Hud 11:70

Hud · from ayah 70

11:70

فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً ؕ— قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰی قَوْمِ لُوْطٍ ۟ؕفَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ نَـكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً‌  ؕ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ

جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں جاتے (یعنی وہ کھانا نہیں کھاتے) تو ان کو اجنبی سمجھ کر دل میں خوف کیا۔ (فرشتوں نے) کہا کہ خوف نہ کیجیے، ہم قوم لوط کی طرف (ان کے ہلاک کرنے کو) بھیجے گئے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

But when he saw their hands not reaching for it, he distrusted them and felt from them apprehension. They said, "Fear not. We have been sent to the people of Lot."

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 7 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:70

مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے پر نہیں بڑھتے تو وہ ان سے مشتبہ ہو گیا اور دل میں ان سے خوف محسوس کرنے لگا اُنہوں نے کہا "ڈرو نہیں، ہم تو لوطؑ کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں جاتے (یعنی وہ کھانا نہیں کھاتے) تو ان کو اجنبی سمجھ کر دل میں خوف کیا۔ (فرشتوں نے) کہا کہ خوف نہ کیجیے، ہم قوم لوط کی طرف (ان کے ہلاک کرنے کو) بھیجے گئے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اب جو دیکھا کہ ان کے تو ہاتھ بھی اس کی طرف نہیں پہنچ رہے تو ان سے اجنبیت محسوس کرکے دل ہی دل میں ان سے خوف کرنے لگے، انہوں نے کہا ڈرو نہیں ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے ہوئے آئے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (بچھڑے) کی طرف نہیں بڑھ رہے، تو وہ ان سے کھٹک گئے، اور ان کی طرف سے دل میں خوف محسوس کیا۔ فرشتوں نے کہا : ڈریے نہیں، ہمیں (آپ کو بیٹے کی خوشخبری سنانے اور) لوط کی قوم کے پاس بھیجا گیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں پہنچتے ان کو اوپری سمجھا اور جی ہی جی میں ان سے ڈرنے لگا، بولے ڈریے نہیں ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر جب (ابراہیم علیہ السلام نے) دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (کھانے) کی طرف نہیں بڑھ رہے تو انہیں اجنبی سمجھا اور (اپنے) دل میں ان سے کچھ خوف محسوس کرنے لگے، انہوں نے کہا: آپ مت ڈریئے! ہم قومِ لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو جب ان کے ہاتھوں کو دیکھا کہ اس کی طرف نہیں پہنچتے تو انھیں اوپرا جانا اور ان سے ایک قسم کا خوف محسوس کیا، انھوں نے کہا نہ ڈر ! بیشک ہم لوط کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر جب دیکھا کہ ان (مہمانوں) کے ہاتھ کھانے کے طرف نہیں بڑھتے تو انھیں مشتبہ سمجھا اور دل میں خوف محسوس کرنے لگے (یہ صورت حال دیکھ کر) وہ کہنے لگے : ڈرو نہیں ! ہم لوط کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس کی طرف نہیں بڑھ رہے ہیں تو اس نے ان میں اجنبیت پائی اور ان کی طرف سے ایک خدشہ محسوس کیا۔ وہ بولے کہ تم کوئی اندیشہ نہ کرو، ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مگر جب آپ نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے، تو آپ نے ان کو اجنبی سمجھ کر اپنے دل میں ایک خوف سا محسوس کیا، تب انہوں نے کہا ڈرو نہیں، ہمیں تو دراصل (آپ کی طرف نہیں، بلکہ) قوم لوط کی طرف (ان کو عذاب دینے کے لئے) بھیجا گیا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

پھر جب (ابراہیم علیہ السلام) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (کھانے) کی طرف نہیں بڑھ رہے ہیں تو ان سے متوحش ہوئے اور ان سے دل میں خوفزدہ ہوئے۔ وہ بولے کہ ڈرئیے نہیں ہم تو قوم لوط ؑ کی طرف بھیجے گئے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر جب آپ نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس کی طرف نہیں بڑھ رہے ہیں تو آپ نے ان میں اجنبیت پائی اور ان کی طرف سے ایک خوف محسوس کیا انہوں نے کہا : آپ ڈرئیے نہیں اصل میں تو ہم بھیجے گئے ہیں قوم لوط کی طرف

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں جاتے (وہ کھانا نہیں کھا رہے) تو ان کو اجنبی سمجھ کر دل میں خوف آیا۔ فرشتوں نے کہا خوف نہ کیجئے ہم قوم لوط کی طرف ان کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجے گئے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

When he perceived that their hands could not reach it, he mistrusted them, and felt afraid of them. They said: 'Do not be afraid. We have been sent to the people of Lot.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, when he noticed their hands not acceding to it, he found them strange and felt scared of them. They said, :Be not scared. We have been sent to the people of LuT.

— Muhammad Taqi Usmani

So, when he noticed their hands not acceding to it, he found them strange and felt scared of them. They said, :Be not scared. We have been sent to the people of LuT.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But when he saw their hands went not towards it (the meal), he mistrusted them, and conceived a fear of them. They said: "Fear not, we have been sent against the people of Lut."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when he saw their hands reached not to it, he mistrusted them and conceived a fear of them. They said: Fear not! Lo! we are sent unto the folk of Lot.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But when he saw their hands not reaching for it, he distrusted them and felt from them apprehension. They said, "Fear not. We have been sent to the people of Lot."

— Saheeh International

but when he saw that their hands did not reach out for it, he could not know who they were and became afraid of them. They said, "Do not be afraid; we are God's angelic Messengers sent to the people of Lot."

— Muhammad Sarwar

But when he saw that their hands were not extended towards it, he deemed them strange and conceived fear of them. They said: Fear not, surely we are sent to Lut's people.

— Muhammad Habib Shakir

And when he beheld that their hands reached it not he misliked them, and ccnceived a fear of them. They said fear not verily we are sent unto the people of Lut.

— Abdul Majid Daryabadi

But when he saw their hands went not towards the (meal), he felt some mistrust of them, and conceived a fear of them. They said: "Fear not: We have been sent against the people of Lut."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:70

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 69–73

ابراہیم ؑ کی بشارت اولاد اور فرشتوں سے گفتگو حضرت ابراہیم ؑ کے پاس وہ فرشتے بطور مہمان بشکل انسان آتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کی خوشخبری اور حضرت ابراہیم کے ہاں فرزند ہونے کی بشارت لے کر اللہ کی طرف سے آئے ہیں۔ وہ آکر سلام کرتے ہیں۔ آپ ان کے جواب میں سلام کہتے ہیں۔ اس لفظ کو پیش سے کہنے میں علم بیان کے مطابق ثبوت و دوام پایا جاتا ہے۔ سلام کے بعد ہی حضرت ابراہیم ؑ ان کے سامنے مہمان داری پیش کرتے ہیں۔ بچھڑے کا گوشت جسے گرم پتھروں پر سینک لیا گیا تھا، لاتے ہیں۔ جب دیکھا کہ ان نو وارد مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے ہی نہیں، اس وقت ان سے کچھ بدگمان سے ہوگئے اور کچھ دل میں خوف کھانے لگے حضرت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة هُوْد 76 بعض مفسرین کے نزدیک یہ خوف اس بنا پر تھا کہ جب ان اجنبی نو واردوں نے کھانے میں تأمل کیا تو حضرت ابراہیم ؑ کو ان کی نیت پر شبہہ ہونے لگا اور آپ اس خیال سے اندیشہ ناک ہوئے کہ کہیں یہ کسی دشمنی کے ارادے سے تو نہیں آئے ہیں، کیونکہ عرب میں جب کوئی شخص کسی کی ضیافت قبول کرنے سے انکار کرتا تو اس سے یہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ مہمان کی حیثیت سے نہیں آیا ہے بلکہ قتل و غارت کی نیت سے آیا ہے۔ لیکن بعد کی آیت اس تفسیر کی تائید نہیں کرتی۔ سورة هُوْد 77 اس انداز کلام سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کھانے کی طرف ان کے ہاتھ نہ بڑھنے سے ہی حضرت ابراہیم ؑ تاڑ گئے تھے کہ یہ فرشتے ہیں۔ اور چونکہ فرشتوں کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 70–73

(آیت) فَلَمَّا رَآٰ اَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَيْهِ نَكِرَهُمْ ، یعنی جب دیکھا ابراہیم ؑ نے کہ ان کے ہاتھ کھانے تک نہیں پہنچتے تو متوحش ہوگئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مہمان کے آداب میں سے یہ ہے کہ مہمان کے سامنے جو چیز پیش کی جائے اس کو قبول کرے، (کھانے کو دل نہ چاہے یا مضر سمجھیں تو معمولی سی شرکت دلجوئی کے لئے کرلیں)۔ اسی جملہ سے دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ میزبان کو چاہئے کہ صرف کھانا سامنے رکھ کر فارغ نہ ہوجائے بلکہ اس پر نظر رکھے کہ مہمان کھا رہا ہے یا نہیں، جیسا ابراہیم ؑ نے کیا کہ فرشتوں کے کھانا نہ کھانے کو محسوس کیا۔ مگر یہ نظر رکھنا اس طرح ہو کہ مہمان کے کھانے کو تکتا نہ رہے، سرسری نظر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فَلَمَّا رَآٰ اَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَيْهِ نَكِرَهُمْ وَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيْفَةً ۭ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّآ اُرْسِلْنَآ اِلٰي قَوْمِ لُوْطٍ۔ حضرت ابراہیم کی تشوش اور فرشتوں کی اطمینان دہانی : اب تک حضرت ابراہیم کو یہ گمان تھا کہ قرب و جوار کے کسی علاقے کے چند شریف اور صالح آدمی ہیں لیکن ان کی اتنی محنت اور اتنے ذوق و شوق سے تیار کی ہوئی ضیافت کی طرف جب انہوں نے ہاتھ نہیں بڑھایا تو قدرتا انہوں نے کچھ بیگانگی محسوس کی اور دل ہی دل میں کچھ ڈرے کہ یہ کیا بات ہے۔ انہوں نے ان کی ضیافت قبول نہیں کی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ میں نے ان کو آدمی سمجھا اور وہ فرشتے ہوں۔ اور اگر یہ فرشتے ہیں تو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

70۔ 1 حضرت ابرا ہیم ؑ نے جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو انہوں کو خوف محسوس ہوا۔ کہتے ہیں کہ ان کے ہاں یہ چیز معروف تھی کہ آئے ہوئے مہمان اگر ضیافت سے فائدہ نہ اٹھاتے تو سمجھا جاتا تھا کی آنے والے مہمان کسی اچھی نیت سے نہیں آئے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ کے پیغمبروں کو غیب کا علم نہیں ہوتا۔ اگر ابراہیم ؑ غیب دان ہوتے تو بھنا ہوا بچھڑا بھی نہ لاتے اور ان سے خوف بھی محسوس نہ کرتے۔ 70۔ 2 اس خوف کو فرشتوں نے محسوس کیا، یا ان کے آثار سے جو ایسے موقع پر انسان کے چہرے پر ظاہر ہوتے ہیں یا اپنی گفتگو میں حضرت ابراہیم ؑ نے اظہار فرمایا، جیسا کہ دوسرے مقام پر وضاحت ہے ' ہمیں تو…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

40: چونکہ فرشتے انسانی شکل میں آئے تھے، اس لیے حضرت ابراہیم ؑ شروع میں انہیں انسان ہی سمجھتے اور ان کی مہمانی کے لیے بھنے ہوئے بچھڑے کا گوشت لے کر آئے لیکن چونکہ وہ فرشتے تھے اور کچھ کھا نہیں سکتے تھے، اس لئے انہوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا، اس زمانے میں رسم یہ تھی کہ اگر کوئی شخص میزبان کے یہاں کھانا پیش ہونے کے بعد نہ کھائے تو یہ اس بات کی علامت سمجھی جاتی تھی کہ وہ کوئی دشمن ہے جو کسی بری نیت سے آیا ہے، اس لئے حضرت ابرہیم ؑ نے خوف محسوس کیا، اس موقع پر فرشتوں نے واضح کردیا کہ وہ فرشتے ہیں، اور ان دو کاموں کے لئے بھیجے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُ سُلُنَآ اِبْرٰھِیْمَ بِالْبُشْرٰی یہاں قرآن کریم نے خوشخبری کے بیان کو بعد میں آپ کی بیوی کی موجودگی کے وقت تک موخر کردیا کیونکہ یہاں تو ابھی قاری کو معلوم نہیں کہ آنے والے فرشتے ہیں۔ یہاں مفسرین نے ان آنے والوں کے بارے میں جو تفیصلات دی ہیں ہم ان کے ذکر کو ضروری نہیں سمجھتے۔ کیونکہ یہ تفصیلات بلا دلیل ہیں : قَالُوْا سَلٰمًا قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذِ (69) فَلَمَّارَآاَ یْدِیَھُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْہِ نَکِرَھُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْھُمْ خِیْفَۃً ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) عراق کے لدانیوں میں پیدا ہوئے اور یہاں سے انہوں نے ہجرت کر کے دریائے اردن کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 کہ آخر یہ کون ہیں، کس غرض سے آئے ہیں ؟ ہم کھانا پیش کرتے ہیں، یہ اسے ہاتھ نہیں لگاتے۔ اس وقت کے دستور کے موافق جو مہمان کھانے سے انکار کرتا، سمجھا جاتا تھا کہ یہ کسی اچھے خیال سے نہیں آیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) گھبرائے کہ اگر آدمی ہیں تو کھانے سے انکار کرنا ضرور کچھ معنی رکھتا ہے اور فرشتے ہیں تو نہ معلوم کس مطلب کے لیے بھیجے گئے ہیں، آیا مجھ سے کوئی غلطی ہوئی یا میری قوم کے حق میں کوئی ناخوشگوار چیزلے کر آئے۔ اسی حیص و بیص میں زبان سے اظہار بھی کردیا۔ (اِنَّا مِنْكُمْ وَجِلُوْنَ ) 15 ۔ الحجر :52) یعنی ہم کو تم سے اندیشہ ہے۔ عموما مفسرین نے ابراہیم کے خوف کی یہ ہی توجہیات کی ہیں۔ مگر حضرت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

نَكِرَهُمْ وَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيْفَةً جب حضرت ابراہیم نے محسوس کیا کہ رسمی اصرار کے باوجود بھی مہمان کسی طور کھانے کی دعوت قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہو رہے تو اب آپ بجا طور پر کھٹکے کہ یہ پر اسرار لوگ کون ہیں اور یہاں کس ارادے سے آئے ہیں ؟ اس زمانے میں یہ رواج بھی تھا کہ اگر کوئی شخص دشمنی کی غرض سے کسی کے پاس جاتا تو اس کے ہاں کا کھانا نہیں کھاتا تھا۔ اسی لیے حضرت ابراہیم کو ان کی طرف سے خدشہ محسوس ہوا۔ جب انہوں نے آپ کا یہ خوف محسوس کیا تو : قَالُوْا لاَ تَخَفْ اِنَّآ اُرْسِلْنَآ اِلٰی قَوْمِ لُوْطٍ یعنی ہم فرشتے ہیں اور ہمیں قوم لوط کی طرف عذاب کی غرض سے بھیجا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

81 فرشتوں کا کھانے سے انکار اور ابراہیم (علیہ السلام) کا خدشہ :۔ جب ان فرشتوں نے کھانے کی طرف ہاتھ تک نہ بڑھائے تو سیدنا ابراہیم کو دال میں کچھ کالا محسوس ہوا اور ان سے خوف آنے لگا۔ بعض مفسرین یہ کہتے ہیں کہ یہ ڈرا اس وجہ سے تھا کہ ان لوگوں میں یہ دستور تھا کہ جو مہمان کھانا نہ کھاتا اس کے متعلق یہ سمجھا جاتا کہ وہ کسی بری نیت سے آیا ہے ممکن ہے یہ وجہ بھی ہو۔ مگر فرشتوں کا جواب اس بات کی تائید نہیں کرتا جو یہ تھا کہ ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں بات دراصل یہ نہ تھی کہ فرشتوں کا انسانی شکل میں آنا یا کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھانا یا فرشتوں کو پہچان نہ سکنا ایسی باتیں نہیں تھیں جن سے سیدنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

103۔ (کہ یہ کوئی مفسد دشمن یا کوئی ڈاکو تو نہیں ہیں) وقت کا دستور یہ تھا کہ جو دشمن یا کوئی ڈاکو کسی کو اپنا ہدف بنانا چاہتے تھے اس کے ہاں کھانے سے پرہیز کرتے تھے اور جس کے ہاں کھالیتے پھر اس کو نہ ستاتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو قدرۃ ایسے موقع پر یہی خیال گزرا اور ان سے خوف وہراس بھی طبعی طور پر پیدا ہوا۔ خوف وہراس امور طبعی ہیں (جس طرح بھوک اور پیاس) اور مرتبہ ولایت کیا معنی مرتبہ رسالت کے بھی ذرہ بھر منافی نہیں۔ (آیت) ” ایدیھم لاتصل الیہ “۔ توریت موجودہ میں یہ فقرہ کہ ” انہوں نے کھایا “ قطعا ایک ایجاد بندہ ہے اور قرآن مجید کو اسی بیان کی تردید کے لیے یہ صراحت کرنی پڑی۔ 104۔ (ایک خاص…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 69–83

آیت نمبر 69 تا 83 ترجمہ : ہمارے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحاق اور اس کے بعد یعقوب کی خوشخبری لے کر پہنچے، کہا تم پر سلام ہو سلامًا مصدر ہے ابراہیم نے کہا تم پر بھی سلام ہو کچھ) زیادہ ( دیر نہیں گزری کہ ابراہیم بھنا ہوا بچھڑا لے آئے مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑحٹے تو ان کو اجنبی محسوس کیا نَکِرَ بمعنی اَنکِرَ ہے تو ان کی طرف سے اپنے دل میں ابراہیم نے خوف محسوس کیا فرشتوں نے کہا خوف نہ کرو، ہمیں قوم لوط کی طرف بھیجا گیا ہے تاکہ ہم اس کو ہلاک کریں اور ابراہیم کی بیوی سارہ ان کی خدمت میں لگی ہوئی تھی تو وہ قوم کی ہلاکت) اور لوط ( کی) نجات کی ( بشارت سن کر ہنس پڑیں،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلما را ایدیھم لاتصل الیہ نکرھم جب ابراہیم (علیہ السلام) نے دیکھا کہ یہ کھانے کی طرف راغب نہیں ہیں تو ان سے اجنبیت محسوس کی۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ نَکِرَ (ثلاثی ‘ مجرد باب سمع) اور اَنْکَرَ (ثلاثی ‘ مزید باب افعال) اور استَنْکَرَ (باب استفعال) ہم معنی ہے۔ قاموس میں ہے : تَنُکُّرٌ (باب تفعل) خوشگوار حالت سے بدل کر کسی کا ناگوار حالت پر پہنچ جانا۔ واوجس منھم خیفۃ اور محسوس کیا اپنے دل میں ان کی طرف سے خوف۔ قاموس میں ہے : اَوْجَسَ محسوس کیا اور دل میں چھپایا۔ مقاتل نے کہا : اَوْجَسَ یعنی حضرت ابراہیم کے دل میں پیدا ہوگیا۔ بغوی نے لکھا ہے : وجوسٌ کا اصل (لغوی) معنی ہے داخل ہونا۔ یعنی خوف حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(70) جب حضرت ابراہیم ؑ نے دیکھا کہ انکے ہاتھ اس کھانے تک نہیں بڑھتے کیوں کہ ان کو تو کھانے کی احتیاج نہیں تھی تو حضرت ابراہیم ؑ کو ان سے وحشت ہوئی اور ان سے دل میں خوف زدہ ہوئے اور سمجھے کہ کوئی مخالف نہ ہوں کیوں کہ کھانا نہیں کھا رہے ہیں، جب فرشتوں نے حضرت ابراہیم ؑ کے خوف زدہ ہونے کا احساس کیا تو کہنے لگے ابراہیم ؑ ڈرو مت ہم قوم لوط کی ہلاکت کے لیے بھیجے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَلَمَّا رَآٰ اَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَيْهِ نَكِرَهُمْ۔۔ : ابراہیم ؑ نے صرف کھانا پیش ہی نہیں کیا بلکہ انھیں کھانے کے لیے اصرار بھی کیا : (قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ) [ الذاریات : 27 ] ”فرمایا کیا تم کھاتے نہیں ہو ؟“ پھر بھی جب انھوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا تو دل میں ایک قسم کا خوف محسوس کیا۔ ”خِيْفَةً“ کی تنوین کی وجہ سے ”ایک قسم کا خوف“ ترجمہ کیا گیا ہے۔ خوف کی وجہ یہ تھی کہ ان کے علاقے میں اگر کوئی اجنبی آتا اور وہ مہمانی میں پیش کیا ہوا کھانا قبول نہ کرتا تو اس کے متعلق سمجھا جاتا کہ وہ کسی برے ارادے سے آیا ہے، یا یہ بھی ہوسکتا ہے اور شاید یہی زیادہ موقع کے مناسب ہے کہ ابراہیم…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 69–71

آیت نمبر 69 تا 71 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ولقدجآءت رسلنآابرٰھیم بالبشرٰییہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ ہے اور وہ قرابت کے لحاظ سے حضرت ابراہیم کے چچا کے بیٹے ہیں، حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیاں شام کے نواح میں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بستیاں فلسطین کے شہروں میں تھیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے قوم لوط پر عذاب نازل کرنے کے لیے فرشتوں کو اتارہ تو وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے گزرے اور ان کے پاس مہمان بنے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جو بھی مہمان بنتا آپ اس کی ضافت بہت اچھے طریقے سے کرتے۔ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بشارت لے کر گزرے تو آپ نے انہیں مہمان سمجھا۔ جبریل،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 70–73

1:۔ عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں کعب ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) سدوم پر برتری کا اظہار فرما رہے تھے اور فرماتے تھے تیرے لئے ہلاکت ہو اے سدوم اس دن تیرے کیا حال ہوگا پھر فرمایا (آیت) ” ولقد جآءت رسلنا ابرھیم بالبشری قالوا سلما قال سلم فما لبث ان جآء بعجل حنیذ (69) “ ان کے لئے ایک بھنا ہوا بچھڑا لے کر آئے کیونکہ انہوں نے ان کو مہمان خیال کیا (آیت) ” فلما را ایدیہم لا تصل الیہ نکرھم واوجس منہم خیفۃ قالوا لا تخف انا ارسلنا الی قوم لوط (70) وامراتہ قآ ئمۃ فضحکت فبشرنھا باسحق، ومن ورآء اسحاق یعقوب (71) “ یعنی پوتے کی بشارت دی۔ (آیت) ” قالت یویلتیء الدوانا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَلَمَا : پھر جب ] [رَآٰ: انھوں (علیہ السلام) نے دیکھا ] [اَيْدِيَهُمْ : ان کے ہاتھوں کو ] [لَا تَصِلُ : (کہ) وہ نہیں پہنچے ] [اِلَيْهِ : اس (بچھڑے) تک ] [ نَكِرَ : تو انھوں (علیہ السلام) اجنبی جانا ] [َهُمْ : ان لوگوں کو ] [وَاَوْجس : اور دل میں محسوس کیا ] [مِنْهُمْ : ان سے ] [خِيْفَةً : ایک خوف ] [ قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [لَا تَخَفْ : آپ (علیہ السلام) مت ڈریں ] [انآ : بیشک ہم ] [اُرْسِلْنَآ : بھیجے گئے ہیں ] [اِلٰي قَوْمِ لُوْطٍ : لوط (علیہ السلام) کی قوم کی طرف ] و ج س [وَجْسًا : (ض) پوشیدہ ہونا۔ ، اِیْجَاسًا : (افعال) دل کا کسی چیز کو محسوس کرنا جیسے گھبراہٹ، خوف وغیرہ۔ زیر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 69–76

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں فرشتوں کا حاضر ہونا اور فرشتوں کا بیٹے اور پوتے کی بشارت دینا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وطن ایران اور عراق کے درمیان تھا ان کی قوم بت پرست تھی ‘ نمرود کی حکومت تھی وہاں انہوں نے توحید کی دعوت دی ‘ قوم نے مخالفت کی دشمنی پر اتر آئے حتیٰ کہ آپ کے باپ نے بھی یوں کہہ دیا۔ (لَءِنْ لَّمْ تَنْتَہِ لَاَرْجُمَنَّکَ وَاھْجُرْنِیْ مَلِیًّا) (اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے پتھروں سے مار دوں گا اور تو مجھے ہمیشہ کے لئے چھوڑ دے) ان لوگوں نے آگ میں ڈال دیا اللہ نے آگ ان پر ٹھنڈی کردی اور وہ اس میں سے صحیح سلامت باہر نکل آئے اور پھر اپنا وطن چھوڑ کر ملک شام کے علاقہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–76

قصہ ابراہیم (علیہ السلام) مشتمل بربشارت ملائکہ کرام بولادت اسحاق (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ولقد جاءت رسلنا ابراہیم بالبشری .... الیٰ .... عذاب غیر مردود۔ (ربط) اب ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان کرتے ہیں جس میں فرشتوں کی تولد فرزند کی بشارت کا ذکر ہے کہ تمہارے یہاں ایک بیٹا ہوگا جس کا نام اسحاق (علیہ السلام) ہوگا پھر اس بیٹے کے ایک بیٹا ہوگا جس کا نام یعقوب (علیہ السلام) ہوگا۔ اس بشارت کے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر ایک سو بیس برس کی تھی اور حضرت سارہ ؓ کی عمر نوے یا بانوے سال کی تھی حضرت ہاجرہ (علیہ السلام) سے حضرت اسمعیل (علیہ السلام) پہلے پیدا ہوچکے تھے۔ سارہ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

63: جب انہوں نے تلے ہوئے بچھڑے کا دستر خوان اپنے ” مہمانوں “ کے سامنے لا کر رکھا تو انہوں نے کھانے کے لیے دستر خوان کی طرف ہاتھ نہ بڑھائے۔ یہ دیکھ کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں خوف سا پیدا ہوا کہ کہیں یہ لوگ برے ارادے سے نہ آئے ہوں کیونکہ اس وقت کا دستور تھا کہ جس شخص سے کسی برائی کا ارادہ ہوتا اس کے گھر کا نمک نہیں کھاتے تھے وکانوا اذا ارادو الضیف لا یا کل ظنوا بہ شرًا (قرطبی ج 9 ص 65) ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر آثار خوف دیکھ کر فرشتے بول اٹھے کہ آپ ڈریں نہیں ہم تو فرشتے ہیں اور قوم لوط پر عذاب لے کر آئے ہیں۔ فرشتوں کی اس وضاحت سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حقیقت حال کا علم…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 69–76

ربط آیات گزشتہ کئی دروس سے مختلف انبیاء (علیہم السلام) کی تبلیغ کا تذکرہ ہو رہا ہے حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو یہی نصیحت کی کہ لوگو ! اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، اپنی غلطیوں کی معافی مانگو اور اسی کو طرف رجوع رکھو۔ ان نافرمان قوموں پر عذاب کا ذکر بھی ہوچکا ہے۔ قوم نوح طوفان میں تباہ ہوئی ، قوم ہود کو تیز آندھی نے آپکڑا اور صالح (علیہ السلام) کی قوم کے لئے اوپر سے چیخ اور نیچے سے زلزلہ آیا جس نے ساری قوم کو نیست و نابود کر کے رکھ دیا۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی اصطلاح میں یہ تذکیر بایام اللہ ہے۔ یہ لفظ آگے موسیٰ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَمَّا رَآٰ اَيْدِيَہُمْ لَا تَصِلُ اِلَيْہِ نَكِرَہُمْ وَاَوْجَسَ مِنْہُمْ خِيْفَۃً۝ 0ۭ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّآ اُرْسِلْنَآ اِلٰي قَوْمِ لُوْطٍ۝ 70ۭ يد الْيَدُ : الجارحة، أصله : وقوله : فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] ، ( ی د ی ) الید کے اصل معنی تو ہاتھ کے ہیں یہ اصل میں یدی ( ناقص یائی ) ہے کیونکہ اس کی جمع اید ویدی اور تثنیہ یدیان اور آیت کریمہ : ۔ فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] تو انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دئے ۔ وصل الِاتِّصَالُ : اتّحادُ الأشياء بعضها ببعض کاتّحاد طرفي الدائرة، ويضادّ الانفصال، ويستعمل الوَصْلُ في الأعيان،…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَلَمَّا رَآٰ اَیْدِیَھُمْ لاَ تَصِلُ اِلَیْہِ نَکِرَھُمْ وَاَوْجَسَ مِنْھُمْ خِیْفَۃً ط قَالُوْا لاَ تَخَفْ اِنَّآ اُرْسِلْنَآ اِلٰی قَوْمِ لُوْطٍ ۔ (سورۃ ہود : 70) (اور جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دیکھا کہ مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھ نہیں رہے تو انھیں اجنبی خیال کیا اور دل ہی دل میں ان سے اندیشہ کرنے لگے۔ (مہمانوں) نے کہا آپ خوف نہ کھائیں ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تشویش اور اس کا سبب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ میں نے اپنے نامعلوم اور اجنبی مہمانوں کے لیے جس محبت اور اخلاص سے ضیافت پیش کی ہے وہ اس کی طرف ہاتھ ہی نہیں بڑھا رہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 69–70

فہم القرآن ربط کلام : قوم ثمود کی تباہی کے بعد قوم لوط کا واقعہ مگر اس کے بیان کرنے سے پہلے ضمناً حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک واقعہ کا ذکر ضروری سمجھا گیا ہے۔ قوم لوط کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے فرشتے بھیجے گئے۔ مگر پہلے ان کو حکم دیا گیا کہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوں۔ انہیں بیٹے اور پوتے کی خوشخبری سنائیں۔ جب یہ فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے سلام عرض کیا۔ جواباً سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بھی ملائکہ کو سلام کہتے ہیں۔ خیرو عافیت پوچھنے کے بعد کوئی تاخیر کیے بغیر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مہمان نوازی کے لیے بھنا ہوا بچھڑا پیش…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

70: فَلَمَّا رَآٰ اَیْدِیَھُمْ لَاتَصِلُ اِلَیْہِ نَکِرَھُمْ (جب دیکھا ان کے ہاتھوں کو کہ وہ نہیں پہنچ رہے کھانے کو تو اوپرا محسوس کیا ان کو) نکرو انکر کا معنی ناگوار ہونا۔ ان کی عادت یہ تھی کہ جب کوئی مہمان ان کا کھانا چھو لیتا تو اس سے مطمئن ہوجاتے ورنہ خطرہ محسوس کرتے۔ اور ظاہر یہ ہے کہ انہوں نے محسوس کیا کہ وہ ملائکہ ہیں اور اوپر اس لئے محسوس کیا کیونکہ ان کو خطرہ ہوا کہ ان کا نزول کسی ایسے معاملے کی وجہ سے ہوا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ناپسند کیا ہے۔ یا میری قوم کو عذاب دینے کیلئے اسکی دلیل ان کا یہ قول ہے وَاَوْجَسَ مِنْہُمْ خِیْفَۃً ان کے متعلق خوف دل میں چھپایا۔ قَالُوْا لَاتَخَفْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

70” فلما رای ایدیھم لا تصل الیہ “ بھونے ہوئے بچھڑے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھا رہے ” نکرھم نکر اور انکر خوشگوار حالت سے بدل کر کسی کا ناگوار حالت پر پہنچ جانا واو جس منھم خفیۃ مقاتل کا بیان ہے اوجس یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں پیدا ہوگیا ۔ وجوس کا اصل معنی ہے داخل ہونا یعنی خوف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں پیدا ہوگیا ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس زمانے میں جب مہمان آتا اور کچھ نہ کھاتا تو وہ گمان کرتے تھے کہ یہ خیر کے ارادہ سے نہیں آیا بلکہ شر کے ارادہ سے آیا ہے۔ ” قالو الا تخفف “ اے ابراہیم (علیہ السلام) ” انا “ اللہ کے فرشتے ہیں ۔ ” ارسلنا الی قوم لوط “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 69–73

69۔ 73۔ یہ ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ تمہید کے طور پر لوط (علیہ السلام) کے قصے سے پہلے ذکر کیا گیا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک بھائی تھے جن کا نام ہاران تھا انہیں کے بیٹے حضرت لوط (علیہ السلام) تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر یہی سب سے پہلے ایمان لائے تھے۔ نوح (علیہ السلام) سے دو ہزار چھ سو بیالیس برس کے بعد یہ بھیجے گئے تھے ان کی عمر ایک سو پچھتر برس کی ہوئی ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے اسحاق (علیہ السلام) کی عمر ایک سو اسی برس کی ہوئی اور ابراہیم کے پوتے یعقوب بن اسحاق (علیہ السلام) کی عمر ایک سو پنتالیس سال کی ہوئی۔ ابراہیم (علیہ السلام) فلسطین ایک ملک ہے وہاں رہتے تھے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت) ” جب انہوں (ابراہیم علیہ السلام) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے “ (آیت) ” تو انہیں کھٹکا لگا اور دل میں سے ان سے ڈرے “ ابراہیم (علیہ السلام) نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، (آیت) ” انہوں نے کہا، ڈریں نہیں، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں “ یعنی اللہ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کے لئے بھیجا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 69–71

قول باری ہے قالوا سلاما ً قال سلام کہا تم پر سلام ہو۔ ابراہیم نے جواب دیا تم پر بھی سلام ہو پہلے سلام کے معنی سلمت سلاما ً میں نے سلام کیا کے ہیں اسی بنا پر یہ منصوب ہے اور دوسرا سلام اس کا جواب ہے یعنی علیکم سلام اسی بنا پر یہ مرفوع ہے ۔ دونوں کا مفہوم ایک ہے تا ہم اعراب کے لحاظ میں ان سے اس واسطے فرق رکھا گیا تا کہ کسی گمان کرنے والے کو حکایت اور نقل کا گمان نہ پیدا ہوجائے اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ لفظ سلام اہل اسلام کی تحیت یعنی آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنے کا ذریعہ تھا نیز یہی لفظ فرشتوں کے سلام کا بھی ذریعہ تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

151 ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے ایک عظیم الشان خوشخبری کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ آگئے ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس اس عظیم الشان خوشخبری کے ساتھ جو کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے ایک عظیم الشان خوشخبری تھی۔ اور جس کے لے جانے کی ذمہ داری ان فرشتوں کو سونپی گئی تھی۔ اور جو خاص اہمیت کی حامل خوشخبری تھی کہ ان کو بڑھاپے کی اس عمر میں ایک عظیم الشان اور ہونہار بچے سے نوازا جانے والا تھا جو عمر کے عام قاعدہ اور ضابطہ کے مطابق بچے کی نعمت کی سرفرازی کی عمر نہیں ہوتی۔ سو اس بشری " خوشخبری " سے مراد جیسا کہ آگے آیت نمبر 71 میں تصریح فرمائی گئی ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 69–76

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری تشریح : اس سورت میں حضرت نوح (علیہ السلام) سے حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) تک کے تمام انبیاء کا ذکر کیا گیا ہے۔ اصل میں ان انبیاء اور ان کی قوموں کے سلوک و کردار اور پھر ان کی تباہی کا ذکر قرآن پاک میں اس لیے بار بار کیا جا رہا ہے تاکہ آخری رسول کو تسلی ہو اور لوگوں کو ڈرایا جائے، عبرت حاصل ہو کہ گناہ و نافرمانی کا انجام سوائے تباہی و بربادی کے اور کچھ نہیں۔ اس موجودہ رکوع میں حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے حالات اور عذاب کا ذکر کیا گیا ہے۔ شروع میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ اصل میں جو فرشتے قوم لوط پر عذاب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 69–83

آیات 69 تا 83 اسرار و معارف اعمال وکردار اور ان پر مرتب ہونے والے نتائج کا یہ فرق اس واقعہ سے بھی ظاہر ہے کہ جب ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اپنے فرشتے بھیجے کہ انھیں اولاد کی خوشخبری دیں وہی فرشتے جو ان کے لئے نوید مسرت لائے تھے قوم لوط پر تباہی لانے کے لئے بھی مامور تھے جو ان سے صرف دس بارہ میل آباد تھی۔ یہ فرشتے انسانی شکل میں پہنچے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے سمجھا کوئی مہمان آگئے ہیں ۔ جب انھوں نے سلام کیا اور آپ نے سلام کا جواب دیا انھیں بٹھایا اور فورا ایک بچھڑاتل کرلے آئے چونکہ آپ کے ہاں گائے بیل تھے تو ایک موٹا تازہ بچھڑاکاٹ کر پکاکر حاضر کردیا۔ سلام اور جواب یہاں ظاہر ہے کہ ہر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 ۔ کیونکہ ان کے علاقے میں اگر کوئی اجنبی آتا اور وہ مہمانی میں پیش کیا ہوا کھانا قبول ہ کرتا تو اس کے متعلق سمجھا جاتا کہ وہ کسی برے ارادے سے آیا ہے یا یہ بھی ہوسکتا ہے۔ اور شاید یہی قرین قیاس ہو۔ کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے ان کے کھانا تناول نہ کرنے کی وجہ سے ان کے فرشتے ہونے کو بھانپ لیا ہو اور وہ اس بنا پر ڈر گئے ہوں کہ یہ ان کی بستی پر عذاب نازل کرنے کے لئے بھیجئے گئے ہیں۔ (شوکانی) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(11:70) الیہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع عجل۔ نکرہم۔ الا نکار۔ عرفان کی ضد ہے اس نے نہ پہچانا۔ اس نے اجنبی خیال کیا۔ وہ ان کی طرف سے شبہ میں پڑگیا۔ انکار عدم معرفت ہے۔ لیکن بعض اوقات انسان جانتے ہوئے بھی انکار کردیتا ہے۔ اسے کذب کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے یعرفون نسمۃ اللہ ثم ینکروھا (16:83) یہ خدا کی نعمتوں سے واقف ہیں مگر واقف ہوکر انکار کرتے ہیں۔ المنکر۔ ہر اس فعل کو کہتے ہیں کہ جسے عقل سلیم قبیح خیال کرے۔ یا عقل کو اس کے حسن و قبیح میں توقف ہو۔ مگر شریعت نے اس کے قبیح ہونے کا حکم دیا ہو۔ قرآن مجید میں ہے وتاتون فی نادیکم المنکر (29:29) اور تم اپنی مجلسوں میں ناپسندیدہ کام کرتے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 69–76

لغات القرآن آیت نمبر 69 تا 76 رسلنا (ہمارے بھیجے گئے، بھیجے ہوئے) البشری (خوش خبری) سلام (سلام، سلامتی) مالبت (نہیں ٹھہرا) عجل (بچھڑا) حنید (بھنا ہوا) را (اس نے دیکھا) ایدیھم (ان کے ہاتھ) لاتصل (نہیں پہنچ رہے ہیں) نکر (اوپرا، عجیب سا لگا) او جس (اس نے محسوس کیا) خیفۃ (خوف) لاتخف (ڈر مت) قائمۃ (کھڑی ہونے والی) ضحکت (ہنس پڑی) وراء (پیچھے) یویلتی (ہائے افسوس) ء الد (کیا میں جنوں گی، (میرے یہاں ولادت ہوگی) عجور (بڑھیا، زیادہ عمر کی ہوجانا) بعلی (میرا شوہر) شیخ (زیادہ بوڑھا ہونا) اتعجبین (کیا تم تعجب کر رہی ہو ؟ ) اھل لبتک (گھر والے) حمید (تمام تعریفوں والا) مجید (تمام عظمتوں والا) الروع (گھبراہٹ)…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 69–73

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاں فرشتوں کی مہمان داری اور بشارت دینا ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ تین فرشتے جبرئیل، میکائیل، اسرافیل یہ تینوں فرشتے خوبصورت لڑکوں کی صورت بن کر پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحاق (علیہ السلام) کے پیدا ہونے کی خوشی بتانے کو آئے اور آتے ہی سلام کیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی سلام کا جواب دیا مگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو پہچانا نہیں مہمان سمجھا اور اپنی عادت کے موافق کہ جب کوئی مہمان آجاتا تو خاطر تواضع کرتے تھے۔ ان کے کھانے پینے کا بھی انتظام کرنے لگے اور ایک جوان گائے ذبح کر کے اس کے کباب لگائے۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے مہمانوں کے آگے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[38] مہمانوں کے کھانے پر ہاتھ نہ بڑھنے کی وجہ سے ابراہیم (علیہ السلام) تاڑ گئے تھے کہ وہ فرشتے ہیں اور کیونکہ فرشتوں کا انسانی شکل میں آنا غیر معمولی حالات ہی میں ہوا کرتا ہے اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) کو خوف ہوا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ سے یا آپ کی بستی والوں سے ایسا قصور سرزد ہوگیا ہے جس پر گرفت کے لئے فرشتے انسانی صورت میں بھیجے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 69–70

مہمانوں سے حسن سلوک : (ف 2) یہاں سے حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ شروع ہوتا ہے بطور تمہید کے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر بھی آگیا ہے ، یہی وجہ ہے ، اس قصہ کا انداز بیان دوسروں سے مختلف ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ میں دو باتیں ایسی بیان کی ہیں جن کا تعلق آداب یا عوائد رسمیہ سے ہے جب فرشتے حضرت اسحاق کی تولید کی خوشخبری لے کر آئے تو فورا ہی انہوں نے السلام علیکم کہا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی سلام کہہ کر جواب دیا جس کا مقصد یہ کہ مسلمان جب ایک دوسرے سے ملیں تو سلسلہ گفتگو ان میں علیک سلیک سے شروع ہو ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس رسمی گفتگو کے بعد مہمانوں کے سامنے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

70 سو جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس کھانے کی طرف نہیں بڑھتے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو اجنبی سمجھا اور متوحش ہوئے اور دل میں ان سے ڈرے انہوں نے کہا اے ابراہیم ہم سے ڈرو نہیں ہم آدمی نہیں ہیں فرشتے ہیں ان کے ساتھ جو عذاب تھا اس کا ڈر پڑا۔ خلاصہ یہ کہ دستور کے موافق جب کوئی مہمانا کھانا نہ کھاتا تھا یا کوئی مخالف بن کر آتا تھا اور وہ کھانا نہ کھاتا تھا تو کھانا نہ کھانا ایک پہچان تھی اپنے پر ائے کی اس لئے خطرہ محسوس کیا یا اپنی روحانیت کے باعث ان کے پاس عذاب کا حکم محسوس کیا اس لئے ڈرے ہوں اسی طرح فرشتوں نے ان کے دل کا ڈر سمجھا اللہ تعالیٰ کے بتانے یا…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ابراہیم (علیہ السلام) کا ان مہمانوں سے ڈر محسوس کرنا اور مہمانوں کی گزارش کا ذکر 93 ؎ جب مہمانوں نے کھاتے کی طرف ہاتھ نہ بڑھایا تو ابراہیم (علیہ السلام) حیران ہوئے کہ یہ کیا ماجرا ہے ؟ چونکہ وہ بالکل اجنبی تھے اور ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی ان کو اجنبی ہی سمجھا تھا اس لئے قدرتی طور پر کچھ دل میں خدشہ محسوس ہوا جس کے آثار ان کے چہرے سے محسوس ہونے لگے اس لئے وہ مہمان بھی ان کا ” تغیرلون “ سمجھ گئے اور فوراً انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) سے کہہ دیا کہ آپ کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں دراصل ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں اور اس طرف کو جا رہے ہیں کھانے کی ہم کو حاجت نہیں۔ آیت 69 ، 70 سے جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 70–73

In verse 70, it was said: فَلَمَّا رَ‌أَىٰ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَ‌هُمْ (So, when he noticed their hands not reaching for it, he found them strange and felt a bit of fright from them). From here we learn that there are rules of etiquette for guests as well. A guest should accept whatever is offered. Let him partake from it a little bit to please the host, even if not willing to eat because of unfavorable taste or apprehended harm. This very sentence also tells us that the host should not consider himself absolved after having placed the food before the guest. In-stead, he…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

76. Some commentators on the Qur'an are of the view that when the guests hesitated to take food Prophet Abraham (peace be on him) felt suspicious about their intentions. He even became apprehensive that they had come with some hostile design. For, in Arabia when someone declines the food offered to him by way of hospitality, this gives rise to the fear that he has not come as a guest but rather with subversive purposes. The very next verse, however, does not lend any support to this view. 77. The words as well as the tone of the verse suggest that as soon as Abraham (peace be on him) noticed…

Read the full tafseer →