Explained with ayahs 69–73
ابراہیم ؑ کی بشارت اولاد اور فرشتوں سے گفتگو
حضرت ابراہیم ؑ کے پاس وہ فرشتے بطور مہمان بشکل انسان آتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کی خوشخبری اور حضرت ابراہیم کے ہاں فرزند ہونے کی بشارت لے کر اللہ کی طرف سے آئے ہیں۔ وہ آکر سلام کرتے ہیں۔ آپ ان کے جواب میں سلام کہتے ہیں۔ اس لفظ کو پیش سے کہنے میں علم بیان کے مطابق ثبوت و دوام پایا جاتا ہے۔ سلام کے بعد ہی حضرت ابراہیم ؑ ان کے سامنے مہمان داری پیش کرتے ہیں۔ بچھڑے کا گوشت جسے گرم پتھروں پر سینک لیا گیا تھا، لاتے ہیں۔ جب دیکھا کہ ان نو وارد مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے ہی نہیں، اس وقت ان سے کچھ بدگمان سے ہوگئے اور کچھ دل میں خوف کھانے لگے حضرت…
Read the full tafseer →سورة هُوْد 80
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حضرت سارہ ؓ فی الواقع اس پر خوش ہونے کے بجائے الٹی اس کو کم بختی سمجھتی تھیں۔ بلکہ دراصل یہ اس قسم کے الفاظ میں سے ہے جو عورتیں بالعموم تعجب کے مواقع پر بولا کرتی ہیں اور جن سے لغوی معنی مراد نہیں ہوتے بلکہ محض اظہار تعجب مقصود ہوتا ہے۔
سورة هُوْد 81
بائیبل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کی عمر اس وقت 100 برس اور حضرت سارہ ؓ کی عمر 90 برس کی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
(آیت) فَلَمَّا رَآٰ اَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَيْهِ نَكِرَهُمْ ، یعنی جب دیکھا ابراہیم ؑ نے کہ ان کے ہاتھ کھانے تک نہیں پہنچتے تو متوحش ہوگئے۔
اس سے معلوم ہوا کہ مہمان کے آداب میں سے یہ ہے کہ مہمان کے سامنے جو چیز پیش کی جائے اس کو قبول کرے، (کھانے کو دل نہ چاہے یا مضر سمجھیں تو معمولی سی شرکت دلجوئی کے لئے کرلیں)۔
اسی جملہ سے دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ میزبان کو چاہئے کہ صرف کھانا سامنے رکھ کر فارغ نہ ہوجائے بلکہ اس پر نظر رکھے کہ مہمان کھا رہا ہے یا نہیں، جیسا ابراہیم ؑ نے کیا کہ فرشتوں کے کھانا نہ کھانے کو محسوس کیا۔
مگر یہ نظر رکھنا اس طرح ہو کہ مہمان کے کھانے کو تکتا نہ رہے، سرسری نظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
71۔ 72:۔ وَامْرَاَتُهٗ قَاۗىِٕمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ ۙ وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ۔ قَالَتْ يٰوَيْلَتٰٓى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوْزٌ وَّھٰذَا بَعْلِيْ شَيْخًا ۭ اِنَّ ھٰذَا لَشَيْءٌ عَجِيْبٌ /
حضرت سارہ کی حیرت اور مسرت : سرگزشت کا آغاز، جاءت رسلنا ابراہیم بالبشری سے ہوا تھا۔ لیکن مہمانوں کو دیکھتے ہی معاً حضرت ابراہیم ان کی خاطرومدارات کے اہتمام میں لگ گئے۔ اس وجہ سے بشارت کے سننے کی نوبت اب آئی اور اس وقت ان پر یہ انکشاف ہوا کہ جن کو وہ آدمی سمجھتے تھے وہ آدمی نہیں بلکہ فرشتے ہیں۔ جس وقت فرشتوں نے بشارت سنائی حضرت ابراہیم کی بیوی سارہ بھی دروازے سے لگی کھڑی تھیں۔…
Read the full tafseer →72۔ 1 یہ اہلیہ حضرت سارہ تھیں، جو خود بھی بوڑھی تھیں اور ان کا شوہر حضرت ابراہیم ؑ بھی بوڑھے تھے۔ اس لئے تعجب ایک فطری امر تھا، جس کا اظہار ان سے ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
41: ہنسنے کی وجہ بعض مفسرین نے تو یہ بیان کی ہے کہ جب انہیں اطمینان ہوگیا کہ یہ فرشتے ہیں، اور خطرے کی کوئی بات نہیں ہے، تو خوشی کی وجہ سے وہ ہنس پڑیں، لیکن زیادہ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ بیٹے کی خوشخبری سن کر ہنسی تھیں۔ سورة حجر آیت 53 اور سورة ذاریات آیت 29، 30 میں بیان فرمایا گیا ہے کہ فرشتوں نے بیٹے کی خوشخبری پہلے دے دی تھی اور حضرت لوط ؑ کی قوم پر عذاب نازل کرنے کا ذکر بعد میں کیا تھا اس پر انہیں تعجب بھی ہوا اور خوشی بھی اور ان کو ہنستا دیکھ کر فرشتوں نے دوبارہ خوشخبری دی۔
Read the full tafseer →فی الواقعہ یہ ایک عجیب بات تھی ، ایک معین مدت کے بعد عورت کا حیض ختم ہوجاتا ہے اور اس کے بعد اس کا حمل رک جاتا ہے لیکن اللہ کی قدرت اپنے قوانین کی پابند نہیں ہے۔
Read the full tafseer →8 یہاں " یَاوَیْلَتٰی " کا لفظ ایسا ہے جیسے ہمارا محاوارت میں عورتیں کہہ دیتی ہیں کہ میں " نگوڑی " کیا اس بڑھاپے میں اولاد جنوں گی۔ حضرت سارہ کی عمر کہتے ہیں اس وقت ننانوے سال تھی اور حضرت ابراہیم سو سال یا اس سے بھی متجاوز تھے۔
5 یعنی ایسا ہو تو بالکل انوکھی اور عجیب و غریب بات ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
آیت 71 وَامْرَاَتُهٗ قَاۗىِٕمَةٌ فَضَحِكَتْ
حضرت سارہ قریب ہی کہیں پردے کے پیچھے کھڑی یہ ساری باتیں سن رہی تھیں تو آپ شاید حضرت ابراہیم کی حالت پر ہنس پڑیں کہ میرے شوہر فرشتوں سے خوف زدہ ہوگئے تھے۔
فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ ۙ وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ
یعنی فرشتوں نے حضرت سارہ کو حضرت اسحاق علیہ السلام کی ولادت کی خوشخبری دی اور ساتھ ہی حضرت یعقوب یعنی پوتے کی بھی۔ اس وقت حضرت ہاجرہ کے ہاں حضرت اسماعیل کی ولادت ہوچکی تھی۔ حضرت سارہ حضرت ابراہیم کی پہلی بیوی تھیں جبکہ حضرت ہاجرہ کو آپ کی خدمت میں بادشاہ مصر نے پیش کیا تھا۔ یہودیوں کے ہاں حضرت ہاجرہ کو کنیز سمجھا جاتا ہے ‘ حالانکہ آپ…
Read the full tafseer →83 اس وقت سیدہ سارہ کی عمر سو سال سے چند سال کم تھی اور حیض مدت سے بند ہوچکا تھا اور سیدنا ابراہیم کی عمر سو سال سے چند سال زائد تھی لہذا سیدہ سارہ کا بطور تعجب ایسے الفاظ کہنا ایک فطری امر تھا اگرچہ اس میں دل کی خوشی بھی شامل تھی۔
Read the full tafseer →107۔ (بہ اعتبار اسباب ظاہر کے) حضرت سارہ ؓ کا یہ خوشخبری سن کر اسباب ظاہری ومادی کے لحاظ سے اس پر تعجب کرنا بالکل قدرتی تھا۔ وھو استعجاب من حیث العادۃ دون القدرۃ (بیضاوی) اور یہیں سے ہمارے محققین نے کہا ہے کہ کسی واقعہ پر اسباب ظاہر کے لحاظ سے تعجب کرنا مسبب الاسباب پر یقین کامل رکھنے کے منافی نہیں، توریت میں اس موقع پر ہے :۔ ابراہام اور سرہ بوڑھے اور بہت دن کے تھے اور سرہ سے عورتوں کی معمولی، عادت موقوف ہوگئی تھی تب سرہ نے اپنے دل میں ہنس کر کہا کہ بعد اس کے کہ میں ضعیف ہوگئی اور میرا خاوند بھی بوڑھا ہوا کیا مجھ کو خوشی ہوگی ؟ “ (پیدائش 18: 11۔ 12) (آیت) ” یویلتی “۔ عربی میں یہ اظہارحیرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–83
آیت نمبر 69 تا 83
ترجمہ : ہمارے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحاق اور اس کے بعد یعقوب کی خوشخبری لے کر پہنچے، کہا تم پر سلام ہو سلامًا مصدر ہے ابراہیم نے کہا تم پر بھی سلام ہو کچھ) زیادہ ( دیر نہیں گزری کہ ابراہیم بھنا ہوا بچھڑا لے آئے مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑحٹے تو ان کو اجنبی محسوس کیا نَکِرَ بمعنی اَنکِرَ ہے تو ان کی طرف سے اپنے دل میں ابراہیم نے خوف محسوس کیا فرشتوں نے کہا خوف نہ کرو، ہمیں قوم لوط کی طرف بھیجا گیا ہے تاکہ ہم اس کو ہلاک کریں اور ابراہیم کی بیوی سارہ ان کی خدمت میں لگی ہوئی تھی تو وہ قوم کی ہلاکت) اور لوط ( کی) نجات کی ( بشارت سن کر ہنس پڑیں،…
Read the full tafseer →قالت یٰویلتٰٓی الدو انا عجور وھذا بعلي شیخًا ان ھذا الشيء عجیب۔ کہنے لگیں : کیا خوب ‘ بھلا اس بڑھاپے میں ہمارے بچے ہوں گے ؟ یہ بڑے اچھنبے کی بات ہے۔
یٰوَیْلَتٰٓی کلمۂ تعجب ہے۔ اصل لغت میں یہ کلمۂ نوحہ ہے (جو کسی کے مرنے پر کہا جاتا ہے) پھر ہر مصیبت اور قابل تعجب چیز میں اس کا استعمال کیا جانے لگا۔ حضرت ابراہیم کی بیوی کی عمر اس وقت بقول ابن اسحاق 90 سال اور بقول مجاہد 99 سال تھی۔
بَعْلشوہر۔ اصل میں کسی کام کے منتظم کو بَعْلکہا جاتا تھا۔ حضرت ابراہیم کی عمر اس وقت بقول ابن اسحاق 120 برس اور بقول مجاہد 100 سال تھی ‘ اور بشارت سے ایک سال بعد بچہ پیدا ہوگیا تھا۔
Read the full tafseer →(72) یہ سن کر حضرت سارہ ہنسیں (اور ان کو حیض کی شکایت ہوئی) اور کہنے لگیں کہ اب میں اٹھانوے سال کی بڑھیا ہو کر بچہ کیسے پیدا کروں گی اور میاں ابراہیم ننانوے سال کے بوڑھے ہیں، واقعی یہ بھی عجیب بات ہے۔
Read the full tafseer →قَالَتْ يٰوَيْلَتٰٓى : امام طبری ؓ نے فرمایا کہ ”یَا وَیْلَتَا“ کا کلمہ عرب کسی چیز پر تعجب اور اسے انوکھا سمجھنے کے وقت بولتے ہیں، چناچہ تعجب کے وقت کہتے ہیں : ”وَیْلُ أُمِّہِ مَا أَرْجَلَہُ“ ”اس کی ماں ہلاک ہو، وہ کس قدر مرد ہے۔“ باقی الف کے متعلق طبری کا فیصلہ یہ ہے کہ یہ الف ”ندبہ“ کا ہے اور تاء کا اضافہ اس لیے کیا گیا ہے کہ ”وَیْلٌ“ کے بعد والا الف ندبہ اتنا واضح اور لمبا نہیں ہوسکتا جتنا درمیان میں تاء کے اضافے سے ہوسکتا ہے۔
ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوْزٌ۔۔ : پہلی خوش خبری کا رد عمل وہ ہنسی تھی جو سارہ[ کے چہرے پر نمودار ہوئی، اب ایک ایسی چیز کی خوش خبری ملی جو ساری زندگی کی آرزو کا خلاصہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 72
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : یٰولیتیٓزجاج نے کہا : اس کی اصل یاولیتی ہے۔ یا کو الف سے بدل دیا گیا کیونکہ یہ یا اور کسرہ سے زیادہ خفیف ہے، اس نے ویل کے ساتھ اپنے لیے بددعا کا ارادہ نہیں کیا بلکہ یہ ایک کلمہ ہے جو عورتوں کی زبان پر آتا ہے جب ان پر کوئی ایسی چیز طاری ہو جس سے وہ حیران ہوں، اور (سارہ) اس کی ولادت اور اپنے میاں کے بوڑھے ہونے کی وجہ سے حیران ہوئیں کیونکہ یہ عبادت کے خلاف تھا، اور ہر وہ کام جو عادت سے خارج ہو وہ عجیب و غریب سمجھا جاتا ہے۔ اورء الدیہاستفہام ہے اس کا معنی تعجب ہے۔ واناعجوز یعنی بوڑھی۔ ولقد عجزت تعجزادعجزت تعجیزا یعنی وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
1:۔ عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں کعب ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) سدوم پر برتری کا اظہار فرما رہے تھے اور فرماتے تھے تیرے لئے ہلاکت ہو اے سدوم اس دن تیرے کیا حال ہوگا پھر فرمایا (آیت) ” ولقد جآءت رسلنا ابرھیم بالبشری قالوا سلما قال سلم فما لبث ان جآء بعجل حنیذ (69) “ ان کے لئے ایک بھنا ہوا بچھڑا لے کر آئے کیونکہ انہوں نے ان کو مہمان خیال کیا (آیت) ” فلما را ایدیہم لا تصل الیہ نکرھم واوجس منہم خیفۃ قالوا لا تخف انا ارسلنا الی قوم لوط (70) وامراتہ قآ ئمۃ فضحکت فبشرنھا باسحق، ومن ورآء اسحاق یعقوب (71) “ یعنی پوتے کی بشارت دی۔ (آیت) ” قالت یویلتیء الدوانا…
Read the full tafseer →[قَالَتْ : وہ کہنے لگی ] [ يٰوَيْلَتٰٓى: ہائے ہائے میں ؟] [ءَ : کیا ] [اَلِدُ : میں جنوں گی ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [انا : میں ] [عَجوزٌ: بہت بوڑھی ہوں ] [وَّھٰذَا : اور یہ ] [ بَعْلِيْ : میرے شوہر ہیں ] [شَيْخًا : بوڑھے ] [ان : یقینا ] [ھٰذَا : یہ ] [لَشَيْءٌ عَجِيْبٌ: تو بیشک ایک عجیب چیز ہے ]
ش ی خ
[شَیْخًا : (ض) (1) بوڑھا ہونا۔ (2) علم، فضیلت یا رتبہ میں بڑا ہونا (اس معنی میں یہ لفظ قرآن مجید میں استعمال نہیں ہوا) ۔] [شَیْخٌ: اسم صفت بھی ہے۔ (1) بوڑھا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 72 ۔ (2) عالم استاد۔ سردار۔]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں فرشتوں کا حاضر ہونا اور فرشتوں کا بیٹے اور پوتے کی بشارت دینا
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وطن ایران اور عراق کے درمیان تھا ان کی قوم بت پرست تھی ‘ نمرود کی حکومت تھی وہاں انہوں نے توحید کی دعوت دی ‘ قوم نے مخالفت کی دشمنی پر اتر آئے حتیٰ کہ آپ کے باپ نے بھی یوں کہہ دیا۔ (لَءِنْ لَّمْ تَنْتَہِ لَاَرْجُمَنَّکَ وَاھْجُرْنِیْ مَلِیًّا) (اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے پتھروں سے مار دوں گا اور تو مجھے ہمیشہ کے لئے چھوڑ دے) ان لوگوں نے آگ میں ڈال دیا اللہ نے آگ ان پر ٹھنڈی کردی اور وہ اس میں سے صحیح سلامت باہر نکل آئے اور پھر اپنا وطن چھوڑ کر ملک شام کے علاقہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
قصہ ابراہیم (علیہ السلام) مشتمل بربشارت ملائکہ کرام بولادت اسحاق (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ولقد جاءت رسلنا ابراہیم بالبشری .... الیٰ .... عذاب غیر مردود۔
(ربط) اب ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان کرتے ہیں جس میں فرشتوں کی تولد فرزند کی بشارت کا ذکر ہے کہ تمہارے یہاں ایک بیٹا ہوگا جس کا نام اسحاق (علیہ السلام) ہوگا پھر اس بیٹے کے ایک بیٹا ہوگا جس کا نام یعقوب (علیہ السلام) ہوگا۔ اس بشارت کے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر ایک سو بیس برس کی تھی اور حضرت سارہ ؓ کی عمر نوے یا بانوے سال کی تھی حضرت ہاجرہ (علیہ السلام) سے حضرت اسمعیل (علیہ السلام) پہلے پیدا ہوچکے تھے۔ سارہ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →65:۔ حضرت سارہ ؓ نے بیٹے کی خوشخبری سن کر بہت حیرت و تعجب کا اظہار کیا کیونکہ ان کے خیال میں وہ سن یاس میں داخل ہوچکی تھیں اور اس عمر میں ان کے بیٹا پیدا ہونا خلاف توقع تھا پھر اس کے ساتھ ہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر بھی اس کی متقاضی نہ تھی بقول حضرت مجاہد حضرت سارہ کی عمر ننانوے برس تھی اور بقول بعض نوے برس جبکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر ایک سو بیس سال یا بقول بعض ایک سو سال تھی (قرطبی) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
ربط آیات
گزشتہ کئی دروس سے مختلف انبیاء (علیہم السلام) کی تبلیغ کا تذکرہ ہو رہا ہے حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو یہی نصیحت کی کہ لوگو ! اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، اپنی غلطیوں کی معافی مانگو اور اسی کو طرف رجوع رکھو۔ ان نافرمان قوموں پر عذاب کا ذکر بھی ہوچکا ہے۔ قوم نوح طوفان میں تباہ ہوئی ، قوم ہود کو تیز آندھی نے آپکڑا اور صالح (علیہ السلام) کی قوم کے لئے اوپر سے چیخ اور نیچے سے زلزلہ آیا جس نے ساری قوم کو نیست و نابود کر کے رکھ دیا۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی اصطلاح میں یہ تذکیر بایام اللہ ہے۔ یہ لفظ آگے موسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →قَالَتْ يٰوَيْلَــتٰٓى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوْزٌ وَّھٰذَا بَعْلِيْ شَيْخًا 0ۭ اِنَّ ھٰذَا لَشَيْءٌ عَجِيْبٌ 72
ويل
قال الأصمعيّ : وَيْلٌ قُبْحٌ ، وقد يستعمل علی التَّحَسُّر .
ووَيْسَ استصغارٌ. ووَيْحَ ترحُّمٌ. ومن قال : وَيْلٌ وادٍ في جهنّم، قال عز وجل : فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ [ البقرة/ 79] ، وَوَيْلٌ لِلْكافِرِينَ [إبراهيم/ 2] وَيْلٌ لِكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الجاثية/ 7] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا [ مریم/ 37] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا [ الزخرف/ 65] ، وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ [ المطففین/ 1] ، وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ [ الهمزة/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–83
1 ؎ الضحک ہوالسرور و انبساط الوجہ دھذا قول الجمہور وقیل ضحکت بمعنی حاضت العرب یقول اضحکت الارنب اذا خاصت وانکرہ اکثر اہل اللغۃ یعقوب بالنصب مفعول بشرنا وقری بالجرومنعہ الفراء وقری بالرفع علی الابتدا وخبرہ الظرف الذیمی قبلہ اہل البیت نصبہ علی المدح اذا الاختصاص وفیہ دلیل علی ان ازواج الرجل من اہل بیتہ۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
وَامْرَاَتُہٗ قَآئِمَۃٌ فَضَحِکَتْ فَبَشَّرْنٰھَا بِاِسْحٰقَ لا وَمِنْ وَّرَآئِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ ۔ قَالَتْ یٰوَیْلَتٰٓی ئَ اَلِدُوَاَنَا عَجُوْزٌوَّھٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا ط اِنَّ ھٰذَا لَشَیْئٌ عَجِیْبٌ۔ قَالُوْآ اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِاللّٰہِ رَحْمَتُ اللّٰہِ وَبَرَکٰـتُہٗ عَلَیْکُمْ اَھْلَ الْبَیْتِ ط اِنَّہٗ حَمِیْدٌمَّجِیْدٌ۔
(سورۃ ہود : 71، 72، 73)
(اور ان کی اہلیہ (سارہ) کھڑی تھیں، وہ ہنس پڑیں۔ پھر ہم نے سارہ کو خوشخبری دی، اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔ سارہ نے کہا ہائے حیرانی، کیا میں بچہ جنوں گی، حالانکہ میں خود ایک بڑھیا ہوں اور یہ میرے شوہر بوڑھے ہیں۔ یقینا یہ بڑی عجیب و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
فہم القرآن
ربط کلام : ملائکہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہونے کا مقصد بیان کرتے ہیں۔
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی زوجہ مکرمہ اس موقعہ پر کھڑی ملائکہ کی گفتگو سن رہی تھیں۔ کچھ مفسرین نے ان کے اس طرح کھڑے ہونے کے بارے میں قیل وقال کی ہے۔ حالانکہ قریب کھڑے ہونے کا یہ معنی نہیں لیا جاسکتا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زوجہ مکرمہ جن کا اسم گرامی حضرت سارہ ہے کہ وہ بےپردہ اس مجلس میں آکھڑی ہو۔ کیا عورت اپنے خاوند کی موجودگی میں مہمانوں کو کھانا پیش کرنے کے وقت باپردہ حاضر نہیں ہوسکتی ؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ وہ پردے کے پیچھے کھڑی ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کھانا پکڑا رہی…
Read the full tafseer →72: قَالَتْ یٰوَیْلَتٰی ( اس نے کہا کیا خوب بھلا) الف یا اضافت سے تبدیل ہو کر بنی ہے۔
قراءت : حسن نے یٰوَیْلَتٰیٓ اصل پر یا کو پڑھا ہے۔ ئَ اَ لِدُوَاَنَا عَجُوْزٌ (کیا میں بڑھیا بچے جنوں گی) ان کی عمر نوے سال تھی۔ وَّھٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا ( اور یہ میرے خاوند بوڑھے ہیں) ان کی عمر 120 سال تھی۔
نحو : ھٰذامبتداء اور بعلی اسکی خبر ہے۔ شیخًا حال ہے۔ اس میں عامل معنی اشارہ ہے۔ جس پر ذاؔ دلالت کررہا ہے۔ یا تنبیہ کا معنی عامل ہے جس پر ھٰذادلالت کرتا ہے۔ اِنَّ ھٰذَا لَشَیْئٌ عَجِیْبٌ (بیشک یہ عجیب بات ہے) کہ دو بوڑھوں سے اولاد ہو۔ یہ عادت کے لحاظ سے استبعاد کا اظہار ہے
Read the full tafseer →بچے کی ولادت کی خوشخبری کے وقت والدہ والد اسحاق کی عمریں
تفسیر 72” قالت یاویلتا “ یہ کلمہ انسان تعجب والی چیز دیکھنے کے وقت کہتا ہے یعنی بڑا تعجب ہے۔” ا الدوانا عجوز “ ابن اسحاق (رح) کے قول میں ان کی عمر نوے سال تھی اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ننانوے سال تھی ۔ ” وھذا بعلی “ یعنی میرا خاوند۔ زوج کو بعل کہا ہے کیونکہ وہ عورت کے معاملہ میں نگہبان ہوتا ہے۔ ” شیخا “ حال ہونے کی بناء پر منصوب ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر ایک سو بیس سال تھی۔
ابن اسحاق کے قول کے مطابق اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں سو سال تھی اور اس خوشخبری اور بچے کی ولادت کے درمیان ایک سال وقفہ ہوا ۔” ان ھذا لشئی عجیب “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–73
69۔ 73۔ یہ ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ تمہید کے طور پر لوط (علیہ السلام) کے قصے سے پہلے ذکر کیا گیا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک بھائی تھے جن کا نام ہاران تھا انہیں کے بیٹے حضرت لوط (علیہ السلام) تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر یہی سب سے پہلے ایمان لائے تھے۔ نوح (علیہ السلام) سے دو ہزار چھ سو بیالیس برس کے بعد یہ بھیجے گئے تھے ان کی عمر ایک سو پچھتر برس کی ہوئی ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے اسحاق (علیہ السلام) کی عمر ایک سو اسی برس کی ہوئی اور ابراہیم کے پوتے یعقوب بن اسحاق (علیہ السلام) کی عمر ایک سو پنتالیس سال کی ہوئی۔ ابراہیم (علیہ السلام) فلسطین ایک ملک ہے وہاں رہتے تھے…
Read the full tafseer →(آیت) ” وہ بولیں، کیا میں جنوں گی جب کہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے “ پس یہ دو امور (بظاہر) مانع ہیں (آیت) ” یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔ “
Read the full tafseer →بڑھاپے میں اولاد
قول باری ہے فقالت یویلتیء الدوانا عجوز وھذا بعلی شیخا ً ان ھذا الشی عجیب ۔ وہ بولی ۔ ہائے میری کم بختی ! کیا اب میرے ہاں اولاد ہوگی جبکہ میں بڑھیا پھونس ہوگئی اور یہ میرے میاں بھی بوڑھے ہوچکے ، یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زوجہ محترمہ کو اگرچہ اس بات کا یقین تھا کہ ایسا کردینا اللہ کی قدرت سے باہر نہیں ہے تا ہم بتقاضائے بشریت وہ اس پر اپنے تعجب کا اظہار کیے بغیر نہ رہ سکیں ۔ انہوں نے اس پر غور و فکر کرنے سے پہلے اپنے فوری ردعمل کا اظہار کردیا جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے جب لاٹھی نے سانپ کی شکل اختیار کرلی تو فوری ردعمل کے طور پر آپ الٹے…
Read the full tafseer →155 ۔ بچے کی ولادت سے موانع کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس خوشخبری پر حضرت سارہ تعجب سے بول اٹھیں کہ ہائے میری کم بختی کیا میں بچہ جنوں گی ؟ جبکہ میں بوڑھی ہوچکی ہوں اور میرے میاں بھی اتنے بوڑھے ہیں۔ یہ تو واقعی ایک بڑی ہی عجیب بات ہے۔ یعنی یہ بہت ہی عجیب چیز ہے کہ میں ایک بوڑھی اور بانجھ عورت اس عمر اور اس حالت میں بچے کو جنم دوں اور حضرت سارہ کے اس اظہار تعجب کا ایک خاص پہلو یہ تھا کہ اس بشارت کے ظہور کی راہ میں جو ظاہری رکاوٹیں ہیں ان کا ذکر کرکے اس بارے اطمینان حاصل کرلیں کہ ان سب کے باوجود ایسا ہو کر رہے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا و پکا ہے اور اس کی قدرت لامحدود اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری
تشریح : اس سورت میں حضرت نوح (علیہ السلام) سے حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) تک کے تمام انبیاء کا ذکر کیا گیا ہے۔ اصل میں ان انبیاء اور ان کی قوموں کے سلوک و کردار اور پھر ان کی تباہی کا ذکر قرآن پاک میں اس لیے بار بار کیا جا رہا ہے تاکہ آخری رسول کو تسلی ہو اور لوگوں کو ڈرایا جائے، عبرت حاصل ہو کہ گناہ و نافرمانی کا انجام سوائے تباہی و بربادی کے اور کچھ نہیں۔ اس موجودہ رکوع میں حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے حالات اور عذاب کا ذکر کیا گیا ہے۔ شروع میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ اصل میں جو فرشتے قوم لوط پر عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–83
آیات 69 تا 83
اسرار و معارف
اعمال وکردار اور ان پر مرتب ہونے والے نتائج کا یہ فرق اس واقعہ سے بھی ظاہر ہے کہ جب ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اپنے فرشتے بھیجے کہ انھیں اولاد کی خوشخبری دیں وہی فرشتے جو ان کے لئے نوید مسرت لائے تھے قوم لوط پر تباہی لانے کے لئے بھی مامور تھے جو ان سے صرف دس بارہ میل آباد تھی۔ یہ فرشتے انسانی شکل میں پہنچے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے سمجھا کوئی مہمان آگئے ہیں ۔ جب انھوں نے سلام کیا اور آپ نے سلام کا جواب دیا انھیں بٹھایا اور فورا ایک بچھڑاتل کرلے آئے چونکہ آپ کے ہاں گائے بیل تھے تو ایک موٹا تازہ بچھڑاکاٹ کر پکاکر حاضر کردیا۔
سلام اور جواب
یہاں ظاہر ہے کہ ہر…
Read the full tafseer →ف 6 ۔ قدیم مفسرین (رح) کہتے ہیں۔ اور یہی بائیبل سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی عمر اس وقت سو سال اور حضرت سارہ کی عمر نوے سال تھی۔
Read the full tafseer →(11:72) یویلتی اصل میں یویلتی تھا۔ افسوس یا حسرت کی آواز کھینچے کے لئے ی کو الف سے بدل دیا گیا۔ ویل کا لغوی معنی ہلاکت ہے۔ یہاں اس سے مراد اپنے لئے بددعا کرنا نہیں محض اظہار حیرت و تعجب مقصود ہے۔ عورتیں اکثر اظہار حیرت و تعجب کے موقعہ پر ایسے کلمات بولتی ہیں ہائے میں مرگئی۔ ہائے میں مرجاؤں۔ یہ بھی ایسا ہی کلمہ ہے۔ بمعنی یاعجبا یحسرتا۔
ء الد۔ ء برائے استفہام۔ کیا میں جنوں گے۔ عجوز۔ بڑھیا۔ پیرزن۔
بعلی میرا خاوند۔ بعل مضاف۔ ی ضمیر واحد متکلم مضاف الیہ۔ شیخ بوڑھا۔ شیوخ جمع۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
لغات القرآن آیت نمبر 69 تا 76
رسلنا (ہمارے بھیجے گئے، بھیجے ہوئے) البشری (خوش خبری) سلام (سلام، سلامتی) مالبت (نہیں ٹھہرا) عجل (بچھڑا) حنید (بھنا ہوا) را (اس نے دیکھا) ایدیھم (ان کے ہاتھ) لاتصل (نہیں پہنچ رہے ہیں) نکر (اوپرا، عجیب سا لگا) او جس (اس نے محسوس کیا) خیفۃ (خوف) لاتخف (ڈر مت) قائمۃ (کھڑی ہونے والی) ضحکت (ہنس پڑی) وراء (پیچھے) یویلتی (ہائے افسوس) ء الد (کیا میں جنوں گی، (میرے یہاں ولادت ہوگی) عجور (بڑھیا، زیادہ عمر کی ہوجانا) بعلی (میرا شوہر) شیخ (زیادہ بوڑھا ہونا) اتعجبین (کیا تم تعجب کر رہی ہو ؟ ) اھل لبتک (گھر والے) حمید (تمام تعریفوں والا) مجید (تمام عظمتوں والا) الروع (گھبراہٹ)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–73
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاں فرشتوں کی مہمان داری اور بشارت دینا
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ تین فرشتے جبرئیل، میکائیل، اسرافیل یہ تینوں فرشتے خوبصورت لڑکوں کی صورت بن کر پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحاق (علیہ السلام) کے پیدا ہونے کی خوشی بتانے کو آئے اور آتے ہی سلام کیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی سلام کا جواب دیا مگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو پہچانا نہیں مہمان سمجھا اور اپنی عادت کے موافق کہ جب کوئی مہمان آجاتا تو خاطر تواضع کرتے تھے۔ ان کے کھانے پینے کا بھی انتظام کرنے لگے اور ایک جوان گائے ذبح کر کے اس کے کباب لگائے۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے مہمانوں کے آگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
[40] اصل میں یویلتٰی استعمال ہوا ہے جس کا ترجمہ ہمارے ہاں کی زنانہ بول چال کے مطابق کیا گیا ہے۔ عربی میں اسے اظہار تعجب پر بولتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
(ف 1) وامراتہ قآئمۃ “۔ سے صاف ظاہر ہے کہ مہمانوں کی عزت افزائی میں عورت بھی شریک ہونی چاہئے ، خاوند کی حاضری میں مہمانوں سے گفتگو شرعا جائز ہے ، البتہ موجود تہذیب کی آزادی اور جلوت وخلوت میں اغیار سے ملاقاتیں ، بالکل جائز نہیں ، کیونکہ اس طریق سے اخلاق کو صدمہ پہنچتا ہے ، عورت کی تخلیق کا مقصد عفاف ہے یہی اس کا زیور ہے ، اور اسی سے اس کی عزت قائم ہے یہ نہیں تو پھر عورت میں تعلیم وتہذیب کی خوبیاں بھی عیب ہیں ، اسلام چونکہ مذہب فطرت ہے ، توازن و اعتدال میں سمویا ہوا ہے اس لئے اس کی ہدایات میں توسط و احتیاط کا ہر پہلو موجود ہے ، عورت کو اس حد تک آزادی دی ہے جس حد تک اس کے لئے مفید ہے وہ آزادی جو…
Read the full tafseer →72 اس عورت نے یہ بشارت سن کر کہا اے ہے کیا میرے ہاں اولاد ہوگی اور میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوچکی ہوں اور یہ میرے شوہر بھی بوڑھے ہیں واقعی اس عمر میں اولاد کا ہونا بڑی عجیب سی شے ہے یعنی میں بڑھیا اور یہ بڈھے اس بڑھاپے میں اولاد کا ہونا یقینا تعجب خیز ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
ف 1۔ تاکہ ان کو سزائے کفر میں ہلاک کریں۔
Read the full tafseer →سارہ ؓ نے بیٹے کی خبر سن کر تعجب کیا کہ ہاں ! میرے ہاں بیٹا ؟
95 ؎ سارہ ؓ تعجب سے بولیں کہ کیا میرے ہاں اولاد ہوگی جب کہ میں بوڑھ بانجھ ہوچکی ہوں اور میرا خاوند بھی بوڑھا ہوچکا ہے ؟ یہ بات واقعی بڑی تعجب انگیز ہے اور یہ تعجب ازراہ مدت نکاح تھا نہ کہ قدرت الٰہی پر کیونکہ نکاح کے بعد سال دو سال نہیں بلکہ بیسیوں سال گزر چکے تھے لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ اب اولاد کے قابل نہ رہی تھیں بلکہ اصلیت یہی ہے کہ شادی کو اتنا لمبا عرصہ گزر چکا تھا کہ عام حالات میں اتنی مدت گزرنے تک انسان ایک طرح سے مایوس ہوجاتا ہے کہ اب اولاد جب کہ اولاد کی عمر سمجھی جاتی تھی اس وقت تو اولاد نہیں ہوئی اور عرصہ دراز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
In verse 70, it was said: فَلَمَّا رَأَىٰ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ (So, when he noticed their hands not reaching for it, he found them strange and felt a bit of fright from them).
From here we learn that there are rules of etiquette for guests as well. A guest should accept whatever is offered. Let him partake from it a little bit to please the host, even if not willing to eat because of unfavorable taste or apprehended harm.
This very sentence also tells us that the host should not consider himself absolved after having placed the food before the guest. In-stead, he…
Read the full tafseer →80. This expression does not, in any way, suggest that Sarah, instead of feeling happy, considered this prediction the foreboding of a calamity. In point of fact the expression is an exclamation to which women, in particular, resort to in a state of wonder and amazement. Thus, what is intended is not what the
81. According to the Bible, Abraham was one hundred years and Sarah ninety years old at that time.
Read the full tafseer →