قوم کو تبلیغ
آپ اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ دیکھو میں اپنے رب کی طرف سے کسی دلیل و حجت اور بصیرت پر قائم ہوں اور اسی کی طرف تمہیں بلا رہا ہوں۔ اس نے اپنی مہربانی سے مجھے بہترین روزی دے رکھی ہے۔ یعنی نبوت یا رزق حلال یا دونوں، میری روش تم یہ نہ پاؤ گے کہ تمہیں تو بھلی بات کا حکم کروں اور خود تم سے چھپ کر اس کے برعکس کروں۔ میری مراد تو اپنی طاقت کے مطابق اصلاح کرنی ہے۔ ہاں میرے ارادہ کی کامیابی اللہ کے ہاتھ ہے۔ اسی پر میرا بھروسہ اور توکل ہے اور اسی کی جانب رجوع توجہ اور جھکنا ہے۔ مسند امام احمد میں ہے حکیم بن معاویہ اپنے باپ سے راویت کرتے ہیں کہ اس کے بھائی مالک نے کہا کہ اے معاویہ رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →سورة هُوْد 98
رزق کا لفظ یہاں دوہرے معنی دے رہا ہے۔ اس کے ایک معنی تو علم حق کے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشا گیا ہو۔ اور دوسرے معنی وہی ہیں جو بالعموم اس لفظ سے سمجھے جاتے ہیں۔ یعنی وہ ذرائع جو زندگی بسر کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دیتا ہے۔ پہلے معنی کے لحاظ سے یہ آیت اسی معنی کو ادا کر رہی ہے جو اس سورۃ میں محمد ﷺ اور نوح علیہ السلام اور صالح علیہ السلام کی زبان سے ادا ہوتا چلا آیا ہے کہ نبوت سے پہلے بھی میں اپنے رب کی طرف سے حق کی کھلی کھلی شہادت اپنے نفس میں اور کائنات کے آثار میں پا رہا تھا اور اس کے بعد میرے رب نے براہ راست علم حق بھی مجھے دے دیا ہے۔ اب میرے لئے یہ کس…
Read the full tafseer →(آیت) يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ وَرَزَقَنِيْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَـنًا، یعنی اے میری قوم مجھے بتلاؤ کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے اپنی بات کے حق ہونے پر دلیل اور کافی شہادت رکھتا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے بہترین رزق بھی عطا فرمایا ہو، کہ ظاہری رزق جس پر معاش کا مدار ہے وہ بھی عطا فرمایا اور باطنی رزق فہم و عقل اور اس پر وحی و نبوت کا انعام گرانمایہ بھی عطا فرمایا تو پھر کیا تمہاری رائے یہ ہے کہ ان سب چیزوں کے ہوتے ہوئے میں بھی تمہاری طرح گمراہی اور ظلم کو اختیار کرلوں اور حق بات تمہیں نہ پہنچاؤ ں، اس کے بعد فرمایا
(آیت) وَمَآ اُرِيْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰي…
Read the full tafseer →قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ وَرَزَقَنِيْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَـنًا ۭ وَمَآ اُرِيْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰي مَآ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ ۭ اِنْ اُرِيْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ ۭ وَمَا تَوْفِيْقِيْٓ اِلَّا بِاللّٰهِ ۭ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَاِلَيْهِ اُنِيْبُ۔
ینۃ اور رزق حسن سے مراد : لفظ بینۃ کی تحقیق اوپر آیت 63 کے تحت گزر چکی ہے۔ اس سے مراد وہ اذعان و اعتقاد ہے جو ہر فطرت سلیم کے اندر اللہ تعالیٰ نے ودیعت فرمایا ہے اور جو انسان کی رہنمائی صراط مستقیم کی طرف کرتا ہے بشرطیکہ انسان نے غلط ماحول کے اثرات سے متاثر ہو کر اپنی فطرت مسخ نہ کرلی ہو،…
Read the full tafseer →88۔ 1 رزق حسن کا دوسرا مفہوم نبوت بھی بیان کیا گیا ہے۔ (ابن کثیر)
88۔ 2 یعنی جس کام سے میں تجھے روکوں، تم سے خلاف ہو کر وہ میں خود کروں، ایسا نہیں ہوسکتا۔
88۔ 3 میں تمہیں جس کام کے کرنے یا جس سے روکنے کا حکم دیتا ہوں، اس سے مقصد اپنی مقدور بھر، تمہاری اصلاح ہی ہے۔
88۔ 4 یعنی حق تک پہنچنے کا جو میرا ارادہ ہے، وہ اللہ کی توفیق سے ہی ممکن ہے، اس لئے تمام معاملات میں میرا بھروسہ اسی پر ہے اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–92
56: اس رزق سے مراد کھانے پینے وغیرہ کا سامان بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جب اللہ تعالیٰ نے سیدھے سیدھے طریقے سے مجھے رزق عطا فرمایا ہے تو میں اس کے حصول کے لیے وہ غلط طریقے کیوں اختیار کروں جو تم کرتے ہو ؟ اور رزق سے یہاں مراد نبوت بھی ہوسکتی ہے۔
Read the full tafseer →حضرت اپنی تقریر میں نہایت ہی ہمدردی ، محبت اور برادرانہ جذبات کا خیال رکھتے ہوئے خطاب کرتے ہیں۔
قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي (88 : 11) “ شعیب (علیہ السلام) نے کہا “ بھائیو ، تم خود ہی سوچو کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر تھا۔ ” میرے نفس کے اندر ایک حقیقت موجود ہے اور میں اسے سچ سمجھتا ہوں ، پھر میری طرف وحی آتی ہے اور مجھے حکم دیا جاتا ہے کہ تم تبلیغ کرو اور ان واضح شہادتوں کے بعد میں تمہارے سامنے بڑے اعتماد کے ساتھ یہ دعوت پیش کرتا ہوں۔
وَرَزَقَنِي مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا (88 : 11) “ پھر اس نے مجھے اپنے ہاں سے اچھا رزق بھی عطا کیا ہے۔ ”…
Read the full tafseer →13 یا تو ظاہری روزی مراد ہے۔ یعنی ناپ تول میں کمی بیشی کیے بدون حلال و طیب طریق سے روزی مرحمت فرمائی یا باطنی روزی یعنی علم و حکمت اور نبوت عطا کی، خلاصہ یہ ہے کہ اگر حق تعالیٰ نے مجھ کو فہم و بصیرت دے کر وہ صاف راستہ دکھلا دیا جو تم کو نظر نہیں آتا اور اس دولت سے مالا مال کیا جس سے تمہیں حصہ نہیں ملا تو کیا اس کا حق یہ ہے کہ میں " معاذ اللہ " تمہاری طرح اندھا بن جاؤں اور خدا کے احکام سے روگردانی کرنے لگوں، یا تمہارے استہزاء و تمسخر سے گھبرا کر نصیحت کرنا اور سمجھانا چھوڑ دوں ؟ ہرگز نہیں۔
1 یعنی جن بری باتوں سے تم کو روکتا ہوں میری یہ خواہش نہیں کہ تم سے علیحد ہو کر خود ان کا ارتکاب کروں مثلا…
Read the full tafseer →آیت 88 قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ
حضرت شعیب نے وہی بات فرمائی جو دوسرے انبیاء و رسل اپنی اپنی قوم سے فرماتے آئے تھے کہ تمہارے درمیان رہتے ہوئے میرا کردار اور اخلاق پہلے بھی مثالی تھا ‘ میں اس معاشرے میں ایک شریف النفس اور سلیم الفطرت انسان کے طور پر معروف تھا۔
وَرَزَقَنِيْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَـنًا
یعنی پھر مجھے اللہ نے نبوت اور رسالت سے بھی سرفراز فرما دیا ہے۔
اِنْ اُرِيْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ ۭ وَمَا تَوْفِيْقِيْٓ اِلَّا باللّٰهِ
میرا مقصد تم لوگوں کی اصلاح ہے اور اس سلسلے میں جو کچھ بھی میں کر رہا ہوں وہ اللہ کی توفیق ہی سے کر رہا…
Read the full tafseer →99 یہ واضح دلیل وہی داعیہ فطرت ہے جو ہر انسان کے تحت الشعور میں موجود ہے پھر جو لوگ اللہ کی ہر سو پھیلی ہوئی نشانیوں میں غور و فکر کرتے ہیں ان میں یہ داعیہ تحت الشعور سے شعور میں آجاتا ہے اور انھیں اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت حاصل ہوجاتی ہے۔
100 رزق حسن سے مراد :۔ یہاں رزق حسن سے مراد نبوت اور علم وحی ہے اور اگر رزق سے مراد ظاہری حلال اور پاکیزہ رزق یا مال و دولت ہی لیا جائے تو بھی اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میں تمہاری بددیانتیوں کے معاملہ میں تمہارا حامی کیسے بن سکتا ہوں بھلا کیا میں ایسے کام کرسکتا ہوں جن سے تمہیں روکتا ہوں۔ میں تو تمہاری بھی اصلاح چاہتا ہوں پھر میں ایسے کام کیوں کروں گا اور میں…
Read the full tafseer →129۔ یعنی دولت نبوت۔ ھو النبوۃ والحکمۃ (روح) اس کو کہیں رحمۃ سے بھی تعبیر کیا ہے جیسا کہ اسی سورت کی آیت نمبر 63 میں حضرت صالح (علیہ السلام) کے سلسلہ میں اور جائز آمدنی بھی مراد لی گئی ہے۔ اشارۃ الی ما اتاہ اللہ من المال الحلال (بیضاوی) (آیت) ” ان کنت علی بینۃ من ربی “۔ یعنی اگر اللہ کی توحید وغیرہ کا علم مجھے صریحا ہوچکا ہو۔
130۔ یعنی یہ تو ہے نہیں، کہ میں تمہیں کوئی راہ بتادوں اور خود کسی اور راہ پر چلوں میری یہ تبلیغ تو سرتاسر خیرخواہی ودلسوزی سے ہے اور دلیل یہ ہے کہ میں تمہیں وہی باتیں بتلاتا ہوں جو اپنے نفس کے لیے بھی پسند کرتا ہوں۔
131۔ یہ ہوتا ہے پیغمبروں کا کمال عبدیت ! ادھردلسوزی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–95
آیت نمبر 84 تا 95
ترجمہ : اور ہم نے اہل مدین کی جانب ان کے بھائی شعیب کو بھیجا انہوں نے کہا میرے برادران قوم اللہ کی بندگی کرو یعنی اس کو ایک سمجھو، اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں، اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو، میں تم کو خوش حالی میں دیکھ رہا ہوں جس کی وجہ سے تم کو تولنے اور کم ناپنے سے مستغنی ہو، اگر تم ایمان نہ لائے تو مجھے تمہارے بارے میں تم کو گھیرنے والے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے جو تم کو ہلاک کر دے گا، اور یوم کی صفت محیط مجاز ہے عذاب کے اس میں واقع ہونے کی وجہ سے، اور اے میرے برادران قوم تم انصاف کے ساتھ پورا پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں نقصان نہ پہنچاؤ، (یعنی)…
Read the full tafseer →قال یقوم ارء یتم ان کنت علی بینۃ من ربي ورزقنی منہ رزقا حسنا حضرت شعیب نے کہا :
اے میری قوم ! دیکھو تو اگر میں اپنے رب کی جانب سے دلیل پر قائم ہوں اور اس نے مجھے اپنی طرف سے اچھا رزق عطا فرما دیا ہے (تو کیسے اس کا حکم نہ مانوں) ۔
بَیِّنَۃٍ بصیرت اور واضح بیان۔ مِنْ رَّبِّیْ اپنے رب کی طرف سے ‘ یعنی وحی اور نبوت کے ذریعہ سے۔ رَزَقَنِیْ مِنْہُ یعنی محنت مشقت اٹھائے بغیر اللہ نے حلال رزق عطا فرما دیا۔ رِزْقًا حَسنًاط سے مراد ہے حلال رزق۔ کہا گیا کہ حضرت شعیب بڑے مالدار تھے۔ (1) [ اس فقیر کی نظر میں حضرت شعیب کے مالدار ہونے نہ ہونے کا آیت کے مفہوم سے کوئی تعلق نہیں بلکہ آپ نے قوم کو ایسے بلیغ طرز…
Read the full tafseer →(88) شعیب ؑ کہنے لگے یہ تو بتاؤ کہ اگر میں اپنے رب کی نازل کردہ دلیل پر قائم ہوں اور اس نے مجھے اپنی طرف سے نبوت اور اسلام کے ساتھ نوازا ہے اور پاکیزہ مال عطا کیا ہے تو پھر کیسے تبلیغ نہ کروں اور میں وہ نہیں کہ تمہارے برخلاف ان کاموں کو کروں، جن سے تمہیں منع کرتا ہوں یعنی ناپ تول میں کمی کرنا۔
میں تو جہاں تک میرے امکان میں ہے، ناپ تول میں عدل و انصاف اور اصلاح چاہتا ہوں اور مجھ کو جو کچھ توفیق ہوتی ہے صرف اللہ ہی کی مدد سے ہوتی ہے، میں نے تمام امور اسی کے سپرد کردیے ہیں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
Read the full tafseer →قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ۔۔ :”بَيِّنَةٍ“ وہ دلیل جس کے ساتھ حق اور باطل واضح اور الگ الگ ہوجائے۔ ”رِزْقًا حَسَـنًا“ یہ لفظ تین چیزوں کے لیے آیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نبوت، حلال روزی اور صاف ستھری پاکیزہ زندگی۔ یہاں ”اَرَءَيْتُمْ“ کا جواب محذوف ہے، یعنی اے میری قوم ! یہ بتاؤ اگر میں اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر قائم ہوں اور اس نے مجھے رزق حسن دیا ہو تو کیا میں اسے چھوڑ کر تمہاری طرح حرام کھانے لگوں اور تمہیں نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا چھوڑ دوں ؟ ”رِزْقًا حَسَـنًا“ سے معلوم ہو رہا ہے کہ شعیب ؑ عطائے نبوت کے ساتھ ساتھ حلال روزی کے ذریعے سے اچھے خاصے مال دار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–95
آیت نمبر 84 تا 95
اللہ تعالیٰ کا ارشاد والیٰ مدین اخاھم شعیبا یعنی وارسلناإلی مدینہم نے مدین کی طرف بھیجا، مدین حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم ہے۔ ان کی وجہ تسمیہ کے متعلق دو قول ہیں : ایک قول یہ ہے کہ وہ مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں۔ مدین کہا گیا ہے جب کہ مراد بنو مدین ہیں۔ جس طرح مضر کہا جاتا ہے اور مراد بنومضر ہوتے ہیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ان کے شہر کا نام ہے اس لیے اس کی طرف ان کو منسوب کردیا گیا۔ نحاس نے کہا : مدین غیر منصرف ہئ، کیونکہ یہ شہر کا نام ہے، سورة اعراف میں یہ معنی گزرچکا ہے اور کچھ اس سے زیادہ بھی۔ قال یٰقوم اعبدوا اللہ مالکم من الٰہٍ غیرہ (اس کی تفسیر) گزر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
قوم شعیب (علیہ السلام) کا ذکر :
1:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انی ارکم بخیر “ سے مراد اشیاء کی قیمتوں کا سستا ہونا۔ (اور فرمایا) (آیت) ” وانی اخاف علیکم عذاب یوم محیط “ سے مراد ہے کہ قیمتوں کا چڑھنا اور مہنگا ہونا ہے (یعنی میں ڈرتا ہوں تم پر اس دن سے جبکہ قمیتیں چڑھ جائیں اور بھاؤ مہنگا ہوجائے۔
2:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” بقیت اللہ “ یعنی اللہ کا رزق۔
3:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” بقیت اللہ خیر لکم “ یعنی تمہارا حصہ تمہارے رب کی طرف سے بہتر ہے تمہارے…
Read the full tafseer →[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ يٰقَوْمِ : اے میری قوم ] [ اَ : کیا ] [رَءَيْتم : تم نے غور کیا ] [ ان : اگر ] [ كُنْتُ : میں ہوں ] [عَلٰي بَيِّنَةٍ : ایک واضح (دلیل) پر ] [مِّنْ رَّبِيْ : اپنے رب (کی طرف) سے ] [وَرَزَقَنِيْ : اور اس نے عطا کیا مجھ کو ] [مِنْهُ : اپنے پاس سے ] [رِزْقًا حَسَـنًا : ایک رزق حسن ] [ وَمَآ اُرِيْدُ : اور میں ارادہ نہیں رکھتا ] [ان : کہ ] [اُخَالِفَكُمْ : تمہاری مخالفت کروں ] [ اِلٰي مَآ : اس کی طرف ] [انهٰىكُمْ : میں منع کرتا ہوں تم کو ] [عَنْهُ : جس سے ] [ان اُرِيْدُ : میں ارادہ نہیں رکھتا ] [ اِلَّا : مگر ] [ الْاِصْلَاحَ : اصلاح کا ] [ مَا : اتنی جتنی ]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–90
حضرت شعیب کا قوم سے فرمانا کہ جہاں تک ہو سکے میں اصلاح چاہتا ہوں اور میری مخالفت تم پر عذاب آنے کا سبب نہ بن جائے۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) نے جب مدین والوں کو حق کی طرف بلایاتوحید کی دعوت دی اور فرمایا کہ زمین میں فساد مت مچاؤ تو ان لوگوں نے ان کا مذاق بنایا اور بےت کے جواب دئیے اور توحید قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوئے اس پر حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم ہی بتاؤ اگر میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلیل پر ہوں حق بات کہتا ہوں اور حق کی طرف بلاتا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت بڑی رحمت یعنی نبوت سے نوازا ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں تبلیغ کرنا اور حق کی دعوت دینا چھوڑ دوں اور پھر یہ بھی سمجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–95
قصہ شعیب (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ والی مدین اخاھم شعیبا .... الیٰ .... الا بعدا لمدین کما بعدت ثمود۔
(ربط) یہ چھٹا قصہ شعیب (علیہ السلام) کا ہے جو خطیب الانبیاء کے لقب سے معروف ہیں اور مدین کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ یہ لوگ بڑے سرمایہ دار تھے انکا مذہب یہ تھا کہ ہم اپنے مالوں کے تصرف میں آزاد اور مختار ہیں ( جیسا کہ آج کل کے سرمایہ دار کہتے ہیں) جس طرح چاہیں ان میں تصرف کریں حضرت شعیب (علیہ السلام) یہ فرماتے تھے کہ یہ اموال اگرچہ تمہارے مملوک ہیں مگر تمہاری ملکیت مالک حقیقی کی ملکیت اور اس کے حکم کے ماتحت ہے۔ امانت اور دیانت کے ساتھ اور صحیح کمیل اور وزن کے ساتھ تم اس میں تصرف کرسکتے ہو یہ…
Read the full tafseer →77:۔ رِزْقًا حَسَنًا نبوت و حکمت مراد ہے (مدارک و روح) میں تمہیں شرک اور بد دیانتی سے اپنی مرضی سے نہیں روکتا ہوں بلکہ میں اللہ کا نبی ہوں اور اس کے حکم سے ایسا کرتا ہوں۔ اور میرے پاس توحید کے حق میں اور شرک و بد دیانتی کے رد میں واضح دلائل بھی موجود ہیں۔ میں کوئی بات بےدلیل نہیں کہتا۔ اور جن کاموں سے تمہیں منع کر رہا ہوں اس سے میرا مقصد یہ نہیں کہ تمہیں تو ان سے منع کروں لیکن خود ان کاموں کا ارتکاب کرلوں۔ مفسرین کرام نے عام طور پر یہی مفہوم بیان کیا ہے۔ لیکن اس صورت میں اس کا تعلق مسئلہ توحید سے نہیں رہے گا کیونکہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا دوسروں کو شرک سے منع کرنا اور عیاذًا باللہ خود اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–90
ربط آیات
حضرت شعیب (علیہ السلام) کے واقعہ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے ان کی تبلیغ کا ذکر کیا کہ انہوں نے قوم کو غیر اللہ کی عبادت سے منع کیا اور ماپ تول میں کمی کے ذریعے لوگوں کی حق تلفی کرنے سے ڈرایا۔ یہ دونوں قبیح چیزیں ہیں شرک اور کفر اعتقادی نجاست ہے جب کہ حقوق کا ضیاع اخلاقی گندگی ہے۔ شعیب (علیہ السلام) نے لوگوں کو سمجھایا کہ اپنے مال میں تمام حقوق ادا کرنے کے بعد جو کچھ بچ رہے گا اسی میں تمہارے لئے بہتری ہے اور اسی کا نتیجہ تمہارے حق میں اچھا ہوگا مگر آپ کی قوم نے آپ کی اس پاکیزہ نصیحت کا نہایت ہی قبیح جواب دیا ۔ آج کے درس میں قوم کا جواب ہے اور پھر حضرت شعیب (علیہ السلام) کی مزید…
Read the full tafseer →قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰي بَيِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّيْ وَرَزَقَنِيْ مِنْہُ رِزْقًا حَسَـنًا 0ۭ وَمَآ اُرِيْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰي مَآ اَنْہٰىكُمْ عَنْہُ 0ۭ اِنْ اُرِيْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ 0ۭ وَمَا تَوْفِيْقِيْٓ اِلَّا بِاللہِ 0ۭ عَلَيْہِ تَوَكَّلْتُ وَاِلَيْہِ اُنِيْبُ 88
قوم
والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ،
( ق و م ) قيام
القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجر ات/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–93
تفسیر : اس کے بعد پانچواں واقعہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا بیان فرماتا ہے جو اہل مدین کی طرف رسول بنا کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد میں بھیجے گئے تھے۔ اس قوم کی عادت بت پرستی اور بدکاری کے علاوہ کم تولنا ‘ خیانت ‘ دغابازی کرنے کی بھی تھی جس کو وہ اپنے مال میں تصرف جائز سمجھ کر طعن کی راہ سے کہتے تھے کہ ایک آپ ہی تو بڑے اچھے شخص ہیں اور ان کی نماز پر طعن کرکے کہتے تھے کہ کیا آپ کی نماز ہم کو بت پرستی سے منع کرتی ہے ؟ باقی قصہ صاف ہے۔ یہ مدین وہی جگہ ہے کہ جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون سے بھاگ کر آئے تھے اور یہ وہی شعیب (علیہ السلام) ہیں کہ جن کی ایک صاحبزادی سے آپ کی شادی ہوئی تھی۔…
Read the full tafseer →قَالَ یٰقَوْمِ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ کُنْتُ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَرَزَقَنِیْ مِنْہُ رِزْقًا حَسَنًا ط وَمَآ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَکُمْ اِلٰی مَآ اَنْھٰکُمْ عَنْہُ ط اِنْ اُرِیْدُ اِلاَّ الْاِصْلاَحَ مَا اسْتَطَعْتُ ط وَمَا تَوْفِیْقِیْ ٓ اِلاَّ بِاللّٰہِ ط عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَاِلَیْہِ اُنِیْبُ ۔ (سورۃ ہود : 88)
(حضرت شعیب نے کہا، اے میری قوم ! تمہارا کیا خیال ہے اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے عمدہ روزی بھی عطا کی ہے اور میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ اس امر میں تمہاری مخالفت کروں جس سے میں تمہیں روکتا ہوں۔ میں تو صرف تمہاری اصلاح چاہتا ہوں جہاں تک میرا بس ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت شعیب (علیہ السلام) کو قوم کا جواب۔
مشرکوں اور سچائی کے منکروں کا شروع سے یہ رویہ رہا ہے کہ وہ توحید کو قبول اور حق کو تسلیم کرنے کی بجائے عقیدہ توحید اور حق کے جواب میں نہ صرف انبیاء اور مصلحین پر مختلف قسم کے الزامات لگاتے ہیں بلکہ وہ انبیاء اور مصلحین کے نیک کاموں کو طعنہ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے بھی یہ روّیہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اے شعیب کیا تیری نمازیں تجھے یہی سبق سکھاتی ہیں کہ ہم اپنے باپ دادا کے طریقہ عبادت اور ان کے طرز زندگی کو چھوڑ دیں اور تیری وجہ سے ہم اپنا کاروبار اپنی مرضی اور طریقہ کے مطابق نہ کریں۔ یہ باتیں تجھے زیب…
Read the full tafseer →جواب شعیب۔ :
88: قَالَ یٰـقَوْمِ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ کُنْتُ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَرَزَقَنِیْ مِنْہُ (کہا اے میری قوم ! دیکھوتو ! اگر میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر قائم ہوں اور اس نے مجھے اپنی طرف سے اچھا رزق عنایت فرمایا ہے۔ رِزْقًا حَسَنًا (اچھا رزق) یعنی نبوت و رسالت یا حلال مال بغیر بخس و تطفیف کے اَرَئَ یْتُمْ کا جواب محذوف ہے۔ یعنی تم مجھے بتلائو اگر میں اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہوں۔ اور حقیقت میں اسکاسچا پیغمبر ہوں۔ کیا میرے لئے یہ صحیح نہیں کہ بتوں کی عبادت کے چھوڑنے اور گناہوں سے رکنے کا تمہیں حکم دوں۔ جبکہ انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت ہی اسی مقصد کیلئے ہوتی ہے۔…
Read the full tafseer →88۔” قال یا قوم ارایتم ان کنت علی بینۃ “ بصیرت اور واضح بیان میں ربی ورزقنی منہ رزقا حسنا “ حلال رزق سے مراد ہے اور بعض نے کہا بہت زیادہ رزق مراد ہے کیونکہ شعیب (علیہ السلام) کثیر المال تھے اور بعض نے کہا ہے کہ رزق حسن علم اور معرفت ہے۔ ” وما ارید ان اخالفکم الی ما انھکم عنہ “ یعنی میرا یہ ارادہ نہیں کہ تمہیں کسی کام سے روک کر خود وہ کروں۔” ان ارید “ جو میں تمہیں حکم کرتا ہوں اور نہی کرتا ہوں اس سے میرا ارادہ ” الا الا صلاح ما استطعت وما توفیقی الا باللہ “ توفیق خیر اور اطاعت کے راستے کو آسان کردینا ۔ ” علیہ توکلت “ میں نے اعتماد کیا ” والیہ انیب “ جو مجھ پر مصیبت آئے گی اس کی طرف رجوع کروں…
Read the full tafseer →88۔ یہ جواب ہے شعیب (علیہ السلام) کا جو انہوں نے اپنی قوم کو دیا تھا کہ اے قوم خدا نے مجھے یہ ظاہر ظاہر معجزے دئیے اور نبوت دی اور مجھے دنیا میں پاک اور حلال روزی دے رکھی ہے میں جن باتوں سے تمہیں روکتا ہوں چھپ چھپا کر میں بھی ان کو نہیں کروں گا یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ تمہیں تو کسی کام سے میں منع کروں اور میں آپ اس کام کو کروں میرا ارادہ تو اصلاح کا ہے میں تو یہ چاہتا ہوں کہ جہاں تک ہو تمہاری آخرت اور دنیا دونوں درست ہوجاویں اور میں تابمقدور تمہارے معاملات درست کرنا چاہتا ہوں اور میرا ہدایت کرنا اور راہ حق بتانا خدا کی مدد سے ہے اور اسی پر میرا بھروسہ بھی ہے اور میں اسی کی طرف پھر کر جانے والا…
Read the full tafseer →(آیت) جناب شعیب (علیہ السلام) نے ان سے کہا : (آیت) ” اے میری قوم ! بھلا بتاؤ، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے “ یعنی خواہ مجھے اس وحی کی صحت پر یقین اور اطمینان ہو (آیت) ” اور اس نے روزی دی مجھ کو اچھی روزی “ یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ نے مجھے رزق کی مختلف اصناف عطا کر رکھی ہیں (آیت) ” اور میں یہ نہیں چاہتا کہ بعد میں خود وہ کام کروں جس سے میں تمہیں روکتا ہوں “ پس میں نہیں چاہتا کہ میں تمہیں ناپ تول میں کمی سے منع کروں اور خود اس برائی کا ارتکاب کرتا رہوں اس کو سب سے پہلے خود ترک کرتا ہوں۔
(آیت) ” میں تو اصلاح کرنی چاہتا ہوں جہاں تک ہوسکے “ یعنی اس کے سوا میرا کوئی مقصد نہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–112
حقیقی نمازی مشرک نہیں ہوسکتا
قول باری ہے اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبد اباء نا او ان فعل فی اموالنا ما تشاء کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشاء کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو۔ انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کی حیثیت نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے کی طرح ہے چناچہ ارشاد باری ہے ان الصلوٰۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر بیشک نماز بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت شعیب نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
176 ۔ قوم شعیب کا حضرت شعیب (علیہ السلام) کو معاندانہ جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اس دعوت حق کے جواب میں کہا کہ کیا تمہاری نماز تم کو یہی سکھاتی پڑھاتی ہے ہم ان چیزوں کو چھوڑ دیں جن کی پوجا (و پرستش) ہمارے باپ دادا کرتے چلے آئے ہیں ؟ یعنی وہی مرغے کی ایک ٹانگ کہ دلیل و حجت تو کچھ نہیں۔ صرف چونکہ بڑے ایسا کرتے آئے بس ہم بھی کریں گے کہ جہاں انہوں نے ایک مکھی ماری تھی وہاں پر ہم بھی مکھی پر مکھی مارتے چلے جائیں گے اور بس۔ اور یہی منطق آج کا جاہل مسلمان پیش کرتا ہے کہ فلاں فلاں کام چونکہ ہمارے بڑے اور بزرگ کرتے آئے ہیں اس لئے ہم بھی کرتے ہیں اگرچہ دین کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–95
سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کی گمراہی اور عذاب
تشریح : یہاں قوم مدین کا حال بیان کیا جا رہا ہے۔ یہ قوم مدین اور اس کے نواحی علاقوں میں آباد تھی۔ بحر احمر کا وہ مقام جہاں جزیرہ نمائے عرب کی دو تجارتی شاہراہیں آکر ملتی تھیں یمن و شام اور عراق و مصر کے قافلے یہیں سے گزرتے تھے، یعنی مدین بہت بڑی تجارتی منڈی تھی اسی لیے وہاں کے لوگ بڑے آسودہ حال تھے۔ مگر ان میں بت پرستی، عیش پرستی اور ناپ تول میں بددیانتی کی عادت حد سے بڑھ چکی تھی اور اس حرام خوری کی وجہ سے ان میں تمام اخلاقی برائیاں، اللہ سے دوری اور حرص و لالچ پیدا ہوچکا تھا دیکھا جائے تو مال کی حرص بہت سی اخلاقی برائیوں کی جڑ ہے یہی حال ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–95
آیات 84 تا 95
اسرار و معارف
شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا حال بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے کہ مدین جو ملک شام کا مشہور شہر تھا اس کے رہنے والوں کی طرف ان ہی میں سے شعیب (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ یہ لوگ شجرپرستی میں مبتلا تھے اور مختلف درختوں کی پوجا کرتے تھے جیسے ہندومت میں آج بھی یہ بات پائی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ان کا لین دین بھی ہندؤوں جیسا تھا ڈنڈی مارنے سے نہ چوکتے ناپ تول میں کمی کردیتے ۔ سونے کے سکوں میں سے تھوڑابہت سونا کاٹ لیتے اور سکہ پوری قیمت پر چلتا کردیتے۔
ناپ تول میں کمی
چنانچہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے توحید کی دعوت دی اور فرمایا اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ لہٰذا…
Read the full tafseer →“7 ۔ تو میرے لئے یہ کیسے جائز ہے کہ میں تمہیں نیکی کا حکم نہ دوں اور برائی سے منع نہ کروں ؟ اس آیت میں ” رزق حسن “ کا لفط دوہرے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ایک نبوت اور علم حق کے معنی میں اور دوسرے حلال روزی (ذریعہ زندگی) کے معنی میں، کہتے ہیں کہ حضرت شعیب ؓ خود ایک مالدار آدمی تھے۔ (فتح القدیر) ۔
8 ۔ یعنی یہ جو میں تمہی ناپ تول میں بےایمانی کرنے سے روک رہا ہوں، اس کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ تمہیں تو اس سے باز رہنے کی تلقین کروں اور خود اس کا ارتکاب کرکے خوب نفع اٹھادوں بلکہ میں تم سے جو بات بھی کہتا ہوں، پہلے خود اس پر عمل کرتا ہوں۔ تمام انبیاء ( علیہ السلام) اور اس امت کے سلف صالح کا بھی یہی…
Read the full tafseer →(11:88) ارء یتم۔ جب ہمزہ استفہام رایت پر داخل ہوتا ہے تو اس حالت میں رؤیت کا آنکھوں یا دل سے دیکھنے کے معنی میں آنا ممنوع ہوتا ہے اور ارایت کے معنی ہوتے ہیں اخبرنی لہٰذا ارایتم بمعنی اخبرونی ہے بھلا مجھے یہ تو بتائو۔
منہ۔ من لدنہ۔ اپنی (خدا) کی طرف سے۔
رزقا حسانا۔ عمدہ زروی۔ رزق حلال، نجس اور تطفیف سے مبرا یا اس سے مراد نبوت و رسالت ہے جو حضرت شعیب (علیہ السلام) کو عطا ہوئی تھی۔ ارأیتم ان کنت علی بینۃ من ربی ورزقنی منہ رزقا حسنا۔ میں جواب شرط محذوف ہے۔ یعنی اخبرونی ان کنت علی ضھۃ واضحۃ و یقین من ربی وکنت نبیا علی الحقیقۃ ایصح لی ان لاامرکم بترک عبادۃ والاوثان ولکف عن المعاصی۔ بھلا بتاؤ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
لغات القرآن آیت نمبر 84 تا 88
لاتنقصوا (تم کمی نہ کرو) المکیال (ماپ) المیزان (تول) انی اری (بےشک میں دیکھ رہا ہوں) بخیر (خیر سے، بھلائی سے، اچھا حال) یوم محیط (گھیر لینے والا دن ) القسط (انصاف، برابری) لاتبخسوا (نہ گھٹائو، کمی نہ کرو) اشیاء (چیزیں) لاتعثوا (تم نہ پھرو، نہ گھومو) بقیت اللہ (اللہ کا بچایا ہوا) حفیظ (نگہبان، نگران) تامرک (تجھے حکم دیتی ہے) ان نترک (یہ کہ ہم چھوڑ دیں) ان نفعل (یہ کہ ہم کریں) نشآء (ہم چاہیں) رزقنی (اس نے مجھے دیا) انھی (میں منع کرتا ہوں، روتکا ہوں) ارید (میں چاہتا ہوں) استطعت (میں طاقت رکھتا ہوں) توفیق (عطاء، توفیق) توکلت (میں نے بھروسہ کرلیا) انیب (میں لوٹتا…
Read the full tafseer →یہ جواب ہے حضرت شعیب (علیہ السلام) کا جو انہوں نے اپنی قوم کو دیا تھا کہ اے قوم ! خدا نے مجھے یہ ظاہر ظاہر معجزے دیئے اور نبوت دی اور مجھے دنیا میں پاک اور حلال روزی دے رکھی ہے۔ میں جن باتوں سے تمہیں روکتا ہوں چھپ چھپ کر میں بھی ان کو نہیں کروں گا۔ یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ تمہیں تو کسی کام سے منع کروں اور میں آپ اس کو کروں میرا ارادہ تو اصلاح کا ہے۔ میں تو چاہتا ہوں کہ جہاں تک ہو تمہاری آخرت اور دنیا دونوں درست ہوجاویں اور میں تابمقدور تمہارے معاملات درست کرنا چاہتا ہوں اور میرا ہدایت کرنا اور راہ حق بتانا خدا کی مدد سے ہے اور اسی پر میرا بھروسہ بھی ہے اور میں اسی کی طرف پھر کر جانے والا ہوں
Read the full tafseer →[48] اچھا رزق سے یہاں وحی الٰہی مراد ہے۔ جس طرح مادی رزق انسان کی مادی زندگی کے لئے ضروری ہے اسی طرح وحی الٰہی کا رزق حسن انسان کی روحانی زندگی کے لئے ضروری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–90
(ف 2) قوم کے اعتراضات کے جواب میں آپ نے ارشاد فرمایا کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں ، درست ہے ، دلائل کی بنا پر کہہ رہا ہوں ، وہ تجارت یا لین دین کامیاب ہے جو صداقت اور دیانتداری پر مبنی ہو ، میری نیکی سے تم یہ توقع نہ رکھو ، کہ میں ان برائیوں کو نہیں سمجھتا ، اور تمہارا ان میں ساتھ دوں گا میں تو اصلاح چاہتا ہوں ، مجھے تمہاری مخالفت کی پروا نہیں ، کیونکہ میرا تعلق خدائے برتر سے ہے ۔
حل لغات :
شقاقی ، میری عداوت ۔ شق سے مشتق ہے ۔
Read the full tafseer →88 حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کے اے میری قوم تم چاہتے ہو کہ میں تم کو توحید اور عدل کی تبلیغ نہ کروں تو بھلایہ تو بتائو اگر میں اپنے رب کی جانب سے ایک روشن دلیل پر قائم ہوں اور اس نے مجھ کو اپنی جانب سے ایک بہترین دولت اور اچھی روزی عطا فرمائی تو کیا اس کی تبلیغ نہ کروں اور میرا یہ مقصد نہیں ہے کہ جن باتوں سے تم کو منع کرتا ہوں اور جو باتیں تم سے چھڑاتا ہوں تمہارے برخلاف میں انہیں خود کرنے لگوں میں تو صرف اپنی حسب استطاعت تمہاری اصلاح کرنا اور تم کو سنوارنا چاہتا ہوں اور ان اصلاحی کاموں میں مجھے توفیقکا ملنا محض اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کی مدد سے ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہو اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–90
ف 4۔ یعنی جن باتوں سے ہم کو منع کرتے ہو ان میں کوئی برائی نہیں حلیم ورشد تمسخر سے کہا جیسے بددینوں کی عادت ہوتی ہے دین داروں کے ساتھ۔
Read the full tafseer →شعیب (علیہ السلام) نے کہا کیا دلیل رکھنے والے اور کوئی دلیل نہ رکھنے والے برابر ہو سکتے ہیں ؟
۔ 112 شعیب (علیہ السلام) نے بھی نہایت دل سوزی اور محبت کے ساتھ فرمایا کہ میری قوم کے لوگو ! مجھے تم سے حسد کرنے کی آخر ضروتر ہی کیا ہے ؟ میں کوئی مفلس و نادار تو نہیں کہ تمہاری دولت کو دیکھ کر جل رہا ہوں۔ مجھے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے خزانوں سے حلال اور وسیع رزق عطا فرمایا ہے ” اور میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ خود تمہارے خلاف کرنے لگوں جس سے میں تم کو روکتا ہوں۔ “ میرا عمل تو دیکھو کیا تم یہ بتا سکتے ہو کہ دولت جمع کرنے کے جن ناجائز ذرائع سے میں تم کو روکتا ہوں کبھی میں نے انہیں خود استعمال کیا…
Read the full tafseer →What Sayyidna Shu'aib (علیہ السلام) had said to his people was good counsel based on earnest fellow feeling. But, his people responded to him with a sarcasm that was biting. However, they had done that to a blessed prophet of Sayyidna Shu'aib's class. He heard their caustic comments, yet turned to them with the same empathy and once again tried to make them see the truth. He said: يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّي وَرَزَقَنِي مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا (0 my people, tell me, if I am on a clear path from my Lord and He has provided me from Himself with a good…
Read the full tafseer →98. 'Provision' in this context has two connotations. It might signify, in the first place, the provision of knowledge of the truth communicated by God to someone. Secondly, it might also signify, as it commonly does, the provision of the means bestowed by God on His creatures in order that they may be able to live.
Were we to understand this word in the first sense, the verse substantially repeats the same point that has been expressed earlier in this surah through the Prophets Muhammad, Noah and Salih (peace be on them). Common to their statements is their affirmation that they found the…
Read the full tafseer →