Explained with ayahs 64–68
ان تمام آیتوں کی پوری تفسیر اور ثمودیوں کی ہلاکت کے اور اونٹنی کے مفصل واقعات سورة اعراف میں بیان ہوچکے ہیں یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
سورة هُوْد 74
جزیرہ نمائے سینا میں جو روایات مشہور ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ثمود پر عذاب آیا تو حضرت صالح ؑ ہجرت کر کے وہاں سے چلے گئے تھے۔ چناچہ حضرت موسیٰ ؑ والے پہاڑ کے قریب ہی ایک پہاڑی کا نام نبی صالح ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہی جگہ آنجناب کی جائے قیام تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
(آیت) تَمَتَّعُوْا فِيْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ ، یعنی جب لوگوں نے حکم خداوندی کی خلاف ورزی کر کے اس معجزہ والی اونٹنی کو مار ڈالا تق جیسا پہلے ان کو متنبہ کردیا گیا تھا کہ ایسا کرو گے تو اللہ کا عذاب تم پر آئے گا، اب وہ عذاب اس طرح آیا کہ ان کو تین روز کی مہلت دی گئی اور بتلا دیا گیا کہ چوتھے روز تم سب ہلاک کئے جاؤ گے۔
Read the full tafseer →فَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا نَجَّيْنَا صٰلِحًا وَّالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَمِنْ خِزْيِ يَوْمِىِٕذٍ ۭ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيْزُ۔
قریش کو تنبیہ آنحضرت ﷺ تسلی : " امر " سے مراد وہ عذاب ہے جو ثمود پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے آیا۔ اس عذاب کو لفظ امر سے تعبیر کرنے میں یہ بلاغت ہے کہ جونہی حکم صادر ہوا معاً عذاب آدھمکا۔ گویا امر ہی کے اندر عذاب مضمر تھا۔ نجینا صالحا والذین امنوا معہ برحمۃ منا، یعنی ہم نے اپنے خاص فضل سے صالح اور اس کے ساتھ ایمان لانے والوں کو نجات دی۔ ورنہ یہ آفت ایسی بےپناہ اور ہمہ گیر تھی کہ اللہ کی رحمت کے سوا اور کوئی چیز اس سے نجات دلانے والی…
Read the full tafseer →66۔ ا 1 س سے مراد وہی عذاب ہے جو وعدے کے مطابق چوتھے دن آیا اور حضرت صالح ؑ اور ان پر ایمان لانے والوں کے سوا، سب کو ہلاک کردیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
37: عذاب سے پہلے ان کو تین دن کی مہلت دی گئی تھی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
جب اللہ کے امر کا وقت قریب ہوگیا اور امر یہ تھا کہ یا تو یہ لوگ ڈر جائیں اور ایمان لے آئیں ورنہ پھر انہیں نیست و نابود کردیا جائے تو اس وقت ہم نے حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والے ساتھیوں کو اپنی رحمت کی وجہ سے نجات دی ، یہ نجات صرف ان کے لیے تھی اور ان کے ساتھ مخصوص تھی۔ یعنی ان کو موت سے بھی نجات دی اور اس دن کی شرمندگی اور ذلت سے بھی نجات دی کیونکہ ان کو زندگی سے معمول کے مطابق محروم نہیں کیا گیا بلکہ بڑی ذلت کے ساتھ ان سے حیات کو چھینا گیا۔ اور جب ایک سخت آواز نے ان کو آ لیا تو یہ سب کے سب مر گئے۔ اور جو جہاں تھا ، وہیں گر گیا اور یہ ان کے لیے ذلت آمیز موت تھی۔
إِنَّ…
Read the full tafseer →10 یعنی جب حکم عذاب پہنچا تو ہم نے " صالح " اور ان کے ساتھیوں کو بچا دیا۔ اور کا ہے سے بچا دیا ؟ اس دن کی رسوائی سے، " ( وَمِنْ خِزْيِ يَوْمِىِٕذٍ ) 11 ۔ ہود :66) ، نَجَّیْنَا " کی شرح و تفصیل ہے ؟
1 یعنی جسے چاہے ہلاک کردے اور جسے چاہے بچادے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
آیت 65 فَعَقَرُوْهَا
انہوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے اونٹنی کو ہلاک کر ڈالا۔
Read the full tafseer →78 صالح (علیہ السلام) کی ہجرت :۔ عذاب کے نازل ہونے سے پیشتر ہی آپ بموجب حکم الٰہی اپنے ایمان دار ساتھیوں کو لے کر فلسطین کی طرف روانہ ہوگئے اور یہ سب لوگ اس ذلت اور عذاب سے بچ گئے جو اس مجرم قوم پر نازل ہونے والا تھا۔
Read the full tafseer →98۔ وہ جس کو چاہے مبتلائے عذاب بھی کرسکتا ہے اور جسے چاہے بچا بھی سکتا ہے وہ ہر صورت پر یکساں قادر ہے۔ (آیت) ” من خزی یومئذ “۔ یعنی ایک نجات تو عذاب ہلاکت سے دی دوسری نجات ذلت ورسوائی سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
آیت نمبر 61 تا 68
ترجمہ : اور ہم نے ثمود کے پاس ان کے خاندانی بھائی صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا، اس نے کہا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو) یعنی ( اس کی توحید کا اقرار کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اس نے تم کو پیدا کیا یعنی تمہاری تخلیق ابتداء مٹی سے کی تمہارے دادا آدم کو مٹی سے پیدا کرکے اور اسی نے تم کو زمین میں بسایا یعنی تم کو) زمین کا ( باشندہ بنایا تاکہ تم اس میں سکونت اختیار کرو پس تم اس سے معافی طلب کرو شرک سے اور پھر طاعت کے ذریعہ اس کی طرف رجوع کرو بیشک میرا رب اپنی مخلوق سے باعتبار علم کے قریب ہے اور جو اس سے سوال کرتا ہے اس کا قبول کرنے والا ہے ان لوگوں نے جواب…
Read the full tafseer →فلما جاء امرنا نجینا صٰلحًا والذین امنوا معہ برحمۃ منا ومن خزی یومئذ پھر جب ہمارا (عذاب کا) حکم آپہنچا تو ہم نے صالح کو اور ان کے ساتھ والے مؤمنوں کو اپنی رحمت کے سبب بچا لیا اور اس روز کی رسوائی (یعنی ہلاکت) سے محفوظ رکھا۔
ان ربک ھو القوي العزیز بلاشبہ تمہارا رب ہر شے پر قادر اور غالب ہے۔
Read the full tafseer →(66) چناچہ جب ہمارا عذاب نازل ہوا تو ہم نے حضرت صالح ؑ اور اہل ایمان کو اپنے عذاب سے بچا لیا اور اس دن کے عذاب سے نجات دی اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کے بچانے میں طاقتور اور اپنے دشمنوں سے انتقام لینے میں غلبہ والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
ان آیات کی تفسیر سورة اعراف کی آیات (77 تا 79) میں اور سورة ہود کے اس سے پچھلے رکوع کے آخر میں ملاحظہ فرمائیں۔ ”کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْھَا“ ”غَنِیَ یَغْنٰی“ (ع) ”فِیْ مَکَانٍ کَذَا“ جب کوئی شخص لمبی مدت کسی جگہ میں یوں رہے کہ وہ اس کے سوا کسی بھی جگہ سے غنی ہو۔”مَغْنَی“ مصدر بھی ہے، مکان بھی، یعنی رہنا اور رہنے کی جگہ۔ (مفردات راغب)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–68
آیت نمبر 62 تا 68
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : قالو ایٰصٰلح قدکنت فیھا مرجوًاقبل ھٰذآ یعنی اس سے پہلے ہم امید کرتے تھے کہ آپ ہی ہم میں سے سردار ہوں گے، یعنی آپ کے دعویٰ نبوت سے پہلے۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) ان کے معبودوں کو غیب کی طرف منسوب کرتے اور ان سے نفرت کرتے تھے۔ اور وہ آپ سے انہی کے دین کی طرف لوٹنے کی امید کرتے تھے، پس جب آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا تو انہوں نے کہا : ہماری تم سے وابستہ امیدیں ختم ہوگئی ہیں۔ اتنھٰنآاستفہام ہے جس کا معنی انکار ہے۔ ان نعبد یعنی (عن ان نعبد) اس بات سے کہ ہم عبادت کریں۔ مایعبداٰباؤناان محل نصب میں ہے عن حرب جر کے ساتھ ہونے کی وجہ سے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعوت :
1:۔ ابوالشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھوانشاکم من الارض “ سے مراد ہے کہ اس نے تم کو پیدا کیا زمین میں سے۔
2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واستعمرکم فیھا “ یعنی اس میں تم کو آباد کیا۔
3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واستعمرکم فیھا “ یعنی اس میں تم کو خلیفہ بنایا۔
4:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فما تزیدوننی غیر تخسیر “ یعنی تم نہیں زیادہ ہوتے ہو مگر خسارے میں۔
5:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے عطا خراسانی (رح)…
Read the full tafseer →[فَلَمَا : پھر جب ] [جَاۗءَ : آیا ] [اَمْرُنَا : ہمارا حکم ] [نَجَّيْنَا : تو ہم نے نجات دی ] [صٰلِحًا : صالح (علیہ السلام) کو ] [وَّالَّذِينَ : اور ان کو جو ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [مَعَهٗ : ان (علیہ السلام) کے ساتھ ] [بِرَحْمَةٍ : رحمت سے ] [مِّنَا : اپنی (طرف) سے ] [ وَمِنْ خِزْيِ يَوْمِىِٕذٍۭ: اور اس دن کی رسوائی سے ] [ان : بیشک ] [رَبَّكَ : آپ ﷺ کا رب ] [هُوَ الْقَوِيُّ : ہی قوت والا ہے ] [ الْعَزِيْزُ : بالا دست ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–66
قوم ثمود کو حضرت صالح (علیہ السلام) کا تبلیغ فرمانا اور قوم کا نافرمانی کی وجہ سے ہلاک ہونا
سورة اعراف کے رکوع میں حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کی قوم ثمود کا واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا جا چکا ہے وہاں مراجعت فرما لیں مختصر طریقے پر یہاں بھی لکھا جاتا ہے حضرت صالح (علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے یہ قوم عاد کے بعد تھی۔ سورة اعراف میں ہے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا : (وَاذْکُرُوْا اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَاءَ مِنْ م بَعْدِ عَادٍ وَّبَوَّاَکُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنَ سُھُوْلِھَا قُصُوْرًا وَّتَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا فَاذْکُرُوْا اٰلَاء اللّٰہِ ولَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–68
قال اللہ تعالیٰ والی عاد اخاھم ھودا .... الیٰ .... الا بعد العاد قوم ھود۔
(ربط) نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد دوسرا قصہ ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم عاد کا ہے جس میں قوم عاد کی ضلالت اور عذاب کا حال بیان فرمایا ہے یہ لوگ شرک اور بت پرستی میں مبتلا تھے اور دولت و ثروت کی وجہ سے مغرور تھے۔ اور انبیاء (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کا حقارت کی نظروں سے دیکھتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو دو خصوصیتیں عطا فرمائی تھیں ایک قوت و توانائی کما قال تعالیٰ وقالوا من اشد منا قوۃ۔ دوم یہ کہ ان کے بلاد نہایت سرسبز اور شاداب تھے یمن ان کا مسکن تھا۔ صاحب زراعت اور صاحب عمارت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
61:۔ جب ہمارے عذاب کا معین وقت آپہنچا تو ہم نے صالح اور اس کے مومن ساتھیوں کو محض اپنی رحمت سے نجات دی اور اس دن کی ذلت ورسوائی سے ان کو بچا لیا۔ وَاَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا الخ اور ظالم (مشرک) لوگ ایک ہی آسمانی چیخ سے اپنے گھروں میں اس طرح ڈھیر ہوگئے گویا کہ وہ ان میں کبھی آباد ہی نہیں ہوئے تھے۔ یہ ہے اللہ کے پیغمبروں اور اللہ کی توحید کا انکار کرنے والوں کا انجام۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–68
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید کی تفہیم کے لئے اس سورة مبارکہ میں متعدد انبیاء (علیہم السلام) کا تذکرہ کیا ہے۔ پہلے حضرت نوح اور ہود (علیہما السلام) کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے اپنی اپنی قوم کو یہی دعوت دی۔ ” اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ “ اے لوگو ! صرف اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے بغیر تمہارا کوئی معبود نہیں۔ سورة کی ابتداء میں حضور خاتم النبین ﷺ کی زبان مبا کہ سے بھی یہی کلمات دہرائے گئے اور صالح (علیہ السلام) کو تبلیغ کالب لباب بھی یہی تھا کہ لوگو ! عبادت صرف اللہ کی کرو ، اس سے معافی مانگو اور اس کی طرف رجوع رکھو۔ آپ کی قوم نے کہا کہ ہم تو تمہیں بڑا ہونہار سمجھتے تھے کہ تو باپ دادے کا…
Read the full tafseer →فَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا نَجَّيْنَا صٰلِحًا وَّالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ بِرَحْمَۃٍ مِّنَّا وَمِنْ خِزْيِ يَوْمِىِٕذٍ 0ۭ اِنَّ رَبَّكَ ہُوَالْقَوِيُّ الْعَزِيْزُ 66
لَمَّا
يستعمل علی وجهين :
أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر .
( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–66
تفسیر : تیسرا واقعہ قوم ثمود اور ان کے پیغمبر حضرت صالح (علیہ السلام) کا یاد دلاتا ہے جو حادثہ قوم عاد کے بعد عرب کے شمالی حصہ میں گذرا ہے۔ اس کی تشریح بھی پہلے ہوچکی اس قوم کی یادگار بھی کچھ کچھ آنحضرت ﷺ کے عہد تک باقی تھی جو ان کے حال زار پر آنسو بہاتی اور دیکھنے والوں کو اللہ کے غضب سے ڈراتی تھی۔ ولقد جاءت یہ چوتھا ہیبت ناک واقعہ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حال میں شامل کرکے بیان فرماتا ہے۔ اس کی بھی تشریح ہوچکی مگر ہم کسی قدر الفاظِ آیات کی تفسیر کرتے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) اپنے گھر کے باہر کھڑے تھے کہ کئی شخص مسافرانہ شکل میں نمودار ہوئے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
فَلَمَّا جَآئَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ بِرَحْمَۃٍ مِّنَّا وَمِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ ط اِنَّ رَبَّکَ ھُوَالْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ ۔ وَاَخَذَالَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِھِمْ جٰثِمِیْنَ ۔ کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْھَا ط اَ لَآ اِنَّ ثَمُوْدَاْ کَفَرُوْا رَبَّھُمْ ط اَلاَ بُعْدًا لِّثَمُوْدَ ۔
(سورۃ ہود : 66۔ 67۔ 68)
(پس جب ہمارا حکم صادر ہوا تو ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنے خاص فضل سے اس عذاب اور اس دن کی رسوائی سے نجات بخشی، بیشک تمہارا رب ہی قوی اور غالب ہے۔ اور ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا خدا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
فہم القرآن
ربط کلام : حسب وعدہ عذاب کا نازل ہونا، حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے ایماندار ساتھیوں کا نجات پانا۔
قرآن مجید اس واقعہ کی یوں تفصیل بیان کرتا ہے۔ کہ ثمود نے سرکشی کی بنا پر حضرت صالح (علیہ السلام) کو جھٹلا دیا۔ پھر ان کا سب سے بڑا بدبخت اٹھا اور اس نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی اس بات کو مسترد کیا جو انہوں نے فرمائی تھی کہ اس اونٹنی کو پانی پینے دینا۔ اس بدبخت نے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ ڈالیں۔ جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا اور ان کو زمین بوس کردیا۔ ( الشمس : 11 تا 15) بدبخت قوم نے یہ قسمیں بھی اٹھائیں۔ کہ ہم صالح (علیہ السلام) کو اس کے اہل و عیال سمیت ختم کر…
Read the full tafseer →66: فَلَمَّا جَآئَ اَمْرُنَا (جب ہمارا حکم آیا) عذاب والا یا ہمارا عذاب آیا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ بِرَحْمَۃٍ مِّنَّا (ہم نے بچایا صالح (علیہ السلام) اور ان لوگوں کو جو ان پر ایمان لائے اپنی مہربانی سے) شیخ (رح) نے فرمایا یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ جن کو نجات ملی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ملی نہ کہ اپنے عمل سے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لا یدخل احد الجنۃ الا برحمۃ اللّٰہ۔ کوئی آدمی جنت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر داخل نہ ہوگا۔ وَمِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ (اور اس دن کی رسوائی سے) اس رسوائی کی نسبت یوم کی طرف کی اور یوم اضافت سے مجرور ہے)
قراءت : مدنی و علی نے یوم…
Read the full tafseer →66۔” فلما جاء امرنا نجینا صالحا والذین امنوا معہ برحمۃ منا ومن خزی یومئذ “ یعنی اس دن کے عذاب سے۔
ابو جعفر، نافع اور کسائی نے ( خزی یومئذ اور عذاب یومئذ “ میم کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے زبر کے ساتھ ” ان ربک ھو القوی العزیز “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–68
64۔ 68۔ قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے معجزہ طلب کیا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے خدا سے دعا کی اللہ نے قبول کی اور پتھر کے اندر سے ایک اونٹنی پیدا کردی۔ اونٹنی نے اسی وقت ایک بچہ دیا وہ بچہ بھی اسی وقت ماں کے برابر ہوگیا۔ صالح (علیہ السلام) نے قوم سے کہا کہ یہ خدا کی اونٹنی ہے اسے چھوڑ دو جہاں اس کا جی چاہے گا چرے گی تم اسے نہ ستانا اور نہ بری طرح چھیڑنا اگر ستاؤ گے تو یاد رکھو بہت جلد عذاب میں گرفتار ہوجاؤ گے۔ مگر یہ قوم کب ماننے والی تھی ایک شخص قدار نامی نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ صالح (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ تم نے میری بات نہ مانی آخر اونٹنی کو ستایا اب تم لوگ دنیا میں اور…
Read the full tafseer →(فلما جاء امرنا) ” پس جب ہمارا حکم آگیا۔ “ یعنی وقوع عذاب کا (نجیناصلحاً والذین امنو معہ برحمۃ منا ومن خزی یومئذ) ” تو ہم نے صالح اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی، اپنی رحمت سے اور اس دن کی رسوائی سے “ یعنی ہم نے ان کو عذاب، رسوائی اور فضیحت سے بچا لیا۔ (ان ربک ھو القوی العزیز) ” بیشک آپ کا رب زور آورغالب ہے “ یہ اس کی قوت ہے اور غلبے کی دلیل ہے کہ اس نے سرکش قوموں کو ہلاک کردیا اور انبیاء ومرسلین اور ان کے متبعین کو بچا لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
انسان کو زمین پر آباد کیا
قول باری ہے ھو انشاکم من الارض واستعمرکم فیھا ۔ وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور یہاں تم کو بسایا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی زمین کی طرف نسبت کی اس لیے کہ ان سب کی اصل یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق زمین کی مٹی سے ہوئی تھی اور بنی نوع انسان تمام کے تمام حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں ۔ ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں ۔ اس نے تمہیں زمین میں پیدا کیا۔ قول باری واستعمرکم فیھا کے معنی ہیں ۔ اللہ نے تمہیں ایسی چیزوں کے ساتھ زمین کو آباد کرنے کا حکم دیا جن کی تمہیں ضرورت تھی ۔ اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ زمین کو زراعت کے لیے ، پودے اور درخت لگانے کے لیے…
Read the full tafseer →147 ۔ حضرات انبیاء و رسل کا حاجت روا و مشکل کشا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب آگیا ہمارا حکم تو ہم نے بچا لیا صالح کو بھی اور ان سب کو بھی جو ان کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنی خاص رحمت سے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ ہی ہے۔ کہ مشکل کشا و حاجت روا سب کے بہرحال ہم ہی ہیں۔ اور جب صالح (علیہ السلام) جیسے نبی اور ان کے ساتھی بھی حاجت روا و مشکل کشا نہیں بلکہ وہ بھی اپنی نجات کے لیے ہمارے ہی محتاج ہیں تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جو کہ مشکل کشائی اور حاجت روائی کا دم بھر سکے ؟ سو بڑے ہی بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں وہ لوگ جو اللہ کے سوا اس کی عاجز مخلوق میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
سیدنا صالح (علیہ السلام) اور ان کی قوم ثمود پر عذاب
تشریح : قوم نوح، قوم ھود اور اب قوم ثمود کا ذکر بھی اسی سلسلے میں کیا جا رہا ہے کہ آنحضرت ﷺ امت مسلمہ کو عبرت دلائیں کہ نافرمان قوموں کا انجام کیا ہوتا ہے۔ سورة الاعراف رکوع نمبر 10 میں ان کا ذکر ہوچکا ہے۔ یہاں دوبارہ بیان کیا جا رہا ہے حضرت صالح (علیہ السلام) قوم ثمود کے ہی فرد تھے اسی لیے ان کو ان کا بھائی کہا گیا ہے ان کی تعلیمات باقی پیغمبروں کی طرح توحید کی ہی تھیں۔ وہ بڑے صالح اور بہترین انسان تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے اونٹنی کا معجزہ عطا کیا جو پہاڑ سے نمودار ہوئی، قوم نے نافرمانی کرتے ہوئے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں تو ان پر اللہ کا عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
آیات 61 تا 68
اسرار و معارف
اسی قانون فطرت اور ضابطہ الٰہیہ کی تائید حضرت صالح (علیہ السلام) کے واقعہ بھی ہوتی ہے جو مذکورہ قوم کی دوسری شاخ یعنی ثمود کی طرف مبعوث ہوئے اور وہ خود بھی اسی قوم کے ایک معززفرد تھے ان کی دعوت بھی وہی تھی جو سب انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی ہوتی تھی اور جو خاتم الانبیاء ﷺ کی بھی تھی اور ہے کہ لوگو ! اللہ کی اور صرف اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے علاوہ کوئی بھی عبادت کا مستحق نہیں ۔ عبادت کی اصل صرف یہ نہیں کہ اللہ کو سب سے بڑامان لیا اور بات ختم بلکہ عبادت کی اصل یہ ہے کہ ساری امیدیں اس ایک ذات سے وابستہ کردی جائیں اور اس کے علاوہ اسباب کو ان کی حیثیت کے مطابق اختیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
ف 10 ۔ یعنی اس دن کے رسوا کن عذاب سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
(11:65) فعقروھا۔ انہوں نے اس (اونٹنی) کی کونچیں کاٹ دیں۔ تمتعوا۔ تم لطف اٹھالو۔ تم (دنیاوی مال و متاع کا) فائدہ اٹھالو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–68
لغات القرآن آیت نمبر 64 تا 68
ناقۃ (اونٹنی) ذرو (چھوڑ دو ، چھوڑے رکھو) تاکل (وہ کھائے) ارض اللہ (اللہ کی زمین) لاتمسوا (تم ہاتھ نہ لگانا) بسوء (برائی سے، بری نیت سے) عقروا (انہوں نے قتل کر ڈالا) تمتعوا (تم فائدہ اٹھا لو) ثلثۃ ایام (تین دن) غیر مکذوب (جھوٹا ہونے والا نہیں ہے ) خزی (رسوائی، ذلت) الصیحۃ (چنگھاڑ، بہت تیز آواز) اصبحوا (وہ ہوگئے) دیار (دیر) گھر جثمین (اوندھے پڑے رہنے والے)
تشریح : آیت نمبر 64 تا 68
جب حضرت صالح قوم ثمود کے سرداروں سے فرما چکے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کائنات کا خالق ومالک ہے اسی ایک اللہ کی عبادت و بندگی کرو۔ میں اللہ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔ میری بات مانو۔ کہنے لگے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–68
حکم الہی کی مخالفت پر عذاب الٰہی
قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے معجزہ طلب کیا حضرت صالح (علیہ السلام) نے خدا سے دعا کی اللہ تعالیٰ نے قبول کی۔ اور پتھر کے اندر سے ایک اونٹنی پیدا کردی اور اونٹنی نے اسی وقت ایک بچہ دیا اور وہ بچہ بھی اسی وقت ماں کے برابر ہوگیا۔ صالح (علیہ السلام) نے قوم سے کہا یہ خدائی اونٹنی ہے اسے چھوڑ دو ، جہاں اس کا جی چاہے گا چرے گی تم اسے نہ ستانا اور نہ بری طرح چھیڑنا۔ اگر ستاؤگے تو یاد رکھو بہت جلد عذاب میں گرفتار ہوجاؤ گے۔ قوم نے آخر اونٹنی کو ستایا حکم الٰہی کی مخالفت کی اور بچہ اونٹنی کا پہاڑ پر چڑھ گیا اور تین بار چلایا اور حضرت صالح (علیہ السلام) اس وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
[36] یعنی روز قیامت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–67
(ف 2) اونٹنی کو نشانی قرار دینے کا مقصد یہ تھا کہ دیکھیں ان کے بغض وعناد کی مقدار کیا ہے ؟ قاعدہ ہے ، کہ جب ایک شخص سے محبت ہو تو اس کی ہر چیز سے محبت ہوجاتی ہے ، اور اگر بغض ہو ، تو پھر اس کی کوئی چیز دل کو نہیں بھاتی ، حضرت صالح (علیہ السلام) نے اسی اصول پر محبت اور عقیدت کو جانچا ، اور کہا دیکھو اس اونٹنی کو نہ چھیڑنا ورنہ سمجھ لیا جائے گا ، تمہیں ہم سے بیحد عداوت ہے ، اور تمہیں یہ بھی گورار نہیں کہ ہماری اونٹنی زندہ رہے ۔
حل لغات :
تخسیر : گھاٹا ، خسارہ ۔
ناقۃ اللہ : یعنی اللہ کی پیش کردہ اونٹنی ۔ نسبت اضافت تشریف کے لئے ہے ۔
اللھم اغفر لکاتبیہ ولمن سعے فیہ ۔
Read the full tafseer →66 پھر جب ہمارے عذاب کا حکم آ پہونچا تو ہم نے صالح (علیہ السلام) کو اور اس کے ہمراہی ایمان والوں کو پانی رحمت و عنایت سے بچالیا اور اس دن کی بڑی رسوائی سے محفوظ رکھا یقینا آپ کا پروردگار کمال قوت اور کمال عزت کا مالک ہے یعنی قوت والا اور غلبہ والا ہے۔
Read the full tafseer →ف 4۔ جس کو چاہے سزا دے جس کو چاہے بچالے۔
Read the full tafseer →ہم نے صالح (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں کو نجات دی اور رسوائی سے بچا لیا
89 ؎ ” پھر جب ہمارا حکم آپہنچا۔ “ یعنی ہمارے قانون میں جو ان کی ہلاکت کا وقت مقرر تھا جب وہ آگیا تو ان پر عذاب نازل ہوا جس نے کفار کو موت کی نیند سلا دیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی و رسول صالح (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں کو اس تباہ کن عذاب سے بھی محفوظ رکھا کہ ان کو وہاں سے ہجرت کر جانے کا حکم دے دیا گیا تھا لہٰذا ان کو ایک خراش تک بھی نہ آئی اور دوسرا ان کو شرمساری سے بھی بچالیا کیونکہ اگر آپ کے کہنے کے مطابق عذاب نہ اترتا تو آپ کو کتنی خفت اٹھانی پڑتی۔ کافر تالیاں بجاتے ، آوازیں کستے اور ان کی اذیت رسانیوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
In verse 65, it was said: تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ "Enjoy yourselves in your homes for three days [ only ]." That is, when these people killed the she-camel associated with the miracle in flagrant contravention of the Di-vine command, then, something serious happened. As warned earlier, ` lest a near punishment should seize you - 64', the punishment did come upon them in a manner that they were given a respite of three days and told that they all will be destroyed on the fourth day.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
74. The folk traditions of the Sinaitic Peninsula indicate that when a severe punishment afflicted the Thamud, Salih (peace be on him) migrated to Sinai. Hence, close to the Mount of Moses there is a hillock called Nabi Salih. These traditions make one believe that it is here that Prophet Salih (peace be on him) lived.
Read the full tafseer →