Hud 11:67

Hud · from ayah 67

11:67

وَاَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ ۟ۙوَاَخَذَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِىۡ دِيَارِهِمۡ جٰثِمِيۡنَۙ‏

اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ (کی صورت میں عذاب) نے آپکڑا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the shriek seized those who had wronged, and they became within their homes [corpses] fallen prone

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 6 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:67

رہے وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا تھا تو ایک سخت دھماکے نے ان کو دھر لیا اور وہ اپنی بستیوں میں اس طرح بے حس و حرکت پڑے کے پڑے رہ گئے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ (کی صورت میں عذاب) نے آپکڑا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ﻇالموں کو بڑے زور کی چنگھاڑ نے آدبوچا، پھر تو وه اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے ره گئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جن لوگوں نے ظلم کا راستہ اپنایا تھا، ان کو ایک چنگھاڑ نے آپکڑا، جس کے نتیجے میں وہ اپنے گھروں میں اس طرح اوندھے پڑے رہ گئے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ظالموں کو چنگھاڑ نے آ لیا تو صبح اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ظالم لوگوں کو ہولناک آواز نے آپکڑا، سو انہوں نے صبح اس طرح کی کہ اپنے گھروں میں (مُردہ حالت میں) اوندھے پڑے رہ گئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا انھیں چیخ نے پکڑ لیا، تو انھوں نے اپنے گھروں میں اس حال میں صبح کی کہ گرے پڑے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا انھیں ایک دھماکہ نے آپکڑا جس سے وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے رہ گئے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کیا خدا کی ڈانٹ نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں زمین سے چمٹے پڑے رہ گئے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور دھرلیا ان سب لوگوں کو جو اڑے ہوئے تھے اپنے ظلم پر ایک ایسی ہولناک آواز نے جس سے وہ سب اپنے گھروں میں (ایسے بےحس و حرکت) اوندھے پڑے رہ گئے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو ظالم لوگ تھے انہیں ایک چیخ نے آپکڑا سو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ان ظالموں کو پکڑ لیا ایک چنگھاڑ نے تو وہ اپنے گھروں کے اندر اوندھے پڑے رہ گئے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ کی صورت میں عذاب نے آپکڑا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And the Blast overtook those who were wont to do wrong, and then they lay lifeless in their homes

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And those who transgressed were caught by the Cry, and they were found dead in their homes, fallen on their knees,

— Muhammad Taqi Usmani

And those who transgressed were caught by the Cry, and they were found dead in their homes, fallen on their knees,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And As-Sayhah (awful cry) overtook the wrongdoers, so they lay (dead), prostrate in their homes.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the (awful) Cry overtook those who did wrong, so that morning found them prostrate in their dwellings,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the shriek seized those who had wronged, and they became within their homes [corpses] fallen prone

— Saheeh International

A blast struck the unjust and they were found lying motionless on their faces

— Muhammad Sarwar

And the rumbling overtook those who were unjust, so they became motionless bodies in their abodes,

— Muhammad Habib Shakir

And the shout overtook those who had done wrong; so they lay in their dwellings crouching

— Abdul Majid Daryabadi

The (mighty) Blast overtook the wrong-doers, and they lay prostrate in their homes before the morning,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:67

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 64–68

ان تمام آیتوں کی پوری تفسیر اور ثمودیوں کی ہلاکت کے اور اونٹنی کے مفصل واقعات سورة اعراف میں بیان ہوچکے ہیں یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 66–68

سورة هُوْد 74 جزیرہ نمائے سینا میں جو روایات مشہور ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ثمود پر عذاب آیا تو حضرت صالح ؑ ہجرت کر کے وہاں سے چلے گئے تھے۔ چناچہ حضرت موسیٰ ؑ والے پہاڑ کے قریب ہی ایک پہاڑی کا نام نبی صالح ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہی جگہ آنجناب کی جائے قیام تھی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 67–68

تفسیر قرطبی میں ہے کہ یہ تین روز جمعرات، جمعہ اور ہفتہ تھے، اتوار کے روز ان پر عذاب نازل ہوا (آیت) وَاَخَذَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ ، یعنی ان ظالموں کو پکڑ لیا ایک سخت آواز نے، یہ سخت آواز حضرت جبریل ؑ کی تھی جس میں ساری دنیا کی بجلیوں کی کڑک سے زیادہ ہیبت ناک آواز تھی جس کو انسانی قلب و دماغ برداشت نہیں کرسکا، ہیبت سے سب کے دل پھٹ گئے اور سب کے سب ہلاک ہوئے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ قوم صالح سخت آواز کے ذریعہ ہلاک کی گئی ہے لیکن سورة اعراف میں ان کے متعلق یہ آیا ہے (آیت) فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ ، یعنی پکڑ لیا ان کو زلزلہ نے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان پر عذاب زلزلہ کا آیا تھا، قرطبی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 67–68

تفسیر آیت 67 تا 68: وَاَخَذَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دِيَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ۔ كَاَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْهَا ۭ اَلَآ اِنَّ ثَمُــوْدَا۟ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ ۭ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۔ قوم ثمود پر عذاب کی نوعیت : صیحۃ کے معنی ڈانٹ کے ہیں۔ اس سے مراد وہ عذاب ہے جو قوم ثمود پر آیا چونکہ لحاظ لفظ کا نہیں بلکہ مفہوم کا ہوا اس وجہ سے فعل اس کے لیے مذکر استعمال ہوا۔ اس قوم پر اللہ تعالیٰ نے سرما کی باد صرصر اور کڑک، اولے اور زلزلے کا عذاب بھیجا، فاصبحوا فی دیارہم جاثمین کان لم یغنوا فیہا، نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے کے پڑے رہ گئے اور اس طرح بےنام و…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

67۔ 1 یہ عذاب صَیْحَۃً (چیخ زور کی کڑک) کی صورت میں آیا، بعض کے نزدیک یہ حضرت جبرائیل ؑ کی چیخ تھی اور بعض کے نزدیک آسمان سے آئی تھی۔ جس سے ان کے دل پارہ پارہ ہوگئے اور ان کی موت واقعہ ہوگئی، اس کے بعد یا اس کے ساتھ ہی بھونچال رجفہ بھی آیا، جس نے سب کچھ تہ بالا کردیا۔ جیسا کہ سورة اعراف 78 (فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ) میں فاخذتھم الرجفہ کے الفاظ ہیں 67۔ 2 جس طرح پرندہ مرنے کے بعد زمین پر مٹی کے ساتھ پڑا ہوتا ہے۔ اسی طرح یہ موت سے ہم کنار ہو کر منہ کے بل زمین پر پڑے رہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 67–68

38: اس عذاب کا تفصیلی واقعہ سورة اعراف آیت نمبر 73 کے تحت حاشیہ 39 میں گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 66–67

جب اللہ کے امر کا وقت قریب ہوگیا اور امر یہ تھا کہ یا تو یہ لوگ ڈر جائیں اور ایمان لے آئیں ورنہ پھر انہیں نیست و نابود کردیا جائے تو اس وقت ہم نے حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والے ساتھیوں کو اپنی رحمت کی وجہ سے نجات دی ، یہ نجات صرف ان کے لیے تھی اور ان کے ساتھ مخصوص تھی۔ یعنی ان کو موت سے بھی نجات دی اور اس دن کی شرمندگی اور ذلت سے بھی نجات دی کیونکہ ان کو زندگی سے معمول کے مطابق محروم نہیں کیا گیا بلکہ بڑی ذلت کے ساتھ ان سے حیات کو چھینا گیا۔ اور جب ایک سخت آواز نے ان کو آ لیا تو یہ سب کے سب مر گئے۔ اور جو جہاں تھا ، وہیں گر گیا اور یہ ان کے لیے ذلت آمیز موت تھی۔ إِنَّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 67–68

2 یعنی بےنام و نشان ہوگئے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں ان پر عذاب آیا اس طرح کہ رات کو پڑے سوتے تھے فرشتہ نے چنگھاڑ ماری سب کے جگر پھٹ گئے، بعض آیات میں " رَجْفَۃً " کا لفظ آیا ہے۔ یعنی " زلزلہ " یا " کپکپی " سے ہلاک ہوئے۔ سورة " اعراف " میں ہم اس کے متعلق تطبیق کی صورت لکھ چکے ہیں۔ 3 یعنی جو اپنے پروردگار کی آیات و احکام سے منکر ہو اس کی یہ گت بنتی ہے اور ایسی پھٹکار پڑتی ہے کہ سن کر عبرت حاصل کرو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 65–68

آیت 65 فَعَقَرُوْهَا انہوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے اونٹنی کو ہلاک کر ڈالا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 67–68

79 قوم ثمود پر عذاب کی نوعیت :۔ اس قوم پر ایک تو دھماکہ کا عذاب آیا دوسرے اسی وقت شدید زلزلہ کے جھٹکے لگنا شروع ہوگئے اور ممکن ہے کہ دھماکے کی آواز بھی زمین کے پھٹنے اور زلزلے سے پیدا ہوئی ہو اس دوہرے عذاب سے وہ اپنے گھروں میں ہی مر کھپ گئے اور یہ بستی ایسے ویران اور برباد ہوگئی جیسے یہاں کوئی کبھی انسان آباد ہی نہ ہوا تھا اور ان کا یہ عبرت ناک انجام اس لیے ہوا کہ انہوں نے اپنے خالق حقیقی کو چھوڑ کر بتوں وغیرہ کو ہی اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ رکھا تھا جو ان کے اس آڑے وقت میں ان کے کسی کام نہ آسکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

99۔ (اور اسی حال میں سب کے سب فنا ہوگئے) (آیت) ” الصیحۃ “۔ یہاں صیحۃ وارد ہوا ہے جس کے معنی چیخ چنگھاڑیا بلند آواز کے ہیں اور سورة اعراف میں اس موقع کے لئے رجفہ آیا ہے جس کے معنی زلزلہ کے ہیں لیکن زلزلہ اور بلند آواز کے درمیان منافات ذرا بھی نہیں جس کے لیے ضرورت تطبیق کی پڑے بلکہ تیز زلزلہ اور سخت گھڑ گھڑاہٹ کا ساتھ تو مشاہدہ میں عموما آچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 61–68

آیت نمبر 61 تا 68 ترجمہ : اور ہم نے ثمود کے پاس ان کے خاندانی بھائی صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا، اس نے کہا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو) یعنی ( اس کی توحید کا اقرار کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اس نے تم کو پیدا کیا یعنی تمہاری تخلیق ابتداء مٹی سے کی تمہارے دادا آدم کو مٹی سے پیدا کرکے اور اسی نے تم کو زمین میں بسایا یعنی تم کو) زمین کا ( باشندہ بنایا تاکہ تم اس میں سکونت اختیار کرو پس تم اس سے معافی طلب کرو شرک سے اور پھر طاعت کے ذریعہ اس کی طرف رجوع کرو بیشک میرا رب اپنی مخلوق سے باعتبار علم کے قریب ہے اور جو اس سے سوال کرتا ہے اس کا قبول کرنے والا ہے ان لوگوں نے جواب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واخذ الذین ظلموا الصیحۃ اور جن لوگوں نے ظلم یعنی کفر کیا تھا ‘ ان کو ایک چیخ نے پکڑ لیا۔ یعنی حضرت جبرئیل نے ایک چیخ ماری ‘ یا آسمان سے ایک کڑک دار چیخ آئی اور زمین سے بھی ایک گرجدار چیخ نکلی جس کی وجہ سے ان کے دل پھٹ گئے۔ فاصبحوا فی دیارھم جٰثمین۔ اور سب اپنے گھروں میں مردہ ہوگئے (یعنی صبح کو مرے کے مرے رہ گئے۔ مترجم)

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 67–68

(67۔ 68) اور ان مشرکین کو عذاب نے پکڑا جس سے وہ مردہ بےحس و حرکت اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے اور ایسے فنا ہوئے جیسا کہ وہ زمین پر کبھی تھے ہی نہیں، قوم صالح ؑ نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صالح ؑ کی قوم اللہ کی رحمت سے دور ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 66–68

ان آیات کی تفسیر سورة اعراف کی آیات (77 تا 79) میں اور سورة ہود کے اس سے پچھلے رکوع کے آخر میں ملاحظہ فرمائیں۔ ”کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْھَا“ ”غَنِیَ یَغْنٰی“ (ع) ”فِیْ مَکَانٍ کَذَا“ جب کوئی شخص لمبی مدت کسی جگہ میں یوں رہے کہ وہ اس کے سوا کسی بھی جگہ سے غنی ہو۔”مَغْنَی“ مصدر بھی ہے، مکان بھی، یعنی رہنا اور رہنے کی جگہ۔ (مفردات راغب)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 62–68

آیت نمبر 62 تا 68 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : قالو ایٰصٰلح قدکنت فیھا مرجوًاقبل ھٰذآ یعنی اس سے پہلے ہم امید کرتے تھے کہ آپ ہی ہم میں سے سردار ہوں گے، یعنی آپ کے دعویٰ نبوت سے پہلے۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) ان کے معبودوں کو غیب کی طرف منسوب کرتے اور ان سے نفرت کرتے تھے۔ اور وہ آپ سے انہی کے دین کی طرف لوٹنے کی امید کرتے تھے، پس جب آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا تو انہوں نے کہا : ہماری تم سے وابستہ امیدیں ختم ہوگئی ہیں۔ اتنھٰنآاستفہام ہے جس کا معنی انکار ہے۔ ان نعبد یعنی (عن ان نعبد) اس بات سے کہ ہم عبادت کریں۔ مایعبداٰباؤناان محل نصب میں ہے عن حرب جر کے ساتھ ہونے کی وجہ سے۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 61–68

حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعوت : 1:۔ ابوالشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھوانشاکم من الارض “ سے مراد ہے کہ اس نے تم کو پیدا کیا زمین میں سے۔ 2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واستعمرکم فیھا “ یعنی اس میں تم کو آباد کیا۔ 3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واستعمرکم فیھا “ یعنی اس میں تم کو خلیفہ بنایا۔ 4:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فما تزیدوننی غیر تخسیر “ یعنی تم نہیں زیادہ ہوتے ہو مگر خسارے میں۔ 5:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے عطا خراسانی (رح)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاَخَذَ : اور پکڑا ] [الَّذِينَ : ان کو جنھوں نے ] [ظَلَمُوا : ظلم کیا ] [الصَّيْحَةُ : چنگھاڑنے ] [فَاَصْبَحُوْا : پھر وہ ہوگئے ] [فِيْ دِيَارِهِمْ : اپنے گھروں میں ] [ جٰثِمِيْنَ : اوندھے منھ گرنے والے ہوتے ہوئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 67–68

قوم پر عذاب آیا اس کے لیے فرمایا (وَاَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِھِمْ جٰثِمِیْنَ ) جن لوگوں نے ظلم کیا ان کو چیخ نے پکڑ لیا سو اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے ہوئے رہ گئے گویا کہ ان میں رہے ہی نہ تھے (اَلَا اِنَّ ثَمُوْدَ کَفَرُوْا رَبَّھُمْ ) (خبردار قوم ثمود نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا) (اَلَا بُعْدًا الثَمُوْدَ ) (خبردار دوری ہے ثمود کیلئے) یہ قوم دنیا میں بھی اللہ کی رحمت سے دور ہوئی اور آخرت میں بھی۔ فائدہ : سورة اعراف میں ہے کہ ان لوگوں پر رجفہ یعنی زلزلے کا عذاب آیا تھا اور یہاں چیخ سے ہلاک ہونے کا ذکر ہے ان دونوں میں تعارض نہیں ہے زلزلہ اور چیخ دونوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 50–68

قال اللہ تعالیٰ والی عاد اخاھم ھودا .... الیٰ .... الا بعد العاد قوم ھود۔ (ربط) نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد دوسرا قصہ ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم عاد کا ہے جس میں قوم عاد کی ضلالت اور عذاب کا حال بیان فرمایا ہے یہ لوگ شرک اور بت پرستی میں مبتلا تھے اور دولت و ثروت کی وجہ سے مغرور تھے۔ اور انبیاء (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کا حقارت کی نظروں سے دیکھتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو دو خصوصیتیں عطا فرمائی تھیں ایک قوت و توانائی کما قال تعالیٰ وقالوا من اشد منا قوۃ۔ دوم یہ کہ ان کے بلاد نہایت سرسبز اور شاداب تھے یمن ان کا مسکن تھا۔ صاحب زراعت اور صاحب عمارت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 66–68

61:۔ جب ہمارے عذاب کا معین وقت آپہنچا تو ہم نے صالح اور اس کے مومن ساتھیوں کو محض اپنی رحمت سے نجات دی اور اس دن کی ذلت ورسوائی سے ان کو بچا لیا۔ وَاَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا الخ اور ظالم (مشرک) لوگ ایک ہی آسمانی چیخ سے اپنے گھروں میں اس طرح ڈھیر ہوگئے گویا کہ وہ ان میں کبھی آباد ہی نہیں ہوئے تھے۔ یہ ہے اللہ کے پیغمبروں اور اللہ کی توحید کا انکار کرنے والوں کا انجام۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 64–68

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید کی تفہیم کے لئے اس سورة مبارکہ میں متعدد انبیاء (علیہم السلام) کا تذکرہ کیا ہے۔ پہلے حضرت نوح اور ہود (علیہما السلام) کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے اپنی اپنی قوم کو یہی دعوت دی۔ ” اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ “ اے لوگو ! صرف اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے بغیر تمہارا کوئی معبود نہیں۔ سورة کی ابتداء میں حضور خاتم النبین ﷺ کی زبان مبا کہ سے بھی یہی کلمات دہرائے گئے اور صالح (علیہ السلام) کو تبلیغ کالب لباب بھی یہی تھا کہ لوگو ! عبادت صرف اللہ کی کرو ، اس سے معافی مانگو اور اس کی طرف رجوع رکھو۔ آپ کی قوم نے کہا کہ ہم تو تمہیں بڑا ہونہار سمجھتے تھے کہ تو باپ دادے کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَخَذَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا الصَّيْحَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دِيَارِہِمْ جٰثِمِيْنَ۝ 67ۙ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 66–68

فَلَمَّا جَآئَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ بِرَحْمَۃٍ مِّنَّا وَمِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ ط اِنَّ رَبَّکَ ھُوَالْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ ۔ وَاَخَذَالَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِھِمْ جٰثِمِیْنَ ۔ کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْھَا ط اَ لَآ اِنَّ ثَمُوْدَاْ کَفَرُوْا رَبَّھُمْ ط اَلاَ بُعْدًا لِّثَمُوْدَ ۔ (سورۃ ہود : 66۔ 67۔ 68) (پس جب ہمارا حکم صادر ہوا تو ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنے خاص فضل سے اس عذاب اور اس دن کی رسوائی سے نجات بخشی، بیشک تمہارا رب ہی قوی اور غالب ہے۔ اور ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا خدا کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 66–68

فہم القرآن ربط کلام : حسب وعدہ عذاب کا نازل ہونا، حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے ایماندار ساتھیوں کا نجات پانا۔ قرآن مجید اس واقعہ کی یوں تفصیل بیان کرتا ہے۔ کہ ثمود نے سرکشی کی بنا پر حضرت صالح (علیہ السلام) کو جھٹلا دیا۔ پھر ان کا سب سے بڑا بدبخت اٹھا اور اس نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی اس بات کو مسترد کیا جو انہوں نے فرمائی تھی کہ اس اونٹنی کو پانی پینے دینا۔ اس بدبخت نے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ ڈالیں۔ جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا اور ان کو زمین بوس کردیا۔ ( الشمس : 11 تا 15) بدبخت قوم نے یہ قسمیں بھی اٹھائیں۔ کہ ہم صالح (علیہ السلام) کو اس کے اہل و عیال سمیت ختم کر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قوم ثمود کی چیخ سے ہلاکت : 67: وَاَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَۃُ (اور ظالموں کو چیخ نے آلیا) جبرئیل (علیہ السلام) کی چیخ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِھِمْ (وہ صبح کے وقت اپنے گھروں میں) اپنے منازل میں ہی جٰثِمِیْنَ (اوندھے منہ) مردہ ہوگئے مرے کے مرے رہ گئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

67۔” واخذ الذین ظلموا “ ظلم سے مراد کفر ہے ” الصیحیۃ “ حضرت جبریل (علیہ السلام) نے ان پر ایک زوردار چیخ ماری تو وہ سب ہلاک ہوگئے اور بعض نے کہا ہے کہ ان پر آسمان پر چیخ آئی جس میں آسمانی بجلیوں اور زمین کی ہر چیز کی آواز تھی ۔ ان کے دل ان کے سینوں میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ اخذ مذکر ہے اور الصحیۃ مؤنث ہے یہاں پر الصحیۃ بمعنی الصیاح کی ہے۔ ” فاصبحوا فی دیارھم جاثمین “ بہت جلد ہلاک ہوئے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 64–68

64۔ 68۔ قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے معجزہ طلب کیا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے خدا سے دعا کی اللہ نے قبول کی اور پتھر کے اندر سے ایک اونٹنی پیدا کردی۔ اونٹنی نے اسی وقت ایک بچہ دیا وہ بچہ بھی اسی وقت ماں کے برابر ہوگیا۔ صالح (علیہ السلام) نے قوم سے کہا کہ یہ خدا کی اونٹنی ہے اسے چھوڑ دو جہاں اس کا جی چاہے گا چرے گی تم اسے نہ ستانا اور نہ بری طرح چھیڑنا اگر ستاؤ گے تو یاد رکھو بہت جلد عذاب میں گرفتار ہوجاؤ گے۔ مگر یہ قوم کب ماننے والی تھی ایک شخص قدار نامی نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ صالح (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ تم نے میری بات نہ مانی آخر اونٹنی کو ستایا اب تم لوگ دنیا میں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت) ” اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑنے آپکڑا۔ “ یعنی ایک چنگھاڑ کی صورت میں عذاب نے ان ظالموں کو دھر لیا اور ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے (آیت) ” وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ “ یعنی اپنی بستیوں میں بےحس و حرکت پڑے رہ گئے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 61–68

انسان کو زمین پر آباد کیا قول باری ہے ھو انشاکم من الارض واستعمرکم فیھا ۔ وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور یہاں تم کو بسایا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی زمین کی طرف نسبت کی اس لیے کہ ان سب کی اصل یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق زمین کی مٹی سے ہوئی تھی اور بنی نوع انسان تمام کے تمام حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں ۔ ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں ۔ اس نے تمہیں زمین میں پیدا کیا۔ قول باری واستعمرکم فیھا کے معنی ہیں ۔ اللہ نے تمہیں ایسی چیزوں کے ساتھ زمین کو آباد کرنے کا حکم دیا جن کی تمہیں ضرورت تھی ۔ اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ زمین کو زراعت کے لیے ، پودے اور درخت لگانے کے لیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

149 ۔ ظلم کا انجام ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللہ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کار آپکڑا ان کو جو اڑے ہوئے تھے اپنے ظلم پر ایک نہایت ہولناک آواز سے جس سے وہ سب اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ سو اس سے واضح ہوگیا کہ ظلم پر اڑے رہنے والوں کے لیے دائمی ہلاکت و تباہی ہے۔ والعیاذ باللہ۔ یعنی جو اڑے رہے تکذیب و انکار حق کے جرم پر جو کہ سب سے بڑا جرم اور ظلم عظیم ہے۔ سو اس سے توبہ و رجوع کرنے کی بجائے اس پر اڑے اور ڈٹے رہنا ایسا سنگین اور ہولناک جرم ہے جس کا آخری انجام ہمیشہ کی ہلاکت و تباہی ہے، جیسا کہ قوم ثمود سے ہوا کہ ایک ہولناک آواز سے ان کے دل پھٹ گئے اور یہ ہمیشہ کے لیے مٹ گئے۔ سو ظلم پر اڑے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 61–68

سیدنا صالح (علیہ السلام) اور ان کی قوم ثمود پر عذاب تشریح : قوم نوح، قوم ھود اور اب قوم ثمود کا ذکر بھی اسی سلسلے میں کیا جا رہا ہے کہ آنحضرت ﷺ امت مسلمہ کو عبرت دلائیں کہ نافرمان قوموں کا انجام کیا ہوتا ہے۔ سورة الاعراف رکوع نمبر 10 میں ان کا ذکر ہوچکا ہے۔ یہاں دوبارہ بیان کیا جا رہا ہے حضرت صالح (علیہ السلام) قوم ثمود کے ہی فرد تھے اسی لیے ان کو ان کا بھائی کہا گیا ہے ان کی تعلیمات باقی پیغمبروں کی طرح توحید کی ہی تھیں۔ وہ بڑے صالح اور بہترین انسان تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے اونٹنی کا معجزہ عطا کیا جو پہاڑ سے نمودار ہوئی، قوم نے نافرمانی کرتے ہوئے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں تو ان پر اللہ کا عذاب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 61–68

آیات 61 تا 68 اسرار و معارف اسی قانون فطرت اور ضابطہ الٰہیہ کی تائید حضرت صالح (علیہ السلام) کے واقعہ بھی ہوتی ہے جو مذکورہ قوم کی دوسری شاخ یعنی ثمود کی طرف مبعوث ہوئے اور وہ خود بھی اسی قوم کے ایک معززفرد تھے ان کی دعوت بھی وہی تھی جو سب انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی ہوتی تھی اور جو خاتم الانبیاء ﷺ کی بھی تھی اور ہے کہ لوگو ! اللہ کی اور صرف اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے علاوہ کوئی بھی عبادت کا مستحق نہیں ۔ عبادت کی اصل صرف یہ نہیں کہ اللہ کو سب سے بڑامان لیا اور بات ختم بلکہ عبادت کی اصل یہ ہے کہ ساری امیدیں اس ایک ذات سے وابستہ کردی جائیں اور اس کے علاوہ اسباب کو ان کی حیثیت کے مطابق اختیار…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 ۔ ان پر عذاب آیا اس طرح کہ رات کو پڑے سوتے تھے۔ فرشتے نے چنگھاڑ ماری سب کے جگر پھٹ گئے۔ (موضح) ۔ سورة اعراف میں ہے ” فاخذتھم الرجفۃ “ شاید کہ صیحہ کے بعد رجفہ واقع ہوا ہو یا دو گونہ عذاب بیک وقت آیا ہو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(11:67) الصیحۃ۔ چیخ ۔ کڑک۔ ہولناک آواز۔ چنگھاڑ۔ صاح یصیح (ضرب) کا مصدر ہے۔ چونکہ زور کی آواز سے آدمی گھبرا اٹھتا ہے۔ اس لئے بمعنی گھبراہٹ اور عذاب کے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ جثمین۔ اوندھے پڑنے والے۔ زانو کے بل گرنے والے۔ جثوم سے جس کے معنی سینہ کے بل اوندھے منہ زمین پر پڑنے کے ہیں۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ اس کی واحد جاثم ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 64–68

لغات القرآن آیت نمبر 64 تا 68 ناقۃ (اونٹنی) ذرو (چھوڑ دو ، چھوڑے رکھو) تاکل (وہ کھائے) ارض اللہ (اللہ کی زمین) لاتمسوا (تم ہاتھ نہ لگانا) بسوء (برائی سے، بری نیت سے) عقروا (انہوں نے قتل کر ڈالا) تمتعوا (تم فائدہ اٹھا لو) ثلثۃ ایام (تین دن) غیر مکذوب (جھوٹا ہونے والا نہیں ہے ) خزی (رسوائی، ذلت) الصیحۃ (چنگھاڑ، بہت تیز آواز) اصبحوا (وہ ہوگئے) دیار (دیر) گھر جثمین (اوندھے پڑے رہنے والے) تشریح : آیت نمبر 64 تا 68 جب حضرت صالح قوم ثمود کے سرداروں سے فرما چکے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کائنات کا خالق ومالک ہے اسی ایک اللہ کی عبادت و بندگی کرو۔ میں اللہ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔ میری بات مانو۔ کہنے لگے کہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 64–68

حکم الہی کی مخالفت پر عذاب الٰہی قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے معجزہ طلب کیا حضرت صالح (علیہ السلام) نے خدا سے دعا کی اللہ تعالیٰ نے قبول کی۔ اور پتھر کے اندر سے ایک اونٹنی پیدا کردی اور اونٹنی نے اسی وقت ایک بچہ دیا اور وہ بچہ بھی اسی وقت ماں کے برابر ہوگیا۔ صالح (علیہ السلام) نے قوم سے کہا یہ خدائی اونٹنی ہے اسے چھوڑ دو ، جہاں اس کا جی چاہے گا چرے گی تم اسے نہ ستانا اور نہ بری طرح چھیڑنا۔ اگر ستاؤگے تو یاد رکھو بہت جلد عذاب میں گرفتار ہوجاؤ گے۔ قوم نے آخر اونٹنی کو ستایا حکم الٰہی کی مخالفت کی اور بچہ اونٹنی کا پہاڑ پر چڑھ گیا اور تین بار چلایا اور حضرت صالح (علیہ السلام) اس وقت…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 64–67

(ف 2) اونٹنی کو نشانی قرار دینے کا مقصد یہ تھا کہ دیکھیں ان کے بغض وعناد کی مقدار کیا ہے ؟ قاعدہ ہے ، کہ جب ایک شخص سے محبت ہو تو اس کی ہر چیز سے محبت ہوجاتی ہے ، اور اگر بغض ہو ، تو پھر اس کی کوئی چیز دل کو نہیں بھاتی ، حضرت صالح (علیہ السلام) نے اسی اصول پر محبت اور عقیدت کو جانچا ، اور کہا دیکھو اس اونٹنی کو نہ چھیڑنا ورنہ سمجھ لیا جائے گا ، تمہیں ہم سے بیحد عداوت ہے ، اور تمہیں یہ بھی گورار نہیں کہ ہماری اونٹنی زندہ رہے ۔ حل لغات : تخسیر : گھاٹا ، خسارہ ۔ ناقۃ اللہ : یعنی اللہ کی پیش کردہ اونٹنی ۔ نسبت اضافت تشریف کے لئے ہے ۔ اللھم اغفر لکاتبیہ ولمن سعے فیہ ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

67 اور ان ظالموں کو ایک ہولناک آواز ایک خوفناک چیخ نے آپکڑا جس سے وہ اپنے گھروں میں منہ کے بل اوندھے پڑھے کے پڑے رہ گئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ظالموں کو ایک ہی روز کی کڑک نے آ لیا اور صبح ہونے سے پہلے ان کا کام تمام ہو گیا 90 ؎ تین دن گزر گئے اور وہ مدت پوری ہوگئی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کے نزول کیلئے مقرر کی گئی تھی اور جس نے کفار و مشرکین کو موت کی نیند سلا دیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور اس کے ساتھیوں کو اس تباہ کن عذاب سے مکمل طور پر بچالیا اور ان کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا تھا اور اس طرح وہ عین وقت سے پہلے ہی وہاں سے نکال لئے گئے اور ان کو شرمساری سے بھی بچا لیا۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے کئے گئے وعدوں کو پورا کر کے رہتا ہے اس لئے کہ وہ بہت ہی قوت والا اور عزت والا ہے۔ وعدہ خلافی کمزدوروں سے ہوتی ہے اور اللہ کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 67–68

According to Tafsir al-Qurtubi, these three days were Thursday, Friday and Saturday. On Sunday, the punishment descended upon them: وَأَخَذَ الَّذِينَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ (And those who transgressed were caught by the Cry - 67). This awesome Cry was that of the archangel, Sayyidna Jibra'il (علیہ السلام) which was far more terrorizing that the combined thunderbolts of worldly lightening could ever be, something human senses could not take. All hearts were rent apart by the horrific sound resulting in the mass destruction of those people. From this verse we learn that the people of Sayyidna…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 66–68

74. The folk traditions of the Sinaitic Peninsula indicate that when a severe punishment afflicted the Thamud, Salih (peace be on him) migrated to Sinai. Hence, close to the Mount of Moses there is a hillock called Nabi Salih. These traditions make one believe that it is here that Prophet Salih (peace be on him) lived.

Read the full tafseer →