Explained with ayahs 74–76
حضرت ابراہیم کی بردباری اور سفارش۔
مہمانوں کے کھانا نہ کھانے کی وجہ سے حضرت ابراہیم کے دل میں جو دہشت سمائی تھی۔ ان کا حل کھل جانے پر وہ دور ہوگئی۔ پھر آپ نے اپنے ہاں لڑکا ہونے کی خوش خبری بھی سن لی۔ اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ یہ فرشتے قوم لوط کی ہلاکت کے لیے بھیجے گئے ہیں تو آپ فرمانے لگے کہ اگر کسی بستی میں تین سو مومن ہوں کیا پھر بھی وہ بستی ہلاک کی جائے گی ؟ حضرت جبرائیل ؑ اور ان کے ساتھیوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ پھر پوچھا کہ اگر چالیس ہوں ؟ جواب ملا پھر بھی نہیں۔ دریافت کیا اگر تیس ہوں۔ کہا گیا پھر بھی نہیں۔ یہاں تک کے تعداد گھٹاتے گھٹاتے پانچ کی بابت پوچھا تو فرشتوں نے یہی جواب دیا۔ پھر…
Read the full tafseer →سورة هُوْد 84
اس سلسلہ بیان میں حضرت ابراہیم ؑ کا یہ واقعہ، خصوصا قوم لوط ؑ کے قصے کی تمہید کے طور پر بظاہر کچھ بےجوڑ سا محسوس ہوتا ہے۔ مگر حقیقت میں یہ اس مقصد کے لحاظ سے نہایت برمحل ہے جس کے لیے بچھلی تاریخ کے یہ واقعات یہاں بیان کیے جا رہے ہیں۔ اس کی مناسبت سمجھنے کے لیے حسب ذیل دو باتوں کو پیش نظر رکھیے
(1) مخاطب قریش کے لوگ ہیں جو حضرات ابراہیم ؑ کی اولاد ہونے کی وجہ ہی سے تمام عرب کے پیرزادے، کعبۃ اللہ کے مجاور اور مذہبی و اخلاقی اور سیاسی و تمدنی پیشوائی کے مالک بنے ہوئے ہیں اور اس گھمنڈ میں مبتلا ہیں کہ ہم پر خدا کا غضب کیسے نازل ہوسکتا ہے جبکہ ہم خدا کے اس پیارے بندے کی اولاد ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–77
خلاصہ تفسیر
پھر جب ابراہیم ؑ کا وہ خوف زائل ہوگیا (جب فرشتوں نے لَا تَخَفْ کہا اور ان کا فرشتہ ہونا معلوم ہوگیا) اور ان کو خوشی کی خبر ملی (کہ اولاد پیدا ہوگی) تو (ادھر سے بےفکر ہو کر دوسری طرف متوجہ ہوئے کہ قوم لوط ہلاک کی جاوے گی اور) ہم سے لوط ؑ کی قوم کے بارے میں (سفارش جو باعتبار مبالغہ و اصرار کے صورۃً) جدال (تھا) کرنا شروع کیا (جس کی تفصیل دوسری آیت میں ہے کہ وہاں تو لوط ؑ بھی موجود ہیں اس لئے عذاب نہ بھیجا جاوے کہ ان کو گزند پہنچے گا، مطلب یہ ہوگا کہ اس بہانہ سے قوم بچ جاوے جیسا فِيْ قَوْمِ لُوْطٍ سے ظا ہرا معلوم ہوتا ہے اور شاید ابراہیم ؑ کو ان کے مومن ہونے کی امید ہو) واقعی ابراہیم…
Read the full tafseer →يٰٓـــاِبْرٰهِيْمُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَاۗءَ اَمْرُ رَبِّكَ ۚ وَاِنَّهُمْ اٰتِيْهِمْ عَذَابٌ غَيْرُ مَرْدُوْدٍ۔
حضرت ابراہی کو جواب : اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کی اس ہمدردو دردمندی اور اس دعا والتجا کی تو تعریف فرمائی لیکن ساتھ ہی آگاہ بھی فرما دیا کہ اب دعا و سفارش کا وقت گزر چکا ہے۔ انہ قد ضاء امر ربک۔ اب تیرے رب کا حکم یعنی حکم عذاب آچکا ہے۔ اور ان پر نہ ٹلنے والا عذاب آ کے رہے گا۔ عذاب غیر مردود سے ایک تو اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ عذاب کوئی تنبیہی نوعیت کا نہیں ہے کہ محض توتنبیہ کر کے گزر جائے بلکہ فیصلہ کن عذاب ہے جو ان کی کمر توڑ کر رکھ دے گا۔ دوسرے اس بات کی طرف…
Read the full tafseer →76۔ 1 یہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم ؑ سے کہا کہ اب اس بحث و تکرار کا کوئی فائدہ نہیں، اسے چھوڑیئے اللہ کا وہ حکم (ہلاکت کا) آچکا ہے، جو اللہ کے ہاں مقدر تھا۔ اور اب یہ عذاب نہ کسی کے مجادلے سے روکے گا نہ کسی کی دعا سے ٹلے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
44: حضرت ابراہیم ؑ کی یہ فرمائش تو منظور نہیں فرمائی گئی کہ قوم لوط سے عذاب کو موخر کردیا جائے، لیکن جس جذبے اور جس انداز سے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے رجوع فرمایا تھا، اس فقرے میں اس کی بڑے بلیغ انداز میں تعریف فرمائی گئی ہے۔
Read the full tafseer →پردہ گرتا ہے اور یہ خوش کن اور دلربا منظر آنکھوں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ سیاق کلام پر خاموشی طاری ہوجاتی ہے۔ لازمی ہے کہ حکم باری کے سامنے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی خاموش ہوگئے ہوں گے۔ لیکن اچانک آنکھوں کے سامنے ایک دوسرا منظر آجاتا ہے جو ہاو و ہو سے پر ہے۔ اردن کے ایک شہر میں قوم لوط (علیہ السلام) سامنے آتی ہے۔ یہ شہر عموریہ اور صدوم ہیں :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
1 یعنی ادھر سے مطمئن ہوئے تو فورا قوم لوط کے مسئلہ میں فرشتوں سے بحث شروع کردی۔ جس کا خلاصہ سورة " عنکبوت " میں بیان فرمایا کہ فرشتوں نے ابراہیم کو مطلع کیا کہ ہم ان بستیوں کو ہلاک کرنے آئے ہیں۔ ابراہیم بولے کہ ان میں تو خود لوط (علیہ السلام) موجود ہیں (پھر ایک پیغمبر کو ان میں موجود ہوتے ہوئے کیسے ہلاک کیے جاسکتے ہیں ؟ ) فرشتوں نے کہا ہم سب کو جانتے ہیں جو وہاں رہتے ہیں لوط اور اس کے متعلقین کو وہاں سے علیحدہ کر کے عذاب نازل کیا جائے گا۔ تفاسیر میں اس بحث کی جو تفاصیل بیان ہوئی ہیں اللہ جانے کہاں تک صحیح ہیں۔ بہرحال اسی بحث کو مبالغۃ لفظ " یجادلنا " سے تعبیر فرمایا۔ جس سے صاف مترشح ہوتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
یہاں حضرت ابراہیم کی یہ تین صفات ایک ساتھ جمع فرما کر آپ کی بہت قدر افزائی بھی فرمائی گئی ہے اور آپ کے مجادلہ کرنے کی وجہ بھی بیان فرما دی گئی ہے کہ چونکہ آپ بہت حلیم الطبع اور دل کے نرم تھے اسی وجہ سے آپ نے آخری حد تک کوشش کی کہ عذاب کے ٹلنے کی کوئی صورت پیدا ہوجائے۔ اسی طرح محمد رسول اللہ کی طبیعت مبارک میں بھی خصوصی نرمی تھی اور حضرت ابوبکر صدیق کو بھی اللہ نے طبیعت کی خاص نرمی عطا کر رکھی تھی۔
Read the full tafseer →86 فرشتوں نے جواب دیا کہ اب اس بحث کا کچھ فائدہ نہیں اللہ تعالیٰ ان پر عذاب کا فیصلہ کرچکا ہے اور ہمیں اس نے اسی غرض کے لیے مامور کردیا ہے۔ لہذا اب یہ موخر نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →،112۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاء وسفارش پر ارشاد ہوا کہ اپنی درخواست پر اصرار نہ کرو یہ لوگ ایمان لانے والے اور سدھرنے والے ہیں ہی نہیں۔ آیت سے صاف معلوم ہوگیا کہ مقبول سے مقبول بندہ کی بھی ہر دعا یا سفارش کا قبول ہوجانا لازمی نہیں۔ بندہ کی نگاہ بہرحال محدود ہی ہوتی ہے حکمت کاملہ کا احاطہ کہاں کرسکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–83
آیت نمبر 69 تا 83
ترجمہ : ہمارے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحاق اور اس کے بعد یعقوب کی خوشخبری لے کر پہنچے، کہا تم پر سلام ہو سلامًا مصدر ہے ابراہیم نے کہا تم پر بھی سلام ہو کچھ) زیادہ ( دیر نہیں گزری کہ ابراہیم بھنا ہوا بچھڑا لے آئے مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑحٹے تو ان کو اجنبی محسوس کیا نَکِرَ بمعنی اَنکِرَ ہے تو ان کی طرف سے اپنے دل میں ابراہیم نے خوف محسوس کیا فرشتوں نے کہا خوف نہ کرو، ہمیں قوم لوط کی طرف بھیجا گیا ہے تاکہ ہم اس کو ہلاک کریں اور ابراہیم کی بیوی سارہ ان کی خدمت میں لگی ہوئی تھی تو وہ قوم کی ہلاکت) اور لوط ( کی) نجات کی ( بشارت سن کر ہنس پڑیں،…
Read the full tafseer →یا ابراھیم اعرض عن ھذا انہ قد جآء امر ربک ابراہیم ! یہ جھگڑا چھوڑو (قضاء ازلی کے موافق قوم لوط پر عذاب نازل ہونے کا) تمہارے رب کا حکم ہوچکا۔
وانھم ایتھم عذاب غیر مردود۔ اور ان پر عذاب ضرور آئے گا جو لوٹایا نہیں جاسکتا ‘ نہ جھگڑے سے ‘ نہ دعا سے ‘ نہ کسی اور طرح سے۔
Read the full tafseer →(76) ارشاد ہوا ابراہیم اس سفارش پر اصرار مت کرو، قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں تمہارے پروردگار کا حکم آچکا، ان پر ضرور ایسا عذاب آنے والا ہے جو کسی طرح ٹلنے والا نہیں۔
Read the full tafseer →يٰٓـــاِبْرٰهِيْمُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا۔۔ : یہ فرشتوں کی بات ہے جو بالآخر انھوں نے ابراہیم ؑ سے کہی کہ اب بحث و تکرار کا کچھ فائدہ نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم آجانے کے بعد عذاب ٹلنے کی کوئی صورت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
آیت نمبر 74 تا 76
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : فلما ذھب عن ابرٰھیم الروع یعنی خوف، ارتاع عن کذا کہا جاتا ہے جب وہ خوف زدہ ہو۔ نابغہ نے کہا :
فارتاع من صوت کلاب فبات لہٰ طوع الثوامت من خوف و من صرد
وجآء تہ البشرٰی یعنی اسحاق اور یعقوب کی۔ قتادہ نے کہا : انہوں نے اس کو بشارت دی کہ وہ قوم لوط پر عذاب لائیں گے اور یہ کہ وہ خوف زدہ نہ ہوں۔ یجادلنا یعنی یعنییجادل رسلناوہ ہمارے فرشتوں سے جھگڑنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی نسبت اپنی ذات کی طرف کی کیونکہ وہ اس کے حکم سے اترے۔ اس مباحثہ کو حمید بن ہلال نے جندب عن حذیفہ روایت کیا ہے اور یہ اس لیے تھا کہ جب ان (فرشتوں) نے کہا : انامھلکوٓااھل ھٰذہ القریۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
1:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حلم اپنے موصوف کے لئے دنیا اور آخرت کی عظمتوں کو جمع کردیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تو نے نہیں سنا کہ اپنے نبی کی صفت کو حلم کی ساتھ بیان کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” ان ابرھیم لحلیم اواہ منیب “
2:۔ ابوالشیخ (رح) نے ضمرہ (رح) سے روایت کیا کہ حلم زیادہ اونچا ہے عقل سے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا نام بھی ہے۔
3:۔ ابوالشیخ (رح) نے عمروبن میمون (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الاواۃ “ سے مراد الرحیم (یعنی رحم دل) اور (آیت) ” الحلیم “ سے مراد ہے شیخ (یعنی بزرگ) ۔
4:۔ بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان ابرھیم لحلیم اواہ منیب “ سے مراد ہے کہ…
Read the full tafseer →[يٰٓـــاِبْرٰهِيْمُ : اے ابراہیم (علیہ السلام) ] [اَعْرِضْ : آپ (علیہ السلام) اعراض کریں ] [عَنْ ھٰذَا : اس سے ] [انهٗ : حقیقت یہ ہے کہ ] [قَدْ جَاۗءَ : آچکا ہے ] [اَمْرُ رَبِكَ : آپ (علیہ السلام) کے رب کا حکم ] [وَانهُمْ : اور وہ لوگ !] [اٰتِيْهِمْ : آنے والا ہے ان کے پاس ] [عَذَابٌ: ایک ایسا عذاب جو ] [غَيْرُ مَرْدُوْدٍ : لوٹائے جانے والے کے علاوہ ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں فرشتوں کا حاضر ہونا اور فرشتوں کا بیٹے اور پوتے کی بشارت دینا
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وطن ایران اور عراق کے درمیان تھا ان کی قوم بت پرست تھی ‘ نمرود کی حکومت تھی وہاں انہوں نے توحید کی دعوت دی ‘ قوم نے مخالفت کی دشمنی پر اتر آئے حتیٰ کہ آپ کے باپ نے بھی یوں کہہ دیا۔ (لَءِنْ لَّمْ تَنْتَہِ لَاَرْجُمَنَّکَ وَاھْجُرْنِیْ مَلِیًّا) (اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے پتھروں سے مار دوں گا اور تو مجھے ہمیشہ کے لئے چھوڑ دے) ان لوگوں نے آگ میں ڈال دیا اللہ نے آگ ان پر ٹھنڈی کردی اور وہ اس میں سے صحیح سلامت باہر نکل آئے اور پھر اپنا وطن چھوڑ کر ملک شام کے علاقہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
قصہ ابراہیم (علیہ السلام) مشتمل بربشارت ملائکہ کرام بولادت اسحاق (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ولقد جاءت رسلنا ابراہیم بالبشری .... الیٰ .... عذاب غیر مردود۔
(ربط) اب ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان کرتے ہیں جس میں فرشتوں کی تولد فرزند کی بشارت کا ذکر ہے کہ تمہارے یہاں ایک بیٹا ہوگا جس کا نام اسحاق (علیہ السلام) ہوگا پھر اس بیٹے کے ایک بیٹا ہوگا جس کا نام یعقوب (علیہ السلام) ہوگا۔ اس بشارت کے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر ایک سو بیس برس کی تھی اور حضرت سارہ ؓ کی عمر نوے یا بانوے سال کی تھی حضرت ہاجرہ (علیہ السلام) سے حضرت اسمعیل (علیہ السلام) پہلے پیدا ہوچکے تھے۔ سارہ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
68:۔ اس سے پہلے قُلْنَا محذوف ہے جب کسی گذشتہ واقعہ میں صیغہ امر کا ذکر ہو تو اس سے پہلے قلنا محذوف ہوتا ہے۔ ہم نے ابراہیم سے کہا اس بات کو جانے دو اور ان کی سفارش نہ کرو کیونکہ ان کی ہلاکت کا وقت آچکا ہے اب وہ ہمارے عذاب سے لا محالہ تباہ وبرباد ہوں گے اب ان سے ہمارا عذاب ہرگز نہیں ٹل سکتا۔ یعنی ان العذاب الذی نزل بھم غیر مصروف عنہم ولا مدفوع عنہم (خازن ج 2 ص 243) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے یہاں کوئی شفیع غالب نہیں جو اس سے اپنی مرضی کے مطابق منوا سکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
ربط آیات
گزشتہ کئی دروس سے مختلف انبیاء (علیہم السلام) کی تبلیغ کا تذکرہ ہو رہا ہے حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو یہی نصیحت کی کہ لوگو ! اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، اپنی غلطیوں کی معافی مانگو اور اسی کو طرف رجوع رکھو۔ ان نافرمان قوموں پر عذاب کا ذکر بھی ہوچکا ہے۔ قوم نوح طوفان میں تباہ ہوئی ، قوم ہود کو تیز آندھی نے آپکڑا اور صالح (علیہ السلام) کی قوم کے لئے اوپر سے چیخ اور نیچے سے زلزلہ آیا جس نے ساری قوم کو نیست و نابود کر کے رکھ دیا۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی اصطلاح میں یہ تذکیر بایام اللہ ہے۔ یہ لفظ آگے موسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →يٰٓـــاِبْرٰہِيْمُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا 0ۚ اِنَّہٗ قَدْ جَاۗءَ اَمْرُ رَبِّكَ 0ۚ وَاِنَّہُمْ اٰتِيْہِمْ عَذَابٌ غَيْرُ مَرْدُوْدٍ 76
اعرض
وإذا قيل : أَعْرَضَ عنّي، فمعناه : ولّى مُبدیا عَرْضَهُ. قال : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] ، فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ
( ع ر ض ) العرض
اعرض عنی اس نے مجھ سے روگردانی کی اعراض کیا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] تو وہ ان سے منہ پھیرے ۔ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ [ النساء/ 63] تم ان سے اعراض بر تو اور نصیحت کرتے رہو ۔
أتى
الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ وبه شبّه الغریب فقیل :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–83
1 ؎ الضحک ہوالسرور و انبساط الوجہ دھذا قول الجمہور وقیل ضحکت بمعنی حاضت العرب یقول اضحکت الارنب اذا خاصت وانکرہ اکثر اہل اللغۃ یعقوب بالنصب مفعول بشرنا وقری بالجرومنعہ الفراء وقری بالرفع علی الابتدا وخبرہ الظرف الذیمی قبلہ اہل البیت نصبہ علی المدح اذا الاختصاص وفیہ دلیل علی ان ازواج الرجل من اہل بیتہ۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
یٰٓاِبْرٰھِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا ج اِنَّہٗ قَدْجَآئَ اَمْرُ رَبِّکَ ج وَاِنَّھُمْ اٰتِیْھِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ ۔
(سورۃ ہود : 76)
(اے ابراہیم ! اس بات کو رہنے دیجیے، اب تمہارے رب کا حکم آچکا اور ان پر ایک ایسا عذاب آکر رہے گا جو ٹالے نہ ٹالا جاسکے۔ )
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو سفارش سے روک دیا گیا
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تمام تر الحاح وزاری اور اصرار کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : کہ اے ابراہیم اب اس اصرار کو چھوڑو۔ تمہاری دردمندی اور اللہ کی طرف انابت اپنی جگہ لیکن قوم لوط نے جس طرح اللہ کی نافرمانی کی اور اللہ کے نبی کی تکذیب کی اور ایک ایک اخلاقی قدر کو پامال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
فہم القرآن
ربط کلام : ملائکہ کی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے فارغ ہونے کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضری۔
جب ابراہیم (علیہ السلام) ملائکہ کی زبان سے بیٹے اور پوتے کی خوشخبری سن چکے۔ تو پھر قوم لوط کے بارے میں ملائکہ سے تکرار کرنے لگے۔ جس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ مجرموں کے حمایتی تھے۔ بلکہ وہ اس وجہ سے قوم لوط کے بارے میں تکرار کر رہے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نہایت حوصلہ مند، دوسرے کی تکلیف دیکھ کر تڑپ جانے والے اور ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ جس بناء پر وہ ملائکہ سے تکرار کرنے لگے کہ آپ انہیں کچھ اور مہلت دیں۔ شاید وہ سنبھل جائیں۔ حضرت نے یہ بھی…
Read the full tafseer →76: یٰٓاِبْرٰھِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا (اے ابراہیم اس بات کو چھوڑیے) یعنی یہ جھگڑا، اگرچہ مہربانی آپ کی عادت و طبیعت ہے۔ اِنَّہٗ قَدْ جَآئَ اَمْرُرَبِّکَ (بیشک تیرے رب کا فیصلہ آچکا) اس کا فیصلہ اور حکم وَاِنَّھُمْ ٰاتِیْھِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ (بیشک ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے جو لوٹا یا نہیں جاسکتا) جھگڑے سے لوٹا یا نہ جائے گا۔ عذابٌ یہ اسم فاعل کی وجہ سے مرفوع ہے۔ اور وہ اتیہم ہے تقدیر عبارت یہ ہے وانہم یاتیھم بیشک وہ عذاب ان پر آئے گا۔
Read the full tafseer →76” یا ابراہیم اعرض عن ھذا “ یعنی اس گفتگو سے اعراض کریں اور یہ بحث چھوڑیں۔” انہ قد جاء امر ربک “ یعنی تیرے رب کا عذاب اور تیرے رب کا حکم ” وانھم اتیھم عذاب غیر مردود “ یعنی ان سے ہٹایا نہ جائے گا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
74۔ 76۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جب خوشی سنائی گئی اور ان کا خوف بھی جاتا رہا تو یہ سن کر یہ فرشتے لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کو جارہے ہیں ان کا دل بہت کڑہنے لگا اور فرشتوں سے جھگڑنے لگے کہ جس گاؤں میں تین سو مسلمان ہونگے اس کو ہلاک کرو گے۔ فرشتوں نے کہا نہیں، تب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا چالیس تو ہوں گے چالیس نہیں تیس سہی تیس بھی نہ ہوں دس تو ہوں گے۔ دس بھی نہیں سہی ایک تو ہوگا فرشتوں نے کہا ایک بھی نہیں تب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اس گاؤں میں لوط (علیہ السلام) بھی تو ہیں فرشتوں نے جواب دیا ہمیں سب کچھ معلوم ہے جو جو وہاں ہیں۔ لوط (علیہ السلام) اور ان کے گھر والے سوائے…
Read the full tafseer →ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا گیا : (آیت) ” اے ابراہیم اس اعراض کریے “ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑ دئیے۔ (آیت) ” تمہارے رب کا حکم آچکا ہے۔ “ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہوچکا ہے۔ (آیت) ” اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹا یا نہیں جائے گا “ اس لئے تمہارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–86
قوم لوط کی تباہی کا حکم
قول باری ہے فلما ذھب عن ابراہیم الروح و جاء تہ البشری یجادلنا فی قوم لوط ۔ پھر جب ابراہیم کی گھبراہٹ دورہو گئی اور اولاد کی بشارت سے اس کا دل خوش ہوگیا تو اس نے قوط لوط کے معاملہ میں ہم سے جھگڑا شروع کیا ۔ یعنی جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے خوف دور ہوگیا تو وہ فرشتوں سے یہ سن کر کہ انہیں قوم لوط کر ہلاک کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے ، ا ن سے جھگڑنے لگے ، اس موقعہ پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرشتوں سے فرمایا کہ تم قوط لوط کو کیسے ہلاک کرو گے جبکہ وہاں لوط (علیہ السلام) بھی موجود ہیں ؟ فرشتوں نے جواب میں کہا کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہیں ۔ ہم انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
158 ۔ اللہ کے عذاب کو کوئی بھی نہیں ٹال سکتا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا کہ ابراہیم اب جانے دو اس قصے کو کہ اب بہرحال آکر رہنا ہے ان لوگوں پر ایک ایسے ہولناک عذاب نے جس کے ٹلنے کی اب کوئی صورت نہیں۔ کہ اللہ پاک کی طرف سے طے شدہ کسی امر کو کوئی بھی نہیں ٹال سکتا۔ اور جب ابو الانبیاء جد الانبیاء افضل الانبیاء بعد نبینا محمد حضرت ابراہیم خلیل۔ علیہما الصلوۃ والسلام۔ بھی اللہ کے حکم کو ٹالنے کے مجاز نہیں تو پھر اور کس کی یہ شان ہوسکتی ہے کہ وہ ایسے کرسکے ؟ پس غلط اور مردود ہے وہ کچھ جو کہ فرزندان شرک و بدعت کہتے ہیں کہ ولی اور بزرگ سب کچھ کرا سکتے ہیں۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری
تشریح : اس سورت میں حضرت نوح (علیہ السلام) سے حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) تک کے تمام انبیاء کا ذکر کیا گیا ہے۔ اصل میں ان انبیاء اور ان کی قوموں کے سلوک و کردار اور پھر ان کی تباہی کا ذکر قرآن پاک میں اس لیے بار بار کیا جا رہا ہے تاکہ آخری رسول کو تسلی ہو اور لوگوں کو ڈرایا جائے، عبرت حاصل ہو کہ گناہ و نافرمانی کا انجام سوائے تباہی و بربادی کے اور کچھ نہیں۔ اس موجودہ رکوع میں حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے حالات اور عذاب کا ذکر کیا گیا ہے۔ شروع میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ اصل میں جو فرشتے قوم لوط پر عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–83
آیات 69 تا 83
اسرار و معارف
اعمال وکردار اور ان پر مرتب ہونے والے نتائج کا یہ فرق اس واقعہ سے بھی ظاہر ہے کہ جب ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اپنے فرشتے بھیجے کہ انھیں اولاد کی خوشخبری دیں وہی فرشتے جو ان کے لئے نوید مسرت لائے تھے قوم لوط پر تباہی لانے کے لئے بھی مامور تھے جو ان سے صرف دس بارہ میل آباد تھی۔ یہ فرشتے انسانی شکل میں پہنچے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے سمجھا کوئی مہمان آگئے ہیں ۔ جب انھوں نے سلام کیا اور آپ نے سلام کا جواب دیا انھیں بٹھایا اور فورا ایک بچھڑاتل کرلے آئے چونکہ آپ کے ہاں گائے بیل تھے تو ایک موٹا تازہ بچھڑاکاٹ کر پکاکر حاضر کردیا۔
سلام اور جواب
یہاں ظاہر ہے کہ ہر…
Read the full tafseer →ف 11 ۔ یہ فرشتوں کی بات ہے جو انہوں نے بالآخر حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) سے کہی اور اس کے بعد وہ قوم لوط پر عذاب نازل کرنے روانہ ہوگئے۔
Read the full tafseer →(11:76) اتہم۔ ان پر آنے والا ہے۔ اتی (آنے والا) مضاف ہم ضمیر جمع مذکر غائب مضاف الیہ۔ اتی یاتی سے اسم فاعل۔
غیر مردود۔ مردود (مفعول) اسم مفعول واحد مذکر۔ رد سے باب نصر۔ ٹالا جانے والا۔ لوٹا جانیوالا۔ غیر مردود۔ جو لوٹایا نہیں جائے گا۔ جو ٹالا جانے والا نہیں۔ رد کیا گیا۔ شیطان مردود۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
لغات القرآن آیت نمبر 69 تا 76
رسلنا (ہمارے بھیجے گئے، بھیجے ہوئے) البشری (خوش خبری) سلام (سلام، سلامتی) مالبت (نہیں ٹھہرا) عجل (بچھڑا) حنید (بھنا ہوا) را (اس نے دیکھا) ایدیھم (ان کے ہاتھ) لاتصل (نہیں پہنچ رہے ہیں) نکر (اوپرا، عجیب سا لگا) او جس (اس نے محسوس کیا) خیفۃ (خوف) لاتخف (ڈر مت) قائمۃ (کھڑی ہونے والی) ضحکت (ہنس پڑی) وراء (پیچھے) یویلتی (ہائے افسوس) ء الد (کیا میں جنوں گی، (میرے یہاں ولادت ہوگی) عجور (بڑھیا، زیادہ عمر کی ہوجانا) بعلی (میرا شوہر) شیخ (زیادہ بوڑھا ہونا) اتعجبین (کیا تم تعجب کر رہی ہو ؟ ) اھل لبتک (گھر والے) حمید (تمام تعریفوں والا) مجید (تمام عظمتوں والا) الروع (گھبراہٹ)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جب خوشی سنائی گئی اور ان کا خوف بھی جاتا رہا تو یہ سن کر کہ یہ فرشتے لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے جارہے ہیں ان کا دل بہت کڑھنے لگا اور فرشتوں سے جھگڑنے لگے کہ جس گاؤں میں کچھ مسلمان ہوں گے اس کو ہلاک کرو گے۔ فرشتوں نے کہا کہ ایک بھی مسلمان نہیں ہے۔ پھر کہا کہ لوط (علیہ السلام) بھی تو ہیں جواب دیا کہ ہمیں معلوم ہے لوط (علیہ السلام) اور ان کے گھر والے سوائے ان کی بیوی کے سب بچ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فرشتوں سے جھگڑا جو کیا اس کا سبب یہ تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) بہت نرم دل تھے چاہتے تھے کہ کچھ دنوں اور عذاب تھم جائے شاید یہ لوگ ایمان لے آئیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
[41] یعنی ادھر سے مطمئن ہوئے تو فوراً قوم لوط کے بارے میں فرشتوں سے بحث شروع کردی جس کا خلاصہ سورة عنکبوت میں بیان فرمایا کہ فرشتوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو مطلع کیا کہ ہم ان بستیوں کو ہلاک کرنے آئے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) بولے کہ ان میں تو خود لوط موجود ہیں پھر ایک پیغمبر کے موجود ہوتے کیسے ہلاک کی جاسکتی ہیں۔ فرشتوں نے کہا کہ ہم سب کو جانتے ہیں جو وہاں رہتے ہیں۔ لوط اور اس کے متعلقین کو وہاں سے علیحدہ کر کے عذاب نازل کیا جائے گا۔ اس بحث کو یہاں جھگڑے سے تعبیر فرمایا جس سے صاف ظاہر ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) اپنی فطری شفقت اور رحمدلی سے اس قوم پر ترس کھا کر اللہ تعالیٰ کی جناب میں کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–77
سارہ کا تعجب :
(ف 2) حضرت سارہ نے فرشتہ سے جب بچے کی خوشخبری سنی ، تو انہیں تعجب ہوا ، کہنے لگیں ، میں تو اب بوڑھی ہوچکی ابراہیم (علیہ السلام) بھی عمر رسیدہ ہیں ، اس حالت میں پھر کیونکر ” ماں “ بننے کا فخر مجھے عنایت ہوگا فرشتے نے جوابا کہا ، کہ تم خدا کی قدرت سے تعجب کرتی ہو ؟ تعجب انگیز نہٰن ، اس کا کرم ہے ، جب چاہے ، نازل ہوجائے ، اعتراض کیسا ، تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہو نگی اور خدا لائق صد مدح و ستائش ہے وہ جو چاہئے کرے یعنی اللہ کی ہر بات ضاطہ اور قانون ہے وہ سب کچھ کرسکتا ہے ، بڑھاپے میں اولاد کی نعمت سے نواز دے یا عین جوانی میں محروم رکھے ، ہر طرح ممکن اور صحیح ہوگا ، اس…
Read the full tafseer →76 ارشاد ہوا اے ابراہیم (علیہ السلام) تو اس بات کو چھوڑ دے یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں اسی لئے تیرے پروردگار کا حکم آچا ہے اور یقینا ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے جو کسی طرح واپس ہونے والا نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–77
ف 3۔ سفارش جو باعتبار مبالغہ وصرار کے صورة جدال تھا اور یہ گفتگو فرشتوں سے ہوئی تھی مگر مقصود اللہ سے عرض کرنا تھا اس لیے یجادلنا فرمایا۔
Read the full tafseer →ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا گیا کہ اب اس قوم کے متعلق کوئی بات نہ کریں
99 ؎ ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا گیا کہ اے خلیل ! اس جھگڑے کو رہنے دو ان بدبختوں کو کافی عرصہ تک سمجھایا گیا لیکن وہ اپنے کفر و شرک سے باز نہ آئے اور روز بروز بدکرداریوں اور بداخلاقیوں میں بڑھتے ہی گئے اب ان کیلئے عذاب مقدر ہوچکا ہے اور اب یہ فیصلہ بدلا نہیں جاسکتا کیونکہ جب عذاب کا فیصلہ الٰہی نافذ ہوجاتا ہے تو وہ وقت ہوتا ہے کہ کسی کے ٹال نہیں ٹلتا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل (علیہ السلام) کو سدومیوں کی سفارش سے روک دیا اور بات واضح کردی گئی اب ان کا وقت قریب آچکا ہے بس ہمارے فرستادہ لوط (علیہ السلام) کو اس فیصلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–77
Commentary
Surah Hud (علیہ السلام) carries an account of different kinds of Divine punishments sent over past peoples because of their antagonism to prophets of the time. Described in the verses cited above is the moral condition of the people of Sayyidna Lut (علیہ السلام) and the severe punishment given to them.
Besides being disbelievers, the people of Sayyidna Lut (علیہ السلام) were involved in the practice of such abject evil and immodesty as was not found in the world before them, something even wild animals hate. That a man would pollute his honor and dignity with another man is a…
Read the full tafseer →84 The mention of Abraham's story as a preamble to the story of the people of Lot may appear somewhat out of tune with the purpose for which the events of the past are being narrated here. However, to better appreciate this, two things should be borne in mind. Firstly, that the immediate addressees of She Qur'an were the Quraysh. The Quraysh, since they were the descendants of Abraham (peace be on him), were the custodians of the Ka'bah - the shrine of God. For the same reason, they also had a predominant influence over the religious, moral, cultural and political life of Arabia. The Quraysh…
Read the full tafseer →