Explained with ayahs 64–68
ان تمام آیتوں کی پوری تفسیر اور ثمودیوں کی ہلاکت کے اور اونٹنی کے مفصل واقعات سورة اعراف میں بیان ہوچکے ہیں یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
ہوْرَةُ هُوْد 73
یعنی اگر میں اپنی بصیرت کے خلاف اور اس علم کے خلاف جو اللہ نے مجھے دیا ہے، محض تم کو خوش کرنے کے لیے گمراہی کا طریقہ اختیار کرلوں تو یہی نہیں کہ خدا کی پکڑ سے تم مجھ کو بچا نہ سکو گے، بلکہ تمہاری وجہ سے میرا جرم اور زیادہ بڑھ جائے گا اور اللہ تعالیٰ مجھے اس بات کی مزید سزا دے گا کہ میں نے تم کو سیدھا راستہ بتانے کے بجائے تمہیں جان بوجھ کر الٹا اور گمراہ کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
(آیت) تَمَتَّعُوْا فِيْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ ، یعنی جب لوگوں نے حکم خداوندی کی خلاف ورزی کر کے اس معجزہ والی اونٹنی کو مار ڈالا تق جیسا پہلے ان کو متنبہ کردیا گیا تھا کہ ایسا کرو گے تو اللہ کا عذاب تم پر آئے گا، اب وہ عذاب اس طرح آیا کہ ان کو تین روز کی مہلت دی گئی اور بتلا دیا گیا کہ چوتھے روز تم سب ہلاک کئے جاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
تفسیر آیات 64۔ 65:۔ وَيٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَــةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰيَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِيْٓ اَرْضِ اللّٰهِ وَلَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْۗءٍ فَيَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِيْبٌفَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِيْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ ۭذٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوْبٍ۔
ناقہ کا معجزہ : بعینہ یہی مضمون کم و بیش انہی الفاظ میں اعراف آیت 73 میں گزر چکا ہے۔ وہاں ہم نے اس کے تمام اہم اجزا کی بھی تشریح کی ہے اور ناقہ کی شانی کے ظہور کا موقع و محل اور اس کا مقصد بھی واضح کیا ہے۔
Read the full tafseer →65۔ 1 لیکن ان ظالموں نے اس زبردست معجزے کے باوجود نہ صرف ایمان لانے سے گریز کیا بلکہ حکم الٰہی سے صریح سرتابی کرتے ہوئے اسے مار ڈالا، جس کے بعد انھیں تین دن کی مہلت دے دی گئی کہ تین دن کے بعد تمہیں عذاب کے ذریعے سے ہلاک کردیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
37: عذاب سے پہلے ان کو تین دن کی مہلت دی گئی تھی
Read the full tafseer →۔ ” انہوں نے ناقہ کی ٹانگیں کاٹ دیں (فعقروھا) اور اس انداز میں اسے قتل کردیا ’ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر مفسد تھے اور کس قدر بےباک تھے ، سیاق کلام میں یہاں نزول ناقہ اور قتل ناقہ کے درمیان مدت کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ، کیونکہ مدت کے ذکر کا دعوت دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ محض ایک تاریخی پہلو ہے۔ البتہ قتل ناقہ کے بعد سیاق کلام میں ان کے عذاب کا ذکر آجاتا ہے۔ یہاں واقعات کے تمام مراحل کو فاء تعقیب کے ساتھ لایا جاتا ہے یعنی پس یہ ہوا ، پس یہ ہوا۔
فَعَقَرُوهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ذَلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ (11 : 65) “ مگر انہوں نے اونٹنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
9 حضرت صالح (علیہ السلام) سے قوم نے معجزہ طلب کیا تھا۔ وہ انھیں دکھلا دیا۔ اس واقعہ کی پوری تفصیل اور الفاظ کی تشریح سورة " اعراف " میں آٹھویں پارہ کے ختم پر گزر چکی ہے۔ وہاں ملاحظہ کرلی جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
آیت 65 فَعَقَرُوْهَا
انہوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے اونٹنی کو ہلاک کر ڈالا۔
Read the full tafseer →77 اونٹنی کو مارنا :۔ مگر یہ قوم اپنے اس متفقہ فیصلہ پر قائم نہ رہ سکی۔ دراصل یہ اونٹنی ان کے لیے وبال جان بن گئی اور عذاب کے ڈر کی وجہ سے اسے کوئی ہاتھ لگانے کی جرأت بھی نہیں کرتا تھا بالآخر قوم کا ایک شہ زور بدبخت اٹھا جس نے اونٹنی کو مار ڈالنے کا ارادہ کرلیا۔ پھر بستی کے ایک ایک فرد سے اس کے متعلق خفیہ مشورے کیے اور آراء طلب کیں۔ اکثریت نے یہی رائے دی کہ اس مصیبت سے جان چھوٹ جائے تو یہ بڑی خوشی کی بات ہوگی۔ اس فیصلہ کے بعد اس بدبخت نے اونٹنی کی کونچ کی رگوں کو کاٹ ڈالا اونٹنی نے ایک زبردست دل دہلا دینے والی چیخ ماری اور اسی پہاڑ میں غائب ہوگئی جس سے نکلی تھی اس کے پیچھے پیچھے اس کا بچہ بھی…
Read the full tafseer →97۔ (اس لیے کہ خدائی وعدہ ہے) (آیت) ” تمتعوا فی دارکم ثلثۃ ایام “۔ اس تین دن کے بعد پھر تو عذاب آنا ہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
آیت نمبر 61 تا 68
ترجمہ : اور ہم نے ثمود کے پاس ان کے خاندانی بھائی صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا، اس نے کہا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو) یعنی ( اس کی توحید کا اقرار کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اس نے تم کو پیدا کیا یعنی تمہاری تخلیق ابتداء مٹی سے کی تمہارے دادا آدم کو مٹی سے پیدا کرکے اور اسی نے تم کو زمین میں بسایا یعنی تم کو) زمین کا ( باشندہ بنایا تاکہ تم اس میں سکونت اختیار کرو پس تم اس سے معافی طلب کرو شرک سے اور پھر طاعت کے ذریعہ اس کی طرف رجوع کرو بیشک میرا رب اپنی مخلوق سے باعتبار علم کے قریب ہے اور جو اس سے سوال کرتا ہے اس کا قبول کرنے والا ہے ان لوگوں نے جواب…
Read the full tafseer →فعقروھا پس ثمود نے اس کی کونچیں کاٹ دیں۔ یعنی قوم ثمود کے مشورے اور حکم سے قدار بن سالف نے اونٹنی کو قتل کردیا۔
فقال تمتعوا فی دارکم ثلثۃ ایام ذلک وعد غیر مکذوب۔ صالح نے کہا : تم اپنے گھر (یعنی دنیا یا بستی) میں تین روز مزے اڑاؤ (تین روز کے بعد ہلاک کر دئیے جاؤ گے) یہ جھوٹا وعدہ نہیں ہے۔ یعنی چہارشنبہ ‘ پنجشنبہ اور جمعہ ‘ تین روز زندہ رہو گے۔ پہلے روز صبح کو تمہارے چہرے زرد ہوجائیں گے ‘ دوسرے روز سرخ اور تیسرے روز سیاہ ‘ پھر سب مرجاؤ گے 0
Read the full tafseer →(65) انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا، قدار بن سالف اور مصدع بن زہر نے اس کو قتل کیا اور پندرہ سو مکانات میں اس کے گوشت کو تقسیم کیا، حضرت صالح ؑ نے اونٹنی کے قتل ہوجانے کے بعد فرمایا، تم اپنے شہروں میں تین دن اور رہ لو اور پھر چوتھے دن تم پر عذاب آجائے گا، قوم کہنے لگی اے صالح عاب کی علامت کیا ہے حضرت صالح ؑ نے فرمایا پہلے دن تمہارے چہرے زرد اور دوسرے دن سرخ اور تیسرے دن سیاہ ہوجائیں گے اور پھر چوتھے دن عذاب نازل ہوجائے گا اور یہ عذاب ٹلنے والا نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
وَيٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَــةُ اللّٰهِ : اس اونٹنی کی نسبت اللہ کی طرف اس کی عظمت کے بیان کے لیے ہے، ورنہ ہر اونٹنی اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہے۔ قرآن مجید میں اس کے اوصاف یہ آئے ہیں کہ قوم ثمود کے معجزہ طلب کرنے پر صالح ؑ کو یہ اونٹنی ملی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لیے ان کے کنویں کا پانی پینے کی باری مقرر کی گئی کہ ایک دن صرف وہ پیے گی اور ایک دن دوسرے تمام لوگوں کے جانور پانی پییں گے۔ اپنی باری کے دن لوگ جتنا پانی چاہیں نکال کر رکھ لیں، مگر اونٹنی کی باری کے دن صرف وہی پیے گی۔ دیکھیے سورة شعراء (154 تا 156) وہ جہاں چاہے چرے، کوئی شخص اسے اپنے کھیت سے یا کسی بھی جگہ سے چرنے سے نہیں روکے گا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–68
آیت نمبر 62 تا 68
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : قالو ایٰصٰلح قدکنت فیھا مرجوًاقبل ھٰذآ یعنی اس سے پہلے ہم امید کرتے تھے کہ آپ ہی ہم میں سے سردار ہوں گے، یعنی آپ کے دعویٰ نبوت سے پہلے۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) ان کے معبودوں کو غیب کی طرف منسوب کرتے اور ان سے نفرت کرتے تھے۔ اور وہ آپ سے انہی کے دین کی طرف لوٹنے کی امید کرتے تھے، پس جب آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا تو انہوں نے کہا : ہماری تم سے وابستہ امیدیں ختم ہوگئی ہیں۔ اتنھٰنآاستفہام ہے جس کا معنی انکار ہے۔ ان نعبد یعنی (عن ان نعبد) اس بات سے کہ ہم عبادت کریں۔ مایعبداٰباؤناان محل نصب میں ہے عن حرب جر کے ساتھ ہونے کی وجہ سے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعوت :
1:۔ ابوالشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھوانشاکم من الارض “ سے مراد ہے کہ اس نے تم کو پیدا کیا زمین میں سے۔
2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واستعمرکم فیھا “ یعنی اس میں تم کو آباد کیا۔
3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واستعمرکم فیھا “ یعنی اس میں تم کو خلیفہ بنایا۔
4:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فما تزیدوننی غیر تخسیر “ یعنی تم نہیں زیادہ ہوتے ہو مگر خسارے میں۔
5:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے عطا خراسانی (رح)…
Read the full tafseer →[فَعَقَرُوْهَا : پھر (بھی) ان لوگوں نے ٹانگیں کاٹیں اس کی ] [فَقَالَ : تو انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [تمتَّعُوْا : تم لوگ فائدہ اٹھا لو ] [فِيْ دَارِكُمْ : اپنے اپنے گھر میں ] [ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ : تین دن ] [ذٰلِكَ : یہ ] [وَعْدٌ: ایک ایسا وعدہ ہے جو ] [غَيْرُ مَكْذُوْبٍ : جھوٹ کہے ہوئے کے علاوہ ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–66
قوم ثمود کو حضرت صالح (علیہ السلام) کا تبلیغ فرمانا اور قوم کا نافرمانی کی وجہ سے ہلاک ہونا
سورة اعراف کے رکوع میں حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کی قوم ثمود کا واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا جا چکا ہے وہاں مراجعت فرما لیں مختصر طریقے پر یہاں بھی لکھا جاتا ہے حضرت صالح (علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے یہ قوم عاد کے بعد تھی۔ سورة اعراف میں ہے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا : (وَاذْکُرُوْا اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَاءَ مِنْ م بَعْدِ عَادٍ وَّبَوَّاَکُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنَ سُھُوْلِھَا قُصُوْرًا وَّتَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا فَاذْکُرُوْا اٰلَاء اللّٰہِ ولَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–68
قال اللہ تعالیٰ والی عاد اخاھم ھودا .... الیٰ .... الا بعد العاد قوم ھود۔
(ربط) نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد دوسرا قصہ ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم عاد کا ہے جس میں قوم عاد کی ضلالت اور عذاب کا حال بیان فرمایا ہے یہ لوگ شرک اور بت پرستی میں مبتلا تھے اور دولت و ثروت کی وجہ سے مغرور تھے۔ اور انبیاء (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کا حقارت کی نظروں سے دیکھتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو دو خصوصیتیں عطا فرمائی تھیں ایک قوت و توانائی کما قال تعالیٰ وقالوا من اشد منا قوۃ۔ دوم یہ کہ ان کے بلاد نہایت سرسبز اور شاداب تھے یمن ان کا مسکن تھا۔ صاحب زراعت اور صاحب عمارت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
60:۔ قوم نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایک مخصوص پتھر سے ایک اونٹنی نکال دیں تو وہ انہیں سچا نبی مان لیں گے حضرت صالح (علیہ السلام) نے اللہ سے دعا کی تو اللہ کے حکم سے بطور معجزہ اسی وقت پتھر سے اونٹنی نکل آئی تب حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ اونٹنی ایک معجزہ ہے اور تمہارے لیے میری سچائی کی بہت بڑی دلیل ہے، اس کی خوراک تمہارے ذمہ نہیں وہ اللہ کی زمین میں چل پھر کر اپنا پیٹ بھر لے گی تم اس سے تعرض مت کرنا ورنہ فوراً اللہ کے عذاب میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ فَعَقَرُوْھَا مگر وہ باز نہ آئے اور ایک آدمی کو اس کے قتل کرنے پر مامور کیا اس نے موقع پا کر اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–68
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید کی تفہیم کے لئے اس سورة مبارکہ میں متعدد انبیاء (علیہم السلام) کا تذکرہ کیا ہے۔ پہلے حضرت نوح اور ہود (علیہما السلام) کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے اپنی اپنی قوم کو یہی دعوت دی۔ ” اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ “ اے لوگو ! صرف اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے بغیر تمہارا کوئی معبود نہیں۔ سورة کی ابتداء میں حضور خاتم النبین ﷺ کی زبان مبا کہ سے بھی یہی کلمات دہرائے گئے اور صالح (علیہ السلام) کو تبلیغ کالب لباب بھی یہی تھا کہ لوگو ! عبادت صرف اللہ کی کرو ، اس سے معافی مانگو اور اس کی طرف رجوع رکھو۔ آپ کی قوم نے کہا کہ ہم تو تمہیں بڑا ہونہار سمجھتے تھے کہ تو باپ دادے کا…
Read the full tafseer →فَعَقَرُوْہَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِيْ دَارِكُمْ ثَلٰثَۃَ اَيَّامٍ 0ۭ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوْبٍ 65
عقر
عُقْرُ الحوض والدّار وغیرهما : أصلها ويقال :
له : عَقْرٌ ، وقیل : ( ما غزي قوم في عقر دارهم قطّ إلّا ذلّوا) «4» ، وقیل للقصر : عُقْرَة . وعَقَرْتُهُ أصبت : عُقْرَهُ ، أي : أصله، نحو، رأسته، ومنه :
عَقَرْتُ النّخل : قطعته من أصله، وعَقَرْتُ البعیر : نحرته، وعقرت ظهر البعیر فانعقر، قال :
فَعَقَرُوها فَقالَ تَمَتَّعُوا فِي دارِكُمْ [هود/ 65] ، وقال تعالی: فَتَعاطی فَعَقَرَ [ القمر/ 29] ، ومنه استعیر : سرج مُعْقَر، وکلب عَقُور، ورجل عاقِرٌ ، وامرأة عاقر : لا تلد، كأنّها تعقر ماء الفحل .…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–66
تفسیر : تیسرا واقعہ قوم ثمود اور ان کے پیغمبر حضرت صالح (علیہ السلام) کا یاد دلاتا ہے جو حادثہ قوم عاد کے بعد عرب کے شمالی حصہ میں گذرا ہے۔ اس کی تشریح بھی پہلے ہوچکی اس قوم کی یادگار بھی کچھ کچھ آنحضرت ﷺ کے عہد تک باقی تھی جو ان کے حال زار پر آنسو بہاتی اور دیکھنے والوں کو اللہ کے غضب سے ڈراتی تھی۔ ولقد جاءت یہ چوتھا ہیبت ناک واقعہ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حال میں شامل کرکے بیان فرماتا ہے۔ اس کی بھی تشریح ہوچکی مگر ہم کسی قدر الفاظِ آیات کی تفسیر کرتے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) اپنے گھر کے باہر کھڑے تھے کہ کئی شخص مسافرانہ شکل میں نمودار ہوئے۔…
Read the full tafseer →فَعَقَرُوْھَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِکُمْ ثَلٰـثَۃَ اَیَّامٍ ط ذٰلِکَ وَعْدٌغَیْرُمَکْذُوْبٍ ۔
(سورۃ ہود : 65)
(پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں تو حضرت صالح (علیہ السلام) نے کہا لطف اٹھائو اپنے گھروں میں تین دن تک۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ )
سرکشی کی انتہاء
گزشتہ آیت کریمہ میں قوم ثمود سے کہا گیا تھا کہ اللہ کی اس اونٹنی کو نقصان نہ پہنچانا ورنہ تمہیں عذاب آپکڑے گا لیکن حیرانی کی بات ہے کہ جس قوم نے اپنی آنکھوں سے اتنے بڑے معجزے کو بروئے کار آتے دیکھا بغیر کسی ظاہری سبب کے چٹان پھٹی اور اونٹنی برآمد ہوئی اور پھر اس کا حاملہ ہونا اور خوردونوش کا غیرمعمولی ہونا ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
قوم نے حضرت صالح (علیہ السلام) کے شاندار ماضی، عمر بھر کی صداقت اور اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ دلائل پر ایمان لانے کی بجائے یہ مطالبہ کرڈالا۔ صالح ہم اس وقت تک تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہمارے سامنے اس پہاڑ سے ایک گابھن اونٹنی ظاہر نہ ہو۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے انہیں بہت سمجھایا کہ معجزہ طلب کرنے کے بعد اگر تم ایمان نہ لائے تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں مہلت نہ دی جائے گی۔ لیکن ان کی قوم نے صاف طور پر کہا کہ جس پر تم ایمان رکھتے ہو ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔ (النحل : 49) ۔ تب حضرت صالح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی کہ باری تعالیٰ…
Read the full tafseer →65: فَعَقَرُوْھَا (پس انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں) بدھ کے دن فَقَالَ (پس صالح (علیہ السلام) نے کہا) تَمَتَّعُوْا (زندگی سے نفع اٹھائو) فِیْ دَارِکُمْ (اپنے گھروں میں) شہروں میں بلاد کو دیار فرمایا کیونکہ اسی میں گھوما آیا جایا جاتا ہے یعنی اپنی مرضی سے تصرف کیا جاتا ہے۔ یا دنیا کے گھروں میں ثَلٰثَۃَ اَیَّا مٍ (تین دن) پھر تمہیں ہلاک کردیا جائے گا پس وہ ہفتے والے دن ہلاک ہوئے۔ ذٰلِکَ وَعْدٌ غَیْرُ مَکْذُوْبٍ (یہ ایسا وعدہ ہے جسمیں جھوٹ نہیں) اسمیں جھوٹ نہیں حرف کو حذف کر کے ظرف میں وسعت پیدا کردی اور مفعول بہٖ کے قائم مقام لائے یا وعدہ جھوٹ بولنا نہیں اس طرح کہ مکذوب مصد رہے جیسا معقول۔
Read the full tafseer →65” فعقروھا فقال “ ان کو صالح (علیہ السلام) نے ان کو کہا ” تمتعوا “ عیش کرلو چند روز زندہ رہو ” فی دارکم ‘ ‘ اپنے محلوں اور کوٹھیوں میں تین دن ” ثلاثہ ایام “ پھر تم ہلاک ہو جائو گے ۔ ” ذلک وعد غیر مکذوب “ یہ وعدہ جو تمہارے ساتھ کیا گیا ہے چھوٹا نہیں ہے۔ مروی ہے کہ صالح (علیہ السلام) نے ان کو کہا کہ تم پر تین دن کے بعد عذاب آئے گا ۔ پہلے دن تم صبح کرو گے تو تمہارے چہرے زرد ہوں گے اور دوسرے دن سرخ اور تیسرے دن سیاہ ہوں گے اور چوتھے دن عذاب آئے گا تو جیسے حضرت صالح (علیہ السلام) نے کہا تھا ویسے ہی ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–68
64۔ 68۔ قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے معجزہ طلب کیا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے خدا سے دعا کی اللہ نے قبول کی اور پتھر کے اندر سے ایک اونٹنی پیدا کردی۔ اونٹنی نے اسی وقت ایک بچہ دیا وہ بچہ بھی اسی وقت ماں کے برابر ہوگیا۔ صالح (علیہ السلام) نے قوم سے کہا کہ یہ خدا کی اونٹنی ہے اسے چھوڑ دو جہاں اس کا جی چاہے گا چرے گی تم اسے نہ ستانا اور نہ بری طرح چھیڑنا اگر ستاؤ گے تو یاد رکھو بہت جلد عذاب میں گرفتار ہوجاؤ گے۔ مگر یہ قوم کب ماننے والی تھی ایک شخص قدار نامی نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ صالح (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ تم نے میری بات نہ مانی آخر اونٹنی کو ستایا اب تم لوگ دنیا میں اور…
Read the full tafseer →“ (فعقروھا فقال ) ” پس انہوں نے اس کے پاؤں کاٹ دئیے تو کہا “ یعنی جناب صالح (علیہ السلام) (تمتعوفی دارکم ثلثۃ ایام ذلک وعد غیر مکذوب) ” تم اپنے گھروں میں تین دن فائدہ اٹھاؤ، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہوگا “ بلکہ یہ ضرور واقع ہو کر رہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
انسان کو زمین پر آباد کیا
قول باری ہے ھو انشاکم من الارض واستعمرکم فیھا ۔ وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور یہاں تم کو بسایا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی زمین کی طرف نسبت کی اس لیے کہ ان سب کی اصل یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق زمین کی مٹی سے ہوئی تھی اور بنی نوع انسان تمام کے تمام حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں ۔ ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں ۔ اس نے تمہیں زمین میں پیدا کیا۔ قول باری واستعمرکم فیھا کے معنی ہیں ۔ اللہ نے تمہیں ایسی چیزوں کے ساتھ زمین کو آباد کرنے کا حکم دیا جن کی تمہیں ضرورت تھی ۔ اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ زمین کو زراعت کے لیے ، پودے اور درخت لگانے کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
145 ۔ نبوت و رسالت ایک عظیم الشان اور جلیل القدر رحمت خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت صالح نے ان لوگوں کے دلوں پر دستک دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ ذرا سوچو اور غور کرو کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر قائم ہوں اور اس نے مجھے اپنی طرف سے ایک خاص رحمت سے بھی نوازا ہو۔ یعنی اگر میں نور فطرت پر بھی قائم ہوں اور اس کے بعد بھی اللہ نے مجھے اپنی طرف ایک اور خاص رحمت سے بھی نوازا ہو یعنی نبوت سے۔ سو رحمت سے یہاں پر مراد نبوت و رسالت ہے جو اللہ پاک کی سب سے بڑی رحمت ہے۔ جس سے وہ اپنے خاص چنے ہوئے بندوں کو محض اپنے کرم و احسان اور اپنی عنایت و مہربانی سے نوازتا ہے۔ سبحانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
سیدنا صالح (علیہ السلام) اور ان کی قوم ثمود پر عذاب
تشریح : قوم نوح، قوم ھود اور اب قوم ثمود کا ذکر بھی اسی سلسلے میں کیا جا رہا ہے کہ آنحضرت ﷺ امت مسلمہ کو عبرت دلائیں کہ نافرمان قوموں کا انجام کیا ہوتا ہے۔ سورة الاعراف رکوع نمبر 10 میں ان کا ذکر ہوچکا ہے۔ یہاں دوبارہ بیان کیا جا رہا ہے حضرت صالح (علیہ السلام) قوم ثمود کے ہی فرد تھے اسی لیے ان کو ان کا بھائی کہا گیا ہے ان کی تعلیمات باقی پیغمبروں کی طرح توحید کی ہی تھیں۔ وہ بڑے صالح اور بہترین انسان تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے اونٹنی کا معجزہ عطا کیا جو پہاڑ سے نمودار ہوئی، قوم نے نافرمانی کرتے ہوئے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں تو ان پر اللہ کا عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
آیات 61 تا 68
اسرار و معارف
اسی قانون فطرت اور ضابطہ الٰہیہ کی تائید حضرت صالح (علیہ السلام) کے واقعہ بھی ہوتی ہے جو مذکورہ قوم کی دوسری شاخ یعنی ثمود کی طرف مبعوث ہوئے اور وہ خود بھی اسی قوم کے ایک معززفرد تھے ان کی دعوت بھی وہی تھی جو سب انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی ہوتی تھی اور جو خاتم الانبیاء ﷺ کی بھی تھی اور ہے کہ لوگو ! اللہ کی اور صرف اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے علاوہ کوئی بھی عبادت کا مستحق نہیں ۔ عبادت کی اصل صرف یہ نہیں کہ اللہ کو سب سے بڑامان لیا اور بات ختم بلکہ عبادت کی اصل یہ ہے کہ ساری امیدیں اس ایک ذات سے وابستہ کردی جائیں اور اس کے علاوہ اسباب کو ان کی حیثیت کے مطابق اختیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
ف 10 ۔ یعنی اس دن کے رسوا کن عذاب سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
(11:65) فعقروھا۔ انہوں نے اس (اونٹنی) کی کونچیں کاٹ دیں۔ تمتعوا۔ تم لطف اٹھالو۔ تم (دنیاوی مال و متاع کا) فائدہ اٹھالو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–68
لغات القرآن آیت نمبر 64 تا 68
ناقۃ (اونٹنی) ذرو (چھوڑ دو ، چھوڑے رکھو) تاکل (وہ کھائے) ارض اللہ (اللہ کی زمین) لاتمسوا (تم ہاتھ نہ لگانا) بسوء (برائی سے، بری نیت سے) عقروا (انہوں نے قتل کر ڈالا) تمتعوا (تم فائدہ اٹھا لو) ثلثۃ ایام (تین دن) غیر مکذوب (جھوٹا ہونے والا نہیں ہے ) خزی (رسوائی، ذلت) الصیحۃ (چنگھاڑ، بہت تیز آواز) اصبحوا (وہ ہوگئے) دیار (دیر) گھر جثمین (اوندھے پڑے رہنے والے)
تشریح : آیت نمبر 64 تا 68
جب حضرت صالح قوم ثمود کے سرداروں سے فرما چکے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کائنات کا خالق ومالک ہے اسی ایک اللہ کی عبادت و بندگی کرو۔ میں اللہ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔ میری بات مانو۔ کہنے لگے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–68
حکم الہی کی مخالفت پر عذاب الٰہی
قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے معجزہ طلب کیا حضرت صالح (علیہ السلام) نے خدا سے دعا کی اللہ تعالیٰ نے قبول کی۔ اور پتھر کے اندر سے ایک اونٹنی پیدا کردی اور اونٹنی نے اسی وقت ایک بچہ دیا اور وہ بچہ بھی اسی وقت ماں کے برابر ہوگیا۔ صالح (علیہ السلام) نے قوم سے کہا یہ خدائی اونٹنی ہے اسے چھوڑ دو ، جہاں اس کا جی چاہے گا چرے گی تم اسے نہ ستانا اور نہ بری طرح چھیڑنا۔ اگر ستاؤگے تو یاد رکھو بہت جلد عذاب میں گرفتار ہوجاؤ گے۔ قوم نے آخر اونٹنی کو ستایا حکم الٰہی کی مخالفت کی اور بچہ اونٹنی کا پہاڑ پر چڑھ گیا اور تین بار چلایا اور حضرت صالح (علیہ السلام) اس وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
[34] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو اسی سورة کے حواشی 8 اور 15۔
[35] اگر میں تمہاری فرمائش پر عمل کروں تو سوائے نقصان کے اور کیا ہاتھ آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–67
(ف 2) اونٹنی کو نشانی قرار دینے کا مقصد یہ تھا کہ دیکھیں ان کے بغض وعناد کی مقدار کیا ہے ؟ قاعدہ ہے ، کہ جب ایک شخص سے محبت ہو تو اس کی ہر چیز سے محبت ہوجاتی ہے ، اور اگر بغض ہو ، تو پھر اس کی کوئی چیز دل کو نہیں بھاتی ، حضرت صالح (علیہ السلام) نے اسی اصول پر محبت اور عقیدت کو جانچا ، اور کہا دیکھو اس اونٹنی کو نہ چھیڑنا ورنہ سمجھ لیا جائے گا ، تمہیں ہم سے بیحد عداوت ہے ، اور تمہیں یہ بھی گورار نہیں کہ ہماری اونٹنی زندہ رہے ۔
حل لغات :
تخسیر : گھاٹا ، خسارہ ۔
ناقۃ اللہ : یعنی اللہ کی پیش کردہ اونٹنی ۔ نسبت اضافت تشریف کے لئے ہے ۔
اللھم اغفر لکاتبیہ ولمن سعے فیہ ۔
Read the full tafseer →65 آخر کار قوم کے لوگوں نے باوجود سمجھا دینے کے اس اونٹنی کے پائوں کے پائوں کاٹ ڈالے اور اسکو مارڈالا اور زندگی سے فائدہ حاصل کرلو تین دن کے بعد عذاب آنا ہے اور چونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ اس لئے یہ ایسا وعدہ ہے جس میں بالکل جھوٹ نہیں یعنی اونٹنی کو مار ڈالنے کا ارتکاب کیا تو حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا یہ معجزہ تمہارے کہنے سے تم کو دیا گیا تھا تم نے ہی اس کو ختم کردیا اب تین دن کے بعد دیکھنا کیا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
ف 3۔ یعنی اگر خدانخواستہ قبول کرلوں تو بجز نقصان کے اور کیا ہاتھ آئے۔
Read the full tafseer →قوم ثمود کے بدبختوں نے اس اونٹنی کی ٹانگیں کٹوا دیں اور خود بھی نتیجہ سے دوچار ہو گئے
88 ؎ صالح (علیہ السلام) کے منع کرنے سے وہ لوگ ضد میں آگئے اور ضد میں آ کر انہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں اگرچہ یہ کام کرنے والا ایک ہی بدبخت تھا لیکن پوری قوم کی مدد اس کے ساتھ تھی۔ انہوں نے جو کچھ کرنا چاہا کرلیا تو صالح (علیہ السلام) نے ان کو کہا کہ میں نے تو تم کو سمجھانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی لیکن تم نے وہ کام کر دکھایا جس کے بعد مزید ڈھیل تم کو شاید نہ دی جاسکے تاہم اللہ کے حکم سے ہی آپ کو کہتا ہوں کہ اب صرف تین دن آپ کو مزید انتظار کرنا ہوگا یہ بھی تمہارے لئے آخری ڈھیل ہے اگر تم نے اس ڈھیل سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
In verse 65, it was said: تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ "Enjoy yourselves in your homes for three days [ only ]." That is, when these people killed the she-camel associated with the miracle in flagrant contravention of the Di-vine command, then, something serious happened. As warned earlier, ` lest a near punishment should seize you - 64', the punishment did come upon them in a manner that they were given a respite of three days and told that they all will be destroyed on the fourth day.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
73. Prophet Salih (peace be on him) makes it clear to his people that if he were to follow the advice which they offered him, it would virtually lead to his perdition. Were Salih (peace be on him) to act contrary to his conscience and in opposition to the knowledge and guidance intimated to him by God, he would be liable to God's punishment, and his people would be helpless in their efforts to rescue him from that punishment. Moreover, Salih (peace be on him) was not an ordinary person but a Prophet. This made his dereliction in the sight of God even more grave. For, God would take him to…
Read the full tafseer →