Hud 11:73

Hud · from ayah 73

11:73

قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَبَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ ؕ— اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ ۟قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ‌ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَكٰتُهٗ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ‌ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ‏

انہوں نے کہا کیا تم خدا کی قدرت سے تعجب کرتی ہو؟ اے اہل بیت تم پر خدا کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں۔ وہ سزاوار تعریف اور بزرگوار ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "Are you amazed at the decree of Allah? May the mercy of Allah and His blessings be upon you, people of the house. Indeed, He is Praiseworthy and Honorable."

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 7 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:73

فرشتوں نے کہا "اللہ کے حکم پر تعجب کرتی ہو؟ ابراہیمؑ کے گھر والو، تم لوگوں پر تو اللہ کی رحمت اور اُس کی برکتیں ہیں، اور یقیناً اللہ نہایت قابل تعریف اور بڑی شان والا ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

انہوں نے کہا کیا تم خدا کی قدرت سے تعجب کرتی ہو؟ اے اہل بیت تم پر خدا کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں۔ وہ سزاوار تعریف اور بزرگوار ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

فرشتوں نے کہا کیا تو اللہ کی قدرت سے تعجب کر رہی ہے؟ تم پر اے اس گھر کے لوگو اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، بیشک اللہ حمد وﺛنا کا سزاوار اور بڑی شان واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

فرشتوں نے کہا : کیا آپ اللہ کے حکم پر تعجب کر رہی ہیں ؟ آپ جیسے مقدس گھرانے پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہی برکتیں ہیں، بیشک وہ ہر تعریف کا مستحق، بڑی شان والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

فرشتے بولے کیا اللہ کے کام کا اچنبھا کرتی ہو اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں تم پر اس گھر والو! بیشک وہی ہے سب خوبیوں والا عزت والا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرشتوں نے کہا: کیا تم اﷲ کے حکم پر تعجب کر رہی ہو؟ اے گھر والو! تم پر اﷲ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں، بیشک وہ قابلِ ستائش (ہے) بزرگی والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا کیا تو اللہ کے حکم سے تعجب کرتی ہے ؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر اے گھر والو ! بیشک وہ بےحد تعریف کیا گیا، بڑی شان والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ کہنے لگے : کیا تم اللہ کے حکم سے تعجب کرتی ہو ؟ اے اہل بیت (نبوت) تم پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں۔ بلاشبہ وہ قابل تعریف اور بڑی شان والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ بولے، کیا خدا کی بات پر تعجب ! اللہ کی رحمت اور برکتیں نازل ہوں آپ پر اے اہل بیت نبی، بیشک وہ سزاوار حمد و بزرگ ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

فرشتوں نے کہا کیا تم تعجب کرتی ہو اللہ کے حکم سے ؟ حالانکہ اللہ کی رحمت اور اس کی (طرح طرح کی) برکتیں تم پر، اے نبی کے گھر والو، (برابر برستی) رہتی ہیں، بلاشبہ وہ تعریف کے لائق اور بڑی ہی اونچی شان والا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

وہ بولے ارے تم تعجب کرتی ہو اللہ کے کام میں۔ اے خاندان والو تم پرتو اللہ کی (خاص) رحمت اور اس کی برکتیں (نازل ہوتی رہتی) ہیں بیشک وہ تعریف کے لائق اور بڑا شان والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

فرشتوں نے کہا : کیا آپ تعجب کرتی ہیں اللہ کے فیصلے پر اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں تم پر اے نبی کے گھر والو یقیناً اللہ لائق حمد اور بزرگی والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

انہوں نے کہا کیا تم اللہ کی قدرت سے تعجب کرتی ہو ؟ اے گھر والو ! تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہیں بیشک اللہ باعث تعریف اور بڑائی والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They said: 'Do you wonder at Allah's decree? Allah's mercy and His blessings be upon you, O people of the house. Surely, He is Praiseworthy, Glorious.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said, :Do you marvel at Allah‘s command? Allah‘s mercy and His blessings have always been upon you, O people of the house. Surely, He is Praiseworthy, Glorious.

— Muhammad Taqi Usmani

They said, :Do you marvel at Allah‘s command? Allah‘s mercy and His blessings have always been upon you, O people of the house. Surely, He is Praiseworthy, Glorious.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said: "Do you wonder at the decree of Allah The mercy of Allah and His blessings be on you, O the family [of Ibrahim]. Surely, He (Allah) is All-Praiseworthy, All-Glorious."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They said: Wonderest thou at the commandment of Allah? The mercy of Allah and His blessings be upon you, O people of the house! Lo! He is Owner of Praise, Owner of Glory!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "Are you amazed at the decree of Allah? May the mercy of Allah and His blessings be upon you, people of the house. Indeed, He is Praiseworthy and Honorable."

— Saheeh International

They replied, "Would you be surprised at God's decree? People of the house, may God's mercy and blessings be with you. God is Appreciative and Glorious."

— Muhammad Sarwar

They said: Do you wonder at Allah's bidding? The mercy of Allah and His blessings are on you, O people of the house, surely He is Praised, Glorious.

— Muhammad Habib Shakir

They said marvellest thou at the decree of Allah? Mercy of Allah and His blessings be upon you, people of the house, verily He is Praiseworthy, Glorious.

— Abdul Majid Daryabadi

They said: "Dost thou wonder at Allah's decree? The grace of Allah and His blessings on you, o ye people of the house! for He is indeed worthy of all praise, full of all glory!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:73

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 69–73

ابراہیم ؑ کی بشارت اولاد اور فرشتوں سے گفتگو حضرت ابراہیم ؑ کے پاس وہ فرشتے بطور مہمان بشکل انسان آتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کی خوشخبری اور حضرت ابراہیم کے ہاں فرزند ہونے کی بشارت لے کر اللہ کی طرف سے آئے ہیں۔ وہ آکر سلام کرتے ہیں۔ آپ ان کے جواب میں سلام کہتے ہیں۔ اس لفظ کو پیش سے کہنے میں علم بیان کے مطابق ثبوت و دوام پایا جاتا ہے۔ سلام کے بعد ہی حضرت ابراہیم ؑ ان کے سامنے مہمان داری پیش کرتے ہیں۔ بچھڑے کا گوشت جسے گرم پتھروں پر سینک لیا گیا تھا، لاتے ہیں۔ جب دیکھا کہ ان نو وارد مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے ہی نہیں، اس وقت ان سے کچھ بدگمان سے ہوگئے اور کچھ دل میں خوف کھانے لگے حضرت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة هُوْد 82 مطلب یہ ہے کہ اگرچہ عادتا اس عمر میں انسان کے ہاں اولاد نہیں ہوا کرتی، لیکن اللہ کی قدرت سے ایسا ہونا کچھ بعید بھی نہیں ہے۔ اور جب کہ یہ خوشخبری تم کو اللہ کی طرف سے دی جا رہی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ تم جیسی ایک مومنہ اس پر تعجب کرے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 70–73

(آیت) فَلَمَّا رَآٰ اَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَيْهِ نَكِرَهُمْ ، یعنی جب دیکھا ابراہیم ؑ نے کہ ان کے ہاتھ کھانے تک نہیں پہنچتے تو متوحش ہوگئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مہمان کے آداب میں سے یہ ہے کہ مہمان کے سامنے جو چیز پیش کی جائے اس کو قبول کرے، (کھانے کو دل نہ چاہے یا مضر سمجھیں تو معمولی سی شرکت دلجوئی کے لئے کرلیں)۔ اسی جملہ سے دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ میزبان کو چاہئے کہ صرف کھانا سامنے رکھ کر فارغ نہ ہوجائے بلکہ اس پر نظر رکھے کہ مہمان کھا رہا ہے یا نہیں، جیسا ابراہیم ؑ نے کیا کہ فرشتوں کے کھانا نہ کھانے کو محسوس کیا۔ مگر یہ نظر رکھنا اس طرح ہو کہ مہمان کے کھانے کو تکتا نہ رہے، سرسری نظر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالُوْٓا اَتَعْجَبِيْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَبَرَكٰتُهٗ عَلَيْكُمْ اَهْلَ الْبَيْتِ ۭ اِنَّهٗ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔ فرشتوں کی اطمینان دہانی : اتعجبین کے لفظ سے صاف واضح ہے کہ فرشتوں نے حضرت سارہ کی ہنسی اور ان کے فقرے کو اس کے بالک صحیح یعنی اظہار تعجب کے مفہوم میں لیا اور نہایت ادب و احترام کے انداز میں انہوں نے حضرت سارہ کو توجہ دلائی کہ اے اہل بیت نبی خدا کے کسی کام اور اس کے کسی ارادہ پر تعجب کی کہاں گنجائش ہے، پھر آپ پر تو اس کے خاص افضال اور اس کی خاص رحمتیں اور برکتیں ہیں وہ بڑا ہی سزاوار حمد اور بڑا ہی بزرگ و برتر ہے۔ رحمۃ اللہ وبرکاتہ علیکم اھل البیت، میں علیکم، ضمیر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

73۔ 1 یہ استفہام انکار کے لئے ہے۔ یعنی تو اللہ تعالیٰ کے قضا و قدر پر کس طرح تعجب کا اظہار کرتی ہے جبکہ اس کے لئے کوئی چیز مشکل نہیں۔ اور نہ وہ اسباب عادیہ ہی کا محتاج ہے، وہ تو جو چاہے، اس کے لفظ کُنْ (ہو جا) سے معرض وجود میں آجاتا ہے۔ 73۔ 2 حضرت ابراہیم ؑ کی اہلیہ محترمہ کو یہاں فرشتوں نے ' اہل بیت ' سے یاد کیا اور دوسرے ان کے لئے جمع مذکر مخاطب (عَلَیْکُمْ) کا صیغہ استعمال کیا۔ جس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ ' اہل بیت ' کے لئے جمع مذکر کے صیغے کا استعمال بھی جائز ہے۔ جیسا کہ سورة احزاب، 33 میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ کی ازواج مطہرات کو بھی اہل بیت کہا ہے اور انھیں جمع مذکر کے صیغے سے مخاطب…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

42: یہ ترجمہ اہل البیت کو عربی گرامر کے قاعدے سے منصوب علی سبیل المدح قرار دینے پر مبنی ہے۔ ترجمے میں مقدس کا لفظ بھی اسی لیے بڑھایا گیا ہے۔ اس کا دوسرا ترجمہ اس طرح بھی ممکن ہے کہ : اے اہل بیت تم پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

بیشک امر الٰہی میں تعجب کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اگر ایک روٹین کسی حکم کے مطابق چل رہی ہو تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اس عادت اور حکم کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن جب اللہ کی حکمت چاہے تو یہ روٹین بدل بھی سکتی ہے۔ یہاں اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے گھرانے پر رحم کرتے ہوئے اس کو بدلا لیکن جب ہمیں بظاہر نظر آتا ہے کہ واقعات کی روٹین بدل گئی ہے اور کوئی واقعہ خلاف عادت ہے تو بھی دراصل وہ ایک گہری عادت کے مطابق ہوتا ہے۔ کیونکہ ہمیں سنن الہیہ کا بالاستیعاب علم حاصل نہیں ہے۔ اس کی حدود بہت ہی وسیع ہیں۔ ہم تو ایک حد تک حقائق کو دیکھ سکتے ہیں اور یہ حد بہت ہی مختصر اور محدود ہوتی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی جس گھرانے پر خدا کی اس قدر رحمتیں اور برکتیں نازل رہی ہیں اور جنہیں ہمیشہ معجزات و خوارق دیکھنے کا اتفاق ہوتا رہا، کیا ان کے لیے یہ کوئی تعجب کا مقام ہے ؟ ان کا تعجب کرنا خود قابل تعجب ہے۔ انھیں لائق ہے کہ بشارت سن کر تعجب کی جگہ خدا کی تحمید و تمجید کریں کہ سب بڑائیاں اور خوبیاں اسی کی ذات میں جمع ہیں۔ (تنبیہ) بعض محققین نے لکھا ہے کہ نمازوں میں جو درود شریف پڑھتے ہیں اس کے الفاظ میں اس آیت سے اقتباس کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 73 قَالُوْٓا اَتَعْجَبِيْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ یعنی یہ تو اللہ کا فیصلہ ہے اور ہم اللہ کی طرف سے آپ علیہ السلام کو خوشخبری دے رہے ہیں۔ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَبَرَكٰتُهٗ عَلَيْكُمْ اَهْلَ الْبَيْتِ اس آیت میں ”اہل بیت“ کا مفہوم بہت واضح ہو کر سامنے آتا ہے۔ یہاں پر اس کا مصداق حضرت سارہ کے علاوہ کوئی اور نہیں ‘ لہٰذا یہاں لازمی طور پر آپ ہی اہل بیت ہیں۔ چناچہ محمد رسول اللہ کے معاملے میں بھی اہل بیت رسول آپ کی ازواج مطہرات ہی ہیں۔ اور آپ کا فرمان جو حضرت فاطمہ ‘ حضرت علی ‘ حضرت حسن اور حضرت حسین کے بارے میں ہے : اَللّٰھُمَّ آٰؤُلاَءِ اَہْلُ بَیْتِیْ 1 تو یہ گویا آپ نے اپنے اہل بیت کے دائرے کو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

84 فرشتے کہنے لگے کہ ایک پیغمبر کی بیوی ہو کر اللہ کے کام پر تعجب کرتی ہو ؟ اللہ جو چاہے وہ اس کے کرنے پر قادر ہے اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے گھر والوں پر تو اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی رہی ہیں اور آئندہ بھی ہوتی رہیں گی جن میں سے ایک ہونے والا بچہ اسحاق کی پیدائش بھی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

108۔ (حالانکہ پیغمبر کے گھر میں رہ کر خوارق اور قدرت الہی کے عجائب تمہاری نظر سے برابر گزرتے ہی رہتے ہیں) زوج پیغمبر حضرت سارہ ؓ کے اس اظہار حیرت پر اب خود فرشتے اظہار حیرت کررہے ہیں۔ محققین نے اس مکالمہ سے یہ نہیں نکالا ہے کہ ملائکہ کی گفتگو غیر نبی کے ساتھ ناممکن نہیں۔ 109۔ (کہ اس کے نزدیک کوئی بڑا سا بڑا کام بھی مشکل نہیں اور اسی کی ذات ہر تحمید ہر تمجید کی مستحق ہے۔ (آیت) ” اھل البیت “۔ اس آیت نے اسے صاف کردیا کہ پیغمبر (علیہ السلام) کے زوج پر ” اہل بیت “ کا اطلاق تو بہرحال ہوتا ہے بلکہ بیت نبوی کو مفہوم اول تو ازواج نبی ہی ہوتے ہیں۔ یدل علی ان ازواج النبی ﷺ من اھل بیتہ (جصاص)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 69–83

آیت نمبر 69 تا 83 ترجمہ : ہمارے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحاق اور اس کے بعد یعقوب کی خوشخبری لے کر پہنچے، کہا تم پر سلام ہو سلامًا مصدر ہے ابراہیم نے کہا تم پر بھی سلام ہو کچھ) زیادہ ( دیر نہیں گزری کہ ابراہیم بھنا ہوا بچھڑا لے آئے مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑحٹے تو ان کو اجنبی محسوس کیا نَکِرَ بمعنی اَنکِرَ ہے تو ان کی طرف سے اپنے دل میں ابراہیم نے خوف محسوس کیا فرشتوں نے کہا خوف نہ کرو، ہمیں قوم لوط کی طرف بھیجا گیا ہے تاکہ ہم اس کو ہلاک کریں اور ابراہیم کی بیوی سارہ ان کی خدمت میں لگی ہوئی تھی تو وہ قوم کی ہلاکت) اور لوط ( کی) نجات کی ( بشارت سن کر ہنس پڑیں،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالوا اتعجبین من امر اللہ فرشتوں نے کہا : کیا اللہ کے حکم پر تجھے تعجب ہو رہا ہے ؟ حکم سے مراد ہے اللہ کی قدرت اور قضاء۔ یعنی اللہ کی قدرت پر تجھے تعجب نہ ہونا چاہئے ‘ کیونکہ اللہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے : ہوجا ‘ پس وہ چیز ہوجاتی ہے۔ ایک شبہ : تعجب نام ہے اس حالت کا جو کسی انوکھے اور غیر معمولی امر کو دیکھنے کی وجہ سے انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ اور اولاد کی بشارت تھی بھی انوکھی ‘ غیر معمولی چیز۔ لیکن کسی امر کے غیر معمولی اور انوکھے ہونے سے یہ بات تو نہیں کہی جاسکتی کہ وہ اللہ کی قدرت سے باہر ہے۔ ہر نادر امر اللہ کی قدرت میں داخل ہے اور اس پر تعجب کرنا نامناسب (اور خلاف فطرت۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(73) فرشتوں نے ان سے کہا کہ اب بھی (خاندان نبوت میں رہ کر) اللہ کی قدرت میں تعجب کرتی ہو اور خصوصا ابراہیم ؑ کے گھر والو تم پر تو اللہ تعالیٰ کی برکتیں اور رحمتیں نازل ہوتی رہتی ہیں، بیشک وہ اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں میں تعریف کے لائق اور بڑی شان والا ہے کہ تمہیں نیک لڑکے کی وجہ سے اعزاز عطا کیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالُوْٓا اَتَعْجَبِيْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ : یعنی وہ تو ماں باپ کے بغیر بھی پیدا کرسکتا ہے، پھر بوڑھی عورت کو بچہ عطا کرنا اسے کیا مشکل ہے۔ جب اللہ کے امر کے سامنے کوئی چیز ناممکن نہیں تو تعجب کیسا۔ پھر اس گھر میں شروع سے اللہ کی رحمت و برکت کے جو معجزے ظاہر ہوتے رہے ہیں، مثلاً آگ کا گلزار ہونا، اسماعیل ؑ کا ذبح سے محفوظ رہنا، مصر کے اس ظالم جبار سے سارہ[ کی عصمت کا محفوظ رہنا وغیرہ، ان کے بعد تو اللہ کے حکم سے کسی بھی ناممکن کام کے ہوجانے پر تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَبَرَكٰتُهٗ عَلَيْكُمْ اَهْلَ الْبَيْتِ :”اَهْلَ الْبَيْتِ“ سے پہلے حرف ندا ”یَا“ مقدر ہے، اس لیے یہ منصوب ہے،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 73 اس میں چارمسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : قالوٓااتعجبین من امر اللہ جب اس نے کہا : واناعجوروھٰذابعلی شیخًا اور حیران ہوئی تو فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے امر یعنی اس کی قضا اور تقدیر سے اس کے تعجب کو ناپسند کیا، یعنی اس میں کوئی تعجب نہیں کہ اللہ تعالیٰ تم دونوں کو بچہ عطا فرمائے اور وہ حضرت اسحاق ہے۔ اس آیت سے بہت سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ ذبیح حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں اور یہ حضرت اسحاق سے عمر میں بڑے ہیں، کیونکہ حضرت سارہ کو بشارت دی گئی کہ اسحاق زندہ رہیں گے یہاں تک کہ ان سے یعقوب پیدا ہوں گے۔ عنقریب اس بارے میں گفتگو آئے گی اور اس کا بیان سورة صافات میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 70–73

1:۔ عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں کعب ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) سدوم پر برتری کا اظہار فرما رہے تھے اور فرماتے تھے تیرے لئے ہلاکت ہو اے سدوم اس دن تیرے کیا حال ہوگا پھر فرمایا (آیت) ” ولقد جآءت رسلنا ابرھیم بالبشری قالوا سلما قال سلم فما لبث ان جآء بعجل حنیذ (69) “ ان کے لئے ایک بھنا ہوا بچھڑا لے کر آئے کیونکہ انہوں نے ان کو مہمان خیال کیا (آیت) ” فلما را ایدیہم لا تصل الیہ نکرھم واوجس منہم خیفۃ قالوا لا تخف انا ارسلنا الی قوم لوط (70) وامراتہ قآ ئمۃ فضحکت فبشرنھا باسحق، ومن ورآء اسحاق یعقوب (71) “ یعنی پوتے کی بشارت دی۔ (آیت) ” قالت یویلتیء الدوانا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالُوْٓا : ان لوگوں نے کہا ] [اَ : کیا ] [تَعْجبيْنَ : آپ تعجب کرتی ہیں ] [مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ : اللہ کے حکم سے ] [رَحْمَتُ اللّٰهِ : اللہ کی رحمت ] [وَبَرَكٰتُهٗ : اور اس کی برکتیں ہیں ] [عَلَيْكُمْ : آپ لوگوں پر ] [اَهْلَ الْبَيْتِ : اے گھر والو ] [انهٗ : بیشک وہ ] [حَمِيْدٌ: حمد کیا ہوا ہے ] [ مَّجِيْدٌ: بڑی شان والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 69–76

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں فرشتوں کا حاضر ہونا اور فرشتوں کا بیٹے اور پوتے کی بشارت دینا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وطن ایران اور عراق کے درمیان تھا ان کی قوم بت پرست تھی ‘ نمرود کی حکومت تھی وہاں انہوں نے توحید کی دعوت دی ‘ قوم نے مخالفت کی دشمنی پر اتر آئے حتیٰ کہ آپ کے باپ نے بھی یوں کہہ دیا۔ (لَءِنْ لَّمْ تَنْتَہِ لَاَرْجُمَنَّکَ وَاھْجُرْنِیْ مَلِیًّا) (اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے پتھروں سے مار دوں گا اور تو مجھے ہمیشہ کے لئے چھوڑ دے) ان لوگوں نے آگ میں ڈال دیا اللہ نے آگ ان پر ٹھنڈی کردی اور وہ اس میں سے صحیح سلامت باہر نکل آئے اور پھر اپنا وطن چھوڑ کر ملک شام کے علاقہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–76

قصہ ابراہیم (علیہ السلام) مشتمل بربشارت ملائکہ کرام بولادت اسحاق (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ولقد جاءت رسلنا ابراہیم بالبشری .... الیٰ .... عذاب غیر مردود۔ (ربط) اب ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان کرتے ہیں جس میں فرشتوں کی تولد فرزند کی بشارت کا ذکر ہے کہ تمہارے یہاں ایک بیٹا ہوگا جس کا نام اسحاق (علیہ السلام) ہوگا پھر اس بیٹے کے ایک بیٹا ہوگا جس کا نام یعقوب (علیہ السلام) ہوگا۔ اس بشارت کے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر ایک سو بیس برس کی تھی اور حضرت سارہ ؓ کی عمر نوے یا بانوے سال کی تھی حضرت ہاجرہ (علیہ السلام) سے حضرت اسمعیل (علیہ السلام) پہلے پیدا ہوچکے تھے۔ سارہ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

66:۔ فرشتوں نے حضرت سارہ کا تعجب دیکھ کر کہا کیا آپ اللہ کی قدرت پر تعجب کرتی ہیں اور اس کی قضاء وقدرت پر حیران ہوتی ہیں ؟ اللہ کے لیے کوئی شمکل نہیں اے اہل بیت نبوت ! یہ تم پر اللہ کی رحمت و برکت ہے اِنَّہٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ وہ صفات جمالیہ و نعوت جلالیہ کا مالک ہے وہ رحمت و برکت بھی دیتا ہے اور سرکشوں کو سزا بھی دے سکتا ہے۔ یہ آیت وَھُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُ ذُوْ الْعَرْشِ الْمَجِیْدُ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ کی مانند جامع صفات باری تعالیٰ ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 69–76

ربط آیات گزشتہ کئی دروس سے مختلف انبیاء (علیہم السلام) کی تبلیغ کا تذکرہ ہو رہا ہے حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو یہی نصیحت کی کہ لوگو ! اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، اپنی غلطیوں کی معافی مانگو اور اسی کو طرف رجوع رکھو۔ ان نافرمان قوموں پر عذاب کا ذکر بھی ہوچکا ہے۔ قوم نوح طوفان میں تباہ ہوئی ، قوم ہود کو تیز آندھی نے آپکڑا اور صالح (علیہ السلام) کی قوم کے لئے اوپر سے چیخ اور نیچے سے زلزلہ آیا جس نے ساری قوم کو نیست و نابود کر کے رکھ دیا۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی اصطلاح میں یہ تذکیر بایام اللہ ہے۔ یہ لفظ آگے موسیٰ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْٓا اَتَعْجَبِيْنَ مِنْ اَمْرِ اللہِ رَحْمَتُ اللہِ وَبَرَكٰتُہٗ عَلَيْكُمْ اَہْلَ الْبَيْتِ۝ 0ۭ اِنَّہٗ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۝ 73 رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 71–83

1 ؎ الضحک ہوالسرور و انبساط الوجہ دھذا قول الجمہور وقیل ضحکت بمعنی حاضت العرب یقول اضحکت الارنب اذا خاصت وانکرہ اکثر اہل اللغۃ یعقوب بالنصب مفعول بشرنا وقری بالجرومنعہ الفراء وقری بالرفع علی الابتدا وخبرہ الظرف الذیمی قبلہ اہل البیت نصبہ علی المدح اذا الاختصاص وفیہ دلیل علی ان ازواج الرجل من اہل بیتہ۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 71–73

وَامْرَاَتُہٗ قَآئِمَۃٌ فَضَحِکَتْ فَبَشَّرْنٰھَا بِاِسْحٰقَ لا وَمِنْ وَّرَآئِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ ۔ قَالَتْ یٰوَیْلَتٰٓی ئَ اَلِدُوَاَنَا عَجُوْزٌوَّھٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا ط اِنَّ ھٰذَا لَشَیْئٌ عَجِیْبٌ۔ قَالُوْآ اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِاللّٰہِ رَحْمَتُ اللّٰہِ وَبَرَکٰـتُہٗ عَلَیْکُمْ اَھْلَ الْبَیْتِ ط اِنَّہٗ حَمِیْدٌمَّجِیْدٌ۔ (سورۃ ہود : 71، 72، 73) (اور ان کی اہلیہ (سارہ) کھڑی تھیں، وہ ہنس پڑیں۔ پھر ہم نے سارہ کو خوشخبری دی، اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔ سارہ نے کہا ہائے حیرانی، کیا میں بچہ جنوں گی، حالانکہ میں خود ایک بڑھیا ہوں اور یہ میرے شوہر بوڑھے ہیں۔ یقینا یہ بڑی عجیب و…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 71–75

فہم القرآن ربط کلام : ملائکہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہونے کا مقصد بیان کرتے ہیں۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی زوجہ مکرمہ اس موقعہ پر کھڑی ملائکہ کی گفتگو سن رہی تھیں۔ کچھ مفسرین نے ان کے اس طرح کھڑے ہونے کے بارے میں قیل وقال کی ہے۔ حالانکہ قریب کھڑے ہونے کا یہ معنی نہیں لیا جاسکتا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زوجہ مکرمہ جن کا اسم گرامی حضرت سارہ ہے کہ وہ بےپردہ اس مجلس میں آکھڑی ہو۔ کیا عورت اپنے خاوند کی موجودگی میں مہمانوں کو کھانا پیش کرنے کے وقت باپردہ حاضر نہیں ہوسکتی ؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ وہ پردے کے پیچھے کھڑی ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کھانا پکڑا رہی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تعجب کا جواب : 73: قَالُوْا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ (انہوں نے کہا کیا تم تعجب کرتی ہو اللہ تعالیٰ کے حکم سے) امر سے حکمت وقدرت مراد ہے فرشتوں نے سارہ کے تعجب کو عجیب خیال کیا۔ کیونکہ وہ ایسے گھر میں تھیں جس میں آیات قدرت اور معجزات ظاہر ہوتے رہتے تھے۔ فارق عادت امور کا وہ مہبط تھا۔ پس ان کو مناسب تھا کہ وہ توقیر کرتیں اور اس میں دیگر عورتوں کی طرح اظہار تعجب نہ کرتیں جو کہ بیت نبوت میں نہیں رہتیں اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تمجید کرتیں بجائے اس کے تعجب کرنے لگیں۔ اسی طرف فرشتوں نے یہ کہہ کر اشارہ کیا۔ رَحْمَتُ اللّٰہِ وَبَرَکٰتُہٗ عَلَیْکُمْ اَھْلَ الْبَیْتِ (اللہ تعالیٰ کی رحمتیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

73۔” قالوا “ فرشتے کہنے لگے ۔ ” اتعججبین من امر اللہ “ معنی یہ ہے کہ اللہ کے حکم سے تعجب نہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ جب کسی شے کا ارادہ کرتے ہیں تو وہ ہوجاتی ہے۔ ” (رح) وبرکاتہ علیکم اھل البیت “ یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کے گھر والو بعض علماء نے کہا یہ جملہ دعائیہ ہے ۔ بعض نے کہا کہ خبر یہ ہے کہ رحمت سے مراد نعمت یا محبت اور برکت ہے اور برکات جمع ہے۔ برکۃ کی اور وہ ثبوت چیز ہے ۔ اس آیت میں دلیل ہے کہ بیویاں بھی اہل بیت میں داخل ہیں ۔ ” انہ حمید مجید “ حمید جس کے افعال میں اس کی تعریف کی جائے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 69–73

69۔ 73۔ یہ ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ تمہید کے طور پر لوط (علیہ السلام) کے قصے سے پہلے ذکر کیا گیا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک بھائی تھے جن کا نام ہاران تھا انہیں کے بیٹے حضرت لوط (علیہ السلام) تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر یہی سب سے پہلے ایمان لائے تھے۔ نوح (علیہ السلام) سے دو ہزار چھ سو بیالیس برس کے بعد یہ بھیجے گئے تھے ان کی عمر ایک سو پچھتر برس کی ہوئی ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے اسحاق (علیہ السلام) کی عمر ایک سو اسی برس کی ہوئی اور ابراہیم کے پوتے یعقوب بن اسحاق (علیہ السلام) کی عمر ایک سو پنتالیس سال کی ہوئی۔ ابراہیم (علیہ السلام) فلسطین ایک ملک ہے وہاں رہتے تھے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت) ” انہوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے “ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں، اس لئے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ (آیت) ” اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں “ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الہٰی کا نزول ہمیشہ رہے گا (آیت) ” تم پر اے گھر والو ! بیشک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے “ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

ازواج مطہرات اہل بیت میں قول باری ہے العجبین من امر اللہ رحمۃ اللہ وبرکاتہ علیکم اھل البیت اللہ کے حکم پر تعجب کرتی ہو، ابراہیم کے گھر والو، تم لوگوں پر تو اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں ۔ یہ قول باری اس پر دلالت کرتا ہے کہ حضور ﷺ کی ازواج مطہرات آپ کے اہل بیت میں داخل تھیں اس لیے کہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زوجہ محترمہ کو انکے اہل بیت میں شمار کیا ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی ازواج مطہرات کو خطاب کرتے ہوئے انہیں اہل بیت کے لفظ سے یاد فرمایا، چناچہ ارشاد باری ہے۔ ومن یقیت منکن للہ ورسولہ وتعمل صالحا ً نو تھا اجرھا موتین واعتدنا لھا رزقتا ً کریما ً اور جو کوئی تم میں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 73–75

157 ۔ کسی کے اہل بیت اصل میں اس کی بیوی ہی ہوتی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ فرشتوں نے حضرت سارہ کے تعجب کے جواب میں ان سے کہا کہ کیا تم اللہ کے حکم سے تعجب کرتی ہو حالانکہ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں تم پر اے نبی کے گھر والو برابر برستی رہتی ہیں۔ سو یہ بھی مزید ایک کرامت و رحمت ہے جو اس کی طرف سے تمہیں نصیب ہو رہی ہے۔ پس تمہیں اس پر تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی کی گھر والی ہی اس کی اصل اہل بیت ہوتی ہیں۔ کیونکہ یہاں " اہل البیت " کا مصداق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی ہی ہیں۔ پس اس سے ہمارے حضور ﷺ کی ازواج مطہرات سے دشمنی رکھنے والے ان روافض کے منہ پر بھی ایک…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 69–76

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری تشریح : اس سورت میں حضرت نوح (علیہ السلام) سے حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) تک کے تمام انبیاء کا ذکر کیا گیا ہے۔ اصل میں ان انبیاء اور ان کی قوموں کے سلوک و کردار اور پھر ان کی تباہی کا ذکر قرآن پاک میں اس لیے بار بار کیا جا رہا ہے تاکہ آخری رسول کو تسلی ہو اور لوگوں کو ڈرایا جائے، عبرت حاصل ہو کہ گناہ و نافرمانی کا انجام سوائے تباہی و بربادی کے اور کچھ نہیں۔ اس موجودہ رکوع میں حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے حالات اور عذاب کا ذکر کیا گیا ہے۔ شروع میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ اصل میں جو فرشتے قوم لوط پر عذاب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 69–83

آیات 69 تا 83 اسرار و معارف اعمال وکردار اور ان پر مرتب ہونے والے نتائج کا یہ فرق اس واقعہ سے بھی ظاہر ہے کہ جب ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اپنے فرشتے بھیجے کہ انھیں اولاد کی خوشخبری دیں وہی فرشتے جو ان کے لئے نوید مسرت لائے تھے قوم لوط پر تباہی لانے کے لئے بھی مامور تھے جو ان سے صرف دس بارہ میل آباد تھی۔ یہ فرشتے انسانی شکل میں پہنچے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے سمجھا کوئی مہمان آگئے ہیں ۔ جب انھوں نے سلام کیا اور آپ نے سلام کا جواب دیا انھیں بٹھایا اور فورا ایک بچھڑاتل کرلے آئے چونکہ آپ کے ہاں گائے بیل تھے تو ایک موٹا تازہ بچھڑاکاٹ کر پکاکر حاضر کردیا۔ سلام اور جواب یہاں ظاہر ہے کہ ہر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 ۔ یعنی وہ تو ماں باپ کے بغیر بھی پیدا کرسکتا ہے۔ پھر بوڑھی عورت کو بچہ عطا کرنا اسے مشکل ہے ؟ 8 ۔ یا تم پر خدا کی رحمت اور برکت ہو۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ ازواج (بیویاں) انسان کے اہل بیت میں سے ہوتی ہیں۔ (ت۔ ن) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(11:73) تعجبین۔ تو تعجب کرتی ہے۔ حمید۔ بروزن فعیل بمعنی مفعول محمود صفت مشبہ۔ ستودہ۔ تعریف کیا ہوا سراہا ہوا۔ حمد سے۔ مجید۔ مجد یمجد مجد کے معنی کرم و شرف اور بزرگی میں وسعت اور پہنائی کے ہیں۔ ذات باری تعالیٰ کا اس صفت کے ساتھ متصف ہونا اس کے وسعت فیض اور کثرت جود کے سبب سے ہے۔ مجید وسعت کرم کا مالک۔ وسیع الفضل ، کثیر الخیر، رفیع الشان۔ سب سے بڑھ کر بزرگ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 69–76

لغات القرآن آیت نمبر 69 تا 76 رسلنا (ہمارے بھیجے گئے، بھیجے ہوئے) البشری (خوش خبری) سلام (سلام، سلامتی) مالبت (نہیں ٹھہرا) عجل (بچھڑا) حنید (بھنا ہوا) را (اس نے دیکھا) ایدیھم (ان کے ہاتھ) لاتصل (نہیں پہنچ رہے ہیں) نکر (اوپرا، عجیب سا لگا) او جس (اس نے محسوس کیا) خیفۃ (خوف) لاتخف (ڈر مت) قائمۃ (کھڑی ہونے والی) ضحکت (ہنس پڑی) وراء (پیچھے) یویلتی (ہائے افسوس) ء الد (کیا میں جنوں گی، (میرے یہاں ولادت ہوگی) عجور (بڑھیا، زیادہ عمر کی ہوجانا) بعلی (میرا شوہر) شیخ (زیادہ بوڑھا ہونا) اتعجبین (کیا تم تعجب کر رہی ہو ؟ ) اھل لبتک (گھر والے) حمید (تمام تعریفوں والا) مجید (تمام عظمتوں والا) الروع (گھبراہٹ)…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 69–73

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاں فرشتوں کی مہمان داری اور بشارت دینا ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ تین فرشتے جبرئیل، میکائیل، اسرافیل یہ تینوں فرشتے خوبصورت لڑکوں کی صورت بن کر پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحاق (علیہ السلام) کے پیدا ہونے کی خوشی بتانے کو آئے اور آتے ہی سلام کیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی سلام کا جواب دیا مگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو پہچانا نہیں مہمان سمجھا اور اپنی عادت کے موافق کہ جب کوئی مہمان آجاتا تو خاطر تواضع کرتے تھے۔ ان کے کھانے پینے کا بھی انتظام کرنے لگے اور ایک جوان گائے ذبح کر کے اس کے کباب لگائے۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے مہمانوں کے آگے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 72–73

[40] اصل میں یویلتٰی استعمال ہوا ہے جس کا ترجمہ ہمارے ہاں کی زنانہ بول چال کے مطابق کیا گیا ہے۔ عربی میں اسے اظہار تعجب پر بولتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 73–77

سارہ کا تعجب : (ف 2) حضرت سارہ نے فرشتہ سے جب بچے کی خوشخبری سنی ، تو انہیں تعجب ہوا ، کہنے لگیں ، میں تو اب بوڑھی ہوچکی ابراہیم (علیہ السلام) بھی عمر رسیدہ ہیں ، اس حالت میں پھر کیونکر ” ماں “ بننے کا فخر مجھے عنایت ہوگا فرشتے نے جوابا کہا ، کہ تم خدا کی قدرت سے تعجب کرتی ہو ؟ تعجب انگیز نہٰن ، اس کا کرم ہے ، جب چاہے ، نازل ہوجائے ، اعتراض کیسا ، تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہو نگی اور خدا لائق صد مدح و ستائش ہے وہ جو چاہئے کرے یعنی اللہ کی ہر بات ضاطہ اور قانون ہے وہ سب کچھ کرسکتا ہے ، بڑھاپے میں اولاد کی نعمت سے نواز دے یا عین جوانی میں محروم رکھے ، ہر طرح ممکن اور صحیح ہوگا ، اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

73 فرشتوں نے کہا کیا تو خدا کی قدرت اور اسکے کام میں تعجب کرتی ہے اے ابراہیم (علیہ السلام) کے گھرانے والو ! تم پر تو اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت اور انواع و اقسام کی برکتیں نازل ہوتی رہتی ہیں بیشک اللہ تعالیٰ جملہ صفات سے متصف اور بڑی بزرگی کا مالک ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ وہ بڑے سے بڑا کام کرسکتا ہے پس بجائے تعجب کے اس کی تعریف اور شکر میں مشغول ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مہمانوں نے کہا کہ اللہ کے کاموں پر تعجب کی کیا بات ہے یہ تو فیصلہ الٰہی ہے 96 ؎ بلاشبہ اکثر حالات میں اولاد شادی کے بعد جلد ہی پیدا ہونا شروع ہوجاتی ہے لیکن بعض اوقات ایک لمبی مدت تک اولاد نہیں ہوتی یا اگر ہوتی ہے تو مر جاتی ہے اور پھر عرصہ کے بعد اس جوڑے کے ہاں اولاد پیدا ہوجاتی ہے اور یہ بھی کہ اگر اولاد مر جاتی رہے تو ایک مدت کے بعد اولاد کی صحیح پرورش بھی شروع ہوجاتی ہے اور اولاد باقی رہنے لگتی ہے۔ قانون الٰہی میں ہر طرح کے حالات پیدا ہوتے رہتے ہیں جو بغیر وجہ بھی نہیں لیکن ان وجوہ کو ظاہری آنکھیں اور عقل و فکر نہیں پا سکتی اور علم الٰہی میں تو ہر کام کا ایک وقت مقرر ہی ہے اور جب وہ وقت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 70–73

In verse 70, it was said: فَلَمَّا رَ‌أَىٰ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَ‌هُمْ (So, when he noticed their hands not reaching for it, he found them strange and felt a bit of fright from them). From here we learn that there are rules of etiquette for guests as well. A guest should accept whatever is offered. Let him partake from it a little bit to please the host, even if not willing to eat because of unfavorable taste or apprehended harm. This very sentence also tells us that the host should not consider himself absolved after having placed the food before the guest. In-stead, he…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

82. Ordinarily, it is uncommon for women to bear children at such an advanced age. However, such a thing is not at all beyond the range of God's power. And since the tiding had been conveyed at the instance of God, there was no reason why a staunch believer such as Sarah should feel astonished, let alone entertain any doubts about it.

Read the full tafseer →