Hud 11:75

Hud · from ayah 75

11:75

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ ۟اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَـلِيۡمٌ اَوَّاهٌ مُّنِيۡبٌ‏

بےشک ابراہیم بڑے تحمل والے، نرم دل اور رجوع کرنے والے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, Abraham was forbearing, grieving and [frequently] returning [to Allah].

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 7 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:75

حقیقت میں ابراہیمؑ بڑا حلیم اور نرم دل آدمی تھا اور ہر حال میں ہماری طرف رجوع کرتا تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بےشک ابراہیم بڑے تحمل والے، نرم دل اور رجوع کرنے والے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً ابراہیم بہت تحمل والے نرم دل اور اللہ کی جانب جھکنے والے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم بڑے بردبار، (اللہ کی یاد میں) بڑی آہیں بھرنے والے (اور) ہر وقت ہم سے لو لگائے ہوئے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک ابراہیم تحمل والا بہت آہیں کرنے والا رجوع کرنے والا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک ابراہیم ؑ بڑے متحمل مزاج، آہ و زاری کرنے والے ہر حال میں ہماری طرف رجوع کر نے والے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک ابراہیم تو نہایت بردبار، بہت آہ وزاری کرنے والا، رجوع کرنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلاشبہ ابراہیم بڑے بردبار، نرم دل اور رجوع کرنے والے تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک ابراہیم نہایت ہی بردبار، دردمند اور پنے رب کی طرف دھیان رکھنے والا تھا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

واقعی ابراہیم بڑے ہی بردباد، نرم دل، اور ہماری طرف رجوع رہنے والے تھے،

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک ابراہیم ؑ بڑے حلیم بڑے درد مند بڑے نرم دل تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً ابراہیم بہت ہی بردبار نرم دل اور اللہ کی جناب میں رجوع کرنے والے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بیشک ابراہیم بڑے تحمل والے، نرم دل اور رجوع کرنے والے تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely Abraham was forbearing, tenderhearted and oft-turning to Allah.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, Ibrahim is forbearing, very penitent, ever-turning to Allah.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, Ibrahim is forbearing, very penitent, ever-turning to Allah.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, Ibrahim was, without doubt, forbearing, used to invoke Allah with humility, and was repentant.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! Abraham was mild, imploring, penitent.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, Abraham was forbearing, grieving and [frequently] returning [to Allah].

— Saheeh International

Abraham was certainly a forbearing, compassionate, and tender-hearted person.

— Muhammad Sarwar

Most surely Ibrahim was forbearing, tender-hearted, oft-returning (to Allah):

— Muhammad Habib Shakir

Verily Ibrahim was forbearing, long-suffering, penitent.

— Abdul Majid Daryabadi

For Abraham was, without doubt, forbearing (of faults), compassionate, and given to look to Allah.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:75

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 74–76

حضرت ابراہیم کی بردباری اور سفارش۔ مہمانوں کے کھانا نہ کھانے کی وجہ سے حضرت ابراہیم کے دل میں جو دہشت سمائی تھی۔ ان کا حل کھل جانے پر وہ دور ہوگئی۔ پھر آپ نے اپنے ہاں لڑکا ہونے کی خوش خبری بھی سن لی۔ اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ یہ فرشتے قوم لوط کی ہلاکت کے لیے بھیجے گئے ہیں تو آپ فرمانے لگے کہ اگر کسی بستی میں تین سو مومن ہوں کیا پھر بھی وہ بستی ہلاک کی جائے گی ؟ حضرت جبرائیل ؑ اور ان کے ساتھیوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ پھر پوچھا کہ اگر چالیس ہوں ؟ جواب ملا پھر بھی نہیں۔ دریافت کیا اگر تیس ہوں۔ کہا گیا پھر بھی نہیں۔ یہاں تک کے تعداد گھٹاتے گھٹاتے پانچ کی بابت پوچھا تو فرشتوں نے یہی جواب دیا۔ پھر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 74–75

سورة هُوْد 83 " جھگڑے " کا لفظ اس موقع پر اس انتہائی محبت اور ناز کے تعلق کو ظاہر کرتا ہے جو حضرت ابراہیم ؑ اپنے خدا کے ساتھ رکھتے تھے۔ اس لفظ سے یہ تصویر آنکھوں کے سامنے پھرجاتی ہے کہ بندے اور خدا کے درمیان بڑی دیر تک رد وکد جاری رہتی ہے۔ بندہ اصرار کر رہا ہے کہ کسی طرح قوم پر لوط ؑ پر سے عذاب ٹال دیا جائے۔ خدا جواب میں کہہ رہا ہے کہ یہ قوم اب خیر سے باکل خالی ہوچی ہے اور اس کے جائم اس حد سے گزر چکے ہیں کہ اس کے ساتھ کوئی رعایت کی جاسکے۔ مگر بندہ ہے کہ پھر یہی کہے جاتا ہے کہ " پروردگار اگر کچھ تھوڑی سی بھلائی بھی اس میں باقی ہو تو اسے اور ذرا مہلت دیدے، شاید کہ وہ بھلائی لے آئے۔ " بائیبل میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 74–77

خلاصہ تفسیر پھر جب ابراہیم ؑ کا وہ خوف زائل ہوگیا (جب فرشتوں نے لَا تَخَفْ کہا اور ان کا فرشتہ ہونا معلوم ہوگیا) اور ان کو خوشی کی خبر ملی (کہ اولاد پیدا ہوگی) تو (ادھر سے بےفکر ہو کر دوسری طرف متوجہ ہوئے کہ قوم لوط ہلاک کی جاوے گی اور) ہم سے لوط ؑ کی قوم کے بارے میں (سفارش جو باعتبار مبالغہ و اصرار کے صورۃً) جدال (تھا) کرنا شروع کیا (جس کی تفصیل دوسری آیت میں ہے کہ وہاں تو لوط ؑ بھی موجود ہیں اس لئے عذاب نہ بھیجا جاوے کہ ان کو گزند پہنچے گا، مطلب یہ ہوگا کہ اس بہانہ سے قوم بچ جاوے جیسا فِيْ قَوْمِ لُوْطٍ سے ظا ہرا معلوم ہوتا ہے اور شاید ابراہیم ؑ کو ان کے مومن ہونے کی امید ہو) واقعی ابراہیم…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَحَلِيْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِيْبٌ۔ " اواہ " آہ سے مبالغہ کا صیغہ ہے جس کا لغوی مفہوم ہے کثرت سے آہ آہ کرنے والا یعنی نہایت درد مند، نہایت غم خوار اور صاحب درد۔ جب حضرت ابراہیم قوم لوط سجیسی ناہنجار قوم کی سفارش میں اس طرح اپنے دل کو نچوڑ کر رکھ دیتے ہیں تو ان کے حلم اور ان کی دردمندی میں کیا شک کی گنجائش رہی اور کمال انابت کی اس سے بڑھ کر اور کیا مثال ہوسکتی ہے کہ بظاہر معلوم ہے کہ اب قوم لوط کا پیمانہ لبریز ہے لیکن وہ برابر دعا اور التجا میں سرگرم ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 74–75

74۔ 1 اس مجادلہ سے مراد یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے فرشتوں سے کہا کہ جس بستی کو تم ہلاک کرنے جا رہے ہو، اسی میں حضرت لوط ؑ بھی موجود ہیں۔ جس پر فرشتوں نے کہا ہم جانتے ہیں کہ لوط ؑ بھی وہاں رہتے ہیں۔ لیکن ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو سوائے ان کی بیوی کے بچا لیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 75–76

44: حضرت ابراہیم ؑ کی یہ فرمائش تو منظور نہیں فرمائی گئی کہ قوم لوط سے عذاب کو موخر کردیا جائے، لیکن جس جذبے اور جس انداز سے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے رجوع فرمایا تھا، اس فقرے میں اس کی بڑے بلیغ انداز میں تعریف فرمائی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 74–75

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایسے حلیم الطبع تھے کہ وہ موجبات غیظ و غضب کو برداشت کرلیتے تھے ، صبر کرتے تھے اور جوش میں نہ آتے تھے۔ اور اواہ کے معنی یہ ہیں کہ خدا خوفی کی وجہ سے وہ ہر وقت آہ وزاری فرماتے تھے اور منیب کے معنی یہ ہیں کہ وہ ہر معاملے میں جلدی سے اپنے رب کی طرف رجوع فرماتے تھے۔ ان تمام صفات کے باعث حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے فرشتوں کے ساتھ قوم لوط (علیہ السلام) کے حوالے سے جھگڑنا شروع کردیا۔ اب یہ کہ حضرت نے کیا جھگڑا فرمایا ؟ قرآن کریم نے اس کی کوئی تشریح نہیں کی ہے لیکن عین اس وقت اللہ کا حکم آگیا اور فرمایا گیا کہ اس معاملے میں نہ جھگڑو ، لہذا جھگڑا ختم ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 74–76

1 یعنی ادھر سے مطمئن ہوئے تو فورا قوم لوط کے مسئلہ میں فرشتوں سے بحث شروع کردی۔ جس کا خلاصہ سورة " عنکبوت " میں بیان فرمایا کہ فرشتوں نے ابراہیم کو مطلع کیا کہ ہم ان بستیوں کو ہلاک کرنے آئے ہیں۔ ابراہیم بولے کہ ان میں تو خود لوط (علیہ السلام) موجود ہیں (پھر ایک پیغمبر کو ان میں موجود ہوتے ہوئے کیسے ہلاک کیے جاسکتے ہیں ؟ ) فرشتوں نے کہا ہم سب کو جانتے ہیں جو وہاں رہتے ہیں لوط اور اس کے متعلقین کو وہاں سے علیحدہ کر کے عذاب نازل کیا جائے گا۔ تفاسیر میں اس بحث کی جو تفاصیل بیان ہوئی ہیں اللہ جانے کہاں تک صحیح ہیں۔ بہرحال اسی بحث کو مبالغۃ لفظ " یجادلنا " سے تعبیر فرمایا۔ جس سے صاف مترشح ہوتا ہے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 75–76

یہاں حضرت ابراہیم کی یہ تین صفات ایک ساتھ جمع فرما کر آپ کی بہت قدر افزائی بھی فرمائی گئی ہے اور آپ کے مجادلہ کرنے کی وجہ بھی بیان فرما دی گئی ہے کہ چونکہ آپ بہت حلیم الطبع اور دل کے نرم تھے اسی وجہ سے آپ نے آخری حد تک کوشش کی کہ عذاب کے ٹلنے کی کوئی صورت پیدا ہوجائے۔ اسی طرح محمد رسول اللہ کی طبیعت مبارک میں بھی خصوصی نرمی تھی اور حضرت ابوبکر صدیق کو بھی اللہ نے طبیعت کی خاص نرمی عطا کر رکھی تھی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 74–75

85 سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم لوط پر عذاب کے بارے میں بحث :۔ اس آیت میں ہم سے سے مراد ہمارے فرشتوں سے ہے یعنی جب سیدنا ابراہیم کا خوف خوشی میں تبدیل ہوگیا تو وہ ہمارے فرشتوں سے یہ بحث کرنے لگے کہ وہاں تو لوط خود بھی موجود ہیں۔ پھر تم اس بستی کو کیسے ہلاک کرو گے اور فلاں مومن بھی موجود ہے اور فلاں بھی جس سے آپ کا مقصد صرف یہ تھا کہ اگر عذاب کو موخر کردیا جائے تو شاید لوگ ایمان لے آئیں اور انھیں کچھ مزید مہلت مل جائے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نرم دل واقع ہوئے تھے اور وہ چاہتے یہ تھے کہ کسی طرح اللہ کی یہ مخلوق عذاب الٰہی سے بچ جائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

111۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نرم دلی اور حلیم المزاجی پر حاشیے پہلے گزر چکے نیز ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 69–83

آیت نمبر 69 تا 83 ترجمہ : ہمارے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحاق اور اس کے بعد یعقوب کی خوشخبری لے کر پہنچے، کہا تم پر سلام ہو سلامًا مصدر ہے ابراہیم نے کہا تم پر بھی سلام ہو کچھ) زیادہ ( دیر نہیں گزری کہ ابراہیم بھنا ہوا بچھڑا لے آئے مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑحٹے تو ان کو اجنبی محسوس کیا نَکِرَ بمعنی اَنکِرَ ہے تو ان کی طرف سے اپنے دل میں ابراہیم نے خوف محسوس کیا فرشتوں نے کہا خوف نہ کرو، ہمیں قوم لوط کی طرف بھیجا گیا ہے تاکہ ہم اس کو ہلاک کریں اور ابراہیم کی بیوی سارہ ان کی خدمت میں لگی ہوئی تھی تو وہ قوم کی ہلاکت) اور لوط ( کی) نجات کی ( بشارت سن کر ہنس پڑیں،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان ابرھیم لحلیم اواہ منیب۔ واقعی ابراہیم بڑے حلیم الطبع ‘ رحیم المزاج ‘ رقیق القلب تھے۔ لَحَلِیْمٌ سے مراد ہے مجرم سے انتقام لینے میں جلدی نہ کرنے والا (بردبار ‘ متحمل مزاج) اَوَّاہٌ گناہوں پر بہت زیادہ آہ آہ کرنے والا ‘ اور لوگوں کی حالت پر بڑا افسوس کرنے والا) ۔ مُنِیْبٌ اللہ کی طرف رجوع کرنے والا۔ قاموس میں ہے : اَوَّاہٌ یقین کرنے والا ‘ یا بہت دعا کرنے والا ‘ یا مہربان ‘ نرم دل ‘ یا دانش مند۔ حبشی زبان میں اَوَّاہٌ کا معنی ہے : مؤمن۔ حضرت ابراہیم نے قوم لوط کو ہلاک نہ کرنے کے متعلق جو ملائکہ سے جھگڑا کیا ‘ اس کی وجہ آپ کے یہ تین اوصاف تھے : آپ کا دل نرم تھا ‘ آپ کے دل میں بڑا جذبۂ رحم تھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(75) واقعی براہیم ؑ بڑے حلیم الطبع رحیم المزاج اور اللہ تعالیٰ کی طرف بہت متوجہ ہونے والے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَحَلِيْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِيْبٌ : اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی بحث و تکرار کا برا نہ مانا، بلکہ نہایت پیار سے ان کا ذکر فرمایا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 74–76

آیت نمبر 74 تا 76 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : فلما ذھب عن ابرٰھیم الروع یعنی خوف، ارتاع عن کذا کہا جاتا ہے جب وہ خوف زدہ ہو۔ نابغہ نے کہا : فارتاع من صوت کلاب فبات لہٰ طوع الثوامت من خوف و من صرد وجآء تہ البشرٰی یعنی اسحاق اور یعقوب کی۔ قتادہ نے کہا : انہوں نے اس کو بشارت دی کہ وہ قوم لوط پر عذاب لائیں گے اور یہ کہ وہ خوف زدہ نہ ہوں۔ یجادلنا یعنی یعنییجادل رسلناوہ ہمارے فرشتوں سے جھگڑنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی نسبت اپنی ذات کی طرف کی کیونکہ وہ اس کے حکم سے اترے۔ اس مباحثہ کو حمید بن ہلال نے جندب عن حذیفہ روایت کیا ہے اور یہ اس لیے تھا کہ جب ان (فرشتوں) نے کہا : انامھلکوٓااھل ھٰذہ القریۃ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 75–76

1:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حلم اپنے موصوف کے لئے دنیا اور آخرت کی عظمتوں کو جمع کردیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تو نے نہیں سنا کہ اپنے نبی کی صفت کو حلم کی ساتھ بیان کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” ان ابرھیم لحلیم اواہ منیب “ 2:۔ ابوالشیخ (رح) نے ضمرہ (رح) سے روایت کیا کہ حلم زیادہ اونچا ہے عقل سے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا نام بھی ہے۔ 3:۔ ابوالشیخ (رح) نے عمروبن میمون (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الاواۃ “ سے مراد الرحیم (یعنی رحم دل) اور (آیت) ” الحلیم “ سے مراد ہے شیخ (یعنی بزرگ) ۔ 4:۔ بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان ابرھیم لحلیم اواہ منیب “ سے مراد ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّ : بیشک ] [اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم (علیہ السلام) ] [ لَحَلِيْمٌ: بردبار تھے ] [ اَوَّاهٌ: بہت دردمند تھے ] [ مُّنِيْبٌ: متوجہ رہنے والے تھے ] ن و ب [نَوْبًا : (ن) (1) واپس ہونا۔ لوٹنا۔ اس کے لئے عموماً الیٰ کا صلہ آتا ہے۔ (2) قائم مقام ہونا۔ نائب ہونا۔ اس کے لئے عموماً عن کا صلہ آتا ہے۔] [ اِنَابَۃً : (افعال) (1) کسی طرف رخ کرنا۔ متوجہ ہونا۔ اس کے لئے عموماً الیٰ کا صلہ آتا ہے۔ (2) کسی کو قائم مقام مقرر کرنا۔ نائب بنانا۔ اس کے لئے عموماً عن کا صلہ آتا ہے، (اِس معنی میں قرآن مجید میں استعمال نہیں ہوا) ۔ وَاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ (اور تم پیروی کرو اس کے راستے کی جس نے رخ کیا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 69–76

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں فرشتوں کا حاضر ہونا اور فرشتوں کا بیٹے اور پوتے کی بشارت دینا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وطن ایران اور عراق کے درمیان تھا ان کی قوم بت پرست تھی ‘ نمرود کی حکومت تھی وہاں انہوں نے توحید کی دعوت دی ‘ قوم نے مخالفت کی دشمنی پر اتر آئے حتیٰ کہ آپ کے باپ نے بھی یوں کہہ دیا۔ (لَءِنْ لَّمْ تَنْتَہِ لَاَرْجُمَنَّکَ وَاھْجُرْنِیْ مَلِیًّا) (اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے پتھروں سے مار دوں گا اور تو مجھے ہمیشہ کے لئے چھوڑ دے) ان لوگوں نے آگ میں ڈال دیا اللہ نے آگ ان پر ٹھنڈی کردی اور وہ اس میں سے صحیح سلامت باہر نکل آئے اور پھر اپنا وطن چھوڑ کر ملک شام کے علاقہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–76

قصہ ابراہیم (علیہ السلام) مشتمل بربشارت ملائکہ کرام بولادت اسحاق (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ولقد جاءت رسلنا ابراہیم بالبشری .... الیٰ .... عذاب غیر مردود۔ (ربط) اب ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان کرتے ہیں جس میں فرشتوں کی تولد فرزند کی بشارت کا ذکر ہے کہ تمہارے یہاں ایک بیٹا ہوگا جس کا نام اسحاق (علیہ السلام) ہوگا پھر اس بیٹے کے ایک بیٹا ہوگا جس کا نام یعقوب (علیہ السلام) ہوگا۔ اس بشارت کے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر ایک سو بیس برس کی تھی اور حضرت سارہ ؓ کی عمر نوے یا بانوے سال کی تھی حضرت ہاجرہ (علیہ السلام) سے حضرت اسمعیل (علیہ السلام) پہلے پیدا ہوچکے تھے۔ سارہ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 75–76

68:۔ اس سے پہلے قُلْنَا محذوف ہے جب کسی گذشتہ واقعہ میں صیغہ امر کا ذکر ہو تو اس سے پہلے قلنا محذوف ہوتا ہے۔ ہم نے ابراہیم سے کہا اس بات کو جانے دو اور ان کی سفارش نہ کرو کیونکہ ان کی ہلاکت کا وقت آچکا ہے اب وہ ہمارے عذاب سے لا محالہ تباہ وبرباد ہوں گے اب ان سے ہمارا عذاب ہرگز نہیں ٹل سکتا۔ یعنی ان العذاب الذی نزل بھم غیر مصروف عنہم ولا مدفوع عنہم (خازن ج 2 ص 243) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے یہاں کوئی شفیع غالب نہیں جو اس سے اپنی مرضی کے مطابق منوا سکے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 69–76

ربط آیات گزشتہ کئی دروس سے مختلف انبیاء (علیہم السلام) کی تبلیغ کا تذکرہ ہو رہا ہے حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو یہی نصیحت کی کہ لوگو ! اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، اپنی غلطیوں کی معافی مانگو اور اسی کو طرف رجوع رکھو۔ ان نافرمان قوموں پر عذاب کا ذکر بھی ہوچکا ہے۔ قوم نوح طوفان میں تباہ ہوئی ، قوم ہود کو تیز آندھی نے آپکڑا اور صالح (علیہ السلام) کی قوم کے لئے اوپر سے چیخ اور نیچے سے زلزلہ آیا جس نے ساری قوم کو نیست و نابود کر کے رکھ دیا۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی اصطلاح میں یہ تذکیر بایام اللہ ہے۔ یہ لفظ آگے موسیٰ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ اِبْرٰہِيْمَ لَحَلِيْمٌ اَوَّاہٌ مُّنِيْبٌ۝ 75 حلم الحِلْم : ضبط النّفس والطبع عن هيجان الغضب، وجمعه أَحْلَام، قال اللہ تعالی: أَمْ تَأْمُرُهُمْ أَحْلامُهُمْ بِهذا [ الطور/ 32] ، قيل معناه : عقولهم ، ولیس الحلم في الحقیقة هو العقل، لکن فسّروه بذلک لکونه من مسبّبات العقل وقد حَلُمَ وحَلَّمَهُ العقل وتَحَلَّمَ ، وأَحْلَمَتِ المرأة : ولدت أولادا حلماء قال اللہ تعالی: إِنَّ إِبْراهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّاهٌ مُنِيبٌ [هود/ 75] ، ( ح ل م ) الحلم کے معنی ہیں نفس وطبیعت پر ایسا ضبط رکھنا کہ غیظ وغضب کے موقع پر بھڑ کنہ اٹھے اس کی جمع احلام ہے اور آیت کریمہ : ۔ کیا عقلیں ان کو ۔۔۔ سکھاتی ہیں ۔ میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 71–83

1 ؎ الضحک ہوالسرور و انبساط الوجہ دھذا قول الجمہور وقیل ضحکت بمعنی حاضت العرب یقول اضحکت الارنب اذا خاصت وانکرہ اکثر اہل اللغۃ یعقوب بالنصب مفعول بشرنا وقری بالجرومنعہ الفراء وقری بالرفع علی الابتدا وخبرہ الظرف الذیمی قبلہ اہل البیت نصبہ علی المدح اذا الاختصاص وفیہ دلیل علی ان ازواج الرجل من اہل بیتہ۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 74–75

فَلَمَّا ذَھَبَ عَنْ اِبْرٰھِیْمَ الرَّوْعُ وَجَآئَ تْہُ الْبُشْرٰی یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْط۔ اِنَّ اِبْرٰھِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاہٌ مُّنِیْبٌ۔ (سورۃ ہود : 74، 75) (پھر جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے خوف دور ہوگیا اور انھیں بشارت مل گئی تو وہ ہم سے قوم لوط کے بارے میں جھگڑنے لگے۔ بیشک ابراہیم بڑے بردبار، دردمند اور ہرحال میں ہماری طرف رجوع کرنے والے تھے۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اللہ سے جدال کا مفہوم گزشتہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے آنے والے معزز مہمانوں کی اجنبیت کے باعث پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اور جب تک مہمانوں نے حقیقتِ حال واضح نہیں کی،…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 71–75

فہم القرآن ربط کلام : ملائکہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہونے کا مقصد بیان کرتے ہیں۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی زوجہ مکرمہ اس موقعہ پر کھڑی ملائکہ کی گفتگو سن رہی تھیں۔ کچھ مفسرین نے ان کے اس طرح کھڑے ہونے کے بارے میں قیل وقال کی ہے۔ حالانکہ قریب کھڑے ہونے کا یہ معنی نہیں لیا جاسکتا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زوجہ مکرمہ جن کا اسم گرامی حضرت سارہ ہے کہ وہ بےپردہ اس مجلس میں آکھڑی ہو۔ کیا عورت اپنے خاوند کی موجودگی میں مہمانوں کو کھانا پیش کرنے کے وقت باپردہ حاضر نہیں ہوسکتی ؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ وہ پردے کے پیچھے کھڑی ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کھانا پکڑا رہی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

75: اِنَّ اِبْرٰھِیْمَ لَحَلِیْمٌ (بیشک ابراہیم بڑے حلیم الطبع) جو سوء ادب سے پیش آتا اس کے ساتھ جلد بازی کرنے والے نہ تھے یا ایذاء کو بہت برداشت کرنے والے تھے۔ نافرمانوں کو بہت معاف کرنے والے تھے۔ اَوَّاہٌ (رحیم المزاج) اللہ تعالیٰ کے خوف سے بہت آہ بھرنے والے تھے۔ مُّنِیْبٌ (رجوع کرنے والے) توبہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والے یہ تمام صفات رقت قلبی پر دلالت کرتی ہیں۔ اور رافت و رحمت کا منبع ہیں۔ حاصل : اس سے یہ واضح ہوا کہ یہ وہ صفات تھیں جنہوں نے ان کو مجادلہ پر آمادہ کیا اس امید سے کہ ان سے عذاب کو اٹھا لیا جائے۔ اور ان کو مہلت مل جائے کہ شاید وہ تائب ہوجائیں۔ جیسا کہ اسی چیز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

75۔” ان ابراہیم لعلیم اوہ منیب “ ابن جریج (رح) فرماتے ہیں کہ لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیوں میں چالیس لاکھ افراد آباد تھے تو اس وقت فرشتوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو کہا ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 74–76

74۔ 76۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جب خوشی سنائی گئی اور ان کا خوف بھی جاتا رہا تو یہ سن کر یہ فرشتے لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کو جارہے ہیں ان کا دل بہت کڑہنے لگا اور فرشتوں سے جھگڑنے لگے کہ جس گاؤں میں تین سو مسلمان ہونگے اس کو ہلاک کرو گے۔ فرشتوں نے کہا نہیں، تب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا چالیس تو ہوں گے چالیس نہیں تیس سہی تیس بھی نہ ہوں دس تو ہوں گے۔ دس بھی نہیں سہی ایک تو ہوگا فرشتوں نے کہا ایک بھی نہیں تب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اس گاؤں میں لوط (علیہ السلام) بھی تو ہیں فرشتوں نے جواب دیا ہمیں سب کچھ معلوم ہے جو جو وہاں ہیں۔ لوط (علیہ السلام) اور ان کے گھر والے سوائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت) ” بیشک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔ “ یعنی ابراہیم (علیہ السلام) اخلاق والے اور کشادہ دل شخصیت تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ و غضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ (آیت) ” نرم دل تھے “ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑاتے رہتے تھے۔ (آیت) ” رجوع کرنے والے تھے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لئے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کردیا تھا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 74–86

قوم لوط کی تباہی کا حکم قول باری ہے فلما ذھب عن ابراہیم الروح و جاء تہ البشری یجادلنا فی قوم لوط ۔ پھر جب ابراہیم کی گھبراہٹ دورہو گئی اور اولاد کی بشارت سے اس کا دل خوش ہوگیا تو اس نے قوط لوط کے معاملہ میں ہم سے جھگڑا شروع کیا ۔ یعنی جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے خوف دور ہوگیا تو وہ فرشتوں سے یہ سن کر کہ انہیں قوم لوط کر ہلاک کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے ، ا ن سے جھگڑنے لگے ، اس موقعہ پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرشتوں سے فرمایا کہ تم قوط لوط کو کیسے ہلاک کرو گے جبکہ وہاں لوط (علیہ السلام) بھی موجود ہیں ؟ فرشتوں نے جواب میں کہا کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہیں ۔ ہم انہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 73–75

157 ۔ کسی کے اہل بیت اصل میں اس کی بیوی ہی ہوتی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ فرشتوں نے حضرت سارہ کے تعجب کے جواب میں ان سے کہا کہ کیا تم اللہ کے حکم سے تعجب کرتی ہو حالانکہ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں تم پر اے نبی کے گھر والو برابر برستی رہتی ہیں۔ سو یہ بھی مزید ایک کرامت و رحمت ہے جو اس کی طرف سے تمہیں نصیب ہو رہی ہے۔ پس تمہیں اس پر تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی کی گھر والی ہی اس کی اصل اہل بیت ہوتی ہیں۔ کیونکہ یہاں " اہل البیت " کا مصداق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی ہی ہیں۔ پس اس سے ہمارے حضور ﷺ کی ازواج مطہرات سے دشمنی رکھنے والے ان روافض کے منہ پر بھی ایک…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 69–76

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری تشریح : اس سورت میں حضرت نوح (علیہ السلام) سے حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) تک کے تمام انبیاء کا ذکر کیا گیا ہے۔ اصل میں ان انبیاء اور ان کی قوموں کے سلوک و کردار اور پھر ان کی تباہی کا ذکر قرآن پاک میں اس لیے بار بار کیا جا رہا ہے تاکہ آخری رسول کو تسلی ہو اور لوگوں کو ڈرایا جائے، عبرت حاصل ہو کہ گناہ و نافرمانی کا انجام سوائے تباہی و بربادی کے اور کچھ نہیں۔ اس موجودہ رکوع میں حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے حالات اور عذاب کا ذکر کیا گیا ہے۔ شروع میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ اصل میں جو فرشتے قوم لوط پر عذاب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 69–83

آیات 69 تا 83 اسرار و معارف اعمال وکردار اور ان پر مرتب ہونے والے نتائج کا یہ فرق اس واقعہ سے بھی ظاہر ہے کہ جب ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اپنے فرشتے بھیجے کہ انھیں اولاد کی خوشخبری دیں وہی فرشتے جو ان کے لئے نوید مسرت لائے تھے قوم لوط پر تباہی لانے کے لئے بھی مامور تھے جو ان سے صرف دس بارہ میل آباد تھی۔ یہ فرشتے انسانی شکل میں پہنچے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے سمجھا کوئی مہمان آگئے ہیں ۔ جب انھوں نے سلام کیا اور آپ نے سلام کا جواب دیا انھیں بٹھایا اور فورا ایک بچھڑاتل کرلے آئے چونکہ آپ کے ہاں گائے بیل تھے تو ایک موٹا تازہ بچھڑاکاٹ کر پکاکر حاضر کردیا۔ سلام اور جواب یہاں ظاہر ہے کہ ہر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی بحث و تکرار کا برا نہ مانا بلکہ ان کا نہایت پیار سے ذکر کیا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(11:75) اواہ بروزن فعال۔ مبالغہ کا صیغہ ہے بہت آہ آہ کرنے والا اپنے گناہوں پر دوسروں کی غم خواری میں۔ گڑگڑا کر کثرت سے دعائیں کرنے والا۔ رحم دل۔ کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والا۔ منیب۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ انابۃ مصدر (باب افعال) نوب مادہ۔ اللہ کی طرف رجوع کرنے والا۔ خلوص کے ساتھ توبہ کرنے والا۔ ہر طرف سے مڑ کر اللہ کی طرف لوٹنے والا۔ ناب ینوب (نصر) کسی چیز کا بار بار لوٹنا۔۔ نوبۃ کا بھی یہی معنی ہے۔ نائیۃ وہ مصیبت جو بار بار لوٹتی ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 69–76

لغات القرآن آیت نمبر 69 تا 76 رسلنا (ہمارے بھیجے گئے، بھیجے ہوئے) البشری (خوش خبری) سلام (سلام، سلامتی) مالبت (نہیں ٹھہرا) عجل (بچھڑا) حنید (بھنا ہوا) را (اس نے دیکھا) ایدیھم (ان کے ہاتھ) لاتصل (نہیں پہنچ رہے ہیں) نکر (اوپرا، عجیب سا لگا) او جس (اس نے محسوس کیا) خیفۃ (خوف) لاتخف (ڈر مت) قائمۃ (کھڑی ہونے والی) ضحکت (ہنس پڑی) وراء (پیچھے) یویلتی (ہائے افسوس) ء الد (کیا میں جنوں گی، (میرے یہاں ولادت ہوگی) عجور (بڑھیا، زیادہ عمر کی ہوجانا) بعلی (میرا شوہر) شیخ (زیادہ بوڑھا ہونا) اتعجبین (کیا تم تعجب کر رہی ہو ؟ ) اھل لبتک (گھر والے) حمید (تمام تعریفوں والا) مجید (تمام عظمتوں والا) الروع (گھبراہٹ)…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 74–76

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جب خوشی سنائی گئی اور ان کا خوف بھی جاتا رہا تو یہ سن کر کہ یہ فرشتے لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے جارہے ہیں ان کا دل بہت کڑھنے لگا اور فرشتوں سے جھگڑنے لگے کہ جس گاؤں میں کچھ مسلمان ہوں گے اس کو ہلاک کرو گے۔ فرشتوں نے کہا کہ ایک بھی مسلمان نہیں ہے۔ پھر کہا کہ لوط (علیہ السلام) بھی تو ہیں جواب دیا کہ ہمیں معلوم ہے لوط (علیہ السلام) اور ان کے گھر والے سوائے ان کی بیوی کے سب بچ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فرشتوں سے جھگڑا جو کیا اس کا سبب یہ تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) بہت نرم دل تھے چاہتے تھے کہ کچھ دنوں اور عذاب تھم جائے شاید یہ لوگ ایمان لے آئیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 74–76

[41] یعنی ادھر سے مطمئن ہوئے تو فوراً قوم لوط کے بارے میں فرشتوں سے بحث شروع کردی جس کا خلاصہ سورة عنکبوت میں بیان فرمایا کہ فرشتوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو مطلع کیا کہ ہم ان بستیوں کو ہلاک کرنے آئے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) بولے کہ ان میں تو خود لوط موجود ہیں پھر ایک پیغمبر کے موجود ہوتے کیسے ہلاک کی جاسکتی ہیں۔ فرشتوں نے کہا کہ ہم سب کو جانتے ہیں جو وہاں رہتے ہیں۔ لوط اور اس کے متعلقین کو وہاں سے علیحدہ کر کے عذاب نازل کیا جائے گا۔ اس بحث کو یہاں جھگڑے سے تعبیر فرمایا جس سے صاف ظاہر ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) اپنی فطری شفقت اور رحمدلی سے اس قوم پر ترس کھا کر اللہ تعالیٰ کی جناب میں کچھ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 73–77

سارہ کا تعجب : (ف 2) حضرت سارہ نے فرشتہ سے جب بچے کی خوشخبری سنی ، تو انہیں تعجب ہوا ، کہنے لگیں ، میں تو اب بوڑھی ہوچکی ابراہیم (علیہ السلام) بھی عمر رسیدہ ہیں ، اس حالت میں پھر کیونکر ” ماں “ بننے کا فخر مجھے عنایت ہوگا فرشتے نے جوابا کہا ، کہ تم خدا کی قدرت سے تعجب کرتی ہو ؟ تعجب انگیز نہٰن ، اس کا کرم ہے ، جب چاہے ، نازل ہوجائے ، اعتراض کیسا ، تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہو نگی اور خدا لائق صد مدح و ستائش ہے وہ جو چاہئے کرے یعنی اللہ کی ہر بات ضاطہ اور قانون ہے وہ سب کچھ کرسکتا ہے ، بڑھاپے میں اولاد کی نعمت سے نواز دے یا عین جوانی میں محروم رکھے ، ہر طرح ممکن اور صحیح ہوگا ، اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

75 واقعی ابراہیم (علیہ السلام) بڑا بردبار حلیم الطبع بڑا نرم دل اور رقیق القلب اور خدا کی طرف رجوع کرنے والا تھا یعنی چونکہ ابراہیم (علیہ السلام) بڑا رقیق القلب تھا اس لئے اس نے اس قدر مبالغہ کے ساتھ سفارش کی اور ممکن ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو اس قوم کے ایمان لے آنے کی امید ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت لوط انہی کے پیچھے گئے تھے اس قوم میں جب سنا کہ اس پر عذاب آیا ترس کھا کر سفارش کرنے لگے 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 74–77

ف 3۔ سفارش جو باعتبار مبالغہ وصرار کے صورة جدال تھا اور یہ گفتگو فرشتوں سے ہوئی تھی مگر مقصود اللہ سے عرض کرنا تھا اس لیے یجادلنا فرمایا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ ابراہیم (علیہ السلام) تحمل والے اور بردبار انسان تھے 98 ؎ آپ کی بردباری اور تحمل ہی کا یہ نتیجہ تھا کہ لوط عیہ السلام کی قوم جو دنیا کی اقوام میں سے ایک انوکھی قوم تھی اور بدکاری و بدکرداری اور غیر فطری افعال میں آپ اپنی مثال تھی ان سے انتقام لینے میں جلد بازی سے روک رہے تھے حالانکہ وہ جلد بازی نہ تھی بلکہ ایک مدت گزرنے کے بعد ان کے فیصلے کا وقت قریب آچکا تھا لیکن اس کے باوجود ابراہیم (علیہ السلام) ان کے عذاب کو موخر کردینے کی اپیلیں کر رہے تھے اور اس وقت تک وہ بات کرتے رہے جب تک کہ ان کو واضح طور پر بتا نہ دیا گیا کہ یہ فیصلہ الٰہی ہے جو کبھی ٹلنے والا نہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 74–77

Commentary Surah Hud (علیہ السلام) carries an account of different kinds of Divine punishments sent over past peoples because of their antagonism to prophets of the time. Described in the verses cited above is the moral condition of the people of Sayyidna Lut (علیہ السلام) and the severe punishment given to them. Besides being disbelievers, the people of Sayyidna Lut (علیہ السلام) were involved in the practice of such abject evil and immodesty as was not found in the world before them, something even wild animals hate. That a man would pollute his honor and dignity with another man is a…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 74–75

83. The word 'dispute' here expresses the nexus of affection and endearment between Abraham (peace be on him) and God. Perusal of this verse brings to one's mind Abraham's persistent pleading to God that He may spare Lot's people His chastisement. To this God replied that since they were totally devoid of all good and had exceeded all reasonable limits, they did not deserve any leniency. Yet Abraham (peace be on him) continued to plead for them and presumably submitted that if there was even the least bit of good left in them, their chastisement be deferred so that this good may come to the…

Read the full tafseer →