83 سیء (رنجیدہ ہوا) ضاق (تنگ ہوگیا) یوم عصیب (بھاری دن۔ مشکل وقت ) یھرعون (وہ دوڑتے ہیں) السیئات (سیئۃ ) برائیاں بناتی (میری بیٹیاں) اطھر (زیادہ پاک باز، صاف ستھری) لاتخزون (تمجھے مجھے رسوا نہ کرو) ضیفی (میرے مہمان) رجل (مرد) رشید (زیادہ بہتر، زیادہ سمجھ دار) اوی (لینے والا) رکن شدید (مضبوط سہارا) لن یصلوا (وہ ہرگز نہ پہنچیں گے) اسر (رات کو نکل جا) قطع (حصہ) اللیل (رات) لایلتفت (توجہ نہ کرنا) امراتک (تیری بیوی) عالیھا (اس کے اوپر کو) سافلھا (اس کے نیچے) امطرنا (ہم نے برسایا) سجیل (پکی اینٹ) منضود (پتھر) مسومۃ (نام لکھا ہوا، متعین و مقرر) تشریح : آیت نمبر 77 تا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 77–79

حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ جب فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو وہ ان کے آنے سے دل ہی دل میں بہت کڑھے اور بہت پریشان ہوئے۔ کیونکہ وہ اپنی قوم سے واقف تھے سمجھے کہ آج کا روز بہت سخت ہوگا قوم سے ان کی خاطر جھگڑنا پڑے گا۔ جب گھر میں وہ فرشتے آچکے تو ان کی بیوی نے اپنی قوم کو خبر دی کہ ہمارے گھر میں جوان جوان اور حسین حسین تین لڑکے مہمان آئے ہیں۔ ان کی قوم یہ خبر سنتے ہی دوڑ پڑی کیونکہ ان کو برے کاموں کی چاٹ لگی ہوئی تھی۔ لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا :'' بھائیو ! میری قوم کی لڑکیاں حاضر ہیں تم ان سے نکاح کرلو۔ یہ تمہارے واسطے حلال اور پاک ہیں اور خدا سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے خیال سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[42] اس لئے کہ فرشتے خوبصورت لڑکوں کی شکل میں لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تھے اور آپ اس سے بیخبر تھے کہ وہ فرشتے ہیں۔ لہذا لوط (علیہ السلام) کو قوم کے لوگوں کی خباثت اور بدعملی کا خیال کر کے اپنے مہمانوں سے متعلق اندیشہ ہوا کہ ان بےچاروں کی کیسی بےعزتی ان نابکاروں کے ہاتھ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 73–77

سارہ کا تعجب : (ف 2) حضرت سارہ نے فرشتہ سے جب بچے کی خوشخبری سنی ، تو انہیں تعجب ہوا ، کہنے لگیں ، میں تو اب بوڑھی ہوچکی ابراہیم (علیہ السلام) بھی عمر رسیدہ ہیں ، اس حالت میں پھر کیونکر ” ماں “ بننے کا فخر مجھے عنایت ہوگا فرشتے نے جوابا کہا ، کہ تم خدا کی قدرت سے تعجب کرتی ہو ؟ تعجب انگیز نہٰن ، اس کا کرم ہے ، جب چاہے ، نازل ہوجائے ، اعتراض کیسا ، تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہو نگی اور خدا لائق صد مدح و ستائش ہے وہ جو چاہئے کرے یعنی اللہ کی ہر بات ضاطہ اور قانون ہے وہ سب کچھ کرسکتا ہے ، بڑھاپے میں اولاد کی نعمت سے نواز دے یا عین جوانی میں محروم رکھے ، ہر طرح ممکن اور صحیح ہوگا ، اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

77 اور جب وہ ہمارے فرستادہ فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے تو لوط (علیہ السلام) ان کو دیکھ کر غمگین ہوئے اور ان کی وجہ سے تنگ دل ہوئے اور فرمانے لگے آج کا دن بڑا ہی سخت ہے۔ یعنی یہ فرشتے حضرت ابراہیم سے فارغ ہوکر حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس پہونچے اور حسین و جمیل نو عمر لڑکوں کی شکل میں پہونچے حضرت لوط (علیہ السلام) کو اپنی قوم کی بد ذوقی کا حال معلوم تھا اس لئے وہ پریشان ہوئے لیکن مہمان نوازی کی وجہ سے انکار نہیں کرسکے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ فرشتے گئے لڑکے بن کر اس قوم کی خومعلوم تھی اس سے خفا ہوئے کہ لڑائی کرنی پڑی 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 74–77

ف 3۔ سفارش جو باعتبار مبالغہ وصرار کے صورة جدال تھا اور یہ گفتگو فرشتوں سے ہوئی تھی مگر مقصود اللہ سے عرض کرنا تھا اس لیے یجادلنا فرمایا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہمارے فرستادہ لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان کو دیکھ کر لوط (علیہ السلام) نے ایک مصیبت جانا 100 ؎ اللہ تعالیٰ کے فرستادہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے رخصت ہو کر سدوم پہنچے اور لوط (علیہ السلام) کے ہاں مہمان ہوئے۔ لوط (علیہ السلام) نے ان مہمانوں کو دیکھا تو گھبرا گئے اور ڈرے کہ بدبخت قوم میرے ان مہمانوں کے ساتھ کیا سلوک کرے گی ؟ کیونکہ ابھی تک لوط (علیہ السلام) کو انہوں نے نہیں بتایا تھا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فرستادہ ہیں اور ہمارے اجسام غیر متبدل نہیں۔ اس لئے لوط (علیہ السلام) کو ان کے جانے سے تکلیف محسوس ہوئی کہ کہیں میرے مہمانوں کی فضیحت نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 74–77

Commentary Surah Hud (علیہ السلام) carries an account of different kinds of Divine punishments sent over past peoples because of their antagonism to prophets of the time. Described in the verses cited above is the moral condition of the people of Sayyidna Lut (علیہ السلام) and the severe punishment given to them. Besides being disbelievers, the people of Sayyidna Lut (علیہ السلام) were involved in the practice of such abject evil and immodesty as was not found in the world before them, something even wild animals hate. That a man would pollute his honor and dignity with another man is a…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

85. For details see Towards Understanding the Qur'an, vol. Ill, al-A'raf, nn. 63-8, pp. 49-53 - Ed. 86. What seems to be evident from the story as related in the Qur'an is that the angels had come to Lot (peace be on him) in the form of handsome young boys. It also seems that Lot (peace be on him) was unaware that they were angels. He also felt quite disturbed, therefore, at the sight of the visiting young boys. His reaction was natural in view of the known degeneration and unabashed perversity prevalent among his people.

Read the full tafseer →