Explained with ayahs 62–63
باپ دادا کے معبود ہی ہم کو پیارے ہیں
حضرت صالح ؑ اور آپ کی قوم کے درمیان جو بات چیت ہوئی اس کا بیان ہو رہا ہے وہ کہتے ہیں کہ تو یہ بات زبان سے نکال۔ اس سے پہلے تو ہماری بہت کچھ امیدیں تجھ سے وابستہ تھیں، لیکن تو نے ان سے سب پر پانی پھر دیا۔ ہمیں پرانی روش اور باپ دادا کے طریقے اور پوجا پاٹ سے ہٹانے لگا۔ ہمیں تو تیری اس نئی رہبری میں بہت بڑا شک شبہ ہے۔ آپ نے فرمایا سنو میں اعلیٰ دلیل پر ہوں۔ میرے پاس رب کی نشانی ہے، مجھے اپنی سچائی پر دلی اطمینان ہے میرے پاس اللہ کی رسالت کی رحمت ہے۔ اب اگر میں تمہیں اس کی دعوت نہ دوں اور اللہ کی نافرمانی کرو اور اس کی عبادت کی طرف تمہیں نہ بلاؤں تو کون ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
ہوْرَةُ هُوْد 73
یعنی اگر میں اپنی بصیرت کے خلاف اور اس علم کے خلاف جو اللہ نے مجھے دیا ہے، محض تم کو خوش کرنے کے لیے گمراہی کا طریقہ اختیار کرلوں تو یہی نہیں کہ خدا کی پکڑ سے تم مجھ کو بچا نہ سکو گے، بلکہ تمہاری وجہ سے میرا جرم اور زیادہ بڑھ جائے گا اور اللہ تعالیٰ مجھے اس بات کی مزید سزا دے گا کہ میں نے تم کو سیدھا راستہ بتانے کے بجائے تمہیں جان بوجھ کر الٹا اور گمراہ کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
اس واقعہ میں حضرت صالح ؑ کی قوم نے ان سے کہا (آیت) قَدْ كُنْتَ فِيْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ ھٰذَآ، یعنی آپ کے دعوائے نبوت اور بت پرستی کو منع کرنے سے پہلے ہم کو آپ سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں کہ آپ ہماری قوم کے لئے بڑے مصلح اور رہنما ثابت ہوں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ اپنے انبیاء کی پرورش بچپن ہی سے نہایت پاکیزہ اخلاق و عادات میں کرتے ہیں جس کو دیکھ کر سبھی ان سے محبت کرتے اور عظمت سے پیش آتے ہیں جیسا کہ حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کو بھی اعلان نبوت سے پہلے سارا عرب امین کا خطاب دیتا اور سچا اور صالح اعتقاد رکھتا تھا، نبوت کے دعوی اور بت پرستی سے ممانعت کرنے پر یہ سب مخالف ہوگئے۔
Read the full tafseer →قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ وَاٰتٰىنِيْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ يَّنْصُرُنِيْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَيْتُهٗ ۣ فَمَا تَزِيْدُوْنَنِيْ غَيْرَ تَخْسِيْرٍ۔
حضرت صالح کا جواب : بینۃ اور رحمۃ پر آیات 17 آیت 28 کے تحت بحث گزر چکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میں تو جو دعوت دے رہا ہوں وہ میری فطرت کی آواز بھی اور مزید برآن وحی الٰہی کی تعلیم بھی جو مجھے براہ راست حاصل ہوئی تو اب اگر میں اس راہ سے ہٹ کر کوئی اور راہ اختیار کروں تو مجھے خدا کی پکڑ سے بچانے والا کون بنے گا ؟ فما تزیدوننی غیر تخسیر۔ یعنی اگر میں یہ راہ چھوڑ کر تمہاری توقعات پوری کرنے میں لگ جاؤ تو تم میری…
Read the full tafseer →63۔ 1 بِیْنَۃٍ سے مراد وہ ایمان و یقین ہے، جو اللہ تعالیٰ پیغمبر کو عطا فرماتا ہے اور رحمت سے نبوت، جیسا کہ پہلے وضاحت گزر چکی ہے۔
63۔ 2 نافرمانی سے مراد یہ ہے کہ اگر میں تمہیں حق کی طرف اور اللہ واحد کی عبادت کی طرف بلانا چھوڑ دوں، جیسا کہ تم چاہتے ہو۔
63۔ 3 یعنی اگر میں ایسا کروں تو مجھے کوئی فائدہ تو نہیں پہنچا سکتے، البتہ اس طرح تم میرے نقصان و خسارے میں ہی اضافہ کرو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
36: اس سے صاف واضح ہے کہ نبوت کے اعلان سے پہلے حضرت صالح ؑ کو پوری قوم بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتی تھی، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی قوم نے انہیں اپنا سردار یا بادشاہ بنانے کا ارادہ کیا تھا۔
Read the full tafseer →اے میری قوم ، تمہارا کیا خیال ہے ؟ میں تو اپنے نفس میں اپنے رب کی حقیقت کو واضح طور پر پاتا ہوں اور یہ ربانی حقیقت مجھے صاف صاف بتاتی ہے کہ جس راہ پر میں چل رہا ہوں وہ بالکل واضح اور حقیقی ہے ، پھر اس پر مزید فضل مجھ پر یہ ہوا ہے کہ اللہ نے مجھے منصب رسالت کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ اور اللہ نے مجھے وہ صلاحتیں دی ہیں جو اس منصب کے لیے ضروری ہیں ، اگر ان حقائق کو جانتے ہوئے بھی میں اللہ کی نافرمانی کروں اور تبلیغ دین میں قصور کا ارتکاب کروں تو میری مدد کون کرے گا ؟ کیا میں تمہاری امیدوں کا پاس رکھوں یا اپنی نجات کی فکر کروں ؟ ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا کہ میں اپنے انجام کو محض اس لیے داؤ پر لگا دوں…
Read the full tafseer →7 یعنی تمہارے شک و شبہ کی وجہ سے میں ایک صاف راستہ کیسے چھوڑ سکتا ہوں۔ خدا نے مجھ کو سمجھ دی اور اپنی رحمت عظیمہ سے منصب پیغمبری عطا کیا۔ اب اگر فرض کیجئے میں اس کی نافرمانی کرنے لگوں اور جن چیزوں کے پہنچانے کا حکم ہے نہ پہنچاؤں تو مجھ کو اس کی سزا سے کون بچا لے گا۔
8 یعنی بجائے اس کے کہ اپنے سچے خیر خواہ اور محسن کی قدر کرتے مجھے فرائض دعوت و تبلیغ سے رک جانے کا مشورہ دے کر ناقابل تلافی نقصان پہنچانا چاہتے ہو۔ بعض سلف نے اس جملہ کا مطلب یہ لیا ہے کہ تمہاری گفتگو سے مجھ میں کوئی چیز نہیں بڑھتی بجز اس یقین کے کہ تم اپنا سخت نقصان کر رہے ہو۔ مگر سیاق کے مناسب پہلے معنی ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 63 قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ
حضرت صالح نے بھی وہی بات کہی کہ دیکھو میری گزشتہ زندگی تمہارے سامنے ہے۔ میرا کردار اور میرا اخلاق گواہ ہے کہ میں اس سے پہلے تمہارے معاشرے کا ایک صالح کردار اور سلیم الفطرت انسان تھا۔
وَاٰتٰىنِيْ مِنْهُ رَحْمَةً
اور اب میرے پاس اللہ کی طرف سے وحی بھی آگئی ہے اللہ نے اپنی رحمت خاص سے مجھے نبوت سے بھی سرفراز فرما دیا ہے۔
فَمَنْ يَّنْصُرُنِيْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَيْتُهٗ ۣ فَمَا تَزِيْدُوْنَنِيْ غَيْرَ تَخْسِيْرٍ
یعنی اگر میں اپنی فطرت سلیم اور وحی الٰہی کی راہنمائی کے باوجود اس دعوت حق کو چھوڑ کر تمہیں خوش کرنے کے لیے…
Read the full tafseer →75 منکرین کا صالح (علیہ السلام) سے اصل مطالبہ یہ تھا کہ تم اپنے آباؤ اجداد کے دین کو بدنام نہ کرو اور اس میں واپس آجاؤ اور ہمارے لیے پریشانی کا سبب نہ بنو اس کا جواب آپ نے یہ دیا کہ جو کچھ تم کہتے اور کرتے ہو میرا ضمیر اسے پہلے بھی قبول نہیں کرتا تھا پھر اللہ نے مجھے نبوت سے نوازا ہے کہ میں اس کا پیغام تم لوگوں تک پہنچاؤں اب اگر میں تمہاری بات مانوں تو ایک تو اللہ کا مجرم بنوں جس کی گرفت سے مجھے کوئی بھی بچا نہ سکے گا دوسرے اپنے ضمیر کی آواز کو کچلوں اور ہر طرف سے نقصان اٹھاؤں۔ میں ایسا کبھی نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →94۔ (اور دعوت توحید پر مجھے مامور کیا ہو) (آیت) ” رحمۃ “۔ سے مراد نبوت لی گئی ہے۔ ای نبوۃ (بیضاوی) نبوۃ و حکمۃ (معالم) (آیت) ” ان کنت علی بینۃ من ربی “۔ یعنی مجھ پر توحید کی حقیقت روشن ہوچکی ہو۔
95۔ (یہ فرمائش کرکے کہ میں دعوت توحید ترک کردوں) (آیت) ” ان عصیتہ “۔ یعنی تمہاری حسب فرمائش میں دعوت توحید میں تساہل وتغافل سے کام لینے لگوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
آیت نمبر 61 تا 68
ترجمہ : اور ہم نے ثمود کے پاس ان کے خاندانی بھائی صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا، اس نے کہا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو) یعنی ( اس کی توحید کا اقرار کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اس نے تم کو پیدا کیا یعنی تمہاری تخلیق ابتداء مٹی سے کی تمہارے دادا آدم کو مٹی سے پیدا کرکے اور اسی نے تم کو زمین میں بسایا یعنی تم کو) زمین کا ( باشندہ بنایا تاکہ تم اس میں سکونت اختیار کرو پس تم اس سے معافی طلب کرو شرک سے اور پھر طاعت کے ذریعہ اس کی طرف رجوع کرو بیشک میرا رب اپنی مخلوق سے باعتبار علم کے قریب ہے اور جو اس سے سوال کرتا ہے اس کا قبول کرنے والا ہے ان لوگوں نے جواب…
Read the full tafseer →قال یٰقوم ارء یتم ان کنت علی بینۃ من ربی واتني منہ رحمۃً فمن ینصرنی من اللہ ان عصیتہ آپ نے فرمایا : اے قوم ! اگر میں اپنے رب کی جانب سے دلائل پر قائم ہوں اور اللہ نے مجھ کو نبوت سے نوازا ہے تب اگر میں اللہ کی نافرمانی کرنے لگوں تو اللہ کے عذاب سے مجھے کون بچائے گا۔ چونکہ کافروں کو حضرت صالح کا صاحب بصیرت ہونا تسلیم نہ تھا ‘ اسلئے آپ نے بھی لفظ اِنْ شکیہ بولا (ورنہ آپ کو اپنی جگہ یقین تھا کہ میں صداقت و بصیرت پر ہوں) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اِنْ (شرطیہ شکیہ نہ ہو بلکہ) مخففہ ہو ‘ یعنی بلاشبہ میں اپنے رب کی طرف سے بینہ پر ہوں۔ رحمت سے مراد ہے : نبوت اور حکمت۔ مِنَ اللّٰہ سے مراد ہے : من عذاب اللہ۔…
Read the full tafseer →(63) حضرت صالح ؑ نے فرمایا کہ میں اپنے رب کی جانب سے دلیل پر قائم ہوں اور اس نے مجھے نبوت و اسلام کی دولت سے نوازا ہے، اگر میں حکم الہی کی نافرمانی کروں تو پھر مجھے عذاب الہی سے کون بچالے گا، تم تو سراسر میرا نقصان ہی کررہے ہو کہ تم تو اپنے خسارہ میں میری بصیرت کو اور بڑھا رہے ہو۔
Read the full tafseer →قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ۔۔ : اس کی تفسیر ان آیات سے پہلے ہود ؑ کے قصے میں دیکھیے۔ ”مِنْهُ رَحْمَةً“ سے مراد نبوت ہے۔
اِنْ عَصَيْتُهٗ : یعنی اگر میں تم تک اس کا پیغام پہنچانے میں کوتاہی کروں تو اس کی گرفت سے مجھے کون چھڑائے گا ؟
غَيْرَ تَخْسِيْرٍ : یعنی اگر میں توحید کی راہ چھوڑ کر شرک کی راہ اختیار کرلوں تو یہی نہیں کہ تم مجھے اللہ کی پکڑ سے نہ بچا سکو گے، بلکہ تمہاری وجہ سے میرا جرم اور بھی بڑھ جائے گا اور اللہ تعالیٰ اس بات پر مجھے دوہری سزا دے گا کہ میں نے تمہارے کہنے پر جان بوجھ کر شرک کا راستہ اختیار کیا۔ ”خَسِرَ یَخْسَرُ خُسْرَانًا“ (ع) خسارہ اٹھانا اور ”خَسَّرَ یُخَسِّرُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–68
آیت نمبر 62 تا 68
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : قالو ایٰصٰلح قدکنت فیھا مرجوًاقبل ھٰذآ یعنی اس سے پہلے ہم امید کرتے تھے کہ آپ ہی ہم میں سے سردار ہوں گے، یعنی آپ کے دعویٰ نبوت سے پہلے۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) ان کے معبودوں کو غیب کی طرف منسوب کرتے اور ان سے نفرت کرتے تھے۔ اور وہ آپ سے انہی کے دین کی طرف لوٹنے کی امید کرتے تھے، پس جب آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا تو انہوں نے کہا : ہماری تم سے وابستہ امیدیں ختم ہوگئی ہیں۔ اتنھٰنآاستفہام ہے جس کا معنی انکار ہے۔ ان نعبد یعنی (عن ان نعبد) اس بات سے کہ ہم عبادت کریں۔ مایعبداٰباؤناان محل نصب میں ہے عن حرب جر کے ساتھ ہونے کی وجہ سے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعوت :
1:۔ ابوالشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھوانشاکم من الارض “ سے مراد ہے کہ اس نے تم کو پیدا کیا زمین میں سے۔
2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واستعمرکم فیھا “ یعنی اس میں تم کو آباد کیا۔
3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واستعمرکم فیھا “ یعنی اس میں تم کو خلیفہ بنایا۔
4:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فما تزیدوننی غیر تخسیر “ یعنی تم نہیں زیادہ ہوتے ہو مگر خسارے میں۔
5:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے عطا خراسانی (رح)…
Read the full tafseer →[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [يٰقَوْمِ : اے میری قوم ] [اَ : کیا ] [رَءَيْتم : تم نے غور کیا (کہ)] [ان : اگر ] [ كُنْتُ : میں ہوں ] [عَلٰي بَيِّنَةٍ : ایک واضح (دلیل) پر ] [مِّنْ رَّبِيْ : اپنے رب (کی طرف) سے ] [وَاٰتٰىنِيْ : اور اس نے دی ہو مجھ کو ] [مِنْهُ : اپنے (پاس) سے ] [رَحْمَةً : ایک رحمت ] [فَمَنْ : تو کون ] [يَّنْصُرُنِيْ : مدد کرے گا میری ] [مِنَ اللّٰهِ : اللہ سے (بچنے میں)] [ان : اگر ] [عَصَيْتُهٗ : میں نافرمانی کروں اس کی ] [فَمَا تَزِيْدُوْنَنِيْ : پس تم لوگ نہیں بڑھاتے ہو مجھ کو ] [غَيْرَ تَخْسِيْرٍ : (مگر) خسارہ دینے کے علاوہ ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–66
قوم ثمود کو حضرت صالح (علیہ السلام) کا تبلیغ فرمانا اور قوم کا نافرمانی کی وجہ سے ہلاک ہونا
سورة اعراف کے رکوع میں حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کی قوم ثمود کا واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا جا چکا ہے وہاں مراجعت فرما لیں مختصر طریقے پر یہاں بھی لکھا جاتا ہے حضرت صالح (علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے یہ قوم عاد کے بعد تھی۔ سورة اعراف میں ہے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا : (وَاذْکُرُوْا اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَاءَ مِنْ م بَعْدِ عَادٍ وَّبَوَّاَکُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنَ سُھُوْلِھَا قُصُوْرًا وَّتَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا فَاذْکُرُوْا اٰلَاء اللّٰہِ ولَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–68
قال اللہ تعالیٰ والی عاد اخاھم ھودا .... الیٰ .... الا بعد العاد قوم ھود۔
(ربط) نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد دوسرا قصہ ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم عاد کا ہے جس میں قوم عاد کی ضلالت اور عذاب کا حال بیان فرمایا ہے یہ لوگ شرک اور بت پرستی میں مبتلا تھے اور دولت و ثروت کی وجہ سے مغرور تھے۔ اور انبیاء (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کا حقارت کی نظروں سے دیکھتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو دو خصوصیتیں عطا فرمائی تھیں ایک قوت و توانائی کما قال تعالیٰ وقالوا من اشد منا قوۃ۔ دوم یہ کہ ان کے بلاد نہایت سرسبز اور شاداب تھے یمن ان کا مسکن تھا۔ صاحب زراعت اور صاحب عمارت…
Read the full tafseer →59:۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو جواب دیا میری قوم ! اگر میرے پاس دعوائے توحید پر اپنے پروردگار کی طرف سے دلائل موجود ہوں اور اللہ کی جانب سے مجھ پر مسلسل وحی بھی نازل ہو رہی ہو (یعنی میں اللہ کا پیغمبر بھی ہوں) اور پھر میں تمہاری خواہشات کی پیروی کرنے لگوں اور اللہ کی توحید کا پیغام چھور کر اس کی نافرمانی کا مرتکب ہوجاؤں تو تم ہی بتاؤ مجھے اللہ کی گرفت سے کون بچائے گا۔ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ تم تو مجھے اپنے پیچھے چلا کر سراسر خسارے میں ڈالنا چاہتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
ربط آیات
مسئلہ توحید کو سمجھانے اور اس پر ایمان لانے کے لئے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا ذکر فرمایا اور پھر آپ کی قوم کی نافرمانی اور غرقابی کا حال بیان کیا ۔ اس کے بعد ہود (علیہ السلام) کی وعظ و نصیحت اور ان کی قوم کا ذکر بھی کیا۔ اللہ کے دونوں پیغمبروں کی تبلیغ کا موضوع ایک ہی تھا کہ اے لوگو ! اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ نوح (علیہ السلام) کی قوم سے صرف وہی لوگ بچے جو ایمان لا کر کشتی میں سوار ہوگئے اور ہود (علیہ السلام) کی قوم کے بھی صرف ایمان دار ہی بچے اور کافروں میں سے فرد واحد بھی زندہ نہ بچا۔
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے قوم…
Read the full tafseer →قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰي بَيِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّيْ وَاٰتٰىنِيْ مِنْہُ رَحْمَۃً فَمَنْ يَّنْصُرُنِيْ مِنَ اللہِ اِنْ عَصَيْتُہٗ 0ۣ فَمَا تَزِيْدُوْنَنِيْ غَيْرَ تَخْسِيْرٍ 63
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] .
والثالث : بالتّفكّر،
نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] .
والرابع :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–66
تفسیر : تیسرا واقعہ قوم ثمود اور ان کے پیغمبر حضرت صالح (علیہ السلام) کا یاد دلاتا ہے جو حادثہ قوم عاد کے بعد عرب کے شمالی حصہ میں گذرا ہے۔ اس کی تشریح بھی پہلے ہوچکی اس قوم کی یادگار بھی کچھ کچھ آنحضرت ﷺ کے عہد تک باقی تھی جو ان کے حال زار پر آنسو بہاتی اور دیکھنے والوں کو اللہ کے غضب سے ڈراتی تھی۔ ولقد جاءت یہ چوتھا ہیبت ناک واقعہ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حال میں شامل کرکے بیان فرماتا ہے۔ اس کی بھی تشریح ہوچکی مگر ہم کسی قدر الفاظِ آیات کی تفسیر کرتے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) اپنے گھر کے باہر کھڑے تھے کہ کئی شخص مسافرانہ شکل میں نمودار ہوئے۔…
Read the full tafseer →قَالَ یٰقَوْمِ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ کُنْتُ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَاٰتٰنِیْ مِنْہُ رَحْمَۃً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰہِ اِنْ عَصَیْتُہٗ قف فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَتَخْسِیْرٍ ۔ (سورۃ ہود : 63)
(حضرت صالح (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم ! بھلا یہ تو بتائو اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہوں اور اس نے اپنی جانب سے رحمت خاص سے بھی مجھے نوازا ہے تو اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو اللہ کی پکڑ کے وقت کون میرا مددگار ہوگا۔ سو تم میری بربادی ہی میں اضافہ کروگے۔ )
حضرت صالح (علیہ السلام) کا جواب سوال کی صورت میں
گزشتہ آیت کریمہ میں حضرت صالح (علیہ السلام) کے بارے میں قوم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
فہم القرآن
ربط کلام : قوم کا حضرت صالح (علیہ السلام) سے مکالمہ۔
اللہ تعالیٰ نے دنیا میں جتنے پیغمبر جلوہ گر فرمائے ہیں وہ حسن و جمال، سیرت اور لیاقت کے اعتبار سے بچپن میں ہی اپنی قوم میں منفرد اور ممتاز ہوا کرتے تھے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) بھی اپنی قوم میں ہر حوالے سے ممتاز اور منفرد تھے۔ اس بنا پر قوم ان کے بارے میں بڑی توقعات رکھتی تھی۔ لیکن حضرت صالح (علیہ السلام) نے جب انہیں ان کے طریقہ عبادت سے منع کیا اور فرمایا کہ تم بالواسطہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کی بجائے بلاواسطہ اس کی عبادت کرو اور براہ راست اس سے مانگا کرو۔ قوم نے اس سیدھے اور صحیح طریقے کو اپنانے کی بجائے ان سے کہا کہ ہمیں تو…
Read the full tafseer →63: قَالَ یٰقَوْمِ اَرَ ئَ یْتُمْ اِنْ کُنْتُ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رََّبِّیْ وَاٰتٰنِیْ مِنْہُ رَحْمَۃً (آپ نے فرمایا اے میری قوم اگر میں اپنے رب کی طرف سے دلائل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنی خاص رحمت سے نوازا ہے) رحمت سے یہاں نبوت مراد ہے۔ اِن جو شک کا لفظ ہے اس سے ذکر کیا حالانکہ یقینی طور پر وہ دلیل پر تھے۔
فائدہ : آپ شدید منکرین کو خطاب فرماتے ہیں گویا اس طرح فرمایا فرض کرو کہ میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوں اور واقعتا میں نبی برحق ہوں تو غور کرو اگر اس صورت میں میں تمہاری اتباع کروں اور اپنے رب کے حکموں کی نافرمانی کروں تو فَمَنْ یَّنْصُرُ نِیْ مِنَ اللّٰہِ (تو کون میری مدد کرے گا اللہ…
Read the full tafseer →63۔ ” قال یا قوم ارایتم ان کنت علی بینۃ من ربی واتانی منہ رحمۃ “ نبوت اور حکمت
” فمن ینصرنی من اللہ “ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا ۔” ان عصیتہ فما تزید واننی غیر تخسیر “ ۔
حضرت ابن عباس ؓ نے تخسیر کا ترجمہ کیا ہے خسارے کو دیکھنا مطلب یہ ہے کہ تمہاری تکذیب سے مجھے یوں نظر آتا ہے کہ تم بہت نقصان اٹھائو گے ۔ بڑے خسارے میں رہو گے۔ حسین بن فضل کا قول ہے کہ حضرت صالح تو کبھی بھی خسارے میں نہیں رہے۔ آیت کا مطلب یہ نہیں کہ تم میرے لئے خسارہ بڑھا رہے ہو ۔ بلکہ تخسیر کا معنی ہے کہ کسی کی طرف خسارہ کی نسبت کردینا خسارہ یاب قرار دینا ، جیسے تکفیر اور تفسیق کا معنی ہے کسی کو کافر اور فاسق قرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
62۔ 63 یہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم ثمود کا جواب ہے جب حضرت صالح نے ان کو خدا کا پیغام پہنچایا کہ تم خالص خدا ہی کی عبادت کرو اور بتوں کی پوج سے باز آؤ تو یہ جواب ان لوگوں نے دیا کہ ہم لوگوں کو تجھ سے بڑی بڑی امیدیں تھیں ہم سمجھتے تھے تو بڑا ہونہار لڑکا ہے باپ دادا کے دین کو ترقی دے گا اور تجھ سے ہر ایک بات میں ہم کو مدد ملے گی۔ افسوس ہماری ساری امیدیں خاک میں مل گئیں تو ہم لوگوں کو باپ دادا کے قدیم راہ و رسم سے روکنے لگا۔ ہمارے باپ دادا جن معبودوں کی عبادت کرتے تھے ان کو کیوں کر ہم چھوڑ سکتے ہیں ہمیں تو تیری طرف سے شک ہوگیا ہے اور جس بات کی تو ہمیں نصیحت کرتا ہے اور جس کی طرف تو بلاتا…
Read the full tafseer →بناء بریں صالح (علیہ السلام) نے جھوٹ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : (قال یقوم اریتم ان کنت علی ببینۃ من ربی ) ” اے میری قوم ! بھلا بتاؤ تو اگر میں ہی اپنے رب کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں۔ “ یعنی میں اپنے رب کی طرف سے برہان اور اپنے یقین پر ہوں۔ (واتنی من رحمۃ) ” اور اس نے دی مجھے رحمت، اپنی طرف سے “ اس نے اپنی رسالت اور وحی سے مجھے نوازا۔ تب بھی کیا تم جس چیز کی طرف مجھے بلاتے ہو اور جس پر تم عمل پیدا ہو، میں اس میں تمہاری پیروی کروں ؟ (فمن ینصرنی من اللہ ان عصیتہ فما تزید وننی غیر تخسیر) ” پھر کون بچائے گا مجھ کو اس سے، اگر میں نے اس کی نافرمانی کی۔ پس تم میرے نقصان ہی میں اضافہ کرتے ہو “ یعنی تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
انسان کو زمین پر آباد کیا
قول باری ہے ھو انشاکم من الارض واستعمرکم فیھا ۔ وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور یہاں تم کو بسایا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی زمین کی طرف نسبت کی اس لیے کہ ان سب کی اصل یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق زمین کی مٹی سے ہوئی تھی اور بنی نوع انسان تمام کے تمام حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں ۔ ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں ۔ اس نے تمہیں زمین میں پیدا کیا۔ قول باری واستعمرکم فیھا کے معنی ہیں ۔ اللہ نے تمہیں ایسی چیزوں کے ساتھ زمین کو آباد کرنے کا حکم دیا جن کی تمہیں ضرورت تھی ۔ اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ زمین کو زراعت کے لیے ، پودے اور درخت لگانے کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
145 ۔ نبوت و رسالت ایک عظیم الشان اور جلیل القدر رحمت خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت صالح نے ان لوگوں کے دلوں پر دستک دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ ذرا سوچو اور غور کرو کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر قائم ہوں اور اس نے مجھے اپنی طرف سے ایک خاص رحمت سے بھی نوازا ہو۔ یعنی اگر میں نور فطرت پر بھی قائم ہوں اور اس کے بعد بھی اللہ نے مجھے اپنی طرف ایک اور خاص رحمت سے بھی نوازا ہو یعنی نبوت سے۔ سو رحمت سے یہاں پر مراد نبوت و رسالت ہے جو اللہ پاک کی سب سے بڑی رحمت ہے۔ جس سے وہ اپنے خاص چنے ہوئے بندوں کو محض اپنے کرم و احسان اور اپنی عنایت و مہربانی سے نوازتا ہے۔ سبحانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
سیدنا صالح (علیہ السلام) اور ان کی قوم ثمود پر عذاب
تشریح : قوم نوح، قوم ھود اور اب قوم ثمود کا ذکر بھی اسی سلسلے میں کیا جا رہا ہے کہ آنحضرت ﷺ امت مسلمہ کو عبرت دلائیں کہ نافرمان قوموں کا انجام کیا ہوتا ہے۔ سورة الاعراف رکوع نمبر 10 میں ان کا ذکر ہوچکا ہے۔ یہاں دوبارہ بیان کیا جا رہا ہے حضرت صالح (علیہ السلام) قوم ثمود کے ہی فرد تھے اسی لیے ان کو ان کا بھائی کہا گیا ہے ان کی تعلیمات باقی پیغمبروں کی طرح توحید کی ہی تھیں۔ وہ بڑے صالح اور بہترین انسان تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے اونٹنی کا معجزہ عطا کیا جو پہاڑ سے نمودار ہوئی، قوم نے نافرمانی کرتے ہوئے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں تو ان پر اللہ کا عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
آیات 61 تا 68
اسرار و معارف
اسی قانون فطرت اور ضابطہ الٰہیہ کی تائید حضرت صالح (علیہ السلام) کے واقعہ بھی ہوتی ہے جو مذکورہ قوم کی دوسری شاخ یعنی ثمود کی طرف مبعوث ہوئے اور وہ خود بھی اسی قوم کے ایک معززفرد تھے ان کی دعوت بھی وہی تھی جو سب انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی ہوتی تھی اور جو خاتم الانبیاء ﷺ کی بھی تھی اور ہے کہ لوگو ! اللہ کی اور صرف اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے علاوہ کوئی بھی عبادت کا مستحق نہیں ۔ عبادت کی اصل صرف یہ نہیں کہ اللہ کو سب سے بڑامان لیا اور بات ختم بلکہ عبادت کی اصل یہ ہے کہ ساری امیدیں اس ایک ذات سے وابستہ کردی جائیں اور اس کے علاوہ اسباب کو ان کی حیثیت کے مطابق اختیار…
Read the full tafseer →ف 6 ۔ یعنی تم تک اس کا پیغام پہنچانے میں کوتاہی کروں۔
7 ۔ یعنی اگر میں توحید کی راہ چھوڑ کر شرک کی راہ اختیار کرلوں تو یہی نہیں کہ تم مجھے اللہ کی پکڑ سے نہ بچا سکو گے بلکہ تمہاری وجہ سے میرا جرم اور بھی بڑھ جائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ اس بات پر مجھے دوہری سزا دے گا کہ میں نے جان بوجھ کر شرک کا راستہ اختیار کیا۔
Read the full tafseer →(11:63) ارء یتم۔ بھلا بتاؤ تو سہی۔ بھلا یہ تو بتاؤ۔
تزیدوننی۔ تم میرے لئے زیادہ کرتے ہو۔ زیادۃ (باب ضرب) سے مضارع جمع مذکر حاضر ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔
تخسیر (باب تفعیل) مصدر ہے۔ زیاں کاری۔ نقصان پہنچانا۔ ہلاک کرنا (یعنی تم تو میرے نقصان میں اضافہ ہی کر رہے ہو
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 63
انشا (اس نے اٹھایا، اس نے پیدا کیا) استعمر (اس نے آباد کیا) استغفروا (معافی مانگو، توبہ کرو) تو بوا (تم پلٹو، تم لوٹو) مجیب (جواب دینے والا، قبول کرنے والا) مرجو (مرکز امید، بہت سی وابستہ امیدیں ہیں) اتنھنا (کیا تو ہمیں روکتا ہے، منع کرتا ہے) اباونا (ہمارے باپ دادا) تدعونا (تو ہمیں بلاتا ہے) مریب (ریب) شک میں ڈالنے والا بینۃ (کھلی نشانی) اتنی (اس نے مجھے دیا) من ینصرنی (میری کون مدد کرے گا) ماتریدون (تم اضافہ نہیں کر رہے ہو) غیر تخسیر (سوائے نقصان کے)
تشریح :- آیت نمبر 61 تا 63
اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا اور بلاوجہ کسی قوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
حضرت صالح (علیہ السلام) کی نصیحت توحید
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جب حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان کو خدا کا پیغام پہنچایا کہ : تم خالص خدا ہی کی عبادت کرو اور بتوں کی پوجا سے باز آؤ تو یہ جواب ان لوگوں نے دیا کہ ہم لوگوں کو تجھ سے بڑی امیدیں تھیں۔ ہم سمجھتے تھے تو بڑا ہونہار لڑکا ہے باپ دادا کے دین کو ترقی دے گا۔ اور تھے ہر ایک بات میں ہم کو مدد ملے گی افسوس ہماری ساری امیدیں خاک میں مل گئیں۔ تو ہم لوگوں کو باپ دادا کے قدیم راہ ورسم سے روکنے لگا۔ ہمارے باپ دادا جن معبودوں کی عبادت کرتے تھے ان کو کیونکر ہم چھوڑ سکتے ہیں۔ ہمیں تو تیری طرف سے شک ہوگیا ہے کہ جس بات کی تو ہمیں نصیحت کرتا ہے اور جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
[34] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو اسی سورة کے حواشی 8 اور 15۔
[35] اگر میں تمہاری فرمائش پر عمل کروں تو سوائے نقصان کے اور کیا ہاتھ آئے گا۔
Read the full tafseer →(ف 1) غرض یہ ہے کہ ابنیاء (علیہم السلام) کے پاس دلائل ہوتے ہیں ، وہ لوگوں کو علی وجہ البصیرت حق کی جانب بلاتے ہیں انہیں پورا پورا یقین ہوتا ہے کہ اللہ نے انہیں رشد وہدایت کے لئے مامور فرمایا ہے ، وہ کامل وثوق کے ساتھ اللہ کے دین کو پیش فرماتے ہیں ۔
Read the full tafseer →63 حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا اے میری قوم بھلا یہ تو بتائو اگر میں اپنے رب کی جانب سے ایک روشن دلیل پر قائم ہوں اور اس نے مجھ کو اپنی طرف سے رحمت یعنی نبوت عطا فرمائی ہے پھر اگر میں ہی تبلیغ کو ترک کرکے اس اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کروں جیسا کہ تم مجھ کو کہتے ہو تو اللہ تعالیٰ کی گرفت کے مقابلے میں وہ کون ہے جو میری مدد کرسکے تو تم اس قسم کی باتوں سے سوائے اس کے کچھ نہیں کہ میرا نقصان ہی بڑھانے کے درپے ہو یعنی توحید کی تبلیغ سے روکتے ہو حالانکہ وہ تو ایک نبی کا فریضہ ہوتا ہے اس نے مجھ کو نبوت عطا فرمائی اگر میں تمہارا کہنا مان لوں تو مجھ کو سوائے نقصان کے اور کیا ملے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
ف 3۔ یعنی اگر خدانخواستہ قبول کرلوں تو بجز نقصان کے اور کیا ہاتھ آئے۔
Read the full tafseer →صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے لوگو میں اپنے مالک حقیقی کی نافرمانی کیسے کرسکتا ہوں ؟
85 ؎ صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لوگوں کی باتیں بڑے غور سے سنیں اور اچھی طرح سمجھ کر ان کو جواب دیا اور فرمایا میری قوم کے بزرگو ! تم غور نہیں کرتے کہ اگر ایک شخص پر اللہ نے علم و بصیرت کی راہ کھول دی ہو اور وہ دیکھ بھی رہا ہو کہ سچائی وہ نہیں ہے جو لوگوں نے سمجھ رکھی ہے تو پھر کیا محض لوگوں کے پاس خاطر سے اس کا اظہار نہ کرے ؟ اچھا بتلائو اگر وہ حکم الٰہی سے سرتابی کرے تو کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کے مواخذہ سے اسے بچا لے گا اگر میں محض اس خیال سے کہ تمہاری امیدوں کو ٹھیس نہ لگے سچائی کا اعلان نہ کروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
As part of this event, the people of Sayyidna Salih (علیہ السلام) have been reported to have said to him: قَدْ كُنتَ فِينَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هَـٰذَا ( O Salih, we had hopes in you before this - 62). It means that, before he claimed to be a prophet and started telling them to shun idol-worship, they had great hopes in him. They thought he would rise to be a great reformer and leader of their people. The reason is that Allah Ta` a1a nurtures and grooms his prophets from their childhood in a way that they become models of good morals and habits. Whoever looks at them, loves and respects them.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
73. Prophet Salih (peace be on him) makes it clear to his people that if he were to follow the advice which they offered him, it would virtually lead to his perdition. Were Salih (peace be on him) to act contrary to his conscience and in opposition to the knowledge and guidance intimated to him by God, he would be liable to God's punishment, and his people would be helpless in their efforts to rescue him from that punishment. Moreover, Salih (peace be on him) was not an ordinary person but a Prophet. This made his dereliction in the sight of God even more grave. For, God would take him to…
Read the full tafseer →