Hud 11:64

Hud · from ayah 64

11:64

وَیٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَلَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ ۟وَيٰقَوۡمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَـكُمۡ اٰيَةً فَذَرُوۡهَا تَاۡكُلۡ فِىۡۤ اَرۡضِ اللّٰهِ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ قَرِيۡبٌ

اور یہ بھی کہا کہ اے قوم! یہ خدا کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی (یعنی معجزہ) ہے تو اس کو چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں (جہاں چاہے) چرے اور اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا ورنہ تمہیں جلد عذاب آپکڑے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And O my people, this is the she-camel of Allah - [she is] to you a sign. So let her feed upon Allah 's earth and do not touch her with harm, or you will be taken by an impending punishment."

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 6 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:64

اور اے میری قوم کے لوگو، دیکھو یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی ہے اِسے خدا کی زمین میں چرنے کے لیے آزاد چھوڑ دو اِس سے ذرا تعرض نہ کرنا ورنہ کچھ زیادہ دیر نہ گزرے گی کہ تم پر خدا کا عذاب آ جائے گا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یہ بھی کہا کہ اے قوم! یہ خدا کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی (یعنی معجزہ) ہے تو اس کو چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں (جہاں چاہے) چرے اور اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا ورنہ تمہیں جلد عذاب آپکڑے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اے میری قوم والو! یہ اللہ کی بھیجی ہوئی اونٹنی ہے جو تمہارے لئے ایک معجزه ہے اب تم اسے اللہ کی زمین میں کھاتی ہوئی چھوڑ دو اور اسے کسی طرح کی ایذا نہ پہنچاؤ ورنہ فوری عذاب تمہیں پکڑ لے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اے میری قوم ! یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی بن کر آئی ہے۔ لہذا اس کو آزاد چھوڑ دو کہ یہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے، اور اس کو برے ارادے سے چھونا بھی نہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں عنقریب آنے والا عذاب آپکڑے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اے میری قوم! یہ اللہ کا ناقہ ہے تمہارے لیے نشانی تو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اسے بری طرح ہاتھ نہ لگانا کہ تم کو نزدیک عذاب پہنچے گا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اے میری قوم! یہ اﷲ کی (خاص طریقہ سے پیدا کردہ) اونٹنی ہے (جو) تمہارے لئے نشانی ہے سو اسے چھوڑے رکھو (یہ) اﷲ کی زمین میں کھاتی پھرے اور اسے کوئی تکلیف نہ پہنچانا ورنہ تمہیں قریب (واقع ہونے والا) عذاب آپکڑے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اے میری قوم ! یہ اللہ کی اونٹنی ہے، تمہارے لیے عظیم نشانی، پس اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے اور اسے کوئی تکلیف نہ پہنچاؤ، ورنہ تمہیں ایک قریب عذاب پکڑ لے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اے قوم ! یہ اللہ کی اونٹنی ہے جو تمہارے لیے ایک معجزہ ہے۔ اسے اللہ کی زمین میں چرنے دو ، اسے کوئی تکلیف نہ پہنچانا ورنہ تمہیں بہت بڑا عذاب آئے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اے میری قوم کے لوگو، یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمہارے لیے ایک نشانی تو اس کو چھوڑو کہ یہ اللہ کی زمین میں چرے چگے اور اس کو کوئی گزند نہ پہنچائیو ورنہ ایک قریبی عذاب تمہیں آپکڑے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہاں اے میری قوم ! یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمہارے لئے ایک بڑی نشانی کے طور پر، پس تم اسے چھوڑ دینا کہ یہ (آزادانہ) کھاتی (اور چرتی پھرتی) رہے اللہ کی زمین میں، اور اسے کوئی تکلیف نہ پہنچانا کہ پھر تمہیں آپکڑے قریب ہی کا ایک بڑا عذاب،

— مولانا اسحاق مدنی

اور اے میری قوم یہ اونٹنی اللہ کی ہے اور تمہارے حق میں ایک نشان سو اسے چھوڑے رہو کہ اللہ کی زمین پر چرتی کھاتی پھرے اور اس کو برائی کے ساتھ ہاتھ نہ لگانا ورنہ تم کو قریبی عذاب آپکڑے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (دیکھو) میری قوم کے لوگو ! یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی ہے اسے چھوڑے رکھو کہ یہ چرتی پھرے اللہ کی زمین میں اور (دیکھنا) کسی برے ارادے سے اسے ہاتھ نہ لگانا ورنہ تمہیں آپکڑے گا ایک قریبی عذاب

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یہ بھی کہا کہ اے قوم ! یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی (معجزہ) ہے۔ تو اس کو چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں جہاں چاہے چرے اور اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا ورنہ تمہیں جلد عذاب آپکڑے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

My people! This she-camel of Allah is a sign for you. So let her pasture on Allah's earth, and do not hurt her or else some chastisement - which is near at hand -should overtake you.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And O my people, this is the she-camel of Allah, a sign for you. So, leave her free to eat on the earth of Allah, and do not even touch her with evil (intention), lest an approaching punishment should seize you.

— Muhammad Taqi Usmani

And O my people, this is the she-camel of Allah, a sign for you. So, leave her free to eat on the earth of Allah, and do not even touch her with evil (intention), lest an approaching punishment should seize you.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And O my people! This she-camel of Allah is a sign to you, so leave her to graze in Allah's land, and touch her not with evil, lest a near torment should seize you."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O my people! This is the camel of Allah, a token unto you, so suffer her to feed in Allah's earth, and touch her not with harm lest a near torment seize you.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And O my people, this is the she-camel of Allah - [she is] to you a sign. So let her feed upon Allah 's earth and do not touch her with harm, or you will be taken by an impending punishment."

— Saheeh International

My people, this is the she-camel of God, a miracle (to support the truth which has been brought) to you. Leave her to graze in the land of God. Do not harm her with your evil deeds lest torment will suddenly strike you."

— Muhammad Sarwar

And, O my people! this will be (as) Allah's she-camel for you, a sign; therefore leave her to pasture on Allah's earth and do not touch her with evil, for then a near chastisement will overtake you.

— Muhammad Habib Shakir

And O my people! yonder is the she-camel of Allah: a sign unto you; so let her alone, feeding in Allah's land, and touch her not with evil, lest there may overtake you a torment nigh.

— Abdul Majid Daryabadi

"And O my people! This she-camel of Allah is a symbol to you: leave her to feed on Allah's (free) earth, and inflict no harm on her, or a swift penalty will seize you!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:64

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 64–68

ان تمام آیتوں کی پوری تفسیر اور ثمودیوں کی ہلاکت کے اور اونٹنی کے مفصل واقعات سورة اعراف میں بیان ہوچکے ہیں یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 63–65

ہوْرَةُ هُوْد 73 یعنی اگر میں اپنی بصیرت کے خلاف اور اس علم کے خلاف جو اللہ نے مجھے دیا ہے، محض تم کو خوش کرنے کے لیے گمراہی کا طریقہ اختیار کرلوں تو یہی نہیں کہ خدا کی پکڑ سے تم مجھ کو بچا نہ سکو گے، بلکہ تمہاری وجہ سے میرا جرم اور زیادہ بڑھ جائے گا اور اللہ تعالیٰ مجھے اس بات کی مزید سزا دے گا کہ میں نے تم کو سیدھا راستہ بتانے کے بجائے تمہیں جان بوجھ کر الٹا اور گمراہ کیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 62–64

اس واقعہ میں حضرت صالح ؑ کی قوم نے ان سے کہا (آیت) قَدْ كُنْتَ فِيْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ ھٰذَآ، یعنی آپ کے دعوائے نبوت اور بت پرستی کو منع کرنے سے پہلے ہم کو آپ سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں کہ آپ ہماری قوم کے لئے بڑے مصلح اور رہنما ثابت ہوں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ اپنے انبیاء کی پرورش بچپن ہی سے نہایت پاکیزہ اخلاق و عادات میں کرتے ہیں جس کو دیکھ کر سبھی ان سے محبت کرتے اور عظمت سے پیش آتے ہیں جیسا کہ حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کو بھی اعلان نبوت سے پہلے سارا عرب امین کا خطاب دیتا اور سچا اور صالح اعتقاد رکھتا تھا، نبوت کے دعوی اور بت پرستی سے ممانعت کرنے پر یہ سب مخالف ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 64–65

تفسیر آیات 64۔ 65:۔ وَيٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَــةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰيَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِيْٓ اَرْضِ اللّٰهِ وَلَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْۗءٍ فَيَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِيْبٌفَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِيْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ ۭذٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوْبٍ۔ ناقہ کا معجزہ : بعینہ یہی مضمون کم و بیش انہی الفاظ میں اعراف آیت 73 میں گزر چکا ہے۔ وہاں ہم نے اس کے تمام اہم اجزا کی بھی تشریح کی ہے اور ناقہ کی شانی کے ظہور کا موقع و محل اور اس کا مقصد بھی واضح کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

64۔ 1 یہ وہی اونٹنی جو اللہ تعالیٰ نے ان کے کہنے پر ان کی آنکھوں کے سامنے ایک پہاڑ یا ایک چٹان سے برآمد فرمائی اس لئے اسے (اللہ کی اونٹنی) کہا گیا ہے کیونکہ یہ خالص اللہ کے حکم سے معجزانہ طور پر مذکورہ خلاف عادت طریقے سے ظاہر ہوئی تھی۔ اس کی بابت انھیں تاکید کردی گئی تھی کہ اسے ایذا نہ پہنچانا ورنہ تم عذاب الٰہی کی گرفت میں آجاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 62–64

36: اس سے صاف واضح ہے کہ نبوت کے اعلان سے پہلے حضرت صالح ؑ کو پوری قوم بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتی تھی، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی قوم نے انہیں اپنا سردار یا بادشاہ بنانے کا ارادہ کیا تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہاں یہ قرآن کریم نے اس ناقہ کے بارے میں تفصیلات نہیں دی ہیں جو ان کے لیے ایک نشانی اور علامت تھی۔ لیکن اس ناقہ کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ “ اللہ کی اونٹنی ” ہے۔ اور تمہارے لیے یہ ایک نشانی ہے ان ریمارکس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ممتاز اونٹنی تھی اور وہ جانتے تھے کہ یہ ان کے لیے اللہ کی جانب سے ایک نشانی ہے۔ بس ہم بھی یہاں صرف ان باتوں پر اکتفاء کرتے اور ناقہ صالح (علیہ السلام) کے بارے میں اسرائیلی روایات کے مطابق مفسرین نے جو رطب ویابس جمع کی ہیں ان کے ساتھ یہاں تعرض نہیں کرتے۔ هَذِهِ نَاقَةُ اللَّهِ لَكُمْ آيَةً فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِي أَرْضِ اللَّهِ وَلا تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ (64 : 11)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 64–65

9 حضرت صالح (علیہ السلام) سے قوم نے معجزہ طلب کیا تھا۔ وہ انھیں دکھلا دیا۔ اس واقعہ کی پوری تفصیل اور الفاظ کی تشریح سورة " اعراف " میں آٹھویں پارہ کے ختم پر گزر چکی ہے۔ وہاں ملاحظہ کرلی جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

وَلَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْۗءٍ فَيَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِيْبٌ وہ عذاب اب دور نہیں ہے اور اسے آتے کچھ دیر نہ لگے گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

76 ناقۃ اللہ کا کھانا پینا :۔ اس قوم نے خود اس معجزہ کا مطالبہ کیا تھا کہ ہم تو تب ایمان لائیں گے کہ اس پہاڑ سے ایک حاملہ اونٹنی برآمد ہو پھر وہ ہمارے سامنے بچہ جنے۔ سیدنا صالح (علیہ السلام) نے اللہ سے دعا کی پہاڑ میں یک لخت جنبش ہوئی پھر ایک شگاف سے ایک بہت دیو ہیکل اونٹنی برآمد ہوئی جس نے کچھ عرصہ بعد بچہ جنا اس طرح اس قوم کا منہ مانگا معجزہ کا مطالبہ پورا ہوا اسی وجہ سے اس اونٹنی کو اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ اونٹنی کو تکلیف پہنچانے پر تنبیہ :۔ یہ دیو ہیکل اونٹنی اتنا پانی پیتی تھی جتنا اس بستی کے سارے جانور پیتے تھے اور اتنا ہی چارہ بھی کھا جاتی تھی۔ اس کی خوراک کے سلسلہ میں قوم کو ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

96۔ یعنی ایسا عذاب جس کے آنے میں دیر نہ لگے گی اور جو تم کو یہیں اسی مادی دنیا میں محسوس ہوجائے گا۔ (آیت) ” ناقۃ اللہ “۔ اضافت تعظیم کے لیے ہے جیسے بیت اللہ، کعبۃ اللہ وغیرہ میں۔ ، الاضافۃ للتشریف (روح) اس اونٹنی اور اس کے متعلقات پر حاشیے سورة اعراف میں گزر چکے ،

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 61–68

آیت نمبر 61 تا 68 ترجمہ : اور ہم نے ثمود کے پاس ان کے خاندانی بھائی صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا، اس نے کہا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو) یعنی ( اس کی توحید کا اقرار کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اس نے تم کو پیدا کیا یعنی تمہاری تخلیق ابتداء مٹی سے کی تمہارے دادا آدم کو مٹی سے پیدا کرکے اور اسی نے تم کو زمین میں بسایا یعنی تم کو) زمین کا ( باشندہ بنایا تاکہ تم اس میں سکونت اختیار کرو پس تم اس سے معافی طلب کرو شرک سے اور پھر طاعت کے ذریعہ اس کی طرف رجوع کرو بیشک میرا رب اپنی مخلوق سے باعتبار علم کے قریب ہے اور جو اس سے سوال کرتا ہے اس کا قبول کرنے والا ہے ان لوگوں نے جواب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ویٰقوم ھذہ نافۃ اللہ لکم ایۃ اور اے قوم والو ! یہ (براہ راست بغیر ماں باپ کے پیدا کی ہوئی) اللہ کی اونٹنی ہے جو تمہارے لئے ایک معجزہ ہے۔ فذروھا تاکل في ارض اللہ پس اس کو اللہ کی زمین میں (گھومتی پھرتی) رہنے دو تاکہ زمین کا سبزہ چرتی پھرے اور زمین کا پانی پیتی رہے۔ تم پر اس کی خوراک اور پانی کا کوئی بار نہیں۔ ولا تمسوھا بسوءٓ فیاخذ کم عذاب قریب۔ اور اس کو بری نیت سے ہاتھ مت لگانا ورنہ تم کو عذاب الٰہی سے دوچارہونا پڑجائے گا۔ یعنی تین دن میں تم پر عذاب آجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(64) اور اے قوم یہ اونٹنی ہے اللہ کی جو تمہارے لیے دلیل بنا کر ظاہر کی گئی، اس کو حجر کی سرزمین میں چھوڑ دو تمہارے ذمہ اس کی کسی قسم کی کوئی رکھوالی نہیں اور اس کو تکلیف دینے کی نیت سے ہاتھ بھی نہ لگانا کہیں تمہیں فورا یعنی تین دن کے بعد عذاب آگھیرے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 64–65

وَيٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَــةُ اللّٰهِ : اس اونٹنی کی نسبت اللہ کی طرف اس کی عظمت کے بیان کے لیے ہے، ورنہ ہر اونٹنی اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہے۔ قرآن مجید میں اس کے اوصاف یہ آئے ہیں کہ قوم ثمود کے معجزہ طلب کرنے پر صالح ؑ کو یہ اونٹنی ملی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لیے ان کے کنویں کا پانی پینے کی باری مقرر کی گئی کہ ایک دن صرف وہ پیے گی اور ایک دن دوسرے تمام لوگوں کے جانور پانی پییں گے۔ اپنی باری کے دن لوگ جتنا پانی چاہیں نکال کر رکھ لیں، مگر اونٹنی کی باری کے دن صرف وہی پیے گی۔ دیکھیے سورة شعراء (154 تا 156) وہ جہاں چاہے چرے، کوئی شخص اسے اپنے کھیت سے یا کسی بھی جگہ سے چرنے سے نہیں روکے گا اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 62–68

آیت نمبر 62 تا 68 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : قالو ایٰصٰلح قدکنت فیھا مرجوًاقبل ھٰذآ یعنی اس سے پہلے ہم امید کرتے تھے کہ آپ ہی ہم میں سے سردار ہوں گے، یعنی آپ کے دعویٰ نبوت سے پہلے۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) ان کے معبودوں کو غیب کی طرف منسوب کرتے اور ان سے نفرت کرتے تھے۔ اور وہ آپ سے انہی کے دین کی طرف لوٹنے کی امید کرتے تھے، پس جب آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا تو انہوں نے کہا : ہماری تم سے وابستہ امیدیں ختم ہوگئی ہیں۔ اتنھٰنآاستفہام ہے جس کا معنی انکار ہے۔ ان نعبد یعنی (عن ان نعبد) اس بات سے کہ ہم عبادت کریں۔ مایعبداٰباؤناان محل نصب میں ہے عن حرب جر کے ساتھ ہونے کی وجہ سے۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 61–68

حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعوت : 1:۔ ابوالشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھوانشاکم من الارض “ سے مراد ہے کہ اس نے تم کو پیدا کیا زمین میں سے۔ 2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واستعمرکم فیھا “ یعنی اس میں تم کو آباد کیا۔ 3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واستعمرکم فیھا “ یعنی اس میں تم کو خلیفہ بنایا۔ 4:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فما تزیدوننی غیر تخسیر “ یعنی تم نہیں زیادہ ہوتے ہو مگر خسارے میں۔ 5:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے عطا خراسانی (رح)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَيٰقَوْمِ : اور اے میری قوم ] [هٰذِهٖ : یہ ] [نَاقَــةُ اللّٰهِ : اللہ کی اوٹنی ہے ] [لَكُمْ : تمہارے لئے ] [اٰيَةً : ایک نشانی ہوتے ہوئے ] [فَذَرُوْهَا : تو تم لوگ چھوڑو اس کو ] [تَاْكُلْ : (کہ) وہ کھائے ] [فِيْٓ اَرْضِ اللّٰهِ : اللہ کی زمین میں ] [وَلَا تمسُّوْهَا : اور تم لوگ مت چھونا اس کو ] [بِسُوۗءٍ : کسی برائی سے ] [فَيَاْخُذَكُمْ : ورنہ پکڑے گا تم کو ] [عَذَابٌ قَرِيْبٌ: ایک قریبی عذاب ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 61–66

قوم ثمود کو حضرت صالح (علیہ السلام) کا تبلیغ فرمانا اور قوم کا نافرمانی کی وجہ سے ہلاک ہونا سورة اعراف کے رکوع میں حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کی قوم ثمود کا واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا جا چکا ہے وہاں مراجعت فرما لیں مختصر طریقے پر یہاں بھی لکھا جاتا ہے حضرت صالح (علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے یہ قوم عاد کے بعد تھی۔ سورة اعراف میں ہے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا : (وَاذْکُرُوْا اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَاءَ مِنْ م بَعْدِ عَادٍ وَّبَوَّاَکُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنَ سُھُوْلِھَا قُصُوْرًا وَّتَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا فَاذْکُرُوْا اٰلَاء اللّٰہِ ولَا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 50–68

قال اللہ تعالیٰ والی عاد اخاھم ھودا .... الیٰ .... الا بعد العاد قوم ھود۔ (ربط) نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد دوسرا قصہ ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم عاد کا ہے جس میں قوم عاد کی ضلالت اور عذاب کا حال بیان فرمایا ہے یہ لوگ شرک اور بت پرستی میں مبتلا تھے اور دولت و ثروت کی وجہ سے مغرور تھے۔ اور انبیاء (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کا حقارت کی نظروں سے دیکھتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو دو خصوصیتیں عطا فرمائی تھیں ایک قوت و توانائی کما قال تعالیٰ وقالوا من اشد منا قوۃ۔ دوم یہ کہ ان کے بلاد نہایت سرسبز اور شاداب تھے یمن ان کا مسکن تھا۔ صاحب زراعت اور صاحب عمارت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 64–65

60:۔ قوم نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایک مخصوص پتھر سے ایک اونٹنی نکال دیں تو وہ انہیں سچا نبی مان لیں گے حضرت صالح (علیہ السلام) نے اللہ سے دعا کی تو اللہ کے حکم سے بطور معجزہ اسی وقت پتھر سے اونٹنی نکل آئی تب حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ اونٹنی ایک معجزہ ہے اور تمہارے لیے میری سچائی کی بہت بڑی دلیل ہے، اس کی خوراک تمہارے ذمہ نہیں وہ اللہ کی زمین میں چل پھر کر اپنا پیٹ بھر لے گی تم اس سے تعرض مت کرنا ورنہ فوراً اللہ کے عذاب میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ فَعَقَرُوْھَا مگر وہ باز نہ آئے اور ایک آدمی کو اس کے قتل کرنے پر مامور کیا اس نے موقع پا کر اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ کر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 64–68

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید کی تفہیم کے لئے اس سورة مبارکہ میں متعدد انبیاء (علیہم السلام) کا تذکرہ کیا ہے۔ پہلے حضرت نوح اور ہود (علیہما السلام) کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے اپنی اپنی قوم کو یہی دعوت دی۔ ” اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ “ اے لوگو ! صرف اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے بغیر تمہارا کوئی معبود نہیں۔ سورة کی ابتداء میں حضور خاتم النبین ﷺ کی زبان مبا کہ سے بھی یہی کلمات دہرائے گئے اور صالح (علیہ السلام) کو تبلیغ کالب لباب بھی یہی تھا کہ لوگو ! عبادت صرف اللہ کی کرو ، اس سے معافی مانگو اور اس کی طرف رجوع رکھو۔ آپ کی قوم نے کہا کہ ہم تو تمہیں بڑا ہونہار سمجھتے تھے کہ تو باپ دادے کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيٰقَوْمِ ہٰذِہٖ نَاقَــۃُ اللہِ لَكُمْ اٰيَۃً فَذَرُوْہَا تَاْكُلْ فِيْٓ اَرْضِ اللہِ وَلَا تَمَسُّوْہَا بِسُوْۗءٍ فَيَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِيْبٌ۝ 64 قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجر ات/ 11] الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 62–66

تفسیر : تیسرا واقعہ قوم ثمود اور ان کے پیغمبر حضرت صالح (علیہ السلام) کا یاد دلاتا ہے جو حادثہ قوم عاد کے بعد عرب کے شمالی حصہ میں گذرا ہے۔ اس کی تشریح بھی پہلے ہوچکی اس قوم کی یادگار بھی کچھ کچھ آنحضرت ﷺ کے عہد تک باقی تھی جو ان کے حال زار پر آنسو بہاتی اور دیکھنے والوں کو اللہ کے غضب سے ڈراتی تھی۔ ولقد جاءت یہ چوتھا ہیبت ناک واقعہ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حال میں شامل کرکے بیان فرماتا ہے۔ اس کی بھی تشریح ہوچکی مگر ہم کسی قدر الفاظِ آیات کی تفسیر کرتے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) اپنے گھر کے باہر کھڑے تھے کہ کئی شخص مسافرانہ شکل میں نمودار ہوئے۔…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَیٰـقَوْمِ ھٰذِہٖ نَاقَۃُ اللّٰہِ لَکُمْ اٰیَۃً فَذَرُوْھَا تَاْکُلْ فِیْ ٓ اَرْضِ اللّٰہِ وَلاَ تَمَسُّوْھَا بِسُوْٓئٍ فَیَاخُذَکُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ۔ (سورۃ ہود : 64) (اور اے میری قوم ! یہ اللہ کی اونٹنی ہے، تمہارے لیے نشانی ہے۔ پس اسے چھوڑ دو تاکہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے اور کسی برائی کے ارادے سے اسے ہاتھ بھی نہ لگانا ورنہ تمہیں بہت جلد عذاب آپکڑے گا۔ ) قوم کا مطالبہ اور اس کا جواب قوم نے جب حضرت صالح (علیہ السلام) کی استقامت اور استقلال کو دیکھا اور سمجھ گئے کہ یہ اپنی دعوت سے پیچھے ہٹنے والے نہیں البتہ یہ ممکن ہے کہ آہستہ آہستہ لوگ ان کی دعوت سے متاثر ہو کر ایمان لانا شروع کردیں۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 64–65

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ قوم نے حضرت صالح (علیہ السلام) کے شاندار ماضی، عمر بھر کی صداقت اور اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ دلائل پر ایمان لانے کی بجائے یہ مطالبہ کرڈالا۔ صالح ہم اس وقت تک تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہمارے سامنے اس پہاڑ سے ایک گابھن اونٹنی ظاہر نہ ہو۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے انہیں بہت سمجھایا کہ معجزہ طلب کرنے کے بعد اگر تم ایمان نہ لائے تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں مہلت نہ دی جائے گی۔ لیکن ان کی قوم نے صاف طور پر کہا کہ جس پر تم ایمان رکھتے ہو ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔ (النحل : 49) ۔ تب حضرت صالح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی کہ باری تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اونٹنی کا معجزہ : 64: وَیٰـقَوْمِ ھٰذِہٖ نَاقَۃُ اللّٰہِ لَکُمْ اٰیَۃً (اے میری قوم یہ اللہ تعالیٰ کی اونٹنی ہے جو تمہارے لئے ایک معجزہ ہے) نحو : ٰایَۃً یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اسمیں معنی فعل عامل ہے اسم اشارہ اس پر دلالت کررہا ہے۔ لکم یہ آیۃً حال مقدم کے متعلق ہے اگر اسکومؤخر کردیتے تو صفت بن جاتا جب مقدم کیا تو حال کی وجہ سے منصوب ہوگیا۔ فَذَرُوْھَا تَاْکُلْ فِیْ اَرْضِ اللّٰہِ (اس کو چھوڑدو (گھومتی پھرتی) اللہ تعالیٰ کی زمین میں چرتی پھرے) تمہارے ذمہ اس کے لئے چارہ نہیں۔ اس کے باوجود کہ تمہارا اس میں فائدہ ہے۔ وَلَاتَمَسُّوْھَا بِسُوْئٍ (اسکوبرائی سے ہاتھ مت لگائو) ذبح کرنا یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر : 64” ویقوم ھذہ ناقۃ اللہ لکم ایۃ “ یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ صالح (علیہ السلام) کی قوم نے مطالبہ کیا تھا کہ اس چٹان سے دس ماہ کی حاملہ اونٹنی نکلے تو صالح (علیہ السلام) نے دعا کی تو اس چٹان سے اونٹنی نکلی اور نکلتے ہی اپنے جیسا بچہ جن دیا ۔ یہ پورا قصہ ہم سورة اعراف میں بیان کرچکے ہیں ۔ ” قذروھا تاکل فی ارض اللہ “ گھاس پھوس اور جڑی بوٹیاں تمہارے ذمہ اس کا خرچہ نہیں ہے۔ ” ولا تمسوھا بسوء فیا خذکم “ اگر تم نے اس کو مار ڈالا ۔ ” عذاب قریب “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 64–68

64۔ 68۔ قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے معجزہ طلب کیا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے خدا سے دعا کی اللہ نے قبول کی اور پتھر کے اندر سے ایک اونٹنی پیدا کردی۔ اونٹنی نے اسی وقت ایک بچہ دیا وہ بچہ بھی اسی وقت ماں کے برابر ہوگیا۔ صالح (علیہ السلام) نے قوم سے کہا کہ یہ خدا کی اونٹنی ہے اسے چھوڑ دو جہاں اس کا جی چاہے گا چرے گی تم اسے نہ ستانا اور نہ بری طرح چھیڑنا اگر ستاؤ گے تو یاد رکھو بہت جلد عذاب میں گرفتار ہوجاؤ گے۔ مگر یہ قوم کب ماننے والی تھی ایک شخص قدار نامی نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ صالح (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ تم نے میری بات نہ مانی آخر اونٹنی کو ستایا اب تم لوگ دنیا میں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(ویقوم ھذا ناقۃ اللہ لکم ایۃ) ” اور اے میری قوم ! یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمہارے لئے نشانی “ کنویں سے ایک دن صرف اونٹنی پانی پیے گی، پھر تمام لوگ اس کے تھنوں سے دود پئیں گے اور ایک دن ان کے پانی پینے کے لئے مقرر ہوگا۔ (فذروھا تاکل فی ارض اللہ ) ” پس تم اسے چھوڑدو، وہ کھائے پھرے اللہ کی زمین میں “ یعنی تم پر اونٹنی کے چار وغیرہ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے (ولا تمسوھا بسوء) ” اور تم اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا “ یعنی اس کو قتل کرنے کی نیت سے مت چھونا (فیاخذکم عذاب قریب) ” ورنہ تمہیں بہت جلد عذاب آپکڑے گا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 61–68

انسان کو زمین پر آباد کیا قول باری ہے ھو انشاکم من الارض واستعمرکم فیھا ۔ وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور یہاں تم کو بسایا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی زمین کی طرف نسبت کی اس لیے کہ ان سب کی اصل یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق زمین کی مٹی سے ہوئی تھی اور بنی نوع انسان تمام کے تمام حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں ۔ ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں ۔ اس نے تمہیں زمین میں پیدا کیا۔ قول باری واستعمرکم فیھا کے معنی ہیں ۔ اللہ نے تمہیں ایسی چیزوں کے ساتھ زمین کو آباد کرنے کا حکم دیا جن کی تمہیں ضرورت تھی ۔ اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ زمین کو زراعت کے لیے ، پودے اور درخت لگانے کے لیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 63–65

145 ۔ نبوت و رسالت ایک عظیم الشان اور جلیل القدر رحمت خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت صالح نے ان لوگوں کے دلوں پر دستک دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ ذرا سوچو اور غور کرو کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر قائم ہوں اور اس نے مجھے اپنی طرف سے ایک خاص رحمت سے بھی نوازا ہو۔ یعنی اگر میں نور فطرت پر بھی قائم ہوں اور اس کے بعد بھی اللہ نے مجھے اپنی طرف ایک اور خاص رحمت سے بھی نوازا ہو یعنی نبوت سے۔ سو رحمت سے یہاں پر مراد نبوت و رسالت ہے جو اللہ پاک کی سب سے بڑی رحمت ہے۔ جس سے وہ اپنے خاص چنے ہوئے بندوں کو محض اپنے کرم و احسان اور اپنی عنایت و مہربانی سے نوازتا ہے۔ سبحانہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 61–68

سیدنا صالح (علیہ السلام) اور ان کی قوم ثمود پر عذاب تشریح : قوم نوح، قوم ھود اور اب قوم ثمود کا ذکر بھی اسی سلسلے میں کیا جا رہا ہے کہ آنحضرت ﷺ امت مسلمہ کو عبرت دلائیں کہ نافرمان قوموں کا انجام کیا ہوتا ہے۔ سورة الاعراف رکوع نمبر 10 میں ان کا ذکر ہوچکا ہے۔ یہاں دوبارہ بیان کیا جا رہا ہے حضرت صالح (علیہ السلام) قوم ثمود کے ہی فرد تھے اسی لیے ان کو ان کا بھائی کہا گیا ہے ان کی تعلیمات باقی پیغمبروں کی طرح توحید کی ہی تھیں۔ وہ بڑے صالح اور بہترین انسان تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے اونٹنی کا معجزہ عطا کیا جو پہاڑ سے نمودار ہوئی، قوم نے نافرمانی کرتے ہوئے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں تو ان پر اللہ کا عذاب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 61–68

آیات 61 تا 68 اسرار و معارف اسی قانون فطرت اور ضابطہ الٰہیہ کی تائید حضرت صالح (علیہ السلام) کے واقعہ بھی ہوتی ہے جو مذکورہ قوم کی دوسری شاخ یعنی ثمود کی طرف مبعوث ہوئے اور وہ خود بھی اسی قوم کے ایک معززفرد تھے ان کی دعوت بھی وہی تھی جو سب انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی ہوتی تھی اور جو خاتم الانبیاء ﷺ کی بھی تھی اور ہے کہ لوگو ! اللہ کی اور صرف اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے علاوہ کوئی بھی عبادت کا مستحق نہیں ۔ عبادت کی اصل صرف یہ نہیں کہ اللہ کو سب سے بڑامان لیا اور بات ختم بلکہ عبادت کی اصل یہ ہے کہ ساری امیدیں اس ایک ذات سے وابستہ کردی جائیں اور اس کے علاوہ اسباب کو ان کی حیثیت کے مطابق اختیار…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 ۔ ” ایۃ “ سے مراد یہاں معجزہ ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : حضرت صالح ( علیہ السلام) سے قوم نے معجزہ مانگا، حق تعالیٰ نے ان کی دعا سے پتھر میں سے اونٹنی نکالی۔ اسی وقت اس نے بچہ دیا، اسی وقت وہ ماں کے برابر ہوگیا حضرت صالح نے فرمایا کہ اس کی تعظیم کرتے رہو تب تک دنیا کا عذاب نہ ہوگا جہاں وہ جاتی کھانے کو یا پینے کو سب جانور بھاگ جاتے اور آدمی کوئی اس کو نہ ہانکتا۔ (کذافی التفاسیر) ۔ 9 ۔ اگرچہ ان میں سے صرف ایک شخص نے اونٹنی کو زخمی کیا تھا لیکن اسے چونکہ سب کی رضامندی اور تائید حاصل تھی اس لئے سبھی کو اس جرم کا مرتکب قرار دیا گیا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(11:64) یقوم ھذہ ناقۃ اللہ لکم ایۃ۔ یہ کفار ثمود کے مطالبہ فات بایۃ ان کنت من الصدقین (26:154) کے جواب میں ہے۔ ایۃ بوجہ حال کے منصوب ہے۔ فذروھا۔ تم اس کو چھوڑ دو ۔ امر۔ جمع مذکر حاضر ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ تاکل۔ فعل مجزوم۔ جواب طلب کی وجہ سے ہے۔ فیاخذکم۔ میںحرف ناصبہ ہے جو فعل مضارع پر تبقدیر ان داخل ہوا کرتی ہے۔ جیسے زرنی فاکرمک۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 64–68

لغات القرآن آیت نمبر 64 تا 68 ناقۃ (اونٹنی) ذرو (چھوڑ دو ، چھوڑے رکھو) تاکل (وہ کھائے) ارض اللہ (اللہ کی زمین) لاتمسوا (تم ہاتھ نہ لگانا) بسوء (برائی سے، بری نیت سے) عقروا (انہوں نے قتل کر ڈالا) تمتعوا (تم فائدہ اٹھا لو) ثلثۃ ایام (تین دن) غیر مکذوب (جھوٹا ہونے والا نہیں ہے ) خزی (رسوائی، ذلت) الصیحۃ (چنگھاڑ، بہت تیز آواز) اصبحوا (وہ ہوگئے) دیار (دیر) گھر جثمین (اوندھے پڑے رہنے والے) تشریح : آیت نمبر 64 تا 68 جب حضرت صالح قوم ثمود کے سرداروں سے فرما چکے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کائنات کا خالق ومالک ہے اسی ایک اللہ کی عبادت و بندگی کرو۔ میں اللہ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔ میری بات مانو۔ کہنے لگے کہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 64–68

حکم الہی کی مخالفت پر عذاب الٰہی قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے معجزہ طلب کیا حضرت صالح (علیہ السلام) نے خدا سے دعا کی اللہ تعالیٰ نے قبول کی۔ اور پتھر کے اندر سے ایک اونٹنی پیدا کردی اور اونٹنی نے اسی وقت ایک بچہ دیا اور وہ بچہ بھی اسی وقت ماں کے برابر ہوگیا۔ صالح (علیہ السلام) نے قوم سے کہا یہ خدائی اونٹنی ہے اسے چھوڑ دو ، جہاں اس کا جی چاہے گا چرے گی تم اسے نہ ستانا اور نہ بری طرح چھیڑنا۔ اگر ستاؤگے تو یاد رکھو بہت جلد عذاب میں گرفتار ہوجاؤ گے۔ قوم نے آخر اونٹنی کو ستایا حکم الٰہی کی مخالفت کی اور بچہ اونٹنی کا پہاڑ پر چڑھ گیا اور تین بار چلایا اور حضرت صالح (علیہ السلام) اس وقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 63–65

[34] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو اسی سورة کے حواشی 8 اور 15۔ [35] اگر میں تمہاری فرمائش پر عمل کروں تو سوائے نقصان کے اور کیا ہاتھ آئے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 64–67

(ف 2) اونٹنی کو نشانی قرار دینے کا مقصد یہ تھا کہ دیکھیں ان کے بغض وعناد کی مقدار کیا ہے ؟ قاعدہ ہے ، کہ جب ایک شخص سے محبت ہو تو اس کی ہر چیز سے محبت ہوجاتی ہے ، اور اگر بغض ہو ، تو پھر اس کی کوئی چیز دل کو نہیں بھاتی ، حضرت صالح (علیہ السلام) نے اسی اصول پر محبت اور عقیدت کو جانچا ، اور کہا دیکھو اس اونٹنی کو نہ چھیڑنا ورنہ سمجھ لیا جائے گا ، تمہیں ہم سے بیحد عداوت ہے ، اور تمہیں یہ بھی گورار نہیں کہ ہماری اونٹنی زندہ رہے ۔ حل لغات : تخسیر : گھاٹا ، خسارہ ۔ ناقۃ اللہ : یعنی اللہ کی پیش کردہ اونٹنی ۔ نسبت اضافت تشریف کے لئے ہے ۔ اللھم اغفر لکاتبیہ ولمن سعے فیہ ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

64 انہوں نے نبو ت کے ثبوت کے لئے جو معجزہ طلب یا اس پر حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا اے میری قوم یہ اونٹنی ہے اللہ کی جو تمہارے لئے ایک معجزہ اور دلیل بنا کر ظاہر کی گئی ہے سو تم اس کو چھوڑ دو کہ یہ اللہ کی زمین میں چرتی پھرے اور اس کو کسی قسم کی برائی پہنچانے کی نیت سے چھونا بھی نہیں اور ہاتھ بھی نہ لگانا ورنہ تم کو فوری عذاب آلے گا اور دیرنہ لگے گی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت صالح (علیہ السلام) سے قوم نے معجزہ لگا حق تعالیٰ نے ان کی دعا سے پتھر میں سے اونٹنی نکالی اسی وقت اس نے بچہ دیا اسی وقت ماں کے برابر ہوگیا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کی تعظیم کرتے رہو تب تک دنیا کا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 63–65

ف 3۔ یعنی اگر خدانخواستہ قبول کرلوں تو بجز نقصان کے اور کیا ہاتھ آئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

میری قوم کے لوگو ! یہ اونٹنی تمہارے لئے ایک نشانی ہے اس کا خیال رکھنا ضروری ہو گا 87 ؎ جیسے آپ پچھے سورة الاعراف کی آیت 73 میں پڑھ چکے کہ پالتو جانوروں کو اللہ کے نام پر چھوڑنے کا طریقہ بہت قدیم سے چلا آ رہا ہے چناچہ بابل اور ہندوستان میں اس کا سراغ ہزاروں برس پیشتر تک ملتا ہے لیکن اس سے لوگوں نے اپنے اپنے بزرگوں ، پیروں اور مرشدوں اور ان کی بتوں اور خانقاہوں کے نام سے بھی جانور چھوڑے جو دوسرے شرکوں کی طرح ایک قسم کا شرک ہی تھا۔ بہرحال صالح (علیہ السلام) نے بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس اونٹنی کو جس پر سوار ہو کر وہ اپنی قوم کی بستیوں میں تبلغق کرتے تھے اللہ کے نام پر چھوڑ دیا اور قوم کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 62–64

As part of this event, the people of Sayyidna Salih (علیہ السلام) have been reported to have said to him: قَدْ كُنتَ فِينَا مَرْ‌جُوًّا قَبْلَ هَـٰذَا ( O Salih, we had hopes in you before this - 62). It means that, before he claimed to be a prophet and started telling them to shun idol-worship, they had great hopes in him. They thought he would rise to be a great reformer and leader of their people. The reason is that Allah Ta` a1a nurtures and grooms his prophets from their childhood in a way that they become models of good morals and habits. Whoever looks at them, loves and respects them.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 63–65

73. Prophet Salih (peace be on him) makes it clear to his people that if he were to follow the advice which they offered him, it would virtually lead to his perdition. Were Salih (peace be on him) to act contrary to his conscience and in opposition to the knowledge and guidance intimated to him by God, he would be liable to God's punishment, and his people would be helpless in their efforts to rescue him from that punishment. Moreover, Salih (peace be on him) was not an ordinary person but a Prophet. This made his dereliction in the sight of God even more grave. For, God would take him to…

Read the full tafseer →