Explained with ayahs 62–63
باپ دادا کے معبود ہی ہم کو پیارے ہیں
حضرت صالح ؑ اور آپ کی قوم کے درمیان جو بات چیت ہوئی اس کا بیان ہو رہا ہے وہ کہتے ہیں کہ تو یہ بات زبان سے نکال۔ اس سے پہلے تو ہماری بہت کچھ امیدیں تجھ سے وابستہ تھیں، لیکن تو نے ان سے سب پر پانی پھر دیا۔ ہمیں پرانی روش اور باپ دادا کے طریقے اور پوجا پاٹ سے ہٹانے لگا۔ ہمیں تو تیری اس نئی رہبری میں بہت بڑا شک شبہ ہے۔ آپ نے فرمایا سنو میں اعلیٰ دلیل پر ہوں۔ میرے پاس رب کی نشانی ہے، مجھے اپنی سچائی پر دلی اطمینان ہے میرے پاس اللہ کی رسالت کی رحمت ہے۔ اب اگر میں تمہیں اس کی دعوت نہ دوں اور اللہ کی نافرمانی کرو اور اس کی عبادت کی طرف تمہیں نہ بلاؤں تو کون ہے جو…
Read the full tafseer →سورة هُوْد 70
یعنی تمہاری ہوشمندی، ذکاوت، فراست، سنجیدگی و متانت اور پروقار شخصیت کو دیکھ کر ہم یہ امیدیں لگائے بیٹھے تھے کہ بڑے آدمی بنو گے۔ اپنی دنیا بھی خوب بناؤ گے اور ہمیں بھی دوسری قوموں اور قبیلوں کے مقابلے میں تمہارے تدبر سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا۔ مگر تم نے یہ توحید اور آخرت کا نیا راگ چھیڑ کر تو ہماری ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ یاد رہے کہ ایسے ہی کچھ خیالات محمد ﷺ کے متعلق بھی آپ کے ہم قوموں میں پائے جاتے تھے۔ وہ بھی نبوت سے پہلے آپ ﷺ کی بہترین قابلیتوں کے معترف تھے اور اپنے نزدیک یہ سمجھتے تھے کہ یہ شخص ایک بہت بڑا تاجر بنے گا اور اس کی بدار مغزی سے ہم کو بھی بہت کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
اس واقعہ میں حضرت صالح ؑ کی قوم نے ان سے کہا (آیت) قَدْ كُنْتَ فِيْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ ھٰذَآ، یعنی آپ کے دعوائے نبوت اور بت پرستی کو منع کرنے سے پہلے ہم کو آپ سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں کہ آپ ہماری قوم کے لئے بڑے مصلح اور رہنما ثابت ہوں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ اپنے انبیاء کی پرورش بچپن ہی سے نہایت پاکیزہ اخلاق و عادات میں کرتے ہیں جس کو دیکھ کر سبھی ان سے محبت کرتے اور عظمت سے پیش آتے ہیں جیسا کہ حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کو بھی اعلان نبوت سے پہلے سارا عرب امین کا خطاب دیتا اور سچا اور صالح اعتقاد رکھتا تھا، نبوت کے دعوی اور بت پرستی سے ممانعت کرنے پر یہ سب مخالف ہوگئے۔
Read the full tafseer →قَالُوْا يٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِيْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ ھٰذَآ اَتَنْهٰىنَآ اَنْ نَّعْبُدَ مَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُنَا وَاِنَّنَا لَفِيْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَيْهِ مُرِيْبٍ۔
مرجو، سے مراد وہ شخص ہے جس کی اٹھان ایسی اچھی رہی ہو کہ وہ قوم وقبیلہ کی امیدوں اور آرزوؤں کا مرکز بن جائے اور لوگ مستقبل میں اس سے بڑی بڑی امیدیں وابستہ کرنے لگیں۔ حضرات انبیاء (علیہم السلام) چونکہ نخل فطرت کے بہترین ثمر تھے اس وجہ سے منصب نبوت پر سرفراز ہونے سے پہلے بھی وہ اپنی پوری قوم میں اپنی اعلی صلاحیتوں اور اپنے پاکیزہ اخلاق و اوصاف کے اعتبار سے نہایت ممتاز ہوئے ہیں۔ ان کے اس وصف کا تقاضا تو یہ تھا کہ جب وہ…
Read the full tafseer →62۔ 1 یعنی پیغمبر اپنی قوم میں چونکہ اخلاق و کردار اور امانت و دیانت میں ممتاز ہوتا ہے اس لئے قوم کی اس سے اچھی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔ اسی اعتبار سے حضرت صالح ؑ کی قوم نے بھی ان سے یہ کہا۔ لیکن دعوت توحید دیتے ہی ان کی امیدوں کا یہ مرکز، ان کی آنکھوں کا کانٹا بن گیا اور اس دین میں شک کا اظہار کیا جس طرف حضرت صالح ؑ انھیں بلا رہے تھے یعنی دین توحید
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
36: اس سے صاف واضح ہے کہ نبوت کے اعلان سے پہلے حضرت صالح ؑ کو پوری قوم بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتی تھی، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی قوم نے انہیں اپنا سردار یا بادشاہ بنانے کا ارادہ کیا تھا۔
Read the full tafseer →ہماری امیدیں تم سے وابستہ تھیں۔ ہم یہ سمجھتے تھے کہ تمہارعلم ، تمہاری عقلمندی ، تمہاری سچائی اور تمہار حسن تدبیر یہ سب صلاحیتیں ہمارے لیے مفید ثابت ہوں گی لیکن یہ امیدیں سب کی سب اکارت گئیں اور ہم لوگ مایوسی کا شکار ہوگئے۔
أَتَنْهَانَا أَنْ نَعْبُدَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا (11 : 26) “ کیا تو ہمیں ان معبودوں کی پرستش سے روکنا چاہتا ہے جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے ”۔ یہ تو ایک تباہ کن بات ہے ، ہم ہر بات برادشت کرسکتے ہیں مگر یہ بات برداشت نہیں کرسکتے اور ہمیں تم سے یہ توقع ہر گز نہ تھی کہ یہ بات تمہارے منہ سے نکلے گی ، تم سے ہمیں جو بلند توقعات تھیں ، وہ ڈھیر ہوگئیں ۔ اس پر مزید یہ بھی…
Read the full tafseer →6 یعنی تجھ سے امید تھی کہ آگے چل کر بڑا فاضل اور نیک مرد ہوگا جس کو معزز بزرگوں کا جانشین سمجھ کر قوم سر پر بٹھائے گی۔ تیری پیشانی سے رشدو صلاح کے آثار ہویدا تھے۔ سب کو توقع تھی، کہ مستقبل قریب میں بڑا فائدہ تجھ سے پہنچے گا۔ رائے و تدبیر، صلاح و مشورہ سے اپنے قومی بھائیوں کی راہنمائی اور نہایت قوت قلب کے ساتھ آبائی مذہب کی حمایت و تائید کرے گا۔ یہ درست ہے کہ ابتداء سے تجھ کو بت پرستی مبغوض تھی اور عام قومی مذہب سے الگ تھلگ رہتا تھا، تاہم تیری سمجھ اور فطری قابلیت پر اعتماد کر کے ہم کو امید رہی کہ آگے چل کر عقل و تجربہ کی پختگی کے بعد یہ روش نہ رہے گی۔ لیکن افسوس یک بیک تو ایسی باتیں کرنے لگا…
Read the full tafseer →آیت 62 قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ کُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ ہٰذَآ
یعنی آپ تو اپنے اخلاق و کردار کی وجہ سے پوری قوم کی امیدوں کا مرکز تھے۔ ہمیں تو توقع تھی کہ آپ اپنی صلاحیتوں کے سبب اپنے آباء و اَجداد اور پوری قوم کا نام روشن کریں گے ‘ مگر آپ نے یہ کیا کیا ؟ آپ نے تو اپنے باپ دادا کے دین اور ان کے طور طریقوں پر ہی تنقید شروع کردی۔ آپ کی ان باتوں سے تو پوری قوم کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے۔
اَتَنْهٰىنَآ اَنْ نَّعْبُدَ مَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُنَا وَاِنَّنَا لَفِيْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَيْهِ مُرِيْبٍ
آپ کی اس دعوت توحید کے بارے میں ہمیں سخت شبہ ہے جس نے ہمیں خلجان میں ڈال دیا ہے۔ ہمارا…
Read the full tafseer →73 یعنی تمہیں عقل مند، ہونہار اور دیانتدار سمجھ کر ہم نے تم سے اپنی بہت سی توقعات وابستہ کر رکھی تھیں کہ تم باپ دادا کا نام روشن کرو گے تم نے تو الٹا باپ دادا کے دین سے سرکشی اختیار کرلی ہے۔ بلکہ ہمیں بھی اس سے روک رہے ہو جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اور ہمارے آباؤ اجداد سب کے سب غلط کار ہی تھے۔
74 نبی کی دعوت سے کافروں میں خلجان کی وجہ :۔ انبیاء کی دعوت کے ان کی قوم کے افراد پر دوگونہ اثرات مترتب ہوتے ہیں جو لوگ ان پر ایمان لے آتے ہیں ان میں قلبی اطمینان و سکون پیدا ہوجاتا ہے اور یہی قلبی سکون ہی ان میں مخالفین کے شدائد کو برداشت کرنے کی جرأت پیدا کردیتا ہے اور منکروں میں یہی دعوت خلجان اور قلبی…
Read the full tafseer →93۔ یعنی تم جو ہمارے اور اپنے آباواجداد کے طریقوں کے خلاف یہ نئی تعلیم دے رہے ہو سو یہ تو ہمارے دل میں اترتی نہیں، اور نہ ہمارا دماغ اسے قبول کرنے پر آمادہ ہے۔ (آیت) ” قدکنت فینا مرجوا قبل ھذا “۔ یعنی ہمیں تو تم سے بڑی بڑی امیدی تھیں اور ہم سمجھتے تھے کہ تم فخر قوم ونازش وطن ثابت ہوگے اب یہ تم نئی اور انوکھی باتیں کیسی کرنے لگے ؟ ہر پیغمبر میں دیانت وصداقت ذہن وذکاء عقل وفہم حلم ورشد کے آثار شروع ہی سے نمایاں ہوتے ہیں۔ (آیت) ” اتنھنآ ان نعبدما یعبد ابآؤنا “۔ سوال بہ طور استفہام انکاری اور استعجاب کے ہے، قوم حیرت کے ساتھ کہہ رہی ہے کہ کیا تم ایسا غضب کررہے ہو کہ ہمیں اپنے اور ہمارے آبائی دین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
آیت نمبر 61 تا 68
ترجمہ : اور ہم نے ثمود کے پاس ان کے خاندانی بھائی صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا، اس نے کہا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو) یعنی ( اس کی توحید کا اقرار کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اس نے تم کو پیدا کیا یعنی تمہاری تخلیق ابتداء مٹی سے کی تمہارے دادا آدم کو مٹی سے پیدا کرکے اور اسی نے تم کو زمین میں بسایا یعنی تم کو) زمین کا ( باشندہ بنایا تاکہ تم اس میں سکونت اختیار کرو پس تم اس سے معافی طلب کرو شرک سے اور پھر طاعت کے ذریعہ اس کی طرف رجوع کرو بیشک میرا رب اپنی مخلوق سے باعتبار علم کے قریب ہے اور جو اس سے سوال کرتا ہے اس کا قبول کرنے والا ہے ان لوگوں نے جواب…
Read the full tafseer →قالوا یٰصٰلح قد کنت فینا مرجوًا قوم ثمود نے کہا : صالح ! تم تو ہم میں ہونہار معلوم ہوتے تھے ‘ یعنی ہمیں امید تھی کہ تم ہمارے سردار ہو گے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہم امید کرتے تھے کہ تم ہمارے مذہب پر ہو گے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہم امید کرتے تھے کہ تم ہمارے مذہب پر ہو گے اور ہمارے دین کی طرف رجوع کرو گے۔
قبل ھذا اس سے پہلے ‘ یعنی نبوت کے دعوے اور ترک بت پرستی کی دعوت سے پہلے۔ لیکن اب چونکہ ہم نے تمہاری یہ باتیں سن لیں تو ہماری امید تم سے ٹوٹ گئی۔
اتنھنا ان نعبد ما یعبد ابآؤنا کیا تم ہمیں ان معبودوں کی پوجا سے منع کیا کرتے تھے ؟ (حکایت حال ماضی ‘ یا منع کرتے ہو) جن کی پوجا ہمارے باپ دادا کرتے تھے۔
واننا…
Read the full tafseer →(62) قوم ثمود کہنے لگی اے صالح تم تو ہمارے آباء کے دین کے علاوہ دوسرے دین کی دعوت دینے سے پیشتر ہم میں سے ہونہار اور لیاقت والے تھے کیا تم ہمیں ان بتوں کی پوجا سے روکتے ہو ہم تو تمہارے دین کے متعلق بہت مشکوک ہیں جس نے ہمیں تردد میں ڈال رکھا ہے۔
Read the full tafseer →قَالُوْا يٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ۔۔ : یعنی ہم تو تمہاری ذہانت اور عقل مندی سے بڑی بڑی امیدیں وابستہ کیے بیٹھے تھے۔ کیوں نہ کرتے، نبی نبوت ملنے سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ کی زیر نگرانی نہایت امین، صادق، عفیف، باوقار، حلیم اور تمام اوصاف حسنہ سے متصف ہوتا ہے۔ مگر جوں ہی اس شخص نے جس کے اوصاف حسنہ سب کے نزدیک مانے ہوئے تھے، ان کی خواہش نفس اور جاہلی عقائد و رواج کے خلاف بات کی تو ان کی تمام امیدوں پر پانی پھر گیا اور وہی دانا شخص ان کے نزدیک عقل و فکر سے خالی ٹھہرا اور ان کے پاس کفر و شرک کے درست ہونے کی اور صالح ؑ سے امیدیں ٹوٹنے کی دلیل کیا تھی ؟ صرف یہ کہ ہمارے آبا و اجداد جن کی عبادت کرتے تھے، یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–68
آیت نمبر 62 تا 68
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : قالو ایٰصٰلح قدکنت فیھا مرجوًاقبل ھٰذآ یعنی اس سے پہلے ہم امید کرتے تھے کہ آپ ہی ہم میں سے سردار ہوں گے، یعنی آپ کے دعویٰ نبوت سے پہلے۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) ان کے معبودوں کو غیب کی طرف منسوب کرتے اور ان سے نفرت کرتے تھے۔ اور وہ آپ سے انہی کے دین کی طرف لوٹنے کی امید کرتے تھے، پس جب آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا تو انہوں نے کہا : ہماری تم سے وابستہ امیدیں ختم ہوگئی ہیں۔ اتنھٰنآاستفہام ہے جس کا معنی انکار ہے۔ ان نعبد یعنی (عن ان نعبد) اس بات سے کہ ہم عبادت کریں۔ مایعبداٰباؤناان محل نصب میں ہے عن حرب جر کے ساتھ ہونے کی وجہ سے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعوت :
1:۔ ابوالشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھوانشاکم من الارض “ سے مراد ہے کہ اس نے تم کو پیدا کیا زمین میں سے۔
2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واستعمرکم فیھا “ یعنی اس میں تم کو آباد کیا۔
3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واستعمرکم فیھا “ یعنی اس میں تم کو خلیفہ بنایا۔
4:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فما تزیدوننی غیر تخسیر “ یعنی تم نہیں زیادہ ہوتے ہو مگر خسارے میں۔
5:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے عطا خراسانی (رح)…
Read the full tafseer →[قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [يٰصٰلِحُ : اے صالح ] [قَدْ كُنْتَ : تو رہا ہے ] [فِيْنَا : ہم میں ] [مَرْجوا : امیدیں وابستہ کیا ہوا ] [قَبْلَ ھٰذَآ : اس سے پہلے ] [اَتَنْهٰىنَآ : کیا تو منع کرتا ہے ہم کو (اس سے)] [ان : کہ ] [نَّعْبُدَ : ہم بندگی کریں ] [مَا : اس کی جس کی ] [يَعْبُدُ : بندگی کرتے رہے ] [اٰبَاۗؤُنَا : ہمارے آباء و اجداد ] [وَاننَا : اور بیشک ہم ] [لَفِيْ شَكٍّ : یقینا ایک شک میں ہیں ] [مِّمَا : اس سے ] [تَدْعُوْنَآ : تو بلاتا ہے ہم کو ] [اِلَيْهِ : جس کی طرف ] [مُرِيْبٍ : جو الجھا دینے والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–66
قوم ثمود کو حضرت صالح (علیہ السلام) کا تبلیغ فرمانا اور قوم کا نافرمانی کی وجہ سے ہلاک ہونا
سورة اعراف کے رکوع میں حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کی قوم ثمود کا واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا جا چکا ہے وہاں مراجعت فرما لیں مختصر طریقے پر یہاں بھی لکھا جاتا ہے حضرت صالح (علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے یہ قوم عاد کے بعد تھی۔ سورة اعراف میں ہے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا : (وَاذْکُرُوْا اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَاءَ مِنْ م بَعْدِ عَادٍ وَّبَوَّاَکُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنَ سُھُوْلِھَا قُصُوْرًا وَّتَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا فَاذْکُرُوْا اٰلَاء اللّٰہِ ولَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–68
قال اللہ تعالیٰ والی عاد اخاھم ھودا .... الیٰ .... الا بعد العاد قوم ھود۔
(ربط) نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد دوسرا قصہ ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم عاد کا ہے جس میں قوم عاد کی ضلالت اور عذاب کا حال بیان فرمایا ہے یہ لوگ شرک اور بت پرستی میں مبتلا تھے اور دولت و ثروت کی وجہ سے مغرور تھے۔ اور انبیاء (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کا حقارت کی نظروں سے دیکھتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو دو خصوصیتیں عطا فرمائی تھیں ایک قوت و توانائی کما قال تعالیٰ وقالوا من اشد منا قوۃ۔ دوم یہ کہ ان کے بلاد نہایت سرسبز اور شاداب تھے یمن ان کا مسکن تھا۔ صاحب زراعت اور صاحب عمارت…
Read the full tafseer →85: ہر قوم نے اپنے پیغمبر کو نئے سے نیا طعن دیا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے جب قوم کے سامنے مسئلہ توحید پیش کیا جو ان کے بگڑے ہوئے مزاج کے خلاف تھا تو وہ بول اٹھے کہ اے صالح ! ہم تو تمہیں بڑا اچھا اور لائق سمجھتے تھے اور ہمارا خیال تھا کہ تم اپنی لیاقت و قابلیت سے قوم کو بام عروج پر پہنچا دو گے اور ہم تو تمہارے ساتھ بڑی امیدیں وابستہ کیے ہوئے تھے مگر تم نے خلاف توقع اپنی قوم کا دین چھوڑ دیا اور ہمیں بھی کہتا ہے کہ ہم بھی اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ دیں۔ اَنْ نَّعْبُدَ ای عن ان نعبد۔ مَایَعْبُدُ موصولہ سے مراد معبودان باطلہ۔ مَاتَدْعُوْنَا موصولہ سے مسئلہ توحید مراد ہے۔ ماتدعونا الیہ من التوحید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
ربط آیات
مسئلہ توحید کو سمجھانے اور اس پر ایمان لانے کے لئے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا ذکر فرمایا اور پھر آپ کی قوم کی نافرمانی اور غرقابی کا حال بیان کیا ۔ اس کے بعد ہود (علیہ السلام) کی وعظ و نصیحت اور ان کی قوم کا ذکر بھی کیا۔ اللہ کے دونوں پیغمبروں کی تبلیغ کا موضوع ایک ہی تھا کہ اے لوگو ! اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ نوح (علیہ السلام) کی قوم سے صرف وہی لوگ بچے جو ایمان لا کر کشتی میں سوار ہوگئے اور ہود (علیہ السلام) کی قوم کے بھی صرف ایمان دار ہی بچے اور کافروں میں سے فرد واحد بھی زندہ نہ بچا۔
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے قوم…
Read the full tafseer →قَالُوْا يٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِيْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ ھٰذَآ اَتَنْہٰىنَآ اَنْ نَّعْبُدَ مَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُنَا وَاِنَّنَا لَفِيْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَيْہِ مُرِيْبٍ 62
رَّجَاءُ
ظنّ يقتضي حصول ما فيه مسرّة، وقوله تعالی: ما لَكُمْ لا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقاراً [ نوح/ 13] ، قيل : ما لکم لا تخافون وأنشد :إذا لسعته النّحل لم يَرْجُ لسعها ... وحالفها في بيت نوب عواملووجه ذلك أنّ الرَّجَاءَ والخوف يتلازمان، قال تعالی: وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ ما لا يَرْجُونَ [ النساء/ 104] ،
اور رجاء ایسے ظن کو کہتے ہیں جس میں مسرت حاصل ہونے کا امکان ہو۔ اور آیت کریمہ ؛۔ ما لَكُمْ لا تَرْجُونَ لِلَّهِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–66
تفسیر : تیسرا واقعہ قوم ثمود اور ان کے پیغمبر حضرت صالح (علیہ السلام) کا یاد دلاتا ہے جو حادثہ قوم عاد کے بعد عرب کے شمالی حصہ میں گذرا ہے۔ اس کی تشریح بھی پہلے ہوچکی اس قوم کی یادگار بھی کچھ کچھ آنحضرت ﷺ کے عہد تک باقی تھی جو ان کے حال زار پر آنسو بہاتی اور دیکھنے والوں کو اللہ کے غضب سے ڈراتی تھی۔ ولقد جاءت یہ چوتھا ہیبت ناک واقعہ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حال میں شامل کرکے بیان فرماتا ہے۔ اس کی بھی تشریح ہوچکی مگر ہم کسی قدر الفاظِ آیات کی تفسیر کرتے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) اپنے گھر کے باہر کھڑے تھے کہ کئی شخص مسافرانہ شکل میں نمودار ہوئے۔…
Read the full tafseer →قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْکُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ ھٰذَآ اَتَنْھٰنَآ اَنْ نَّعْبُدَمَایَعْبُدُ اٰبُآؤْنَا وَاِنَّنَا لَفِیْ شَکٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَیْہِ مُرِیْبٍ ۔ (سورۃ ہود : 62)
(انھوں نے کہا : اے صالح ! تم اس سے پہلے ہم میں امیدوں کا مرکز تھے۔ کیا تم ہمیں اس بات سے روکتے ہو کہ ہم عبادت کرتے ہیں ان کی جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے۔ بیشک ہم اس عمل کے بارے میں جس کی طرف تو ہمیں بلاتا ہے ایک بےچین کردینے والے شک میں مبتلا ہوگئے۔ )
انسان جلدی تبدیلی قبول نہیں کرتا
حضرت صالح (علیہ السلام) کی اتنی موثر تقریر کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان کی قوم ان کی دعوت کو قبول کرلیتی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
فہم القرآن
ربط کلام : قوم کا حضرت صالح (علیہ السلام) سے مکالمہ۔
اللہ تعالیٰ نے دنیا میں جتنے پیغمبر جلوہ گر فرمائے ہیں وہ حسن و جمال، سیرت اور لیاقت کے اعتبار سے بچپن میں ہی اپنی قوم میں منفرد اور ممتاز ہوا کرتے تھے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) بھی اپنی قوم میں ہر حوالے سے ممتاز اور منفرد تھے۔ اس بنا پر قوم ان کے بارے میں بڑی توقعات رکھتی تھی۔ لیکن حضرت صالح (علیہ السلام) نے جب انہیں ان کے طریقہ عبادت سے منع کیا اور فرمایا کہ تم بالواسطہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کی بجائے بلاواسطہ اس کی عبادت کرو اور براہ راست اس سے مانگا کرو۔ قوم نے اس سیدھے اور صحیح طریقے کو اپنانے کی بجائے ان سے کہا کہ ہمیں تو…
Read the full tafseer →62: قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْکُنْتَ فِیْنَا (کہنے لگے اے صالح تو ہم میں ہونہار معلوم ہوتا تھا) ہمارے درمیان مَرْجُوًّا قَبْلَ ھٰذَآ (تم پر امیدیں تھیں) نمبر 1۔ سرداری اور معاملات میں مشورہ کی یا نمبر 2۔ ہم امید کرتے تھے کہ تو ہمارے دین میں داخل ہوجائے گا اور اس میں ہماری موافقت کرے گا۔
اَتَنْھٰنَآ اَنْ نَّعْبُدَ مَایَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا (کیا تم منع کرتے ہو ان معبودوں کی پوجا سے جنکی پوجا ہمارے آبائو اجداد کرتے تھے) یہ ماضی کی حکایت حال ہے۔ وَاِنَّنَا لَفِیْ شَکٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَیْہِ (اور ہمیں قطعی طور پر شک ہے اسمیں جس کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو) یعنی توحیدباری تعالیٰ مُرِیْبٍ (تردد میں…
Read the full tafseer →62” قالوا “ یعنی ثمود والے کہنے لگے ” یا صالح قد کنت فینا مرجوا ً قبل ھذا “ یعنی ہمیں امید تھی کہ تو ہمارا سردار ہوگا اور بعض نے کہا ہے کہ میں امید تھی کہ تو ہمارے دین کی طرف لوٹ آئے گا کیونکہ ان کو یہ لگتا تھا کہ صالح (علیہ السلام) بھی اپنے قبیلے کے دین پر چلیں گے لیکن جب صالح (علیہ السلام) نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا اور بتوں کو چھوڑا تو ان کو لگا کہ ان کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں تو کہنے لگے ” اتنھانا ان نعبدما یعبد آبائو نا “ معبودوں کی ” واننا لفی شک مما تدعونا الیہ مریب “ شک میں واقع ہونے کی جگہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
62۔ 63 یہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم ثمود کا جواب ہے جب حضرت صالح نے ان کو خدا کا پیغام پہنچایا کہ تم خالص خدا ہی کی عبادت کرو اور بتوں کی پوج سے باز آؤ تو یہ جواب ان لوگوں نے دیا کہ ہم لوگوں کو تجھ سے بڑی بڑی امیدیں تھیں ہم سمجھتے تھے تو بڑا ہونہار لڑکا ہے باپ دادا کے دین کو ترقی دے گا اور تجھ سے ہر ایک بات میں ہم کو مدد ملے گی۔ افسوس ہماری ساری امیدیں خاک میں مل گئیں تو ہم لوگوں کو باپ دادا کے قدیم راہ و رسم سے روکنے لگا۔ ہمارے باپ دادا جن معبودوں کی عبادت کرتے تھے ان کو کیوں کر ہم چھوڑ سکتے ہیں ہمیں تو تیری طرف سے شک ہوگیا ہے اور جس بات کی تو ہمیں نصیحت کرتا ہے اور جس کی طرف تو بلاتا…
Read the full tafseer →جب ان کے نبی صالح (علیہ السلام) نے ان کو اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص ترغیب دی، تو انہوں نے آپ کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور آپ سے انتہائی برے طریقے سے پیش آئے (قالو یصلح قد کنت فینا مرجواقبل ھذا) ” انہوں نے کہا صالح ! اس سے پہلے ہم تجھ سے امیدیں رکھتے تھے۔ “ یعنی ہم نے تجھ سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں اور تجھ سے عقل مندی اور نفع کی توقع کی تھی۔ یہ ان کی طرف سے ان کے نبی حضرت صالح (علیہ السلام) کے حق میں ایک گواہی ہے کہ وہ مکارم اخلاق اور محاسن عادات میں معروف تھے اور وہ اپنی قوم میں بہترین شخص گردانے جاتے تھے۔ مگر وہ یہ دعوت توحید لے کر آئے جو ان کی فاسد خواہشات کے موافق نہ تھی تب انہوں نے یہ بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
انسان کو زمین پر آباد کیا
قول باری ہے ھو انشاکم من الارض واستعمرکم فیھا ۔ وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور یہاں تم کو بسایا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی زمین کی طرف نسبت کی اس لیے کہ ان سب کی اصل یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق زمین کی مٹی سے ہوئی تھی اور بنی نوع انسان تمام کے تمام حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں ۔ ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں ۔ اس نے تمہیں زمین میں پیدا کیا۔ قول باری واستعمرکم فیھا کے معنی ہیں ۔ اللہ نے تمہیں ایسی چیزوں کے ساتھ زمین کو آباد کرنے کا حکم دیا جن کی تمہیں ضرورت تھی ۔ اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ زمین کو زراعت کے لیے ، پودے اور درخت لگانے کے لیے…
Read the full tafseer →143 ۔ ابنائے دنیا کی مادہ پرستانہ ذہنیت، اور راقم آثم کا خود اپنے متعلق ایک سبق آموز قصہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ قوم ثمود کے سرداروں نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے کہا کہ تم تو اس سے پہلے ہماری امیدوں کا مرکز تھے کہ تم کل قوم کی لیڈر شپ سنبھالو گے اور ان کی سیادت و قیادت سے سرفراز ہوؤگے اور ہمارے درمیان بڑا نام پیدا کرو گے۔ مگر تم نے یہ کیا کیا کہ ایک نئی بات کہہ کر اور ہمیں اپنے باپ دادا کے طریقوں سے ہٹانے کا پروگرام پیش کرکے ہماری ان ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ سو قرآن حکیم نے اس کوتاہ نظر انسان کی ایک ایسی نفسیات کی نشاندہی فرمائی ہے جو کہ اس میں ہمیشہ پائی گئی ہے۔ کل بھی تھی اور آج بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
سیدنا صالح (علیہ السلام) اور ان کی قوم ثمود پر عذاب
تشریح : قوم نوح، قوم ھود اور اب قوم ثمود کا ذکر بھی اسی سلسلے میں کیا جا رہا ہے کہ آنحضرت ﷺ امت مسلمہ کو عبرت دلائیں کہ نافرمان قوموں کا انجام کیا ہوتا ہے۔ سورة الاعراف رکوع نمبر 10 میں ان کا ذکر ہوچکا ہے۔ یہاں دوبارہ بیان کیا جا رہا ہے حضرت صالح (علیہ السلام) قوم ثمود کے ہی فرد تھے اسی لیے ان کو ان کا بھائی کہا گیا ہے ان کی تعلیمات باقی پیغمبروں کی طرح توحید کی ہی تھیں۔ وہ بڑے صالح اور بہترین انسان تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے اونٹنی کا معجزہ عطا کیا جو پہاڑ سے نمودار ہوئی، قوم نے نافرمانی کرتے ہوئے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں تو ان پر اللہ کا عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
آیات 61 تا 68
اسرار و معارف
اسی قانون فطرت اور ضابطہ الٰہیہ کی تائید حضرت صالح (علیہ السلام) کے واقعہ بھی ہوتی ہے جو مذکورہ قوم کی دوسری شاخ یعنی ثمود کی طرف مبعوث ہوئے اور وہ خود بھی اسی قوم کے ایک معززفرد تھے ان کی دعوت بھی وہی تھی جو سب انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی ہوتی تھی اور جو خاتم الانبیاء ﷺ کی بھی تھی اور ہے کہ لوگو ! اللہ کی اور صرف اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے علاوہ کوئی بھی عبادت کا مستحق نہیں ۔ عبادت کی اصل صرف یہ نہیں کہ اللہ کو سب سے بڑامان لیا اور بات ختم بلکہ عبادت کی اصل یہ ہے کہ ساری امیدیں اس ایک ذات سے وابستہ کردی جائیں اور اس کے علاوہ اسباب کو ان کی حیثیت کے مطابق اختیار…
Read the full tafseer →ف 3 ۔ یعنی تمہاری عقلمندی اور ذہانت سے تو ہم بڑی بڑی امیدیں وابستہ کئے بیٹھے تھے مگر تم نے تو توحید اور آخرت کا نیا راگ الاپ کر ہماری تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
4 ۔ یعنی بت پرستی اور شرک پر اصرار کی اگر کوئی دلیل تھی تو وہ صرف یہ کہ ان کے باپ دادا ان کی پوجا کرتے رہے تھے۔
5 ۔ یہ کس قدر حماقت تھی کہ شرک پر نہ تو مطمئن تھے اور نہ ان کے پاس کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہی نہ تھی مگر پھر بھی آبائی تقلید کی وجہ سے شرک کو چھوڑ کر توحید کی راہ اختیار کرنے کو تیار نہ تھے۔
Read the full tafseer →(11:62) مرجوا۔ اسم مفعول حالت نصب رجو ناقص وادی۔ (باب نصر) سے اصل میں مفعول کے وزن پر مرجوا تھا۔ دو واؤ اکٹھے ہوئے ایک کو دوسرے میں مدغم کیا مرجو ہوگیا۔ حالت نصب میں مرجوا۔ رجا یرجوا رجاء ورجو۔ امیدوار رہنا۔ امید کرنا۔ خوف کرنا۔ مرجو۔ وہ جس سے امیدیں وابستہ ہوں۔
(حضرت صالح کی شرافت۔ متانت۔ ذہانت و فطانت کو دیکھ کر ان کو امیدیں تھیں کہ وہ سیادت و قیادت و مشاورت میں سرمایہ قوم ثابت ہوگا اور ان کے دین سے موافقت کرکے اس کے عروج کا باعث بنے گا۔ لیکن جب انہوں نے خدا کی وحدانیت پر ایمان لانے کا حکم دیا۔ تو ان کی تمام امیدوں پر پانی پھر گیا) ۔
اتنھنا۔ الف استفہامیہ تنھی واحد مذکر حاضر نا ضمیر جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 63
انشا (اس نے اٹھایا، اس نے پیدا کیا) استعمر (اس نے آباد کیا) استغفروا (معافی مانگو، توبہ کرو) تو بوا (تم پلٹو، تم لوٹو) مجیب (جواب دینے والا، قبول کرنے والا) مرجو (مرکز امید، بہت سی وابستہ امیدیں ہیں) اتنھنا (کیا تو ہمیں روکتا ہے، منع کرتا ہے) اباونا (ہمارے باپ دادا) تدعونا (تو ہمیں بلاتا ہے) مریب (ریب) شک میں ڈالنے والا بینۃ (کھلی نشانی) اتنی (اس نے مجھے دیا) من ینصرنی (میری کون مدد کرے گا) ماتریدون (تم اضافہ نہیں کر رہے ہو) غیر تخسیر (سوائے نقصان کے)
تشریح :- آیت نمبر 61 تا 63
اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا اور بلاوجہ کسی قوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
حضرت صالح (علیہ السلام) کی نصیحت توحید
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جب حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان کو خدا کا پیغام پہنچایا کہ : تم خالص خدا ہی کی عبادت کرو اور بتوں کی پوجا سے باز آؤ تو یہ جواب ان لوگوں نے دیا کہ ہم لوگوں کو تجھ سے بڑی امیدیں تھیں۔ ہم سمجھتے تھے تو بڑا ہونہار لڑکا ہے باپ دادا کے دین کو ترقی دے گا۔ اور تھے ہر ایک بات میں ہم کو مدد ملے گی افسوس ہماری ساری امیدیں خاک میں مل گئیں۔ تو ہم لوگوں کو باپ دادا کے قدیم راہ ورسم سے روکنے لگا۔ ہمارے باپ دادا جن معبودوں کی عبادت کرتے تھے ان کو کیونکر ہم چھوڑ سکتے ہیں۔ ہمیں تو تیری طرف سے شک ہوگیا ہے کہ جس بات کی تو ہمیں نصیحت کرتا ہے اور جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
[31] قوم ثمود اور صالح (علیہ السلام) کا ذکر سورة اعراف کے رکوع 10 آیت 73 تا 79 صفحہ 350 تا 352 میں گزر چکا ہے۔
[32] یعنی زمین کے بےجان مادوں کی ترکیب سے تمہارا جسم بنایا۔
[33] یعنی میرا رب بندوں کی عرض و معروض صرف سنتا ہی نہیں بلکہ اپنا فیصلہ بھی صادر کرتا ہے۔ پھر تم یہ کیسی حماقت میں پڑے ہو کہ اس کے لئے واسطے، وسیلے اور سفارشی تلاش کرتے پھرتے ہو۔ یاد رہے کہ یہی مضمون سورة بقرہ آیت 186 صفحہ 54 میں بھی بیان ہوا ہے۔
Read the full tafseer →(ف 3) حیف ہے آباء و اجداد کی ایسی تقلید پر کہ انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعوت توحید کو یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کہ ہم باپ دادا کے مسلک کو نہیں چھوڑ سکتے ، چونکہ ہمارے بزرگ بت پرست تھے اور وہ بتوں کو خدا مانتے تھے ، اس لئے اب ہمارے ماتھے خدا کے سامنے نہیں جھک سکتے ،
(آیت) ” قد کنت فینا مرجوا “۔ کے معنی یہ ہیں کہ تیرے اعلان توحید سے ہمیں کامل مایوسی ہوئی اس سے قبل ہمیں توقع تھی کہ تیری نیکی پر سعادت مندی ہماری مخالفت پر تجھے آمادہ نہیں کرے گی ہمیں تجھ سے امیدیں تھیں ، مگر توحید کے وعظ نے ہمیں ناامید کردیا ۔
آباء سے مراد آباء علم بھی ہوسکتے ہیں یعنی ہم نے اپنے ملانوں اور مولویوں کو اسی طرح…
Read the full tafseer →62 ان کی قوم کے افراد نے جواب دیا اے صالح اس سے پہلے تو ایسا تو ہونہار اور ہوشیار تھا کہ ہم کو تجھ سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں کیا تو ہم کو ان چیزوں کی عبادت سے روکتا ہے جن کی عبادت ہمارے باپ دادا اور بڑے بوڑھے کرتے چلے آئے ہیں اور جس دین کی طرف تو ہم کو بلا رہا ہے اس دین کی طرف ہم بڑے تردد انگیز شبہ میں پڑے ہوئے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں تجھ سے ہم کو امید تھی یعنی ہونہار لگتا تھا کہ باپ دادا کی راہ روشن کرے گا تو لگا مٹانے 12 خلاصہ یہ کہ شروع شروع میں تو بہت اچھا معلوم ہوتا تھا اور تجھ سے امیدیں وابستہ تھیں مگر تو جوان ہونے کے بعد نبوت کا دعویٰ کر بیٹھا اور بڑوں کی رسموں کو مٹانے لگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
ف 2۔ چناچہ دنیا میں اس کا آخر عذاب ہلاک تھا۔ اور آخرت میں عذاب مخلد ہوگا۔
Read the full tafseer →قوم کے لوگوں نے کہا کہ آپ پر تو ہماری بڑی امیدیں لگی تھیں لیکن تم الٹے نکل آئے
83 ؎ قوم کے لوگوں نے صالح (علیہ السلام) سے کہا کہ ہمیں تو تمہاری ذات سے بڑی بڑی امیدیں تھیں کہ ہماری سرداری اور پیشوائی کرو گے۔ یہ تمہیں کیا ہوگیا کہ ہمارے بزرگوں کے طریقہ کو برا کہتے ہو اور اس سے ہمیں ہٹانا چاہتے ہو ؟ اس سے معلوم ہوا کہ صالح (علیہ السلام) بچپن ہی سے شرافت و متانت کے پتلے تھے۔ ان کی ہر ہر بات سے ذہانت اور دانائی ظاہری ہوتی تھی۔ ان کا دامن حیات ہر قسم کی آلودگیوں اور کمزوریوں سے پاک تھا۔ ان کو دیکھ کر ان کی قوم کے افراد ان کے شاندار مستقبل کے متعلق طرح طرح کی قیاس آرائیاں کیا کرتے تھے۔ وہ یہ سمجھنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
As part of this event, the people of Sayyidna Salih (علیہ السلام) have been reported to have said to him: قَدْ كُنتَ فِينَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هَـٰذَا ( O Salih, we had hopes in you before this - 62). It means that, before he claimed to be a prophet and started telling them to shun idol-worship, they had great hopes in him. They thought he would rise to be a great reformer and leader of their people. The reason is that Allah Ta` a1a nurtures and grooms his prophets from their childhood in a way that they become models of good morals and habits. Whoever looks at them, loves and respects them.…
Read the full tafseer →70 The people of Salih (peace be on him) centred many expectations around him. On account of his wisdom, intelligence, maturity, and dignified personality they expected Salih to rise to great heights. They also believed that he would not only achieve personal greatness and prosperity, but would also assist his people in their bid to excel against other tribes and nations in terms of worldly benefits. However, no sooner had Salih begun to teach his people that they are obligated to exclusively worship and serve the One True God and pay due heed to the Hereafter than they became altogether…
Read the full tafseer →