Explained with ayahs 69–73
ابراہیم ؑ کی بشارت اولاد اور فرشتوں سے گفتگو
حضرت ابراہیم ؑ کے پاس وہ فرشتے بطور مہمان بشکل انسان آتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کی خوشخبری اور حضرت ابراہیم کے ہاں فرزند ہونے کی بشارت لے کر اللہ کی طرف سے آئے ہیں۔ وہ آکر سلام کرتے ہیں۔ آپ ان کے جواب میں سلام کہتے ہیں۔ اس لفظ کو پیش سے کہنے میں علم بیان کے مطابق ثبوت و دوام پایا جاتا ہے۔ سلام کے بعد ہی حضرت ابراہیم ؑ ان کے سامنے مہمان داری پیش کرتے ہیں۔ بچھڑے کا گوشت جسے گرم پتھروں پر سینک لیا گیا تھا، لاتے ہیں۔ جب دیکھا کہ ان نو وارد مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے ہی نہیں، اس وقت ان سے کچھ بدگمان سے ہوگئے اور کچھ دل میں خوف کھانے لگے حضرت…
Read the full tafseer →سورة هُوْد 78
اس سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کے انسانی شکل میں آنے کی خبر سنتے ہی سارا گھر پریشان ہوگیا تھا اور حضرت ابراہیم ؑ کی اہلیہ بھی گھبرائی ہوئی باہر نکل آئی تھیں۔ پھر جب انہوں نے یہ سن لیا کہ ان کے گھر پر یا ان کی بستی پر کوئی آفت آنے والی نہیں ہے تب کہیں ان کی جان میں جان آئی اور وہ خوش ہوگئیں۔
سورة هُوْد 79
فرشتوں نے حضرت ابراہیم ؑ کے بجائے حضرت سارہ ؓ کو یہ خوشخبری اس لیے سنائی کہ اس سے پہلے حضرت ابراہیم ؑ کی اہلیہ بھی گھبرائی ہوئی باہر نکل آئی تھیں۔ پھر جب انہوں نے یہ سن لیا کہ ان کے گھر پر یا ان کی بستی پر کوئی آفت آنے والی نہیں ہے تب کہیں ان کی جان میں جان آئی اور وہ خوش ہوگئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
(آیت) فَلَمَّا رَآٰ اَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَيْهِ نَكِرَهُمْ ، یعنی جب دیکھا ابراہیم ؑ نے کہ ان کے ہاتھ کھانے تک نہیں پہنچتے تو متوحش ہوگئے۔
اس سے معلوم ہوا کہ مہمان کے آداب میں سے یہ ہے کہ مہمان کے سامنے جو چیز پیش کی جائے اس کو قبول کرے، (کھانے کو دل نہ چاہے یا مضر سمجھیں تو معمولی سی شرکت دلجوئی کے لئے کرلیں)۔
اسی جملہ سے دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ میزبان کو چاہئے کہ صرف کھانا سامنے رکھ کر فارغ نہ ہوجائے بلکہ اس پر نظر رکھے کہ مہمان کھا رہا ہے یا نہیں، جیسا ابراہیم ؑ نے کیا کہ فرشتوں کے کھانا نہ کھانے کو محسوس کیا۔
مگر یہ نظر رکھنا اس طرح ہو کہ مہمان کے کھانے کو تکتا نہ رہے، سرسری نظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
71۔ 72:۔ وَامْرَاَتُهٗ قَاۗىِٕمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ ۙ وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ۔ قَالَتْ يٰوَيْلَتٰٓى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوْزٌ وَّھٰذَا بَعْلِيْ شَيْخًا ۭ اِنَّ ھٰذَا لَشَيْءٌ عَجِيْبٌ /
حضرت سارہ کی حیرت اور مسرت : سرگزشت کا آغاز، جاءت رسلنا ابراہیم بالبشری سے ہوا تھا۔ لیکن مہمانوں کو دیکھتے ہی معاً حضرت ابراہیم ان کی خاطرومدارات کے اہتمام میں لگ گئے۔ اس وجہ سے بشارت کے سننے کی نوبت اب آئی اور اس وقت ان پر یہ انکشاف ہوا کہ جن کو وہ آدمی سمجھتے تھے وہ آدمی نہیں بلکہ فرشتے ہیں۔ جس وقت فرشتوں نے بشارت سنائی حضرت ابراہیم کی بیوی سارہ بھی دروازے سے لگی کھڑی تھیں۔…
Read the full tafseer →71۔ 1 حضرت ابراہیم کی اہلیہ کیوں ہنسیں ؟ بعض کہتے ہیں کہ قوم لوط ؑ کی فساد انگیزیوں سے وہ بھی آگاہ تھیں، ان کی ہلاکت کی خبر سے انہوں نے مسرت کی۔ بعض کہتے ہیں اس لئے ہنسی آئی کہ دیکھو آسمانوں سے ان کی ہلاکت کا فیصلہ ہوچکا ہے اور یہ قوم غفلت کا شکار ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ تقدیم و تاخیر ہے۔ اور اس ہنسنے کا تعلق اس بشارت سے ہے جو فرشتوں نے بوڑھے جوڑے کو دی۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
41: ہنسنے کی وجہ بعض مفسرین نے تو یہ بیان کی ہے کہ جب انہیں اطمینان ہوگیا کہ یہ فرشتے ہیں، اور خطرے کی کوئی بات نہیں ہے، تو خوشی کی وجہ سے وہ ہنس پڑیں، لیکن زیادہ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ بیٹے کی خوشخبری سن کر ہنسی تھیں۔ سورة حجر آیت 53 اور سورة ذاریات آیت 29، 30 میں بیان فرمایا گیا ہے کہ فرشتوں نے بیٹے کی خوشخبری پہلے دے دی تھی اور حضرت لوط ؑ کی قوم پر عذاب نازل کرنے کا ذکر بعد میں کیا تھا اس پر انہیں تعجب بھی ہوا اور خوشی بھی اور ان کو ہنستا دیکھ کر فرشتوں نے دوبارہ خوشخبری دی۔
Read the full tafseer →حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی کیوں ہنس پڑی۔ اس لیے کہ اسے بھی معلوم تھا کہ حضرت لوط کس برائی اور غلاظت کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔
اور وہ چونکہ بانجھ تھی اس کی کوئی اولاد نہ ہوئی تھی اور اس طرح وہ معمر ہوگئی تھی اس لیے اس کے لیے یہ خوشخبری ایک عجوبہ تھی اور یہ خوشی اس وقت دوگنی ہوگئی جب ان کو خوشخبری دی گئی کہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) پیدا ہوں گے۔ عورت اور پھر بانجھ باعورت کو اگر اس قسم کی خوشخبری ملے تو لازمی ہے کہ وہ غیر معمولی اور اچانک خوشی کا مظاہرہ کرے گی۔
Read the full tafseer →7 یعنی حضرت سارہ جو مہمانوں کی خدمت گزاری یا اور کسی کام کے لیے وہاں کھڑی تھیں اس ڈر کے رفع ہونے سے خوش ہو کر ہنس پڑیں۔ حق تعالیٰ نے خوشی پر اور خوشیاں سنائیں کہ تجھ کو اس عمر میں بیٹا ملے گا۔ (اسحاق علیہ السلام) اور اس کی نسل سے ایک پوتا یعقوب عطا ہوگا۔ جس سے ایک بڑی بھاری قوم بنی اسرائیل اٹھنے والی ہے یہ بشارت حضرت سارہ کو شاید اس لیے سنائی گئی کہ حضرت ابراہیم کے ایک بیٹا (اسمٰعیل علیہ السلام) حضرت ہاجرہ کے بطن سے پہلے ہی موجود تھا۔ سارہ کو تمنا تھی کہ مجھے بھی بیٹا ملے۔ مگر بوڑھی ہو کر مایوس ہوچکی تھی۔ اس وقت یہ بشارت ملی۔ بعض علماء نے بیان کیا۔ علماء نے (وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
آیت 71 وَامْرَاَتُهٗ قَاۗىِٕمَةٌ فَضَحِكَتْ
حضرت سارہ قریب ہی کہیں پردے کے پیچھے کھڑی یہ ساری باتیں سن رہی تھیں تو آپ شاید حضرت ابراہیم کی حالت پر ہنس پڑیں کہ میرے شوہر فرشتوں سے خوف زدہ ہوگئے تھے۔
فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ ۙ وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ
یعنی فرشتوں نے حضرت سارہ کو حضرت اسحاق علیہ السلام کی ولادت کی خوشخبری دی اور ساتھ ہی حضرت یعقوب یعنی پوتے کی بھی۔ اس وقت حضرت ہاجرہ کے ہاں حضرت اسماعیل کی ولادت ہوچکی تھی۔ حضرت سارہ حضرت ابراہیم کی پہلی بیوی تھیں جبکہ حضرت ہاجرہ کو آپ کی خدمت میں بادشاہ مصر نے پیش کیا تھا۔ یہودیوں کے ہاں حضرت ہاجرہ کو کنیز سمجھا جاتا ہے ‘ حالانکہ آپ…
Read the full tafseer →82 سیدہ سارہ کو خوشخبری دینا :۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی سارہ بھی پاس کھڑی یہ مکالمہ سن رہی تھیں جب یہ اندیشہ دور ہوا تو خوشی سے ان کی ہنسی نکل گئی پھر فرشتوں نے انھیں ایک بیٹے جس کا نام اسحاق ہوگا کی خوشخبری دی اور یہ بھی بتلایا کہ اسحاق کے بعد اس سے یعقوب بھی ویسا ہی اولوالعزم پیغمبر پیدا ہوگا اور یہ خوشخبری خصوصاً سیدہ سارہ کو اس لیے دی گئی کہ وہ بےاولاد تھیں جبکہ سیدنا ابراہیم صاحب اولاد تھے اور دوسری بیوی ہاجرہ کے بطن سے سیدنا اسماعیل پیدا ہوچکے تھے اس لیے یہ خوشخبری سیدنا ابراہیم کے مقابلہ میں سیدہ سارہ کے لیے بہت زیادہ خوشی کی بات تھی۔
بعض مفسرین نے یہاں ضحکت کے معنی حاضت…
Read the full tafseer →105۔ خوشگوار حیرت کے وقت ہنسی کا آجانا بالکل امر طبعی ہے اور خوشگوار حیرت کا موقع اس سے بڑھ کر کیا ہوگا کہ گھر کے اندر جن آنے والوں کو انسان اور وہ بھی دشمن سمجھا جارہا تھا وہ دوست اور دوست بھی کیسے اللہ کے فرشتے نکلے۔ (آیت) ” امراتہ “۔ مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کہ زوجہ اولی حضرت سارہ ؓ ہیں۔ مفسر تھانوی (رح) نے فرمایا کہ ظاہرا حضرت سارہ ؓ پہلے اس جگہ نہ تھیں شاید پردہ میں ہوں پھر جب معلوم ہوگیا کہ فرشتے ہیں ان سے کیا پردہ سامنے چلی آئیں۔ جیسا کہ ایک دوسری جگہ قرآن ہی کے لفظ (آیت) ” فاقبلت “۔ سے معلوم ہوتا ہے۔
106۔ (بہ طور پوتے کے) اس میں ضمنا یہ بات بھی آگئی کہ اسحاق زندہ رہیں گے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–83
آیت نمبر 69 تا 83
ترجمہ : ہمارے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحاق اور اس کے بعد یعقوب کی خوشخبری لے کر پہنچے، کہا تم پر سلام ہو سلامًا مصدر ہے ابراہیم نے کہا تم پر بھی سلام ہو کچھ) زیادہ ( دیر نہیں گزری کہ ابراہیم بھنا ہوا بچھڑا لے آئے مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑحٹے تو ان کو اجنبی محسوس کیا نَکِرَ بمعنی اَنکِرَ ہے تو ان کی طرف سے اپنے دل میں ابراہیم نے خوف محسوس کیا فرشتوں نے کہا خوف نہ کرو، ہمیں قوم لوط کی طرف بھیجا گیا ہے تاکہ ہم اس کو ہلاک کریں اور ابراہیم کی بیوی سارہ ان کی خدمت میں لگی ہوئی تھی تو وہ قوم کی ہلاکت) اور لوط ( کی) نجات کی ( بشارت سن کر ہنس پڑیں،…
Read the full tafseer →وامراتہ قآئمۃ اور ابراہیم کی بیوی (سارہ بنت ہاران بن ناخور جو حضرت ابراہیم کے چچا کی بیٹی تھی) کھڑی ہوئی تھی۔
پردہ کے پیچھے سے ان کی باتیں سن رہی تھی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم بیٹھے ہوئے تھے اور بیوی کھڑی مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی۔
فضحکت پس۔ حضرت سارہ بشارت سن کر ہنس پڑیں __ مجاہد اور عکرمہ نے ترجمہ کیا ہے : اس کو اسی وقت حیض ہوگیا۔
عرب بولتے ہیں : ضَحِکَتِ الارنب خرگوش کو حیض ہوگیا۔ قاموس میں بھی یہی ہے۔ ضحکت السمرۃُ کیکر کے درخت سے گوند بہنے لگا۔ اکثر اہل تفسیر کے نزدیک اس جگہ ضحکت سے مراد ہنس دینا ہی ہے۔ ہنسنے کا سبب کیا تھا ‘ علماء نے اس کے مختلف اسباب بیان کئے ہیں۔
1) خوشی کی…
Read the full tafseer →(71) اور حضرت ابراہیم ؑ کی بیوی حضرت سارہ اوٹ سے مہمانوں کی خدمت کے لیے کھڑی ہوئی تھیں، وہ یہ منظر دیکھ کر حضرت ابراہیم ؑ مہمانوں سے خوف زدہ ہو رہے ہیں، متعجب ہوئیں۔
پھر ہم نے انکو اسحاق فرزند اور یعقوب پوتے کی خوشخبری دی۔
Read the full tafseer →وَامْرَاَتُهٗ قَاۗىِٕمَةٌ فَضَحِكَتْ : ان کی بیوی سارہ[ مہمانوں کی خدمت کے لیے پردے کے پیچھے ساتھ ہی کھڑی تھی اور خوف زدہ تھی۔ جب اس نے یہ بات سنی تو ہنس پڑی، یا تو اس لیے کہ ہم انھیں ڈاکو سمجھے تھے یہ تو فرشتے نکلے، یا اس خوشی میں کہ ہم تو خوف زدہ تھے کہ اس طرح فرشتوں کی آمد خطرے سے خالی نہیں ہوتی (دیکھیے حجر : 8) مگر یہ تو ہم پر عذاب کے بجائے ہمارے عزیز پیغمبر لوط ؑ کی نافرمان قوم پر عذاب کی خوش خبری لے کر آئے ہیں اور دشمن کی ہلاکت کی خبر سے یقیناً خوشی ہوتی ہے۔
فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ۔۔ : سارہ[ کے لیے ایک خوشی کی خبر وہ تھی جو اوپر گزری، جس پر وہ بےساختہ ہنس پڑیں۔ فرشتوں نے انھیں مزید دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
آیت نمبر 69 تا 71
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ولقدجآءت رسلنآابرٰھیم بالبشرٰییہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ ہے اور وہ قرابت کے لحاظ
سے حضرت ابراہیم کے چچا کے بیٹے ہیں، حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیاں شام کے نواح میں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بستیاں فلسطین کے شہروں میں تھیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے قوم لوط پر عذاب نازل کرنے کے لیے فرشتوں کو اتارہ تو وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے گزرے اور ان کے پاس مہمان بنے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جو بھی مہمان بنتا آپ اس کی ضافت بہت اچھے طریقے سے کرتے۔ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بشارت لے کر گزرے تو آپ نے انہیں مہمان سمجھا۔ جبریل،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
1:۔ عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں کعب ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) سدوم پر برتری کا اظہار فرما رہے تھے اور فرماتے تھے تیرے لئے ہلاکت ہو اے سدوم اس دن تیرے کیا حال ہوگا پھر فرمایا (آیت) ” ولقد جآءت رسلنا ابرھیم بالبشری قالوا سلما قال سلم فما لبث ان جآء بعجل حنیذ (69) “ ان کے لئے ایک بھنا ہوا بچھڑا لے کر آئے کیونکہ انہوں نے ان کو مہمان خیال کیا (آیت) ” فلما را ایدیہم لا تصل الیہ نکرھم واوجس منہم خیفۃ قالوا لا تخف انا ارسلنا الی قوم لوط (70) وامراتہ قآ ئمۃ فضحکت فبشرنھا باسحق، ومن ورآء اسحاق یعقوب (71) “ یعنی پوتے کی بشارت دی۔ (آیت) ” قالت یویلتیء الدوانا…
Read the full tafseer →[وَامْرَاَتُهٗ : اور ان (علیہ السلام) کی عورت (یعنی بیوی)] [ قَاۗىِٕمَةٌ: کھڑی تھیں ] [فَضَحِكَتْ : پھر وہ ہنسیں ] [فَبَشَّرْنٰهَا : تو ہم نے خوشخبری دی ان کو ] [بِاِسْحٰقَۙ: اسحاق (علیہ السلام) کی ] [وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ : اور اسحاق (علیہ السلام) کے پیچھے سے ] [ يَعْقُوْبَ : یعقوب (علیہ السلام) کی ]
ض ح ک
[ضَحْکًا : (س) (1) خوشی سے ہنسنا۔ (2) تعجب سے ہنسنا (3) حقارت سے ہنسنا یعنی مذاق اڑانا۔ (1) فَلْیَضْحَکُوْا قَلِیْلًا (پاس انھیں چاہیے کہ وہ ہنسیں کم) 9:82 ۔ (2) اَفَمِنْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَ وَ تَضْحَکُوْنَ (تو کیا اس بات سے تم لوگ تعجب کرتے ہو اور ہنستے ہو) 53:59 ۔ 60 (3)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں فرشتوں کا حاضر ہونا اور فرشتوں کا بیٹے اور پوتے کی بشارت دینا
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وطن ایران اور عراق کے درمیان تھا ان کی قوم بت پرست تھی ‘ نمرود کی حکومت تھی وہاں انہوں نے توحید کی دعوت دی ‘ قوم نے مخالفت کی دشمنی پر اتر آئے حتیٰ کہ آپ کے باپ نے بھی یوں کہہ دیا۔ (لَءِنْ لَّمْ تَنْتَہِ لَاَرْجُمَنَّکَ وَاھْجُرْنِیْ مَلِیًّا) (اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے پتھروں سے مار دوں گا اور تو مجھے ہمیشہ کے لئے چھوڑ دے) ان لوگوں نے آگ میں ڈال دیا اللہ نے آگ ان پر ٹھنڈی کردی اور وہ اس میں سے صحیح سلامت باہر نکل آئے اور پھر اپنا وطن چھوڑ کر ملک شام کے علاقہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
قصہ ابراہیم (علیہ السلام) مشتمل بربشارت ملائکہ کرام بولادت اسحاق (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ولقد جاءت رسلنا ابراہیم بالبشری .... الیٰ .... عذاب غیر مردود۔
(ربط) اب ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان کرتے ہیں جس میں فرشتوں کی تولد فرزند کی بشارت کا ذکر ہے کہ تمہارے یہاں ایک بیٹا ہوگا جس کا نام اسحاق (علیہ السلام) ہوگا پھر اس بیٹے کے ایک بیٹا ہوگا جس کا نام یعقوب (علیہ السلام) ہوگا۔ اس بشارت کے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر ایک سو بیس برس کی تھی اور حضرت سارہ ؓ کی عمر نوے یا بانوے سال کی تھی حضرت ہاجرہ (علیہ السلام) سے حضرت اسمعیل (علیہ السلام) پہلے پیدا ہوچکے تھے۔ سارہ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →64: فَضَحِکَت فَبَشَّرْنٰھَا فاء دونوں میں تعقیب ذکری کے لیے ہے اور اس میں تقدیم وتاخیر ہے اصل میں تھا فَبَشَّرْنٰھَا فَضَحِکَتْ یعنی ہم نے اس کو بیٹے کی خوشخبری دی تو وہ خوشی سے ہنس پڑی۔ ان ھذای علی اتقدیم والتاخیر والتقدیر وَامْرَاَتُہٗ قَائِمَۃً فَبَشَّرْنٰھَا بِاِسْحٰقَ فَضَحِکَتْ سرورا بسبب تلک البشارۃ فقدم الضحک و معناہ التاخیر (کبیر ج 8 ص 26) ۔ یہ واقعہ سورة ذاریات میں واقعی ترتیب سے مذکور ہے یہاں اس میں تقدیم و تاخیر ہے۔ ذاریات میں سب سے پہلے فرشتوں کی آمد کا ذکر ہے۔ اس کے بعد بیٹے کی خوشخبری کا پھر اس کے بعد زوجہ ابراہیم (علیہ السلام) کے اظہار تعجب کا ذکر ہے۔ قَالُوْا لَاتَخَفْ وَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
ربط آیات
گزشتہ کئی دروس سے مختلف انبیاء (علیہم السلام) کی تبلیغ کا تذکرہ ہو رہا ہے حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو یہی نصیحت کی کہ لوگو ! اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، اپنی غلطیوں کی معافی مانگو اور اسی کو طرف رجوع رکھو۔ ان نافرمان قوموں پر عذاب کا ذکر بھی ہوچکا ہے۔ قوم نوح طوفان میں تباہ ہوئی ، قوم ہود کو تیز آندھی نے آپکڑا اور صالح (علیہ السلام) کی قوم کے لئے اوپر سے چیخ اور نیچے سے زلزلہ آیا جس نے ساری قوم کو نیست و نابود کر کے رکھ دیا۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی اصطلاح میں یہ تذکیر بایام اللہ ہے۔ یہ لفظ آگے موسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →وَامْرَاَتُہٗ قَاۗىِٕمَۃٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰہَا بِـاِسْحٰقَ 0ۙ وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ 71
قائِمٌ
وفي قوله : أَفَمَنْ هُوَ قائِمٌ عَلى كُلِّ نَفْسٍ بِما كَسَبَتْ [ الرعد/ 33] . وبناء قَيُّومٍ :
( ق و م ) قيام
أَفَمَنْ هُوَ قائِمٌ عَلى كُلِّ نَفْسٍ بِما كَسَبَتْ [ الرعد/ 33] تو کیا جو خدا ہر نفس کے اعمال کا نگہبان ہے ۔ یہاں بھی قائم بمعنی حافظ ہے ۔
ضحك
الضَّحِكُ : انبساطُ الوجه وتكشّر الأسنان من سرور النّفس، ولظهور الأسنان عنده سمّيت مقدّمات الأسنان الضَّوَاحِكِ.
قال تعالیٰ “ وَامْرَأَتُهُ قائِمَةٌ فَضَحِكَتْ [هود/ 71] ، وضَحِكُهَا کان للتّعجّب بدلالة قوله : أَتَعْجَبِينَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–83
1 ؎ الضحک ہوالسرور و انبساط الوجہ دھذا قول الجمہور وقیل ضحکت بمعنی حاضت العرب یقول اضحکت الارنب اذا خاصت وانکرہ اکثر اہل اللغۃ یعقوب بالنصب مفعول بشرنا وقری بالجرومنعہ الفراء وقری بالرفع علی الابتدا وخبرہ الظرف الذیمی قبلہ اہل البیت نصبہ علی المدح اذا الاختصاص وفیہ دلیل علی ان ازواج الرجل من اہل بیتہ۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
وَامْرَاَتُہٗ قَآئِمَۃٌ فَضَحِکَتْ فَبَشَّرْنٰھَا بِاِسْحٰقَ لا وَمِنْ وَّرَآئِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ ۔ قَالَتْ یٰوَیْلَتٰٓی ئَ اَلِدُوَاَنَا عَجُوْزٌوَّھٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا ط اِنَّ ھٰذَا لَشَیْئٌ عَجِیْبٌ۔ قَالُوْآ اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِاللّٰہِ رَحْمَتُ اللّٰہِ وَبَرَکٰـتُہٗ عَلَیْکُمْ اَھْلَ الْبَیْتِ ط اِنَّہٗ حَمِیْدٌمَّجِیْدٌ۔
(سورۃ ہود : 71، 72، 73)
(اور ان کی اہلیہ (سارہ) کھڑی تھیں، وہ ہنس پڑیں۔ پھر ہم نے سارہ کو خوشخبری دی، اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔ سارہ نے کہا ہائے حیرانی، کیا میں بچہ جنوں گی، حالانکہ میں خود ایک بڑھیا ہوں اور یہ میرے شوہر بوڑھے ہیں۔ یقینا یہ بڑی عجیب و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
فہم القرآن
ربط کلام : ملائکہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہونے کا مقصد بیان کرتے ہیں۔
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی زوجہ مکرمہ اس موقعہ پر کھڑی ملائکہ کی گفتگو سن رہی تھیں۔ کچھ مفسرین نے ان کے اس طرح کھڑے ہونے کے بارے میں قیل وقال کی ہے۔ حالانکہ قریب کھڑے ہونے کا یہ معنی نہیں لیا جاسکتا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زوجہ مکرمہ جن کا اسم گرامی حضرت سارہ ہے کہ وہ بےپردہ اس مجلس میں آکھڑی ہو۔ کیا عورت اپنے خاوند کی موجودگی میں مہمانوں کو کھانا پیش کرنے کے وقت باپردہ حاضر نہیں ہوسکتی ؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ وہ پردے کے پیچھے کھڑی ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کھانا پکڑا رہی…
Read the full tafseer →71: وَامْرَاَتُہٗ قَآ ئِمَۃٌ (ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی کھڑی ہوئی تھی) پردے کے پیچھے جو ان کی گفتگو کو سن رہی تھی یا ان کے سروں پر کھڑی خدمت کر رہی تھی۔ فَضَحِکَتْ (پس وہ ہنس دی) زوال خوف پر خوش ہو کر یا اہل خبائث کی ہلاکت پر یا قرب عذاب کے باوجود قوم لوط کی غفلت پر یا ان کو اسی وقت حیض آگیا (جیسا ضحکت الارنب۔ خرگوش کو حیض آیا)
بشارت اسحاق و یعقوب :
فَبَشَّرْ نٰھَا بِاِسْحٰقَ (ہم نے ان کو اسحاق کی خوشخبری دی) سارہ کو بشارت کے ساتھ خاص اس لئے کیا کیونکہ عورتیں لڑکے کی بشارت پر بہت خوش ہوتی ہیں اور اس وجہ سے بھی کہ اس کے ہاں لڑکا نہ تھا۔ ابراہیم (علیہ السلام) کاد وسرا لڑکا اسماعیل دوسری…
Read the full tafseer →فضحکت کی تفسیر میں ائمہ کے مختلف اقوال
71” وامراتہ “ ان سے مراد سارہ بنت ہاران بن احوریہ ابراہیم (علیہ السلام) کے چچا کی بیٹی تھیں ۔ ” قائمۃ “ پردے کے پیچھے ان کی بات سن رہی تھیں اور بعض نے کہا کہ مہمانوں کی خدمت کے لیے کھڑی تھیں اور ابراہیم (علیہ السلام) بیٹھے تھے۔
” فضحکت “ مجاہد اور عکرمہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ” ضحکت “ بمعنی اسی وقت حیض آگیا عرب کہتے ہیں ” ضحک الارنب “ جب خرگوش کو حیض آجائے اور اکثر اس طرف گئے ہیں کہ آیت میں معرف ضحک یعنی ہنسنا مراد ہے ۔ اس ضحک کے سبب میں اختلاف ہے۔
بعض نے کہا ہے کہ اپنے اور ابراہیم (علیہ السلام) سے خوف دور ہونے کی وجہ سے ہنسی تھی ۔ جب انہوں نے کہا ڈرو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–73
69۔ 73۔ یہ ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ تمہید کے طور پر لوط (علیہ السلام) کے قصے سے پہلے ذکر کیا گیا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک بھائی تھے جن کا نام ہاران تھا انہیں کے بیٹے حضرت لوط (علیہ السلام) تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر یہی سب سے پہلے ایمان لائے تھے۔ نوح (علیہ السلام) سے دو ہزار چھ سو بیالیس برس کے بعد یہ بھیجے گئے تھے ان کی عمر ایک سو پچھتر برس کی ہوئی ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے اسحاق (علیہ السلام) کی عمر ایک سو اسی برس کی ہوئی اور ابراہیم کے پوتے یعقوب بن اسحاق (علیہ السلام) کی عمر ایک سو پنتالیس سال کی ہوئی۔ ابراہیم (علیہ السلام) فلسطین ایک ملک ہے وہاں رہتے تھے…
Read the full tafseer →(آیت) ” اور اس کی بیوی “ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی (آیت) ” کھڑی تھی۔ “ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی (آیت) ” وہ ہنس پڑی “ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انہیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی (آیت) ” پس ہم نے اسے خوشخبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی “ اسے اس اس پر تعجب بھی ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
قول باری ہے قالوا سلاما ً قال سلام کہا تم پر سلام ہو۔ ابراہیم نے جواب دیا تم پر بھی سلام ہو پہلے سلام کے معنی سلمت سلاما ً میں نے سلام کیا کے ہیں اسی بنا پر یہ منصوب ہے اور دوسرا سلام اس کا جواب ہے یعنی علیکم سلام اسی بنا پر یہ مرفوع ہے ۔ دونوں کا مفہوم ایک ہے تا ہم اعراب کے لحاظ میں ان سے اس واسطے فرق رکھا گیا تا کہ کسی گمان کرنے والے کو حکایت اور نقل کا گمان نہ پیدا ہوجائے اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ لفظ سلام اہل اسلام کی تحیت یعنی آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنے کا ذریعہ تھا نیز یہی لفظ فرشتوں کے سلام کا بھی ذریعہ تھا۔
Read the full tafseer →153 ۔ ظالموں کی ہلاکت بھی قدرت کا ایک انعام ہے : سو فرشتوں کے اس جواب پر کہ ہمیں قوم لوط کے عذاب کے لیے بھیجا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی ہنس پڑیں۔ امن وامان کی خبر پاکر اور خوف کے جاتے رہنے سے۔ نیز ظالم اور خبیث قوم سے اللہ کی دھرتی کی تطہیر کی خبر سے۔ اسی لیے ان کو بچے کی خوشخبری دی گئی (ابن کثیر، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ظالموں کی ہلاکت بھی قدرت کا ایک انعام ہے جس سے وہ اپنے بندوں کو نوازتا ہے کہ اس سے دوسروں کو امن وامان کی نعمت نصیب ہوتی ہے اور اللہ کی دھرتی ایسے خبیث عناصر کے وجود سے پاک ہوتی ہے۔ فللہ الحمد رب العالمین۔ بہرکیف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جب اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری
تشریح : اس سورت میں حضرت نوح (علیہ السلام) سے حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) تک کے تمام انبیاء کا ذکر کیا گیا ہے۔ اصل میں ان انبیاء اور ان کی قوموں کے سلوک و کردار اور پھر ان کی تباہی کا ذکر قرآن پاک میں اس لیے بار بار کیا جا رہا ہے تاکہ آخری رسول کو تسلی ہو اور لوگوں کو ڈرایا جائے، عبرت حاصل ہو کہ گناہ و نافرمانی کا انجام سوائے تباہی و بربادی کے اور کچھ نہیں۔ اس موجودہ رکوع میں حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے حالات اور عذاب کا ذکر کیا گیا ہے۔ شروع میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ اصل میں جو فرشتے قوم لوط پر عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–83
آیات 69 تا 83
اسرار و معارف
اعمال وکردار اور ان پر مرتب ہونے والے نتائج کا یہ فرق اس واقعہ سے بھی ظاہر ہے کہ جب ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اپنے فرشتے بھیجے کہ انھیں اولاد کی خوشخبری دیں وہی فرشتے جو ان کے لئے نوید مسرت لائے تھے قوم لوط پر تباہی لانے کے لئے بھی مامور تھے جو ان سے صرف دس بارہ میل آباد تھی۔ یہ فرشتے انسانی شکل میں پہنچے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے سمجھا کوئی مہمان آگئے ہیں ۔ جب انھوں نے سلام کیا اور آپ نے سلام کا جواب دیا انھیں بٹھایا اور فورا ایک بچھڑاتل کرلے آئے چونکہ آپ کے ہاں گائے بیل تھے تو ایک موٹا تازہ بچھڑاکاٹ کر پکاکر حاضر کردیا۔
سلام اور جواب
یہاں ظاہر ہے کہ ہر…
Read the full tafseer →ف 4 ۔ اس ڈر سے خوش ہو کر ہنس پڑیں۔ حق تعالیٰ نے خوشی پر اور خوشیاں بڑھائیں۔ (موضح) ۔
5 ۔ خوش خبری حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی بجائے حضرت سارہ کو اس لئے دی گئی کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے ہاں تو ان کی دوسری بیوی حضرت ہاجرہ سے حضرت اسماعیل پیدا ہوچکتے تھے لیکن حضرت سارہ ابھی تک بےاولاد تھیں۔
Read the full tafseer →(11:71) فضحکت فبشرنھا باسحق۔ حضرت سارہ کے ہنسنے کی دو وجوہ تھیں۔ (1) جب آپ نے محسوس کیا کہ حضرت ابراہیم کی تشویش دور ہوگئی ہے اور آپ مطمئن ہوگئے ہیں تو خوشی سے ہنس پڑیں۔ (2) عبارت میں تقدیم و تاخیر ہے۔ گویا عبارت یوں ہے فبشرناھا باسحق ۔۔ یعقوب فضحکت۔ ہم نے جب اسے اسحاق کی بشارت دی اور اسحاق کے بعد یعقوب (علیہما السلام) کی تو وہ فرط مسرت سے ہنس پڑیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
لغات القرآن آیت نمبر 69 تا 76
رسلنا (ہمارے بھیجے گئے، بھیجے ہوئے) البشری (خوش خبری) سلام (سلام، سلامتی) مالبت (نہیں ٹھہرا) عجل (بچھڑا) حنید (بھنا ہوا) را (اس نے دیکھا) ایدیھم (ان کے ہاتھ) لاتصل (نہیں پہنچ رہے ہیں) نکر (اوپرا، عجیب سا لگا) او جس (اس نے محسوس کیا) خیفۃ (خوف) لاتخف (ڈر مت) قائمۃ (کھڑی ہونے والی) ضحکت (ہنس پڑی) وراء (پیچھے) یویلتی (ہائے افسوس) ء الد (کیا میں جنوں گی، (میرے یہاں ولادت ہوگی) عجور (بڑھیا، زیادہ عمر کی ہوجانا) بعلی (میرا شوہر) شیخ (زیادہ بوڑھا ہونا) اتعجبین (کیا تم تعجب کر رہی ہو ؟ ) اھل لبتک (گھر والے) حمید (تمام تعریفوں والا) مجید (تمام عظمتوں والا) الروع (گھبراہٹ)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–73
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاں فرشتوں کی مہمان داری اور بشارت دینا
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ تین فرشتے جبرئیل، میکائیل، اسرافیل یہ تینوں فرشتے خوبصورت لڑکوں کی صورت بن کر پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحاق (علیہ السلام) کے پیدا ہونے کی خوشی بتانے کو آئے اور آتے ہی سلام کیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی سلام کا جواب دیا مگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو پہچانا نہیں مہمان سمجھا اور اپنی عادت کے موافق کہ جب کوئی مہمان آجاتا تو خاطر تواضع کرتے تھے۔ ان کے کھانے پینے کا بھی انتظام کرنے لگے اور ایک جوان گائے ذبح کر کے اس کے کباب لگائے۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے مہمانوں کے آگے…
Read the full tafseer →[39] یعنی اندیشے کے دور ہوجانے سے خوش ہوگئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
(ف 1) وامراتہ قآئمۃ “۔ سے صاف ظاہر ہے کہ مہمانوں کی عزت افزائی میں عورت بھی شریک ہونی چاہئے ، خاوند کی حاضری میں مہمانوں سے گفتگو شرعا جائز ہے ، البتہ موجود تہذیب کی آزادی اور جلوت وخلوت میں اغیار سے ملاقاتیں ، بالکل جائز نہیں ، کیونکہ اس طریق سے اخلاق کو صدمہ پہنچتا ہے ، عورت کی تخلیق کا مقصد عفاف ہے یہی اس کا زیور ہے ، اور اسی سے اس کی عزت قائم ہے یہ نہیں تو پھر عورت میں تعلیم وتہذیب کی خوبیاں بھی عیب ہیں ، اسلام چونکہ مذہب فطرت ہے ، توازن و اعتدال میں سمویا ہوا ہے اس لئے اس کی ہدایات میں توسط و احتیاط کا ہر پہلو موجود ہے ، عورت کو اس حد تک آزادی دی ہے جس حد تک اس کے لئے مفید ہے وہ آزادی جو…
Read the full tafseer →71 اور ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی جو وہیں کھڑی ہوئی تھی ان باتوں کو سن کر ہنسی تو ہم نے اس عورت کو اسحاق (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) کے پیچھے یعقوب (علیہ السلام) کی بشارت دی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس کے ڈر کئے دور ہونے سے خوش ہوکر ہنس پڑی حق تعالیٰ نے خوشی پر اور خوشیاں سنائیں 12
خلاصہ ! یہ کہ بیٹے اور پوتے کی خوشی سنائی یہ بیوی حضرت سارہ ؓ تھیں ان کو اولاد کی بڑھاپے کے باعث امید بھی نہ رہی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
ف 1۔ تاکہ ان کو سزائے کفر میں ہلاک کریں۔
Read the full tafseer →آپ (علیہ السلام) کی اہلیہ سارہ ؓ دہلیز میں کھڑی تھیں کہ مہمانوں نے ان کو بیٹے کی خوشخبری سنا دی
94 ؎ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی اہلیہ محترمہ اپنے خیمہ یا دروازہ میں کھڑی تھیں خواہ مہمانوں کی گفتگو سننے کیلئے یا مزید کسی چیز کے پیش کرنے کے انتظار میں یا کسی اپنی ضرورت و حاجت کیلئے تو ان مہمانوں نے چلتے وقت سیدھا سارہ کو بیٹے کی خوشخبری سنا دی اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ آپ کو اللہ ایسا بیٹا دے گا جس کے ہاں نسل آگے بڑھے گی اور اس کو اللہ تعالیٰ (یعقوب) فرزند عطا فرمائے گا یعنی سارہ کو بیٹے کے ساتھ ہی پوتے کی خبر بھی سنا دی۔ حضرت سارہ ؓ نے مہمانوں کو دیکھا تو ہنس دیں ، کیوں ؟ اس لئے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
In verse 70, it was said: فَلَمَّا رَأَىٰ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ (So, when he noticed their hands not reaching for it, he found them strange and felt a bit of fright from them).
From here we learn that there are rules of etiquette for guests as well. A guest should accept whatever is offered. Let him partake from it a little bit to please the host, even if not willing to eat because of unfavorable taste or apprehended harm.
This very sentence also tells us that the host should not consider himself absolved after having placed the food before the guest. In-stead, he…
Read the full tafseer →78. According to this verse, the whole of Abraham's family was worried about the visit of the angels in human form. From sheer anxiety Abraham's wife also came out. However, when she came to know that the coming of the angels did not forebode any evil, she was reassured and became joyful.
79. The angels gave the glad tidings of the birth of Isaac to Sarah rather than to Abraham. For Abraham (peace be on him) already had a son called Ishmael, born of his first wife Hagar. At that time Sarah was without any issue, and for this reason she felt sad. When the angels gave her the glad tidings they…
Read the full tafseer →